Jump to content
IslamiMehfil

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت تین باتوں کا اقرا جرم کیا تھا؟ اسکی حقیقت کیا ہے؟


Recommended Posts

*سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے وفات کے وقت  تین باتوں کا اقرار جرم کیا تھا؟*
*اس کی حقیقت کیا  ہے؟*

*✍️شیعہ کی جہالت کا جواب✍️*
 *الصلوۃ والسلام علیک یاسیدی یارسول اللہؐ۔*
*وعلی الک واصحبک یاسیدی یا خاتم المرسلین۔*

*صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم*

*⚔️🗡️ضرب حیدری🗡️⚔️*

عبد الرحمن ابن عوف ، ابوبکر کی بیماری کے ایام میں اسکے پاس اسکی عیادت کرنے گیا اور اسے سلام کیا، باتوں باتوں میں ابوبکر نے اس سے ایسے کہا:

مجھے کسی شے پر کوئی افسوس نہیں ہے، مگر صرف تین چیزوں پر افسوس ہے کہ اے کاش میں تین چیزوں کو انجام نہ دیتا، اور اے کاش کہ تین چیزوں کو انجام دیتا، اور اے کاش کہ تین چیزوں کے بارے میں رسول خدا سے سوال پوچھ لیتا، اے کاش میں فاطمہ کے گھر کی حرمت شکنی نہ کرتا، اگرچہ اس گھر کا دروازہ مجھ سے جنگ کرنے کے لیے ہی بند کیا گیا ہوتا.
  
*الجواب بعون الوہاب*
✍️پہلی بات اس روایت کی تین اسنادہیں اور تینوں ہی قابل قبول نہیں ہیں۔ ان میں کوئی ایک سند بھی درجہ صحیح و حسن تک نہیں جاتی۔

*طریق نمبر 1*
أنا حميد أنا عثمان بن صالح، حدثني الليث بن سعد بن عبد الرحمن الفهمي، حدثني علوان، عن صالح بن كيسان، عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، أن أباه عبد الرحمن بن عوف، دخل علي أبي بكر الصديق رحمة الله عليه في مرضه الذي قبض فيه ... فقال [أبو بكر] : « أجل إني لا آسي من الدنيا إلا علي ثَلاثٍ فَعَلْتُهُنَّ وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُنَّ، وثلاث تركتهن وددت أني فعلتهن، وثلاث وددت أني سألت عنهن رسول الله (ص)، أما اللاتي وددت أني تركتهن، فوددت أني لم أَكُنْ كَشَفْتُ بيتَ فاطِمَةَ عن شيء، وإن كانوا قد أَغْلَقُوا علي الحرب.
*الخرساني،زنجويه الأموال، ج 1، ص 387۔* *الدينوري، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 21، تحقيق: خليل المنصور، باتحقيق شيري، ج1، ص36، و با تحقيق، زيني، ج1، ص24.*
*تاريخ الطبري، ج 2، ص 353.* *العقد الفريد، ج 4، ص 254.* *مروج الذهب، ج 1، ص 290*
ترجمہ اوپر والا ہی ہے یہ اس کی عربی عبارت ہے۔

✍️اس سند میں علوان بن داود البجلی منکر الحدیث ہے۔۔ 

*1* قال البخاري: علوان بن داود ويُقال: ابن صالح *منكر الحديث.*

*2* وقال العقيلي: *له حديث لا يتابع عليه، وَلا يعرف إلا به.*

*3* وقال أبو سعيد بن يونس: *منكر الحديث.*

*طریق نمبر 2*

أخبرنا أبو البركات عبد الله بن محمد بن الفضل الفراوي وأم المؤيد نازيين المعروفة بجمعة بنت أبي حرب محمد بن الفضل بن أبي حرب قالا أنا أبو القاسم الفضل بن أبي حرب الجرجاني أنبأ أبو بكر أحمد بن الحسن نا أبو العباس أحمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم بن حسان البزار أبو علي ببغداد حدثني أبو الهيثم خالد بن القاسم قال حدثنا ليث بن سعد عن صالح بن كيسان عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه.
*ابن عساكر الشافعي.*
*تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 30، ص417 ـ 419۔*
✍️اس نقل کرنے کے بعد امام مدائنی نے کہا سند مختصر ہے مطلب سند میں انقطاع ہے۔ 

*كذا رواه خالد بن القاسم المدائني عن الليث وأسقط منه علوان بن داود وقد وقع لي عاليا من حديث الليث وفيه ذكر علوان.*

✍️امام عقیلیؒ نے علوان والے طریق کو نقل کرنے کے بعد فرمایا اور  لیث  والا بھی اور آخر میں فرمایا کہ *ابو بکر والی حدیث  اضطراب کا شکار ہے۔*

✍️ *وأورد العقيلي أيضًا من طريق الليث:* حدثني علوان بن صالح عن صالح بن كيسان أن معاوية قدم المدينة أول حجة حجها بعد اجتماع الناس عليه ... فذكر قصة له مع عائشة بنت عثمان , وقال: لا يعرف علوان إلا بهذا مع اضطرابه في حديث أبي بكر.
طریق نمبر 2 کی سند میں ایک راوی ہے

✍️أبو الهيثم خالد بن القاسم اس پر کذاب، متروک اور وضح  تک ہی جرح ہے۔✍️

اس کا پورا نام: *خالد بن قاسم* 
ہے اور اس نے شہرت: *خالد بن القاسم المدائني*
 کے نام سے پائی اور اس کی کنیت:*أبو الهيثم* ہے

*1* إسحاق بن راهويهؒ فرماتے ہیں کہ: *كذاب.*
*2* إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني فرماتے ہیں کہ: *کذاب يزيد في الأسانيد*
*3* محمد بن إسماعيل البخاريؒ فرماتے ہیں کہ: *متروك تركه علي والناس.*
*4* مسلم بن الحجاج النيسابوريؒ فرماتے ہیں کہ: *متروك الحديث.*
*5* أبو أحمد بن عدي الجرجانيؒ فرماتے ہیں کہ: *له عن الليث مناكير.*
*6* امام الذهبيؒ فرماتے ہیں کہ : *ذكر فيه ما يقتضي الوضع.*

*طریق نمبر 3*

حدثني حفص بن عمر، ثنا الهيثم بن عدي عن يونس بن يزيد الأيلي عن الزهري أن عبد الرحمن بن عوف قال: دخلت علي أبي بكر في مرضه.

