Jump to content
IslamiMehfil
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      ایکــ عـورت اپنـے سـاتـھ چـار لـوگـوں کـو جہنـم میـں لـے کـر جـائـے گــی
       
      یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی جاتی ہے
       
      إذا دخلت امرأة إلى النار أدخلت معها أربعة، أباها وأخاها وزوجها وولدها
      جب عورت جہنم میں داخل ہوگی تو اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم میں لے کر جائے گی اپنے باپ کو اپنے بھائی کو اپنے شوہر کو اور اپنے بیٹے کو
       
      اسی طرح
       
      أربعة يُسألون عن حجاب المرأة: أبوها، وأخوها، وزوجها، وابنها
      چار لوگوں سے عورت کے حجاب کے متعلق سوال کیا جائے گا اس کے باپ سے اس کے بھائی سے اس کے شوہر سے اور اس کے بیٹے سے
      [ موضوع ]
       
      اس روایت کا کسی بھی معتبر یا مستند کتاب میں وجود نہیں یہی اس کے موضوع من گھڑت ہونے کے لئے کافی تھا مگر یہ نص قطعی اور صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      یہ روایت نص قطعی اور شریعت کے اس اصول کے خلاف ہے کہ کوئی شخص دوسروں کے گناہوں کے عوض جہنم میں داخل ہو
       
      وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْـهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۚ
      اور جو شخص کوئی گناہ کرے گا تو وہ اسی کے ذمہ ہے، اور ایک شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ( سورۃ الانعام :- 164 )
       
      اسی طرح فرمان رسول ﷺ بھی ہے
       
                سنن ابن ماجه حدیث :- 2669
               
      حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو الاحوص ، عن شبيب بن غرقدة ، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص ، عن ابيه ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع:" الا لا يجني جان إلا على نفسه، لا يجني والد على ولده ولا مولود على والده"
      عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، (یعنی جو قصور کرے گا وہ اپنی ذات ہی پر کرے گا اور اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا) باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ“
      [ صحیح ]
       
      مذکور روایت کی تردید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویاں کافرہ تھی تو کیا ان کی وجہ سے نوح اور لوط علیہما السلام کو گناہ ملے گا ؟ نعوذ باللہ
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
                           متفقـہ اصــول
                           
      آئمہ اور محدثین کا یہ متفقہ اصول ہے کہ جو بھی روایت اصول شریعت یا نص قطعی کے خلاف ہو اور تاویل کی گنجائش نہ ہو تو وہ موضوع ہے
       
      ① شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں
       
      ومِنها ما يُؤخَذُ مِن حالِ المروي كأنْ يكون مناقضاً لنصِّ القرآن أَو السُّنَّةِ المُتواتِرَةِ أَو الإِجماعِ القطعيِّ أَو صريحِ العَقْلِ حيثُ لا يَقْبلُ شيءٌ مِن ذلك التأويلَ
      موضوع حدیث کو اس کی حالت سے بھی پہچان لیا جاتا ہے جیسا کہ وہ قرآن کی نص یا سنت متواترہ یا اجماع قطعی یا صریح عقل کے اس طور پر خلاف ہو کہ وہ تاویل کو بلکل قبول نہ کرے
      [ نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر ص66 ]
       
       
      ② خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں
       
      أَنَّ مِنْ جُمْلَةِ دَلَائِلِ الْوَضْعِ أَنْ يَكُونَ مُخَالِفًا لِلْعَقْلِ بِحَيْثُ لَا يَقْبَلُ التَّأْوِيلَ وَيَلْتَحِقَ بِهِ مَا يَدْفَعُهُ الْحِسُّ وَالْمُشَاهَدَةُ أَوْ يَكُونُ مُنَافِيًا لِدَلَالَةِ الْكِتَابِ الْقَطْعِيَّةِ أَوِالسُّنَّةِ الْمُتَوَاتِرَةِ أَوِ الْإِجْمَاعِ الْقَطْعِيِّ أَمَّا الْمُعَارَضَةُ مَعَ إِمْكَانِ الْجَمْعِ فَلَا
      حدیث کے موضوع ہونے کے دلائل میں سے یہ بات شامل ہے کہ یہ عقل کے اس طرح خلاف ہو کہ اس کی توجیہ ممکن ہی نہ ہو اسی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ حدیث میں کوئی ایسی بات کہی گئی ہو جو حس و مشاہدے کے خلاف ہو اسی طرح حدیث اگر قرآن مجید کی قطعی دلالت یا سنت متواترہ یا اجماع قطعی کے منافی ہو تو وہ بھی موضوع حدیث ہو گی اور اگر تضاد کو دور کرنا ممکن ہو تو پھر ایسا نہ ہوگا
      [ تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي 3/204 ]
       
       
      یہی بات امام احمد رضا خان فاضل بریلی رحمہ اللہ نے بھی فرمائی 
      [ فتویٰ رضویہ 5/460 ]
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
                        خــلاصــــہ کـــــلام
                        
      اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچانا ہر انسان پر واجب ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
      يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا قُـوٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا
      اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ سے بچاؤ ( سورۃ تحریم :- 6 )
       
       
      نبی ﷺ کا بھی فرمان عالیشان ہے
       
                  سنن ابی داؤد حدیث :- 495 
              
      حدثنا مؤمل بن هشام يعني اليشكري، حدثنا إسماعيل، عن سوار ابي حمزة، قال ابو داود: وهو سوار بن داود ابو حمزة المزني الصيرفي، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" مروا اولادكم بالصلاة وهم ابناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم ابناء عشر سنين، وفرقوا بينهم في المضاجع"
      عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو“
      [ صحیح ]
      لہذا اہل وعیال کو جہنم سے بچانے کے لئے اور شریعت کا پابند بنانے کے لیے بے اصل اور باطل روایات بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں نص قطعی اور احادیث صحیحہ موجود ہے 
       
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
      فقـــــط واللہ ورسولــــــہٗ اعلـــم بـالـصــواب
       
      خـادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمـد عـاقـب حسیـن رضـوی
       
      ✍🏻 پرانی تحریر ( مؤرخہ یکم محرم الحرام 1442ھ )
       
       



    • By Aquib Rizvi
      مسجد میں باتیں کرنے سے اعمال برباد
       
      یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے
       
      من تكلم بكلام الدنيا في المسجد أحبط الله أعماله أربعين سنة
      جو شخص مسجد میں دنیاوی باتیں کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے چالیس سال کے اعمال کو ضائع کر دے گا۔
       
      امام صغانی٬ امام ملا علی قاری٬ محدث أبو طاہر پٹنی٬ علامہ شوکانی اور عجلونی اور علامہ محمد بن خلیل الحنفی رحمہم اللہ تعالی ان ساروں نے اس روایت کو موضوع قرار دیا
       
      ( كتاب الموضوعات للصغاني ص39 )
      ( كتاب تذكرة الموضوعات للفتني ص36 )
      ( كتاب الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ص338 )
      ( كتاب الفوائد المجموعة ص24 )
      ( كتاب كشف الخفاء ت هنداوي 2/285 )
      ( كتاب اللؤلؤ المرصوع ص178 )
       
       
      اس روایت کو امام احمد رضا بریلوی رحمہ اللہ نے بھی فتویٰ رضویہ میں نقل کیا جو کہ ان کا تسامح ہے
      ( فتویٰ رضویہ 16/311 مسئلہ نمبر :- 149 )
       
      نثار احمد خان مصباحی صاحب نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے مفتی حسان عطاری صاحب کی کتاب " تحقیق المعتمد في رواية الكذاب ودرجات السند " کی تقریظ میں اصل کتاب کا اسکین ساتھ دے دیا جائے گا
       
      انہوں نے ثابت کیا کہ اس پر وضع کا قرینہ ظاہر ہے جس کی وجہ سے یہ روایت موضوع ہے ... اور صاحب کتاب مفتی حسان عطاری صاحب نے بھی موافقت کی کوئی تعاقب نہیں کیا
      ( تحقیق المعتمد ص32/34 )
       
      امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ وضع حدیث کے ایک قرینہ کا ذکر فرماتے ہیں
      وما به وعد عظيم او وعيد ... على حقير وصغيرة شديد
      یعنی جس میں کسی چھوٹے عمل پر عظیم بشارت ہو یا کسی چھوٹے گناہ پر شدید وعید
       
      کتاب کے محقق شیخ محمد بن علی بن آدم اثیوبی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
       
      وحاصل المعنى : أنه يعرف كون الحديث موضوعاً بالإفراط في الوعد العظيم على الفعل الحقير، والوعيد الشديد على الأمر الصغير، وهذا كثير في أحاديث القصاص
      خلاصہ کلام یہ کہ معلوم ہوا وہ حدیث موضوع ہوتی ہے جس میں حقیر ( چھوٹے ) عمل پر عظیم ( حد سے زیادہ ) بڑی وعد ( بشارت ) سنائی جائے اور اسی طرح چھوٹے ( گناہ ) پر شدید وعید سنائی جائے اور یہ قرینہ کثرت سے قصاص کی احادیث میں پایا جاتا ہے
      ( شرح ألفية السيوطي في الحديث ص293 )
       
       
      اب یہ بات ایک عام انسان بھی بتا دے گا کہ مسجد میں کلام کرنے سے چالیس سال کے اعمال برباد ہو جانا یہ یقیناً چھوٹے گناہ پر بہت بڑی وعید ہے جو کہ وضع کی دلیل ہے. اسی وجہ سے آئمہ حدیث نے اس روایت کو بالجزم موضوع کہا
       
      اسی طرح اس روایت پر وضع حدیث کا دوسرا قرینہ بھی ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ اس روایت کا وجود کتب احادیث میں نہیں ہے
       
