Jump to content
IslamiMehfil

شہادت امام حسین کی نشاندہی


Recommended Posts

🏹 شہادت امام حسین علیہ السلام کی نشاندہی🏹

1 : 15124- عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَيُقْتَلَنَّ الْحُسَيْنُ، [قَتْلًا] وَإِنِّي لَأَعْرِفُ التُّرْبَةَ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا، قَرِيبًا مِنَ النَّهْرَيْنِ.
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حسین کو شہید کیا جاۓ گا اور میں اس مٹی کو پہچانتا ہوں جہاں حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جاۓ گا دو نہروں کے قریب ہے.

✍️حضرت علیؓ بھی جانتے تھے۔ 

✍️اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں باقی احادیث کو بھی اس حدیث سے تقویت مل رہی ہے یزیدی ڈاکٹرز کے پاس جائیں👨‍⚕️

✍️دعا ہے اللہ جلدی یزیدیوں کا صفایا فرما دے آمین۔🤲

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
      تخریج:

✍️ یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے۔✍️

📖ابن أبي شيبة في مصنفه باب من كره الخروج في الفتنة وتعوذ عنها ~ حديث رقم 36699

📖ابن أبي شيبة في مصنفه باب ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم ~ حديث رقم 30097۔

( محمد عمران علی حیدری)

2 :وَفِي "مُسْنَدِ أَبِي يَعْلَى": ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لا يَزَالُ أَمْرُ أُمَّتِي قَائِمًا بِالْقِسْطِ، حَتَّى يَكُونَ أَوَّلُ مَنْ يَثْلَمُهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ يُقَالَ لَهُ: يَزِيدُ

📖إسناده مرسل. وانظر المجمع "5/ 241"

ترجمہ: میری امت کا امر عدل کے ساتھ قائم رہے گا یہاں تک کہ پہلا شخص جو اسے تباہ کرے گا وہ بنی امیہ میں سے ہو گا جس کو یزید کہا جائیگا۔

✍️یہ حدیث سند کے لحاظ سے سے مرسل ہے ہمارے ہاں قابل حجت ہے۔

✍️ اور اسکا متن بالکل ٹھیک ہے۔ یزید ہی پہلا لعنتی انسان تھا جس نے اپنی من مانی کی اور اہل بیت کی بے ادبی اور شعار اسلام کی ڈھایا ہے۔واقعہ حرہ قابل غور ہے۔

✍️جو درج نہی نہی کیا جا سکتا، آپ اس واقعہ کو پڑھ لیں ایک بار۔بس۔

3 : ۱۲۴٤۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ مَلَکَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّہُ أَنْ یَأْتِیَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَہُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَۃَ: امْلِکِی عَلَیْنَا الْبَابَ لَا یَدْخُلْ عَلَیْنَا أَحَدٌ قَالَ وَجَائَ الْحُسَیْنُ لِیَدْخُلَ فَمَنَعَتْہُ فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ یَقْعُدُ عَلٰی ظَہَرِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلٰی مَنْکِبِہِ وَعَلٰی عَاتِقِہِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَکُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّہُ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ أَمَا إِنَّ أُمَّتَکَ سَتَقْتُلُہُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَیْتُکَ الْمَکَانَ الَّذِییُقْتَلُ فِیہِ فَضَرَبَ بِیَدِہِ فَجَائَ بِطِینَۃٍ حَمْرَاء َ فَأَخَذَتْہَا أُمُّ سَلَمَۃَ فَصَرَّتْہَا فِی خِمَارِہَا قَالَ قَالَ ثَابِتٌ بَلَغَنَا أَنَّہَا کَرْبَلَائُ.

📖اسے احمد (المسند:242/1 ح 2165 ، 282/1 ح 2553 ۔۔ 

📖کتاب فضائل الصحابۃ: 779/2 ح 1381 ) 

📖طبرانی(الکبیر: 110/3 ح 2822) 

حاکم (397/4، 398 ح8201) , 

بیہقی (دلائل النبوۃ :471/6) اور 
ابن عساکر (تاریخ دمشق : 228/14) نے حماد بن سلمۃ عن عمار بن ابی عمار عن ابن عباسؓ کی سند سے روایت کیا ہے۔

اسے حاکمؒ و ذہبیؒ دونوں نے صحیح مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔

📖حافظ ابن کثیرؒ نے کہا: اسے (کتب سبعہ میں سے)صرف احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند قوی ہے (البدایۃ و النھایۃ: 202/8 )

📖شیخ وصی اللہ بن عباس المدنی المکی فرماتے ہیں :
اس کی سند صحیح ہے۔
(تحقیق فضائل الصحابۃ: 779/2)

ترجمہ: سیدنا عبد اللہ بن عباس  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما  سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں نبی کریم  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کھڑے تھے اور آپ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہیں اور آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی ہے جس میں خون تھا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:  یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، جسے میں آج جمع کر رہا ہوں۔  ہم نے اس دن کا حساب لگایا تو وہ وہی دن تھا، جس دن سیدنا حسین  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  شہید ہوئے تھے۔

(محمد عمران علی حیدری)

3 : نبی کریم ﷺ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت پر سخت غمگین تھے۔
ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حسین بن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) موجود تھے اورآپ رو رہے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے جبریل (علیہ السلام) نے بتایا کہ میری امت اسے میرے بعد قتل کرے گی۔

(مشخیۃ ابراہیم بن طہمان : ۳ و سندہ حسن و من طریق ابن طہمان رواہ ابن عساکر فی تاریخ دمشق ۱۹۲/۱۴، ولہ طریق آخر عندالحاکم ۳۹۸/۴ ح ۵۲۰۲ و صححہ علیٰ شرط الشیخین و وافقہ الذہبی)

4 : شہر بن حوشب تابعی(صدوق حسن الحدیث ، و ثقہ الجمہور) سے روایت ہے کہ جب (سیدنا) حسین بن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی شہادت کی خبر عراق سے آئی تو ام سلمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے فرمایا: عراقیوں پر لعنت ہو، عراقیوں نے آپ کو قتل کیا ہے ،اللہ انہیں قتل کرے، انہوں نے آپ سے دھوکا کیا اور آپ کو ذلیل کیا، اللہ انہیں ذلیل کرے ۔
 