*البلاذري. أنساب الأشراف، ج 3، ص 406 ، طبق برنامه الجامع الكبير.*

✍️اس طریق میں *الهيثم بن عدي* متروک الحدیث ہے۔
اور اضطراب بھی تینوں اسناد میں ہے۔
اس کا پورا نام:.
*الهيثم بن عدي بن عبد الرحمن بن زيد بن أسيد بن جابر بن عدي بن خالد بن خيثم بن أبي حارثة* ہے

*1:* أبو بكر البيهقيؒ فرماتے ہیں کہ *متروك الحديث، ونقل عن ابن عدي أنه: ضعيف جدا*
*2:* أبو حاتم الرازيؒ فماتے ہیں کہ  *متروك الحديث۔*
*3:* أبو داود السجستانيؒ فرماتے ہیں کہ: *كذاب.*
*4:* أبو زرعة الرازي فرماتے ہیں کہ : *ليس بشيء*
*5:* امام يحيى بن معين الحنفیؒ فرماتے ہیں کہ: *ليس هو بثقة، ومرة: ليس بشيء، ومرة: ليس بثقة كان يكذب*

خلاصہ کلام آپ کی پیش کردہ روایت سے استدلال کرنا ہی سرے سے غلط ہے کیوں کہ تینوں طریق میں ایک طریق بھی قابل استدلال نہی ہے۔
تینوں اسناد میں وضح،کذاب اور متروک راوی موجود ہیں۔

                     الحکم الحدیث: متروک

(طالب دعا : محمد عمران علی حیدری)
17.09.2021.
09 صفر المظفر 1443ھ

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      اگــر تمـام لـوگــ محـبـت علـی رضـی اللہ تعـالـیٰ عنـہٗ پـر جمـع ہـوجـاتے تـو اللہ ﷻ جہنـم کـی تخـلـیـق ہــی نـہ کـرتـا
       
       
      یہ روایت اکثر روافض کی طرف سے پیش کی جاتی ہے اور بعض اہلسنت کے لبادے میں چھپے ہوئے نیم رافضی بھی بیان کرتے ہیں مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کی فضیلت میں جو غُلُو پر مبنی ہے آج ہم اس روایت کی اپنی تحریر میں تحقیق پیش کریں گے
       
      امام ابو شجاع دیلمی (م 509ھ) رحمہ اللہ نے فرمایا
       
      5135 - عن ابْن عَبَّاس لَو اجْتمع النَّاس على حب عَليّ بن أبي طَالب لما خلق الله تَعَالَى النَّار
      [ الفردوس بمأثور الخطاب 3/373 ]
       
      الفردوس بمأثور الخطاب کے نسخہ میں اسناد حذف ہیں اس کو امام ابو منصور دیلمی (م 558ھ) سے باسند امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں نقل کیا
       
      293 - الديلمي أخبرنا أبي أخبرنا أبو طالب الحسيني حدثنا أحمد بن محمد بن عمر الفقيه الطبري حدثنا *أبو المفضل محمد بن عبد الله الشيباني* حدثنا ناصر بن الحسن بن علي حدثنا محمد بن منصور عن عيسى بن طاهر اليربوعي حدثنا أبو معاوية عن ليث عن طاوس عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو اجتمع الناس على حب علي بن أبي طالب لما خلق الله النار
      ترجمہ :- ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی محبت پر جمع ہوجاتے تو اللہ تعالیٰ جہنم کو پیدا نہ کرتا
      [ الزيادات على الموضوعات 1/260 ]
       
       
      اس طرح علامہ الموفق بن أحمد الخوارزمی (م 584ھ) نے بھی اپنی کتاب میں اس کو باسند نقل کیا
       
      وأخبرني شهردار هذا اجازة ، أخبرنا أبي ، حدثنا أبو طالب الحسيني ، حدثنا أحمد بن محمد بن عمر الفقيه الطبري ، حدثني *أبو الفضل محمد بن عبد الله الشيباني ،* حدثنا ناصر بن الحسين بن علي ، حدثنا محمد بن منصور ، عن يحيى بن طاهر اليربوعي ، حدثنا أبو معاوية ، عن ليث بن أبي سليم ، عن طاوس ، عن ابن عباس قال : قال رسول الله 9 : لو اجتمع الناس على حب علي بن أبي طالب لما خلق الله النار
      ( مناقب أمير المؤمنين علي بن أبي طالب 1/68 رقم 39 )
       
      یہ روایت عندالتحقیق منگھڑت ہے دونوں اسناد میں علت ایک ہی ہے اور امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی یہ روایت منگھڑت ہے کیونکہ آپ نے اس کو "زیادات علی الموضوعات" میں نقل کیا ہے جو کہ موضوع احادیث پر مشتمل کتاب ہے جیسا کہ خود امام سیوطی رحمہ اللہ نے مقدمے میں فرمایا :- 1/31
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا حضرت مولائے کائنات اور اہلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فضیلت میں گھڑی گئی موضوع روایات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں
       
      وكذلك قوله لو اجتمع الناس على حب علي لم تخلق النار
      اور اسی طرح ( یہ روایت بھی موضوع ) کہ اگر لوگ حب علی رضی اللہ عنہ پر جمع ہوجاتے تو جہنم کی تخلیق نہ ہوتی
      ( كتاب المنتقى من منهاج الاعتدال ص318 )
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
      اس کـی سنـد میـں درج ذیـل عـلـتـیـں ہیـں
       
      ➊ أبو طالب الحسيني المحسن بن الحسين بن أبي عبد الله محمد المعروف بابن النصيبي یہ مجہول الحال ہے
      ➋ أبو المفضل محمد بن عبد الله الشيباني یہ احادیث گھڑنے والا راوی ہے اور اس سند میں آفت یہی راوی ہے 
       
       
      اســں راوی کـے حـوالـے سـے ائـمـہ کا کـلام
       
       
      ① امام جرح و تعدیل حافظ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کا کلام اس کے حوالے سے نقل کرتے ہیں
       
      قال الخطيب: كتبوا عنه بانتخاب الدارقطني، ثم بأن كذبه فمزقوا حديثه، وكان يعد يضع الأحاديث للرافضة
      محدثین نے امام الدارقطنی رحمہ اللہ کو منتخب کرکے اس کی روایات کو لکھا پھر جب اسکا جھوٹا ہونا واضح ہوگیا تو انہوں نے اس کی روایات کو پھاڑ دیا اور ان کو باطل کرار دیا اور کہا کہ یہ روافض کے لیے احادیث گھڑتا ہے 
      [ ميزان الاعتدال رقم :- 7802 ]
       
       
      ② شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے عبيد الله بن أحمد الأزهري کا قول اس کے حوالے سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا یہ دجال اور کذاب راوی ہے
      اور حمزة بن محمد بن طاهر کا قول نقل کیا کہ انہوں نے کہا یہ احادیث گھڑنے والا ہے
      [ لسان الميزان 5/231 ]
       
       
      ③ امام ابن عراق رحمہ اللہ اس کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ یہ احادیث گھڑنے والا دجال ہے
      محمد بن عبد الله بن المطلب أبو الفضل الشيباني الكوفي عن البغوي وابن جرير دجال يضع الحديث
      [ تنزيه الشريعة المرفوعة رقم :- 166 ]
       