      علم حدیث کا مشہور قاعدہ ہے کے ہر وہ حدیث جس کا وجود کتب احادیث میں نہ ہو حفاظ کے سینوں میں نہ ہو اور وہ ایسے زمانے میں ظاہر ہو جب تدوین حدیث مکمل ہوچکی ہے تو وہ روایت موضوع کہلائے گی
       
       
      امام ابن الجوزی م597ھ رحمہ اللہ تعالیٰ موضوع حدیث کے قرائن بیان فرماتے ہیں
       
      إذا رأيت الحديث يباين المعقول أو يخالف المنقول أو يناقض الأصول فاعلم أنه موضوع
      جب تم کسی حدیث کو دیکھو کہ وہ معقول کے خلاف ہے یا منقول سے ٹکراتی ہے یا اصول سے مناقص ہے تو جان لو کہ وہ موضوع ہے
       
      امام ابن الجوزی کے اس بیانیہ کو محدثین نے قبول فرمایا لیکن فی الوقت ہمارا تعلق امام ابن الجوزی کے بیان کردہ تیسرے قرینہ سے ہے اصول سے مناقص ہونے کا مطلب امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں
       
      ومعنى مناقضته للأصول: أن يكون خارجا، عن دواوين الإسلام من المسانيد والكتب المشهورة
      امام سیوطی فرماتے ہیں اور مناقص اصول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ روایت اسلام کی مشہور کتب احادیث و مسانید سے خارج ہو . ( یعنی ان کتب میں موجود نہ ہو )
       
      ( كتاب الموضوعات لابن الجوزي 1/106 )
      ( كتاب تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي 1/327 )
       
       
      امام نور الدین ابن عراق الکنانی م963ھ رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں
       
      ما ذكره الإمام فخر الدين الرازي أن يروي الخبر في زمن قد استقرئت فيه الأخبار ودونت فيفتش عنه فلا يوجد في صدور الرجال ولا في بطون الكتب
      امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ نے جس چیز کا ذکر کیا وہ یہ ہے کہ حدیث اس زمانے میں روایت کی جائے یا ذکر کی جائے جب احادیث کا استقراء کیا جا چکا ہے اور تفتیش کے باوجود نہ محدثین کے سینوں میں ملے اور نہ کتب احادیث میں ( تو ایسی روایت موضوع ہوتی ہے )
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة 1/7 )
       
      یہی اصول فی زمانہ بریلوی مکتبہ فکر ( اہلسنت و جماعت ) کے مشہور و معروف عالم مفتی محمد شریف الحق امجدی صاحب نے بھی بیان کیا ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں
       
      " اس روایت کے جھوٹے اور موضوع ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ کسی حدیث کی معتبر کتاب میں یہ روایت مذکور نہیں "
      ( فتویٰ شارح بخاری 1/307 )
       
      لہذا اس اصول سے بھی یہ روایت منگھڑت ثابت ہوتی ہے والحمدللہ
       
       
      خلاصہ کلام یہ کہ ہم نے محدثین کا کلام بھی اس روایت کے تحت پیش کیا کہ انہوں نے اس کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا اور ہم میں وضع حدیث کے دو قرائن پر بھی اس روایت کو موضوع ثابت کیا لہذا اس روایت کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حرام ہے
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 22 ذو الحجہ 1443ھ
    • By Aquib Rizvi
      آگ أنبیاء علیہم السلام کے ہاتھ سے چھوئی ہوئی چیز کو نہیں جلاتی روایت کی تحقیق
       
       
      امام خطیب البغدادی م463ھ رحمہ اللہ نے فرمایا
      وأخبرنا الحسن، قال: حدثنا عبد الرحمن، قال: حدثنا أبو عمير الأنسي بمصر، قال: حدثنا دينار مولى أنس، قال: صنع أنس لأصحابه طعاما فلما طعموا، قال: يا جارية هاتي المنديل، " فجاءت بمنديل درن، فقال اسجري التنور واطرحيه فيه، ففعلت فابيض، فسألناه عنه، فقال: إن هذا كان للنبي صلى الله عليه وسلم وإن النار لا تحرق شيئا مسته أيدي الأنبياء "
      ( كتاب تاريخ بغداد ت بشار 11/589 )
      دینار مولی انس بیان کرتا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام کے لیے کھانے کا انتظام فرمایا جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنی لونڈی کو آواز دے کر فرمایا رومال لے آؤ . وہ جب رومال لائی تو وہ میلا تھا حضرت انس بن مالک نے فرمایا تندور کو ہلکا کر کے اس رومال کو تندور میں ڈال دو جب رومال تندور سے باہر نکالا گیا تو وہ سفید ہو گیا تھا صحابہ کرام نے پوچھا یہ کیسے تو حضرت انس بن مالک نے فرمایا یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا رومال ہے اور انبیاء علیہم السلام جس چیز کو چھو لیں آگ اسے نہیں جلاتی
       
