Jump to content
IslamiMehfil

آذان سے پہلے اور بعد کیا پڑھیں اور کیا کیا پڑھ سکتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں


Recommended Posts

آذان سے پہلے اور بعد میں کیا پڑھیں اور کیا کیا پڑھ سکتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں.

از قلم و طالب دعا: محمد عمران علی حیدری۔

             بسم اللہ الرحمن الرحیم

       یا اللہ عزوجل    یارسول اللہؐﷺ

🌹دورد ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور آل و اصحاب پر بے شمار لاکھوں کروڑوں اربوں کھربوں کثیرا کثیرا بار❤️

صلی اللہ علیہ وآلہ اصحابہ وبارک وسلم

القرآن المجید فرقان الحمید برہان العظیم میں اللہ وحدہ لاشریک کا انعام، بے مثل قرآن میں بےمثال فرمان :۔❤️❤️

📖اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ  یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ  وَ سَلِّمُوۡا  تَسۡلِیۡمًا.📖

سورۃ الاحزاب: آیت نمبر56.

ترجمہ: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے ( نبی ) پر ، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو،

✍️✍️✍️یہ تفسیر نہیں بس اس آیت میں موجود نقاط ہیں بس اگر اس کی تفسیر دیکھنی ہے تو نیچے کتب تفاسیر کے حوالہ جات دیے ہوۓ ہیں۔

اس آیت مبارکہ میں غور طلب باتیں جو کہ بتانا مقصود ہیں : ۔

✍️اللہ کی شان ان باتوں پر غور کیا  جاۓ تو سمجھ آ جاۓ گی کہ قرآن کی شان کیا ہے اور پتہ چلے کہ وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ کا مفہوم کیا ہے،

✍️ قرآن سمجھنا آسان ہے اگر نظر و دل میں   شان و عظمت مصطفیؐ ہو تو ورنہ اس قرآن کو پڑھ کر خوارج نے سیدنا ابوتراب، مولا کائنات، شیر خدا، جنت کے شہزادوں کے بابا، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں بھی حق پر تھے مگر معاویہ بھی ہمارے سردار،  فاتح خیبر مولا مشکل کشاہ علی حیدر کرم وجہ الکریم  پر بھی کفر کا کا فتوئ لگا دیا تھا۔😭

✍️اگر اس قرآن کو پڑھ کر صحابی رسول پر کفر و شرک کے فتوۓ لگے ہیں تو آج ہم سنیوں پر جو لگ رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ حضرت معاویہؓ کی مثال اس لیے دی کہ ایک صحابی کے مقابلہ میں ایک صحابی حق پر ہے تو خوارج نے حق پر قائم رہنے والے صحابی، خلیفہ چہارم پر فتوئ لگا دیا تھا اللہ کی شان!، آج یہی کام  ایک قوم کرتی نظر آتی ہے اشارہ کافی ہے۔

خیر اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ 
👇👇👇
 اس آیت مبارکہ میں وقت متعین نہیں ہے اور وہ کوئی وقت بھی ہو سکتا ہے، اور اگر بات کی جاۓ فضائل درود و سلام کی تو تحریر بہت لمبی ہوجاۓ گی۔ 

لہذا جب پڑھیں جس وقت پڑھیں پڑھ سکتے ہیں درود و سلام، *نماز سے پہلے یا نماز کے بعد میں ہو، آذان سے پہلے ہو بعد ہو اس کے علاوہ  گھر ہو مسجد میں ہو، بیٹھ کے پڑھو یا کھڑے ہو کے پڑھو، تھوڑا پڑھو زیادہ پڑھو پڑھ سکتے ہیں۔* علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر درود و سلام دکھاوۓ کے لیے بھی کوئی پڑھے تو بھی ثواب ملے باقی دینی کاموں کا ثواب نہیں ملتا اگر دکھاوے کے لیے کیا جاۓ چاھے وہ نماز ہی کیوں نہ ہو۔ 
سبحان الله 

اس آیت مبارکہ کی تفسیر کے لیے 

✍️✍️اگر ان تمام تفاسیر کا خلاصہ اگر پڑھنا ہے تو تفسیر خزائن العرفان ہی پڑھ لیں۔ اور اس کے بعد تفسیر صراط الجنان بہتر ہے۔ اگر تفصیل پڑھنی ہے تو تبیان القرآن پڑھ لیں۔✍️✍️✍️
یہ تین تفاسیر تقریبا تمام کتب تفاسیر کا بہترین نچوڑ ہیں
 
