Jump to content
IslamiMehfil

کیا حضرت علی انبیاء علیہم السلام کے بھی مولا ہیں


Recommended Posts

(حدیث: من كنت مولاه فعلي مولاه کا صحیح( مفہوم اور معنی

_بسم اللہ الرحمن الرحیم __________________________________
محترم قارئین کرام اکثر اہل تشیع حضرات حدیث: من كنت مولاه فعلي مولاه سے غلط استدلال اور استنباط کر کے عوام الناس کو دھوکہ دیتے ہیں کہ معاذ اللہ مولا علی رضی اللّه عنہ  انبیاء کے بھی مولا ہیں اور انبیاء سے بھی افضل ہیں معاذ اللہ

آج کی اس پوسٹ میں ان شاءاللہ شیعہ کے اس باطل عتراض کا منہ توڑ جواب دیں گے
___________________________________
پہلا الزمی جواب:نبی کریم نے حضرت علی کو مولا فقط نہیں کہا بلکہ حضرت زید کو بھی مولا فرمایا ہے۔ 
تو اس حساب سے حضرت زید بھی تمام انبیاء کے مولا بن جائیں گے👇🏻

وَقَالَ لِعَلِيٍّ : أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ : أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي ، وَقَالَ لِزَيْدٍ : أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا   

رسول اللّهﷺ نے فرمایا:علی رضی اللّه عنہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم صورت اور عادات و اخلاق سب میں مجھ سے مشابہ ہو۔ زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم ہمارے بھائی بھی ہو اور ہمارے مولا بھی

(بخاری شریف کتاب الصلح حدیث نمبر 2699)
___________________________________
محترم قارئین کرام دیکھا آپ نے خود رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے زید رضی اللہ تعالی عنہ بھی مولا ہیں اب شیعہ حضرات کیا کہیں گے 
اب آتے ہیں تحقیق جواب کی طرف👇🏻
___________________________________
تحقیقی جواب نبی کریم نے مولا حضرت علی کو بمعنی دوست اور رفیق قرار دیا تھا نہ کہ مددگار  کیونکہ متقدمین میں مجتہدین نے  حدیث کی شرح بتا دی ہے جیسا کہ امام شافعی رضی اللّه عنہ سے اس حدیث کی شرح ثابت ہے

امام بیھقی نے اس روایت کی شرح امام شافعی علیہ رحمہ سے نقل کی ہے

أخبرنا أبو عبد الله السلمي، ثنا محمد بن محمد بن يعقوب الحجاجي، ثنا العباس بن يوسف الشكلي قال: سمعت الربيع بن سليمان يقول: سمعت الشافعي رحمه الله يقول في معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم لعلي بن أبي طالب رضي الله عنه: من كنت مولاه فعلي مولاه، يعني بذلك ولاء الإسلام

امام ربیع بن سلیمان فرماتے ہیں میں نے امام شافعی سے سنا کہ نبی اکرمﷺ کے اس قول کا معنی جو انہوں نے مولا علی سے کہا جسکا میں مولا علیؓ اسکا مولا اسے مولا سے مراد اسلامی بھائی چارہ ہے
سند صحیح

(الاعتقادللبيهقي صفحہ 499)
____________________________________

محترم قارئین کرام دیکھا آپ نے شیعہ کے دجل و فریب  کے کس طرح پرخچے اڑ گئے اور معلوم ہوا کہ اس حدیث سے کا مطلب دوست اور رفیق کے ہیں نہ کے مولا علی رضی اللّه عنہ کو انبیاء کے مولا اور افضل کہنے کے تو جو شخص اب یہ کہیں کے دیکھو مولا علی انبیاء سے افضل ہیں معاذ اللہ اور انبیاءکرام کے مولا ہیں تو ایسا شخص جاہل اور علمی یتیم ہے
_________________________________
تحقیق ازقلم:محمد حسن رضا قادری رضوی