      یہ روایت موضوع ہے
       
      أبو مكيس دينار بن عبد الله الحبشي متھم بالوضع راوی ہے اور اس پر خاص جرح یہ بھی ہے کہ اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے 100 کے قریب موضوع روایات بیان کیں لہذا اس کی حضرت انس بن مالک سے روایت موضوع قرار دی جائے گی
      امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
      وقال الحاكم: روى، عَن أَنس قريبا من مِئَة حديث موضوعة
      اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تقریباً 100 موضوع روایات بیان کیں ہیں
      امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی امام حاکم کی موافقت کی چنانچہ فرماتے ہیں
      قال ابن حبان: يروي، عَن أَنس أشياء موضوعة
      یہ انس بن مالک سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( لسان الميزان :- 3077 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اندازاً فرمایا کہ
      أن يروي عنه عشرين ألفا كلها كذب
      اس نے تقریباً بیس ہزار روایتیں بیان کیں جو سب کی سب جھوٹ ہیں
      ( ميزان الاعتدال 2/31 )
       
      نیز سند میں " أبو عمير الأنسي " بھی مجہول ہے
       
      امام احمد بن علی المقریزی م845ھ رحمہ اللہ نے حافظ ابونعیم اصفہانی رحمہ اللہ کے طریق سے اس کو اپنی کتاب میں نقل کیا
      فخرج أبو نعيم من حديث محمد بن رميح، قال: حدثنا عبد الله بن محمد بن المغيرة، حدثنا أبو معمر عباد بن عبد الصمد، قال: أتينا أنس بن مالك نسلم عليه، فقال: يا جارية، هلمي المائدة نتغدى، فأتته بها فتغدينا، ثم قال: يا جارية هلمي المنديل، فأتته بمنديل وسخ، فقال: يا جارية أسجرى التنور، فأوقدته، فأمر بالمنديل، فطرح فيه، فخرج أبيض كأنه اللبن. فقلت: يا أبا حمزة! ما هذا؟ قال: هذا منديل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح به وجهه، وإذا اتسخ صنعنا به هكذا، لأن النار لا تأكل شيئا مر على وجوه الأنبياء- عليهم السلام
      عباد بن عبدالصمد کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ دسترخوان لے آؤ ہم دوپہر کا کھانا کھائیں گے چنانچہ وہ اسے لے کر آئی اور ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا پھر آپ نے فرمایا اے لونڈی رومال لے آؤ تو پھر وہ ایک گندا رومال لے کر آئی پھر آپ نے لونڈی سے کہا کہ تندور کو روشن کرو اسے روشن کیا گیا اور وہ رومال تندور میں ڈالنے کا حکم دیا وہ جیسے ہی تندور میں ڈالا گیا دودھ کی طرح سفید ہو گیا . میں نے کہا: اے ابو حمزہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ رومال ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ انور پونچھتے تھے ، اور جب یہ میلا ہو جاتا تو ہم ایسا ہی کرتے کیونکہ آگ اس شے پر اثر نہیں کرتی جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کے چہرہ مبارک پر سے گذری ہو
      ( كتاب إمتاع الأسماع 11/254 )
       
       
      یہ بھی موضوع ہے
       
      1 : محمد بن رميح العامري مجہول ہے
       
      2 : عبد الله بن محمد بن المغيرة متھم بالوضع راوی ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے
       
      امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ سفیان ثوری اور مالک بن مغول سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة 1/75 )
       
      امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ایسی روایتیں بیان کرتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی امام ابن یونس نے اس کو منکر الحدیث قرار دیا
      ( كتاب الزهر النضر في حال الخضر ص76 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو متروک قرار دیا اور اس کی مرویات کو نقل کرکے انہیں موضوع قرار دیا
      ( كتاب تاريخ الإسلام - ت تدمري 14/219 )
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/487 )
       
      3 : أبو معمر عباد بن عبد الصمد بھی متھم بالوضع راوی ہے
       
      امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ یہ سخت ضعیف راوی ہے امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ غالی شیعہ ہے
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو " واہ " قرار دیا اور یہ جرح متروک درجے کے راویان پر کی جاتی ہے
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/369 )
      ( فتح المغيث للسخاوي 2/128 )
       
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے نقل کیا کہ عباد بن عبدالصمد نے سیدنا انس بن مالک سے ایک پورا نسخہ روایت کیا جو کہ اکثر موضوع من گھڑت روایات پر مشتمل ہے
      ( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 4/393 )
       
      اس مکمل تحقیق کے بعد خلاصہ کلام یہ ہوا کہ یہ اثر اپنی دونوں اسناد کے ساتھ موضوع من گھڑت ہے اس کو بیان کرنا جائز نہیں
      اسی طرح ایک من گھڑت قصہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا نے روٹیاں لگائیں اور نبی علیہ السلام نے بھی ایک روٹی لگائی باقی روٹیاں پک گئیں لیکن نبی علیہ السلام نے جو روٹی لگائی وہ نہیں پکی وغیرہ وغیرہ اس قصہ کا وجود بھی کسی حدیث٬ تاریخ٬ سیرت کی معتبر کتاب میں نہیں اللہ جانے صاحب خطبات فقیر نے اس ہوا ہوائی قصہ کو کہاں سے نکل کر لیا اپنی خطبات فقیر جلد دوم صفحہ 92/93 پر
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 15 ذو الحجہ 1443ھ
       
