Jump to content
IslamiMehfil
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      ★ تــحـقـیـــق حـــدیـثــــــ اســـماءالـرجــال ★
       
      کــــوئــــی ایـســا گـھـر نـہـیـں جـس کـــے دروازے پـــر مـلــک المــوت عــلیـــہ الســــلام دن میـــــں پـانـچ مـــرتــبـــہ نــــہ آتـــا ہــــو 
      اَلصَّـــلٰوةُ وَالسَّـــلَامُ عَلَیــْـكَ یَارَسُـــوْلَ اللّہ وَعَلیٰ اَلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَاحَبِیْبَ اللّٰہﷺ 
      بِسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْــــــمٰنِ الرَّحــــــِیـــــم 
       آج کل انٹرنیٹ کا دور ہے ہر بندہ انٹرنیٹ سے مواد اٹھا کر شیئر کرتا ہے بس لوگوں کو نئے نئے واقعات ملنے چاہئیں وہ ان واقعات کی تحقیق بھی نہیں کرتے اور اس کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں ان کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے لئے جہنم بنا رہے ہیں 
      اسی طرح ایک یہ روایت بھی ہم تک تحقیق کرنے کے لئے پہنچی کہ نبی ﷺ کی طرف منسوب ہے 
      کوئی ایسا گھر نہیں جس کے دروازے پر موت کا فرشتہ دن میں پانچ مرتبہ نہ آتا ہو جب وہ دیکھتا ہے کہ کسی انسان کا رزق پورا ہوگیا تو اس پر موت کا غم ڈال دیتا ہے اور اس پر موت کی وحشت چھا جاتی ہے اور لرزہ طاری ہو جاتا ہے اس کے گھر والے اس کے ماتم میں اپنے بال کھول دیتے ہیں اپنے چہرے پیٹ کر سرخ کر دیتے ہیں اس مصیبت پر چیخ و پکار کر رہے ہوتے ہیں فرشتہ مرگ کہتا ہے ہلاکت ہو تم پر کیسا خوف اور کیسا غم میں نے تم میں سے کسی کا رزق تو کم نہیں کیا اور نہ ہی کسی کی موت قریب کی میں تو اسی وقت کسی کے پاس آتا ہوں جب اس کا وقت پورا ہو جاتا ہے حضور کی طرف منسوب ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر یہ اسے کھڑا دیکھ لیں اور اس کی باتیں سن لیں تو اپنے مردے کو بھول جائیں اور خود رونے لگیں الخ 
      یہ وہ روایت ہے جو بڑا مرچ مصالحے کے ساتھ واٹس اپ گروپس میں بھی شیئر کی جاتی ہے اور انٹرنیٹ کی ویب سائٹس پر بھی موجود ہے آئیے اس کی تحقیق کرتے ہیں 
      ❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥ 
      روایــت کـــی تحـقیــق درج ذیـــل ہـــے 
      اس جھوٹے قصے کو گھڑنے والا شخص ابن وَدْعَان (المتوفى: 494هـ) ہے جس کا پورا نام محمد بن علي الودعاني ہے یہ خود تو متہم بالکذب ہے مگر اس نے چالیس روایات پر مشتمل ایک نسخہ گڑھا جس کی تصریح امام الائمہ و المسلمین امام ابن حجرعسقلانیؒ نے اور امام جرح و تعدیل حافظ شمس الدین ذہبیؒ نے کی پہلے اس کے نسخے کی روایت ملاحظہ ہو جو اس نے اپنی سند سے نکل کی 
      حدثنا الحسن بن محمد بن جعفر الصوفي البغدادي رحمه الله قال: حدثنا القاضي أبو جعفر أحمد بن عبد الله قال:حدثنا أبي قال: حدثنا عبد الله بن مسلم بن قتيبة قال: حدثنا يحيى بن أيوب قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما من بيت إلا وملك الموت يقف على بابه في اليوم خمس مرات فإذا وجد الإنسان قد نفد أكله وانقطع أجله ألقى عليه الموت فغشيه كرباته وعمرته علزاته فمن أهل بيته الناشرة شعرها والضاربة وجهها والباكية لشجوها والصارخة قولها، فيقول ملك الموت عليه السلام ويلكم مم الفزع ومم الجزع فما أذهبت لواحد منكم رزقا ولا قربت له أجلا ولا أتيته حتى أمرت ولا قبضت روحه حتى إستأذنت وإن لي فيكم عودة ثم عودة حتى لا يبقى منكم أحدا قال النبي صلى الله عليه وسلم فوالذي نفس محمد بيده لو يرون مكانه ويسمعون كلامه لذهلوا عن ميتهم ولبكوا على أنفسهم حتى إذا أحمل الميت على نعشه رفرفت روحه فوق النعش وهو يناجي أهله ويا ولدي لا تلعبن بكم الدنيا كما لعبت بي، جمعت المال من حله ومن غير حله ثم خلفته لغيري،فالهناة له والتبعة على فا حذروا مثل ما حل بي 
        كتاب الأربعون الودعانية لابن ودعان ص41📓
      ❖◉➻════════════════➻◉❖ 
      اس شخص اور اس کے اس گڑھے ہوئے نسخے کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل کیا فرماتے ہیں 
      امام جرح و تعدیل حافظ شمس الدین ذہبیؒ اپنی مشہور اسماء الرجال کی کتاب میزان الاعتدال میں اس کے ترجمے میں فرماتے ہیں 
       محمد بن علي بن ودعان القاضي، أبو نصر الموصلي، صاحب تلك الأربعين الودعانية الموضوعة ذمه أبو طاهر السلفي، وأدركه، وسمع منه، وقال: هالك متهم بالكذب
      ترجمہ: یہ چالیس ودعانی روایات کو ایجاد کرنے والا شخص ہے جو موضوع ہیں ابو طاہر سلفی نے اس کی مذمت کی انہوں نے اس کا زمانہ پایا اور اس سے سماع کیا اور یہ کہا کہ یہ ہلاکت کا شکار ہونے والا شخص اس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد ہے 
      كتاب ميزان الاعتدال 3/658📒
       
