Jump to content
IslamiMehfil

آذان سے پہلے اور بعد میں کیا پڑھیں اور کیا کیا پڑھ سکتے ہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں


Recommended Posts

آذان سے پہلے اور بعد میں کیا پڑھیں اور کیا کیا پڑھ سکتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں.

 

 از قلم و طالب دعا: محمد عمران علی  حیدری۔

 

                بسم اللہ الرحمن الرحیم

         یا اللہ عزوجل    یارسول اللہؐﷺ

🌹دورد ذات اقدس اور آل و اصحاب پر بے شمار لاکھوں ارباں کروڑاں کھرباں بار❤️

صلی اللہ علیہ وآلہ اصحابہ وبارک وسلم

القرآن المجید فرقان الحمید برہان العظیم میں اللہ وحدہ لاشریک کا انعام، بے مثل قرآن میں بےمثال فرمان :۔❤️❤️

📖اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ  یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ  وَ سَلِّمُوۡا  تَسۡلِیۡمًا.📖

سورۃ الاحزاب: آیت نمبر56.

ترجمہ: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے ( نبی ) پر ، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو،

✍️✍️✍️یہ تفسیر نہیں بس اس آیت میں موجود نقاط ہیں بس اگر اس کی تفسیر دیکھنی ہے تو نیچے کتب تفاسیر کے حوالہ جات دیے ہوۓ ہیں۔

اس آیت مبارکہ میں غور طلب باتیں جو کہ بتانا مقصود ہیں : ۔

✍️اللہ کی شان ان باتوں پر غور کیا  جاۓ تو سمجھ آ جاۓ گی کہ قرآن کی شان کیا ہے اور پتہ چلے کہ وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ کا مفہوم کیا ہے،

✍️ قرآن سمجھنا آسان ہے اگر نظر و دل میں   شان و عظمت مصطفیؐ ہو تو ورنہ اس قرآن کو پڑھ کر خوارج نے سیدنا ابوتراب، مولا کائنات، شیر خدا، جنت کے شہزادوں کے بابا، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں بھی حق پر تھے مگر معاویہ بھی ہمارے سردار،  فاتح خیبر مولا مشکل کشاہ علی حیدر کرم وجہ الکریم  پر بھی کفر کا کا فتوئ لگا دیا تھا۔😭

✍️اگر اس قرآن کو پڑھ کر صحابی رسول پر کفر و شرک کے فتوۓ لگے ہیں تو آج ہم سنیوں پر جو لگ رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ حضرت معاویہؓ کی مثال اس لیے دی کہ ایک صحابی کے مقابلہ میں ایک صحابی حق پر ہے تو خوارج نے حق پر قائم رہنے والے صحابی، خلیفہ چہارم پر فتوئ لگا دیا تھا اللہ کی شان!، آج یہی کام  ایک قوم کرتی نظر آتی ہے اشارہ کافی ہے۔

خیر اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ 
👇👇👇
 اس آیت مبارکہ میں وقت متعین نہیں ہے اور وہ کوئی وقت بھی ہو سکتا ہے، اور اگر بات کی جاۓ فضائل درود و سلام کی تو تحریر بہت لمبی ہوجاۓ گی۔ 

لہذا جب پڑھیں جس وقت پڑھیں پڑھ سکتے ہیں درود و سلام، *نماز سے پہلے یا نماز کے بعد میں ہو، آذان سے پہلے ہو بعد ہو اس کے علاوہ  گھر ہو مسجد میں ہو، بیٹھ کے پڑھو یا کھڑے ہو کے پڑھو، تھوڑا پڑھو زیادہ پڑھو پڑھ سکتے ہیں۔* علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر درود و سلام دکھاوۓ کے لیے بھی کوئی پڑھے تو بھی ثواب ملے باقی دینی کاموں کا ثواب نہیں ملتا اگر دکھاوے کے لیے کیا جاۓ چاھے وہ نماز ہی کیوں نہ ہو۔ 
سبحان الله 

اس آیت مبارکہ کی تفسیر کے لیے 

✍️✍️اگر ان تمام تفاسیر کا خلاصہ اگر پڑھنا ہے تو تفسیر خزائن العرفان ہی پڑھ لیں۔ اور اس کے بعد تفسیر صراط الجنان بہتر ہے۔ اگر تفصیل پڑھنی ہے تو تبیان القرآن پڑھ لیں۔✍️✍️✍️
یہ تین تفاسیر تقریبا تمام کتب تفاسیر کا بہترین نچوڑ ہیں
 
