Jump to content
IslamiMehfil

حدیث کے چند اقسام ہیں جو درج ذیل ہیں


Recommended Posts

از
مفتی ابو اسامہ سائر القادری حفظہ الله|

 

اقسام حدیث باعتبار اصل یعنی اصل کے اعتبار سے حدیث کی تین قسمیں ہیں۔ (۱) مرفوع (۲) موقوف (۳) مقطوع

پھر حدیث خواہ مرفوع ہو یا موقوف ہو یا مقطوع ہو ان میں سے ہر ایک کی تین قسمیں ہیں۔  

(۱) قولی  (۲) فعلی  (۳) تقریری ۔

 

اقسام حدیث باعتبار نقل یعنی نقل کے اعتبار سے حدیث کی دوقسمیں ہیں  (۱) متواتر  (۲) غیر متواتر۔

 

پھر راویوں کے تعداد کے اعتبار سے حدیث کی تین قسمیں ہیں۔ (۱) مشہور  (۲) عزیز  (۳) غریب۔

 

پھر مراتب کے اعتبار سے حدیث کی چار قسمیں ہیں۔ (۱) صحیح لذاتہ  (۲) صحیح لغیرہ  (۳) حسن لذاتہ  (۴) حسن لغیرہ۔

(ماخوذ: اصول علم حدیث صفحہ ۵ ، تا ۹)

 

اور حدیث کے منکر پر حکم شرع یہ ہے کہ اگر کسی نے حدیث کا انکار کیا تو وہ کافر ہے

میرے آقا اعلٰی حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: حدیث متواتر کے انکار پر حکم تکفیر کی جاتی (یعنی حکم کفر لگایا جاتا) ہے خواہ متواتر باللفظ ہو یا متواتر المعنیٰ اور حدیث ٹھہرا کر جو کوئی استخفاف کرے تو یہ مطلقا کفر ہے اگرچہ حدیث احاد بلکہ ضعیف بلکہ فی الواقع اس سے بھی نازل (یعنی کم درجہ) ہو۔ ( فتاویٰ رضویہ جلد ۱۴ صفحہ ۲۸۰)

 

نوٹ: حدیث ٹھہرا کر انکار کرنے کا معنیٰ یہ ہے کہ قائل یہ مراد لے کہ فلاں بات سرکار کائنات ﷺ نے معاذ اللہ غلط ارشاد فرما دی تو یہ قائل قطعی کافر و مرتد ہے۔

 

اور رہی بات مطلقاً حدیث کا انکار کرنے والا کافر ہے یا کسی خاص حدیث کا انکار کرنے والا کافر ہے؟ تو جان لیجئے کہ مطلقاً حدیث کا انکار کرنے والا شخص کافر ہے اور کسی خاص حدیث کا انکار کرتا ہے اور وہ حدیث مجروح ہو تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں اور اگر کسی حدیث صحیح کا انکار کرتا ہے اور جانتا بھی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے تو وہ شخص گمراہ ہے۔ اس پر توبہ تجدید ایمان لازم و ضروری ہے۔

 

جیسا کہ فتاویٰ شارح بخاری میں ہے: حدیث کا مطلقاً انکار کرنے والا کافر ہے۔ مثلاً کوئی یہ کہے کہ میں حدیث نہیں مانتا۔ لیکن اگر کسی نے کسی خاص حدیث کے بارے میں کہا کہ میں اسے نہیں مانتا اور وہ حدیث مجروح ہے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں لیکن اگر کسی حدیث صحیح کے بارے میں یہ کہا اور اسے معلوم بھی ہو کہ یہ حدیث صحیح ہے تو وہ گمراہ ہے اور اگر کسی نے یہ کہا میں پوری کتاب (مشکوٰۃ) میں جو حدیثیں ہیں (یعنی یہ کہا کہ مشکوٰۃ میں جتنی حدیثیں ہیں ان میں سے کسی کو نہیں مانتا) اس کو نہیں مانتا تو وہ بھی ضرور کافر ہے اس پر توبہ تجدید ایمان تجدید نکاح لازم ہے۔ ( فتاویٰ شارح بخاری جلد اول صفحہ ۵۶۴، ۵۶۵)

 

 

اور فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں ہے: اگر کسی شخص نے حدیث کا انکار کیا اگر وہ بیان کردہ حدیث متواتر ہے اور وہ شخص اس کا منکر ہے تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں اس پر علانیہ توبہ استغفار واجب ہے۔ بیوی والا ہو تو نکاح جدید بمہر جدید کرے اور تجدید ایمان بھی کرے اگر مرید ہے تو بیعت بھی کرے اگر وہ حدیث مشہور ہے تو اس کا منکر کافر نہیں بلکہ وہ گمراہ مسلمان ہے۔ (فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ ۱۰۹)

 

 

اور منکرِحدیث کے بارے میں   میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت ، مولاناشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرضوان فرماتے ہیں : جو شخص حدیث کا منکر ہے وہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا منکر ہے اور جو نبی  صَلَّی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا منکر ہے وہ قرآن مجید کا منکر اور جو قراٰن مجید کا منکر ہے اللّٰہ واحد قہار کا منکر ہے اور جو اللّٰہ کا منکر ہے صریح مرتد کافِر ہے ۔       

(فتاوٰی رضویہ جلد ۱۴ صفحہ ۳۱۲)

 واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

Link to post
Share on other sites
  • 2 weeks later...