      کیونکہ یہ واضح ہو گیا کہ اس راوی نے اس روایت کو گھڑا ہے لہذا اور علتیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ورنہ اور علتیں بھی ہیں سند میں باقی شیعہ حضرات کی کتب میں یہ روایت کثرت سے موجود ہے ہم نے ثابت کیا کہ یہ روایت اہلسنت کے نزدیک من گھڑت ہے مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے فضائل میں احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں اور کثرت سے احادیث صحیحہ آپ کے فضائل میں ہیں لہذا من گھڑت روایات بیان کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
      مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم جتنے فضائل کسی صحابی کے احادیث میں وارد نہیں ہوئے
       
      امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری م405ھ رحمہ اللہ اپنی سند صحیح کے ساتھ روایت کرتے ہیں
       
      سَمِعْتُ الْقَاضِيَ أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ الْجَرَّاحِيَّ، وَأَبَا الْحُسَيْنِ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظِ، يَقُولَانِ: سَمِعْنَا أَبَا حَامِدٍ مُحَمَّدَ بْنَ هَارُونَ الْحَضْرَمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَنْصُورٍ الطُّوسِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: «مَا جَاءَ لِأَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْفَضَائِلِ مَا جَاءَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» 
       
      إمام الدنيا ثقة ثبت في الحديث احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے کسی صحابی کے احادیث میں اتنے فضائل وارد نہیں ہوئے جتنے حضرت مولائے کائنات اسد اللہ الغالب امیر المؤمنین امام المتقین علی المرتضٰی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے بارے میں ہوئے ہیں
      ( كتاب المستدرك على الصحيحين للحاكم - ط العلمية - 4572 :- وسندہ صحیح )
       
       
       
      حسن صحیح اسانید کے ساتھ جتنے فضائل مولا کائنات علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مروی ہیں اور کسی صحابی کے مروی نہیں
       
       
      خاتم الحفاظ امام الفقہاء والمحدثین حافظ جلال الدین سیوطی م911ھ رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں
       
      قال أحمد والنسائي وغيرهما : لم يرد في حق أحد من الصحابة بالأسانيد الجياد أكثر مما جاء في على؛ وكـأن السبب في ذلك أنه تأخر ، ووقع الاختلاف في زمانه، وكـثر محاربوه والخارجون عليه، فكان ذلك سببًا لانتشار مناقبه؛ لكثرة من كان يرويها من الصحابة ردا على من خـالفـه، وإلا فالثلاثة قبله لهم من المناقب ما يوازيه ويزيد عليه
      امام احمد بن حنبل اور امام احمد بن شعیب النسائی رحمهما الله اور دیگر آئمہ نے فرمایا کسی بھی صحابی کے جید اسانید کے ساتھ اتنے فضائل مذکور نہیں جتنے مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے ہیں گویا اس کا سبب یہ ہے کہ ( مولا علی خلفاء ثلاثہ کے بعد تک حیات رہے ) آپکا زمانہ متاخر تھا اور اس زمانہ میں ( مسلمانوں کے درمیان ) اختلاف واقع ہوا اور آپ کے خلاف بغاوت کرنے والے اور جنگ کرنے والوں کی کثرت ہو گئی تھی آپکے مناقب کے پھیلنے کا یہی سبب تھا . کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کثرت سے آپ کی مخالفت کرنے والوں کے جواب میں آپ کے مناقب روایت کیا کرتے تھے ورنہ جہاں تک خلفاء ثلاثہ کے مناقب کا تعلق ہے تو وہ حضرت علی کے مناقب کے موازی بلکہ ان سے بھی زیادہ ہیں
      ( التوشيح على الجامع الصحيح 3/435 )
       
       
      حجۃ اللہ فی الارضین شیخ الاسلام والمسلمین امیر المؤمنین فی الحدیث حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
       
      وكان سبب ذلك بغض بني أمية له، فكان كل من كان عنده علم من شيء من مناقبه من الصحابة يثبته
      ( مولا علی کے مناقب کا کثرت سے مروی ہونے ) کا سبب بنو امیہ کا آپ سے بغض رکھنا ہے تو جس بھی صحابی کو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مناقب میں سے جو معلوم ہوتا وہ اس کو ظاہر کرتے ( تاکہ لوگ بغض چھوڑدیں )
      ( كتاب الإصابة في تمييز الصحابة 4/465 )
       
       
       
      جس نے مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے محبت کی اس نے رسول اللہ ﷺ سے محبت کی جس نے مولا علی سے بغض رکھا اس نے رسول اللہ ﷺ سے بغض رکھا
       
      عن أمِّ سلمةَ قالتْ: أَشهدُ أنِّي سمعتُ رسولَ اللهِ يقولُ: «من أحبَّ علياً فقد أحبَّني، ومَن أحبَّني فقد أحبَّ اللهَ عزَّ وجلَّ، ومَن أَبغضَ علياً فقد أَبغَضَني، ومن أَبغَضَني فقد أَبغضَ اللهَ»
      ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی۔ اور جس نے علی سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔“
       
      ( كتاب المعجم الكبير للطبراني 23/380 وسندہ حسن )
      ( كتاب المخلصيات 3/150 )
      ( كتاب مسند البزار = البحر الزخار 9/323 )
       
      [ حکم الحدیث :- حسن صحیح ]
       
       
      مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت مؤمن کرے گا اور بغض منافق رکھے گا
       
      قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَيَّ أَنْ " لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِق "
      سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اس کی جس نے دانہ چیرا (پھر اس نے گھاس اگائی) اور جان بنائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ ”نہیں محبت رکھے گا مجھ سے مگر مؤمن اور نہیں بغض رکھے گا مجھ سے مگر منافق۔“
       
      ( صحیح مسلم :- رقم الحدیث 240 )
      ( كتاب المصنف - ابن أبي شيبة - ت الحوت :- رقم الحدیث 32064 )
      ( كتاب السنن الكبرى - النسائي - ط الرسالة :- رقم الحدیث :- 8431 )
       
      [ حکم الحدیث :- صحیح ]
       
       
       
                           خــلاصــہ کــــلام
                      
      پوری تحقیق کا حاصل کلام یہ ہوا کہ مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے فضائل میں بے شمار صحیح اور حسن احادیث موجود ہیں لہذا آپ کے فضائل میں اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل میں صحیح اور حسن احادیث بیان کی جائیں تاکہ رافضیوں اور ناصبیوں کو ان عظیم ہستیوں کی ذات بابرکات پر طعن و تبراء کرنے کا موقع نہ ملے
       
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
      فقــط واللہ ورسولــہٗ اعلـم بـالصـواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      ( مؤرخہ 16 ربیع الثانی 1442ھ ) 
       











    • By Aquib Rizvi
      امام حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے فرمایا
       
      أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «إِنِّي رَأَيْتُنِي عَلَى تَلٍّ وَحَوْلِي بَقَرٌ تُنْحَرُ» فَقُلْتُ لَهَا: لَئِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ لَتَكُونَنَّ حَوْلَكَ مَلْحَمَةٌ، قَالَتْ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكَ، بِئْسَ مَا قُلْتَ» ، فَقُلْتُ لَهَا: فَلَعَلَّهُ إِنْ كَانَ أَمْرًا سَيَسُوءُكِ، فَقَالَتْ: «وَاللَّهِ لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ» ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذُكِرَ عِنْدَهَا أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَتَلَ ذَا الثُّدَيَّةِ، فَقَالَتْ لِي: «إِذَا أَنْتَ قَدِمْتَ الْكُوفَةَ فَاكْتُبْ لِي نَاسًا مِمَّنْ شَهِدَ ذَلِكَ مِمَّنْ تَعْرِفُ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ» ، فَلَمَّا قَدِمْتُ وَجَدْتُ النَّاسَ أَشْيَاعًا فَكَتَبْتُ لَهَا مِنْ كُلِّ شِيَعٍ عَشَرَةً مِمَّنْ شَهِدَ ذَلِكَ قَالَ: فَأَتَيْتُهَا بِشَهَادَتِهِمْ فَقَالَتْ: «لَعَنَ اللَّهُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، فَإِنَّهُ زَعَمَ لِي أَنَّهُ قَتَلَهُ بِمِصْرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "
      [التعليق - من تلخيص الذهبي] - على شرط البخاري ومسلم
      ترجمہ :- مسروق فرماتے ہیں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مجھ سے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ٹیلے پر ہوں اور میرے اردگرد گائے ذبح کی جا رہی ہیں میں نے کہا اگر آپ کا خواب سچا ہوا تو آپ کے ارد گرد خون ریزی ہو گی ام المومنین نے کہا تم نے جو تعبیر بتائی ہے میں اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں میں نے کہا ہو سکتا ہے کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جائے جو آپ کے لئے تکلیف دہ ہو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میری وجہ سے کوئی فتنہ برپا ہو اس سے مجھے یہ زیادہ عزیز ہے کہ مجھے آسمان سے زمین پر پھینک دیا جائے کچھ عرصے بعد ام المؤمنین کے پاس یہ تذکرہ ہوا کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے " ذوالثدیہ " کو قتل کر دیا آپ نے مجھے حکم دیا کہ جب تم کوفہ آؤ تو شہر کے جتنے لوگ اس معاملے میں شریک ہوئے جن کو تم پہچانتے ہو ان سب کے بارے میں مجھے مطلع کرنا جب میں کوفہ میں آیا تو میں نے لوگوں کو جماعت در جماعت پایا میں نے ام المؤمنین کی جانب خط لکھا کہ ہر جماعت میں سے دس آدمی اس میں شریک ہوئے ہیں آپ فرماتے ہیں میں ان کی گواہی بھی ام المؤمنین کے پاس لایا ام المؤمنین نے فرمایا اللہ کی لعنت ہو عمرو بن عاص پر اس نے مجھ سے دعوی کیا تھا کہ اس نے اسے ( ذوالثدیہ کو ) مصر میں قتل کیا ہے 
       
      امام حاکم فرماتے ہیں یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسکی تخریج نہیں کی تلخیص میں امام ذھبی نے بھی شیخین کی شرط پر صحیح کہا 
      ( المستدرك على الصحيحين للحاكم :- 6744 )
       
       
      شیعہ کا اس روایت سے استدلال
       
       
      ➊ صحابی رسول ﷺ عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ام المؤمنین سے جھوٹ بولا 
       
      ➋ ام المؤمنین نے صحابی رسول ﷺ پر لعنت کی 
       
      ➌ اگر صحابہ پر لعنت کرنا حرام٬ فسق٬ کفر اور گناہ ہے تو کیا یہ فتوی ام المؤمنین پر لگے گا یا فتویٰ غلط ہے ؟؟
       
       
                     الجواب وباللہ التوفیق
       
       
      ◉ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ پر لعنت کرنا اور حضرت عمرو بن عاص کا جھوٹ بولنا ثابت نہیں
       
      اسی روایت کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی " المصنف " میں عالی سند سے روایت کیا
       
       
      حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ٬ عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «رَأَيْتنِي عَلَى تَلٍّ كَأَنَّ حَوْلِي بَقَرًا يُنْحَرْنَ»، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَكُونِي أَنْتَ هِيَ فَافْعَلِي، قَالَ: «فَابْتُلِيتُ بِذَلِكَ رَحِمَهَا اللَّهُ»
      ( كتاب المصنف - ابن أبي شيبة - ت الحوت :- 30513 إسنادہ صحیح )
      ترجمہ :- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں میں نے اپنے آپ کو خواب میں ایک ٹیلے پر دیکھا اور میرے ارد گرد بہت سی گاۓ ذبح کی جارہی تھیں مسروق نے کہا اگر آپ کے اندر طاقت ہے کہ آپ وہ نہ ہوں تو ایسا ضرور کریں لیکن حضرت عائشہ اس میں مبتلا ہو گئی اللہ ان پر رحم فرمائے
       
      آپ دیکھ سکتے ہیں نہ تو اس روایت میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر ہے اور نہ ہی ان کا جھوٹ بولنے کا اور نہ ہی ان پر لعنت کا
       
      اعمش سے یہ روایت دو لوگ بیان کر رہے ہیں
       
      ➊ جرير بن عبد الحميد
      ➋ أبو معاوية الضرير
       
      اور محدثین کرام اور ناقدین حدیث و رجال نے اعمش سے روایت کرنے میں ابو معاویہ کو جریر پر مقدم اور ابو معاویہ کو جریر سے اعمش کی روایت میں اوثق قرار دیا ہے
       
      ① ایوب بن اسحاق کہتے ہیں میں نے امام یحیی بن معین اور احمد بن حنبل رحمهما الله سے ابو معاویہ اور جریر کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے جواب دیا کہ ہمیں ابو معاویہ زیادہ محبوب ہیں اعمش کی روایت میں ( بنسبت جریر کے )
      قال أيوب بن إسحاق بن سافري سألت أحمد ويحيى عن أبي معاوية وجرير، قالا: أبو معاوية أحب إلينا يعنيان في الأعمش
       
      امام یحیی بن معین سے دوسرا قول بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ابو معاویہ اعمش کی حدیث میں جریر سے زیادہ مضبوط ہے
      يحيى بن معين يقول: أبو معاوية أثبت من جرير في الأعمش
      ( كتاب تاريخ بغداد وذيوله ط العلمية 2/305/6 )
       
       
      ② امیر المؤمنین فی الحدیث حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں ابومعاویہ اعمش کی حدیث میں میزان ہیں
      لأن أبا معاوية هو الميزان في حديث الأعمش
      ( كتاب فتح الباري لابن حجر 12/286 )
       