*📖1تفسیر تبیان القرآن۔*
*📚 2تفسیر خزائن العرفان۔*
*📗3تفسیر صراط الجنان۔*
📓4تفسیر درمنثور۔🌹
📘5تفسیر جلالین۔🌹
📙6تفسیر مدارک التنزیل۔🌹
📓7تفسیر قرطبی۔🌹
📙8تفسیر بغوی۔🌹
📘9تفسیر ابن کثیر۔🌹
📗10تفسیر روح البیان۔🌹
📕11تفسیر خزینتہ القرآن۔🌹
📓12تفسیر سراج المنیر۔🌹
📙13تفسیر نور العرفان۔🌹
📗14تفسیر ضیاء القرآن۔🌹
📕15تفسیر الحسنات۔🌹
 وغیرہ کتب تفاسیر 

(طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)

                 ✍️✍️✍️✍️

*ہر وہ کام جس میں اللہ کی حمد اور نبی علیہ السلام پر درودو سلام نہ ہو تو وہ کام نعمت سے خالی ہے*

یہ روایت ضعیف ہے  جو ہمارے ہاں فضائل و مناقب میں قابل قبول ہے۔ اس روایت کا متن بالکل ٹھیک ہے جیسا آپ ابھی پڑھیں گے : ۔

📕امام ابو یعلیٰ الخلیلی (م 446ھ) رحمہ اللہ نے فرمایا :-

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ خَزَرِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْمُوَفَّقِ الزَّاهِدُ بِهَمَذَانَ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الطَّيَّانِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الشَّامِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ أَمْرٍ لَمْ يُبْدَأْ فِيهِ بِحَمْدِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ عَلَيَّ فَهُوَ أَقْطَعُ أَبْتَرُ مَمْحُوقٌ مِنْ كُلِّ بَرَكَةٍ»

ترجمہ :- سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ کام جس میں اللہ کی حمد و ثنا اور مجھ پر درود و سلام نہ ہوں منقطع اور ہر نعمت سے خالی ہے

[ الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي رقم الحدیث :- 119 ]

‼️ اس روایت کو الحافظ عبد القادر بن عبد الله الرهُاوى نے اپنی " الأربعون على البلدان " میں امام دیلمی نے " مسند الفردوس " میں امام تاج الدین ابن سبکی نے " طبقات الشافعية " میں باسند نقل کیا

اس روایت کے حوالے سے اہل علم فرماتے ہیں :-


➊ امام سخاوی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف کہا 

[ القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع ص244 ]

➋ عرب کے محقق ناصر الدین البانی نے بھی ضعیف کہا 

[ ضعيف الجامع الصغير وزيادته ص613 ]

➌ عرب کے محقق شعیب ارناؤوط نے بھی ضعیف کہا 

[ جلاء الأفهام - ت الأرنؤوط ص441 ]


‼️ ہمارے نزدیک بھی یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کا دوسرا طریق بھی ہے جس کا ذکر امام مقریزی رحمہ اللہ نے فرمایا :-

وروى أبو موسى المدني، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة رضي الله تبارك وتعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل كلام لا يذكر الله فيبدأ به وبالصلاة علي، فهو أقطع ممحوق من كل بركة

[ إمتاع الأسماع 11/153 ]

          (ازقلم :سید عاقب حسین رضوی۔)

 ✍️✍️✍️✍️
*آذان کے بعد دو چیزیں پڑھنے کا ثبوت اور ساتھ ہی خوشخبری*

📖حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَيْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، ‏‏‏‏‏‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي الْوَسِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ تَعَالَى، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ.
*ھذا حدیث صحیح*


*ابوداؤد باب الآذان١(٥١٩)*
*صحیح مسلم باب الصلاة ٧ (٣٨٤)، سنن الترمذی باب باب المناقب ١ (٣٦١٤)، سنن النسائی باب الأذان ٣٧ (٦٧٩)، مسند احمد (٢/١٦٨)*

ترجمہ: عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ  انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  کو فرماتے سنا:  جب تم مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی وہی کہو جو وہ کہتا ہے، پھر میرے اوپر درود بھیجو، اس لیے کہ جو شخص میرے اوپر ایک بار درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار اپنی رحمت نازل فرمائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو، وسیلہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، جس شخص نے میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی.