*📖1تفسیر تبیان القرآن۔*
*📚 2تفسیر خزائن العرفان۔*
*📗3تفسیر صراط الجنان۔*
📓4تفسیر درمنثور۔🌹
📘5تفسیر جلالین۔🌹
📙6تفسیر مدارک التنزیل۔🌹
📓7تفسیر قرطبی۔🌹
📙8تفسیر بغوی۔🌹
📘9تفسیر ابن کثیر۔🌹
📗10تفسیر روح البیان۔🌹
📕11تفسیر خزینتہ القرآن۔🌹
📓12تفسیر سراج المنیر۔🌹
📙13تفسیر نور العرفان۔🌹
📗14تفسیر ضیاء القرآن۔🌹
📕15تفسیر الحسنات۔🌹
 وغیرہ کتب تفاسیر 

(طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)

                 ✍️✍️✍️✍️

*ہر وہ کام جس میں اللہ کی حمد اور نبی علیہ السلام پر درودو سلام نہ ہو تو وہ کام نعمت سے خالی ہے*

یہ روایت ضعیف ہے  جو ہمارے ہاں فضائل و مناقب میں قابل قبول ہے۔ اس روایت کا متن بالکل ٹھیک ہے جیسا آپ ابھی پڑھیں گے : ۔

📕امام ابو یعلیٰ الخلیلی (م 446ھ) رحمہ اللہ نے فرمایا :-

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ خَزَرِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْمُوَفَّقِ الزَّاهِدُ بِهَمَذَانَ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الطَّيَّانِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الشَّامِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ أَمْرٍ لَمْ يُبْدَأْ فِيهِ بِحَمْدِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ عَلَيَّ فَهُوَ أَقْطَعُ أَبْتَرُ مَمْحُوقٌ مِنْ كُلِّ بَرَكَةٍ»

ترجمہ :- سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ کام جس میں اللہ کی حمد و ثنا اور مجھ پر درود و سلام نہ ہوں منقطع اور ہر نعمت سے خالی ہے

[ الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي رقم الحدیث :- 119 ]

‼️ اس روایت کو الحافظ عبد القادر بن عبد الله الرهُاوى نے اپنی " الأربعون على البلدان " میں امام دیلمی نے " مسند الفردوس " میں امام تاج الدین ابن سبکی نے " طبقات الشافعية " میں باسند نقل کیا

اس روایت کے حوالے سے اہل علم فرماتے ہیں :-


➊ امام سخاوی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف کہا 

[ القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع ص244 ]

➋ عرب کے محقق ناصر الدین البانی نے بھی ضعیف کہا 

[ ضعيف الجامع الصغير وزيادته ص613 ]

➌ عرب کے محقق شعیب ارناؤوط نے بھی ضعیف کہا 

[ جلاء الأفهام - ت الأرنؤوط ص441 ]


‼️ ہمارے نزدیک بھی یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کا دوسرا طریق بھی ہے جس کا ذکر امام مقریزی رحمہ اللہ نے فرمایا :-

وروى أبو موسى المدني، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة رضي الله تبارك وتعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل كلام لا يذكر الله فيبدأ به وبالصلاة علي، فهو أقطع ممحوق من كل بركة

[ إمتاع الأسماع 11/153 ]

              ازقلم :سید عاقب حسین رضوی۔

 ✍️✍️✍️✍️
آذان کے بعد دو چیزیں پڑھنے کا ثبوت اور ساتھ ہی خوشخبری

📖حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَيْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، ‏‏‏‏‏‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي الْوَسِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ تَعَالَى، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ.
       ھذا حدیث صحیح


              ابوداؤد باب الآذان١(٥١٩)
صحیح مسلم باب الصلاة ٧ (٣٨٤)، سنن الترمذی باب باب المناقب ١ (٣٦١٤)، سنن النسائی باب        الأذان ٣٧ (٦٧٩)، مسند احمد (٢/١٦٨)

ترجمہ: عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ  انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  کو فرماتے سنا:  جب تم مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی وہی کہو جو وہ کہتا ہے، پھر میرے اوپر درود بھیجو، اس لیے کہ جو شخص میرے اوپر ایک بار درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار اپنی رحمت نازل فرمائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو، وسیلہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، جس شخص نے میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی.