       
      ③ امام ذہبی فرماتے ہیں امام احمد سے امام اعمش سے روایت کرنے میں ابو معاویہ اور جریر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ابو معاویہ کو جریر پر مقدم کیا
      سئل أحمد عن أبي معاوية وجرير في الأعمش ، فقدم أبا معاوية
      ( سير أعلام النبلاء 9/74 )
       
       
      ان تمام تصریحات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جریر بن عبدالحمید کی روایت جس میں جھوٹ بولنے اور لعنت کرنے کا ذکر ہے وہ متن شاذ ہے اوثق کی مخالفت کی وجہ سے جب کہ ابو معاویہ کی روایت جس میں دونوں باتوں کا ذکر نہیں وہی محفوظ اور صحیح متن ہے
       
      شاذ حدیث کی تعریف اور اسکا ضعیف کی اقسام میں سے ہونا
       
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ عنہ شاذ حدیث کی تعریف فرماتے ہیں
       
      فإن خولف بأرجح منه: لمزيد ضبط، أو كثرة عدد، أو غير ذلك من وجوه الترجيحات، فالراجح يقال له: "المحفوظ" ومقابله، وهو المرجوح، يقال له: "الشاذ"
      پس اگر ثقہ راوی کی طرف سے کسی ایسے ارجح کی مخالفت کی جائے جو ضبط٬ یا کثرت عدد٬ یا اس کے علاوہ کسی اور وجوہ ترجیح میں اس سے راجح ہو تو راجح کی حدیث کو محفوظ اور اس کے مقابل یعنی مرجوح کی حدیث کو شاذ کہا جائے گا
       
      ( كتاب نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر - ت عتر ص71 )
       
      شاذ حدیث خبر مردود کی اقسام میں سے ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس کو خبر مردود کی اقسام میں ذکر کیا
       
       
      اصول حدیث کی ایک اور " كتاب تيسير مصطلح الحديث " میں محمود طحان فرماتے ہیں
       
      من المعلوم أن الشاذ حديث مردود، أما المحفوظ فهو حديث مقبول
      معلوم ہوا کہ شاذ حدیث مردود ( ضعیف ) ہے اور محفوظ حدیث مقبول ( صحیح ) ہے
      ( كتاب تيسير مصطلح الحديث ص124 )
       
       
      اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ " جریر بن عبدالحمید " جوکہ ثقہ ہے اس نے اعمش سے روایت کرنے میں " ابو معاویہ " جو کہ اوثق ہے اعمش کی حدیث میں جریر سے اس کی مخالفت کی جس کی بنا پر " جریر بن عبدالحمید " کی روایت شاذ ( ضعیف ) ہوئی اور " ابو معاویہ " کی روایت محفوظ ( صحیح )
       
      ◉ اس روایت کو اپنے طریق سے امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا اس میں لعنت کے الفاظ تو ہیں لیکن شخص کا نام نہیں یعنی صراحت نہیں کہ کس پر لعنت کی نیز یہ کہ وہ سند بھی ضعیف ہے
       
      أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا الحسين بن الحسن بن عامر الكندي بالكوفة من أصل سماعه حدثنا أحمد بن محمد بن صدقة الكاتب قال: حدثنا عمر بن عبد الله بن عمر بن *محمد بن أبان بن صالح* قال: هذا كتاب جدي: محمد بن أبان فقرأت فيه حدثنا الحسن بن الحر قال: حدثنا الحكم بن عتيبة وعبد الله بن أبي السفر، عن عامر الشعبي، عن مسروق، قال: قالت عائشة: عندك علم من ذي الثدية الذي أصابه علي رضي الله عنه في الحرورية قلت لا قالت فاكتب لي بشهادة من شهدهم فرجعت إلى الكوفة وبها يومئذ أسباع فكتبت شهادة عشرة من كل سبع ثم أتيتها بشهادتهم فقرأتها عليها قالت: أكل هؤلاء عاينوه؟ قلت: لقد سألتهم فأخبروني أن كلهم قد عاينه قالت: *لعن الله فلانا فإنه كتب إلي أنه أصابهم بنيل مصر* ثم أرخت عينيها فبكت فلما سكتت عبرتها. قالت: رحم الله عليا لقد كان على الحق وما كان بيني وبينه إلا كما يكون بين المرأة وأحمائها
      ( كتاب دلائل النبوة للبيهقي 6/434/35 )
       
      سند میں موجود راوی " محمد بن أبان بن صالح " ضعیف الحدیث ہے اس کے ضعف پر محدثین کا اجماع ہے
      ( لسان الميزان :- 6354 )
       
      نیز یہ کہ جس شخص پر لعنت کی جا رہی ہے اس کا نام بھی مبھم ہے لہذا اس روایت سے کسی طرح بھی استدلال نہیں کیا جاسکتا
       
       
      خلاصہ کلام یہ ہوا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ پر لعنت کرنا اور ان کا سیدہ سے جھوٹ بولنا ثابت نہیں لہذا شیعہ کا اس روایت سے استدلال کرنا باطل ہے . اللہ رحم فرمائے امام ذہبی پر کہ انہوں نے ظاہری سند کو دیکھتے ہوئے صحت کا حکم لگا دیا متن پر توجہ نہیں دی جب کہ ہم اوپر خود ان کی آخری کتاب " سیر اعلام نبلاء " سے ثابت کر آئے کہ انہوں نے ابو معاویہ کا جریر پر مقدم ہونا امام احمد سے نقل کیا ہے
       
       
      فقط واللہ رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
      مؤرخہ 10 شعبان المعظم 1443ھ






    • By Sunni Haideri
      *جس نے جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑی اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس میں وہ داخل ہوگا۔*
      1 📕حدثنا إبراهيم بن محمد بن يحيى المزكي النيسابوري، في جماعة قالوا: ثنا محمد بن إسحاق الثقفي، ثنا أبو معمر صالح بن حرب , ثنا إسماعيل بن يحيى، عن مسعر، عن عطية، عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ترك صلاة متعمدا كتب اسمه على باب النار فيمن يدخلها» تفرد به صالح , عن إسماعيل، عنه
      (حلیاۃ اولیاء و طبقات اصفیاء7/254)
      2 :📕473 - أخبركم أبو الفضل الزهري، نا أبي، نا محمد بن غالب، نا صالح بن حرب، نا إسماعيل بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله، عن مسعر، عن عطية، عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا ترك الرجل الصلاة متعمدا كتب اسمه على باب النار فيمن يدخلها»
      (حدیث ابیی فضل الزھری: صفحہ465)
      دونوں میں اسماعیل مسعر سے روایت کر رہا ہے اس کی حقیقت ہم آگے بیان کرتے ہیں

