Jump to content
IslamiMehfil

سیدنا حضرت ابو بکر کا ایمان(یقین) امت سے بڑھ کے ہے


Recommended Posts

*حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایمان(یقین) امت سے بڑھ کے ہے*


مختلف الفاظ کے ساتھ یہ حدیث موجود ہے کہیں جمیع المومنین کے الفاظ ہیں تو کہیں العالمین کے ہیں اور کہیں الناس کے ہیں کہیں اھل العرض کے الفاظ ہیں۔

یہ روایت معناََ صحیح ہے۔

لو وضع إيمان أبي بكر على إيمان هذه الأمة لرجح بها۔

ترجمہ: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایمان امت سے بڑھ کے ہے،


 اس کے شواھد و مطابعت موجود ہیں جس کی وجہ سے یہ حدیث درجہ حسن کی ہے بلک اس سے اوپر تک جا سکتی ہے۔ 

اور اسی مفہوم(مطابعت و شواھد) کی ایک موقوف روایت شعب الایمان میں موجود ہے سند کے ساتھ۔

35: أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، حدثنا محمد بن عيسى بن السكن، حدثنا موسى بن عمران، حدثنا ابن المبارك، عن ابن شوذب، عن محمد بن جحادة، عن سلمة بن كهيل، عن هزيل بن شرحبيل قال: قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: " لو وزن إيمان أبي بكر بإيمان أهل الأرض لرجح بهم "

*شعب الایمان 1/143* 
*مسند اسحاق بن راہویہ۔ نوادر الاصول فضائل الصحابہ*

ترجمہ:سیدنا عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ: اگر ابوبکررضی اللہ عنہ کے ایمان کو اہل زمین کے ایمان سے وزن کیا جائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایمان بھاری ہوجائے گا۔۔

2286: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ الحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ، وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ ، ثُمَّ رُفِعَ المِيزَانُ ، فَرَأَيْنَا الكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ۔
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا، آپ اور ابوبکر تولے گئے تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، ابوبکر اور عمر تولے گئے، تو ابوبکر بھاری نکلے، عمر اور عثمان تولے گئے تو عمر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے.

تخریج: 

أبو داود في سننه باب باب في الخلفاء۔
 حديث رقم 4080

أحمد في المسند باب حديث أبي بكرة نفيع بن الحارث بن كلدة۔ حديث رقم 20031

أحمد في المسند باب حديث أبي بكرة نفيع بن الحارث بن كلدة۔
حديث رقم 20082

أحمد في المسند باب حديث أبي بكرة نفيع بن الحارث بن كلدة۔
 حديث رقم 20084

الحاكم في المستدرك باب أما حديث ضمرة وأبو طلحة۔
 حديث رقم 4411

الحاكم في المستدرك باب وأما حديث شرحبيل بن أوس۔
 حديث رقم 8304

النسائي في الكبرى باب مناقب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من المهاجرين والأنصار۔
حديث رقم 6909

الطيالسي في مسنده باب أبو بكرة۔
حديث رقم 897

ابن أبي شيبة في مصنفه باب ما قالوا فيما يخبره النبي صلى الله عليه وسلم من الرؤيا۔
 حديث رقم 29887

ابن أبي شيبة في مصنفه باب ما ذكر في أبي بكر الصديق رضي الله عنہ۔
 حديث رقم 31339

أحمد في فضائل الصحابة باب وهذه الأحاديث من حديث أبي بكر بن مالك عن شيوخه۔
 حديث رقم 182

أحمد في فضائل الصحابة باب ومن فضائل عمر بن الخطاب من حديث أبي بكر بن مالك۔
 حديث رقم 549

البزار في مسنده باب بقية حديث أبي بكرة۔
حديث رقم 3084

الطحاوي في مشكل الآثار باب باب بيان مشكل ما روي عن رسول الله صلى الله عليه۔ حديث رقم 283

الحکم الحدیث: حسن۔

(طالب دعا محمد عمران علی حیدری)