               (محمد عمران علی حیدری)

✍️اس پر عمل کوئی بھی نہیں کرتا 😭😭😭 آذان کے بعد درود و سلام پڑھا کرو حدیث سے ثابت ہے۔

✍️آذان کا جواب بھی دیا کرو حدیث سے ثابت ہے۔

✍️وسیلہ والی دعا بھی کیا کرو حدیث سے ثابت ہے۔

❤️🌹شفاعت واجب ہے ان سب کاموں پر سبحان الله‎۔❤️

(محمد عمران علی حیدری)

✍️✍️✍️✍️
*آذان کے سے پہلے دعا پڑھنے کا ثبوت*

📖حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى الْبَيْتِ يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ يُؤَذِّنُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُهُ كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً تَعْنِي هَذِهِ الْكَلِمَاتِ.
ھذا حدیث حسن 

                     ابو داؤد ١(٥٢٣)

     ترجمہ:
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :قبیلہ بنی نجار کی ایک عورت کہتی ہے  مسجد کے اردگرد گھروں میں سب سے اونچا میرا گھر تھا، بلال ؓ اسی پر فجر کی اذان دیا کرتے تھے، چناچہ وہ صبح سے کچھ پہلے ہی آتے اور گھر پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے، جب اسے دیکھ لیتے تو انگڑائی لیتے، پھر کہتے:  اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تجھ ہی سے قریش پر مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں ، وہ کہتی ہے: پھر وہ اذان دیتے، قسم اللہ کی، میں نہیں جانتی کہ انہوں نے کسی ایک رات بھی ان کلمات کو ترک کیا ہو۔

             (محمد عمران علی حیدری)

✍️اگر کوئی آذان سے پہلے درود وسلام نہیں پڑھتا تو تواسے اس پر ملامت نہ کیا جاۓ اگر کوئی پڑھتا ہے تو اسے بھی ملامت نہ جاۓ۔✍️

✍️آذان سے پہلے کچھ بھی نہیں ثابت کی رٹ لگانا غلط ہے کیوں کہ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کچھ پڑھنا ثابت ہے۔

✍️آذان سے پہلے دعا ثابت ہے یہی پڑھی جاۓ بہتر ہے۔

✍️اگر کوئی اس دعا کے ساتھ ذات اقدس پر درود و سلام پڑھنا چاھے تو روکا نہ جاۓ۔

✍️اگر کوئی کہے کہ اس وقت دین کے غلبہ کی دعا تھی اب الحَمْد للهْ دین غالب ہے تو اب اس دعا کی جگہ درود و سلام پڑھ لیا جاۓ تو کافی حد تک اسکی بات ٹھیک ہے۔

✍️ لیکن میں کہتا ہوں کہ اس دعا کو بھی پڑھا جاۓ اور ساتھ ساتھ ذات اقدس پر درود سلام بھی پڑھا جاۓ۔

✍️نہ یہ دعا آذان کا حصہ تھی نہ ہے اور نہ درود و سلام آذان کا حصہ ہے،

✍️تو حرج نہیں ہونی چاھیے۔

ضد چھوڑیں بس نبی علیہ السلام سے محبت کریں انہی کے نام کردیں اپنا جینا مرنا پھر آپکو کبھی نہیں لگے گا کہ درود یہاں نہ پڑھو یہ والا درود نہ پڑھو اس صیغہ والا نہ پڑھو۔ پھر ایک ہی بات کرو گے درود پڑھو سلام پڑھو۔ درود و سلام پڑھو۔

✍️اگر ایسا کیا جاۓ تو اختلاف  و لڑائی جھگڑا ختم کیا جا جاسکتا ہے۔

صلی اللہ و علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یاحبیب اللہﷺ۔

(از قلم طالب دعا : محمد عمران علی حیدری)

02.12.2021

دو دسمبر 1443ھ

  • Thanks 1
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      یہ ایک موضوع ( منگھڑت ) روایت ہے
       
      اس کو امام الحسن الخلال نے فضائل سورہ اخلاص میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا
       
      حدثنا أحمد بن إبراهيم بن شاذان، ثنا عبد الله بن عامر الطائي، حدثني أبي، ثنا علي بن موسى، عن أبيه، موسى، عن أبيه، جعفر، عن أبيه، محمد، عن أبيه، علي، عن أبيه الحسين، عن أبيه علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «من مر على المقابر وقرأ قل هو الله أحد إحدى عشرة مرة، ثم وهب أجره للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات»
       