           (محمد عمران علی حیدری)

✍️اس پر عمل کوئی بھی نہیں کرتا 😭😭😭 آذان کے بعد درود و سلام پڑھا کرو حدیث سے ثابت ہے۔

✍️آذان کا جواب بھی دیا کرو حدیث سے ثابت ہے۔

✍️وسیلہ والی دعا بھی کیا کرو حدیث سے ثابت ہے۔

❤️🌹شفاعت واجب ہے ان سب کاموں پر سبحان الله‎۔❤️

           (محمد عمران علی حیدری)

✍️✍️✍️✍️
*آذان کے سے پہلے دعا پڑھنے کا ثبوت*

📖حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى الْبَيْتِ يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ يُؤَذِّنُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُهُ كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً تَعْنِي هَذِهِ الْكَلِمَاتِ.
ھذا حدیث حسن 

*ابو داؤد ١(٥٢٣)*

ترجمہ:
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :قبیلہ بنی نجار کی ایک عورت کہتی ہے  مسجد کے اردگرد گھروں میں سب سے اونچا میرا گھر تھا، بلال ؓ اسی پر فجر کی اذان دیا کرتے تھے، چناچہ وہ صبح سے کچھ پہلے ہی آتے اور گھر پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے، جب اسے دیکھ لیتے تو انگڑائی لیتے، پھر کہتے:  اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تجھ ہی سے قریش پر مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں ، وہ کہتی ہے: پھر وہ اذان دیتے، قسم اللہ کی، میں نہیں جانتی کہ انہوں نے کسی ایک رات بھی ان کلمات کو ترک کیا ہو۔

(محمد عمران علی حیدری)

✍️اگر کوئی آذان سے پہلے درود وسلام نہیں پڑھتا تو تواسے اس پر ملامت نہ کیا جاۓ اگر کوئی پڑھتا ہے تو اسے بھی ملامت نہ جاۓ۔✍️

✍️آذان سے پہلے کچھ بھی نہیں ثابت کی رٹ لگانا غلط ہے کیوں کہ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کچھ پڑھنا ثابت ہے۔

✍️آذان سے پہلے دعا ثابت ہے یہی پڑھی جاۓ بہتر ہے۔

✍️اگر کوئی اس دعا کے ساتھ ذات اقدس پر درود و سلام پڑھنا چاھے تو روکا نہ جاۓ۔

✍️اگر کوئی کہے کہ اس وقت دین کے غلبہ کی دعا تھی اب الحَمْد للهْ دین غالب ہے تو اب اس دعا کی جگہ درود و سلام پڑھ لیا جاۓ تو کافی حد تک اسکی بات ٹھیک ہے۔

✍️ لیکن میں کہتا ہوں کہ اس دعا کو بھی پڑھا جاۓ اور ساتھ ساتھ ذات اقدس پر درود سلام بھی پڑھا جاۓ۔

✍️نہ یہ دعا آذان کا حصہ تھی نہ ہے اور نہ درود و سلام آذان کا حصہ ہے،

✍️تو حرج نہیں ہونی چاھیے۔

ضد چھوڑیں بس نبی علیہ السلام سے محبت کریں انہی کے نام کردیں اپنا جینا مرنا پھر آپکو کبھی نہیں لگے گا کہ درود یہاں نہ پڑھو یہ والا درود نہ پڑھو اس صیغہ والا نہ پڑھو۔ پھر ایک ہی بات کرو گے درود پڑھو سلام پڑھو۔ درود و سلام پڑھو۔

✍️اگر ایسا کیا جاۓ تو اختلاف  و لڑائی جھگڑا ختم کیا جا جاسکتا ہے۔

صلی اللہ و علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یاحبیب اللہﷺ۔

  (از قلم طالب دعا : محمد عمران علی حیدری)

           02.12.2021

 دو دسمبر 1443ھ

  • Thanks 1
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      مسجد میں باتیں کرنے سے اعمال برباد
       
      یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے
       
      من تكلم بكلام الدنيا في المسجد أحبط الله أعماله أربعين سنة
      جو شخص مسجد میں دنیاوی باتیں کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے چالیس سال کے اعمال کو ضائع کر دے گا۔
       
      امام صغانی٬ امام ملا علی قاری٬ محدث أبو طاہر پٹنی٬ علامہ شوکانی اور عجلونی اور علامہ محمد بن خلیل الحنفی رحمہم اللہ تعالی ان ساروں نے اس روایت کو موضوع قرار دیا
       
      ( كتاب الموضوعات للصغاني ص39 )
      ( كتاب تذكرة الموضوعات للفتني ص36 )
      ( كتاب الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ص338 )
      ( كتاب الفوائد المجموعة ص24 )
      ( كتاب كشف الخفاء ت هنداوي 2/285 )
      ( كتاب اللؤلؤ المرصوع ص178 )
       