(فضائل الصحابۃ، زوائد القطیعی جلد2 صفحہ782 حدیث 1392. مسند احمد، جلد6 صفحہ 298 حدیث550 و سندہ حسن)


5: یزال أمر أمتی قائما بالقسط حتی یثلمہ رجل من بنی أمیۃ یقال لہ یزید۔

ابن کثیر: البدایہ والنہایہ. جلد8 صفحہ231

’’میری امت کا امر (حکومت) عدل کے ساتھ قائم رہے گا یہاں تک کہ پہلا شخص جو اسے تباہ کرے گا وہ بنی امیہ میں سے ہو گا جس کو یزید کہا جائیگا۔‘‘

6: (۱۲۴۳۲)۔ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیُّ، قَالَ: بَعَثَنَا یَزِیدُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ إِلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ دَخَلْتُ عَلٰی فُلَانٍ نَسِیَ زِیَادٌ اسْمَہُ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَنَعُوا مَا صَنَعُوا فَمَا تَرٰی؟ فَقَالَ: أَوْصَانِی خَلِیلِی أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ((إِنْ أَدْرَکْتَ شَیْئًا مِنْ ہٰذِہِ الْفِتَنِ فَاعْمَدْ إِلٰی أُحُدٍ،فَاکْسِرْ بِہِ حَدَّ سَیْفِکَ، ثُمَّ اقْعُدْ فِی بَیْتِکَ، قَالَ: فَإِنْ دَخَلَ عَلَیْکَ أَحَدٌ إِلَی الْبَیْتِ فَقُمْ إِلَی الْمَخْدَعِ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَیْکَ الْمَخْدَعَ فَاجْثُ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ، وَقُلْ بُؤْ بِإِثْمِی وَإِثْمِکَ فَتَکُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ، وَذٰلِکَ جَزَائُ الظَّالِمِینَ، فَقَدْ کَسَرْتُ حَدَّ سَیْفِیْ وَقَعَدْتُ فِیْ بَیْتِیْ))۔ 

(مسند احمد: ۱۸۱۴۵)
وسندصحیح

ترجمہ: ابو ا شعت صنعانی سے مروی ہے ، انھوں نے کہا: یزید بن معاویہ نے ہمیں سیدنا ابن زبیر  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کے مقابلہ کے لیے بھیجا، میں مدینہ منورہ پہنچا تو فلاں کے پاس حاضرہوا، زیاد نے اس کا نام بیان کیا تھا، اس نے کہا: لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، آپ سب دیکھ رہے ہیں؟ ان حالات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: میرے خلیل ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے مجھے وصیت کی تھی کہ اگر تم ان فتنوں میں سے کسی فتنہ کو دیکھو تو اپنی تلوار کی دھار توڑ کر گھر کے اندر بیٹھ رہنا، اگر کوئی فتنہ باز شخص تمہارے گھر کے اندر گھس آئے تو تم کسی کوٹھڑی کے اندر  چھپ جانا اور اگر کوئی تمہاری کو ٹھڑی میں آجائے تو تم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جانا اور کہنا کہ تو میرے قتل کے گناہ اور اپنے گناہوں کے ساتھ واپس جا، تیرا نجام جہنم ہے اور ظالموں کا یہی بدلہ ہے، لہٰذا اے بھائی! میں تو اپنی تلوار کی دھار توڑ کر گھر کے اندر بیٹھا ہوں.

(محمد عمران علی حیدری)

✍️آج لوگ کہتے ہیں یزید نے کچھ بھی نہی کیا تھا.
میں مزید کیا وضاحت کروں خود ہی ساری پوسٹ پرھ لیں سمجھ لگ جاۓ گی۔۔۔إن شاءالله۔

7 :۔ (۱۲۴۳۷)۔ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ الضَّحَّاکَ بْنَ قَیْسٍ، کَتَبَ إِلٰی قَیْسِ بْنِ الْہَیْثَمِ حِینَ مَاتَ یَزِیدُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ: سَلَامٌ عَلَیْکَ أَمَّا بَعْدُ! فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، فِتَنًا کَقِطَعِ الدُّخَانِ، یَمُوتُ فِیہَا قَلْبُ الرَّجُلِ، کَمَا یَمُوتُ بَدَنُہُ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِی کَافِرًا، وَیُمْسِی مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا، یَبِیعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَہُمْ وَدِینَہُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا۔)) وَإِنَّ یَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ قَدْ مَاتَ، وَأَنْتُمْ إِخْوَانُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا، فَلَا تَسْبِقُونَا حَتّٰی نَخْتَارَ لِأَنْفُسِنَا۔ 

(مسند احمد: ۲۴۲۹۰ صحیح)

ترجمہ: جب یزید بن معاویہ کی وفات ہوئی توضحاک بن قیس نے  قیس بن ہیثم کو خط لکھا، اس کا مضمون یہ تھا، تم پرسلامتی ہو، أَمَّا بَعْدُ! میں نے رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:  قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں جیسے شدید اور خوفناک فتنے بپا ہوں گے اور کچھ فتنے دھوئیں کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، تب لوگوں کے دل یوں مردہ ہوجائیں گے، جیسے بدن مردہ ہو جاتے ہیں،ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا اور کفر کی حالت میں شام کرے گا اور ایک آدمی شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور لوگ اپنے دین و اخلاق کو دنیا کے بدلے فروخت کرنے لگیں گے۔  یزید بن معاویہ فوت ہو چکا ہے اور تم ہمارے بھائی ہو، تم کسی معاملہ میں ہم سے سبقت نہ کرنا تاآنکہ ہم خود کسی بات کو اپنے لیے اختیار نہ کر لیں۔ 

(محمد عمران علی حیدری)

✍️اس حدیث میں بات ہے نوٹ کرنے والی عقل والوں کے لیے۔
سب امثال بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یزید فوت ہوگیا🧐🤔۔