P-1
حدیث
حدیث: حدیث کا لغوی معنی قدیم کی ضد ہے اور اس کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی طرف جس قول، فعل، تقریر یا وصف کی نسبت کی گئی ہے اس کا بیان۔
سنت: لغت میں سنت کا معنی ہے طریقہ اور سیرت۔ بعض علما کے کہا کہ سنت حدیث کے مترادف ہے۔
خبر: خبر اور حدیث مترادف ہیں اور یہی قول عام علما کا پسندیدہ ہے۔
اثر: یہ حدیث کا مترادف ہے اور ایک قول یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین کے اقوال اور افعال کو اثر کہتے ہیں۔
سند: راویوں کا وہ سلسلہ جو متن حدیث تک پہنچائے۔
متن: جس کلام تک پہنچ کر سند ختم ہو جائے، یعنی حدیث کی عبارت۔

کتب احادیث کی اقسام
مُسند: وہ کتاب جس میں ہر صحابی کی مرویات الگ الگ جمع ہوں۔
صحیح: جس کتاب کے مصنف نے صرف احادیث صحیحہ کا التزام کیا ہو۔
جامع: جس کتاب میں آٹھ عنوانوں کے تحت احادیث لائی جائیں اور وہ یہ عنوانات یہ ہیں، سیر، آداب، تفسیر، عقائد، فتن، احکام، اشراط، مناقب۔
سُنن: جس کتاب میں محض احکام سے متعلق احادیث ہوں۔
معجم: جس کتاب میں ترتیب شیوخ سے احادیث لائی جائیں۔
مستخرج: جس کتاب میں کسی اور کتاب کی احادیث کو ثابت کرنے کے لیے ان احادیث کو مصنف کتاب کے شیخ یا شیخ الشیخ کی دیگر اسناد سے وارد کیا جائے۔
مستدرک: جس کتاب میں مختلف ابواب کے تحت ان احادیث کو لایا جائے جو ان ابواب میں کسی اور مصنف سے رہ گئی ہوں۔
رسالہ: جس کتاب میں جامع کے آٹھ عنوانوں میں سے کسی ایک عنوان کے تحت احادیث ہوں۔
جزء" جس کتاب میں صرف ایک موضوع پر احادیث ہوں۔
اربعین: جس کتاب میں چالیس احادیث ہوں۔
امالی: جس کتاب میں شیخ کے املاء کرائے ہوئے فوائد حدیث ہوں۔
اطراف: جس کتاب میں حدیث کا صرف وہ حصہ ذکر کیا جائے جو بقیہ پر دلالت کرے اور پھر اس حدیث کے تمام طرق اور اسانید بیان کر دیے جائیں یا بعض کتب مخصوصہ کی اسانید بیان کی جائیں۔
مصنف: جس کتاب کی ترتیب فقہی ابواب پر ہو اور اس میں آثار صحابہ اور اقوال تابعین و تبع تابعین بکثرت ہوں۔

Part-2
علم الحدیث روایۃً
یہ وہ علم ہے جو نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال، ان اقوال اور افعال کی روایت، ان کے ضبط اور ان کے الفاظ کی تحریر پر مشتمل ہو۔

علم الحدیث درایۃً
یہ وہ علم ہے جس سے روایت کی حقیقت، اس کی شرائط، اقسام، احکام، راویوں کے احوال اور ان کی شرائط، مرویات کی اقسام اور ان کے متعلقات کی معرفت ہو۔

ہم تک حدیث پہنچنے کے اعتبار سے حدیث کی دو اقسام ہیں، خبر متواتر اور خبر واحد۔

خبر متواتر: تواتر کا لغوی معنی ہے کسی چیز کا یکے بعد دیگرے اور لگاتار آنا۔ اس کا اصطلاحی معنی ہے کہ کسی حدیث کو اس قدر زیادہ لوگ بیان کرنے والے ہوں کہ عقل کے نزدیک ان کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو۔

خبر متواتر کے لیے شرط ہے کہ اس کے روایت کرنے والے کثیر ہوں، یہ کثرت سند کے تمام طبقات میں پائی جائے یعنی ابتدا سے انتہا تک راوی کثیر ہوں، یہ کثرت اس درجہ کی ہو کہ ان کا عادۃً جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو، اس خبر کی سند کی انتہا احساس اور مشاہدہ پر ہو۔ خبر متواتر علم ضروری کا فائدہ دیتی ہے جس کی تصدیق سننے والا غیر اختیاری طور پر کرتا ہے، گویا کہ اس نے اس کا خود مشاہدہ کر لیا ہو۔
خبر متواتر لفظی: جس کے الفاظ اور معنی دونوں متواتر ہوں۔

خبر متواتر معنوی: جس کے صرف معنی متواتر ہوں، الفاظ متواتر نہ ہوں۔

خبر واحد: از روئے لغت خبر واحد وہ حدیث ہے جس کو ایک شخص روایت کرے۔ خبر واحد کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ جس حدیث میں خبر متواتر کی کوئی ایک شرط نہ ہو وہ خبر واحد ہے۔ اس کی تین اقسام ہیں:
مشہور: مشہور وہ حدیث ہے جو دو سے زائد سندوں سے مروی ہو اور حد تواتر سے کم ہو۔
عزیز: حدیث عزیز وہ ہے جس میں سند کے کسی طبقہ میں دو سے کم راوی نہ ہوں۔
غریب: غریب اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند میں کسی جگہ بھی راوی اس روایت میں متفرد ہو

