Jump to content
IslamiMehfil

حدیث جو شخص قبرستان سے گزرے اور گیارہ مرتبہ قل ہو اللہ ( سورۃ اخلاص ) پڑھ کے اس کا ثواب مردوں کو ایصال کرے تو اسے ان مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا کی تحقیق


Recommended Posts

یہ ایک موضوع ( منگھڑت ) روایت ہے

 

اس کو امام الحسن الخلال نے فضائل سورہ اخلاص میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا

 

حدثنا أحمد بن إبراهيم بن شاذان، ثنا عبد الله بن عامر الطائي، حدثني أبي، ثنا علي بن موسى، عن أبيه، موسى، عن أبيه، جعفر، عن أبيه، محمد، عن أبيه، علي، عن أبيه الحسين، عن أبيه علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «من مر على المقابر وقرأ قل هو الله أحد إحدى عشرة مرة، ثم وهب أجره للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات»

 

كتاب فضائل سورة الإخلاص للحسن الخلال :- 54

 

ترجمہ :- علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا جو شخص قبرستان سے گزرے اور گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کے اس کا ثواب مردوں کو ایصال کرے تو اس کو ان مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا

 

 

اس سند عبد الله بن عامر الطائي ہے یہ خود تو متھم بالوضع ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے لیکن اس پر خاص جرح بھی ہے وہ یہ کہ اس نے اپنے والد کے واسطہ سے امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر ایک جھوٹا نسخہ بیان کیا ہے

 

چناچہ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

 

عبد الله بن أحمد بن عامر، عن أبيه، عن علي الرضا، عن آبائه بتلك النسخة الموضوعة الباطلة، ما تنفك عن وضعه أو وضع أبيه

 

( كتاب ميزان الاعتدال :- 4200 )

 

یعنی عبداللہ نے اپنے والد کے واسطے سے امام علی رضا اور انکے آباؤ اجداد یعنی اہل بیت سے ایک جھوٹا نسخہ باطل نسخہ روایت کیا ہے 

 

امام ذہبی فرماتے ہیں یا تو اس نے اس نسخے کو گھڑا ہے یا اس کے باپ نے 

 

 

اس روایت کو امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب الزیادات علی الموضوعات میں نقل کیا جو ان کے نزدیک اس روایت کے جھوٹے ہونے پر دلالت کرتا ہے

 

( كتاب الزيادات على الموضوعات 2/577 )

 

 

اس کو دوسری سند کے ساتھ امام الرافعی رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں روایت کیا

 

( كتاب التدوين في أخبار قزوين 2/297 )

 

لیکن اس سند میں بھی داؤد بن سليمان الغازي ہے یہ راوی بھی کذاب ہے اور اس نے بھی ایک گڑھا ہوا نسخہ بیان کیا ہے امام علی رضا رضی اللہ عنہ سے اس کو امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ اور امام ذہبی رحمہ اللہ دونوں نے کذاب قرار دیا

 

كذبه يحيى بن معين، ولم يعرفه أبو حاتم، وبكل حال فهو شيخ كذاب له نسخة موضوعة على الرضا

 

امام ذہبی فرماتے ہیں اسے یحییٰ بن معین نے کذاب قرار دیا امام ابوحاتم نے کہا میں اسے نہیں جانتا اور امام ذہبی فرماتے ہیں کہ یہ ایک جھوٹا شخص ہے جس کے پاس امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر گھڑا ہوا نسخہ تھا 

 

( كتاب ميزان الاعتدال 2/8 )

 

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی موافقت کی 

 

( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 3/397 )

 

 

خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ ایک جھوٹی روایت ہے جس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حلال نہیں

 

 

فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب

 

خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی

  • Like 1
Link to post
Share on other sites
21 hours ago, Aquib Rizvi said:

یہ ایک موضوع ( منگھڑت ) روایت ہے

 

اس کو امام الحسن الخلال نے فضائل سورہ اخلاص میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا

 

حدثنا أحمد بن إبراهيم بن شاذان، ثنا عبد الله بن عامر الطائي، حدثني أبي، ثنا علي بن موسى، عن أبيه، موسى، عن أبيه، جعفر، عن أبيه، محمد، عن أبيه، علي، عن أبيه الحسين، عن أبيه علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «من مر على المقابر وقرأ قل هو الله أحد إحدى عشرة مرة، ثم وهب أجره للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات»