🤷‍♂️✍️خط بھی یزید کے مرنے کے بعد لکھا گیا تھا۔

✍️وجہ کیا تھا ایسا کیوں کرنا پڑا اسکا مطلب صاف ہے۔

✍️یزید کی اولاد آج بھی یزید کو بے گناہ ثابت کرنا چاھتے ہیں۔

✍️🤲بس ایک دعا ہےہم حسینی ہیں ہمارا حشر بھی انہی کے ساتھ ہو بس۔۔ آمین🤲۔


8: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ اطْرَحُوا لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً فَقَالَ إِنِّي لَمْ آتِكَ لأَجْلِسَ أَتَيْتُكَ لأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَ حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً۔

( صحیح مسلم جلد2حدیث4793)

ترجمہ:  نافع سے روایت ہے عبداﷲ بن عمر رضی ‌اللہ ‌عنہما  عبداﷲ بن مطیع کے پاس آئے جب حرہ کا واقعہ ہوا یزید بن معاویہ کے زمانہ میں اس نے مدینہ منورہ پر لشکر بھیجا اور مدینہ والے حرہ میں جو ایک مقام ہے مدینہ سے ملا ہوا قتل ہوئے اس  طرح کے ظلم مدینہ والوں پر ہوئے۔ عبداﷲ بن مطیع نے کہا ابو عبدالرحمن رضی ‌اللہ ‌عنہ   ( یہ کنیت ہے عبداﷲ بن عمر رضی ‌اللہ ‌عنہما  کی )  کے لیے تو شک بچھاؤ۔ انہوں نے کہا میں اس لیے نہیں آیا کہ بیٹھوں بلکہ ایک حدیث تجھ کو سنانے کے لیے آیا ہوں جو میں نے رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ فرماتے تھے جو شخص اپنا ہاتھ نکال لے اطاعت سے وہ قیامت کے دن خدا سے ملے گا اور کوئی دلیل اس کے پاس نہ ہوگی اور جو شخص مرجاوے اور کسی سے اس نے بیعت نہ کی ہو تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی۔

(محمد عمران علی حیدری)

✍️کس نے لشکر بھیجا کدھر بھیجا نقصان کس کو ہوا؟

✍️آج لوگ کہتے نظر آتے ہیں دو شہزادوں کی جنگ تھی لعنت تم  جاہلو دشمن اہل بیت لوگ ہیں یہ کہنے والے ایسا۔

✍️ کہاں شہزادہ جنت کہاں لخت جگر بتول سلام علیہا، کہاں جگر گوشہ ابو ترابؓ۔

✍️اور کہاں یزید رزیل لعنتی انسان۔ جس نے صحابہ پر ظلم کیا اور اہل بیت پر بھی اور مدینہ پر بھی 😭😭😭😭ظلم۔

✍️ سلیمان بن محمد بن عمر بجرمی المصری الشافعی.✍️

 سلیمان بن محمد بن عمر بجیرمی مصری شافعی اپنی کتاب تحفة الحبيب على شرح الخطيب میں لکھتے ہیں:

أَنَّ لِلْإِمَامِ أَحْمَدَ قَوْلًا بِلَعْنِ يَزِيدَ تَلْوِيحًا وَتَصْرِيحًا وَكَذَا لِلْإِمَامِ مَالِكٍ وَكَذَا لِأَبِي حَنِيفَةَ وَلَنَا قَوْلٌ بِذَلِكَ فِي مَذْهَبِ إمَامِنَا الشَّافِعِيِّ وَكَانَ يَقُولُ بِذَلِكَ الْأُسْتَاذُ الْبَكْرِيُّ. وَمِنْ كَلَامِ بَعْضِ أَتْبَاعِهِ فِي حَقِّ يَزِيدَ مَا لَفْظُهُ زَادَهُ اللَّهُ خِزْيًا وَمَنَعَهُ وَفِي أَسْفَلِ سِجِّيْنَ وَضَعَهُ وَفِي شَرْحِ عَقَائِدِ السَّعْدِ يَجُوزُ لَعْنُ يَزِيدَ.

یزید پر اشارتاً اور واضح طور پر لعنت کرنے کے متعلق امام احمد کے اقوال موجود ہیں اور یہی صورتحال امام مالک اور ابو حنیفہ کی بھی ہے اور ہمارے امام شافعی کا مذہب بھی یہی ہے اور البکری کا قول بھی یہی ہے۔ البکری کے بعض پروکاروں نے کہا ہے کہ اللہ یزید اور اس کے لشکر کی رسوائی میں اضافہ کرے اور اسے جہنم کے نچلے ترین درجہ پر رکھے۔

( البجيرمي، تحفة الحبيب على شرح الخطيب، 12: 369، بيروت: دار الفكر)

( طالب دعا : محمد عمران علی حیدری)
19.08.2021

  • Thanks 1
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Sunni Haideri
      *جس نے جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑی اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس میں وہ داخل ہوگا۔*
      1 📕حدثنا إبراهيم بن محمد بن يحيى المزكي النيسابوري، في جماعة قالوا: ثنا محمد بن إسحاق الثقفي، ثنا أبو معمر صالح بن حرب , ثنا إسماعيل بن يحيى، عن مسعر، عن عطية، عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ترك صلاة متعمدا كتب اسمه على باب النار فيمن يدخلها» تفرد به صالح , عن إسماعيل، عنه
      (حلیاۃ اولیاء و طبقات اصفیاء7/254)
      2 :📕473 - أخبركم أبو الفضل الزهري، نا أبي، نا محمد بن غالب، نا صالح بن حرب، نا إسماعيل بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله، عن مسعر، عن عطية، عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا ترك الرجل الصلاة متعمدا كتب اسمه على باب النار فيمن يدخلها»
      (حدیث ابیی فضل الزھری: صفحہ465)
      دونوں میں اسماعیل مسعر سے روایت کر رہا ہے اس کی حقیقت ہم آگے بیان کرتے ہیں