IMG-20211105-WA0150.jpg

IMG-20211105-WA0151.jpg

IMG-20211105-WA0152.jpg

IMG-20211105-WA0153.jpg

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Muhammad hasanraz
      (حدیث: من كنت مولاه فعلي مولاه کا صحیح مفہوم اور معنی)
      _بسم اللہ الرحمن الرحیم __________________________________
      محترم قارئین کرام اکثر اہل تشیع حضرات حدیث: من كنت مولاه فعلي مولاه سے غلط استدلال اور استنباط کر کے عوام الناس کو دھوکہ دیتے ہیں کہ معاذ اللہ مولا علی رضی اللّه عنہ  انبیاء کے بھی مولا ہیں اور انبیاء سے بھی افضل ہیں معاذ اللہ
      آج کی اس پوسٹ میں ان شاءاللہ شیعہ کے اس باطل عتراض کا منہ توڑ جواب دیں گے
      ___________________________________
      پہلا الزمی جواب:نبی کریم نے حضرت علی کو مولا فقط نہیں کہا بلکہ حضرت زید کو بھی مولا فرمایا ہے۔ 
      تو اس حساب سے حضرت زید بھی تمام انبیاء کے مولا بن جائیں گے👇🏻
      وَقَالَ لِعَلِيٍّ : أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ : أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي ، وَقَالَ لِزَيْدٍ : أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا   
      رسول اللّهﷺ نے فرمایا:علی رضی اللّه عنہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم صورت اور عادات و اخلاق سب میں مجھ سے مشابہ ہو۔ زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم ہمارے بھائی بھی ہو اور ہمارے مولا بھی
      (بخاری شریف کتاب الصلح حدیث نمبر 2699)
      ___________________________________
      محترم قارئین کرام دیکھا آپ نے خود رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے زید رضی اللہ تعالی عنہ بھی مولا ہیں اب شیعہ حضرات کیا کہیں گے
      اب آتے ہیں تحقیق جواب کی طرف👇🏻
      ___________________________________
      تحقیقی جواب نبی کریم نے مولا حضرت علی کو بمعنی دوست اور رفیق قرار دیا تھا نہ کہ مددگار  کیونکہ متقدمین میں مجتہدین نے  حدیث کی شرح بتا دی ہے جیسا کہ امام شافعی رضی اللّه عنہ سے اس حدیث کی شرح ثابت ہے
      امام بیھقی نے اس روایت کی شرح امام شافعی علیہ رحمہ سے نقل کی ہے
      أخبرنا أبو عبد الله السلمي، ثنا محمد بن محمد بن يعقوب الحجاجي، ثنا العباس بن يوسف الشكلي قال: سمعت الربيع بن سليمان يقول: سمعت الشافعي رحمه الله يقول في معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم لعلي بن أبي طالب رضي الله عنه: من كنت مولاه فعلي مولاه، يعني بذلك ولاء الإسلام
      امام ربیع بن سلیمان فرماتے ہیں میں نے امام شافعی سے سنا کہ نبی اکرمﷺ کے اس قول کا معنی جو انہوں نے مولا علی سے کہا جسکا میں مولا علیؓ اسکا مولا اسے مولا سے مراد اسلامی بھائی چارہ ہے
      سند صحیح
      (الاعتقادللبيهقي صفحہ 499)
      ____________________________________
      محترم قارئین کرام دیکھا آپ نے شیعہ کے دجل و فریب  کے کس طرح پرخچے اڑ گئے اور معلوم ہوا کہ اس حدیث سے کا مطلب دوست اور رفیق کے ہیں نہ کے مولا علی رضی اللّه عنہ کو انبیاء کے مولا اور افضل کہنے کے تو جو شخص اب یہ کہیں کے دیکھو مولا علی انبیاء سے افضل ہیں معاذ اللہ اور انبیاءکرام کے مولا ہیں تو ایسا شخص جاہل اور علمی یتیم ہے
        ________________________________ تحقیق ازقلم:محمد حسن رضا قادری رضوی