Part-3

قوت اور ضعف کے اعتبار سے حدیث کی تقسیم
خبر الآحاد یعنی مشہور، عزیز اور غریب کی قوت اور ضعف کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں۔
مقبول: یہ وہ قسم ہے جس میں خبر کا صدق راجح ہوتا ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے استدلال جائز ہے اور اس کےمقتضیٰ پر عمل کرنا واجب ہے۔ اس کی تین اقسام ہیں۔
صحیح لذاتہ: جس حدیث کی سند متصل ہو اور اس کے راوی عادل اور تام الضبط ہوں، وہ حدیث غیر شاذ اور غیر معلل ہو۔
صحیح لغیرہ: اگر حدیث صحیح لذاتہ کی صفات میں سے ضبط روایت میں کچھ کمی ہو لیکن اس کمی کی تلافی تعدد اسانید سے ہو جائے تو اسے صحیح لغیرہ کہتے ہیں۔
حسن لذاتہ: حسن وہ حدیث متصل ہے جس کے عادل راوی کا ضبط کم ہو اور وہ منکر الحدیث ہونے سے بری ہو اور اس کی حدیث شاذ اور معلل نہ ہو۔
حسن لغیرہ: حدیث حسن لغیرہ دراصل حدیث ضعیف ہے جب کہ وہ متعدد سندوں سے مروی ہو۔
مردود: یہ وہ قسم ہے جس میں خبر کا صدق راجح نہیں ہوتا اور اس کی وجہ خبر مقبول کی ایک یا ایک سے زائد شرائط کا فقدان ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہوتا اور نہ اس کے مقتضیٰ پر عمل کرنا واجب ہے۔
حدیث ضعیف: ہر وہ حدیث جس میں صحیح اور حسن کی ایک یا ایک سے زائد صفات نہ ہوں وہ حدیث ضعیف ہے۔
حدیث معلق: جب مصنف کے تصرف سے سند کے اول سے راوی کو ساقط کر دیا جائے تو وہ حدیث معلق ہے۔
حدیث مرسل: جس حدیث کی سند کے آخر میں تابعی کے بعد راوی (صحابی) کو حذف کر دیا جائے وہ مرسل ہے۔
حدیث معضل: جس حدیث کی سند میں دو یا دو سے زیادہ راوی متواتر ساقط ہوں۔
حدیث منقطع: منقطع وہ حدیث ہے جس میں کسی وجہ سے بھی عدم اتصال ہواور اس کا اکثر اطلاق اس حدیث پر ہوتا ہے جس میں تابعی کے نیچے درجہ کا کوئی شخص صحابی سے روایت کرے۔
حدیث مدلّس: اس کا معنی ہے سند میں کسی عیب کا چھپانا اور اس کے ظاہر کی تحسین کرنا۔
حدیث مرسل خفی: جو حدیث راوی کے ایسے معاصر سے صادر ہوئی ہو جس نے اس شخص سے ملاقات نہ کی ہو جس نے اس کو وہ حدیث بیان کی ہو، بلکہ اس معاصر اور حدیث بیان کرنے والے کے درمیان واسطہ ہو۔
حدیث معنعن: معنعن وہ حدیث ہے جس میں راوی عن فلاں عن فلاں کہے۔
راوی میں طعن کا بیان: راوی میں طعن کا مطلب یہ ہے کہ راوی پر زبان سے جرح کی جائے اور اس کی عدالت اور دینداری اور اس کے ضبط و حفظ اور بیدار مغزی سے بحث کی جائے۔
حدیث موضوع: جب راوی میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنے کا طعن ہو تو اس کی حدیث موضوع کہلاتی ہے۔ جو جھوٹی بات گھڑ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دی گئی ہواس کو حدیث موضوع کہتے ہیں۔
حدیث متروک: یہ وہ حدیث ہے جس کی سند میں کوئی ایسا راوی ہو جس پر کذب کی تہمت ہو۔
حدیث منکر: جب راوی میں فحش غلطی یا کثرت غفلت یا فسق کا طعن ہو تو اس کی حدیث کو منکر کہتے ہیں۔
حدیث معروف: اگر ضعیف راوی ثقہ کی مخالفت کرے تو ضعیف کی روایت کو منکر اور ثقہ کی روایت کو معروف کہتے ہیں۔
حدیث شاذ اور حدیث محفوظ: جو راوی ضبط کی زیادتی، کثرت عدد یا دوسری وجوہ ترجیح سے راجح ہو اس کی روایت کو محفوظ کہتے ہیں اور جو اس راجح راوی کی مخالفت کرے اور وہ اس کی بہ نسبت مرجوح ہو، اس کی روایت کو شاذ کہتے ہیں۔
حدیث معلل: اگر قرائن سے راوی کے اس وہم پر اطلاع ہو جائے کہ وہ مرسل یا منقطع کو موصول قرار دیتا ہے اور اسی قسم کے اوہام جو حدیث میں طعن کا موجب ہیں، تو یہ حدیث معلل ہے۔
حدیث مدرج: جس حدیث کی سند میں تغییر کی وجہ سے ثقات کی مخالفت ہو وہ مدرج الاسناد ہے۔
حدیث مقلوب: حدیث مقلوب اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند یا متن میں کسی لفظ کو بدل دیا جائے یا مقدم کو موخر اور موخر کو مقدم کر دیا جائے۔

