Jump to content
IslamiMehfil

زمین و آسمان کی کنجیاں اور سلطنت حضور علیہ اسلام کی ہے۔


Recommended Posts

زمین آسمان کی کنجیاں اور سلطنت حضور        صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے

              یا اللہ عزوجل       یارسول اللہ 

                      صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

 الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہؐ

✍️اللہ نے مرتبہ دیا ہے ۔ تم کیوں جلتے ہو؟

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم :

 

رَوَاهُ الْمُحِبُّ الطَّبَرِيُّ.31 /31)
3-4: أخرجه محب الدين الطبري في الرياض النضرة، 1 /366، الرقم: 109، وإسماعيل الأصبهاني في دلائل النبوة، 1 /65، الرقم: 25، والسيوطي في الخصائص الکبري، 2 /388، والثعالبي في الکشف والبيان، 7 / 468.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو اﷲ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو جمع فرمائے گا اور دو نورانی منبر لائے جائیں گے، ایک عرش کی دائیں جانب اور دوسرا عرش کی بائیں جانب نصب کیا جائے گا، اِن منبروں پر دو شخص نمودار ہوں گے، پس وہ جو عرش کی دائیں جانب ہو گا ندا دے گا: اے گروہانِ مخلوقات! جس نے مجھے پہچان لیا اُس نے جان لیا اور جس نے مجھے نہیں جانا (تو وہ جان لے) کہ میں جنت کا داروغہ رضوان ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں جنت کی کنجیاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تھما دوں، اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اُنہیں ابو بکر و عمر (رضی اﷲ عنہما) کو تھما دوں تاکہ وہ اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کو جنت میں داخل کر سکیں۔ پس تم آگاہ ہو جاؤ۔ پھر وہ شخص جو عرش کی بائیں جانب ہو گا ندا دے گا: جس نے مجھے جان لیا سو جان لیا اور جس نے مجھے نہیں جانا تو وہ جان لے کہ میں مالک، جہنم کا داروغہ ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں جہنم کی کنجیاں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دے دوں اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہ کنجیاں ابو بکر و عمر کو دے دوں تاکہ وہ اپنے ساتھ بغض رکھنے والوں کو جہنم میں دھکیل سکیں۔ سو تم سب اِس پر گواہ ہو جاؤ۔‘‘ اِسے محب الدین الطبری نے روایت کیا ہے۔
اس روایت کو کتاب موجبات الجنہ لابن الفاجر میں ابن الفاجر نے بھی نقل کیا ہے۔


317 - ثنا الإمام عمي قال، ثنا أبو علي الوزير إملاءً قال، ثنا يوسف بن محمد الزاهد.

-وأنبا أبو طاهر الصوفي بقراءاتي عليه قال، ثنا يوسف بن محمد في كتابه، قال، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن أحمد قال، ثنا القاسم بن محمد السراج، ثنا محمد بن أحمد الضبي الدينوري بمكة في المسجد الحرام قال، ثنا أحمد بن يحيى قال، ثنا الصابر الجارود قال، ثنا هشيم عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:

((إذا كان يوم القيامة ينصب ميزانٌ من ذهبٍ أمام العرش فيأتي ملكٌ من الملائكة فيعلو أحدهما فيقول من عرفني فقد عرفني، ومن لم يعرفني فأنا رضوان خازن الجنة، وهذا مفاتيحها بيدي، أمرني الله -عز وجل- أن أدفعها إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن أدفعها إلى أبي بكر رضي الله عنه يدخل الجنة محبيه ومحبي عائشة بغير حسابٍ، ويأتي ملكٌ من الملائكة فيعلو المنبر الثاني، ويقول: من عرفني فقد عرفني، ومن لم يعرفني فأنا مالكٌ خازن النار، وهذا مفاتيحها بيدي، أمرني الله أن أدفعها إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن أدفعها إلى أبي بكر الصديق رضي الله عنه يدخل النار مبغضيه ومبغضي عائشة بغير حسابٍ)).

قال أبو بكر: سمع هذا الحديث الكرخي، وقال: لو كان هذا الحديث مكتوباً على الجدار لكان الواجب أن يكتب بماء الذهب.

           كتاب موجبات الجنة لابن الفاخر.
  
                         ابن الفاخِر

بابٌ في ذكر أن محبي أبي بكر وعائشة -رضي الله عنها- يدخلون الجنة بغير حساب.


                      ✍️ اس کی سند پر کلام ہے

                        اس حدیث کا متن بالکل قرآن و صحیح احادیث سے ثابت شدہ ہے

            وَلَـلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰىؕ.
                           4    سورۃ الضحى            
                                     :    ترجمہ
اور بیشک بعد والی ساعت آپ کے لئے پہلی ساعت سے بہتر 

📖تفسیر میں مفسرین نے کیا فرمایا دو کتب سےمفہوم

 کہ آنے والے اَحوال آپ کے لئے گزشتہ سے بہتر و برتر ہیں  گویا کہ حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجے بلند کرے گا اور عزت پر عزت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا اورہر آنے والی گھڑی میں  آپ کے مَراتب ترقیوں میں رہیں  گے۔

مدارک، الضّحی، تحت الآیۃ:4 تفسیرکبیر، الضّحی، تحت الآیۃ4

                2 : وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰىؕ.

                      ( الضحی 5)
                                            :ترجمہ
اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے.


          اسکا متن آپ خود دیکھ لیں گے۔


آپ ایک بار اوپر والی روایت کو غور سے پڑھیں پھر ان احادیث کو پڑھتے جائیں ۔إن شاءالله۔۔آپ خود ہی سمجھ جائیں گے۔

📘 1 : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ،    أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ : إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا۔

                          صحیح بخاری جلد1 حدیث. 1344.2977.3596

 ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔ دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میر ساماں بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا  مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے۔

             (محمد عمران علی حیدری)

✍️اس میں واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے یہی بات اوپر والی روایت میں کی گئی بات  ہے۔

✍️یہ حدیث بخاری میں چار جگہ پر موجود ہے اس کے علاوہ بھی بہت ساری کتب میں درج ہے الفاظ مختلف مفہوم ایک ہی ہے کہ ذات محبوب کبریا عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اب اسکا تعین کرنا کون کون سے خزانے ہیں ہمارے بس کی بات نہیں۔

✍️اور نہ ہم اس مسلہ میں قید و بند لگا سکتے ہیں حدیث پر کہ ہاں یہ ہوگا یہ نہیں۔ ایسا کرنا وہابیہ کا کام ہے ہمارا نہی۔

✍️ہم نے بس مان لیا کہ ہاں دے دی گئی ہیں اب دینے والا اور لینے والا جانے۔

✍️میرے خیال میں اور حقائق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ کنجیاں کا لفظ کہنا یہ مقصد تھا کہ رسائی،(پہنچ) اختیار ،بادشاہت اللہ نے دےدی ہے۔ 

📘 2: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ, ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ: إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ , وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ, وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ, أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ, وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.

صحیح بخاری جلد2 حدیث 4085

 ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا۔ میں اب بھی اپنے حوض  ( حوض کوثر)  کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا مفاتيح الأرض یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے۔ 

✍️اب اس حدیث پر غور کریں تو نبی علیہ السلام فرما رہے ہین کہ اپنے حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں حوض کوثر کہاں ہے اور لفظ حضورؑ نے فرمایا اپنے یعنی میرا۔ مالکیت ظاہر ہورہی ہے۔

✍️ سلطنت آسمان پر بھی ہے جس کی سلطنت ہو اختیار ہو و چابیاں بھی اسی کے پاس ہوتی ہیں

✍️جیسا کہ ایک بادشاہ کا وزیر ہوتا ہے بادشاہ اس کو بہت سارے اختیار دیتا ہے وزیر اسے استعمال کرتا ہے۔ کیونکہ وزیر کو سب دے دیا جاتا ہے ہر چیز پر وہ حکمرانی کرتا ہے۔ جیسا حدیث میں ہے واللہ یعطی انا القاسم اسی طرح ایک اور حدیث ہے ۔

اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں. 

               ( مشکوات شریف ص ٥٢١ )۔

                (محمد عمران علی حیدری)

📘 3 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ.

صحیح بخاری جلد1 حدیث 120.

ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  ( علم کے )  دو برتن یاد کر لیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ «بلعوم» سے مراد وہ نرخرا ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔ 

               (محمد عمران علی حیدری)

📘 4 :حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ ذَكَرَ دَاوُدُ،‏‏‏‏ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مَا خَلَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ۔

سنن الترمذی جلد2 حدیث 3666
              ھذا حدیث صحیح
 
ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔

              (محمد عمران علی حیدری)

✍️جسے چاہیں جو جو عطا کریں سب دیا آپ کی سلطنت میں

📘 5 :حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏   الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا۔

سنن ابن ماجہ جلد١حدیث 118
                   ھذا حدیث صحیح

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں ۔ 

📘 6: وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا. قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

                            مشکوۃ شریف

ترجمہ: حضرت ام سلمہ   ؓ  سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فاطمہ   ؓ  کو بلایا اور ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رو پڑیں ، پھر ان سے کوئی بات کی تو وہ ہنس پڑی ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو میں نے ان کے رونے اور ان کی ہنسی کے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتایا تھا کہ میں فوت ہو جاؤں گا تو میں رو پڑی ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتایا کہ مریم بنت عمران کے علاوہ اہل جنت کی خواتین کی میں سردار ہوں ۔‘‘ اس پر میں ہنس دی ۔ رواہ الترمذی.

              (محمد عمران علی حیدری)

📘 7 :ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ اﻟﺤﺎﻓﻆ، ﺛنا ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﺩﺣﻴﻢ اﻟﺪﻣﺸﻘﻲ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻲ، ﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻓﺪﻳﻚ، ﻋﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﺑﻦ ﻳﻌﻘﻮﺏ اﻟﺰﻣﻌﻲ، ﻋﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺷﺮﻳﺢ، ﺃﻥ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺣﻤﻴﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺣﺪﺛﻪ ﺃﻇﻨﻪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﺃﻥ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺣﺪﺛﻪ، ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: «ﻋﺸﺮﺓ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ، ﻭﻋﻤﺮ، ﻭﻋﺜﻤﺎﻥ، ﻭﻋﻠﻲ، ﻭاﻟﺰﺑﻴﺮ، ﻭﻃﻠﺤﺔ، ﻭﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ، ﻭﺳﻌﺪ، ﻭﺃﺑﻮ ﻋﺒﻴﺪﺓ ﺑﻦ اﻟﺠﺮاﺡ ﻭﻫﺆﻻء ﺗﺴﻌﺔ» ، ﺛﻢ ﺳﻜﺖ ﻓﻘﺎﻟﻮا: ﻧﻨﺸﺪﻙ اﻟﻠﻪ ﺃﻻ ﺃﺧﺒﺮﺗﻨﺎ ﻣﻦ اﻟﻌﺎﺷﺮ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻧﺸﺪﺗﻤﻮﻧﻲ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﺃﺑﻮ اﻷﻋﻮﺭ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ»

                   ﺳﻜﺖ ﻋﻨﻪ اﻟﺬﻫﺒﻲ ﻓﻲ اﻟﺘﻠﺨﻴص

(المستدرك علي الصحيحين: رقم الحديث 5858جلد3                     498صفحہ,ط:دارالكتب العلمية۔)

             اگر وہابی یہ آیت پیش کریں

لَّهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ.