       
      اس روایت کو امام احمد رضا بریلوی رحمہ اللہ نے بھی فتویٰ رضویہ میں نقل کیا جو کہ ان کا تسامح ہے
      ( فتویٰ رضویہ 16/311 مسئلہ نمبر :- 149 )
       
      نثار احمد خان مصباحی صاحب نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے مفتی حسان عطاری صاحب کی کتاب " تحقیق المعتمد في رواية الكذاب ودرجات السند " کی تقریظ میں اصل کتاب کا اسکین ساتھ دے دیا جائے گا
       
      انہوں نے ثابت کیا کہ اس پر وضع کا قرینہ ظاہر ہے جس کی وجہ سے یہ روایت موضوع ہے ... اور صاحب کتاب مفتی حسان عطاری صاحب نے بھی موافقت کی کوئی تعاقب نہیں کیا
      ( تحقیق المعتمد ص32/34 )
       
      امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ وضع حدیث کے ایک قرینہ کا ذکر فرماتے ہیں
      وما به وعد عظيم او وعيد ... على حقير وصغيرة شديد
      یعنی جس میں کسی چھوٹے عمل پر عظیم بشارت ہو یا کسی چھوٹے گناہ پر شدید وعید
       
      کتاب کے محقق شیخ محمد بن علی بن آدم اثیوبی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
       
      وحاصل المعنى : أنه يعرف كون الحديث موضوعاً بالإفراط في الوعد العظيم على الفعل الحقير، والوعيد الشديد على الأمر الصغير، وهذا كثير في أحاديث القصاص
      خلاصہ کلام یہ کہ معلوم ہوا وہ حدیث موضوع ہوتی ہے جس میں حقیر ( چھوٹے ) عمل پر عظیم ( حد سے زیادہ ) بڑی وعد ( بشارت ) سنائی جائے اور اسی طرح چھوٹے ( گناہ ) پر شدید وعید سنائی جائے اور یہ قرینہ کثرت سے قصاص کی احادیث میں پایا جاتا ہے
      ( شرح ألفية السيوطي في الحديث ص293 )
       
       
      اب یہ بات ایک عام انسان بھی بتا دے گا کہ مسجد میں کلام کرنے سے چالیس سال کے اعمال برباد ہو جانا یہ یقیناً چھوٹے گناہ پر بہت بڑی وعید ہے جو کہ وضع کی دلیل ہے. اسی وجہ سے آئمہ حدیث نے اس روایت کو بالجزم موضوع کہا
       
      اسی طرح اس روایت پر وضع حدیث کا دوسرا قرینہ بھی ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ اس روایت کا وجود کتب احادیث میں نہیں ہے
       
      علم حدیث کا مشہور قاعدہ ہے کے ہر وہ حدیث جس کا وجود کتب احادیث میں نہ ہو حفاظ کے سینوں میں نہ ہو اور وہ ایسے زمانے میں ظاہر ہو جب تدوین حدیث مکمل ہوچکی ہے تو وہ روایت موضوع کہلائے گی
       
       
      امام ابن الجوزی م597ھ رحمہ اللہ تعالیٰ موضوع حدیث کے قرائن بیان فرماتے ہیں
       
      إذا رأيت الحديث يباين المعقول أو يخالف المنقول أو يناقض الأصول فاعلم أنه موضوع
      جب تم کسی حدیث کو دیکھو کہ وہ معقول کے خلاف ہے یا منقول سے ٹکراتی ہے یا اصول سے مناقص ہے تو جان لو کہ وہ موضوع ہے
       
      امام ابن الجوزی کے اس بیانیہ کو محدثین نے قبول فرمایا لیکن فی الوقت ہمارا تعلق امام ابن الجوزی کے بیان کردہ تیسرے قرینہ سے ہے اصول سے مناقص ہونے کا مطلب امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں
       
      ومعنى مناقضته للأصول: أن يكون خارجا، عن دواوين الإسلام من المسانيد والكتب المشهورة
      امام سیوطی فرماتے ہیں اور مناقص اصول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ روایت اسلام کی مشہور کتب احادیث و مسانید سے خارج ہو . ( یعنی ان کتب میں موجود نہ ہو )
       
      ( كتاب الموضوعات لابن الجوزي 1/106 )
      ( كتاب تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي 1/327 )
       
       
      امام نور الدین ابن عراق الکنانی م963ھ رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں
       