 

كتاب فضائل سورة الإخلاص للحسن الخلال :- 54

 

ترجمہ :- علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا جو شخص قبرستان سے گزرے اور گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کے اس کا ثواب مردوں کو ایصال کرے تو اس کو ان مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا

 

 

اس سند عبد الله بن عامر الطائي ہے یہ خود تو متھم بالوضع ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے لیکن اس پر خاص جرح بھی ہے وہ یہ کہ اس نے اپنے والد کے واسطہ سے امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر ایک جھوٹا نسخہ بیان کیا ہے

 

چناچہ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

 

عبد الله بن أحمد بن عامر، عن أبيه، عن علي الرضا، عن آبائه بتلك النسخة الموضوعة الباطلة، ما تنفك عن وضعه أو وضع أبيه

 

( كتاب ميزان الاعتدال :- 4200 )

 

یعنی عبداللہ نے اپنے والد کے واسطے سے امام علی رضا اور انکے آباؤ اجداد یعنی اہل بیت سے ایک جھوٹا نسخہ باطل نسخہ روایت کیا ہے 

 

امام ذہبی فرماتے ہیں یا تو اس نے اس نسخے کو گھڑا ہے یا اس کے باپ نے 

 

 

اس روایت کو امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب الزیادات علی الموضوعات میں نقل کیا جو ان کے نزدیک اس روایت کے جھوٹے ہونے پر دلالت کرتا ہے

 

( كتاب الزيادات على الموضوعات 2/577 )

 

 

اس کو دوسری سند کے ساتھ امام الرافعی رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں روایت کیا

 

( كتاب التدوين في أخبار قزوين 2/297 )

 

لیکن اس سند میں بھی داؤد بن سليمان الغازي ہے یہ راوی بھی کذاب ہے اور اس نے بھی ایک گڑھا ہوا نسخہ بیان کیا ہے امام علی رضا رضی اللہ عنہ سے اس کو امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ اور امام ذہبی رحمہ اللہ دونوں نے کذاب قرار دیا

 

كذبه يحيى بن معين، ولم يعرفه أبو حاتم، وبكل حال فهو شيخ كذاب له نسخة موضوعة على الرضا

 

امام ذہبی فرماتے ہیں اسے یحییٰ بن معین نے کذاب قرار دیا امام ابوحاتم نے کہا میں اسے نہیں جانتا اور امام ذہبی فرماتے ہیں کہ یہ ایک جھوٹا شخص ہے جس کے پاس امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر گھڑا ہوا نسخہ تھا 

 

( كتاب ميزان الاعتدال 2/8 )

 

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی موافقت کی 

 

( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 3/397 )

 

 

خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ ایک جھوٹی روایت ہے جس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حلال نہیں

 

 

فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب

 

خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی

اس طرح کی ایک راویت کو امام ابوالقاسم الزنجانی  نے اپنی کتاب المنتقى من فوائد الزنجاني رقم 58 میں روایت کیا ہے جس کی سند اس طرح ہے

 أحمد بن سعيد الإخميمي، حدثنا أبو الطيب عمران بن موسى العسقلاني من حفظه، أخبرنا المؤمل بن إهاب، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرني معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرةقَالَ قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم:  من دخل الْمَقَابِر ثمَّ قَرَأَ فَاتِحَة الْكتاب، و ( قل هُوَ الله أحد )، و ( أَلْهَاكُم التكاثر )،  ثمَّ: اللَّهُمَّ إِنِّي جعلت ثَوَاب مَا قَرَأت من كلامك لأهل الْمَقَابِر من الْمُؤمنِينَ وَالْمُؤْمِنَات ؛ كَانُوا شُفَعَاء لَهُ إِلَى الله تَعَالَى 

لیکن اس میں بھی احمد بن سعید الاخمیمی المصری ہے جو جھوٹی روایات بیان کرنے والا راوی ہے

أحمد بن سعيد بن فرضخ الإخميمي المصري

قال الدارقطني: روى عن القاسم بن عبد الله بن مهدي، عَن عَلِيّ بن أحمد بن سهل الأنصاري، عن عيسى بن يونس، عن مالك، عَن الزُّهْرِيّ، عن سعيد بن المُسَيَّب، عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، عن النبي صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أحاديث في ثواب المجاهدين والمرابطين والشهداء موضوعة كلها وكذب لا تحل روايتها والحمل فيها على ابن فرضخ فهو المتهم بها فإنه كان يركب الأسانيد ويضع عليها أحاديث.