      كتاب فضائل سورة الإخلاص للحسن الخلال :- 54
       
      ترجمہ :- علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا جو شخص قبرستان سے گزرے اور گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کے اس کا ثواب مردوں کو ایصال کرے تو اس کو ان مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا
       
       
      اس سند عبد الله بن عامر الطائي ہے یہ خود تو متھم بالوضع ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے لیکن اس پر خاص جرح بھی ہے وہ یہ کہ اس نے اپنے والد کے واسطہ سے امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر ایک جھوٹا نسخہ بیان کیا ہے
       
      چناچہ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      عبد الله بن أحمد بن عامر، عن أبيه، عن علي الرضا، عن آبائه بتلك النسخة الموضوعة الباطلة، ما تنفك عن وضعه أو وضع أبيه
       
      ( كتاب ميزان الاعتدال :- 4200 )
       
      یعنی عبداللہ نے اپنے والد کے واسطے سے امام علی رضا اور انکے آباؤ اجداد یعنی اہل بیت سے ایک جھوٹا نسخہ باطل نسخہ روایت کیا ہے 
       
      امام ذہبی فرماتے ہیں یا تو اس نے اس نسخے کو گھڑا ہے یا اس کے باپ نے 
       
       
      اس روایت کو امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب الزیادات علی الموضوعات میں نقل کیا جو ان کے نزدیک اس روایت کے جھوٹے ہونے پر دلالت کرتا ہے
       
      ( كتاب الزيادات على الموضوعات 2/577 )
       
       
      اس کو دوسری سند کے ساتھ امام الرافعی رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں روایت کیا
       
      ( كتاب التدوين في أخبار قزوين 2/297 )
       
      لیکن اس سند میں بھی داؤد بن سليمان الغازي ہے یہ راوی بھی کذاب ہے اور اس نے بھی ایک گڑھا ہوا نسخہ بیان کیا ہے امام علی رضا رضی اللہ عنہ سے اس کو امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ اور امام ذہبی رحمہ اللہ دونوں نے کذاب قرار دیا
       
      كذبه يحيى بن معين، ولم يعرفه أبو حاتم، وبكل حال فهو شيخ كذاب له نسخة موضوعة على الرضا
       
      امام ذہبی فرماتے ہیں اسے یحییٰ بن معین نے کذاب قرار دیا امام ابوحاتم نے کہا میں اسے نہیں جانتا اور امام ذہبی فرماتے ہیں کہ یہ ایک جھوٹا شخص ہے جس کے پاس امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر گھڑا ہوا نسخہ تھا 
       
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/8 )
       
      حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی موافقت کی 
       
      ( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 3/397 )
       
       
      خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ ایک جھوٹی روایت ہے جس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حلال نہیں
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
    • By Aquib Rizvi
      السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
       
      حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس اظہر من الشمس جھوٹی روایت کو اپنی الموضوعات میں نقل کیا :
      «حُضُورُ مَجْلِسِ عَالِمٍ أَفْضَلُ مِنْ صَلاةِ أَلْفِ رَكْعَةٍ وَعِيَادَةِ أَلْفِ مَرِيضٍ وَشُهُودِ أَلْفِ جَنَازَةٍ»
      عالم کی مجلس میں حاضری ہزار رکعت نماز پڑھنے سے افضل ہزار مریضوں کی عیادت سے افضل اور ہزار جنازوں میں شریک ہونے سے افضل ہے  
      كتاب الموضوعات لابن الجوزي1/223 
       
      حافظ ابن جوزی نے اسکو نقل کرکے کہا
      هذا حديث موضوع
      اسکی سند میں
       
      1 : محمد بن علي بن عمر المذكر متروک كما قال ابن الجوزي 
       
      2 : إسحاق ابن نجيح کذاب
       
      ابن جوزی امام احمد سے نقل کرتے ہیں لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا ہے اسی طرح امام ذہبی نے بھی اس کو کذاب کہا اور ابن حجر عسقلانی نے بھی موافقت کی 
       
      3 : أحمد بن عبد الله الجويباري یہ مشہور احادیث گھڑنے والا راوی ہے .
       