    • By Aquib Rizvi
      ★ تــحـقـیـــق حـــدیـثــــــ اســـماءالـرجــال ★
       
      میــرے صحـابــہؓ کــے معـامـلـے میــں اللہ ســے ڈرو حـدیــثـــــ کــی تحـقیـق
      اَلصَّـــلٰوةُوَالسَّـــلَامُ عَلَیــْـكَ یَاخَـاتَــمَ النَّبِیِّیْــن
      بِسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْــــــمٰنِ الرَّحــــــِیـــــم
      امام ابنِ حؒبان (المتوفى: 354هـ) نے فرمایا
      أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوا أَصْحَابِي غَرَضًا مَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذاهم فقد آذاني ومن آذاني فقد آذ اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ"
      صحيح ابن حبان حدیث نمبر 7256📓
      ترجمہ: عبداللہ بن مغفلؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہؓ کے معاملہ میں اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے 
      [ ھذا حدیث صحیح لغیرہ ]
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      صحیح ابن حبان کی سند میں عبد الله بن عبد الرحمن الرومي پر جہالت کا الزام ہے جس وجہ سے اس سند کو ضعیف کہا جاتا ہے مگر تحقیق کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزام درست نہیں سب سے پہلے ہم اس راوی کے معروف ہونے پر دلیل دیں گے اور پھر اس کی توثیق پر چنانچہ سید المحدثین امام بخاریؒ فرماتے ہیں 
      مُحَمد بْن الحُسَين بْن إِبْرَاهِيم، حدَّثني أَبي، سَمِعتُ حَماد بْن زَيد، حدَّثنا عَبد اللهِ الرُّومِيّ، ولم يكن رُومِيًّا، كَانَ رجلا منا من أهل خُراسان
      حسین بن ابراہیم کے حوالے سے کہتے ہیں کہ انہوں نے حماد بن زید سے سنا کہ عبداللہ الرومی جو ہے یہ رومیوں میں سے نہیں بلکہ یہ اہل خراسان میں سے ایک ہے  
      یہ ہے اس راوی کے معروف ہونے کی دلیل 👆 
      جہاں تک بات رہی توثیق کی تو درج ذیل محدثین نے اس کی توثیق کی
      امام ابن حبؒان نے ان کو ثقہ کہا ✦
      ثقات ابن حبان 5/17 رقم :- 52📕
      امام زین الدین قاسمؒ بن قطلوبغا نے کتاب الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة یعنی وہ ثقہ راوی جو کتب ستہ میں موجود نہیں اس کتاب میں درج کرکے توثیق کی
      الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة 5/378📓
      اور امام عجلیؒ نے بھی اس کو ثقہ کہا ✦
      تاريخ الثقات ص284 رقم :- 914📙
      مزید یہ کہ امام احمد بن صالح الجیلیؒ نے بھی ثقہ کہا ہے
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      ان تمام تصریحات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ راوی کم از کم درجہ صدوق حسن الحدیث پر فائز ہے اور اس کو اس درجہ سے گرانا زیادتی ہوگی ہو سکتا ہے یہاں پر کچھ لوگوں کو اشکال ہو کہ امام الائمہ والمسلمین شیخ الاسلام امام ابن حجرعسقلانیؒ نے تقریب التہذیب میں اس کو مقبول کہا ہے اور وہ اس اصطلاح کا اطلاق لین الحدیث پر کرتے ہیں تو اس اشکال کا بھی جواب دیتے چلتے ہیں 
      اسکا جواب یہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانیؒ کا اس کو مقبول کہنا اس کو درجہ صدوق سے نہیں گراتا کیونکہ امام ابن حجر عسقلانیؒ نے تو اپنی اصطلاح مقبول کا اطلاق صحیح بخاری کے ثقہ راوی پر بھی کیا ہے مثلاً 
      يحيى بن قزعة
      ان کو امام ابن حبانؒ نے ثقہ کہا امام ذھبیؒ نے ثقہ کہا مگر حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے ان کو مقبول کہا جب کہ یہ امام بخاریؒ کے شیخ ہیں اور امام بخاریؒ ان سے صحیح بخاری میں متصل مرفوع روایات لائے ہیں مثال کے طور پر چند حدیثوں کے نمبر پیش کر دیتا ہوں جن میں امام بخاریؒ ڈائریکٹ ان سے روایت کر رہے ہیں 
      حدیث نمبر :- 4491 ٬ 2602 ٬ 6988 ٬ 4216