                                      63الزمر آیت 
                                        :   ترجمہ
اسی کے پاس آسمانوں اور زمینوں کی چابیاں ہیں اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا ہے وہی نقصان اٹھانے والے ہیں.
 
میں پوچھنا چاھتا ہوں اوپر بیان کی گئی احادیث کو مانوں گے یا انکار کردو گے؟؟

ہاں یہ بات سنی ہی سمجھ سکتا ہے اور سمجھا سکتا ہے ورنہ ایسے نے تو سیدنا علیؓ پر بھی شرک کا فتوئ لگا دیا تھا۔ العیاذ بااللہ۔

اس آیت کو سمجھنے کے لیے درج ذیل تفاسیر کو پڑھیے ۔
                                          خزائن العرفان۔
                                            تبیان القرآن ۔
                                            صرط الجنان۔
                                               روح البیان۔
                                               وغیرہ۔

        ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضؔا مسلّم

       جس سمت آگئے ہو سکّے بٹھادیے ہیں۔


         ( طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)

  • Thanks 1
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Sunni Haideri
      آذان سے پہلے اور بعد میں کیا پڑھیں اور کیا کیا پڑھ سکتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں.
       
       از قلم و طالب دعا: محمد عمران علی  حیدری۔
       
                      بسم اللہ الرحمن الرحیم
               یا اللہ عزوجل    یارسول اللہؐﷺ
      🌹دورد ذات اقدس اور آل و اصحاب پر بے شمار لاکھوں ارباں کروڑاں کھرباں بار❤️
      صلی اللہ علیہ وآلہ اصحابہ وبارک وسلم
      القرآن المجید فرقان الحمید برہان العظیم میں اللہ وحدہ لاشریک کا انعام، بے مثل قرآن میں بےمثال فرمان :۔❤️❤️
      📖اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ  یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ  وَ سَلِّمُوۡا  تَسۡلِیۡمًا.📖
      سورۃ الاحزاب: آیت نمبر56.
      ترجمہ: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے ( نبی ) پر ، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو،
      ✍️✍️✍️یہ تفسیر نہیں بس اس آیت میں موجود نقاط ہیں بس اگر اس کی تفسیر دیکھنی ہے تو نیچے کتب تفاسیر کے حوالہ جات دیے ہوۓ ہیں۔
      اس آیت مبارکہ میں غور طلب باتیں جو کہ بتانا مقصود ہیں : ۔
      ✍️اللہ کی شان ان باتوں پر غور کیا  جاۓ تو سمجھ آ جاۓ گی کہ قرآن کی شان کیا ہے اور پتہ چلے کہ وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ کا مفہوم کیا ہے،
      ✍️ قرآن سمجھنا آسان ہے اگر نظر و دل میں   شان و عظمت مصطفیؐ ہو تو ورنہ اس قرآن کو پڑھ کر خوارج نے سیدنا ابوتراب، مولا کائنات، شیر خدا، جنت کے شہزادوں کے بابا، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں بھی حق پر تھے مگر معاویہ بھی ہمارے سردار،  فاتح خیبر مولا مشکل کشاہ علی حیدر کرم وجہ الکریم  پر بھی کفر کا کا فتوئ لگا دیا تھا۔😭
      ✍️اگر اس قرآن کو پڑھ کر صحابی رسول پر کفر و شرک کے فتوۓ لگے ہیں تو آج ہم سنیوں پر جو لگ رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ حضرت معاویہؓ کی مثال اس لیے دی کہ ایک صحابی کے مقابلہ میں ایک صحابی حق پر ہے تو خوارج نے حق پر قائم رہنے والے صحابی، خلیفہ چہارم پر فتوئ لگا دیا تھا اللہ کی شان!، آج یہی کام  ایک قوم کرتی نظر آتی ہے اشارہ کافی ہے۔
      خیر اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ 
      👇👇👇
       اس آیت مبارکہ میں وقت متعین نہیں ہے اور وہ کوئی وقت بھی ہو سکتا ہے، اور اگر بات کی جاۓ فضائل درود و سلام کی تو تحریر بہت لمبی ہوجاۓ گی۔ 
      لہذا جب پڑھیں جس وقت پڑھیں پڑھ سکتے ہیں درود و سلام، *نماز سے پہلے یا نماز کے بعد میں ہو، آذان سے پہلے ہو بعد ہو اس کے علاوہ  گھر ہو مسجد میں ہو، بیٹھ کے پڑھو یا کھڑے ہو کے پڑھو، تھوڑا پڑھو زیادہ پڑھو پڑھ سکتے ہیں۔* علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر درود و سلام دکھاوۓ کے لیے بھی کوئی پڑھے تو بھی ثواب ملے باقی دینی کاموں کا ثواب نہیں ملتا اگر دکھاوے کے لیے کیا جاۓ چاھے وہ نماز ہی کیوں نہ ہو۔ 
      سبحان الله 
      اس آیت مبارکہ کی تفسیر کے لیے 
      ✍️✍️اگر ان تمام تفاسیر کا خلاصہ اگر پڑھنا ہے تو تفسیر خزائن العرفان ہی پڑھ لیں۔ اور اس کے بعد تفسیر صراط الجنان بہتر ہے۔ اگر تفصیل پڑھنی ہے تو تبیان القرآن پڑھ لیں۔✍️✍️✍️
      یہ تین تفاسیر تقریبا تمام کتب تفاسیر کا بہترین نچوڑ ہیں
       
      *📖1تفسیر تبیان القرآن۔*
      *📚 2تفسیر خزائن العرفان۔*
      *📗3تفسیر صراط الجنان۔*
      📓4تفسیر درمنثور۔🌹
      📘5تفسیر جلالین۔🌹
      📙6تفسیر مدارک التنزیل۔🌹
      📓7تفسیر قرطبی۔🌹
      📙8تفسیر بغوی۔🌹
      📘9تفسیر ابن کثیر۔🌹
      📗10تفسیر روح البیان۔🌹
      📕11تفسیر خزینتہ القرآن۔🌹
      📓12تفسیر سراج المنیر۔🌹
      📙13تفسیر نور العرفان۔🌹
      📗14تفسیر ضیاء القرآن۔🌹
      📕15تفسیر الحسنات۔🌹
       وغیرہ کتب تفاسیر 
      (طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)
                       ✍️✍️✍️✍️
      *ہر وہ کام جس میں اللہ کی حمد اور نبی علیہ السلام پر درودو سلام نہ ہو تو وہ کام نعمت سے خالی ہے*
      یہ روایت ضعیف ہے  جو ہمارے ہاں فضائل و مناقب میں قابل قبول ہے۔ اس روایت کا متن بالکل ٹھیک ہے جیسا آپ ابھی پڑھیں گے : ۔
      📕امام ابو یعلیٰ الخلیلی (م 446ھ) رحمہ اللہ نے فرمایا :-
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ خَزَرِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْمُوَفَّقِ الزَّاهِدُ بِهَمَذَانَ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الطَّيَّانِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الشَّامِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ أَمْرٍ لَمْ يُبْدَأْ فِيهِ بِحَمْدِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ عَلَيَّ فَهُوَ أَقْطَعُ أَبْتَرُ مَمْحُوقٌ مِنْ كُلِّ بَرَكَةٍ»
      ترجمہ :- سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ کام جس میں اللہ کی حمد و ثنا اور مجھ پر درود و سلام نہ ہوں منقطع اور ہر نعمت سے خالی ہے
      [ الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي رقم الحدیث :- 119 ]
      ‼️ اس روایت کو الحافظ عبد القادر بن عبد الله الرهُاوى نے اپنی " الأربعون على البلدان " میں امام دیلمی نے " مسند الفردوس " میں امام تاج الدین ابن سبکی نے " طبقات الشافعية " میں باسند نقل کیا
      اس روایت کے حوالے سے اہل علم فرماتے ہیں :-

      ➊ امام سخاوی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف کہا 
      [ القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع ص244 ]
      ➋ عرب کے محقق ناصر الدین البانی نے بھی ضعیف کہا 
      [ ضعيف الجامع الصغير وزيادته ص613 ]
      ➌ عرب کے محقق شعیب ارناؤوط نے بھی ضعیف کہا 
      [ جلاء الأفهام - ت الأرنؤوط ص441 ]

      ‼️ ہمارے نزدیک بھی یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کا دوسرا طریق بھی ہے جس کا ذکر امام مقریزی رحمہ اللہ نے فرمایا :-
      وروى أبو موسى المدني، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة رضي الله تبارك وتعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل كلام لا يذكر الله فيبدأ به وبالصلاة علي، فهو أقطع ممحوق من كل بركة
      [ إمتاع الأسماع 11/153 ]
                (ازقلم :سید عاقب حسین رضوی۔)
       ✍️✍️✍️✍️
      *آذان کے بعد دو چیزیں پڑھنے کا ثبوت اور ساتھ ہی خوشخبری*
      📖حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَيْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، ‏‏‏‏‏‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي الْوَسِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ تَعَالَى، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ.
      *ھذا حدیث صحیح*