      1 *إسماعيل بن يحيى* 
      اس کا پورا نام: اسماعیل بن یحیی بن عبيد الله بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق۔
      ✍️یہ ایک یضح الحدیث راوی ہے اس پر کذاب جروحات بھی موجود ہیں 
      ✍️اور ایسے راوی کی روایت موضوع ہوتی ہے۔
      ✍️اور اس پر ایک خاص جرح مسعر کے حوالہ سے ہے کہ مالک و مسعر سے یہ موضوع رویات نقل کرتا ہے۔
      ✍️اور اس کذاب راوی نے یہ روایت بھی مسعر سے روایت کی ہے لہذا یہ روایت بھی موضوع ہے۔
      خود صاحب حلیاۃ اولیاء (امام ابو نعیم اصبھانی رحتہ اللہ علیہ) اپنی کتاب الضعفاء الابیی نعیم صفحہ 60 پر فرماتے ہیں کہ: 
      12- إسماعيل بن يحيى بن عبيد الله التيمي حدث عن مسعر ومالك بالموضوعات يشمئز القلب وينفر من حديثه متروك،
      کہتے ہیں کہ اسماعیل  مالک و مسعر سے موضوعات بیان کرتا ہے اور دل میں کراہت و نفرت سی ہے اس کے لیے اور اسکو حدیث میں ترک(چھوڑ دینا) ہے۔
      2: عطیہ عوفی راوی مشھور ضعیف الحدیث راوی ہے،
      ✍️لیکن یہ حدیث اسماعیل کی وجہ سے موضوع ہے
      ✍️اس میں صالح اور اسماعیل کا تفرد بھی ہے جیسا کہ خود صاحب حلیاۃ اولیاء نے فرمایا ہے۔
      اسکا مطلب اس کے علاوہ اس کی کوئی اور سند بھی نہیں ہے
      الحکم الحدیث:- موضوع
      (محمد عمران علی حیدری)
      01.04.2022.
      28شعبان 1443ھ
    • By Muhammad hasanraz
      (امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا 40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنا اور پلمبری فرقے کا اعتراض )

      محترم قارئین كرام بیشک اللّه رب العزت نے اپنے مقریب بندوں کو بیشمار کمالات و کرامات سے نوازا ہے۔۔ لیکن کچھ لوگ اپنی جہالت سے مجبور ہیں اور آئے دن اولیا عظام و صحابہ كرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی تنقیص و توہین کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس میں سرِ فہرست دورِ حاضر کا بدترین فتنہ نام نہاد انجینئر مرزا بھی ہے : 
      اعتراض:(انجینئر محمد علی مرزا عرف پلمبر اپنی ایک ویڈیو میں بکواس کرتے ہوے کہتا ہے کہ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص مسلسل چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھے یہ تو کہانی ہے جو کہ علماء احناف نے معاذ اللہ خود سے بنائی ہے)
      °°°°°°°°°°°الجواب و باللہ التوفیق°°°°°°°°°
       پہلی عرض تو یہ ہے کہ بیشک کرامات حق ہیں جس کہ دلائل قرآن و احادیث میں بیشمار موجود ہیں اور امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشاء کے وضو سے چالیس سال تک فجر کی نماز پڑھنا یہ بھی کرامت میں سے ہی ہے اور کرامت کہتے ہی اسی ہیں جو عقل سے بلاتر ہو 
      جس کی ایک دلیل قرآن سے ملاحظہ فرمائیں:
      ______________________________________
      ارشاد باری تعالٰی ہے: (قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُؕ-وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ(۴۰))
      ترجمہ:اُس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھاکہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا (چنانچہ) پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری؟ اور جو شکر کرے تو وہ اپنی ذات کے لئے ہی شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے پرواہ ہے، کرم فرمانے والا ہے۔(پ19،النمل:40)
      __________________________________________
      محترم قارئین كرام آپ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے امّتی حضرت آصف بن برخیا رحمہ اللہ کا واقعہ پڑھا جن کہ پاس کتاب کا کچھ علم تھا اور وہ اتنی بڑی کرامت دیکھا گئے پلک جھپکنے سے بھی پہلے وہ تخت جو ہزاروں میل کہ فاصلہ پر تھا اس کو اٹھا کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے پیش کر دیا۔۔
      تو معلوم ہوا کہ اللّه رب العزت اپنی عطا سے اولیائے عظام کو کرامات عطا فرماتا ہے 
      اب یہاں تو حضرت سلیمان علیہ السلام کہ امتی حضرت آصف تھے جن کہ کمال کا یہ عالم تھا عوام اہلسنّت ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر ایمان کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہوۓ سوچیں جب حضرت سلیمان کہ امتی جن کے پاس کتاب کا کچھ علم ہو ان کہ کمالات و کرامات کا یہ عالم ہے تو پھر جو امّت تمام امّتوں میں سب سے افضل ہو یعنی امّت محمدی اِس امّت کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامات و كامالات کا عالم کیا ہوگا۔۔
      اب آتے ہیں ان مستند اور معتبر  محدثین کی طرف جنہوں نے امام اعظم کی اس کرامت کو اپنی کتب کی زینت بنایا ہے 
      _______________________________________
       امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں 
      وعن زافر بن سليمان، قال كان أبو حنيفة يحيى الليل بركعة يقرأ فيها القرآن. وعن أسد بن عمرو، قال: صلى أبو حنيفة صلاة الفجر بوضوء العشاء أربعين سنة، وكان عامة الليل يقرأ القرآن فى ركعة، وكان يسمع بكاؤه حتى ترحمه جيرانه، وحفظ عليه أنه ختم القرآن فى الموضع الذى توفى فيه سبعة آلاف مرة
      زافر بن سلیمان نے کہا ابو حنیفہ رات کو ایک رکعت پڑھتے جس میں وہ پورا قرآن پڑھتے تھے۔ اسد بن عمرو سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو حنیفہ نے چالیس سال تک فجر کی نماز عشا کے وضو سے پڑھی، اور رات کے اکثر حصے میں ایک ہی رکعت میں پورا قرآن پڑھا کرتے تھے
      📓(لكتاب: تهذيب الأسماء واللغات جلد2 صفحہ88)
      ________________________________________
      امام شمس الدین ذھبی الشافعی لکھتے ہیں:
      وعن أسد بن عمرو: أن أبا حنيفة رحمه الله-صلى العشاء والصبح بوضوء أربعين سنة
      اسد بن عمرو سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے چالیس سال تک فجر کی نماز عشاء کہ وضو سے پڑھی۔
      📗(الكتاب: سير أعلام النبلاء جلد6 صفحہ 399)
      _______________________________________
      امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
      اسد بن عمرو نے روایت کی ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ رات کو نماز پڑھتے تھے اور ہر شب کو قرآن پڑھتے تھے اور روتے تھے حتی کہ آپکے پڑوسیوں کو آپ پر رحم آ جا تا تھا آپ چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھتے رہے اور جس جگہ آپ نے وفات پائی آپ نے اس میں ستر ہزار دفعہ قرآن ختم کیا
      📓(الکتاب:تاریخ ابن کثیر جلد10 صفحہ134)
      ______________________________________
      خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی الشافعی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
      ابی یحییٰ حمانی امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعض تلامذہ سے روایت کرتے ہیں امام صاحب عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھتے تھے اور رات میں نوافل پڑھنے کے لیے ریش مبارک میں کنگھی کر کے مزین فرماتے تھے۔
      📕(الکتاب:تبییض الصحیفة صفحہ61)
      محترم قارئین كرام یہ تمام وہ اکابرین و آئمہ حدیث ہیں جن کو مرزا صاحب اپنا مانتے ہیں اور اپنی ویڈیوز میں انھیں کتب سے حوالہ جات دیکھا رہے ہوتے ہیں۔۔
      یہی مرزا صاحب کا دجل ہے اور منافقت ہے کہ اپنے مقصد کی بات کو لے لیتے ہیں اور باقی سب ان کہ نذدیک کہانی قصہ اور معاذ اللہ بدعت ہوتی ہے 
      تو اب مرزا صاحب اور ان کہ اندھے مقلدین ذرا ہمّت کریں اور لگائیں فتویٰ امام نووی۔امام ذھبی۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر 
      اللّه تعالیٰ حق پات سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین بجاہ النبی الامین
      ______________________________________
      ازقلم:خادم اھلسنّةوالجماعة محمد حسن رضا قادری رضوی الحنفی البریلوی