P-4
حدیث مضطرب: مضطرب وہ حدیث ہے جو مختلف سندوں سے مروی ہو یا ان کی روایت مختلف ہو اور وہ سندیں مساوی قوت کی ہوں۔ اگر سندیں مساوی نہ ہوں تو راجح اور مرجوح میں سے کوئی بھی مضطرب نہ ہو گی، راجح حدیث کو صحیح قرار دیا جائے گا اور مرجوح شاذ یا منکر قرار پائے گی۔
حدیث مصحف: جس حدیث میں ثقہ راویوں کی مخالفت کسی حرف یا حروف کے تغیر سے کی گئی اور لکھنے کی صورت باقی ہو، اگر صرف لفظوں میں مخالفت ہو تو اس کو مصحف کہتے ہیں اگر شکل میں مخالفت ہو تو اس کو محرف کہتےہیں۔
مجہول راوی: مجہول راوی اس کو کہتے ہیں جس کی ذات اور شخصیت کا پتا نہ چلے یا ذات اور شخصیت کا پتا ہو لیکن اس کی صفت کا پتا نہ ہو کہ آیا وہ عادل ہے یا غیر عادل۔ مجہول کی روایت کا کوئی مستقل نام نہیں ہے اور اس کی روایت کو حدیث ضعیف کی اقسام میں شمار کیا جاتا ہے۔
مبہم راوی: مبہم راوی کی روایت کو بھی مجہول کی اقسام میں شمار کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی حدیث ضعیف کی قسم ہے اور اس کا کوئی مستقل نام نہیں ہے۔
بدعتی راوی: بدعتی کی روایت کردہ حدیث کا کوئی مستقل نام نہیں ہے تاہم اس کو حدیث مردود کی اقسام میں شمار کیا جاتا ہے۔
حدیث مسند: جس حدیث مرفوع کی نبی کریم ﷺ تک سند متصل ہو۔
حدیث متصل: جس حدیث کی سند متصل ہو، خواہ وہ مرفوع ہو یا کسی پر بھی موقوف ہو، اس کو موصول بھی کہتے ہیں۔

P-5
یاد رکھنے والی بات:
عقائد میں علم یقین درکار ہوتا ہے اور حدیث جب تک مشہور متواتر نہ ہو اس کا ثبوت نہیں دیتی۔ حدیث احاد اگرچہ تمام شرائط صحت کی جامع ہو، ظن ہی کا فائدہ دیتی ہے اور معاملہ اعتقاد میں ظنیات کا کچھ اعتبار نہیں۔

دوسرا درجہ احکام کا ہے کہ ان کے لئے اگرچہ اتنی قوت درکار نہیں لیکن حدیث کا صحیح لذاتہ خواہ لغیرہ یا حسن لذاتہ یا کم سے کم لغیرہ ہونا ضروری ہے۔ جمہور علما یہاں ضعیف حدیث قبول نہیں کرتے۔

تیسرا مرتبہ فضائل و مراتب کا ہے۔ یہاں بالاتفاقِ علما، ضعیف حدیث بھی کافی ہے۔ مثلاً کسی حدیث میں ایک عمل کی ترغیب آئی، کہ جو ایسا کرے گا اتنا ثواب پائے گا، یا کسی نبی یا صحابی کی خوبی بیان ہوئی کہ انھیں اللہ عزوجل نے یہ مرتبہ بخشا، یہ فضل عطا فرمایا، تو ان کے مان لینے کو ضعیف حدیث بھی کافی ہے۔

فتح المبین میں ہے کہ حدیث ضعیف پر فضائل اعمال میں عمل اس لیے ٹھیک ہے کہ اگر واقع میں صحیح ہوئی تو جو اس کا حق تھا کہ اس پر عمل کیا جائے، وہ ادا ہو گیا، اور اگر صحیح نہ بھی ہو تو اس پر عمل کرنے میں کسی تحریم یا کسی کی حق تلفی کا مفسدہ نہیں ۔

فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کا معنی یہ ہے کہ استحباب مانا جائے ورنہ نفسِ جواز تو اباحتِ اصلیہ سے خود ہی ثابت ہے، اس میں حدیث ضعیف کا کیا دخل ہوا، تو ورود حدیث کے سبب فعل کو ترجیح دی جائے، اور یہی استحباب ہے، کیونکہ یہ ضعیف حدیث پر عمل نفس اباحت سے ایک زائد چیز ہے لہٰذا مستحب ہے۔ چنانچہ جس کے پاس کوئی حدیث ضعیف پہنچے کہ جو فلاں فعل کرے گا اتنا فائدہ پائے گا، اسے چاہئے کہ نیک نیتی سے اس پر عمل کرے اور تحقیقِ صحت کے پیچھے نہ پڑے، وہ ان شاءاللہ اپنی حسن نیت سے اس نفع کو پہنچ جائے گا۔

تقریب و تدریب میں ہے کہ کسی حدیث کو ضعیف کہا جائے تو معنی یہ ہیں کہ اس کی اسناد شرط مذکور پر نہیں، نہ یہ کہ واقع میں جھوٹ ہے۔ یعنی ضعیف کے یہ معنی نہیں کہ وہ واقع میں باطل ہے بلکہ یہ کہ جو شرطیں محدثین نے اعتبار کیں ان پر پوری نہ اتری۔

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      مسجد میں باتیں کرنے سے اعمال برباد
       
      یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے
       
      من تكلم بكلام الدنيا في المسجد أحبط الله أعماله أربعين سنة
      جو شخص مسجد میں دنیاوی باتیں کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے چالیس سال کے اعمال کو ضائع کر دے گا۔
       
      امام صغانی٬ امام ملا علی قاری٬ محدث أبو طاہر پٹنی٬ علامہ شوکانی اور عجلونی اور علامہ محمد بن خلیل الحنفی رحمہم اللہ تعالی ان ساروں نے اس روایت کو موضوع قرار دیا
       