      *ابوداؤد باب الآذان١(٥١٩)*
      *صحیح مسلم باب الصلاة ٧ (٣٨٤)، سنن الترمذی باب باب المناقب ١ (٣٦١٤)، سنن النسائی باب الأذان ٣٧ (٦٧٩)، مسند احمد (٢/١٦٨)*
      ترجمہ: عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ  انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  کو فرماتے سنا:  جب تم مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی وہی کہو جو وہ کہتا ہے، پھر میرے اوپر درود بھیجو، اس لیے کہ جو شخص میرے اوپر ایک بار درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار اپنی رحمت نازل فرمائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو، وسیلہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، جس شخص نے میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی.
                 (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اس پر عمل کوئی بھی نہیں کرتا 😭😭😭 آذان کے بعد درود و سلام پڑھا کرو حدیث سے ثابت ہے۔
      ✍️آذان کا جواب بھی دیا کرو حدیث سے ثابت ہے۔
      ✍️وسیلہ والی دعا بھی کیا کرو حدیث سے ثابت ہے۔
      ❤️🌹شفاعت واجب ہے ان سب کاموں پر سبحان الله‎۔❤️
                 (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️✍️✍️✍️
      *آذان کے سے پہلے دعا پڑھنے کا ثبوت*
      📖حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى الْبَيْتِ يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ يُؤَذِّنُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُهُ كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً تَعْنِي هَذِهِ الْكَلِمَاتِ.
      ھذا حدیث حسن 
      *ابو داؤد ١(٥٢٣)*
      ترجمہ:
      حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :قبیلہ بنی نجار کی ایک عورت کہتی ہے  مسجد کے اردگرد گھروں میں سب سے اونچا میرا گھر تھا، بلال ؓ اسی پر فجر کی اذان دیا کرتے تھے، چناچہ وہ صبح سے کچھ پہلے ہی آتے اور گھر پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے، جب اسے دیکھ لیتے تو انگڑائی لیتے، پھر کہتے:  اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تجھ ہی سے قریش پر مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں ، وہ کہتی ہے: پھر وہ اذان دیتے، قسم اللہ کی، میں نہیں جانتی کہ انہوں نے کسی ایک رات بھی ان کلمات کو ترک کیا ہو۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اگر کوئی آذان سے پہلے درود وسلام نہیں پڑھتا تو تواسے اس پر ملامت نہ کیا جاۓ اگر کوئی پڑھتا ہے تو اسے بھی ملامت نہ جاۓ۔✍️
      ✍️آذان سے پہلے کچھ بھی نہیں ثابت کی رٹ لگانا غلط ہے کیوں کہ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کچھ پڑھنا ثابت ہے۔
      ✍️آذان سے پہلے دعا ثابت ہے یہی پڑھی جاۓ بہتر ہے۔
      ✍️اگر کوئی اس دعا کے ساتھ ذات اقدس پر درود و سلام پڑھنا چاھے تو روکا نہ جاۓ۔
      ✍️اگر کوئی کہے کہ اس وقت دین کے غلبہ کی دعا تھی اب الحَمْد للهْ دین غالب ہے تو اب اس دعا کی جگہ درود و سلام پڑھ لیا جاۓ تو کافی حد تک اسکی بات ٹھیک ہے۔
      ✍️ لیکن میں کہتا ہوں کہ اس دعا کو بھی پڑھا جاۓ اور ساتھ ساتھ ذات اقدس پر درود سلام بھی پڑھا جاۓ۔
      ✍️نہ یہ دعا آذان کا حصہ تھی نہ ہے اور نہ درود و سلام آذان کا حصہ ہے،
      ✍️تو حرج نہیں ہونی چاھیے۔
      ضد چھوڑیں بس نبی علیہ السلام سے محبت کریں انہی کے نام کردیں اپنا جینا مرنا پھر آپکو کبھی نہیں لگے گا کہ درود یہاں نہ پڑھو یہ والا درود نہ پڑھو اس صیغہ والا نہ پڑھو۔ پھر ایک ہی بات کرو گے درود پڑھو سلام پڑھو۔ درود و سلام پڑھو۔
      ✍️اگر ایسا کیا جاۓ تو اختلاف  و لڑائی جھگڑا ختم کیا جا جاسکتا ہے۔
      صلی اللہ و علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔
      الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یاحبیب اللہﷺ۔
        (از قلم طالب دعا : محمد عمران علی حیدری)
                 02.12.2021
       دو دسمبر 1443ھ
    • By Sunni Haideri
      وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون کا         صحیح فہم کتب تفاسیر سے۔
      ایک آیت کی پانچ معتبر کتب  تفاسیر سے وضاحت کہ علماء کرام نے اسے کیسے سمجھا                 اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
        از قلم طالب دعا: محمد عمران علی حیدری
      ( درخواست) ساری پوسٹ پڑھیں اور بزرگوں کو فالو کریں👏👏
                 أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
        
                     بسم اللہ الرحمن الرحیم
                یا اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ    یارسول ﷺ
               اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ
              وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہ
                 اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہ

                  وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ
                      فیض رضا جاری رہے گا
        
                       ⛲ سچ کڑوا ہوتا ہے⛲
      اس آیت کچھ لوگ پیش کر کے مسلمانوں کو مشرک بولتے ہیں۔
      اس شرک سے کیا مراد ہے اورکون لوگ مراد ہیں؟
      وَمَا يُؤۡمِنُ اَكۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ
      (سورۃ یوسف آیت نمبر 106)
      لفظی ترجمہ:
      وَمَا يُؤْمِنُ : اور ایمان نہیں لاتے | اَكْثَرُهُمْ : ان میں اکثر | بِاللّٰهِ : اللہ پر | اِلَّا : مگر | وَهُمْ : اور وہ | مُّشْرِكُوْنَ : مشرک (جمع)
      ترجمہ:
      اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود بھی شرک ہی کرتے ہیں۔
      اعلئ حضرت امام اھلنست٫ عظیم البرکت٫ عظیم المرتبت٫ ولی نعمت٫  مجدد دین و ملت٫ حامی سنت٫ ماحی بدعت٫ معجزہ سید النبیاء٫ عالم شریعت٫ پیرطریقت٫ حضرت علامہ مولانا الحاج الحافظ القای الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن کا ترجمہ بھی ساتھ دیکھیں۔
      ترجمہ کنزالایمان::
      اور ان میں اکثر وہ ہیں جو اللہ پر یقین نہیں کرتے مگر شرک کرتے ہوئے
      مختلف تراجم کا موازنہ کر کے دیکھیے گا!
                                     1
                        تفسیر خزائن العرفان
      جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے رد میں نازل ہوئی جو اللہ تعالی کی خالقیت و رزاقیت کا اقرار کرنے کے ساتھ بت پرستی کر کے غیروں کو عبادت میں اس کا شریک کرتے تھے ۔

                    (محمد عمران علی حیدری)

                                   2 
                          تفسیر تبیان القرآن
      اللہ تعالی کا ارشاد ہے : اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود بھی شرک ہی کرتے ہیں۔ (یوسف : ١٠٦)-
      ایمان لانے کے باوجود شرک کرنے والوں کے مصادیق :-
      حسن، مجاہد، عامر اور شعبی نے کہا : یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو یہ مانتے تھے کہ اللہ تعالی ان کا اور تمام کائنات کا خالق ہے، اس کے باوجود وہ بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ عکرمہ نے کہا : انہی لوگوں کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی ہیں :-
      ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ فانی یوفکون۔ (الزخرف : ٨٧) اگر آپ سن سے یہ سوال کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر وہ کہاں بھٹک رہے ہیں۔-
      ولئن سالتھم من خلق السموات والارض وسخر الشمس والقمر لیقولن اللہ فانی یوفکون۔ (العنکبوت : ٦١) اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے توہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر وہ کہاں بھٹک رہے ہیں۔-
      حسن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں، وہ اللہ پر ایمان بھی لاتے ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں، عیسائی حضرت عیسی کو اللہ کا بیٹا تو کہتے ہیں اور یہود عزیر کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں اور یہ شرک ہے۔-
      ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہے جو زبان سے ایمان لاتے تھے اور ان کے دل میں کفر تھا۔ -
      حسن سے یہ روایت بھی ہے کہ یہ آیت ان مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے جو کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور انہیں نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں اور جب اللہ ان کو اس مصیبت سے نجات دے دیتا ہے تو وہ پھر شرک کرنے لگتے ہیں :-
      قل من ینجیکم من ظلمت البر والبحر تدعونہ تضرعا و خفیہ لئن انجانا من ھذہ لنکونن من الشاکرین۔ قل اللہ ینجیکم منھا ومن کل کرب ثم انتم تشرکون۔ (الانعام : ٦٣، ٦٤) آپ پوچھیے کہ تمہیں سمندروں اور خشکی کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے ؟ جس کو تم عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارتے ہو، اگر وہ ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے، آپ کہیے کہ تمہیں اس مصیبت سے اور ہر سختی سے اللہ ہی نجات دیتا ہے پھر (بھی) تم شرک کرتے ہو۔-
      اور بعض لوگ وہ ہیں جو اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود نعمتوں کا اسناد اسباب کی طرف کرتے ہیں، مسبب الاسباب کی طرف نہیں کرتے مثلا کسی کو بیماری سے شفا ہوجائے تو کہتا ہے فلاں دوا سے یا فلاں ڈاکٹر کے علاج سے وہ شفا یاب ہوگیا ہے یہ نہیں کہتا کہ اسے اللہ نے شفا دی ہے۔ -
      اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ مصائب اور شدائد میں بھی اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے، وہ مشائخ اور اولیاء اللہ کے مزاروں پر جاکر ان کو پکارتے ہیں اور ان سے مدد طلب کرتے ہیں اور ان کی نذر اور ان کی منتیں مانتے ہیں۔ ہرچند کہ اولیاء اللہ سے مدد طلب کرنا اس عقیدہ سے جائز ہے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی طاقت سے اور اس کے اذن سے تصرف کرتے ہیں اور یہ شرک نہیں ہے لیکن افضل اور اولی یہی ہے کہ صرف اللہ سے مدد طلب کی جائے اور بزرگوں کے وسیلہ سے اپنی حاجت برآری کے لیے دعا کی جائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن عباس کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :-
      اذا سئلت فاسئل اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ۔ جب تم سے سوال کرو تو اللہ سے سوال کرو اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٦، مسند احمد ج ١ ص ٢٩٣، ٣٠٣، ٣٠٧۔ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٢٩٨٨، ١٢٩٨٩، عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی رقم الحدیث : ٤٢٥، شعب الایمان رقم الحدیث : ١٨٤، العقیلی ج ٣ ص ٥٣، الآجری، رقم الحدیث : ١٩٨، المستدرک ج ٣، ص ٥٤١، حلیۃ الاولیاء ج ١ ص ٣١٤، الآداب للبیقہی رقم الحدیث : ١٠٧٣)-
      اور نذر عبادت مقصودہ ہے، اللہ تعالی کے سوا کسی مخلوق کی نذر اور منت مانناجائز نہیں ہے۔
      (بتوں کے نام کفار نذر منت مانتے تھے اور ان کے نام چھوڑ دیتے تھے)

                     (محمد عمران علی حیدری)

                             3  
                      تفسیر نور العرفان
       ف ٢۔ شان نزول یہ آیت کفار مکہ کے متعلق نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کو خالق رزاق مان کر بتوں کو پوجتے تھے اور اپنے تلبیہ میں کہتے تھے کہ تیرا کوئی شریک نہیں سوائے ایک شری کے کے یعنی لا الہ بھی کہتے تھے کہ اور شرک بھی کرتے تھے اور اللہ کو ایک مان کر اس کے بیٹے بیٹیاں مانتے تھے۔ 
                   (محمد عمران علی حیدری)
                       