قلت: روى عنه أبو محمد النحاس المصري شيخ الخلعي، وَعبد الله بن يوسف بن بامويه ورأيت له تصانيف منها كتاب "الاحتراف" ذكر فيه أحاديث وآثارا في فضائل التجارة لا أصل لها

لسان المیزان ج 1، ص 472 رقم 530 

  • Thanks 1
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      امام ابوالقاسم طبرانی م360ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      حدثنا بكر بن سهل، ثنا عبد الله بن يوسف، ثنا الهيثم بن حميد، عن رجل، عن مكحول، عن أبي أمامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «اتقوا البول، فإنه أول ما يحاسب به العبد في القبر»
       
      ( كتاب المعجم الكبير للطبراني :- 7605 )
       
      ترجمہ :- نبی علیہ السلام نے فرمایا پیشاب ( کی چھینٹوں ) سے بچو کیونکہ قبر میں سب سے پہلے اس کے بارے میں حساب لیا جائے گا
       
      اس سند میں امام مکحول سے روایت کرنے والا شخص مبھم ہے اور مبہم راوی کو پہچاننے کا طریقہ اصول حدیث کی کتاب تیسیر شرح مصطلح الحدیث میں یہ لکھا ہے 
       
      بوروده مسمى في بعض الروايات الأخرى
       
      یعنی دوسری روایات میں اس کے نام کا ذکر ہوا ہو
       
      ( كتاب تيسير مصطلح الحديث ص260 )
       
       
      اسی روایت کو امام طبرانی دوسری سند سے لائیں ہیں اور وہاں مکحول سے روایت کرنے والے راوی کا نام موجود ہے ملاحظہ ہو
       
      حدثنا محمد بن عبد الله بن بكر السراج، ثنا إسماعيل بن إبراهيم، ثنا أيوب، عن مكحول، عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اتقوا البول، فإنه أول ما يحاسب به العبد في القبر»
       
      ( كتاب المعجم الكبير للطبراني :- 7607 )
       
       
      بلکل وہی روایت ہے ایک لفظ کا بھی فرق نہیں اور راوی کا نام بھی واضح ہے *" أيوب بن مدرك الحنفي "* یہ راوی متھم بالکذب و وضع ہے مگر اس پر خاص جرح بھی ہے کہ اس کی امام مکحول شامی رحمہ اللہ سے روایات موضوع ہوتی ہیں
       
      اس راوی کو امام نسائی امام دارقطنی امام ابو حاتم رازی امام يحيى بن بطريق الطرسوسي رحمہمُ اللہ نے متروک الحدیث قرار دیا
       
      اور اسی راوی کو امام ابن معین رحمہ اللہ نے کذاب قرار دیا
       
      ( لسان الميزان :- 1382 )
       
       
      امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      يروي المناكير عن المشاهير ويدعي شيوخا لم يرهم ويزعم أنه سمع منهم، روى عن مكحول نسخة موضوعة ولم يره
       
      یہ مشہور راویوں سے منکر ( بمعنی باطل ) روایتیں بیان کرتا ہے اور ایسے شیوخ ( الحدیث ) سے احادیث سننے کا ( جھوٹا ) دعویٰ کرتا ہے جنہیں اس نے نہیں دیکھا اس نے امام مکحول شامی رحمہ اللہ سے من گھڑت روایات کا نسخہ روایت کیا حالانکہ اس نے امام مکحول کو نہیں دیکھا
       
      ( كتاب المجروحين لابن حبان ت حمدي :- 99 )
       
       
      لہذا ثابت ہوا یہ روایت موضوع ہے اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حلال نہیں
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین
       
    • By Aquib Rizvi
      اس روایت کو امام دیلمی رحمہ اللہ نے مولا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کرکے بیان کیا مسند الفردوس میں حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ عنہ نے امام دیلمی سے اس کی سند بیان کی 
       