      اس کے بارے میں شیخ الاسلام حافظ الدنیا امیر المؤمنین فی الحدیث ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
       
      أما الجويباري فإني أعرفه حق المعرفة بوضع الأحاديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد وضع عليه أكثر من ألف حديث
       
      جہاں تک تعلق رہا جویباری کا تو میں اسے بہت اچھے سے احادیث گھڑنے کے حوالے سے جانتا ہوں اس ( خبیث ) نے نبی علیہ السلام پر ایک ہزار سے زائد احادیث کو گھڑا ہے .
      ( كتاب لسان الميزان 1/194 )
       
      اور حافظ ابن حجر عسقلانی اور امام ذہبی نے اس کے ترجمے میں اس کی اس جھوٹی روایت کو نقل کرکے بطور ثبوت یہ روایت پیش کی کہ اس نے اس کو وضع کیا ہے جو روایت زیر بحث ہے .
      چناچہ امام ذہبی فرماتے ہیں 
      ومن طاماته: عن إسحاق ابن نجيح الكذاب ..... قال: حضور مجلس عالم خير من حضور ألف جنازة ...... الخ
      اور یہ روایت جویباری کی گمراہیوں میں سے ایک ہے جو اس نے اسحاق بن نجیح کذاب سے نقل کی آگے پھر اسی روایت کا ذکر کیا .
      ( كتاب ميزان الاعتدال 1/107 )
      لہذا جب اس روایت کا جھوٹا ہونا واضح ہوگیا تو اب اس کی نسبت نبی علیہ السلام کی طرف کرنا حرام ہے 
      فقط واللہ و رسولہ اعلم
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
    • By Aquib Rizvi
      یہ ایک طویل روایت کا حصہ ہے مکمل روایت درج ذیل ہے :
       
      عن ابن عباس -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم: "أرحم أمتي بأمتي أبو بكر, وأقواهم في دين الله عمر, وأشدهم حياءً عثمان, وأقضاهم علي بن أبي طالب, ولكل نبي حواري وحواريي طلحة والزبير وحيثما كان سعد بن أبي وقاص كان الحق معه, وسعيد بن زيد من أحباء الرحمن, وعبد الرحمن بن زيد من تجار الرحمن, وأبو عبيدة بن الجراح أمين الله وأمين رسوله, ولكل نبي صاحب سر وصاحب سري معاوية بن أبي سفيان, فمن أحبهم فقد نجا ومن أبغضهم فقد هلك" أخرجه الملاء في سيرته.
       
      ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا میری امت میں سب سے زیادہ رحیم ابوبکر صدیق اور دین کی باتوں میں سب سے زیادہ قوی عمر اور حیا میں سب سے زیادہ عثمان اور علم قضاء میں سب سے زیادہ علی اور ہر نبی کے کچھ حواری ہوتے ہیں میرے حواری طلحہ اور زبیر اور جہاں کہیں سعد بن ابی وقاص ہوں تو حق انہی کی طرف ہوگا اور سعید بن زید ان دس آدمیوں میں سے ہیں جو الرحمٰن کے محبوب ہیں اور عبدالرحمن بن عوف الرحمٰن کے تاجروں میں سے ہیں اور ابو عبیدہ ابن جراح اللہ اور رسول اللہ کے امین ہیں ہر نبی کا ایک راز دار ہوتا ہے اور میرے راز دار معاویہ بن ابی سفیان ہیں جو شخص ان سب سے محبت رکھے گا نجات پائے گا جو شخص ان سے بغض رکھے گا ہلاک ہوگا رضی اللہ عنھم
       
      محب الدین طبری اسے نقل کرنے کے بعد کہتے ہے
       
      أخرجه الملاء في سيرته
       
      یعنی اسے أبو حفص عمر بن محمد الموصلي،المعروف بالملاء (المتوفی570) نے وسيلة المتعبدين في سيرة سيد المرسلين میں روایت کیا ہے ۔
       
       
      اس کتاب کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
       
      وَلَمْ نَذْكُرْ مَنْ لَا يَرْوِي بِإِسْنَادِ - مِثْلَ كِتَابِ وَسِيلَةِ الْمُتَعَبِّدِينَ لِعُمَرِ الملا الموصلي وَكِتَابِ الْفِرْدَوْسِ لِشَهْرَيَارَ الديلمي وَأَمْثَالِ ذَلِكَ - فَإِنَّ هَؤُلَاءِ دُونَ هَؤُلَاءِ الطَّبَقَاتِ ؛ وَفِيمَا يَذْكُرُونَهُ مِنْ الْأَكَاذِيبِ أَمْرٌ كَبِيرٌ
       