                                   4 
                         تفسیر ضیاءالقرآن
       ١٤٧ یعنی ان کفار و مشرکین کی بھی عجیب حالت ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا تو کہتے ہیں اللہ نے۔ تمہارا خالق کون ہے کہتے ہیں اللہ۔ بارش کون برساتا ہے اور غلہ کون اگاتا ہے تو کہتے ہیں اللہ۔ لیکن اس کے باوجود بتوں کو بھی الہ مانتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ بتوں کے متعلق مشرکین کا جو عقیدہ تھا وہ متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے وہ کہتے ویقولون أانا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون۔ ٣٧: ٣٦ وہ کہتے ہیں کیا ایک شاعر اور دیوانے کے کہنے سے ہم اپنے خداؤں کو چھوڑ دیں۔ نیز حج کے موقعہ پر جو تلبیہ وہ کہا کرتے تھے اس سے بھی ان کے عقیدہ کا پتہ چلتا ہے۔ وہ کہا کرتے لبیک اللہم لبیک لبیک لاشریک لک الاشریکا ھولک تملکہ وما ملک ہم حاضر ہیں اے اللہ ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ تیرا شریک ہے جس کو تو نے اپنا شریک بنایا ہے تو اس کا مالک ہے اور جس کا وہ مالک ہے اس کا بھی تو مالک ہے۔ 
      یا اس آیت میں مشرکین کی اس حالت کی طرف اشارہ ہے کہ جب وہ مصائب میں گھر جاتے تھے، تو اللہ تعالی کے آگے ہاتھ پھیلاتے تھے اور جب مصیبتیں ٹل جاتی تھیں تو پھر اس کا انکار کرتے تھے یا اس سے مراد ریاکار ہیں جو عبادت تو اللہ تعالی کی کرتے ہیں لیکن دل میں یہ خیال ہوتا ہے کہ فلاں مجھے اچھا سمجھے۔ یہ بھی ایمان اور شرک کو یکجا کرنے کی ایک صورت ہے اور اہل حق نے تو یہاں تک فرمایا کہ اگر اسباب ظاہری کی طرف مائل ہوا اور مسبب حقیقی کی طرف سے نگاہ ہٹ گئی تو یہ بھی شرک ہوا۔ مولانا ثناء اللہ پانی پتی بل النظر الی الاسباب مع الغفلۃ عن المسبب ینافی التوحید فالموحدون ہم الصوفیہ (مظہری) یعنی سچے موحد تو صوفیائے کرام ہیں کہ ان کی نظر کسی حالت میں بھی اسباب میں نہیں الجھتی بلکہ ہر قوت مسبب الاسباب پر جمی رہتی ہے۔

                    (محمد عمران علی حیدری)

                                     5
                       تفسیر  مدارک التنزیل
      جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے رد میں نازل ہوئی کیونکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے خالق اور رازق ہونے کا اقرار کرنے کے باوجود بت پرستی کرکے غیروں کو عبادت میں اللّٰہ تعالیٰ کا شریک کرتے تھے۔

                   (محمد عمران علی حیدری)     
      جزاك اللهُ

      post no:8
      14....05....2021
      شوال المکرم 1442ھ
    • By Sunni Haideri
      🏹 شہادت امام حسین علیہ السلام کی نشاندہی🏹
      1 : 15124- عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَيُقْتَلَنَّ الْحُسَيْنُ، [قَتْلًا] وَإِنِّي لَأَعْرِفُ التُّرْبَةَ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا، قَرِيبًا مِنَ النَّهْرَيْنِ.
      ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حسین کو شہید کیا جاۓ گا اور میں اس مٹی کو پہچانتا ہوں جہاں حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جاۓ گا دو نہروں کے قریب ہے.
      ✍️حضرت علیؓ بھی جانتے تھے۔ 
      ✍️اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں باقی احادیث کو بھی اس حدیث سے تقویت مل رہی ہے یزیدی ڈاکٹرز کے پاس جائیں👨‍⚕️
      ✍️دعا ہے اللہ جلدی یزیدیوں کا صفایا فرما دے آمین۔🤲
      رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
            تخریج:
      ✍️ یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے۔✍️
      📖ابن أبي شيبة في مصنفه باب من كره الخروج في الفتنة وتعوذ عنها ~ حديث رقم 36699
      📖ابن أبي شيبة في مصنفه باب ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم ~ حديث رقم 30097۔
      ( محمد عمران علی حیدری)
      2 :وَفِي "مُسْنَدِ أَبِي يَعْلَى": ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لا يَزَالُ أَمْرُ أُمَّتِي قَائِمًا بِالْقِسْطِ، حَتَّى يَكُونَ أَوَّلُ مَنْ يَثْلَمُهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ يُقَالَ لَهُ: يَزِيدُ
      📖إسناده مرسل. وانظر المجمع "5/ 241"
      ترجمہ: میری امت کا امر عدل کے ساتھ قائم رہے گا یہاں تک کہ پہلا شخص جو اسے تباہ کرے گا وہ بنی امیہ میں سے ہو گا جس کو یزید کہا جائیگا۔
      ✍️یہ حدیث سند کے لحاظ سے سے مرسل ہے ہمارے ہاں قابل حجت ہے۔
      ✍️ اور اسکا متن بالکل ٹھیک ہے۔ یزید ہی پہلا لعنتی انسان تھا جس نے اپنی من مانی کی اور اہل بیت کی بے ادبی اور شعار اسلام کی ڈھایا ہے۔واقعہ حرہ قابل غور ہے۔
      ✍️جو درج نہی نہی کیا جا سکتا، آپ اس واقعہ کو پڑھ لیں ایک بار۔بس۔
      3 : ۱۲۴٤۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ مَلَکَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّہُ أَنْ یَأْتِیَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَہُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَۃَ: امْلِکِی عَلَیْنَا الْبَابَ لَا یَدْخُلْ عَلَیْنَا أَحَدٌ قَالَ وَجَائَ الْحُسَیْنُ لِیَدْخُلَ فَمَنَعَتْہُ فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ یَقْعُدُ عَلٰی ظَہَرِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلٰی مَنْکِبِہِ وَعَلٰی عَاتِقِہِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَکُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّہُ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ أَمَا إِنَّ أُمَّتَکَ سَتَقْتُلُہُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَیْتُکَ الْمَکَانَ الَّذِییُقْتَلُ فِیہِ فَضَرَبَ بِیَدِہِ فَجَائَ بِطِینَۃٍ حَمْرَاء َ فَأَخَذَتْہَا أُمُّ سَلَمَۃَ فَصَرَّتْہَا فِی خِمَارِہَا قَالَ قَالَ ثَابِتٌ بَلَغَنَا أَنَّہَا کَرْبَلَائُ.
      📖اسے احمد (المسند:242/1 ح 2165 ، 282/1 ح 2553 ۔۔ 
      📖کتاب فضائل الصحابۃ: 779/2 ح 1381 ) 
      📖طبرانی(الکبیر: 110/3 ح 2822) 
      حاکم (397/4، 398 ح8201) , 
      بیہقی (دلائل النبوۃ :471/6) اور 
      ابن عساکر (تاریخ دمشق : 228/14) نے حماد بن سلمۃ عن عمار بن ابی عمار عن ابن عباسؓ کی سند سے روایت کیا ہے۔
      اسے حاکمؒ و ذہبیؒ دونوں نے صحیح مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔
      📖حافظ ابن کثیرؒ نے کہا: اسے (کتب سبعہ میں سے)صرف احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند قوی ہے (البدایۃ و النھایۃ: 202/8 )
      📖شیخ وصی اللہ بن عباس المدنی المکی فرماتے ہیں :
      اس کی سند صحیح ہے۔
      (تحقیق فضائل الصحابۃ: 779/2)
      ترجمہ: سیدنا عبد اللہ بن عباس  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما  سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں نبی کریم  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کھڑے تھے اور آپ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہیں اور آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی ہے جس میں خون تھا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:  یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، جسے میں آج جمع کر رہا ہوں۔  ہم نے اس دن کا حساب لگایا تو وہ وہی دن تھا، جس دن سیدنا حسین  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  شہید ہوئے تھے۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      3 : نبی کریم ﷺ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت پر سخت غمگین تھے۔
      ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حسین بن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) موجود تھے اورآپ رو رہے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے جبریل (علیہ السلام) نے بتایا کہ میری امت اسے میرے بعد قتل کرے گی۔
      (مشخیۃ ابراہیم بن طہمان : ۳ و سندہ حسن و من طریق ابن طہمان رواہ ابن عساکر فی تاریخ دمشق ۱۹۲/۱۴، ولہ طریق آخر عندالحاکم ۳۹۸/۴ ح ۵۲۰۲ و صححہ علیٰ شرط الشیخین و وافقہ الذہبی)
      4 : شہر بن حوشب تابعی(صدوق حسن الحدیث ، و ثقہ الجمہور) سے روایت ہے کہ جب (سیدنا) حسین بن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی شہادت کی خبر عراق سے آئی تو ام سلمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے فرمایا: عراقیوں پر لعنت ہو، عراقیوں نے آپ کو قتل کیا ہے ،اللہ انہیں قتل کرے، انہوں نے آپ سے دھوکا کیا اور آپ کو ذلیل کیا، اللہ انہیں ذلیل کرے ۔
       
      (فضائل الصحابۃ، زوائد القطیعی جلد2 صفحہ782 حدیث 1392. مسند احمد، جلد6 صفحہ 298 حدیث550 و سندہ حسن)