      ما ذكره الإمام فخر الدين الرازي أن يروي الخبر في زمن قد استقرئت فيه الأخبار ودونت فيفتش عنه فلا يوجد في صدور الرجال ولا في بطون الكتب
      امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ نے جس چیز کا ذکر کیا وہ یہ ہے کہ حدیث اس زمانے میں روایت کی جائے یا ذکر کی جائے جب احادیث کا استقراء کیا جا چکا ہے اور تفتیش کے باوجود نہ محدثین کے سینوں میں ملے اور نہ کتب احادیث میں ( تو ایسی روایت موضوع ہوتی ہے )
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة 1/7 )
       
      یہی اصول فی زمانہ بریلوی مکتبہ فکر ( اہلسنت و جماعت ) کے مشہور و معروف عالم مفتی محمد شریف الحق امجدی صاحب نے بھی بیان کیا ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں
       
      " اس روایت کے جھوٹے اور موضوع ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ کسی حدیث کی معتبر کتاب میں یہ روایت مذکور نہیں "
      ( فتویٰ شارح بخاری 1/307 )
       
      لہذا اس اصول سے بھی یہ روایت منگھڑت ثابت ہوتی ہے والحمدللہ
       
       
      خلاصہ کلام یہ کہ ہم نے محدثین کا کلام بھی اس روایت کے تحت پیش کیا کہ انہوں نے اس کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا اور ہم میں وضع حدیث کے دو قرائن پر بھی اس روایت کو موضوع ثابت کیا لہذا اس روایت کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حرام ہے
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 22 ذو الحجہ 1443ھ
    • By Aquib Rizvi
      آگ أنبیاء علیہم السلام کے ہاتھ سے چھوئی ہوئی چیز کو نہیں جلاتی روایت کی تحقیق
       
       
      امام خطیب البغدادی م463ھ رحمہ اللہ نے فرمایا
      وأخبرنا الحسن، قال: حدثنا عبد الرحمن، قال: حدثنا أبو عمير الأنسي بمصر، قال: حدثنا دينار مولى أنس، قال: صنع أنس لأصحابه طعاما فلما طعموا، قال: يا جارية هاتي المنديل، " فجاءت بمنديل درن، فقال اسجري التنور واطرحيه فيه، ففعلت فابيض، فسألناه عنه، فقال: إن هذا كان للنبي صلى الله عليه وسلم وإن النار لا تحرق شيئا مسته أيدي الأنبياء "
      ( كتاب تاريخ بغداد ت بشار 11/589 )
      دینار مولی انس بیان کرتا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام کے لیے کھانے کا انتظام فرمایا جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنی لونڈی کو آواز دے کر فرمایا رومال لے آؤ . وہ جب رومال لائی تو وہ میلا تھا حضرت انس بن مالک نے فرمایا تندور کو ہلکا کر کے اس رومال کو تندور میں ڈال دو جب رومال تندور سے باہر نکالا گیا تو وہ سفید ہو گیا تھا صحابہ کرام نے پوچھا یہ کیسے تو حضرت انس بن مالک نے فرمایا یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا رومال ہے اور انبیاء علیہم السلام جس چیز کو چھو لیں آگ اسے نہیں جلاتی
       
      یہ روایت موضوع ہے
       
      أبو مكيس دينار بن عبد الله الحبشي متھم بالوضع راوی ہے اور اس پر خاص جرح یہ بھی ہے کہ اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے 100 کے قریب موضوع روایات بیان کیں لہذا اس کی حضرت انس بن مالک سے روایت موضوع قرار دی جائے گی
      امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
      وقال الحاكم: روى، عَن أَنس قريبا من مِئَة حديث موضوعة
      اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تقریباً 100 موضوع روایات بیان کیں ہیں
      امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی امام حاکم کی موافقت کی چنانچہ فرماتے ہیں
      قال ابن حبان: يروي، عَن أَنس أشياء موضوعة
      یہ انس بن مالک سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( لسان الميزان :- 3077 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اندازاً فرمایا کہ
      أن يروي عنه عشرين ألفا كلها كذب
      اس نے تقریباً بیس ہزار روایتیں بیان کیں جو سب کی سب جھوٹ ہیں
      ( ميزان الاعتدال 2/31 )
       