      امام الائمہ المسلمین الشیخ اکبر امام ابن حجر عسقلانیؒ اپنی مشہور اسماء الرجال کی کتاب لسان المیزان میں اس کے ترجمے میں یہی کلام نقل کیا 
      محمد بن علي بن ودعان القاضي أبو نصر الموصلي صاحب تلك الأربعين الودعانية الموضوعة ذمه أبو طاهر السلفي وادركه وسمع منه وقال هالك متهم بالكذب وقال ابن ناصر رأيته ولم أسمع منه لأنه كان متهما بالكذب
      ترجمہ: یہ چالیس ودعانی روایات کو ایجاد کرنے والا شخص ہے جو موضوع ہیں ابو طاہر سلفی نے اس کی مذمت کی انہوں نے اس کا زمانہ پایا اور اس سے سماع کیا اور یہ کہا کہ یہ ہلاکت کا شکار ہونے والا شخص اس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد ہے مزید فرماتے ہیں ابن نصر کہتے ہیں میں نے اسے دیکھا مگر میں نے اس سے سماع نہیں کیا کیونکہ اس پر جھوٹا ہونے کا الزام ہے 
      كتاب لسان الميزان 5/305📙
       
      علامہ شمس الدين ابن الغزيؒ نے اپنی كتاب ديوان الإسلام میں فرمایا 
      ابن ودعان: محمد بن علي بن أحمد فخر القضاء أبو نصر الموصلي المتهم بالكذب 
      كتاب ديوان الإسلام 4/385📕
       