      ( كتاب الموضوعات للصغاني ص39 )
      ( كتاب تذكرة الموضوعات للفتني ص36 )
      ( كتاب الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ص338 )
      ( كتاب الفوائد المجموعة ص24 )
      ( كتاب كشف الخفاء ت هنداوي 2/285 )
      ( كتاب اللؤلؤ المرصوع ص178 )
       
       
      اس روایت کو امام احمد رضا بریلوی رحمہ اللہ نے بھی فتویٰ رضویہ میں نقل کیا جو کہ ان کا تسامح ہے
      ( فتویٰ رضویہ 16/311 مسئلہ نمبر :- 149 )
       
      نثار احمد خان مصباحی صاحب نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے مفتی حسان عطاری صاحب کی کتاب " تحقیق المعتمد في رواية الكذاب ودرجات السند " کی تقریظ میں اصل کتاب کا اسکین ساتھ دے دیا جائے گا
       
      انہوں نے ثابت کیا کہ اس پر وضع کا قرینہ ظاہر ہے جس کی وجہ سے یہ روایت موضوع ہے ... اور صاحب کتاب مفتی حسان عطاری صاحب نے بھی موافقت کی کوئی تعاقب نہیں کیا
      ( تحقیق المعتمد ص32/34 )
       
      امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ وضع حدیث کے ایک قرینہ کا ذکر فرماتے ہیں
      وما به وعد عظيم او وعيد ... على حقير وصغيرة شديد
      یعنی جس میں کسی چھوٹے عمل پر عظیم بشارت ہو یا کسی چھوٹے گناہ پر شدید وعید
       
      کتاب کے محقق شیخ محمد بن علی بن آدم اثیوبی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
       
      وحاصل المعنى : أنه يعرف كون الحديث موضوعاً بالإفراط في الوعد العظيم على الفعل الحقير، والوعيد الشديد على الأمر الصغير، وهذا كثير في أحاديث القصاص
      خلاصہ کلام یہ کہ معلوم ہوا وہ حدیث موضوع ہوتی ہے جس میں حقیر ( چھوٹے ) عمل پر عظیم ( حد سے زیادہ ) بڑی وعد ( بشارت ) سنائی جائے اور اسی طرح چھوٹے ( گناہ ) پر شدید وعید سنائی جائے اور یہ قرینہ کثرت سے قصاص کی احادیث میں پایا جاتا ہے
      ( شرح ألفية السيوطي في الحديث ص293 )
       
       
      اب یہ بات ایک عام انسان بھی بتا دے گا کہ مسجد میں کلام کرنے سے چالیس سال کے اعمال برباد ہو جانا یہ یقیناً چھوٹے گناہ پر بہت بڑی وعید ہے جو کہ وضع کی دلیل ہے. اسی وجہ سے آئمہ حدیث نے اس روایت کو بالجزم موضوع کہا
       
      اسی طرح اس روایت پر وضع حدیث کا دوسرا قرینہ بھی ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ اس روایت کا وجود کتب احادیث میں نہیں ہے
       
      علم حدیث کا مشہور قاعدہ ہے کے ہر وہ حدیث جس کا وجود کتب احادیث میں نہ ہو حفاظ کے سینوں میں نہ ہو اور وہ ایسے زمانے میں ظاہر ہو جب تدوین حدیث مکمل ہوچکی ہے تو وہ روایت موضوع کہلائے گی
       
       
      امام ابن الجوزی م597ھ رحمہ اللہ تعالیٰ موضوع حدیث کے قرائن بیان فرماتے ہیں
       
      إذا رأيت الحديث يباين المعقول أو يخالف المنقول أو يناقض الأصول فاعلم أنه موضوع
      جب تم کسی حدیث کو دیکھو کہ وہ معقول کے خلاف ہے یا منقول سے ٹکراتی ہے یا اصول سے مناقص ہے تو جان لو کہ وہ موضوع ہے
       
      امام ابن الجوزی کے اس بیانیہ کو محدثین نے قبول فرمایا لیکن فی الوقت ہمارا تعلق امام ابن الجوزی کے بیان کردہ تیسرے قرینہ سے ہے اصول سے مناقص ہونے کا مطلب امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں
       
      ومعنى مناقضته للأصول: أن يكون خارجا، عن دواوين الإسلام من المسانيد والكتب المشهورة
      امام سیوطی فرماتے ہیں اور مناقص اصول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ روایت اسلام کی مشہور کتب احادیث و مسانید سے خارج ہو . ( یعنی ان کتب میں موجود نہ ہو )
       
      ( كتاب الموضوعات لابن الجوزي 1/106 )
      ( كتاب تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي 1/327 )
       
       
      امام نور الدین ابن عراق الکنانی م963ھ رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں
       
      ما ذكره الإمام فخر الدين الرازي أن يروي الخبر في زمن قد استقرئت فيه الأخبار ودونت فيفتش عنه فلا يوجد في صدور الرجال ولا في بطون الكتب
      امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ نے جس چیز کا ذکر کیا وہ یہ ہے کہ حدیث اس زمانے میں روایت کی جائے یا ذکر کی جائے جب احادیث کا استقراء کیا جا چکا ہے اور تفتیش کے باوجود نہ محدثین کے سینوں میں ملے اور نہ کتب احادیث میں ( تو ایسی روایت موضوع ہوتی ہے )
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة 1/7 )
       
      یہی اصول فی زمانہ بریلوی مکتبہ فکر ( اہلسنت و جماعت ) کے مشہور و معروف عالم مفتی محمد شریف الحق امجدی صاحب نے بھی بیان کیا ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں
       