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      تو ثابت ہوا کہ صحیح ابن حبان کی سند حسن ہے اب چلتے ہیں سنن الترمذی کی سند کی طرف
      امام ترمذیؒ (المتوفى: 279هـ) نے فرمایا 
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»
      سنن ترمذي حدیث نمبر 3862📘
      ترجمہ: عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      اس کی سند میں موجود راوی عبد الرحمن بن زياد پر یہ اعتراض ہے کہ یہ مجہول راوی ہے یہ اعتراض بھی حقیقت کے بالکل مخالف ہے یہ راوی صدوق حسن الحدیث ہے 
       اس کو امام یحؒییٰ بن معین نے ثقہ کہا✦ 
      اور یہ ایک متفقہ اصول ہے کہ اگر متشدد امام کسی راوی کی تعدیل و توثیق کرے تو وہ اعلی درجہ کی مقبولیت کی حامل ہوتی ہے جیسا کہ امام ذہبیؒ نے امام یحییؒ بن سعید القطان کے بارے میں فرمایا اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امام یحییؒ بن معین جرح میں متشدد امام تھے لہذا آپ کی توثیق اعلی درجے کی مقبولیت کی حامل ہے
      سـير أعـلام النبـلاء للإمام الذهبي 9/183📒
      اس کو امام ابن حبؒان نے ثقہ کہا✦
       اس کو امام عجلیؒ نے ثقہ کہا ✦
       امام احمد بن صالح الجیلیؒ نے ثقہ ✦
      كتاب تهذيب التهذيب 6/177📔
      کتاب تحریر تقريب التهذيب میں اس راوی سے حتمی فیصلہ یہ بتایا گیا کہ یہ راوی صدوق حسن الحدیث ہے اور ہمارے نزدیک بھی یہی درست اور راجح ہے
      كتاب تحریر تقريب التهذيب 2/320📙
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      تو ثابت ہوا کہ ابن حؒبان کی سند بھی حسن ہے اور ترمذی کی سند بھی حسن ہے اور جامع ترمذی کی سند کو تو خود امام ترمذیؒ نے بھی حسن غریب کہا ہے لہذا یہ حدیث صحیح لغیرہ کے درجے پر فائز ہے کیونکہ اصول حدیث کی کتب میں صحیح لغیرہ کی تعریف واضح ہے
      الصحيح لغيرہ هو الحسن لذاته إذا روي من طريق آخر مثله أو أقوى منه وسمي صحيحا لغيره؛ لأن الصحة لم تأت من ذات السند الأول، وإنما جاءت من انضمام غيره له
      ترجمہ: صحیح لغیرہ وہ ہے جب حسن لذاتہ کو کسی دوسرے طریق ( سند ) کے ساتھ روایت کیا جائے جو اس کی مثل یا اس سے زیادہ قوی ہو تو یہ صحیح لغیرہ ہے اس کو صحیح لغیرہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی صحت سند کی ذات سے نہیں آتی بلکہ اس کے غیر کو اس سے ملانے کی وجہ سے آتی ہے
      نخبة الفكر مع شرحها نزهة النظر ص34📕 
      كتاب تيسير مصطلح الحديث ص64📓 
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      خــلاصـــــــہ کــــــــلام
      اصولی طور پر ہم نے ثابت کیا کہ صحیح ابن حبان کی سند بھی حسن ہے اور جامع ترمذی کی سند بھی حسن ہے لہذا جب دو حسن اسناد ایک دوسرے کی مثل موجود ہیں تو یہ حدیث صحیح لغیرہ کے درجہ پر فائز ہے 
      اگر کوئی شخص صحیح ابن حبان کی سند کو ضعیف مانتا ہے اور جامع ترمذی کی سند کو حسن مانتا ہے تو تب بھی یہ حدیث حسن لذاتہ درجے پر فائز رہے گی اور ابن حبان کی سند اس کی شاہد بنے گی 
       اور اگر کوئی شخص دونوں اسناد کو ضعیف کہتا ہے تب بھی یہ حدیث درجہ حسن لغیرہ پر فائز رہے گی یعنی قابل احتجاج و استدلال رہے گی 
      لہذا کسی طرح بھی اس حدیث کی صحت کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور اگر کوئی شخص مطلقاً اس حدیث کو ضعیف کہتا ہے تو وہ علم و اصول حدیث سے ناواقف ہے 
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       فقـــــط واللہ ورسولــــــہٗ اعلـــم بـالـصــواب
      ⇊ تحـقیــق و دعـاگـــو 
      خـادم اہـلسنت و جمـاعت محمــد عـاقـب حسیــن رضــوی
      ⇊ بــا تصــدیــق فـضيـلــة الشيــخ 
      اســد طحــاوي الحنفـي البـريـلوي غفرالله له
      عـلامــة زبـيـر احمــد جمـالـوي عفـي الله عنـه
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ






    • By Sunni Haideri
      بد مذھبوں اور بے دینوں کے متعلق احکام
      ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
      محترم قارئینِ کرام : سب سے پہلے یہ ذھن میں رکھ لیں ہم گستاخانہ عبارات کے اصل اسکن ساتھ دے رہیں ایک بار مکمل غور سے پڑھیں پھر اپنے ایمان اور ضمیر سے فیصلہ کریں بغیر پڑھے جاہلانہ کمنٹس سے گریز کریں شکریہ ۔
      ہر سنی مسلمان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ دیوبندی مذہب کے بانی مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے اپنی کتاب تحذیرالناس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا انکار کیا اور پیشوائے وہابیہ مولوی رشید احمد گنگوہی و مولوی خلیل احمد انبیٹھوی نے براہین قاطعہ میں سرکار مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم مقدس کو شیطان ملعون کے علم سے کم قرار دیا۔ اور مبلغ وہابیہ مولوی اشرف علی تھانوی صاحب حفظ الایمان میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کو ہر خاص و عام انسان بچوں پاگلوں اور جانوروں کے علم غیب کی طرح بتایا۔ چوکہ یہ باتیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آخری نبی نہ ماننا یا حضور کے علم کو شیطان کے علم سے کم بتانا یا حضور کے علم غیب کو بچوں، پاگلوں اور جانوروں کے علم غیب کی طرح قرار دینا تمام مسلمانوں نانوتوی، مولوی گنگوہی، مولوی انبیٹھوی اور مولوی تھانوی بحکم شریعت اسلامیہ کافر و مرتد ہوگئے ۔
      فتاوٰی حسام الحرمین میں ہے وبالجملۃ ھولاء الطوائف کلھم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام باجماع المسلمین وقد قال فی البزازیہ والدر والغرر والفتاوی الخیریہ ومجمع الانھر والدر المختار وغیرھا من معتمدات الاسفار فی مثل ھولاء الکفار من شک فی کفرہ و عذاب فقد کفر۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ طائفے (یعنی مرزا غلام قادیانی، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد، اشرف علی تھانوی اور اس کے ہم عقیدے چیلے) سب کے سب کافر و مرتد ہیں۔ باجماع امت اسلام سے خارج ہیں۔ اور بے شک بزازیہ، درغرر، فتاوٰی خیویہ، مجمع الانہار اور درمختار وغیرہ معتمد کتابوں میں ایسے کافروں کے حق میں فرمایا کہ جو شخص ان کے عقائد کفریہ پر آگاہ ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے تو خود کافر ہے۔ مکہ شریف کے عالم جلیل حضرت مولانا سید اسماعیل علیہ الرحمۃ الرضوان اپنے فتاوٰی میں تحیر فرماتے ہیں۔امابعد ناقول ان ھولاء الفرق الواقصیں فی السوال غلام احمد قادیانی و رشید احمد ومن تبعہ کخلیل انبیٹھی واشرف علی وغیرھم لا شبھۃ فی کفرھم بلا مجال بل لا شبھۃ فیمن شک بل فیمن توقف فی کفرھم بحال من الاحوال۔
      میں حمد و صلوٰۃ کے بعد کہتا ہوں کہ یہ طائفے جن کا تذکرہ سوال میں واقع غلام احمد قادیانی، رشید احمد گنگوہی اور جو اس کے پیرو ہیں جیسے خلیل احمد اشرف علی وغیرہ ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں، نہ شک کی مجال بلکہ جو ان کے کفر میں شک کرے بلکہ کسی طرح کسی حال میں انہیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں بھی شبہ نہیں ۔“ (حسام الحرمین)
      غیر منقسم ہندوستان کے علمائے کرام اسلام کے فتاوٰی کا مجموعہ الصوارم الھندیہ میں ہے ان لوگوں (یعنی قادیانیوں، وہابیوں، دیوبندیوں) کے پیچھے نماز پڑھنے، ان کی جنازہ کی نماز پڑھنے، ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنے، ان کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا کھانے ان کے پاس بیٹھے ان سے بات چیت کرنے اور تمام معاملات میں ان کا حکم بعینہ وہی ہے جو مرتد کا ہے۔ یعنی یہ تمام باتیں سخت حرام اشد گناہ ہیں ۔
      اللہ تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ وما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظٰلمین ۔ “اور اگر تجھے شیطان بھولا دے تو یاد آ جائے پر بدمذہبوں کے ساتھ نہ بیٹھ۔“ خود سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : وان مرضوا فلا تعودھم وان ماتوا فلا تشھدوم وان لقیتم فلا تسلموا علیھم ولا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحوھم ولا تصلوا علیھم ولا تصلوا علیھم (رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ و ابوداؤد عن ابی عمر وابن ماجۃ عن جابر والعقیلی وابن حبان عن انس رضی اللہ تعالٰی عنھم،چشتی)