    • By Sunni Haideri
      *کفار نے کہا انبیاء کو کہ تم صرف ہمارے جیسے بشر ہو*
      بسم اللہ الرحمن الرحیم
      الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ۔
      صلی اللہ علیہ وآلہ و اصحابہ وسلم.
      اعتراض : 
      مفتی احمد یار خان نعیمی نے اپنی تفسیر میں کہا کہ: انبیاء کو بشر کہنے والے کافر ہی تھے 
      اب جو انبیاء کو بشر کہے وہ مفتی صاحب کے نزدیک کافر ہے
      کیا انبیاء بشر نہیں ہوتے
      قل انما آنا بشر المثلکم قرآن میں اللہ کہتا کہ اے نبی تم کہے دو کہ میں تمھاری مثل بشر ہوں۔
      اور جگہ جگہ انبیاء کو بشر کہا گیا ہے بلکہ سنیوں کی سب معبتر علماء انبیاء کی بشریت کا انکار کفر سمجھتے ہیں اب کون کافر ہے مفتی احمد یار یا پھر باقی سنی علماء قرآن و حدیث میں ثبوت موجود ہے کہ انبیاء بشر ہی ہوتے ہیں۔ 
      *الجواب بعون الوہاب۔*
      پہلی بات وہابیوں کا اعتراض ہی باطل ہے جو کہ کچھ اہمیت کا حامل نہیں بس جہالت پر مبنی ہے لیکن اپنی عوام کے لیے ہم جواب دے دیتے ہیں۔ اس میں حکیم الامت نے انبیاء کرام علیہم السلام کی بشریت کا انکار کیا ہی نہیں یہی بتایا کہ موازنہ کرتے اپنے جیسا بتاتے اور انبیاء کرام علیہم السلام کی عزت،  شان و عظمت کم کرنے کی کوشش کرتے لوگوں کے سامنے اور انبیاء کو کہتے کہ یہ تو بس ہمارے جیسا بشر اے لوگو تم ان کی پیروی کرو گے۔ لوگوں کے دلوں میں انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے یہ بیٹھانا چاھتے تھے یہی کہ یہ ہم جیسے ہیں بشر بس اور یہی لوگ انبیاء کی عزت کم کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر کے انبیاء کی عزت کرنا چاھتے۔
      اس پوسٹ کو مکمل پڑھیں تو سمجھ لگ جاۓ گی حکیم الامت، مفسر شہیر علامہ،مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ نے بلکل صحیح بات کی ہے عین قرآن سے وہی بات ثابت ہے۔
      عقیدہ: 
      *عقیدہ اھلسنت: تمام انبیاء کرام علہم السلام بشر ہی ہیں بشریت کا انکار کفر ہے اورحضرت محمد صلی صلی اللہ علیہ وآلہ وسم کی نورانیت کا انکار کرنا گمراہی ہے۔ ان کمال،فضائل، خصائص بہت زیادہ ہیں انکو قرآن میں نور بھی کہا گیا احادیث میں بھی آیا مفہوم ہے کہ تم میں سے کوئی بھی  میری مثل نہیں۔ یہ باتیں قرآن و حدیث سے ثابت شدہ ہیں۔*
      *لیکن ان کو اپنے جیسا بشر کہنا اس انداز سے کہ  عوام کو باور کروایا جاۓ کہ انبیاء کوئی چیز ہی نہیں بس وہ نبی ہیں اور ان پر وحی آتی باقی ہم میں ان میں کوئی فرق نہیں اور نبی ایک انسان ہوتا ہے اس انداز سے کہنے کہ ہر نتھو پھتو ایرا غیرہ لولھا لنگڑا کانا سمجھے کہ ہم میں اور انبیاء میں کوئی فرق ہی نہیں یہ تو عام بات ہے ہم بھی بشر وہ بھی بشر اور بس فرق یہی ہے کہ ان وحی آتی ہے ہم پر نہیں۔اور خاص کر جب شان نبی علیہ السلام بیان کی جارہی ہو تو کچھ نام نہاد مولویوں کو تکلیف ہونا شروع ہو جاتی ہے وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے تو وہاں یہ رٹ لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ ہماری مثل بشر ہیں ہماری جیسے ہیں  بس تو ہم اس بات کی پرزور مزمت کرتے ہیں اور اس میں عوام الناس نبی کو عام انسان محسوس کرتی ہے اور نبوت کو عام سا عہدہ اور اس پر فائز نبی عام بشر سمجھنے لگتے ہیں۔*
      *2: اعتراض:.*
       بات یہ کہ تم نبی کو خدا بنا دیتے ہو یا اس کو خدا کے برابر کر دیتے ہو اور لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ نبی نہیں خدا ہے اس لیے ہم یہ بات ادھر کرتے ہیں۔
      *الجواب بعون الوہاب:.*
      اگر یہ بات سچ ہے تو آپ وہاں اپنے جیسا بشر ثابت کرنے کہنے کی بجاۓ پوچھ لیا کریں کہ تم نبی کو اللہ(خدا) یا اللہ کا بیٹا یا فرشتہ یا کچھ اور سمجھتے ہو تو پھر جو جواب ملے گا سن لینا یقینا جواب یہی ہوگا ہم بتا دیتے ہیں اور یہی کہا جاۓ گا کہ بے مثل بشر سمجھتے ہیں ان کی مثل اللہ نے ان کے مرتبہ و مقام کا بنایا ہی نہیں کسی کو۔
       بے شک تمام ابییاء بشر ہیں۔
      تو اگر یہی جواب ملے تو پھر سمجھ جائیں حق کیا ہے۔
      ھدایت اللہ ہی عطا کرتا ہے ہمارا کام آپ کو حق بتانا ہے۔
      ✍️اصل علمی تحریر لکھنے کا مقصد یہ ہے اسے بھی پڑھ لیں:.✍️
      کچھ جاہل قسم کے لوگ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ پر زبانیں کستے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہاں ہے کوئی ایک آیت لاو جس میں ہو کہ انبیاء کو بشر کہنے والے کافر ہوں۔ ایسا مطالبہ کرنے والے یقینا جاہل ہی ہو سکتے جو قرآن کو کبھی نہ پڑھنے والے ہی ہو ہوسکتے ہیں  ورنہ اس بات کا مطالبہ ہی نہ کرتا
      ہم کچھ آیات پیش کرتے ہیں تاکہ جہلا سمجھ سکیں کہ قرآن میں سچی بات ہے کفار نے یہی کہا انبیاء علیہم السلام کو کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو۔
      حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر نور العرفان  میں یہ بات کی ہے۔ آپ نے بلکل ٹھیک کہا ہے ایسا ہی ہے۔ اور مفتی صاحب قرآن کو گہری نظر سے سمجھنے والے انسان تھے اللہ ان کے درجات بلند فرماۓ اور سیدی  معصوم کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی شفاعت فرمائیں اور ساتھ ہی ساتھ ہماری بھی آمین۔