      1 *إسماعيل بن يحيى* 
      اس کا پورا نام: اسماعیل بن یحیی بن عبيد الله بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق۔
      ✍️یہ ایک یضح الحدیث راوی ہے اس پر کذاب جروحات بھی موجود ہیں 
      ✍️اور ایسے راوی کی روایت موضوع ہوتی ہے۔
      ✍️اور اس پر ایک خاص جرح مسعر کے حوالہ سے ہے کہ مالک و مسعر سے یہ موضوع رویات نقل کرتا ہے۔
      ✍️اور اس کذاب راوی نے یہ روایت بھی مسعر سے روایت کی ہے لہذا یہ روایت بھی موضوع ہے۔
      خود صاحب حلیاۃ اولیاء (امام ابو نعیم اصبھانی رحتہ اللہ علیہ) اپنی کتاب الضعفاء الابیی نعیم صفحہ 60 پر فرماتے ہیں کہ: 
      12- إسماعيل بن يحيى بن عبيد الله التيمي حدث عن مسعر ومالك بالموضوعات يشمئز القلب وينفر من حديثه متروك،
      کہتے ہیں کہ اسماعیل  مالک و مسعر سے موضوعات بیان کرتا ہے اور دل میں کراہت و نفرت سی ہے اس کے لیے اور اسکو حدیث میں ترک(چھوڑ دینا) ہے۔
      2: عطیہ عوفی راوی مشھور ضعیف الحدیث راوی ہے،
      ✍️لیکن یہ حدیث اسماعیل کی وجہ سے موضوع ہے
      ✍️اس میں صالح اور اسماعیل کا تفرد بھی ہے جیسا کہ خود صاحب حلیاۃ اولیاء نے فرمایا ہے۔
      اسکا مطلب اس کے علاوہ اس کی کوئی اور سند بھی نہیں ہے
      الحکم الحدیث:- موضوع
      (محمد عمران علی حیدری)
      01.04.2022.
      28شعبان 1443ھ
    • By Muhammad hasanraz
      (امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا 40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنا اور پلمبری فرقے کا اعتراض )

      محترم قارئین كرام بیشک اللّه رب العزت نے اپنے مقریب بندوں کو بیشمار کمالات و کرامات سے نوازا ہے۔۔ لیکن کچھ لوگ اپنی جہالت سے مجبور ہیں اور آئے دن اولیا عظام و صحابہ كرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی تنقیص و توہین کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس میں سرِ فہرست دورِ حاضر کا بدترین فتنہ نام نہاد انجینئر مرزا بھی ہے : 
      اعتراض:(انجینئر محمد علی مرزا عرف پلمبر اپنی ایک ویڈیو میں بکواس کرتے ہوے کہتا ہے کہ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص مسلسل چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھے یہ تو کہانی ہے جو کہ علماء احناف نے معاذ اللہ خود سے بنائی ہے)
      °°°°°°°°°°°الجواب و باللہ التوفیق°°°°°°°°°
       پہلی عرض تو یہ ہے کہ بیشک کرامات حق ہیں جس کہ دلائل قرآن و احادیث میں بیشمار موجود ہیں اور امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشاء کے وضو سے چالیس سال تک فجر کی نماز پڑھنا یہ بھی کرامت میں سے ہی ہے اور کرامت کہتے ہی اسی ہیں جو عقل سے بلاتر ہو 
      جس کی ایک دلیل قرآن سے ملاحظہ فرمائیں:
      ______________________________________
      ارشاد باری تعالٰی ہے: (قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُؕ-وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ(۴۰))
      ترجمہ:اُس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھاکہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا (چنانچہ) پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری؟ اور جو شکر کرے تو وہ اپنی ذات کے لئے ہی شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے پرواہ ہے، کرم فرمانے والا ہے۔(پ19،النمل:40)
      __________________________________________
      محترم قارئین كرام آپ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے امّتی حضرت آصف بن برخیا رحمہ اللہ کا واقعہ پڑھا جن کہ پاس کتاب کا کچھ علم تھا اور وہ اتنی بڑی کرامت دیکھا گئے پلک جھپکنے سے بھی پہلے وہ تخت جو ہزاروں میل کہ فاصلہ پر تھا اس کو اٹھا کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے پیش کر دیا۔۔
      تو معلوم ہوا کہ اللّه رب العزت اپنی عطا سے اولیائے عظام کو کرامات عطا فرماتا ہے 
      اب یہاں تو حضرت سلیمان علیہ السلام کہ امتی حضرت آصف تھے جن کہ کمال کا یہ عالم تھا عوام اہلسنّت ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر ایمان کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہوۓ سوچیں جب حضرت سلیمان کہ امتی جن کے پاس کتاب کا کچھ علم ہو ان کہ کمالات و کرامات کا یہ عالم ہے تو پھر جو امّت تمام امّتوں میں سب سے افضل ہو یعنی امّت محمدی اِس امّت کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامات و كامالات کا عالم کیا ہوگا۔۔
      اب آتے ہیں ان مستند اور معتبر  محدثین کی طرف جنہوں نے امام اعظم کی اس کرامت کو اپنی کتب کی زینت بنایا ہے 
      _______________________________________
       امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں 
      وعن زافر بن سليمان، قال كان أبو حنيفة يحيى الليل بركعة يقرأ فيها القرآن. وعن أسد بن عمرو، قال: صلى أبو حنيفة صلاة الفجر بوضوء العشاء أربعين سنة، وكان عامة الليل يقرأ القرآن فى ركعة، وكان يسمع بكاؤه حتى ترحمه جيرانه، وحفظ عليه أنه ختم القرآن فى الموضع الذى توفى فيه سبعة آلاف مرة
      زافر بن سلیمان نے کہا ابو حنیفہ رات کو ایک رکعت پڑھتے جس میں وہ پورا قرآن پڑھتے تھے۔ اسد بن عمرو سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو حنیفہ نے چالیس سال تک فجر کی نماز عشا کے وضو سے پڑھی، اور رات کے اکثر حصے میں ایک ہی رکعت میں پورا قرآن پڑھا کرتے تھے
      📓(لكتاب: تهذيب الأسماء واللغات جلد2 صفحہ88)
      ________________________________________
      امام شمس الدین ذھبی الشافعی لکھتے ہیں:
      وعن أسد بن عمرو: أن أبا حنيفة رحمه الله-صلى العشاء والصبح بوضوء أربعين سنة
      اسد بن عمرو سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے چالیس سال تک فجر کی نماز عشاء کہ وضو سے پڑھی۔
      📗(الكتاب: سير أعلام النبلاء جلد6 صفحہ 399)
      _______________________________________
      امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
      اسد بن عمرو نے روایت کی ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ رات کو نماز پڑھتے تھے اور ہر شب کو قرآن پڑھتے تھے اور روتے تھے حتی کہ آپکے پڑوسیوں کو آپ پر رحم آ جا تا تھا آپ چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھتے رہے اور جس جگہ آپ نے وفات پائی آپ نے اس میں ستر ہزار دفعہ قرآن ختم کیا
      📓(الکتاب:تاریخ ابن کثیر جلد10 صفحہ134)
      ______________________________________
      خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی الشافعی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
      ابی یحییٰ حمانی امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعض تلامذہ سے روایت کرتے ہیں امام صاحب عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھتے تھے اور رات میں نوافل پڑھنے کے لیے ریش مبارک میں کنگھی کر کے مزین فرماتے تھے۔
      📕(الکتاب:تبییض الصحیفة صفحہ61)
      محترم قارئین كرام یہ تمام وہ اکابرین و آئمہ حدیث ہیں جن کو مرزا صاحب اپنا مانتے ہیں اور اپنی ویڈیوز میں انھیں کتب سے حوالہ جات دیکھا رہے ہوتے ہیں۔۔
      یہی مرزا صاحب کا دجل ہے اور منافقت ہے کہ اپنے مقصد کی بات کو لے لیتے ہیں اور باقی سب ان کہ نذدیک کہانی قصہ اور معاذ اللہ بدعت ہوتی ہے 
      تو اب مرزا صاحب اور ان کہ اندھے مقلدین ذرا ہمّت کریں اور لگائیں فتویٰ امام نووی۔امام ذھبی۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر 
      اللّه تعالیٰ حق پات سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین بجاہ النبی الامین
      ______________________________________
      ازقلم:خادم اھلسنّةوالجماعة محمد حسن رضا قادری رضوی الحنفی البریلوی