 

  • Thanks 1
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Hasan Raza Hanfi
      دیوبندی عقیدہ امکان کذبِ باری تعالی کا رد ائمہ سلف کے قلم سے امتناعِ کذب باری تعالی کے دلائل آئمہ سلف سے 
      ازقلم:حسن رضا حنفی 
      دیوبندیوں کا عقیدہ ہے کے اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے دیوبندیوں کے غوث اعظم مولوی رشید گنگوہی صاحب لکھتے ہیں
      الحاصل امکان کذب سے مراد دخول کذب تحت قدرت باری تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ وعید فرمایا ہے اس کے خلاف پر قادر ہے اگرچہ وقوع اس کا نہ ہو امکان کو وقوع لازم نہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شے ممکن بالذات ہو اور کسی وجہ خارجی سے اس کو استحالہ لاحق ہوا ہو
      (تالیفاتِ رشیدیہ ص 98)
      اس عبارت سے معلوم ہوا کہ رشید احمد گنگوہی دیوبندی امکانِ کذبِ باری تعالیٰ کا عقیدہ رکھتے تھے امکان کہتے ہیں ممکن ہونا اور کذب جھوٹ کوکہتے ہیں یعنی دیوبندیوں کے نزدیک اس بات کا امکان ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے معاذاللہ 
      محترم قارئین دیوبندیوں کا باطل عقیدہ ملاحظہ کرنے کے بعد اب اس عقیدے کا رد آئمہ اہلسنّت سے ملاحظہ فرمائیں 
      تفسیر مدارک میں دیوبندیوں کے باطل عقیدے کا رد 
      صاحب تفسیر مدارک لکھتے ہیں 
      {ومن أصدق من الله حديثا} تمييز وهو استفهام بمعنى النفي أي لا أحد أصدق منه في إخباره ووعده ووعيده لاستحالة الكذب عليه لقبحه لكونه إخبارا عن الشئ بخلاف ما هو عليه
      یعنی اللہ تعالیٰ سے کوئی شخص نہ خبر و وعدہ میں سچا ہے اور نہ ہی وعید میں کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کذب محال ہے 
      (تفسیر نسفی ص 334)
      علامہ فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں 
      فاذا جوز عليه الخلف فقد جوز الكذب على الله وهذا خطاء عظيم بل يقرب من ان يكون كفراً
      جب اللہ تعالی پر خلف جائز رکھا گیا تو اس پر کذب جائز رکھا گیا اور یہ عظیم خطا ہے بلکہ کفر کے قریب ہے 
      (تفسیر کبیر جلد 9۔10 صفحہ 226)
      امام بیضاوی رحمہ اللہ فرماتے فرماتے ہیں 
      قال البيضاوي إنكار أن يكون أحد أكثر صدقا منه، فإنه لا يتطرق الكذب إلى خبره بوجه لأنه نقص، وهو على الله محال
      اللہ تعالی اس آیت میں انکار فرماتا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالی سے زیادہ سچا ہو کیوں نکہ اس کی خبر میں کذب  راستہ نہیں پاسکتا اس لیے کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے 
      (حاشية العلوي على تفسير البيضاوي ص 169)
      علامہ اسماعیل حقی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں 
      لا يتطرق الكذب الى خبره بوجه لانه نقص وهو على الله محال
      کذب اللہ تعالیٰ کی خبر کی طرف راستہ نہیں پاسکتا اس لیے کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے
      (تفسیر روح البیان صفحہ 296)
      محترم قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں کہ اہلسنّت کا اس پر اجماع ہے کہ امکانِ کذب باری تعالی اللہ تعالیٰ کے لیے نقص اور عیب ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے محال ہے
      اللہ تعالیٰ حق بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