       
    • By Aquib Rizvi
      عالم یا طالب علم کے کسی بستی سے گزرنے پر اللہ تعالیٰ اس بستی کے قبرستان سے چالیس دن تک کے لئے عذاب اٹھا لیتا ہے کی تحقیق
       
      یہ من گھڑت حدیث اکثر علماء اور طلباء کی فضیلت میں بیان کی جاتی ہے اس کے بارے میں آئمہ محدثین کا کلام درج ذیل ہے
       
      ❶ امام الفقہاء والمحدثین حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اس روایت کو بے اصل قرار دیا :
       
      حديث إن العالم والمتعلم إذا مرا على قرية فإن الله تعالى يرفع العذاب عن مقبرة تلك القرية أربعين يوما لا أصل له
      حدیث کہ جب عالم یا طالب علم کسی بستی گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بستی کے قبرستان پر سے چالیس دن تک کے لئے عذاب دور فرما دیتا ہے ( امام سیوطی فرماتے ہیں ) اس روایت کی کوئی اصل نہیں .
      ( تخريج أحاديث شرح العقائد للسعد التفتازاني :- 64 )
       
      ❷ سلطان المحدثین ملا علی قاری الحنفی رحمہ اللہ نے بھی اس بات کا اقرار کیا کہ اس روایت کی کوئی اصل نہیں .
      حديث إن العالم والمتعلم إذا مرا على قرية فإن الله تعالى يرفع العذاب عن مقبرة تلك القرية أربعين يوما قال الحافظ الجلال لا أصل له
      ( كتاب المصنوع في معرفة الحديث الموضوع :- 57 )
      ( كتاب الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة :- 80 )
      ( فرائد القلائد على أحاديث شرح العقائد ص64 )
       
      ❸ اس بات کا اقرار علامہ عجلونی اور مرعی کرمی اور محمد بن خليل الحنفي رحمہمُ اللہ نے بھی کیا کہ اس روایت کی کوئی اصل نہیں .
      ( كتاب كشف الخفاء ت هنداوي 1/251 )
      ( كتاب الفوائد الموضوعة في الأحاديث الموضوعة ص131 )
      ( كتاب اللؤلؤ المرصوع ص53 )
       
      ❹ امام ابن حجر المکی الہیتمی الشافعی رحمہ اللہ سے اس روایت کے بارے میں سوال کیا گیا :
      (وسئل) ذكر التفتازاني في شرح العقائد
      عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «إن العالم والمتعلم إذا مرا على قرية فإن الله يدفع العذاب عن مقبرة تلك القرية أربعين يوما» هل لهذا الحديث أصل وهل رواه أحد من أصحاب السنن أو لا؟
      اور سوال پوچھا گیا کہ علامہ سعد الدین تفتازانی نے شرح العقائد میں ذکر کیا
       کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب عالم یا طالب علم کسی بستی گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بستی کے قبرستان پر سے چالیس دن تک کے لئے عذاب ٹال دیتا ہے 
      کیا اس حدیث کی کوئی اصل موجود ہے ؟؟ اور کیا اصحاب کتب سنن میں سے کسی نے اسے روایت کیا ہے یا نہیں ؟؟
      (فأجاب) بقوله لم أر لهذا الحديث وجودا في كتب الحديث الجامعة المبسوطة ولا في غيرها ثم رأيت الكمال بن أبي شريف صاحب الإسعاد قال إن الحديث لا أصل له وهو موافق لما ذكرته.
      تو امام ابن حجر المکی رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ میں نے یہ حدیث کتب احادیث جامع المبسوطہ میں نہیں دیکھی اور نہ ہی کسی دوسری کی کتاب میں . پھر میں نے کمال الدین بن ابی شریف صاحب " الإسعاد بشرح الإرشاد " کو دیکھا تو انہوں نے فرمایا اس روایت کی کوئی اصل نہیں ( امام ہیتمی فرماتے ہیں ) یہ اس بات کے موافق ہے جو میں نے ذکر کی .
       