    • By Sunni Haideri
      *کفار نے کہا انبیاء کو کہ تم صرف ہمارے جیسے بشر ہو*
      بسم اللہ الرحمن الرحیم
      الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ۔
      صلی اللہ علیہ وآلہ و اصحابہ وسلم.
      اعتراض : 
      مفتی احمد یار خان نعیمی نے اپنی تفسیر میں کہا کہ: انبیاء کو بشر کہنے والے کافر ہی تھے 
      اب جو انبیاء کو بشر کہے وہ مفتی صاحب کے نزدیک کافر ہے
      کیا انبیاء بشر نہیں ہوتے
      قل انما آنا بشر المثلکم قرآن میں اللہ کہتا کہ اے نبی تم کہے دو کہ میں تمھاری مثل بشر ہوں۔
      اور جگہ جگہ انبیاء کو بشر کہا گیا ہے بلکہ سنیوں کی سب معبتر علماء انبیاء کی بشریت کا انکار کفر سمجھتے ہیں اب کون کافر ہے مفتی احمد یار یا پھر باقی سنی علماء قرآن و حدیث میں ثبوت موجود ہے کہ انبیاء بشر ہی ہوتے ہیں۔ 
      *الجواب بعون الوہاب۔*
      پہلی بات وہابیوں کا اعتراض ہی باطل ہے جو کہ کچھ اہمیت کا حامل نہیں بس جہالت پر مبنی ہے لیکن اپنی عوام کے لیے ہم جواب دے دیتے ہیں۔ اس میں حکیم الامت نے انبیاء کرام علیہم السلام کی بشریت کا انکار کیا ہی نہیں یہی بتایا کہ موازنہ کرتے اپنے جیسا بتاتے اور انبیاء کرام علیہم السلام کی عزت،  شان و عظمت کم کرنے کی کوشش کرتے لوگوں کے سامنے اور انبیاء کو کہتے کہ یہ تو بس ہمارے جیسا بشر اے لوگو تم ان کی پیروی کرو گے۔ لوگوں کے دلوں میں انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے یہ بیٹھانا چاھتے تھے یہی کہ یہ ہم جیسے ہیں بشر بس اور یہی لوگ انبیاء کی عزت کم کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر کے انبیاء کی عزت کرنا چاھتے۔
      اس پوسٹ کو مکمل پڑھیں تو سمجھ لگ جاۓ گی حکیم الامت، مفسر شہیر علامہ،مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ نے بلکل صحیح بات کی ہے عین قرآن سے وہی بات ثابت ہے۔
      عقیدہ: 
      *عقیدہ اھلسنت: تمام انبیاء کرام علہم السلام بشر ہی ہیں بشریت کا انکار کفر ہے اورحضرت محمد صلی صلی اللہ علیہ وآلہ وسم کی نورانیت کا انکار کرنا گمراہی ہے۔ ان کمال،فضائل، خصائص بہت زیادہ ہیں انکو قرآن میں نور بھی کہا گیا احادیث میں بھی آیا مفہوم ہے کہ تم میں سے کوئی بھی  میری مثل نہیں۔ یہ باتیں قرآن و حدیث سے ثابت شدہ ہیں۔*
      *لیکن ان کو اپنے جیسا بشر کہنا اس انداز سے کہ  عوام کو باور کروایا جاۓ کہ انبیاء کوئی چیز ہی نہیں بس وہ نبی ہیں اور ان پر وحی آتی باقی ہم میں ان میں کوئی فرق نہیں اور نبی ایک انسان ہوتا ہے اس انداز سے کہنے کہ ہر نتھو پھتو ایرا غیرہ لولھا لنگڑا کانا سمجھے کہ ہم میں اور انبیاء میں کوئی فرق ہی نہیں یہ تو عام بات ہے ہم بھی بشر وہ بھی بشر اور بس فرق یہی ہے کہ ان وحی آتی ہے ہم پر نہیں۔اور خاص کر جب شان نبی علیہ السلام بیان کی جارہی ہو تو کچھ نام نہاد مولویوں کو تکلیف ہونا شروع ہو جاتی ہے وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے تو وہاں یہ رٹ لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ ہماری مثل بشر ہیں ہماری جیسے ہیں  بس تو ہم اس بات کی پرزور مزمت کرتے ہیں اور اس میں عوام الناس نبی کو عام انسان محسوس کرتی ہے اور نبوت کو عام سا عہدہ اور اس پر فائز نبی عام بشر سمجھنے لگتے ہیں۔*
      *2: اعتراض:.*
       بات یہ کہ تم نبی کو خدا بنا دیتے ہو یا اس کو خدا کے برابر کر دیتے ہو اور لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ نبی نہیں خدا ہے اس لیے ہم یہ بات ادھر کرتے ہیں۔
      *الجواب بعون الوہاب:.*
      اگر یہ بات سچ ہے تو آپ وہاں اپنے جیسا بشر ثابت کرنے کہنے کی بجاۓ پوچھ لیا کریں کہ تم نبی کو اللہ(خدا) یا اللہ کا بیٹا یا فرشتہ یا کچھ اور سمجھتے ہو تو پھر جو جواب ملے گا سن لینا یقینا جواب یہی ہوگا ہم بتا دیتے ہیں اور یہی کہا جاۓ گا کہ بے مثل بشر سمجھتے ہیں ان کی مثل اللہ نے ان کے مرتبہ و مقام کا بنایا ہی نہیں کسی کو۔
       بے شک تمام ابییاء بشر ہیں۔
      تو اگر یہی جواب ملے تو پھر سمجھ جائیں حق کیا ہے۔
      ھدایت اللہ ہی عطا کرتا ہے ہمارا کام آپ کو حق بتانا ہے۔
      ✍️اصل علمی تحریر لکھنے کا مقصد یہ ہے اسے بھی پڑھ لیں:.✍️
      کچھ جاہل قسم کے لوگ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ پر زبانیں کستے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہاں ہے کوئی ایک آیت لاو جس میں ہو کہ انبیاء کو بشر کہنے والے کافر ہوں۔ ایسا مطالبہ کرنے والے یقینا جاہل ہی ہو سکتے جو قرآن کو کبھی نہ پڑھنے والے ہی ہو ہوسکتے ہیں  ورنہ اس بات کا مطالبہ ہی نہ کرتا
      ہم کچھ آیات پیش کرتے ہیں تاکہ جہلا سمجھ سکیں کہ قرآن میں سچی بات ہے کفار نے یہی کہا انبیاء علیہم السلام کو کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو۔
      حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر نور العرفان  میں یہ بات کی ہے۔ آپ نے بلکل ٹھیک کہا ہے ایسا ہی ہے۔ اور مفتی صاحب قرآن کو گہری نظر سے سمجھنے والے انسان تھے اللہ ان کے درجات بلند فرماۓ اور سیدی  معصوم کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی شفاعت فرمائیں اور ساتھ ہی ساتھ ہماری بھی آمین۔