    • By Hasan Raza Hanfi
      دیوبندی عقیدہ امکان کذبِ باری تعالی کا رد ائمہ سلف کے قلم سے امتناعِ کذب باری تعالی کے دلائل آئمہ سلف سے 
      ازقلم:حسن رضا حنفی 
      دیوبندیوں کا عقیدہ ہے کے اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے دیوبندیوں کے غوث اعظم مولوی رشید گنگوہی صاحب لکھتے ہیں
      الحاصل امکان کذب سے مراد دخول کذب تحت قدرت باری تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ وعید فرمایا ہے اس کے خلاف پر قادر ہے اگرچہ وقوع اس کا نہ ہو امکان کو وقوع لازم نہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شے ممکن بالذات ہو اور کسی وجہ خارجی سے اس کو استحالہ لاحق ہوا ہو
      (تالیفاتِ رشیدیہ ص 98)
      اس عبارت سے معلوم ہوا کہ رشید احمد گنگوہی دیوبندی امکانِ کذبِ باری تعالیٰ کا عقیدہ رکھتے تھے امکان کہتے ہیں ممکن ہونا اور کذب جھوٹ کوکہتے ہیں یعنی دیوبندیوں کے نزدیک اس بات کا امکان ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے معاذاللہ 
      محترم قارئین دیوبندیوں کا باطل عقیدہ ملاحظہ کرنے کے بعد اب اس عقیدے کا رد آئمہ اہلسنّت سے ملاحظہ فرمائیں 
      تفسیر مدارک میں دیوبندیوں کے باطل عقیدے کا رد 
      صاحب تفسیر مدارک لکھتے ہیں 
      {ومن أصدق من الله حديثا} تمييز وهو استفهام بمعنى النفي أي لا أحد أصدق منه في إخباره ووعده ووعيده لاستحالة الكذب عليه لقبحه لكونه إخبارا عن الشئ بخلاف ما هو عليه
      یعنی اللہ تعالیٰ سے کوئی شخص نہ خبر و وعدہ میں سچا ہے اور نہ ہی وعید میں کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کذب محال ہے 
      (تفسیر نسفی ص 334)
      علامہ فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں 
      فاذا جوز عليه الخلف فقد جوز الكذب على الله وهذا خطاء عظيم بل يقرب من ان يكون كفراً
      جب اللہ تعالی پر خلف جائز رکھا گیا تو اس پر کذب جائز رکھا گیا اور یہ عظیم خطا ہے بلکہ کفر کے قریب ہے 
      (تفسیر کبیر جلد 9۔10 صفحہ 226)
      امام بیضاوی رحمہ اللہ فرماتے فرماتے ہیں 
      قال البيضاوي إنكار أن يكون أحد أكثر صدقا منه، فإنه لا يتطرق الكذب إلى خبره بوجه لأنه نقص، وهو على الله محال
      اللہ تعالی اس آیت میں انکار فرماتا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالی سے زیادہ سچا ہو کیوں نکہ اس کی خبر میں کذب  راستہ نہیں پاسکتا اس لیے کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے 
      (حاشية العلوي على تفسير البيضاوي ص 169)
      علامہ اسماعیل حقی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں 
      لا يتطرق الكذب الى خبره بوجه لانه نقص وهو على الله محال
      کذب اللہ تعالیٰ کی خبر کی طرف راستہ نہیں پاسکتا اس لیے کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے
      (تفسیر روح البیان صفحہ 296)
      محترم قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں کہ اہلسنّت کا اس پر اجماع ہے کہ امکانِ کذب باری تعالی اللہ تعالیٰ کے لیے نقص اور عیب ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے محال ہے
      اللہ تعالیٰ حق بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین





    • By Aquib Rizvi
      ایکــ عـورت اپنـے سـاتـھ چـار لـوگـوں کـو جہنـم میـں لـے کـر جـائـے گــی
       
      یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی جاتی ہے
       
      إذا دخلت امرأة إلى النار أدخلت معها أربعة، أباها وأخاها وزوجها وولدها
      جب عورت جہنم میں داخل ہوگی تو اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم میں لے کر جائے گی اپنے باپ کو اپنے بھائی کو اپنے شوہر کو اور اپنے بیٹے کو
       
      اسی طرح
       
      أربعة يُسألون عن حجاب المرأة: أبوها، وأخوها، وزوجها، وابنها
      چار لوگوں سے عورت کے حجاب کے متعلق سوال کیا جائے گا اس کے باپ سے اس کے بھائی سے اس کے شوہر سے اور اس کے بیٹے سے
      [ موضوع ]
       
      اس روایت کا کسی بھی معتبر یا مستند کتاب میں وجود نہیں یہی اس کے موضوع من گھڑت ہونے کے لئے کافی تھا مگر یہ نص قطعی اور صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      یہ روایت نص قطعی اور شریعت کے اس اصول کے خلاف ہے کہ کوئی شخص دوسروں کے گناہوں کے عوض جہنم میں داخل ہو
       
      وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْـهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۚ
      اور جو شخص کوئی گناہ کرے گا تو وہ اسی کے ذمہ ہے، اور ایک شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ( سورۃ الانعام :- 164 )
       
      اسی طرح فرمان رسول ﷺ بھی ہے
       
                سنن ابن ماجه حدیث :- 2669
               
      حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو الاحوص ، عن شبيب بن غرقدة ، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص ، عن ابيه ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع:" الا لا يجني جان إلا على نفسه، لا يجني والد على ولده ولا مولود على والده"
      عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، (یعنی جو قصور کرے گا وہ اپنی ذات ہی پر کرے گا اور اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا) باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ“
      [ صحیح ]
       
      مذکور روایت کی تردید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویاں کافرہ تھی تو کیا ان کی وجہ سے نوح اور لوط علیہما السلام کو گناہ ملے گا ؟ نعوذ باللہ
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
                           متفقـہ اصــول
                           
      آئمہ اور محدثین کا یہ متفقہ اصول ہے کہ جو بھی روایت اصول شریعت یا نص قطعی کے خلاف ہو اور تاویل کی گنجائش نہ ہو تو وہ موضوع ہے
       
      ① شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں
       
      ومِنها ما يُؤخَذُ مِن حالِ المروي كأنْ يكون مناقضاً لنصِّ القرآن أَو السُّنَّةِ المُتواتِرَةِ أَو الإِجماعِ القطعيِّ أَو صريحِ العَقْلِ حيثُ لا يَقْبلُ شيءٌ مِن ذلك التأويلَ
      موضوع حدیث کو اس کی حالت سے بھی پہچان لیا جاتا ہے جیسا کہ وہ قرآن کی نص یا سنت متواترہ یا اجماع قطعی یا صریح عقل کے اس طور پر خلاف ہو کہ وہ تاویل کو بلکل قبول نہ کرے
      [ نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر ص66 ]
       
       
      ② خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں
       
      أَنَّ مِنْ جُمْلَةِ دَلَائِلِ الْوَضْعِ أَنْ يَكُونَ مُخَالِفًا لِلْعَقْلِ بِحَيْثُ لَا يَقْبَلُ التَّأْوِيلَ وَيَلْتَحِقَ بِهِ مَا يَدْفَعُهُ الْحِسُّ وَالْمُشَاهَدَةُ أَوْ يَكُونُ مُنَافِيًا لِدَلَالَةِ الْكِتَابِ الْقَطْعِيَّةِ أَوِالسُّنَّةِ الْمُتَوَاتِرَةِ أَوِ الْإِجْمَاعِ الْقَطْعِيِّ أَمَّا الْمُعَارَضَةُ مَعَ إِمْكَانِ الْجَمْعِ فَلَا
      حدیث کے موضوع ہونے کے دلائل میں سے یہ بات شامل ہے کہ یہ عقل کے اس طرح خلاف ہو کہ اس کی توجیہ ممکن ہی نہ ہو اسی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ حدیث میں کوئی ایسی بات کہی گئی ہو جو حس و مشاہدے کے خلاف ہو اسی طرح حدیث اگر قرآن مجید کی قطعی دلالت یا سنت متواترہ یا اجماع قطعی کے منافی ہو تو وہ بھی موضوع حدیث ہو گی اور اگر تضاد کو دور کرنا ممکن ہو تو پھر ایسا نہ ہوگا
      [ تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي 3/204 ]
       