      قال أبو عبد الرحمن السلمي حدثنا محمد بن مالك التميمي بمرو حدثنا أبو منصور الرباطي حدثنا محمد بن نهشل بن حميد حدثنا عبد الله بن رجاء عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن الحارثعن علي رفعه "يأتي على الناس زمان همتهم بطونهم، وشرفهم متاعهم، وقبلتهم نساؤهم، ودينهم دارهم ودنانيرهم، أولئك شر الخلق، لا خلاق لهم عند الله"
       
      ( كتاب زهر الفردوس 8/335 )
       
      ترجمہ :- لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ ان کا مقصد ان کا پیٹ ہوگا اور دولت ان کی عزت ھوگی عورت انکا قبلہ ھوگا روپیہ انکا دین ہوگا وہ بدترین لوگ ہوں گے آخرت میں اللہ کے نزدیک ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا 
       
       
      یہ روایت شدید ضعیف و ساقط ہے اور ظلمات میں سے ہے اس کو فضائل کے باب میں بھی بیان نہیں کیا جاسکتا 
       
      اس کی سند میں *"الحارث بن عبد الله الأعور"* متھم بالکذب ہے
       
      ( كتاب تهذيب التهذيب 2/145 )
       
      اسی طرح سند میں *"أبو عبد الرحمن السلمي"* بھی متھم ہے
       
      ( كتاب سير أعلام النبلاء - ط الرسالة 17/252 )
       
      باقی سند میں عبد الله بن رجاء تک سارے مجھول ہیں ہمیں یہ روایت کسی دوسری سند سے نہیں ملی
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین
    • By Aquib Rizvi
      اس کو امام دیلمی رحمہ اللہ نے مسند الفردوس میں روایت کیا اور امام دیلمی سے اس کو باسند شیخ الاسلام حافظ ابن حجرعسقلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور امام سیوطی رحمہ اللہ نے نقل کیا
       
      قال: أنا حمد بن نصر أنا الميداني نا محمد بن يحيى العاصمي نا أحمد بن إبراهيم البعولي نا أبو علي بن الأشعث، نا سريج بن عبد الكريم، نا جعفر بن محمد بن جعفر بن محمد الحسيني أبو الفضل في كتاب "العروس" نا الوليد بن مسلم، نا محمد بن راشد، عن مكحول عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ذكر الأنبياء من العبادة وذكر الصالحين كفارة الذنوب وذكر الموت صدقة، وذكر النار من الجهاد وذكر القبر يقربكم من الجنة وذكر القيامة يباعدكم من النار، وأفضل العبادة ترك الحيل، ورأس مال العالم ترك الكبر، وثمن الجنة ترك الحسد، والندامة من الذنوب التوبة الصادقة"
       
      ( كتاب زهر الفردوس 4/538/39 )
       
      ( كتاب الزيادات على الموضوعات 2/762 )
       
      ترجمہ :- حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کا ذکر عبادت ہے صالحین کا ذکر گناہوں کا کفارہ ہے موت کا ذکر صدقہ ہے اور جہنم کا ذکر جہاد میں سے ہے اور قبر کا ذکر تمہیں جنت کے قریب کردیتا ہے اور قیامت کا ذکر تمہیں جہنم سے دور کر دیتا ہے بہترین عبادت چالوں ( حیلے بہانوں ) کا ترک کرنا ہے، دنیا کا سرمایہ تکبر کو ترک کرنا ہے اور جنت کی قیمت حسد کا ترک کرنا ہے اور گناہوں پر ندامت سچی توبہ ہے
       
       
      ➊ : جعفر بن محمد بن جعفر بن محمد الحسيني أبو الفضل متھم بالوضع ہے
       
      اس کے بارے میں امام ابو عبداللّہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      "وضع الحديث على الثقات"
       
      یہ ثقہ راویوں پر احادیث گھڑتا ہے
       
      ( المدخل إلى الصحیح :- 31 )
       
       
      ➋ : محمد بن محمد بن الأشعث أبو الحسن الكوفي 
       
      یہ رافضی احادیث گھڑنے والا راوی ہے
       
      امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کتاب العلویات کو گھڑا ہے
       
      ( سؤالات السهمي :- 52 )
       