      5: یزال أمر أمتی قائما بالقسط حتی یثلمہ رجل من بنی أمیۃ یقال لہ یزید۔
      ابن کثیر: البدایہ والنہایہ. جلد8 صفحہ231
      ’’میری امت کا امر (حکومت) عدل کے ساتھ قائم رہے گا یہاں تک کہ پہلا شخص جو اسے تباہ کرے گا وہ بنی امیہ میں سے ہو گا جس کو یزید کہا جائیگا۔‘‘
      6: (۱۲۴۳۲)۔ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیُّ، قَالَ: بَعَثَنَا یَزِیدُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ إِلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ دَخَلْتُ عَلٰی فُلَانٍ نَسِیَ زِیَادٌ اسْمَہُ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَنَعُوا مَا صَنَعُوا فَمَا تَرٰی؟ فَقَالَ: أَوْصَانِی خَلِیلِی أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ((إِنْ أَدْرَکْتَ شَیْئًا مِنْ ہٰذِہِ الْفِتَنِ فَاعْمَدْ إِلٰی أُحُدٍ،فَاکْسِرْ بِہِ حَدَّ سَیْفِکَ، ثُمَّ اقْعُدْ فِی بَیْتِکَ، قَالَ: فَإِنْ دَخَلَ عَلَیْکَ أَحَدٌ إِلَی الْبَیْتِ فَقُمْ إِلَی الْمَخْدَعِ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَیْکَ الْمَخْدَعَ فَاجْثُ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ، وَقُلْ بُؤْ بِإِثْمِی وَإِثْمِکَ فَتَکُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ، وَذٰلِکَ جَزَائُ الظَّالِمِینَ، فَقَدْ کَسَرْتُ حَدَّ سَیْفِیْ وَقَعَدْتُ فِیْ بَیْتِیْ))۔ 
      (مسند احمد: ۱۸۱۴۵)
      وسندصحیح
      ترجمہ: ابو ا شعت صنعانی سے مروی ہے ، انھوں نے کہا: یزید بن معاویہ نے ہمیں سیدنا ابن زبیر  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کے مقابلہ کے لیے بھیجا، میں مدینہ منورہ پہنچا تو فلاں کے پاس حاضرہوا، زیاد نے اس کا نام بیان کیا تھا، اس نے کہا: لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، آپ سب دیکھ رہے ہیں؟ ان حالات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: میرے خلیل ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے مجھے وصیت کی تھی کہ اگر تم ان فتنوں میں سے کسی فتنہ کو دیکھو تو اپنی تلوار کی دھار توڑ کر گھر کے اندر بیٹھ رہنا، اگر کوئی فتنہ باز شخص تمہارے گھر کے اندر گھس آئے تو تم کسی کوٹھڑی کے اندر  چھپ جانا اور اگر کوئی تمہاری کو ٹھڑی میں آجائے تو تم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جانا اور کہنا کہ تو میرے قتل کے گناہ اور اپنے گناہوں کے ساتھ واپس جا، تیرا نجام جہنم ہے اور ظالموں کا یہی بدلہ ہے، لہٰذا اے بھائی! میں تو اپنی تلوار کی دھار توڑ کر گھر کے اندر بیٹھا ہوں.
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️آج لوگ کہتے ہیں یزید نے کچھ بھی نہی کیا تھا.
      میں مزید کیا وضاحت کروں خود ہی ساری پوسٹ پرھ لیں سمجھ لگ جاۓ گی۔۔۔إن شاءالله۔
      7 :۔ (۱۲۴۳۷)۔ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ الضَّحَّاکَ بْنَ قَیْسٍ، کَتَبَ إِلٰی قَیْسِ بْنِ الْہَیْثَمِ حِینَ مَاتَ یَزِیدُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ: سَلَامٌ عَلَیْکَ أَمَّا بَعْدُ! فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، فِتَنًا کَقِطَعِ الدُّخَانِ، یَمُوتُ فِیہَا قَلْبُ الرَّجُلِ، کَمَا یَمُوتُ بَدَنُہُ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِی کَافِرًا، وَیُمْسِی مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا، یَبِیعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَہُمْ وَدِینَہُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا۔)) وَإِنَّ یَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ قَدْ مَاتَ، وَأَنْتُمْ إِخْوَانُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا، فَلَا تَسْبِقُونَا حَتّٰی نَخْتَارَ لِأَنْفُسِنَا۔ 
      (مسند احمد: ۲۴۲۹۰ صحیح)
      ترجمہ: جب یزید بن معاویہ کی وفات ہوئی توضحاک بن قیس نے  قیس بن ہیثم کو خط لکھا، اس کا مضمون یہ تھا، تم پرسلامتی ہو، أَمَّا بَعْدُ! میں نے رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:  قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں جیسے شدید اور خوفناک فتنے بپا ہوں گے اور کچھ فتنے دھوئیں کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، تب لوگوں کے دل یوں مردہ ہوجائیں گے، جیسے بدن مردہ ہو جاتے ہیں،ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا اور کفر کی حالت میں شام کرے گا اور ایک آدمی شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور لوگ اپنے دین و اخلاق کو دنیا کے بدلے فروخت کرنے لگیں گے۔  یزید بن معاویہ فوت ہو چکا ہے اور تم ہمارے بھائی ہو، تم کسی معاملہ میں ہم سے سبقت نہ کرنا تاآنکہ ہم خود کسی بات کو اپنے لیے اختیار نہ کر لیں۔ 
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اس حدیث میں بات ہے نوٹ کرنے والی عقل والوں کے لیے۔
      سب امثال بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یزید فوت ہوگیا🧐🤔۔
      🤷‍♂️✍️خط بھی یزید کے مرنے کے بعد لکھا گیا تھا۔
      ✍️وجہ کیا تھا ایسا کیوں کرنا پڑا اسکا مطلب صاف ہے۔
      ✍️یزید کی اولاد آج بھی یزید کو بے گناہ ثابت کرنا چاھتے ہیں۔
      ✍️🤲بس ایک دعا ہےہم حسینی ہیں ہمارا حشر بھی انہی کے ساتھ ہو بس۔۔ آمین🤲۔