      ترجمہ: اگر بدمذہب بد دین بیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے نہ جاؤ اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازہ پر حاضر نہ ہو۔ اور ان کا سامنا ہو تو سلام نہ کرو۔ ان کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ نہ پیو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ۔ ان سے شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو، ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔
      پھر چونکہ قادیانی، وہابی، دیوبندی، غیرمقلد، ندوی، مودودی تبلیغی یہ سب کے سب حکم شریعت اسلامیہ گمراہ، بد عقیدہ بد دین، بد مذہب ہیں اس لئے حدیث و فقہ کے ارشاد کے مطابق اس شرعی دینی مسئلہ سے سب کو آگاہ کر دیا جاتا ہے کہ قادیانیوں، غیر مقلدوں، وہابیوں، دیوبندیوں، مودودیوں و غیرہ بدمذہبوں کے پیچھے نماز پڑھنا سخت حرام ہے۔ ان سے شادی بیاہ کا رشتہ قائم کرنا اشد حرام ہے۔ ان کے ساتھ نماز پڑھنا سخت گناہ کبیرہ ہے۔  ان سے اسلامی تعلقات قائم کرنا اپنے دین کو ہلاک اور ایمان کو برباد کرنا ہے جو ان باتوں کو مان کر ان پر عمل کرے گا اس کے لئے نور ہے اور جو نہیں مانے گا اس کے لئے نار ہے۔ والعیاذ باللہ تعالٰی ۔
      جھوٹے مکار، دغاباز بدمذہب، بد دین خدا اور رسول کی شان میں توہین کرنے والے مرتدین براہ مکرو فریب اتحاد و اتفاق کا جھوٹا منافقانہ نعرہ بہت لگاتے ہیں اور بہت زور سے لگاتے ہیں۔ اور جو متصلب مسلمان اپنے دین و ایمان کو بچانے کیلئے ان سے الگ رہے۔ ان کے سر اختلاف و افتراق کا الزام تھوپتے ہیں جو مخلص مسلمان شرع کے روکنے کی وجہ سے ان بد مذہبوں کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ اس کو فسادی اور جھگڑالو بتاتے ہیں جو صحیح العقیدہ مسلمان فتاوی حسام الحرمین کے مطابق سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو کافر و مرتد کہے اس کو گالی بکنے والا قرار دیتے ہیں ایسے تمام صلح کلی منافقوں سے میرا مطالبہ ہے کہ اگر واقعی تم لوگ سنی مسلمانوں سے اتحاد و اتفاق چاہتے ہو تو سب سے پہلے بارگاہ الٰہی میں اپنے عقائد کفریہ و خیالات باطلہ سے سچی توبہ کر ڈالو۔ خدا اور رسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے سے باز آ جاؤ اور گستاخی کرنے والوں کی طرفداری کی حمایت سے الگ ہو جاؤ اور سچا سنی مذہب قبول کرلو اور اگر ایسا کرلو تو ہمارے تمہارے درمیان بالکل اتحاد و اتفاق ہو جائے گا۔ اور اگر خدانخواستہ تم اپنے اعتقادات کفریہ سے توبہ کرنے پر تیار نہیں۔ تم گستاخی کرنے اور لکھنے والے مولویوں سے رشتہ ختم نہیں کر سکتے، سنی مذہب قبول کرنا تمہیں گوارا نہیں تو ہم قرآن و حدیث کی تعلیمات حقہ کو چھوڑ کر بد دینوں، بد مذہبوں سے اتحاد نہیں کر سکتے رہا متصب سنی مسلمان کو جھگڑالو، فسادی گالی بکنے والا کہنا تو یہ پرانی دھاندلی اور زیادتی ہے۔ گالی تو وہ بک رہا ہے جس نے تقویۃ الایمان لکھی جس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو بڑا بھائی بنایا۔ جس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے انبیاء کرام کو بارگاہ الٰہی میں ذرہ ناچیز سے بھی کم تر اور چمار سے بھی زیادہ ذلیل کہا، گالی تو وہ بک رہا ہے جس نے حفظ الایمان میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کو پاگلوں اور جانوروں، چوپایوں کے علم غیب کی طرح ٹھہرایا بدزبانی تو وہ کر رہا ہے جس نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم مقدس کو شیطان کے علم سے کم قرار دیا۔ اصل جھگڑالو تو وہ ہے جس نے تحذیرالناس میں مسئلہ ختم نبوت کا انکار کیا اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی ماننا عوام جاہلوں کا خیال بتایا۔ واقعی فسادی تو وہ ہے جس نے براہین قاطعہ میں اللہ تعالٰی کے متعلق جھوٹ بول سکنے کا نیا عقیدہ گڑھا اور جس نے اردو زبان میں سرکار رسالت علیہ السلام کو علماء دیوبند کا شاگرد بتایا ۔
      سنی مسلمان نہ جھگڑالو اور فسادی ہے نہ گالی بکنے والا وہ تو شریعت اسلامیہ کے حکم کے مطابق ان گستاخ مولویوں کو کافر و مرتد کہتا ہے جو بارگاہ احدیت اور سرکار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی کرنے اور ضروریات دین کے منکر ہیں عقائد ضروریہ دینیہ کی مخالفت کرنے والوں کو کافر و مرتد کہنا ان کے حق میں منافق کا لفظ استعمال کرنا ہرگز ہرگز گالی نہیں ہے۔ خود اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کافر، کفار، مشرکین، منافقین وغیرہ کلمات مخالفین اسلام کے حق میں ارشاد فرمائے تو کیا کوئی بد نصیب یہ کہنے کی جراءت کو سکتا ہے کہ قرآن عظیم نے گالی دی ہے۔ معاذاللہ تعالٰی منہ ۔