       
      یہی بات امام احمد رضا خان فاضل بریلی رحمہ اللہ نے بھی فرمائی 
      [ فتویٰ رضویہ 5/460 ]
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
                        خــلاصــــہ کـــــلام
                        
      اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچانا ہر انسان پر واجب ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
      يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا قُـوٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا
      اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ سے بچاؤ ( سورۃ تحریم :- 6 )
       
       
      نبی ﷺ کا بھی فرمان عالیشان ہے
       
                  سنن ابی داؤد حدیث :- 495 
              
      حدثنا مؤمل بن هشام يعني اليشكري، حدثنا إسماعيل، عن سوار ابي حمزة، قال ابو داود: وهو سوار بن داود ابو حمزة المزني الصيرفي، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" مروا اولادكم بالصلاة وهم ابناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم ابناء عشر سنين، وفرقوا بينهم في المضاجع"
      عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو“
      [ صحیح ]
      لہذا اہل وعیال کو جہنم سے بچانے کے لئے اور شریعت کا پابند بنانے کے لیے بے اصل اور باطل روایات بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں نص قطعی اور احادیث صحیحہ موجود ہے 
       
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
      فقـــــط واللہ ورسولــــــہٗ اعلـــم بـالـصــواب
       
      خـادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمـد عـاقـب حسیـن رضـوی
       
      ✍🏻 پرانی تحریر ( مؤرخہ یکم محرم الحرام 1442ھ )
       
       



    • By Aquib Rizvi
      مسجد میں باتیں کرنے سے اعمال برباد
       
      یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے
       
      من تكلم بكلام الدنيا في المسجد أحبط الله أعماله أربعين سنة
      جو شخص مسجد میں دنیاوی باتیں کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے چالیس سال کے اعمال کو ضائع کر دے گا۔
       
      امام صغانی٬ امام ملا علی قاری٬ محدث أبو طاہر پٹنی٬ علامہ شوکانی اور عجلونی اور علامہ محمد بن خلیل الحنفی رحمہم اللہ تعالی ان ساروں نے اس روایت کو موضوع قرار دیا
       
      ( كتاب الموضوعات للصغاني ص39 )
      ( كتاب تذكرة الموضوعات للفتني ص36 )
      ( كتاب الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ص338 )
      ( كتاب الفوائد المجموعة ص24 )
      ( كتاب كشف الخفاء ت هنداوي 2/285 )
      ( كتاب اللؤلؤ المرصوع ص178 )
       
       
      اس روایت کو امام احمد رضا بریلوی رحمہ اللہ نے بھی فتویٰ رضویہ میں نقل کیا جو کہ ان کا تسامح ہے
      ( فتویٰ رضویہ 16/311 مسئلہ نمبر :- 149 )
       
      نثار احمد خان مصباحی صاحب نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے مفتی حسان عطاری صاحب کی کتاب " تحقیق المعتمد في رواية الكذاب ودرجات السند " کی تقریظ میں اصل کتاب کا اسکین ساتھ دے دیا جائے گا
       
      انہوں نے ثابت کیا کہ اس پر وضع کا قرینہ ظاہر ہے جس کی وجہ سے یہ روایت موضوع ہے ... اور صاحب کتاب مفتی حسان عطاری صاحب نے بھی موافقت کی کوئی تعاقب نہیں کیا
      ( تحقیق المعتمد ص32/34 )
       
      امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ وضع حدیث کے ایک قرینہ کا ذکر فرماتے ہیں
      وما به وعد عظيم او وعيد ... على حقير وصغيرة شديد
      یعنی جس میں کسی چھوٹے عمل پر عظیم بشارت ہو یا کسی چھوٹے گناہ پر شدید وعید
       