      امام ابن عدی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں میں نے اس سے ایک نسخہ لکھا جو تقریباً ایک ہزار روایات پر مشتمل تھا اور وہ ساری مناکیر ( یعنی باطل ) ہیں پھر آگے فرماتے ہیں اور اس پر اس نسخہ کو گھڑنے کا الزام ہے پھر فرماتے ہیں مجھے اس نسخے میں موجود روایات کی کوئی اصل نہیں ملی
       
      ( الكامل لابن عدي 6/351 ) 
       
      لہذا ثابت ہوا یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے 
       
       
      اس روایت کو امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے بھی موضوع قرار دیا کیونکہ آپ اس کو اپنی کتاب الزیادات علی الموضوعات میں لائے جس کے مقدمے میں آپ نے شرط لگائی ہے کہ آپ اس میں وہ موضوع روایات لائیں گے جو ابن الجوزی رحمہ اللہ الموضوعات میں نہیں لائے 
       
      ( كتاب الزيادات على الموضوعات 2/762 و مقدمة الكتاب ص31 ) 
       
      اس روایت کو امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ نے بھی موضوع قرار دیا 
       
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة 2/396 )
       
       
      لہذا اس روایت کی نسبت نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف کرنا حلال نہیں 
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
    • By Aquib Rizvi
      اس کو احیاء العلوم میں ابو حامد غزالی رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب کرکے نقل کیا پوسٹر میں بھی تخریج احیاءالعلوم مرتضی زبیدی کا حوالہ ہے
       
      فقد روي عن ابن عباس وأبي هريرة رضي الله عنهما إن من قرأ سورة الكهف ليلة الجمعة أو ليلة الجمعة أو يوم الجمعة أعطي نورا من حيث يقرؤها إلى مكة وغفر له إلى يوم الجمعة الأخرى وفضل ثلاثة أيام وصلى عليه سبعون ألف ملك حتى يصح وعوفي من الداء والدبيلة وذات الجنب والبرص والجذام وفتنة الدجال 
       
      ابن عباس اور ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ جو شخص شب جمعہ یا جمعہ کے روز سورہ کہف کی تلاوت کرتا ہے اسے ایک نور عطا کیا جاتا ہے جہاں سے وہ پڑھتا ہے وہاں سے لے کر مکہ مکرمہ تک اگلے جمعہ تک کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں بلکہ تین دن زائد کے بھی ستر ہزار فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں اور اسے پیٹ کے پھوڑے برص پہلو کے درد کوڑھ کے مرض اور دجال کے فتنے سے محفوظ کر دیا جاتا
       
      ( كتاب إحياء علوم الدين 1/187 ) 
       
       
      اس کو انہی الفاظ کے ساتھ باسند امام سیوطی نے الزیادات علی الموضوعات میں اور المستغفری نے فضائل القرآن میں روایت کیا دونوں کی سند ایک ہی ہے
       
      الديلمي: أخبرنا حمد بن نصر أخبرنا أبو طالب بن الصباح أخبرنا محمد بن عمر أخبرنا إبراهيم بن محمد حدثنا الحسين بن القاسم حدثنا إسماعيل بن أبي زياد عن ابن جريج عن عطاء عن أبي هريرة وعن ابن عباس مرفوعا: من قرأ سورة الكهف ليلة الجمعة أعطي نورا من حيث قرأها إلى مكة، وغفر له إلى الجمعة الأخرى وفضل ثلاثة أيام، وصلى عليه سبعون ألف ملك حتى يصبح، وعوفي من الداء والدبيلة وذات الجنب والبرص والجذام والجنون وفتنة الدجال
       
      امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ اس کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں
       
      إسماعيل كذاب، والحسين وإبراهيم مجروحان
       
      اس کی سند میں اسماعیل بن ابی زیاد جھوٹا راوی ہے اور حسین بن قاسم اور ابراہیم بن محمد دونوں مجروح ہیں 
       
      ( كتاب الزيادات على الموضوعات 1/131 )
      ( كتاب فضائل القرآن للمستغفري 2/562 )
       
      نوٹ :- امام سیوطی کا اس روایت کو " زیادات " میں لانا ان کے نزدیک اس کے موضوع ہونے کی دلیل ہے جیسا کہ انہوں نے کتاب کے مقدمہ میں تصریح کی ہے .
       