      مسلمانو گستاخوں سے آپ کو نہ حجت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ان کا زق زق بق بق سننے کی حاجت ہے ۔ آپ ان سے گالی گلوچ اور جھگڑا نہ کرو ، بس آپ ان کی صحبت سے دور رہو۔ اپنے سے ان کو دور رکھو ۔ تمہارے آقائے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں یہی تعلیم دی ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ایاکم ویاھم لایضلونکم ولا یفتونکم ۔ (مسلم شریف)
      یعنی مسلمانو ! تم بدمذہبوں کی صحبت سے بچو۔ اپنے کو ان سے دور رکھو نہیں تو وہ تمہیں سچے راستے سے بہکا دیں گے اور تمہیں بے دین بنا دیں گے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں اور تمہیں سچی ہدایت پر قائم رکھے آمین ۔
      ایسا بدمذھب گستاخ جس کی گستاخی حد کفر کو پہنچ چکی ہو ،یا ضروریات دین کا منکر ہو وہ کافر ہے ، اورایسا بد مذھب کہ کفریہ عقائد خود نہیں رکھتا مگر ایسے کفریہ و گستاخانہ عقائد والوں کو اپنا امام یا پیشوا بتاتا ہے یا انہیں مسلمان گردانتا ہے تو وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے، کیونکہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے اسی طرح ان کے منکر کو کافر نہ جاننابھی کفر ہے ،وجیز امام کردری و در مختار و شفائے امام قاضی عیاض و غیرہ میں ہے ۔ اللفظ للشفاء مختصرا اجمع العلماء ان من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر ۔
      ’’شفاء کے الفاظ اختصارا یہ ہیں ،علماء کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے ۔ (کتاب الشفاء ،القسم الرابع ،البا ب ا لاول،۲/۲۰۸،مطبوعہ،دار سعادت،بیروت، در مختار ،کتاب الجھاد،باب المرتد،۱/۳۵۶،مطبوعہ ،مجتبائی،دھلی، فتاوی رضویہ اا/۳۷۸ مطبوعہ لاھور،چشتی)
      ایسے بدمذھبو گستاخوں سے دوستی ، محبت ، میل جول ، ان کے یہاں جانا ، انہیں اپنے یہاں بلانا ،اھل سنت کی مسجد میں آنے دینا ،درس و تبلیغ کی اجازت دینا ،ان کے ساتھ صحبت رکھنا ،ان کی طرف جھکاؤ اور مائل ہونا ،الغرض ہر وہ کام جس سے بدمذھبوں سے انسیت و تعلق و وابستگی یا میلان کا اظہار ہو بدمذھبی و سخت حرام ،اور شادی بیاہ کرنا ناجائز ،نکاح باطل محض و زناء کما  صرح بہ الامام المجدد البریلوی فی ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار،قرآن کریم کی نصوص صریحہ و احادیث شریفہ سے ان تمام کی ممانعت ثابت اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :{و لاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار }( ھود۱۱/۱۱۳)’اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی ‘‘ (کنز الایمان )اس آیت کی تفسیر میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’یہاں ظالم سے مراد کافر اور سارے گمراہ و مرتدین ہیں اور ان سے ملنے سے مراد ان سے محبت یا میل جول رکھنا ‘‘(تفسیر نور العرفان)
      نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :{ و اما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین }(الانعام ۶/۶۸) ۔ اور اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو ‘‘(کنز الایمان )
      نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :ومن یتولھم منکم فانہ منھم }( المائدۃ ۵/۵۱ )
      ’’اورتم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے‘‘(کنز الایمان )
      اور بد مذھبوں کی نسبت حضور اکرم نور مجسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:و لا تجالسوھم و لا تواکلو ھم و لا تشاربوھم و لا تناکحوھم و لا تخالطوھم ولا تعودوا مرضاھم و لا تصلوا معھم و لا تصلوا علیھم ۔
      ’’ اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ اور پانی نہ پیو اور بیاہ شادی نہ کرو، اور میل جول نہ کرو،اور ان کے بیماروں کی عیادت نہ کرو ، اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو ، اور مرجائیں تو ان کا جنازہ نہ پڑھو ‘‘ ۔ (صحیح ابن حبان،۱/۲۷۷،سنن البیھقی الکبری،۱۰/۲۰۵،السنۃ لعبد اللہ بن احمد،۱/۱۲۶،اعتقاد اھل السنۃ،۱/۱۳۴،مسند الربیع،۱/۳۰۲،السنۃ لابن ابی عاصم،۱/۱۴۴،الجرح و التعدیل،۷/۵۲،میزان الاعتدال، ۲/۳۱،لسان المیزان، ۲/۵۲،المجروحین،۱/۱۸۷،تھذیب الکمال،۶/۴۹۹، العلل المتناھیۃ، ۱/۱۶۸،تغلیق التعلیق،۵/۱۲۵،الجامع لاخلاق الراوی و السامع،۲/۱۱۸،المغنی،۹/۱۱ الضعفاء للعقیلی ۱/۱۲۶ دار الکتب العلمیۃ ،بیروت،۱۴۰۴ھـ ،تاریخ بغداد ۸/۱۴۳، الکفایۃ فی علم الروایۃ ۱/۴۸ ،المکتبۃ العلمیۃ، المدینۃ المنورۃ،خلق افعال العباد۱/۳۰،دار المعارف السعودیۃ،الریاض،۱۳۹۸ھـ،چشتی)
      نیز حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم ۔ گمراہوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو ، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیںفتنہ میں نہ ڈال دیں‘‘(صحیح مسلم،۱/۱۲،دار احیاء التراث العربی،بیروت)