      8: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ اطْرَحُوا لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً فَقَالَ إِنِّي لَمْ آتِكَ لأَجْلِسَ أَتَيْتُكَ لأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَ حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً۔
      ( صحیح مسلم جلد2حدیث4793)
      ترجمہ:  نافع سے روایت ہے عبداﷲ بن عمر رضی ‌اللہ ‌عنہما  عبداﷲ بن مطیع کے پاس آئے جب حرہ کا واقعہ ہوا یزید بن معاویہ کے زمانہ میں اس نے مدینہ منورہ پر لشکر بھیجا اور مدینہ والے حرہ میں جو ایک مقام ہے مدینہ سے ملا ہوا قتل ہوئے اس  طرح کے ظلم مدینہ والوں پر ہوئے۔ عبداﷲ بن مطیع نے کہا ابو عبدالرحمن رضی ‌اللہ ‌عنہ   ( یہ کنیت ہے عبداﷲ بن عمر رضی ‌اللہ ‌عنہما  کی )  کے لیے تو شک بچھاؤ۔ انہوں نے کہا میں اس لیے نہیں آیا کہ بیٹھوں بلکہ ایک حدیث تجھ کو سنانے کے لیے آیا ہوں جو میں نے رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ فرماتے تھے جو شخص اپنا ہاتھ نکال لے اطاعت سے وہ قیامت کے دن خدا سے ملے گا اور کوئی دلیل اس کے پاس نہ ہوگی اور جو شخص مرجاوے اور کسی سے اس نے بیعت نہ کی ہو تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️کس نے لشکر بھیجا کدھر بھیجا نقصان کس کو ہوا؟
      ✍️آج لوگ کہتے نظر آتے ہیں دو شہزادوں کی جنگ تھی لعنت تم  جاہلو دشمن اہل بیت لوگ ہیں یہ کہنے والے ایسا۔
      ✍️ کہاں شہزادہ جنت کہاں لخت جگر بتول سلام علیہا، کہاں جگر گوشہ ابو ترابؓ۔
      ✍️اور کہاں یزید رزیل لعنتی انسان۔ جس نے صحابہ پر ظلم کیا اور اہل بیت پر بھی اور مدینہ پر بھی 😭😭😭😭ظلم۔
      ✍️ سلیمان بن محمد بن عمر بجرمی المصری الشافعی.✍️
       سلیمان بن محمد بن عمر بجیرمی مصری شافعی اپنی کتاب تحفة الحبيب على شرح الخطيب میں لکھتے ہیں:
      أَنَّ لِلْإِمَامِ أَحْمَدَ قَوْلًا بِلَعْنِ يَزِيدَ تَلْوِيحًا وَتَصْرِيحًا وَكَذَا لِلْإِمَامِ مَالِكٍ وَكَذَا لِأَبِي حَنِيفَةَ وَلَنَا قَوْلٌ بِذَلِكَ فِي مَذْهَبِ إمَامِنَا الشَّافِعِيِّ وَكَانَ يَقُولُ بِذَلِكَ الْأُسْتَاذُ الْبَكْرِيُّ. وَمِنْ كَلَامِ بَعْضِ أَتْبَاعِهِ فِي حَقِّ يَزِيدَ مَا لَفْظُهُ زَادَهُ اللَّهُ خِزْيًا وَمَنَعَهُ وَفِي أَسْفَلِ سِجِّيْنَ وَضَعَهُ وَفِي شَرْحِ عَقَائِدِ السَّعْدِ يَجُوزُ لَعْنُ يَزِيدَ.
      یزید پر اشارتاً اور واضح طور پر لعنت کرنے کے متعلق امام احمد کے اقوال موجود ہیں اور یہی صورتحال امام مالک اور ابو حنیفہ کی بھی ہے اور ہمارے امام شافعی کا مذہب بھی یہی ہے اور البکری کا قول بھی یہی ہے۔ البکری کے بعض پروکاروں نے کہا ہے کہ اللہ یزید اور اس کے لشکر کی رسوائی میں اضافہ کرے اور اسے جہنم کے نچلے ترین درجہ پر رکھے۔
      ( البجيرمي، تحفة الحبيب على شرح الخطيب، 12: 369، بيروت: دار الفكر)
      ( طالب دعا : محمد عمران علی حیدری)
      19.08.2021
    • By Sunni Haideri
      بد مذھبوں اور بے دینوں کے متعلق احکام
      ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
      محترم قارئینِ کرام : سب سے پہلے یہ ذھن میں رکھ لیں ہم گستاخانہ عبارات کے اصل اسکن ساتھ دے رہیں ایک بار مکمل غور سے پڑھیں پھر اپنے ایمان اور ضمیر سے فیصلہ کریں بغیر پڑھے جاہلانہ کمنٹس سے گریز کریں شکریہ ۔
      ہر سنی مسلمان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ دیوبندی مذہب کے بانی مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے اپنی کتاب تحذیرالناس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا انکار کیا اور پیشوائے وہابیہ مولوی رشید احمد گنگوہی و مولوی خلیل احمد انبیٹھوی نے براہین قاطعہ میں سرکار مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم مقدس کو شیطان ملعون کے علم سے کم قرار دیا۔ اور مبلغ وہابیہ مولوی اشرف علی تھانوی صاحب حفظ الایمان میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کو ہر خاص و عام انسان بچوں پاگلوں اور جانوروں کے علم غیب کی طرح بتایا۔ چوکہ یہ باتیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آخری نبی نہ ماننا یا حضور کے علم کو شیطان کے علم سے کم بتانا یا حضور کے علم غیب کو بچوں، پاگلوں اور جانوروں کے علم غیب کی طرح قرار دینا تمام مسلمانوں نانوتوی، مولوی گنگوہی، مولوی انبیٹھوی اور مولوی تھانوی بحکم شریعت اسلامیہ کافر و مرتد ہوگئے ۔
      فتاوٰی حسام الحرمین میں ہے وبالجملۃ ھولاء الطوائف کلھم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام باجماع المسلمین وقد قال فی البزازیہ والدر والغرر والفتاوی الخیریہ ومجمع الانھر والدر المختار وغیرھا من معتمدات الاسفار فی مثل ھولاء الکفار من شک فی کفرہ و عذاب فقد کفر۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ طائفے (یعنی مرزا غلام قادیانی، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد، اشرف علی تھانوی اور اس کے ہم عقیدے چیلے) سب کے سب کافر و مرتد ہیں۔ باجماع امت اسلام سے خارج ہیں۔ اور بے شک بزازیہ، درغرر، فتاوٰی خیویہ، مجمع الانہار اور درمختار وغیرہ معتمد کتابوں میں ایسے کافروں کے حق میں فرمایا کہ جو شخص ان کے عقائد کفریہ پر آگاہ ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے تو خود کافر ہے۔ مکہ شریف کے عالم جلیل حضرت مولانا سید اسماعیل علیہ الرحمۃ الرضوان اپنے فتاوٰی میں تحیر فرماتے ہیں۔امابعد ناقول ان ھولاء الفرق الواقصیں فی السوال غلام احمد قادیانی و رشید احمد ومن تبعہ کخلیل انبیٹھی واشرف علی وغیرھم لا شبھۃ فی کفرھم بلا مجال بل لا شبھۃ فیمن شک بل فیمن توقف فی کفرھم بحال من الاحوال۔
      میں حمد و صلوٰۃ کے بعد کہتا ہوں کہ یہ طائفے جن کا تذکرہ سوال میں واقع غلام احمد قادیانی، رشید احمد گنگوہی اور جو اس کے پیرو ہیں جیسے خلیل احمد اشرف علی وغیرہ ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں، نہ شک کی مجال بلکہ جو ان کے کفر میں شک کرے بلکہ کسی طرح کسی حال میں انہیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں بھی شبہ نہیں ۔“ (حسام الحرمین)
      غیر منقسم ہندوستان کے علمائے کرام اسلام کے فتاوٰی کا مجموعہ الصوارم الھندیہ میں ہے ان لوگوں (یعنی قادیانیوں، وہابیوں، دیوبندیوں) کے پیچھے نماز پڑھنے، ان کی جنازہ کی نماز پڑھنے، ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنے، ان کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا کھانے ان کے پاس بیٹھے ان سے بات چیت کرنے اور تمام معاملات میں ان کا حکم بعینہ وہی ہے جو مرتد کا ہے۔ یعنی یہ تمام باتیں سخت حرام اشد گناہ ہیں ۔
      اللہ تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ وما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظٰلمین ۔ “اور اگر تجھے شیطان بھولا دے تو یاد آ جائے پر بدمذہبوں کے ساتھ نہ بیٹھ۔“ خود سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : وان مرضوا فلا تعودھم وان ماتوا فلا تشھدوم وان لقیتم فلا تسلموا علیھم ولا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحوھم ولا تصلوا علیھم ولا تصلوا علیھم (رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ و ابوداؤد عن ابی عمر وابن ماجۃ عن جابر والعقیلی وابن حبان عن انس رضی اللہ تعالٰی عنھم،چشتی)
      ترجمہ: اگر بدمذہب بد دین بیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے نہ جاؤ اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازہ پر حاضر نہ ہو۔ اور ان کا سامنا ہو تو سلام نہ کرو۔ ان کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ نہ پیو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ۔ ان سے شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو، ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔
      پھر چونکہ قادیانی، وہابی، دیوبندی، غیرمقلد، ندوی، مودودی تبلیغی یہ سب کے سب حکم شریعت اسلامیہ گمراہ، بد عقیدہ بد دین، بد مذہب ہیں اس لئے حدیث و فقہ کے ارشاد کے مطابق اس شرعی دینی مسئلہ سے سب کو آگاہ کر دیا جاتا ہے کہ قادیانیوں، غیر مقلدوں، وہابیوں، دیوبندیوں، مودودیوں و غیرہ بدمذہبوں کے پیچھے نماز پڑھنا سخت حرام ہے۔ ان سے شادی بیاہ کا رشتہ قائم کرنا اشد حرام ہے۔ ان کے ساتھ نماز پڑھنا سخت گناہ کبیرہ ہے۔  ان سے اسلامی تعلقات قائم کرنا اپنے دین کو ہلاک اور ایمان کو برباد کرنا ہے جو ان باتوں کو مان کر ان پر عمل کرے گا اس کے لئے نور ہے اور جو نہیں مانے گا اس کے لئے نار ہے۔ والعیاذ باللہ تعالٰی ۔
      جھوٹے مکار، دغاباز بدمذہب، بد دین خدا اور رسول کی شان میں توہین کرنے والے مرتدین براہ مکرو فریب اتحاد و اتفاق کا جھوٹا منافقانہ نعرہ بہت لگاتے ہیں اور بہت زور سے لگاتے ہیں۔ اور جو متصلب مسلمان اپنے دین و ایمان کو بچانے کیلئے ان سے الگ رہے۔ ان کے سر اختلاف و افتراق کا الزام تھوپتے ہیں جو مخلص مسلمان شرع کے روکنے کی وجہ سے ان بد مذہبوں کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ اس کو فسادی اور جھگڑالو بتاتے ہیں جو صحیح العقیدہ مسلمان فتاوی حسام الحرمین کے مطابق سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو کافر و مرتد کہے اس کو گالی بکنے والا قرار دیتے ہیں ایسے تمام صلح کلی منافقوں سے میرا مطالبہ ہے کہ اگر واقعی تم لوگ سنی مسلمانوں سے اتحاد و اتفاق چاہتے ہو تو سب سے پہلے بارگاہ الٰہی میں اپنے عقائد کفریہ و خیالات باطلہ سے سچی توبہ کر ڈالو۔ خدا اور رسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے سے باز آ جاؤ اور گستاخی کرنے والوں کی طرفداری کی حمایت سے الگ ہو جاؤ اور سچا سنی مذہب قبول کرلو اور اگر ایسا کرلو تو ہمارے تمہارے درمیان بالکل اتحاد و اتفاق ہو جائے گا۔ اور اگر خدانخواستہ تم اپنے اعتقادات کفریہ سے توبہ کرنے پر تیار نہیں۔ تم گستاخی کرنے اور لکھنے والے مولویوں سے رشتہ ختم نہیں کر سکتے، سنی مذہب قبول کرنا تمہیں گوارا نہیں تو ہم قرآن و حدیث کی تعلیمات حقہ کو چھوڑ کر بد دینوں، بد مذہبوں سے اتحاد نہیں کر سکتے رہا متصب سنی مسلمان کو جھگڑالو، فسادی گالی بکنے والا کہنا تو یہ پرانی دھاندلی اور زیادتی ہے۔ گالی تو وہ بک رہا ہے جس نے تقویۃ الایمان لکھی جس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو بڑا بھائی بنایا۔ جس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے انبیاء کرام کو بارگاہ الٰہی میں ذرہ ناچیز سے بھی کم تر اور چمار سے بھی زیادہ ذلیل کہا، گالی تو وہ بک رہا ہے جس نے حفظ الایمان میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کو پاگلوں اور جانوروں، چوپایوں کے علم غیب کی طرح ٹھہرایا بدزبانی تو وہ کر رہا ہے جس نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم مقدس کو شیطان کے علم سے کم قرار دیا۔ اصل جھگڑالو تو وہ ہے جس نے تحذیرالناس میں مسئلہ ختم نبوت کا انکار کیا اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی ماننا عوام جاہلوں کا خیال بتایا۔ واقعی فسادی تو وہ ہے جس نے براہین قاطعہ میں اللہ تعالٰی کے متعلق جھوٹ بول سکنے کا نیا عقیدہ گڑھا اور جس نے اردو زبان میں سرکار رسالت علیہ السلام کو علماء دیوبند کا شاگرد بتایا ۔