      اصول حدیث کا بڑا مشہور قاعدہ ہے کہ ہر وہ روایت جس کے بارے میں محدثین کرام فرمائے ( لا أصل له ) ( لم أقف عليه ) ( لم أجده ) ( لا أعرفه ) اور کوئی دوسرا ناقد حدیث ان محدثین کا تعاقب نہ کرے تو اس روایت کی نفی کی جائے گی وہ روایت موضوع اور بے اصل قرار دی جائے گی ملاحظہ ہو
       
      امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ اپنی اصول حدیث کی کتاب التدریب الراوی میں نقل کرتے ہیں
      إذ قال الحافظ المطلع الناقد في حديث: لا أعرفه، اعتمد ذلك في نفيه، كما ذكر شيخ الإسلام
      جب حافظ باخبر ناقد کسی حدیث کے بارے میں کہے ( لا أعرفه ٬ لا أصل له ٬ لم اقف عليه) وغیرہ وغیرہ تو اس کی نفی پر اعتماد کیا جائے گا جیسا کہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے ذکر کیا
      پھر خود آگے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
      وأما بعد التدوين والرجوع إلى الكتب المصنفة، فيبعد عدم الإطلاع من الحافظ الجهبذ على ما يورده غيره، فالظاهر عدمه.
      مگر تدوین حدیث کے بعد اور کتب مصنفہ کی مراجعت کے بعد کسی ناقد حافظ کا کسی ذکر کردہ روایت پر مطلع نہ ہونا بعید ہے پس ظاہر یہی ہے کہ اس روایت کا وجود نہیں ہے .
      ( كتاب تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي 1/349 )
       
      ہم اوپر محدثین کا کلام اس روایت کے تحت نقل کر آئے جنہوں نے اس روایت پر یہی کلام کیا ہے . ( لا أصل له )
      اور کسی دوسرے محدث نے کسی محدث کے کلام پر تعاقب نہیں کیا لہذا اس اصول کی روشنی میں یہ روایت بے اصل و باطل ہے اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حرام ہے
       
      امام اسماعیل بن محمد العجلونی نے اس روایت کے ضمن میں اس مفہوم کی ایک ملتی جلتی روایت کا ذکر کیا جس کو امام ثعلبی نے اپنی تفسیر میں باسند نقل کیا سوچا کہ اس کی بھی تحقیق آپ حضرات کے پیش نظر کی جائے
       
      امام احمد بن ابراہیم الثعلبی م427ھ رحمہ اللہ نے فرمایا
      وأخبرنا أبو الحسن محمد بن القاسم بن أحمد قال: أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن أيوب قال: نا أبو عبد الله محمد بن صاحب قال: نا المأمون بن أحمد قال: نا أحمد بن عبد الله قال: نا أبو معاوية الضرير، عن أبي مالك الأشجعي، عن ربعي ابن حراش، عن حذيفة بن اليمان - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "إن القوم ليبعث الله عز وجل عليهم العذاب حتما مقضيا، فيقرأ صبي من صبيانهم في الكتاب: {الحمد لله رب العالمين}، فيسمعه الله عز وجل ويرفع عنهم بذلك العذاب أربعين سنة"
      حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا خدائے بزرگ و برتر نے جن لوگوں کو پیدا فرمایا ہے ان پر عذاب یقیناً مقرر ہوگا . لیکن جب ان لوگوں کے بچوں میں سے ایک بچہ کلام پاک میں پڑھتا ہے {الحمد لله رب العالمين} اللہ عزوجل اسے سماعت فرماتا ہے اور پھر اس قوم کو چالیس سال تک کے لیے عذاب سے نجات عطا فرماتا ہے
      ( كتاب تفسير الثعلبي 2/267 :- 143 )
      حالانکہ اس روایت کا اس روایت سے دور دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں اس روایت میں عالم اور طالب علم کی فضیلت مذکور تھی جبکہ یہاں قرآن پاک پڑھنے کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے اور امام ثعلبی اس روایت کو لائے بھی سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں ہیں لیکن بہرحال پھر بھی ہم اس کی تحقیق پیش کرتے ہیں کہ یہ روایت بھی موضوع منگھڑت ہے .
       
      جلیل القدر آئمہ محدثین کا کلام اس روایت کے تحت
       
      ❶ امام الفقہاء والمحدثین امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اس کو من گھڑت قرار دیا چنانچہ فرماتے ہیں :
      أخرجه الثعلبي في " تفسيره "، وهو موضوع قال الشيخ ولي الدين العراقي: في سنده أحمد بن عبد الله الجويباري ومأمون بن أحمد الهروي، كذابان، وهو من وضع أحدهما
      اس روایت کو امام ثعلبی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا اور یہ موضوع ہے امام شیخ ولی الدین عراقی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی سند میں احمد بن عبداللہ الجویباری اور مامون بن احمد الھروی ہیں اور یہ دونوں کذاب ہیں اور اس روایت کو ان دونوں میں سے کسی ایک نے گڑھا ہے
      ( كتاب نواهد الأبكار وشوارد الأفكار 1/253 )
       
      ❷ علامہ عبدالرؤف مناوی رحمہ اللہ نے بھی اس کو موضوع قرار دیا
      أخرجه الثعلبي في تفسيره وهو موضوع
      ( كتاب الفتح السماوي 1/119 )
       
      جیسا کہ امام ولی الدین عراقی نے اس روایت کے موضوع من گھڑت ہونے کی وجہ بتا دی کہ اس کی سند میں دو کذاب احادیث گھڑنے والے راوی ہیں
       
      ➀ أحمد بن عبد الله الجويباري 
      یہ وہ لعنتی شخص ہے جس نے نبی ﷺ پر ایک ہزار سے زائد احادیث کو گڑھا ہے .
       