      نیز حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اصحاب البدع کلاب اھل النار ۔ بد مذھبی والے جہنمیوں کے کتے ہیں ۔ (التدوین فی اخبار قزوین ۲/۴۵۸، مطبوعہ،دار الکتب العلمیۃ،بیروت ،۱۹۸۷ء ، فیض القدیر ، ۱/۵۲۸ المکتبۃ التجاریۃ الکبری،مصر، ۱۳۵۶ھ رقم الحدیث ۱۰۸۰،کنز العمال ،رقم الحدیث ۱۰۹۴،)
      اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے بد مذھب  سے شادی کرنے کے بارے میں فرمایا:ایحب احدکم ان تکون کریمتہ فراش کلب فکرھتموہ ۔
      ’’کیا تم میں کسی کو پسند آتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے کے نیچے بچھے !تم اسے بہت برا جانو گے‘‘(سنن ابن ماجہ ،ابواب النکاح ص،۱۳۹،مسند احمد ۱/۸۶ دار الفکر بیروت، لبنان،چشتی)
      یعنی بد مذھب جہنمیوں کے کتے ہیں اور انہیں بیٹی یا بہن دینا ایسا ہے جیسے کتے کے تصرف میں دیا،بہر حال ان عبارات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بد مذھب سے میل جول ،ان کے یہاں جانا ،انہیں بلانا ،اھل سنت و جماعت کی مسجد میں درس و تبلیغ کی اجازت دینا،شادی کرنا جائز نہیں ہے نیز وہ وھابی ، دیوبندی لوگ جن کی گمراہی و بد مذھبی حد کفر کو پہنچ چکی ہے ان کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ،نیز ایسا شخص جو خود تو کفریہ عقائد نہیں رکھتا مگر جن لوگوں نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کی ہیں انہیں مسلمان جانتا ہے وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے،
      جیسے رئیس الوھابیہ،اسماعیل  دھلوی (م۱۲۴۶ھ) نے لکھا معاذ اللہ کہ:اور یہ یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘(تقویۃ الایمان ، ص /۲۳ مطبوعہ دھلی ،  ۱۳۵۶؁ھ  ۱۹۴۷؁ء ، مطبوعہ ،مطبع علیمی اندرون لوھاری دروازہ، لاھور)
      ’’یقین مانو کہ ہر شخص خواہ وہ بڑے سے بڑا انسان ہو یا مقرب ترین فرشتہ اس کی حیثیت شان الوھیت کے مقابلہ پر ایک چمار کی حیثیت سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘(تقویۃ الایمان ،ص۲۲،مطبوعہ ،دار الاشاعت ،اردو بازار ،کراچی)
      دیوبند کے حجۃ الاسلام،بانیٔ مدرسۂ دیوبند ، محمد قاسم نانوتوی (م۱۲۹۷ھ)نے لکھا معاذاللہ کہ:اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی  ﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی  ﷺ میں کچھ فرق نہ آئے گا ‘‘ ۔ (تحذیر الناس ،ص۲۴،مطبوعہ،کتب خانہ امدادیہ ، دیوبند ،چشتی)
      دیوبند کے قطب عالم،رشید احمد گنگوہی (م۱۳۲۳ھ) نے لکھامعاذاللہ کہ:’’کذب داخل تحت قدرت باری تعالی ہے‘‘(فتاوی رشیدیہ،مبوب بطرز جدید،کتاب العقائدص/۲۳۷،مطبوعہ،دار اشاعت،کراچی) ۔ اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی( معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد) جھوٹ بولنے پر قادر ہے ۔
       دیوبند کے محدث،خلیل احمد انبیٹھوی (۱۳۴۶ھ) نے لکھا معاذاللہ کہ : الحاصل غور کرنا چاہیے کہ شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے ،شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ،فخر عالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے ، کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ‘‘(براھین قاطعہ،ص/۵۵،مطبوعہ،دار الاشاعت،کراچی)
      دیوبند کے حکیم الامت،اشرفعلی تھانوی (م۱۳۶۳ھ) نے لکھا معاذاللہ کہ : پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانااگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل ،اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے، ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی(بچہ)و مجنون (پاگل)بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے(حفظ الایمان،ص/۱۳، مطبوعہ،قدیمی کتب خانہ،کراچی)
      ان مذکورہ بالا نام نہاد گستاخ علمائے (سو) دیوبند اپنی گستاخانہ عبارات کی روشنی میں دائرئہ اسلام سے خارج ہیں اور ایسے کافر ہیں کہ جو انہیں کافر نہ مانے ، یا ان کے کفر و عذاب میں شک کرے کافر ہے (کما مر فیما سبق) تفصیل،امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی تصانیف حسام الحرمین و تمہید ایمان و غیرھما میں ملاحظہ فرمائیں، اور عقائد اھل سنت و جماعت کی معلومات و دلائل کے لیے حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب جاء الحق کا مطالعہ فرمائیں۔
      (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)







































×
×
  • Create New...