      " اس روایت کے جھوٹے اور موضوع ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ کسی حدیث کی معتبر کتاب میں یہ روایت مذکور نہیں "
      ( فتویٰ شارح بخاری 1/307 )
       
      لہذا اس اصول سے بھی یہ روایت منگھڑت ثابت ہوتی ہے والحمدللہ
       
       
      خلاصہ کلام یہ کہ ہم نے محدثین کا کلام بھی اس روایت کے تحت پیش کیا کہ انہوں نے اس کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا اور ہم میں وضع حدیث کے دو قرائن پر بھی اس روایت کو موضوع ثابت کیا لہذا اس روایت کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حرام ہے
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 22 ذو الحجہ 1443ھ
    • By Aquib Rizvi
      آگ أنبیاء علیہم السلام کے ہاتھ سے چھوئی ہوئی چیز کو نہیں جلاتی روایت کی تحقیق
       
       
      امام خطیب البغدادی م463ھ رحمہ اللہ نے فرمایا
      وأخبرنا الحسن، قال: حدثنا عبد الرحمن، قال: حدثنا أبو عمير الأنسي بمصر، قال: حدثنا دينار مولى أنس، قال: صنع أنس لأصحابه طعاما فلما طعموا، قال: يا جارية هاتي المنديل، " فجاءت بمنديل درن، فقال اسجري التنور واطرحيه فيه، ففعلت فابيض، فسألناه عنه، فقال: إن هذا كان للنبي صلى الله عليه وسلم وإن النار لا تحرق شيئا مسته أيدي الأنبياء "
      ( كتاب تاريخ بغداد ت بشار 11/589 )
      دینار مولی انس بیان کرتا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام کے لیے کھانے کا انتظام فرمایا جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنی لونڈی کو آواز دے کر فرمایا رومال لے آؤ . وہ جب رومال لائی تو وہ میلا تھا حضرت انس بن مالک نے فرمایا تندور کو ہلکا کر کے اس رومال کو تندور میں ڈال دو جب رومال تندور سے باہر نکالا گیا تو وہ سفید ہو گیا تھا صحابہ کرام نے پوچھا یہ کیسے تو حضرت انس بن مالک نے فرمایا یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا رومال ہے اور انبیاء علیہم السلام جس چیز کو چھو لیں آگ اسے نہیں جلاتی
       
      یہ روایت موضوع ہے
       
      أبو مكيس دينار بن عبد الله الحبشي متھم بالوضع راوی ہے اور اس پر خاص جرح یہ بھی ہے کہ اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے 100 کے قریب موضوع روایات بیان کیں لہذا اس کی حضرت انس بن مالک سے روایت موضوع قرار دی جائے گی
      امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
      وقال الحاكم: روى، عَن أَنس قريبا من مِئَة حديث موضوعة
      اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تقریباً 100 موضوع روایات بیان کیں ہیں
      امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی امام حاکم کی موافقت کی چنانچہ فرماتے ہیں
      قال ابن حبان: يروي، عَن أَنس أشياء موضوعة
      یہ انس بن مالک سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( لسان الميزان :- 3077 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اندازاً فرمایا کہ
      أن يروي عنه عشرين ألفا كلها كذب
      اس نے تقریباً بیس ہزار روایتیں بیان کیں جو سب کی سب جھوٹ ہیں
      ( ميزان الاعتدال 2/31 )
       
      نیز سند میں " أبو عمير الأنسي " بھی مجہول ہے
       
      امام احمد بن علی المقریزی م845ھ رحمہ اللہ نے حافظ ابونعیم اصفہانی رحمہ اللہ کے طریق سے اس کو اپنی کتاب میں نقل کیا
      فخرج أبو نعيم من حديث محمد بن رميح، قال: حدثنا عبد الله بن محمد بن المغيرة، حدثنا أبو معمر عباد بن عبد الصمد، قال: أتينا أنس بن مالك نسلم عليه، فقال: يا جارية، هلمي المائدة نتغدى، فأتته بها فتغدينا، ثم قال: يا جارية هلمي المنديل، فأتته بمنديل وسخ، فقال: يا جارية أسجرى التنور، فأوقدته، فأمر بالمنديل، فطرح فيه، فخرج أبيض كأنه اللبن. فقلت: يا أبا حمزة! ما هذا؟ قال: هذا منديل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح به وجهه، وإذا اتسخ صنعنا به هكذا، لأن النار لا تأكل شيئا مر على وجوه الأنبياء- عليهم السلام
      عباد بن عبدالصمد کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ دسترخوان لے آؤ ہم دوپہر کا کھانا کھائیں گے چنانچہ وہ اسے لے کر آئی اور ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا پھر آپ نے فرمایا اے لونڈی رومال لے آؤ تو پھر وہ ایک گندا رومال لے کر آئی پھر آپ نے لونڈی سے کہا کہ تندور کو روشن کرو اسے روشن کیا گیا اور وہ رومال تندور میں ڈالنے کا حکم دیا وہ جیسے ہی تندور میں ڈالا گیا دودھ کی طرح سفید ہو گیا . میں نے کہا: اے ابو حمزہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ رومال ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ انور پونچھتے تھے ، اور جب یہ میلا ہو جاتا تو ہم ایسا ہی کرتے کیونکہ آگ اس شے پر اثر نہیں کرتی جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کے چہرہ مبارک پر سے گذری ہو
      ( كتاب إمتاع الأسماع 11/254 )
       
       
      یہ بھی موضوع ہے
       
      1 : محمد بن رميح العامري مجہول ہے
       
      2 : عبد الله بن محمد بن المغيرة متھم بالوضع راوی ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے
       
      امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ سفیان ثوری اور مالک بن مغول سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة 1/75 )
       
      امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ایسی روایتیں بیان کرتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی امام ابن یونس نے اس کو منکر الحدیث قرار دیا
      ( كتاب الزهر النضر في حال الخضر ص76 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو متروک قرار دیا اور اس کی مرویات کو نقل کرکے انہیں موضوع قرار دیا
      ( كتاب تاريخ الإسلام - ت تدمري 14/219 )
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/487 )
       
      3 : أبو معمر عباد بن عبد الصمد بھی متھم بالوضع راوی ہے
       
      امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ یہ سخت ضعیف راوی ہے امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ غالی شیعہ ہے
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو " واہ " قرار دیا اور یہ جرح متروک درجے کے راویان پر کی جاتی ہے
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/369 )
      ( فتح المغيث للسخاوي 2/128 )
       
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے نقل کیا کہ عباد بن عبدالصمد نے سیدنا انس بن مالک سے ایک پورا نسخہ روایت کیا جو کہ اکثر موضوع من گھڑت روایات پر مشتمل ہے
      ( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 4/393 )
       
      اس مکمل تحقیق کے بعد خلاصہ کلام یہ ہوا کہ یہ اثر اپنی دونوں اسناد کے ساتھ موضوع من گھڑت ہے اس کو بیان کرنا جائز نہیں
      اسی طرح ایک من گھڑت قصہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا نے روٹیاں لگائیں اور نبی علیہ السلام نے بھی ایک روٹی لگائی باقی روٹیاں پک گئیں لیکن نبی علیہ السلام نے جو روٹی لگائی وہ نہیں پکی وغیرہ وغیرہ اس قصہ کا وجود بھی کسی حدیث٬ تاریخ٬ سیرت کی معتبر کتاب میں نہیں اللہ جانے صاحب خطبات فقیر نے اس ہوا ہوائی قصہ کو کہاں سے نکل کر لیا اپنی خطبات فقیر جلد دوم صفحہ 92/93 پر
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 15 ذو الحجہ 1443ھ
       
       
    • By Aquib Rizvi
      امام ابوالقاسم طبرانی م360ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      حدثنا بكر بن سهل، ثنا عبد الله بن يوسف، ثنا الهيثم بن حميد، عن رجل، عن مكحول، عن أبي أمامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «اتقوا البول، فإنه أول ما يحاسب به العبد في القبر»
       
      ( كتاب المعجم الكبير للطبراني :- 7605 )
       
      ترجمہ :- نبی علیہ السلام نے فرمایا پیشاب ( کی چھینٹوں ) سے بچو کیونکہ قبر میں سب سے پہلے اس کے بارے میں حساب لیا جائے گا
       
      اس سند میں امام مکحول سے روایت کرنے والا شخص مبھم ہے اور مبہم راوی کو پہچاننے کا طریقہ اصول حدیث کی کتاب تیسیر شرح مصطلح الحدیث میں یہ لکھا ہے 
       
      بوروده مسمى في بعض الروايات الأخرى
       
      یعنی دوسری روایات میں اس کے نام کا ذکر ہوا ہو
       
      ( كتاب تيسير مصطلح الحديث ص260 )
       
       
      اسی روایت کو امام طبرانی دوسری سند سے لائیں ہیں اور وہاں مکحول سے روایت کرنے والے راوی کا نام موجود ہے ملاحظہ ہو
       
      حدثنا محمد بن عبد الله بن بكر السراج، ثنا إسماعيل بن إبراهيم، ثنا أيوب، عن مكحول، عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اتقوا البول، فإنه أول ما يحاسب به العبد في القبر»
       
      ( كتاب المعجم الكبير للطبراني :- 7607 )
       
       
      بلکل وہی روایت ہے ایک لفظ کا بھی فرق نہیں اور راوی کا نام بھی واضح ہے *" أيوب بن مدرك الحنفي "* یہ راوی متھم بالکذب و وضع ہے مگر اس پر خاص جرح بھی ہے کہ اس کی امام مکحول شامی رحمہ اللہ سے روایات موضوع ہوتی ہیں
       
      اس راوی کو امام نسائی امام دارقطنی امام ابو حاتم رازی امام يحيى بن بطريق الطرسوسي رحمہمُ اللہ نے متروک الحدیث قرار دیا
       
      اور اسی راوی کو امام ابن معین رحمہ اللہ نے کذاب قرار دیا
       
      ( لسان الميزان :- 1382 )
       
       
      امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      يروي المناكير عن المشاهير ويدعي شيوخا لم يرهم ويزعم أنه سمع منهم، روى عن مكحول نسخة موضوعة ولم يره
       
      یہ مشہور راویوں سے منکر ( بمعنی باطل ) روایتیں بیان کرتا ہے اور ایسے شیوخ ( الحدیث ) سے احادیث سننے کا ( جھوٹا ) دعویٰ کرتا ہے جنہیں اس نے نہیں دیکھا اس نے امام مکحول شامی رحمہ اللہ سے من گھڑت روایات کا نسخہ روایت کیا حالانکہ اس نے امام مکحول کو نہیں دیکھا
       
      ( كتاب المجروحين لابن حبان ت حمدي :- 99 )
       
       
      لہذا ثابت ہوا یہ روایت موضوع ہے اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حلال نہیں
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین
       
    • By Aquib Rizvi
      یہ ایک موضوع ( منگھڑت ) روایت ہے
       
      اس کو امام الحسن الخلال نے فضائل سورہ اخلاص میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا
       