      ✍️✍️✍️قرآنی دلائل: ۔
      *بسم اللہ الرحمن الرحیم*
      1: *نمبر ایک الشعراء 186*
      وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَا وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِيْنَ.
      ترجمہ: تم تو نہیں مگر ہم جیسے بشر اور بیشک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اس آیت مبارکہ شان نزول دیکھ لیجیے گا کن لوگوں نے کہا تھا یہ کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      2: *نمبر دو سورۃ الإسراء نمبر 94*
      وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَهُمُ الۡهُدٰٓى اِلَّاۤ اَنۡ قَالُـوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا‏.
      ترجمہ: اور لوگوں کو ایمان لانے سے صرف یہ چیز مانع ہوئی کہ جب بھی ان کے پاس ہدایت آئی تو انہوں نے کہا کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے.
      (محمد عمران علی حیدری)
      3: *سورۃ المؤمنون آیت 24*
      فَقَالَ الۡمَلَؤُا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّـتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِكَةً ۖۚ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰذَا فِىۡۤ اٰبَآئِنَا الۡاَوَّلِيۡنَ‌.
      ترجمہ: پس ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا یہ تو محض تمہاری مثل بشر ہیں جو تم پر فضیلت اور بڑائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اگر اللہ کسی کو بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو نازل کردیتا، ہم نے تو اس بات کو اپنے پہلے باپ دادا میں سے کسی سے نہیں سنا.
      (محمد عمران علی حیدری)
      4: *سورۃ المؤمنون آیت 33*
      وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ ۙ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَيَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ.
      ترجمہ: اور رسول کی قوم کے وہ *کافر سردار* جنہوں نے آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی تھی اور جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں فراوانی عطا فرمائی تھی وہ کہنے لگے یہ رسول صرف *تمہاری مثل بشر ہے* یہ ان ہی چیزوں میں سے کھاتا ہے جن سے تم کھاتے ہو اور ان ہی چیزوں سے پیتا ہے جن سے تم پیتے ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      5: *سورۃ المؤمنون آیت 34*
      وَلَئِنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّثۡلَـكُمۡ اِنَّكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَۙ.
      ترجمہ: اور اگر تم نے اپنے جیسے بشر کی اطاعت کی تو تم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائو گے.
      (محمد عمران علی حیدری)
      6: *سورۃابراهيم آیت 10*
      قَالَتۡ رُسُلُهُمۡ اَفِى اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ يَدۡعُوۡكُمۡ لِيَـغۡفِرَ لَـكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُؤَخِّرَكُمۡ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَاؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ.
      ترجمہ: ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ کے متعلق شک ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے بعض گناہ ہوں کو بخش دے اور موت کے مقرر تک تم کو عذاب سے مئو خر رکھے، انہوں نے کہا *تم تو محض ہماری مثل بشر ہو* تم تو یہ چاہتے ہو کہ ہمیں ان معبودوں سے روک دو جن کی ہمارے آباؤاجداد پرستش کرتے تھے سو تم ہمارے پاس کوئی روشن دلیل لاؤ.
      (محمد عمران علی حیدری)
      7: *سورۃ يس آیت 15*
      قَالُوۡا مَاۤ اَنۡـتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُـنَا ۙ وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَىۡءٍۙ اِنۡ اَنۡـتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ.
      ترجمہ: ان لوگوں نے کہا *تم تو صرف ہماری مثل بشر ہو* اور رحمٰن نے کچھ نازل نہیں کیا تم محض جھوٹ بولتے ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      8: *سورۃ الأنبياء آیت 3*
      لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ‌ ؕ وَاَسَرُّوا النَّجۡوَى‌ۖ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ‌ۖ  هَلۡ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ‌ ۚ اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ.
      ترجمہ: ان کے دل کھیل کود میں ہیں، اور ظالموں نے آپس میں یہ سرگوشی کی کہ یہ شخص تو تمہاری ہی مثل بشر ہے کیا تم جانتے وبجھتے جادو کے پاس جا رہے ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      مفہوم کلام:۔
      ثابت ہوا کہ کفار نے انبیاء کرام علیہم السلام کو اپنے جیسا بشر کہا اور انبیاء کی عزت کم کرتے اور ان کی دعوت کا انکار کرتے اور اور اپنے جسا بشر کہے کر لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے نفرت پیدا کرنا چاھتے تھے۔ اور ان کو عام بشر کہتے تھے۔
      پس جو کہتا ہے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی ؒ نے غلط کہا تو وہ آنکھیں کھول کے بار بار پڑھیں اس تحریر کو 
      پس حق یہی ہے مفتی صاحب کا موقف قرآن سے ثابت ہے۔
      اب اگر کوئی مفتی صاحب پر اعتراض کرے اسی بات کی وجہ سے تو پھر یہ علمی اختلاف نہیں بلکہ مخالفت ہے۔
       إن شاءالله ایک اور تحریر نور و بشر پر بنانی ہے اس میں بہت سارا علمی مواد ہوگا وقت ملتے ہی بنائی جاۓ گی إن شاءالله۔
      *(طالب دعا محمد عمران علی حیدری)*
      24.01.2022.
       