      نیز سند میں " أبو عمير الأنسي " بھی مجہول ہے
       
      امام احمد بن علی المقریزی م845ھ رحمہ اللہ نے حافظ ابونعیم اصفہانی رحمہ اللہ کے طریق سے اس کو اپنی کتاب میں نقل کیا
      فخرج أبو نعيم من حديث محمد بن رميح، قال: حدثنا عبد الله بن محمد بن المغيرة، حدثنا أبو معمر عباد بن عبد الصمد، قال: أتينا أنس بن مالك نسلم عليه، فقال: يا جارية، هلمي المائدة نتغدى، فأتته بها فتغدينا، ثم قال: يا جارية هلمي المنديل، فأتته بمنديل وسخ، فقال: يا جارية أسجرى التنور، فأوقدته، فأمر بالمنديل، فطرح فيه، فخرج أبيض كأنه اللبن. فقلت: يا أبا حمزة! ما هذا؟ قال: هذا منديل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح به وجهه، وإذا اتسخ صنعنا به هكذا، لأن النار لا تأكل شيئا مر على وجوه الأنبياء- عليهم السلام
      عباد بن عبدالصمد کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ دسترخوان لے آؤ ہم دوپہر کا کھانا کھائیں گے چنانچہ وہ اسے لے کر آئی اور ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا پھر آپ نے فرمایا اے لونڈی رومال لے آؤ تو پھر وہ ایک گندا رومال لے کر آئی پھر آپ نے لونڈی سے کہا کہ تندور کو روشن کرو اسے روشن کیا گیا اور وہ رومال تندور میں ڈالنے کا حکم دیا وہ جیسے ہی تندور میں ڈالا گیا دودھ کی طرح سفید ہو گیا . میں نے کہا: اے ابو حمزہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ رومال ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ انور پونچھتے تھے ، اور جب یہ میلا ہو جاتا تو ہم ایسا ہی کرتے کیونکہ آگ اس شے پر اثر نہیں کرتی جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کے چہرہ مبارک پر سے گذری ہو
      ( كتاب إمتاع الأسماع 11/254 )
       
       
      یہ بھی موضوع ہے
       
      1 : محمد بن رميح العامري مجہول ہے
       
      2 : عبد الله بن محمد بن المغيرة متھم بالوضع راوی ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے
       
      امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ سفیان ثوری اور مالک بن مغول سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة 1/75 )
       
      امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ایسی روایتیں بیان کرتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی امام ابن یونس نے اس کو منکر الحدیث قرار دیا
      ( كتاب الزهر النضر في حال الخضر ص76 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو متروک قرار دیا اور اس کی مرویات کو نقل کرکے انہیں موضوع قرار دیا
      ( كتاب تاريخ الإسلام - ت تدمري 14/219 )
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/487 )
       
      3 : أبو معمر عباد بن عبد الصمد بھی متھم بالوضع راوی ہے
       
      امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ یہ سخت ضعیف راوی ہے امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ غالی شیعہ ہے
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو " واہ " قرار دیا اور یہ جرح متروک درجے کے راویان پر کی جاتی ہے
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/369 )
      ( فتح المغيث للسخاوي 2/128 )
       
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے نقل کیا کہ عباد بن عبدالصمد نے سیدنا انس بن مالک سے ایک پورا نسخہ روایت کیا جو کہ اکثر موضوع من گھڑت روایات پر مشتمل ہے
      ( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 4/393 )
       
      اس مکمل تحقیق کے بعد خلاصہ کلام یہ ہوا کہ یہ اثر اپنی دونوں اسناد کے ساتھ موضوع من گھڑت ہے اس کو بیان کرنا جائز نہیں
      اسی طرح ایک من گھڑت قصہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا نے روٹیاں لگائیں اور نبی علیہ السلام نے بھی ایک روٹی لگائی باقی روٹیاں پک گئیں لیکن نبی علیہ السلام نے جو روٹی لگائی وہ نہیں پکی وغیرہ وغیرہ اس قصہ کا وجود بھی کسی حدیث٬ تاریخ٬ سیرت کی معتبر کتاب میں نہیں اللہ جانے صاحب خطبات فقیر نے اس ہوا ہوائی قصہ کو کہاں سے نکل کر لیا اپنی خطبات فقیر جلد دوم صفحہ 92/93 پر
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 15 ذو الحجہ 1443ھ
       
       
    • By Aquib Rizvi
      امام ابوالقاسم طبرانی م360ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      حدثنا بكر بن سهل، ثنا عبد الله بن يوسف، ثنا الهيثم بن حميد، عن رجل، عن مكحول، عن أبي أمامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «اتقوا البول، فإنه أول ما يحاسب به العبد في القبر»
       
      ( كتاب المعجم الكبير للطبراني :- 7605 )
       
      ترجمہ :- نبی علیہ السلام نے فرمایا پیشاب ( کی چھینٹوں ) سے بچو کیونکہ قبر میں سب سے پہلے اس کے بارے میں حساب لیا جائے گا
       