      [مجموع الفتاوى:1/ 261] 
       
      یعنی اس کتاب میں بے سند روایات ہیں اور اس کتاب میں اکثر من گھڑت اور جھوٹی روایات ہیں
      نوٹ :- اس حدیث کو کئی محدثین نے اپنی اپنی کتب میں مختلف الفاظ کے ساتھ اضافے اور کمی کے ساتھ نقل کیا 
       
      حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس کو پانچ سندوں سے نقل کیا 
       
      ( كتاب تاريخ دمشق لابن عساكر 39/95 )
      ( كتاب تاريخ دمشق لابن عساكر 58/401 )
       
      امام ابو یعلی موصلی رحمہ اللہ نے اس کو اپنی سند سے نقل کیا 
       
      ( كتاب مسند أبي يعلى - ت السناري 8/62 )
       
      امام بزار رحمہ اللہ نے اپنی سند سے نقل کیا 
       
      ( كتاب مسند البزار = البحر الزخار 13/259 )
       
      امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اپنی سند سے نقل کیا 
       
      ( كتاب صحيح ابن حبان: التقاسيم والأنواع 4/306 )
       
       
      امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنی سند صحیح کے ساتھ نقل کیا :
       
      ( كتاب سنن ابن ماجه - ت الأرنؤوط 1/107 )
       
       
      اسی طرح امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اپنی سند صحیح کے ساتھ 
       
      ( كتاب سنن الترمذي - ت شاكر 5/644 )
       
      اور اسی طرح درجنوں محدثین نے 
       
      مگر کسی نے بھی حضرت امیر معاویہ کی فضیلت کا اضافہ نہیں کیا کہ معاویہ میرے رازداں ہیں حالانکہ امام ابن ماجہ نے حضرت معاذ بن جبل ابی بن کعب بن زید بن ثابت کی فضیلت کا بھی اضافہ کیا لیکن حضرت امیر معاویہ کی فضیلت کا اضافہ کسی محدث نے باسند یا بے سند نہیں کیا
       
      حضرت معاویہ کی فضیلت کا اضافہ اس کتاب میں موجود ہے جو کتاب موضوع من گھڑت روایات کی اکثریت پر مشتمل ہے اور بے سند روایات پر مشتمل ہے 
       
       
      لہذا حضرت امیر معاویہ کی فضیلت کا اضافہ باطل ہے . عدم متابعت و شواہد و سند و معتبر مآخذ کی بنا پر
       
      جن تین صحابہ کی فضیلت کا اضافہ سند صحیح سے ثابت ہے وہ درج ذیل ہے
       
      سنن ابن ماجہ :- 154 صحیح
       
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ"،
       
      انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں، اللہ کے دین میں سب سے زیادہ سخت اور مضبوط عمر ہیں، حیاء میں سب سے زیادہ حیاء والے عثمان ہیں، سب سے بہتر قاضی علی بن ابی طالب ہیں، سب سے بہتر قاری ابی بن کعب ہیں، سب سے زیادہ حلال و حرام کے جاننے والے معاذ بن جبل ہیں، اور سب سے زیادہ فرائض (میراث تقسیم) کے جاننے والے زید بن ثابت ہیں، سنو! ہر امت کا ایک امین ہوا کرتا ہے، اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“ 
       
      فقط واللہ و رسولہ اعلم 
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
    • By Aquib Rizvi
      امام الحافظ ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے فرمایا:
      حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا يحيى بن نصر الخولاني، ثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن زبان بن فائد، عن سهل بن معاذ، عن أبيه، رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من بر والديه طوبى له زاد الله في عمره» هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه "
      [التعليق - من تلخيص الذهبي]٧٢٥٧ - صحيح
      ( كتاب المستدرك على الصحيحين للحاكم - ط العلمية :- 7257 )
      ترجمہ :- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے اپنے والدین کی عزت کی، اللہ اس کی عمر میں برکت عطا فرمائے"۔
      اگرچہ امام حاکم اور امام ذہبی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے مگر اس کی سند میں علت قادحہ موجود ہے  
      سند میں زبان بن فائد اور سهل بن معاذ دونوں ضعیف الحدیث ہیں .
      اور تعجب کی بات ہے کہ دونوں کو خود امام ذھبی نے بھی ضعیف قرار دیا ہے .
      زبان بن فائد المصري عن سهل بن معاذ وعنه الليث وابن لهيعة فاضل خير ضعيف
      ( كتاب الكاشف للذہبی :- 1610 )
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس کو ضعیف قرار دیا 
      ( تقريب التهذيب 1/213 )
      اسی طرح سهل بن معاذ کو امام ذہبی اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس سے روایت کرنے میں خاص زبان بن فائد کی روایت پر کلام کیا .
      ہمارے علم کے مطابق کسی دوسرے محدث نے اس کو کسی دوسری سند سے بیان نہیں کیا لہذا یہ حدیث ضعیف ہے ۔
       