    • By Sunni Haideri
      *حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایمان(یقین) امت سے بڑھ کے ہے*

      مختلف الفاظ کے ساتھ یہ حدیث موجود ہے کہیں جمیع المومنین کے الفاظ ہیں تو کہیں العالمین کے ہیں اور کہیں الناس کے ہیں کہیں اھل العرض کے الفاظ ہیں۔
      یہ روایت معناََ صحیح ہے۔
      لو وضع إيمان أبي بكر على إيمان هذه الأمة لرجح بها۔
      ترجمہ: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایمان امت سے بڑھ کے ہے،

       اس کے شواھد و مطابعت موجود ہیں جس کی وجہ سے یہ حدیث درجہ حسن کی ہے بلک اس سے اوپر تک جا سکتی ہے۔ 
      اور اسی مفہوم(مطابعت و شواھد) کی ایک موقوف روایت شعب الایمان میں موجود ہے سند کے ساتھ۔
      35: أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، حدثنا محمد بن عيسى بن السكن، حدثنا موسى بن عمران، حدثنا ابن المبارك، عن ابن شوذب، عن محمد بن جحادة، عن سلمة بن كهيل، عن هزيل بن شرحبيل قال: قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: " لو وزن إيمان أبي بكر بإيمان أهل الأرض لرجح بهم "
      *شعب الایمان 1/143* 
      *مسند اسحاق بن راہویہ۔ نوادر الاصول فضائل الصحابہ*
      ترجمہ:سیدنا عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ: اگر ابوبکررضی اللہ عنہ کے ایمان کو اہل زمین کے ایمان سے وزن کیا جائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایمان بھاری ہوجائے گا۔۔
      2286: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ الحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ، وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ ، ثُمَّ رُفِعَ المِيزَانُ ، فَرَأَيْنَا الكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ۔
      ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا، آپ اور ابوبکر تولے گئے تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، ابوبکر اور عمر تولے گئے، تو ابوبکر بھاری نکلے، عمر اور عثمان تولے گئے تو عمر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے۔
      امام ترمذی کہتے ہیں:
      یہ حدیث حسن صحیح ہے.
      تخریج: 
      أبو داود في سننه باب باب في الخلفاء۔
       حديث رقم 4080
      أحمد في المسند باب حديث أبي بكرة نفيع بن الحارث بن كلدة۔ حديث رقم 20031
      أحمد في المسند باب حديث أبي بكرة نفيع بن الحارث بن كلدة۔
      حديث رقم 20082
      أحمد في المسند باب حديث أبي بكرة نفيع بن الحارث بن كلدة۔
       حديث رقم 20084
      الحاكم في المستدرك باب أما حديث ضمرة وأبو طلحة۔
       حديث رقم 4411
      الحاكم في المستدرك باب وأما حديث شرحبيل بن أوس۔
       حديث رقم 8304
      النسائي في الكبرى باب مناقب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من المهاجرين والأنصار۔
      حديث رقم 6909
      الطيالسي في مسنده باب أبو بكرة۔
      حديث رقم 897
      ابن أبي شيبة في مصنفه باب ما قالوا فيما يخبره النبي صلى الله عليه وسلم من الرؤيا۔
       حديث رقم 29887
      ابن أبي شيبة في مصنفه باب ما ذكر في أبي بكر الصديق رضي الله عنہ۔
       حديث رقم 31339
      أحمد في فضائل الصحابة باب وهذه الأحاديث من حديث أبي بكر بن مالك عن شيوخه۔
       حديث رقم 182
      أحمد في فضائل الصحابة باب ومن فضائل عمر بن الخطاب من حديث أبي بكر بن مالك۔
       حديث رقم 549
      البزار في مسنده باب بقية حديث أبي بكرة۔
      حديث رقم 3084
      الطحاوي في مشكل الآثار باب باب بيان مشكل ما روي عن رسول الله صلى الله عليه۔ حديث رقم 283
      الحکم الحدیث: حسن۔
      (طالب دعا محمد عمران علی حیدری)
       
    • By Sunni Haideri
      *ابو بکر سے محبت کرنا اور ان کا شکریہ ادا کرنا میری اُمت پر واجب ہے حدیث کی تحقیق*
      حُبُّ اَبِیْ بَکْرٍ وَشُکْرُہٗ وَاجِبٌ عَلٰی اُمَّتِی 
      ابو بکر سے محبت کرنا اور ان کا شکریہ ادا کرنا میری اُمت پر واجب ہے۔
      ✍️یہ روایت موضوع ہے اس کے دو طریق ہیں اور دونوں میں ایک کذاب راوی موجود ہے۔