      حدثنا أحمد بن إبراهيم بن شاذان، ثنا عبد الله بن عامر الطائي، حدثني أبي، ثنا علي بن موسى، عن أبيه، موسى، عن أبيه، جعفر، عن أبيه، محمد، عن أبيه، علي، عن أبيه الحسين، عن أبيه علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «من مر على المقابر وقرأ قل هو الله أحد إحدى عشرة مرة، ثم وهب أجره للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات»
       
      كتاب فضائل سورة الإخلاص للحسن الخلال :- 54
       
      ترجمہ :- علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا جو شخص قبرستان سے گزرے اور گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کے اس کا ثواب مردوں کو ایصال کرے تو اس کو ان مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا
       
       
      اس سند عبد الله بن عامر الطائي ہے یہ خود تو متھم بالوضع ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے لیکن اس پر خاص جرح بھی ہے وہ یہ کہ اس نے اپنے والد کے واسطہ سے امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر ایک جھوٹا نسخہ بیان کیا ہے
       
      چناچہ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      عبد الله بن أحمد بن عامر، عن أبيه، عن علي الرضا، عن آبائه بتلك النسخة الموضوعة الباطلة، ما تنفك عن وضعه أو وضع أبيه
       
      ( كتاب ميزان الاعتدال :- 4200 )
       
      یعنی عبداللہ نے اپنے والد کے واسطے سے امام علی رضا اور انکے آباؤ اجداد یعنی اہل بیت سے ایک جھوٹا نسخہ باطل نسخہ روایت کیا ہے 
       
      امام ذہبی فرماتے ہیں یا تو اس نے اس نسخے کو گھڑا ہے یا اس کے باپ نے 
       
       
      اس روایت کو امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب الزیادات علی الموضوعات میں نقل کیا جو ان کے نزدیک اس روایت کے جھوٹے ہونے پر دلالت کرتا ہے
       
      ( كتاب الزيادات على الموضوعات 2/577 )
       
       
      اس کو دوسری سند کے ساتھ امام الرافعی رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں روایت کیا
       
      ( كتاب التدوين في أخبار قزوين 2/297 )
       
      لیکن اس سند میں بھی داؤد بن سليمان الغازي ہے یہ راوی بھی کذاب ہے اور اس نے بھی ایک گڑھا ہوا نسخہ بیان کیا ہے امام علی رضا رضی اللہ عنہ سے اس کو امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ اور امام ذہبی رحمہ اللہ دونوں نے کذاب قرار دیا
       
      كذبه يحيى بن معين، ولم يعرفه أبو حاتم، وبكل حال فهو شيخ كذاب له نسخة موضوعة على الرضا
       
      امام ذہبی فرماتے ہیں اسے یحییٰ بن معین نے کذاب قرار دیا امام ابوحاتم نے کہا میں اسے نہیں جانتا اور امام ذہبی فرماتے ہیں کہ یہ ایک جھوٹا شخص ہے جس کے پاس امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر گھڑا ہوا نسخہ تھا 
       
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/8 )
       
      حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی موافقت کی 
       
      ( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 3/397 )
       
       
      خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ ایک جھوٹی روایت ہے جس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حلال نہیں
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
    • By Aquib Rizvi
      امام الحافظ ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے فرمایا:
      حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا يحيى بن نصر الخولاني، ثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن زبان بن فائد، عن سهل بن معاذ، عن أبيه، رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من بر والديه طوبى له زاد الله في عمره» هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه "
      [التعليق - من تلخيص الذهبي]٧٢٥٧ - صحيح
      ( كتاب المستدرك على الصحيحين للحاكم - ط العلمية :- 7257 )
      ترجمہ :- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے اپنے والدین کی عزت کی، اللہ اس کی عمر میں برکت عطا فرمائے"۔
      اگرچہ امام حاکم اور امام ذہبی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے مگر اس کی سند میں علت قادحہ موجود ہے  
      سند میں زبان بن فائد اور سهل بن معاذ دونوں ضعیف الحدیث ہیں .
      اور تعجب کی بات ہے کہ دونوں کو خود امام ذھبی نے بھی ضعیف قرار دیا ہے .
      زبان بن فائد المصري عن سهل بن معاذ وعنه الليث وابن لهيعة فاضل خير ضعيف
      ( كتاب الكاشف للذہبی :- 1610 )
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس کو ضعیف قرار دیا 
      ( تقريب التهذيب 1/213 )
      اسی طرح سهل بن معاذ کو امام ذہبی اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس سے روایت کرنے میں خاص زبان بن فائد کی روایت پر کلام کیا .
      ہمارے علم کے مطابق کسی دوسرے محدث نے اس کو کسی دوسری سند سے بیان نہیں کیا لہذا یہ حدیث ضعیف ہے ۔
       
      لیکن والدین کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرنا اور ان کی عزت کرنا یہ دیگر درجنوں صحیح احادیث سے ثابت ہے جس کی بڑی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہیں :
      امیر المومنین فی الحدیث سید المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب الادب المفرد میں پہلی حدیث لائے ہیں 
       
      الادب المفرد :- 01 صحیح
       
      عمرو بن شیبانی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ ہمیں اس گھر والے نے بتایا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔“ میں نے کہا: اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔“ میں نے کہا: اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ کے رستے میں جہاد کرنا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے انہی سوالوں پر اکتفا کیا، اگر میں مزید درخواست کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید چیزیں بتا دیتے۔
      فقط واللہ و رسولہ اعلم 
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
×
×
  • Create New...