      سنی مسلمان نہ جھگڑالو اور فسادی ہے نہ گالی بکنے والا وہ تو شریعت اسلامیہ کے حکم کے مطابق ان گستاخ مولویوں کو کافر و مرتد کہتا ہے جو بارگاہ احدیت اور سرکار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی کرنے اور ضروریات دین کے منکر ہیں عقائد ضروریہ دینیہ کی مخالفت کرنے والوں کو کافر و مرتد کہنا ان کے حق میں منافق کا لفظ استعمال کرنا ہرگز ہرگز گالی نہیں ہے۔ خود اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کافر، کفار، مشرکین، منافقین وغیرہ کلمات مخالفین اسلام کے حق میں ارشاد فرمائے تو کیا کوئی بد نصیب یہ کہنے کی جراءت کو سکتا ہے کہ قرآن عظیم نے گالی دی ہے۔ معاذاللہ تعالٰی منہ ۔
      مسلمانو گستاخوں سے آپ کو نہ حجت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ان کا زق زق بق بق سننے کی حاجت ہے ۔ آپ ان سے گالی گلوچ اور جھگڑا نہ کرو ، بس آپ ان کی صحبت سے دور رہو۔ اپنے سے ان کو دور رکھو ۔ تمہارے آقائے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں یہی تعلیم دی ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ایاکم ویاھم لایضلونکم ولا یفتونکم ۔ (مسلم شریف)
      یعنی مسلمانو ! تم بدمذہبوں کی صحبت سے بچو۔ اپنے کو ان سے دور رکھو نہیں تو وہ تمہیں سچے راستے سے بہکا دیں گے اور تمہیں بے دین بنا دیں گے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں اور تمہیں سچی ہدایت پر قائم رکھے آمین ۔
      ایسا بدمذھب گستاخ جس کی گستاخی حد کفر کو پہنچ چکی ہو ،یا ضروریات دین کا منکر ہو وہ کافر ہے ، اورایسا بد مذھب کہ کفریہ عقائد خود نہیں رکھتا مگر ایسے کفریہ و گستاخانہ عقائد والوں کو اپنا امام یا پیشوا بتاتا ہے یا انہیں مسلمان گردانتا ہے تو وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے، کیونکہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے اسی طرح ان کے منکر کو کافر نہ جاننابھی کفر ہے ،وجیز امام کردری و در مختار و شفائے امام قاضی عیاض و غیرہ میں ہے ۔ اللفظ للشفاء مختصرا اجمع العلماء ان من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر ۔
      ’’شفاء کے الفاظ اختصارا یہ ہیں ،علماء کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے ۔ (کتاب الشفاء ،القسم الرابع ،البا ب ا لاول،۲/۲۰۸،مطبوعہ،دار سعادت،بیروت، در مختار ،کتاب الجھاد،باب المرتد،۱/۳۵۶،مطبوعہ ،مجتبائی،دھلی، فتاوی رضویہ اا/۳۷۸ مطبوعہ لاھور،چشتی)
      ایسے بدمذھبو گستاخوں سے دوستی ، محبت ، میل جول ، ان کے یہاں جانا ، انہیں اپنے یہاں بلانا ،اھل سنت کی مسجد میں آنے دینا ،درس و تبلیغ کی اجازت دینا ،ان کے ساتھ صحبت رکھنا ،ان کی طرف جھکاؤ اور مائل ہونا ،الغرض ہر وہ کام جس سے بدمذھبوں سے انسیت و تعلق و وابستگی یا میلان کا اظہار ہو بدمذھبی و سخت حرام ،اور شادی بیاہ کرنا ناجائز ،نکاح باطل محض و زناء کما  صرح بہ الامام المجدد البریلوی فی ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار،قرآن کریم کی نصوص صریحہ و احادیث شریفہ سے ان تمام کی ممانعت ثابت اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :{و لاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار }( ھود۱۱/۱۱۳)’اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی ‘‘ (کنز الایمان )اس آیت کی تفسیر میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’یہاں ظالم سے مراد کافر اور سارے گمراہ و مرتدین ہیں اور ان سے ملنے سے مراد ان سے محبت یا میل جول رکھنا ‘‘(تفسیر نور العرفان)
      نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :{ و اما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین }(الانعام ۶/۶۸) ۔ اور اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو ‘‘(کنز الایمان )
      نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :ومن یتولھم منکم فانہ منھم }( المائدۃ ۵/۵۱ )
      ’’اورتم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے‘‘(کنز الایمان )
      اور بد مذھبوں کی نسبت حضور اکرم نور مجسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:و لا تجالسوھم و لا تواکلو ھم و لا تشاربوھم و لا تناکحوھم و لا تخالطوھم ولا تعودوا مرضاھم و لا تصلوا معھم و لا تصلوا علیھم ۔
      ’’ اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ اور پانی نہ پیو اور بیاہ شادی نہ کرو، اور میل جول نہ کرو،اور ان کے بیماروں کی عیادت نہ کرو ، اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو ، اور مرجائیں تو ان کا جنازہ نہ پڑھو ‘‘ ۔ (صحیح ابن حبان،۱/۲۷۷،سنن البیھقی الکبری،۱۰/۲۰۵،السنۃ لعبد اللہ بن احمد،۱/۱۲۶،اعتقاد اھل السنۃ،۱/۱۳۴،مسند الربیع،۱/۳۰۲،السنۃ لابن ابی عاصم،۱/۱۴۴،الجرح و التعدیل،۷/۵۲،میزان الاعتدال، ۲/۳۱،لسان المیزان، ۲/۵۲،المجروحین،۱/۱۸۷،تھذیب الکمال،۶/۴۹۹، العلل المتناھیۃ، ۱/۱۶۸،تغلیق التعلیق،۵/۱۲۵،الجامع لاخلاق الراوی و السامع،۲/۱۱۸،المغنی،۹/۱۱ الضعفاء للعقیلی ۱/۱۲۶ دار الکتب العلمیۃ ،بیروت،۱۴۰۴ھـ ،تاریخ بغداد ۸/۱۴۳، الکفایۃ فی علم الروایۃ ۱/۴۸ ،المکتبۃ العلمیۃ، المدینۃ المنورۃ،خلق افعال العباد۱/۳۰،دار المعارف السعودیۃ،الریاض،۱۳۹۸ھـ،چشتی)
      نیز حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم ۔ گمراہوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو ، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیںفتنہ میں نہ ڈال دیں‘‘(صحیح مسلم،۱/۱۲،دار احیاء التراث العربی،بیروت)
      نیز حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اصحاب البدع کلاب اھل النار ۔ بد مذھبی والے جہنمیوں کے کتے ہیں ۔ (التدوین فی اخبار قزوین ۲/۴۵۸، مطبوعہ،دار الکتب العلمیۃ،بیروت ،۱۹۸۷ء ، فیض القدیر ، ۱/۵۲۸ المکتبۃ التجاریۃ الکبری،مصر، ۱۳۵۶ھ رقم الحدیث ۱۰۸۰،کنز العمال ،رقم الحدیث ۱۰۹۴،)
      اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے بد مذھب  سے شادی کرنے کے بارے میں فرمایا:ایحب احدکم ان تکون کریمتہ فراش کلب فکرھتموہ ۔
      ’’کیا تم میں کسی کو پسند آتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے کے نیچے بچھے !تم اسے بہت برا جانو گے‘‘(سنن ابن ماجہ ،ابواب النکاح ص،۱۳۹،مسند احمد ۱/۸۶ دار الفکر بیروت، لبنان،چشتی)
      یعنی بد مذھب جہنمیوں کے کتے ہیں اور انہیں بیٹی یا بہن دینا ایسا ہے جیسے کتے کے تصرف میں دیا،بہر حال ان عبارات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بد مذھب سے میل جول ،ان کے یہاں جانا ،انہیں بلانا ،اھل سنت و جماعت کی مسجد میں درس و تبلیغ کی اجازت دینا،شادی کرنا جائز نہیں ہے نیز وہ وھابی ، دیوبندی لوگ جن کی گمراہی و بد مذھبی حد کفر کو پہنچ چکی ہے ان کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ،نیز ایسا شخص جو خود تو کفریہ عقائد نہیں رکھتا مگر جن لوگوں نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کی ہیں انہیں مسلمان جانتا ہے وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے،
      جیسے رئیس الوھابیہ،اسماعیل  دھلوی (م۱۲۴۶ھ) نے لکھا معاذ اللہ کہ:اور یہ یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘(تقویۃ الایمان ، ص /۲۳ مطبوعہ دھلی ،  ۱۳۵۶؁ھ  ۱۹۴۷؁ء ، مطبوعہ ،مطبع علیمی اندرون لوھاری دروازہ، لاھور)
      ’’یقین مانو کہ ہر شخص خواہ وہ بڑے سے بڑا انسان ہو یا مقرب ترین فرشتہ اس کی حیثیت شان الوھیت کے مقابلہ پر ایک چمار کی حیثیت سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘(تقویۃ الایمان ،ص۲۲،مطبوعہ ،دار الاشاعت ،اردو بازار ،کراچی)
      دیوبند کے حجۃ الاسلام،بانیٔ مدرسۂ دیوبند ، محمد قاسم نانوتوی (م۱۲۹۷ھ)نے لکھا معاذاللہ کہ:اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی  ﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی  ﷺ میں کچھ فرق نہ آئے گا ‘‘ ۔ (تحذیر الناس ،ص۲۴،مطبوعہ،کتب خانہ امدادیہ ، دیوبند ،چشتی)
      دیوبند کے قطب عالم،رشید احمد گنگوہی (م۱۳۲۳ھ) نے لکھامعاذاللہ کہ:’’کذب داخل تحت قدرت باری تعالی ہے‘‘(فتاوی رشیدیہ،مبوب بطرز جدید،کتاب العقائدص/۲۳۷،مطبوعہ،دار اشاعت،کراچی) ۔ اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی( معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد) جھوٹ بولنے پر قادر ہے ۔
       دیوبند کے محدث،خلیل احمد انبیٹھوی (۱۳۴۶ھ) نے لکھا معاذاللہ کہ : الحاصل غور کرنا چاہیے کہ شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے ،شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ،فخر عالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے ، کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ‘‘(براھین قاطعہ،ص/۵۵،مطبوعہ،دار الاشاعت،کراچی)
      دیوبند کے حکیم الامت،اشرفعلی تھانوی (م۱۳۶۳ھ) نے لکھا معاذاللہ کہ : پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانااگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل ،اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے، ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی(بچہ)و مجنون (پاگل)بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے(حفظ الایمان،ص/۱۳، مطبوعہ،قدیمی کتب خانہ،کراچی)
      ان مذکورہ بالا نام نہاد گستاخ علمائے (سو) دیوبند اپنی گستاخانہ عبارات کی روشنی میں دائرئہ اسلام سے خارج ہیں اور ایسے کافر ہیں کہ جو انہیں کافر نہ مانے ، یا ان کے کفر و عذاب میں شک کرے کافر ہے (کما مر فیما سبق) تفصیل،امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی تصانیف حسام الحرمین و تمہید ایمان و غیرھما میں ملاحظہ فرمائیں، اور عقائد اھل سنت و جماعت کی معلومات و دلائل کے لیے حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب جاء الحق کا مطالعہ فرمائیں۔
      (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)







