      اس سند میں امام مکحول سے روایت کرنے والا شخص مبھم ہے اور مبہم راوی کو پہچاننے کا طریقہ اصول حدیث کی کتاب تیسیر شرح مصطلح الحدیث میں یہ لکھا ہے 
       
      بوروده مسمى في بعض الروايات الأخرى
       
      یعنی دوسری روایات میں اس کے نام کا ذکر ہوا ہو
       
      ( كتاب تيسير مصطلح الحديث ص260 )
       
       
      اسی روایت کو امام طبرانی دوسری سند سے لائیں ہیں اور وہاں مکحول سے روایت کرنے والے راوی کا نام موجود ہے ملاحظہ ہو
       
      حدثنا محمد بن عبد الله بن بكر السراج، ثنا إسماعيل بن إبراهيم، ثنا أيوب، عن مكحول، عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اتقوا البول، فإنه أول ما يحاسب به العبد في القبر»
       
      ( كتاب المعجم الكبير للطبراني :- 7607 )
       
       
      بلکل وہی روایت ہے ایک لفظ کا بھی فرق نہیں اور راوی کا نام بھی واضح ہے *" أيوب بن مدرك الحنفي "* یہ راوی متھم بالکذب و وضع ہے مگر اس پر خاص جرح بھی ہے کہ اس کی امام مکحول شامی رحمہ اللہ سے روایات موضوع ہوتی ہیں
       
      اس راوی کو امام نسائی امام دارقطنی امام ابو حاتم رازی امام يحيى بن بطريق الطرسوسي رحمہمُ اللہ نے متروک الحدیث قرار دیا
       
      اور اسی راوی کو امام ابن معین رحمہ اللہ نے کذاب قرار دیا
       
      ( لسان الميزان :- 1382 )
       
       
      امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      يروي المناكير عن المشاهير ويدعي شيوخا لم يرهم ويزعم أنه سمع منهم، روى عن مكحول نسخة موضوعة ولم يره
       
      یہ مشہور راویوں سے منکر ( بمعنی باطل ) روایتیں بیان کرتا ہے اور ایسے شیوخ ( الحدیث ) سے احادیث سننے کا ( جھوٹا ) دعویٰ کرتا ہے جنہیں اس نے نہیں دیکھا اس نے امام مکحول شامی رحمہ اللہ سے من گھڑت روایات کا نسخہ روایت کیا حالانکہ اس نے امام مکحول کو نہیں دیکھا
       
      ( كتاب المجروحين لابن حبان ت حمدي :- 99 )
       
       
      لہذا ثابت ہوا یہ روایت موضوع ہے اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حلال نہیں
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین
       
    • By Aquib Rizvi
      یہ ایک موضوع ( منگھڑت ) روایت ہے
       
      اس کو امام الحسن الخلال نے فضائل سورہ اخلاص میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا
       
      حدثنا أحمد بن إبراهيم بن شاذان، ثنا عبد الله بن عامر الطائي، حدثني أبي، ثنا علي بن موسى، عن أبيه، موسى، عن أبيه، جعفر، عن أبيه، محمد، عن أبيه، علي، عن أبيه الحسين، عن أبيه علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «من مر على المقابر وقرأ قل هو الله أحد إحدى عشرة مرة، ثم وهب أجره للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات»
       
      كتاب فضائل سورة الإخلاص للحسن الخلال :- 54
       
      ترجمہ :- علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا جو شخص قبرستان سے گزرے اور گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کے اس کا ثواب مردوں کو ایصال کرے تو اس کو ان مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا
       
       
      اس سند عبد الله بن عامر الطائي ہے یہ خود تو متھم بالوضع ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے لیکن اس پر خاص جرح بھی ہے وہ یہ کہ اس نے اپنے والد کے واسطہ سے امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر ایک جھوٹا نسخہ بیان کیا ہے
       
      چناچہ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      عبد الله بن أحمد بن عامر، عن أبيه، عن علي الرضا، عن آبائه بتلك النسخة الموضوعة الباطلة، ما تنفك عن وضعه أو وضع أبيه
       
      ( كتاب ميزان الاعتدال :- 4200 )
       
      یعنی عبداللہ نے اپنے والد کے واسطے سے امام علی رضا اور انکے آباؤ اجداد یعنی اہل بیت سے ایک جھوٹا نسخہ باطل نسخہ روایت کیا ہے 
       