      ✍️✍️✍️قرآنی دلائل: ۔
      *بسم اللہ الرحمن الرحیم*
      1: *نمبر ایک الشعراء 186*
      وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَا وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِيْنَ.
      ترجمہ: تم تو نہیں مگر ہم جیسے بشر اور بیشک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اس آیت مبارکہ شان نزول دیکھ لیجیے گا کن لوگوں نے کہا تھا یہ کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      2: *نمبر دو سورۃ الإسراء نمبر 94*
      وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَهُمُ الۡهُدٰٓى اِلَّاۤ اَنۡ قَالُـوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا‏.
      ترجمہ: اور لوگوں کو ایمان لانے سے صرف یہ چیز مانع ہوئی کہ جب بھی ان کے پاس ہدایت آئی تو انہوں نے کہا کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے.
      (محمد عمران علی حیدری)
      3: *سورۃ المؤمنون آیت 24*
      فَقَالَ الۡمَلَؤُا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّـتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِكَةً ۖۚ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰذَا فِىۡۤ اٰبَآئِنَا الۡاَوَّلِيۡنَ‌.
      ترجمہ: پس ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا یہ تو محض تمہاری مثل بشر ہیں جو تم پر فضیلت اور بڑائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اگر اللہ کسی کو بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو نازل کردیتا، ہم نے تو اس بات کو اپنے پہلے باپ دادا میں سے کسی سے نہیں سنا.
      (محمد عمران علی حیدری)
      4: *سورۃ المؤمنون آیت 33*
      وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ ۙ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَيَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ.
      ترجمہ: اور رسول کی قوم کے وہ *کافر سردار* جنہوں نے آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی تھی اور جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں فراوانی عطا فرمائی تھی وہ کہنے لگے یہ رسول صرف *تمہاری مثل بشر ہے* یہ ان ہی چیزوں میں سے کھاتا ہے جن سے تم کھاتے ہو اور ان ہی چیزوں سے پیتا ہے جن سے تم پیتے ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      5: *سورۃ المؤمنون آیت 34*
      وَلَئِنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّثۡلَـكُمۡ اِنَّكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَۙ.
      ترجمہ: اور اگر تم نے اپنے جیسے بشر کی اطاعت کی تو تم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائو گے.
      (محمد عمران علی حیدری)
      6: *سورۃابراهيم آیت 10*
      قَالَتۡ رُسُلُهُمۡ اَفِى اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ يَدۡعُوۡكُمۡ لِيَـغۡفِرَ لَـكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُؤَخِّرَكُمۡ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَاؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ.
      ترجمہ: ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ کے متعلق شک ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے بعض گناہ ہوں کو بخش دے اور موت کے مقرر تک تم کو عذاب سے مئو خر رکھے، انہوں نے کہا *تم تو محض ہماری مثل بشر ہو* تم تو یہ چاہتے ہو کہ ہمیں ان معبودوں سے روک دو جن کی ہمارے آباؤاجداد پرستش کرتے تھے سو تم ہمارے پاس کوئی روشن دلیل لاؤ.
      (محمد عمران علی حیدری)
      7: *سورۃ يس آیت 15*
      قَالُوۡا مَاۤ اَنۡـتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُـنَا ۙ وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَىۡءٍۙ اِنۡ اَنۡـتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ.
      ترجمہ: ان لوگوں نے کہا *تم تو صرف ہماری مثل بشر ہو* اور رحمٰن نے کچھ نازل نہیں کیا تم محض جھوٹ بولتے ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      8: *سورۃ الأنبياء آیت 3*
      لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ‌ ؕ وَاَسَرُّوا النَّجۡوَى‌ۖ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ‌ۖ  هَلۡ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ‌ ۚ اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ.
      ترجمہ: ان کے دل کھیل کود میں ہیں، اور ظالموں نے آپس میں یہ سرگوشی کی کہ یہ شخص تو تمہاری ہی مثل بشر ہے کیا تم جانتے وبجھتے جادو کے پاس جا رہے ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      مفہوم کلام:۔
      ثابت ہوا کہ کفار نے انبیاء کرام علیہم السلام کو اپنے جیسا بشر کہا اور انبیاء کی عزت کم کرتے اور ان کی دعوت کا انکار کرتے اور اور اپنے جسا بشر کہے کر لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے نفرت پیدا کرنا چاھتے تھے۔ اور ان کو عام بشر کہتے تھے۔
      پس جو کہتا ہے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی ؒ نے غلط کہا تو وہ آنکھیں کھول کے بار بار پڑھیں اس تحریر کو 
      پس حق یہی ہے مفتی صاحب کا موقف قرآن سے ثابت ہے۔
      اب اگر کوئی مفتی صاحب پر اعتراض کرے اسی بات کی وجہ سے تو پھر یہ علمی اختلاف نہیں بلکہ مخالفت ہے۔
       إن شاءالله ایک اور تحریر نور و بشر پر بنانی ہے اس میں بہت سارا علمی مواد ہوگا وقت ملتے ہی بنائی جاۓ گی إن شاءالله۔
      *(طالب دعا محمد عمران علی حیدری)*
      24.01.2022.
       
×
×
  • Create New...