      ◉ امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے کہا جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ گھڑنے میں اس کی مثال دی جاتی ہے
      [ ميزان الاعتدال 1/107 ]
      ◉ امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ امام بیہقی رحمہما اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس نے نبی ﷺ پر ایک ہزار سے زیادہ احادیث گڑھی ہیں
      [ لسان الميزان 1/194 ] 
      ◉ امام ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ گڑھتا ہے اس کی روایت ترک کردی جائیں اور یہ ان میں سے ایک ہے جو روایات گڑھتے ہیں
      [ المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم الأصفهاني 1/60 ]
      ◉ امام دارقطنی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں یہ جھوٹا ہے دجال ہے خبیث ہے یہ حدیث گڑھنے والا ہے اس کی روایت نہ لکھی جائے اور نہ انہیں بیان کیا جائے
      [ موسوعة أقوال الدارقطني ص69 ]
      ◉ امام ابن حجر عسقلانی صاحب مستدرک امام حاکم رحمہما اللہ تعالیٰ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا یہ خبیث اور کذاب ہے اس نے کثیر روایات کو فضائل اعمال میں گڑھا ہے
      [ لسان المیزان 1/194 ]
      ◉ امام ابو حاتم بن حبان رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں یہ دجال ہے اس کا ذکر کتابوں میں نہ کیا جائے
      [ المجروحين لابن حبان 1/154 ]
      ◉ خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ان مشہور راویوں میں سے ایک ہے جو احادیث گھڑتے ہیں 
      [ الزيادات على الموضوعات 1/124 ]
      ◉ امام نسائی اور ابو الحسن بن سفیان اور امام ابن عدی رحمہمُ اللہ تعالی علیہم اجمعین نے اسے جھوٹا اور روایات گھڑنے والا کہا
      [ لسان الميزان 1/193 ]
      [ ميزان الاعتدال 1/106 ]
       
      ➁ مأمون بن أحمد الهروي
      یہ شخص بھی دجال احادیث گھڑنے والا ہے .
       
      ◉ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کے حوالے سے فرمایا کہ یہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے اور یہ ایسے لوگوں سے روایت کرتا ہے جنہیں اس نے دیکھا تک نہیں اور یہ ثقہ راویوں پر احادیث گھڑتا ہے .
      ( كتاب المجروحين لابن حبان ت حمدي 2/383 )
      ◉ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نہ ہی اس کا کوئی دین ہے اور نہ ہی اس میں کوئی خیر والی بات ہے بلکہ یہ احادیث گھڑنے والا ہے
      ( كتاب الموضوعات لابن الجوزي 2/48 )
      ◉ حجۃ اللہ فی الارضین شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فرمایا یہ کذاب راویوں میں سے ایک ہے
      ( كتاب الدراية في تخريج أحاديث الهداية 1/152 )
      ◉ امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ نے فرمایا یہ کذاب خبیث احادیث گھڑنے والا راوی ہے
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة 1/98 )
      ◉ امام ابن حجر عسقلانی نقل کرتے ہیں کہ امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے اس کی مرویات کو نقل کرکے فرمایا کہ جسے اللہ تعالی نے زرہ برابر بھی علم سے نوازا ہے وہ اس کی مرویات کو دیکھ کر یہ گواہی دے گا کہ یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام پر جھوٹ اور افتراء ہیں
      ( كتاب لسان الميزان 5/8 )
      ◉ اسی طرح امام ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا یہ کذاب خبیث احادیث گھڑنے والا راوی ہے اور یہ ثقہ راویوں سے جھوٹی روایات بیان کرتا ہے
      ( كتاب لسان الميزان 5/8 )
      ◉ امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو کذاب قرار دیا
      ( كتاب تنقيح التحقيق للذهبي 1/137 )
      ◉ امام ابو عبد اللہ الجوزقانی رحمہ اللہ نے اس کو کذاب خبیث احادیث گھڑنے والا قرار دیا
      ( كتاب الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير 1/445 )
      ◉ امام ابن قیسرانی رحمہ اللہ نے اس کو دجال احادیث گھڑنے والا قرار دیا
      ( كتاب معرفة التذكرة ص214 )
       
       
      اس تمام تفصیل سے معلوم ہوا کہ مذکورہ تفسیر ثعلبی کی روایت بھی بلاشک و شبہ موضوع منگھڑت ہے اس کی نسبت بھی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف کرنا حرام ہے
       
       
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی اس روایت کا ایک شاہد کا ذکر کرتے ہیں " الكاف الشاف في تخريج أحاديث الكشاف ص3 " پر جو کہ مسند الدارمی میں ضعیف سند سے منقول ہے .
       
      حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا رِفْدَةُ الْغَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: " كَانَ يُقَالُ: إِنَّ اللَّهَ لَيُرِيدُ الْعَذَابَ بِأَهْلِ الْأَرْضِ، فَإِذَا سَمِعَ تَعْلِيمَ الصِّبْيَانِ الْحِكْمَةَ، صَرَفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ " قَالَ مَرْوَانُ: يَعْنِي بِالْحِكْمَةِ: الْقُرْآنَ
       
      ( كتاب مسند الدارمي - ت حسين أسد :- 3388 إسناده ضعيف لضعف رفدة بن قضاعة وهو موقوف على ثابث )
       
      ( كتاب مسند الشاميين للطبراني 3/293 :- ھو ضعيف أيضاً كما ذكر السابق )
       
      ثابت بن عجلان انصاری نے کہا: یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ زمین کو عذاب کا ارادہ کرتا ہے لیکن جب بچوں کو حکمت کی تعلیم لیتے سنتا ہے تو ارادہ بدل دیتا ہے۔ مروان نے کہا: حکمت سے مراد قرآن کی تعلیم ہے۔
       
       
      یہ ایک ضعیف قول ہے اور حضرت ثابت بن عجلان کا قول ہے اور اگر یہ ثابت بن عجلان ( ثابت بن عجلان حمصي أبو عبد الله الْأنصاري السلمي ) ہیں تو بقول ابو نصر احمد بن محمد کلاباذی یہ تابعی ہیں اور روایت حدیث مقطوع ہے اس کو بطور فضیلت بیان کیا جا سکتا ہے ۔ 
       
      ( الهداية المعروف برجال صحيح البخاري ص131 )
       
      لیکن گزشتہ دو روایتوں کو نبی علیہ السلام کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا حرام ہے کیونکہ وہ دونوں موضوع من گھڑت ہیں جیسا کہ ہم ثابت کر آئے .
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 14 ذو الحجہ 1443ھ 
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
    • By Aquib Rizvi
      امام ابوالقاسم طبرانی م360ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      حدثنا بكر بن سهل، ثنا عبد الله بن يوسف، ثنا الهيثم بن حميد، عن رجل، عن مكحول، عن أبي أمامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «اتقوا البول، فإنه أول ما يحاسب به العبد في القبر»
       
      ( كتاب المعجم الكبير للطبراني :- 7605 )
       
      ترجمہ :- نبی علیہ السلام نے فرمایا پیشاب ( کی چھینٹوں ) سے بچو کیونکہ قبر میں سب سے پہلے اس کے بارے میں حساب لیا جائے گا
       
      اس سند میں امام مکحول سے روایت کرنے والا شخص مبھم ہے اور مبہم راوی کو پہچاننے کا طریقہ اصول حدیث کی کتاب تیسیر شرح مصطلح الحدیث میں یہ لکھا ہے 
       
      بوروده مسمى في بعض الروايات الأخرى
       
      یعنی دوسری روایات میں اس کے نام کا ذکر ہوا ہو
       
      ( كتاب تيسير مصطلح الحديث ص260 )
       
       
      اسی روایت کو امام طبرانی دوسری سند سے لائیں ہیں اور وہاں مکحول سے روایت کرنے والے راوی کا نام موجود ہے ملاحظہ ہو
       
      حدثنا محمد بن عبد الله بن بكر السراج، ثنا إسماعيل بن إبراهيم، ثنا أيوب، عن مكحول، عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اتقوا البول، فإنه أول ما يحاسب به العبد في القبر»
       
      ( كتاب المعجم الكبير للطبراني :- 7607 )
       
       
      بلکل وہی روایت ہے ایک لفظ کا بھی فرق نہیں اور راوی کا نام بھی واضح ہے *" أيوب بن مدرك الحنفي "* یہ راوی متھم بالکذب و وضع ہے مگر اس پر خاص جرح بھی ہے کہ اس کی امام مکحول شامی رحمہ اللہ سے روایات موضوع ہوتی ہیں
       
      اس راوی کو امام نسائی امام دارقطنی امام ابو حاتم رازی امام يحيى بن بطريق الطرسوسي رحمہمُ اللہ نے متروک الحدیث قرار دیا
       
      اور اسی راوی کو امام ابن معین رحمہ اللہ نے کذاب قرار دیا
       
      ( لسان الميزان :- 1382 )
       
       
      امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      يروي المناكير عن المشاهير ويدعي شيوخا لم يرهم ويزعم أنه سمع منهم، روى عن مكحول نسخة موضوعة ولم يره
       
      یہ مشہور راویوں سے منکر ( بمعنی باطل ) روایتیں بیان کرتا ہے اور ایسے شیوخ ( الحدیث ) سے احادیث سننے کا ( جھوٹا ) دعویٰ کرتا ہے جنہیں اس نے نہیں دیکھا اس نے امام مکحول شامی رحمہ اللہ سے من گھڑت روایات کا نسخہ روایت کیا حالانکہ اس نے امام مکحول کو نہیں دیکھا
       
      ( كتاب المجروحين لابن حبان ت حمدي :- 99 )
       
       
      لہذا ثابت ہوا یہ روایت موضوع ہے اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حلال نہیں
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین
       
×
×
  • Create New...