    • By Sunni Haideri
      اصلی اہل حدیث اور جعلی اہل حدیث
                    ⛲ بسم اللہ الرحمن الرحیم ⛲
                یا اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ    یارسول ﷺ
               اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ                   
                  وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہ

                  اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہ                
                    وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ
                    _________________________
                             : ترمذی رحمہ اللہ لکھتے ہی
      1: "وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْحَدِيثِ فِي هَذَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ"۔
      (ترمذی، كِتَاب الصَّلَاةِ،بَاب مَاجَاءَ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ،حدیث نمبر:۲۱۳،)
      ترجمہ:اہلحدیث کا اس میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں عمروبن مرہ کی روایت زیادہ صحیح اور بعض کہتے ہیں حصین کی روایت زیادہ صحیح ہے۔
                      (محمد عمران علی حیدری)
      اس سے ثابت ہوا امام ترمذی اہل حدیث سے مراد محدثین کو لیتے ہیں۔
       نہ کہ موجودہ دور کا نام نہاد فرقہ مراد ہے بلکہ اس وقت تو اس فرقہ کا وجود ہی نہیں تھا۔
      ✍️شیر کی کھال میں گیڈر آجاۓ تو وہ گیڈر ہی رہے گا شیر نہیں بن سکتا۔✍️
      2 :الانصاری المدینی کے بارے میں لکھتے ہیں:
      "لَيْسَ ہُوَبِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ"۔                
                       (ترمذی:۱/۲۱)
             ترجمہ:وہ اہلحدیث کے ہاں قوی نہیں ہے۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      (اب بتاو امام ترمذیؒ فرما رہے ہیں کہ وہ (راوی) اہلحدیث کے ہاں قوی نہیں آج کے نام نہاد اہلحدیث فرقہ کے اکثر عوام کو بیت الخلاء جانے کی دعا نہیں آتی وہ سند حدیث کو کیا جانیں گے میں کہتا ہوں ان کو یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ سند حدیث کیا ہوتا ہے۔ وہ کسی راوی کو ضعف صدوق ثقہ کیسے جانیں گے؟ ھھھ)
      ✍️ایک اور راوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
      3: "تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ"۔
      (ترمذی،كِتَاب الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ،بَاب مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر:۳۶۹۹،)
      ترجمہ:اس میں بعض اہلحدیث نے حفظ کی رو سے کلام کیا ہے۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      اب بتائیں امام ترمذیؒ نے یہاں بھی لفظ اہلحدیث استعمال کیا ہے اور فرمایا کیا ہے کہ اہلحدیث(محدثین) نے اس راوی کا          حفظ(حافظہ) پر کلام کیا ہے۔
                           پھرایک اور جگہ لکھتے ہیں:
                    4: "وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ"۔
      (ترمذی،كِتَاب الصَّلَاةِ،بَاب مَاجَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ،حدیث نمبر:۱۷۳)
            ترجمہ:وہ اہلِ حدیث کے ہاں ضعیف ہے۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      لو جی ایک اور راوی کے بارے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہلحدیث(محدثین) کے نزدیک یہ راوی ضعیف ہے۔
      امام ترمذی اہلحدیث کوکہیں کہیں اصحاب الحدیث کہہ کربھی ذکر کرتے ہیں، حدیث 
      "لاتزال طائفۃ من امتی ظاہرین علی الحق" 
      کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان سے مراد اصحاب الحدیث ہیں،
      5:  امام بخاری نے بھی تصریح کی ہےکہ اس سے مراد لعم حدیث(حدیث کا علم رکھنے والے)کے ماہراہل العلم ہیں۔                              
                             (بخاری:۲/۱۰۸۷)
                         (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اب کیا کہیں گے نام نہاد اہلحدیث انگریزوں سے لیا ہوا نام اور بدنام کر رہے ہیں محدثین کو اللہ اپنی پناہ میں رکھے آمین۔
      6: خطیب بغدادیؒ (۴۶۲ھ) ابوعبداللہ الحاکم کے اس زعم پرکہ حدیث طیبہ اور حدیث  "من کنت مولاہ" صحیحین کی شرطوں کے مطابق ہیں، جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
      "فانکرعلیہ اصحاب الحدیث ذلک ولم یلتفتوا الی قولہ ولاصوبوہ علی فعلہ"۔
                  (تاریخ بغداد۵/۴۷۴)
      ترجمہ:اصحاب الحدیث نے اس پرانکار کیا ہے اور اس کی بات پرتوجہ نہیں کی اور اسے اس کے عمل میں درست نہیں کہا۔
                  (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️یہاں اہلحدیث کو امام صاحب اصحاب الحدیث بول رہے ہیں اب کوئی نیا  بندہ اٹھے اور وہ خود ہو اصحاب الحدیث کہنا شروع کر دے تو کیا ہم یہی کہیں گے ان کا تو زکر امام ترمذیؒ نے کیا بڑی پرانی جماعت ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ اس سے مراد محدثین حدیث کا علم رکھنے والے حفاظ حدیث.
      7: حافظ ابن عبدالبر مالکی (۴۶۳ھ) بھی ایک جگہ لکھتے ہیں:
      "وقالت فرقة من أهل الحديث: إن وطئ في الدم فعليه دينار، وإن وطئ في انقطاعه فنصف دينار ورأت فرقہ من اھل الحدیث تطویل السجود فی ذلک"۔
                            (تمہید:۳/۱۷۶)
      ترجمہ: اہل حدیث کی ایک جماعت نے کہا ہے اگراس نے ایام میں اس سے صحبت کی تواسے ایک دینار صدقہ لازم آئے گا اور بعض اہلِ حدیث نے کہا ہے کہ اس پر دراز سجدہ اس کے ذمہ ہے۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اب ادھر بتائیں جناب کہ بعض اہلحدیث سے کیا مراد ہے؟ میں بتاتا چلوں سنی دوستو اس سے مراد بعض محدثین ہیں۔
      ✍️دوسری بات کہ ایک اہلحدیث کی جماعت سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے اہلحدیث کی بہت ساری جماعتیں ہیں ایسا نہی ہے؟ بالکل اس مراد یہی ہے تو یہاں نام نہاد اہلحدیث کیا مراد لیں گے کہ اب بہت ساری یا دو، تین، پانچ، یا اس سے زیادہ فرقے اہلحدیث کے نام سے پہلے موجود تھے؟؟ھھھھ۔
      ✍️آو میں بتاتا ہوں سنی دوستو اس سے مراد محدثین کی جماعتیں ہیں جو آپ جانتے کوئی حدیث جمع کرنے والے تھے کوئی اسماء الرجال پر کام کرنے والے تھے ہر محدث نے اپنے ہر جماعت محدثین نے اپنا اپنا کام ہے ہے اس کا مطلب ہوا کہ بہت سارے گروہ تھے حدیث جمع حفظ اصول حدیث وغیرہ پر کام کرنے والے۔ اس سے اب سمجھ لگ گئی ہوگی ۔
                              إن شاءالله۔
      8  "یجوز عند اہل الحدیث التساہل فی الاسانید الضعیفۃ وروایۃ ماسوی الموضوع من الضعیف والعمل بہ"۔            
               (تقریب بشرح التدریب:۱۹۶)
                      (ضرب حیدری)
      ترجمہ:اہلِ حدیث کے ہاں اسانید ضعیفہ میں بشرطیکہ موضوع کی حد تک نہ ہوں؛ درگزر سے کام لینا اور اس پرعمل کرنا جائز رکھا گیا ہے۔
      ✍️لو جی اب کیا کہیں گے اس سے کیا مراد ہے یہاں بھی محدثین مراد ہیں حدیث پر محدثین نے کام کیا انہی کو ہی اہلحدیث کہا جاتا ہے۔
      اس ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ اگر حدیث کی سند موضوع نہ ہو اس پر حدیث پر عمل جائز رکھا گیا ہے۔
      9: حافظ ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ ایک مقام پر حدیث "لَنْ تزال ھذہ الامۃ قائمۃ علی امراللہ" کی شرح میں لکھتے ہیں:
      "وقد جزم البخاري بأن المراد بهم أهل العلم بالآثار وقال أحمد بن حنبل إن لم يكونوا أهل الحديث فلا أدري من هم"۔            
                      (فتح الباری:۱/۱۶۴)
      ترجمہ:امام بخاریؒ نے پورے یقین سے کہا ہے کہ اس سے مراد احادیث کے اہلِ علم ہیں اور امام احمد فرماتے ہیں کہ اگراس سے اہلحدیث مراد نہ ہوں تومیں نہیں جانتا کہ پھرکون لوگ مراد ہوں گے۔
                    (محمد عمران علی حیدری)
      اب اس کی میں کیا وضاحت کروں آپ لوگ خود سمجھ دار ہیں۔ بس سنی دوستو ایک بات یاد رکھو غیر کا فہم نہ لو آپ لوگ اپنے علماء سے سمجھیں اگر کچھ سمجھ نہیں آتا تو۔
      10 :شامی محقق ابنِ ہمامؒ نے لکھا ہے:
      "وَذَهَبَ بَعْضُ الْمُحَدِّثِينَ إلَى كُفْرِهِمْ، قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: وَلَاأَعْلَمُ أَحَدًا وَافَقَ أَهْلَ الْحَدِيثِ عَلَى تَكْفِيرِهِمْ"۔            
                 (ردالمحتار:۳/۴۲۸)
      ترجمہ: بعض محدثین ان کی تکفیر کے قائل ہیں ابن المنذر نے کہا ہے میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس پرمحدثین کی موافقت کی ہو۔
                (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️یاد رہے علامہ شامیؒ خوارج کا تذکرہ کرتے ہوۓ یہ بات فرماتے ہیں۔
      11: شیخ عبدالحق محدث دہلوی سے حدیث کی باقاعدہ اشاعت ہوئی، آپ کے دور تک لفظ اہل الحدیث اسی پرانی اصطلاح سے جاری تھا، حضرت شیخ ایک مقام پر لکھتے ہیں:
      "وکانوالہ اصحاب من التابعین واتباعہم وکلہم کانوا اہل 
      الحدیث والفقہ والزھد والورع"
            
                 (انوارالسنۃ لردادالجنۃ:۱٢).
      ترجمہ:تابعین اور تبع تابعین میں ان کے کئی ساتھی تھے اور وہ سب اہلحدیث وفقہ وزہدورع تھے۔
      اہلحدیث سے مراد ترک تقلید کے نام سے ایک فقہی مسلک ہوا یہ جدید اصطلاح اسلام کی پہلی تیرہ صدیوں میں کہیں نہیں ملتی، اس کا آغاز چودھویں صدی ہجری سے ہوتا ہے؛ یایوں سمجھ لیجئے کہ تیرہویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں اس کے لیئے کچھ حالات سازگار ہوگئے تھے۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      12: ہندوستان کے مشہور عالمِ دین مولانا محمدشاہ صاحب شاہجہانپوری لکھتے ہیں:
      "پچھلے زمانہ میں شاذ ونادر اس خیال کے لوگ کہیں ہوں توہوں؛ مگراس کثرت سے دیکھنے میں نہیں آئے؛ بلکہ ان کا نام ابھی تھوڑے ہی دنوں سے سنا ہے، اپنے آپ کوتووہ اہلحدیث یامحمدی یاموحد کہتے ہیں؛ مگرمخالف فریق میں ان کا نام غیرمقلد یاوہابی یالامذہب لیا جاتا ہے"۔
                  (الارشاد الی سبیل الرشاد:۱۳)
                   (محمد عمران علی حیدری)
      لیں جی اب آتے نام نہاد اہلحدیثوں کے گھر کی طرف.
                       :تاریخ نام نہاد اہلحدیث
                                                            :مولوی عبدالمجید صاحب سوہدروی لکھتے ہیں
       
      "مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی نے اشاعت السنۃ کے ذریعہ اہلحدیث کی بہت خدمت کی، لفظ وہابی آپ ہی کی کوششوں سے سرکاری دفاتر اور کاغذات سے منسوخ ہوا اور جماعت کو اہلحدیث کے نام سے موسوم کیا گیا"۔               
                   (سیرت ثنائی:۳۷۲)۔
                  (محمد عمران علی حیدری)
       :مولوی محمدحسین صاحب نے سیکریٹری گورنمنٹ کوجودرخواست دی اس کے آخری    الفاظ یہ تھے
      "استعمال لفظ وہابی کی مخالفت اور اجراء نام اہلحدیث کا حکم پنجاب میں نافذ کیا جائے"۔
                   (اشاعۃ السنۃ:۱۱/ شمارہ نمبر:۲)
                      (محمد عمران علی حیدری)
       :مشہور غیر مقلد شیخ الحدیث وہابیہ اسماعیل سلفی لکھتے ہے 
       جماعت نے اپنا مقصد اسی دن کھو دیا تھا جِس دن سرکار انگلشیہ (انگریز) سے نیا نام اہلحدیث لیا اور تصدیق کرادی تھی ۔
              (نگارشات جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 382)
                    (محمد عمران علی حیدری)
       :  اہلحدیث وہابی عبد القادر حصاروی لکھتے ہے
      انگریز گورنمنٹ نے وہابی سے اہلحدیث نام منظور کیا ۔
      (فتاویٰ حصاریّہ جلد اول صفحہ نمبر 567
      (محقق العصر اہلحدیث عبد القادر حصاروی

             ( طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)
      post: 12 july 2021.
      12ذولحجہ 1442ھ
×
×
  • Create New...