      *طریق نمبر 1:.*
      2726 - أحمد بن محمد بن العلاء حدث عن عمر بن إبراهيم الكردي، روى عنه: ابن أخيه محمد بن عبيد الله بن محمد بن العلاء الكاتب
      📕أخبرني الحسن بن أبي طالب، قال: حدثنا يوسف بن عمر القواس، قالا: حدثنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن محمد بن العلاء الكاتب، قال: حدثني عمي أحمد بن محمد بن العلاء، قال: حدثنا *عمر بن إبراهيم يعرف بالكردي،* قال: حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة بن أبي ذئب، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن أمن الناس علي في صحبته وذات يده أبو بكر الصديق، فحبه وشكره وحفظه واجب على أمتي "
       1📘: ✍️تفرد به عمر بن إبراهيم -ويعرف بالكردي- عن ابن أبي ذئب، وعمر ذاهب الحديث.
      *قال الخطيب أيضا (3/ 475):*
      ✍️ذاھب الحدیث کہنا بھی ایک سخت جرح ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ راوی کو راوی کذاب ہے۔ 
       📘محمد بن عبد الله بن العلاء الكاتب، حدثنا عمى أحمد بن محمد بن العلاء، حدثنا عمر بن إبراهيم الكردى، حدثنا ابن أبي ذئب، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حب أبي بكر وشكره واجب على أمتى.
      هذامنكر جدا.
      *قال الدارقطني: كذاب.*
      طریق نمبر 2:.
       نا أبو بكر محمد بن إسماعيل الوراق نا علي بن محمد بن أحمد المصري نا أحمد بن يحيى بن خالد بن حماد بن المبارك نا حماد بن المبارك نا صالح بن عمر القرشي نا *عمر بن إبراهيم بن خالد* عن ابن أبي ذئب عن ابن أبي لبيبة عن أنس بن مالك قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) *حب أبي بكر وشكره واجب على أمتي* وروي عن ابن أبي ذئب بإسناد آخر أخبرناه أبو بكر وجيه بن طاهر أنا أبو بكر يعقوب بن أحمد بن محمد الصيرفي أنا أبو نعيم أحمد بن محمد بن إبراهيم بن عيسى الأزهري بن الشيخ العدل نا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن إبراهيم بن جعفر الصيدلاني إملاء نا أحمد بن محمد بن نصر اللباد
      *ابن عساکر جلد30.ص141*
      ✍️اس طریق میں بھی وہی راوی موجود ہے عمر بن ابراھیم۔
      مسند الفروس بماثور الخطاب میں صاحب فردوس نے بغیر سند کے اس کو نقل کیا ہے
      ✍️2724 - سهل بن سعد:
      حب أبي بكر وشكره واجب على أمتي
      *مسند الفردوس 142/2*
      امام اصبھانی  رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسکو نقل کیا ہے وہی طرق سیدنا سھل بن سعد والا
      85 - أخبرنا عمر بن أحمد، ثنا محمد بن عبد الله بن دينار والحسن بن يحيى النيسابوري قالا: ثنا أحمد بن نصر اللباد، *ثنا عمر بن إبراهيم،* ثنا محمد بن عبد الرحمن بن أبي ذئب، ثنا أبو حازم، عن سهل بن سعد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «حب أبي بكر وشكره واجب على أمتي»
      *فضائل الخلفاء الراشدین ابی نعیم الاصبھانی۔ص89*
      ✍️اس میں بھی وہی راوی عمر بن ابراھیم موجود ہے۔
      وروى محمد بن عبد الله بن العلاء الكاتب، حدثنا عمى أحمد بن محمد بن العلاء، حدثنا عمر بن إبراهيم الكردى، حدثنا ابن أبي ذئب، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حب أبي بكر وشكره واجب على أمتى.
      هذا منكر جدا.
      قال الدارقطني۔ عمر بن ابراھیم :كذاب.
      *میزان اعتدال3/180.امام ذھبی علیہ الرحمہ*
      اس میں بھی وہی راوی عمر بن ابراھیم موجود ہے کذاب ہے۔
      ✍️✍️✍️✍️✍️✍️📚مرکزی راوی عمر بن ابراھیم پر کلام:-
      ✍️أبو حاتم بن حبان البستی فرماتے ہیں کہ: لا يجوز الاحتجاج بخبره ہے۔
      ✍️الخطيب البغدادي فرماتے ہیں کہ : غير ثقة، ومرة: يروي المناكير عن الاثبات۔ ثقہ سے مناکیر بیان کرتا ہے

      ✍️امام الدارقطني فرماتے ہیں کہ : كذاب خبيث يضع الحديث ہے۔
      ✍️امام الذهبي فرماتے ہیں کہ : عمر بن ابراھیم  كذاب ہے۔
      ✍️میزان اعتدال جلد5ص225. الرقم: 6050. کذاب.
            📖خلاصہ کلام:-✍️✍️
      اس روایت کے مجھے دو طریق ملے ہیں،جس میں ایک مرکزی راوی ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت قابل استدلال اور فضائل و مناقب میں بیان کے کے قابل نہیں ہے۔ اور محققین  نے اس حدیث کو موضوعات میں درج کیا ہے جیسا امام ملا علی قاری حنفی رحمتہ اللہ علیہ امام ابن جوزی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ۔
      اس راوی کا نام عمر بن إبراهيم بن خالد بن عبد الرحمن ہے۔اس کو عمر بن ابراھیم الکردی کے نام سے جانا جاتا ہے جیسا کہ اوپر رویات میں درج ہے۔یہ اسکا نسب ہے اسے الکردی کے ساتھ ساتھا القرشی الهاشمی بھی کہا جاتا ہے۔
      اس راوی پر کذاب، ذاھب الحدیث،، یروی مناکیر اوریضح الحدیث کی جروحات ہیں۔
      ✍️الحکم الحدیث: موضوع
      (طالب دعا محمد عمران علی حیدری)
×
×
  • Create New...