      امام ذہبی فرماتے ہیں یا تو اس نے اس نسخے کو گھڑا ہے یا اس کے باپ نے 
       
       
      اس روایت کو امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب الزیادات علی الموضوعات میں نقل کیا جو ان کے نزدیک اس روایت کے جھوٹے ہونے پر دلالت کرتا ہے
       
      ( كتاب الزيادات على الموضوعات 2/577 )
       
       
      اس کو دوسری سند کے ساتھ امام الرافعی رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں روایت کیا
       
      ( كتاب التدوين في أخبار قزوين 2/297 )
       
      لیکن اس سند میں بھی داؤد بن سليمان الغازي ہے یہ راوی بھی کذاب ہے اور اس نے بھی ایک گڑھا ہوا نسخہ بیان کیا ہے امام علی رضا رضی اللہ عنہ سے اس کو امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ اور امام ذہبی رحمہ اللہ دونوں نے کذاب قرار دیا
       
      كذبه يحيى بن معين، ولم يعرفه أبو حاتم، وبكل حال فهو شيخ كذاب له نسخة موضوعة على الرضا
       
      امام ذہبی فرماتے ہیں اسے یحییٰ بن معین نے کذاب قرار دیا امام ابوحاتم نے کہا میں اسے نہیں جانتا اور امام ذہبی فرماتے ہیں کہ یہ ایک جھوٹا شخص ہے جس کے پاس امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر گھڑا ہوا نسخہ تھا 
       
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/8 )
       
      حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی موافقت کی 
       
      ( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 3/397 )
       
       
      خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ ایک جھوٹی روایت ہے جس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حلال نہیں
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
    • By Aquib Rizvi
      السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
       
      حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس اظہر من الشمس جھوٹی روایت کو اپنی الموضوعات میں نقل کیا :
      «حُضُورُ مَجْلِسِ عَالِمٍ أَفْضَلُ مِنْ صَلاةِ أَلْفِ رَكْعَةٍ وَعِيَادَةِ أَلْفِ مَرِيضٍ وَشُهُودِ أَلْفِ جَنَازَةٍ»
      عالم کی مجلس میں حاضری ہزار رکعت نماز پڑھنے سے افضل ہزار مریضوں کی عیادت سے افضل اور ہزار جنازوں میں شریک ہونے سے افضل ہے  
      كتاب الموضوعات لابن الجوزي1/223 
       
      حافظ ابن جوزی نے اسکو نقل کرکے کہا
      هذا حديث موضوع
      اسکی سند میں
       
      1 : محمد بن علي بن عمر المذكر متروک كما قال ابن الجوزي 
       
      2 : إسحاق ابن نجيح کذاب
       
      ابن جوزی امام احمد سے نقل کرتے ہیں لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا ہے اسی طرح امام ذہبی نے بھی اس کو کذاب کہا اور ابن حجر عسقلانی نے بھی موافقت کی 
       
      3 : أحمد بن عبد الله الجويباري یہ مشہور احادیث گھڑنے والا راوی ہے .
       
      اس کے بارے میں شیخ الاسلام حافظ الدنیا امیر المؤمنین فی الحدیث ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
       
      أما الجويباري فإني أعرفه حق المعرفة بوضع الأحاديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد وضع عليه أكثر من ألف حديث
       
      جہاں تک تعلق رہا جویباری کا تو میں اسے بہت اچھے سے احادیث گھڑنے کے حوالے سے جانتا ہوں اس ( خبیث ) نے نبی علیہ السلام پر ایک ہزار سے زائد احادیث کو گھڑا ہے .
      ( كتاب لسان الميزان 1/194 )
       
      اور حافظ ابن حجر عسقلانی اور امام ذہبی نے اس کے ترجمے میں اس کی اس جھوٹی روایت کو نقل کرکے بطور ثبوت یہ روایت پیش کی کہ اس نے اس کو وضع کیا ہے جو روایت زیر بحث ہے .
      چناچہ امام ذہبی فرماتے ہیں 
      ومن طاماته: عن إسحاق ابن نجيح الكذاب ..... قال: حضور مجلس عالم خير من حضور ألف جنازة ...... الخ
      اور یہ روایت جویباری کی گمراہیوں میں سے ایک ہے جو اس نے اسحاق بن نجیح کذاب سے نقل کی آگے پھر اسی روایت کا ذکر کیا .
      ( كتاب ميزان الاعتدال 1/107 )
      لہذا جب اس روایت کا جھوٹا ہونا واضح ہوگیا تو اب اس کی نسبت نبی علیہ السلام کی طرف کرنا حرام ہے 
      فقط واللہ و رسولہ اعلم
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
×
×
  • Create New...