      امام ابن کثیرؒ بھی البدایہ والنہایہ میں اس کے ترجمہ میں اس نسخے کے بارے میں کہتے ہیں 
      وهي موضوعة كلها وإن كان في بعضها معان صحيحة 
      ترجمہ: اس نسخے میں تمام روایات من گھڑت ہیں اگرچہ ان میں سے بعض کے معنی درست ہیں 
      كتاب البداية والنهاية ط هجر 16/179📔
      ◉➻═════════════➻◉ 
      ان تمام ائمہ کرامؒ کی تصریحات سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ اس گھڑے ہوئے نسخے میں جو چالیس روایات ہیں وہ موضوع ہیں اور خود اس نسخہ کو اپنی سند سے نکل کرنے والا جو شخص ہے اس کو بھی محدثین نے متہم بالکذب کہا مگر اب جب یہ ثابت ہوگیا کہ یہ نسخہ اس نے گھڑا ہے تو یہ راوی کذاب اور واضع الحدیث ثابت ہوگیا ہے 
      جہاں تک بات رہی مذکورہ روایت کی تو اس کی کوئی متابعت مجھے نہیں ملی اور اس کی سند کو نقل کرنے والا وہی شخص ہے جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا ہے اور وہ اس نسخے میں اس کو نقل کر رہا ہے جس نسخے کے لئے ائمہ کرام کا کلام ہے کہ وہ گھڑا ہوا ہے
      لہذا ائمہ کرام کے کلام اور تصریحات سے یہ نتیجہ نکلا کہ یہ روایت موضوع ہے اس کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا حرام ہے 
      فقـــــط واللہ ورسولــــــہٗ اعلـــم بـالـصــواب 
       
      ✍🏻 شــــــــــــــــــــــرف  قلــــــــــــــــــم 
      خادم اہلسنت وجماعت محمد عاقب حسین رضوی
       
       

       
       
       
       







    • By Aquib Rizvi
      تعویذکا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلماور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعیناورتابعین علیہ الرحمہ سے





       
       
       
       
       
       


    • By mzeeshanimtiaz
      السلام علیکم
      ہر مسلمان کو اپنا عقیدہ کیا رکھنا چاہیے اس کے متعلق ؟
      رسول اللہ(ﷺ) اس وقت بھی نبی تھے جب ابھی حضرت آدم(علیہ السلام) گارے میں تھے
      ١) یہ نبوت کیسی تھی
      صرف نامزدگی ہوئی تھی
      یا
      جو منصب ہوتا ہے نبوت کا وہ مل گیا تھا ؟
      اگر نبوت کا منصب تب ہی مل گیا تھا تو مزید کچھ سوالوں کے جواب عنائت فرما دیں:
      ۲) کیا رسول اللہ(ﷺ) عالم ارواح سے لیکر زندگی کے چالیس سال تک بغیر وحی کے نبی تھے ؟
      اور
      وحی کے بغیر بھی نبوت ہوتی ہے ؟
      ٣) کیا پھر باقی تمام انبیاء کو نبوت رسول اللہ(ﷺ) کے بعد ملی ؟
      پھر خاتم النبیین کے کیا معنی ہوں گے ؟
      اعلی حضرت کی اس عبارت کا مطلب کیا ہوگا
      جب سے رسول اللہ(ﷺ) کو نبوت ملی کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی
      (فتاوی رضویہ, جلد 15, صفحہ 669)
      ٤) قاسم نانوتوی نے جو کہا کہ رسول اللہ(ﷺ) کے بعد بھی اگر کسی کو نبوت ملنا مانا  جائے تو خاتم النبیین پر کچھ آنچ نہیں آئے گی تو
      یہ کفر کیسے ؟
      ٥) دنیا میں جب حضرت عیسی(علیہ السلام) تشریف لائیں گے
      تب وہ ہوں گے تو نبی, ان سے نبوت چھن نہیں جائے گی
      لیکن وہ نئی شریعت کیساتھ نہیں آئیں گے
      بطور امتی آئیں گے
      تمام انبیاء ہی رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے امتی ہیں
      تو پھر خاتم النبیین کے کیا معنی کیے جائیں گے ؟
      قرآن و حدیث اور اقوال علماء اہلسنت کی روشنی میں جواب عنائیت فرمائیں
×
×
  • Create New...