      کتاب کے محقق شیخ محمد بن علی بن آدم اثیوبی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
       
      وحاصل المعنى : أنه يعرف كون الحديث موضوعاً بالإفراط في الوعد العظيم على الفعل الحقير، والوعيد الشديد على الأمر الصغير، وهذا كثير في أحاديث القصاص
      خلاصہ کلام یہ کہ معلوم ہوا وہ حدیث موضوع ہوتی ہے جس میں حقیر ( چھوٹے ) عمل پر عظیم ( حد سے زیادہ ) بڑی وعد ( بشارت ) سنائی جائے اور اسی طرح چھوٹے ( گناہ ) پر شدید وعید سنائی جائے اور یہ قرینہ کثرت سے قصاص کی احادیث میں پایا جاتا ہے
      ( شرح ألفية السيوطي في الحديث ص293 )
       
       
      اب یہ بات ایک عام انسان بھی بتا دے گا کہ مسجد میں کلام کرنے سے چالیس سال کے اعمال برباد ہو جانا یہ یقیناً چھوٹے گناہ پر بہت بڑی وعید ہے جو کہ وضع کی دلیل ہے. اسی وجہ سے آئمہ حدیث نے اس روایت کو بالجزم موضوع کہا
       
      اسی طرح اس روایت پر وضع حدیث کا دوسرا قرینہ بھی ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ اس روایت کا وجود کتب احادیث میں نہیں ہے
       
      علم حدیث کا مشہور قاعدہ ہے کے ہر وہ حدیث جس کا وجود کتب احادیث میں نہ ہو حفاظ کے سینوں میں نہ ہو اور وہ ایسے زمانے میں ظاہر ہو جب تدوین حدیث مکمل ہوچکی ہے تو وہ روایت موضوع کہلائے گی
       
       
      امام ابن الجوزی م597ھ رحمہ اللہ تعالیٰ موضوع حدیث کے قرائن بیان فرماتے ہیں
       
      إذا رأيت الحديث يباين المعقول أو يخالف المنقول أو يناقض الأصول فاعلم أنه موضوع
      جب تم کسی حدیث کو دیکھو کہ وہ معقول کے خلاف ہے یا منقول سے ٹکراتی ہے یا اصول سے مناقص ہے تو جان لو کہ وہ موضوع ہے
       
      امام ابن الجوزی کے اس بیانیہ کو محدثین نے قبول فرمایا لیکن فی الوقت ہمارا تعلق امام ابن الجوزی کے بیان کردہ تیسرے قرینہ سے ہے اصول سے مناقص ہونے کا مطلب امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں
       
      ومعنى مناقضته للأصول: أن يكون خارجا، عن دواوين الإسلام من المسانيد والكتب المشهورة
      امام سیوطی فرماتے ہیں اور مناقص اصول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ روایت اسلام کی مشہور کتب احادیث و مسانید سے خارج ہو . ( یعنی ان کتب میں موجود نہ ہو )
       
      ( كتاب الموضوعات لابن الجوزي 1/106 )
      ( كتاب تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي 1/327 )
       
       
      امام نور الدین ابن عراق الکنانی م963ھ رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں
       
      ما ذكره الإمام فخر الدين الرازي أن يروي الخبر في زمن قد استقرئت فيه الأخبار ودونت فيفتش عنه فلا يوجد في صدور الرجال ولا في بطون الكتب
      امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ نے جس چیز کا ذکر کیا وہ یہ ہے کہ حدیث اس زمانے میں روایت کی جائے یا ذکر کی جائے جب احادیث کا استقراء کیا جا چکا ہے اور تفتیش کے باوجود نہ محدثین کے سینوں میں ملے اور نہ کتب احادیث میں ( تو ایسی روایت موضوع ہوتی ہے )
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة 1/7 )
       