      لیکن والدین کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرنا اور ان کی عزت کرنا یہ دیگر درجنوں صحیح احادیث سے ثابت ہے جس کی بڑی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہیں :
      امیر المومنین فی الحدیث سید المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب الادب المفرد میں پہلی حدیث لائے ہیں 
       
      الادب المفرد :- 01 صحیح
       
      عمرو بن شیبانی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ ہمیں اس گھر والے نے بتایا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔“ میں نے کہا: اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔“ میں نے کہا: اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ کے رستے میں جہاد کرنا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے انہی سوالوں پر اکتفا کیا، اگر میں مزید درخواست کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید چیزیں بتا دیتے۔
      فقط واللہ و رسولہ اعلم 
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
    • By Sunni Haideri
      *جس نے جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑی اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس میں وہ داخل ہوگا۔*
      1 📕حدثنا إبراهيم بن محمد بن يحيى المزكي النيسابوري، في جماعة قالوا: ثنا محمد بن إسحاق الثقفي، ثنا أبو معمر صالح بن حرب , ثنا إسماعيل بن يحيى، عن مسعر، عن عطية، عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ترك صلاة متعمدا كتب اسمه على باب النار فيمن يدخلها» تفرد به صالح , عن إسماعيل، عنه
      (حلیاۃ اولیاء و طبقات اصفیاء7/254)
      2 :📕473 - أخبركم أبو الفضل الزهري، نا أبي، نا محمد بن غالب، نا صالح بن حرب، نا إسماعيل بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله، عن مسعر، عن عطية، عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا ترك الرجل الصلاة متعمدا كتب اسمه على باب النار فيمن يدخلها»
      (حدیث ابیی فضل الزھری: صفحہ465)
      دونوں میں اسماعیل مسعر سے روایت کر رہا ہے اس کی حقیقت ہم آگے بیان کرتے ہیں

      1 *إسماعيل بن يحيى* 
      اس کا پورا نام: اسماعیل بن یحیی بن عبيد الله بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق۔
      ✍️یہ ایک یضح الحدیث راوی ہے اس پر کذاب جروحات بھی موجود ہیں 
      ✍️اور ایسے راوی کی روایت موضوع ہوتی ہے۔
      ✍️اور اس پر ایک خاص جرح مسعر کے حوالہ سے ہے کہ مالک و مسعر سے یہ موضوع رویات نقل کرتا ہے۔
      ✍️اور اس کذاب راوی نے یہ روایت بھی مسعر سے روایت کی ہے لہذا یہ روایت بھی موضوع ہے۔
      خود صاحب حلیاۃ اولیاء (امام ابو نعیم اصبھانی رحتہ اللہ علیہ) اپنی کتاب الضعفاء الابیی نعیم صفحہ 60 پر فرماتے ہیں کہ: 
      12- إسماعيل بن يحيى بن عبيد الله التيمي حدث عن مسعر ومالك بالموضوعات يشمئز القلب وينفر من حديثه متروك،
      کہتے ہیں کہ اسماعیل  مالک و مسعر سے موضوعات بیان کرتا ہے اور دل میں کراہت و نفرت سی ہے اس کے لیے اور اسکو حدیث میں ترک(چھوڑ دینا) ہے۔
      2: عطیہ عوفی راوی مشھور ضعیف الحدیث راوی ہے،
      ✍️لیکن یہ حدیث اسماعیل کی وجہ سے موضوع ہے
      ✍️اس میں صالح اور اسماعیل کا تفرد بھی ہے جیسا کہ خود صاحب حلیاۃ اولیاء نے فرمایا ہے۔
      اسکا مطلب اس کے علاوہ اس کی کوئی اور سند بھی نہیں ہے
      الحکم الحدیث:- موضوع
      (محمد عمران علی حیدری)
      01.04.2022.
      28شعبان 1443ھ
×
×
  • Create New...