      یہی اصول فی زمانہ بریلوی مکتبہ فکر ( اہلسنت و جماعت ) کے مشہور و معروف عالم مفتی محمد شریف الحق امجدی صاحب نے بھی بیان کیا ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں
       
      " اس روایت کے جھوٹے اور موضوع ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ کسی حدیث کی معتبر کتاب میں یہ روایت مذکور نہیں "
      ( فتویٰ شارح بخاری 1/307 )
       
      لہذا اس اصول سے بھی یہ روایت منگھڑت ثابت ہوتی ہے والحمدللہ
       
       
      خلاصہ کلام یہ کہ ہم نے محدثین کا کلام بھی اس روایت کے تحت پیش کیا کہ انہوں نے اس کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا اور ہم میں وضع حدیث کے دو قرائن پر بھی اس روایت کو موضوع ثابت کیا لہذا اس روایت کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حرام ہے
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 22 ذو الحجہ 1443ھ
    • By Aquib Rizvi
      آگ أنبیاء علیہم السلام کے ہاتھ سے چھوئی ہوئی چیز کو نہیں جلاتی روایت کی تحقیق
       
       
      امام خطیب البغدادی م463ھ رحمہ اللہ نے فرمایا
      وأخبرنا الحسن، قال: حدثنا عبد الرحمن، قال: حدثنا أبو عمير الأنسي بمصر، قال: حدثنا دينار مولى أنس، قال: صنع أنس لأصحابه طعاما فلما طعموا، قال: يا جارية هاتي المنديل، " فجاءت بمنديل درن، فقال اسجري التنور واطرحيه فيه، ففعلت فابيض، فسألناه عنه، فقال: إن هذا كان للنبي صلى الله عليه وسلم وإن النار لا تحرق شيئا مسته أيدي الأنبياء "
      ( كتاب تاريخ بغداد ت بشار 11/589 )
      دینار مولی انس بیان کرتا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام کے لیے کھانے کا انتظام فرمایا جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنی لونڈی کو آواز دے کر فرمایا رومال لے آؤ . وہ جب رومال لائی تو وہ میلا تھا حضرت انس بن مالک نے فرمایا تندور کو ہلکا کر کے اس رومال کو تندور میں ڈال دو جب رومال تندور سے باہر نکالا گیا تو وہ سفید ہو گیا تھا صحابہ کرام نے پوچھا یہ کیسے تو حضرت انس بن مالک نے فرمایا یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا رومال ہے اور انبیاء علیہم السلام جس چیز کو چھو لیں آگ اسے نہیں جلاتی
       
      یہ روایت موضوع ہے
       
      أبو مكيس دينار بن عبد الله الحبشي متھم بالوضع راوی ہے اور اس پر خاص جرح یہ بھی ہے کہ اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے 100 کے قریب موضوع روایات بیان کیں لہذا اس کی حضرت انس بن مالک سے روایت موضوع قرار دی جائے گی
      امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
      وقال الحاكم: روى، عَن أَنس قريبا من مِئَة حديث موضوعة
      اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تقریباً 100 موضوع روایات بیان کیں ہیں
      امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی امام حاکم کی موافقت کی چنانچہ فرماتے ہیں
      قال ابن حبان: يروي، عَن أَنس أشياء موضوعة
      یہ انس بن مالک سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( لسان الميزان :- 3077 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اندازاً فرمایا کہ
      أن يروي عنه عشرين ألفا كلها كذب
      اس نے تقریباً بیس ہزار روایتیں بیان کیں جو سب کی سب جھوٹ ہیں
      ( ميزان الاعتدال 2/31 )
       
      نیز سند میں " أبو عمير الأنسي " بھی مجہول ہے
       
      امام احمد بن علی المقریزی م845ھ رحمہ اللہ نے حافظ ابونعیم اصفہانی رحمہ اللہ کے طریق سے اس کو اپنی کتاب میں نقل کیا
      فخرج أبو نعيم من حديث محمد بن رميح، قال: حدثنا عبد الله بن محمد بن المغيرة، حدثنا أبو معمر عباد بن عبد الصمد، قال: أتينا أنس بن مالك نسلم عليه، فقال: يا جارية، هلمي المائدة نتغدى، فأتته بها فتغدينا، ثم قال: يا جارية هلمي المنديل، فأتته بمنديل وسخ، فقال: يا جارية أسجرى التنور، فأوقدته، فأمر بالمنديل، فطرح فيه، فخرج أبيض كأنه اللبن. فقلت: يا أبا حمزة! ما هذا؟ قال: هذا منديل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح به وجهه، وإذا اتسخ صنعنا به هكذا، لأن النار لا تأكل شيئا مر على وجوه الأنبياء- عليهم السلام
      عباد بن عبدالصمد کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ دسترخوان لے آؤ ہم دوپہر کا کھانا کھائیں گے چنانچہ وہ اسے لے کر آئی اور ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا پھر آپ نے فرمایا اے لونڈی رومال لے آؤ تو پھر وہ ایک گندا رومال لے کر آئی پھر آپ نے لونڈی سے کہا کہ تندور کو روشن کرو اسے روشن کیا گیا اور وہ رومال تندور میں ڈالنے کا حکم دیا وہ جیسے ہی تندور میں ڈالا گیا دودھ کی طرح سفید ہو گیا . میں نے کہا: اے ابو حمزہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ رومال ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ انور پونچھتے تھے ، اور جب یہ میلا ہو جاتا تو ہم ایسا ہی کرتے کیونکہ آگ اس شے پر اثر نہیں کرتی جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کے چہرہ مبارک پر سے گذری ہو
      ( كتاب إمتاع الأسماع 11/254 )
       
       
      یہ بھی موضوع ہے
       
      1 : محمد بن رميح العامري مجہول ہے
       
      2 : عبد الله بن محمد بن المغيرة متھم بالوضع راوی ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے
       
      امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ سفیان ثوری اور مالک بن مغول سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة 1/75 )
       
      امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ایسی روایتیں بیان کرتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی امام ابن یونس نے اس کو منکر الحدیث قرار دیا
      ( كتاب الزهر النضر في حال الخضر ص76 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو متروک قرار دیا اور اس کی مرویات کو نقل کرکے انہیں موضوع قرار دیا
      ( كتاب تاريخ الإسلام - ت تدمري 14/219 )
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/487 )
       
      3 : أبو معمر عباد بن عبد الصمد بھی متھم بالوضع راوی ہے
       
      امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ یہ سخت ضعیف راوی ہے امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ غالی شیعہ ہے
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو " واہ " قرار دیا اور یہ جرح متروک درجے کے راویان پر کی جاتی ہے
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/369 )
      ( فتح المغيث للسخاوي 2/128 )
       
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے نقل کیا کہ عباد بن عبدالصمد نے سیدنا انس بن مالک سے ایک پورا نسخہ روایت کیا جو کہ اکثر موضوع من گھڑت روایات پر مشتمل ہے
      ( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 4/393 )
       
      اس مکمل تحقیق کے بعد خلاصہ کلام یہ ہوا کہ یہ اثر اپنی دونوں اسناد کے ساتھ موضوع من گھڑت ہے اس کو بیان کرنا جائز نہیں
      اسی طرح ایک من گھڑت قصہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا نے روٹیاں لگائیں اور نبی علیہ السلام نے بھی ایک روٹی لگائی باقی روٹیاں پک گئیں لیکن نبی علیہ السلام نے جو روٹی لگائی وہ نہیں پکی وغیرہ وغیرہ اس قصہ کا وجود بھی کسی حدیث٬ تاریخ٬ سیرت کی معتبر کتاب میں نہیں اللہ جانے صاحب خطبات فقیر نے اس ہوا ہوائی قصہ کو کہاں سے نکل کر لیا اپنی خطبات فقیر جلد دوم صفحہ 92/93 پر
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 15 ذو الحجہ 1443ھ
       
       
×
×
  • Create New...