      سند میں "إسماعيل بن زياد السكوني" کذاب یضع الحدیث ہے اس کے بارے میں آئمہ کا کلام درج ذیل ہے
       
       
      1 : امام ابن حبان رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں
       
      شيخ دجال، 
       
      یہ دجال ( جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے والا ) شیخ تھا 
       
      ( كتاب المجروحين لابن حبان ت حمدي 1/138 )
       
       
      2 : امام دارقطنی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں
       
      يضع كذاب متروك
       
      ( كتاب الضعفاء والمتروكون للدارقطني 1/256 )
       
       
      3 : امام ذہبی رحمہ اللہ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہیں
       
      قال ابن معين: كذاب متروك يضع
       
      ( كتاب تاريخ الإسلام - ت بشار 4/581 )
       
      4 : امام سبط ابن العجمی نے اس کو دجال قرار دیا امام ابن حجر نے متروک و کذبوہ اور امام ابو طاہر پٹنی نے کذاب رحمہمُ اللہ تعالیٰ
       
      ( الكشف الحثيث ص69 )
      ( تقريب التهذيب :- 450 )
      ( كتاب تذكرة ص78 )
       
      لہذا خلاصہ یہ کہ ثابت ہوا یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ موضوع ہے
       
       
      علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے بھی اس کو موضوع قرار دیا
       
      ( كتاب الفوائد المجموعة :- 43 )
       
       
      البتہ صحیح مسلم شریف میں صحیح حدیث ہے :
       
      من حفِظ عشرَ آياتٍ من أولِ سورةِ الكهفِ ، عُصِمَ من الدَّجَّالِ
       
      جو شخص سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے گا وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا جائے گا
       
      صحیح مسلم :- 809
       
       
      اسی طرح
       
      عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه؛ أنَّ النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال:
       
      "مَن قرأ سورةَ {الكهف} في يومِ الجمعةِ؛ أضاء له من النور ما بين الجمعتين"
       
      رواه النسائي، والبيهقي مرفوعاً، والحاكم مرفوعاً وموقوفاً أيضاً، وقال: "صحيح الإسناد"
       
      حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جمعہ کے دن سورة الکہف پڑھے اس کیلئے دونوں جمعوں (یعنی اگلے جمعے تک) کے درمیان ایک نور روشن کردیا جائے گا
       
      اسے امام نسائی اور امام بیہقی نے مرفوعاً روایت کیا ہے اور امام حاکم نے مرفوعاً و موقوفاً دونوں طریقے سے اور امام حاکم نے صحیح الاسناد قرار دیا شیخ ناصر الدین البانی نے بھی اس کو صحیح قرار دیا
       
      ( كتاب صحيح الترغيب والترهيب 1/455 )
       
       
      ایسے ہی ایک اور صحیح روایت میں آیا ہے
       
      «مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ»
       
      حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نور کی روشنی ہو جاتی ہے
       
       كتاب مسند الدارمي - ت حسين أسد :- 3450
       
       
      اسی طرح درجنوں صحیح احادیث اور روایات موجود ہیں لہذا موضوع اور شدید ضعیف روایات کے بجائے صحیح احادیث کی اشاعت بھی کی جائے اور ان پر عمل بھی کیا جائے
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
    • By Aquib Rizvi
      یہ ایک موضوع روایت ہے جو کئی کتب احادیث میں موجود ہے درج ذیل سند کے ساتھ
       
      ..... يحيى بن زهدم، عن أبيه، حدثني أبي عن أنس بن مالك قال قال رسول الله ......
       
      ( كتاب شعب الإيمان - ط الرشد 11/426 )
       
      ( كتاب الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني 1/369 )
       
      ( كتاب المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي - مخطوط 3/106 )
       
      ( كتاب الموضوعات لابن الجوزي 3/204 )
       
       
      روایت کا متن اس طرح ہے
       
      لا تكرهوا أربعة فإنها لأربعة لا تكرهوا الرمد فإنه يقطع عروق العمى ولا تكرهوا الزكام فإنه يقطع عروق الجذام ولا تكرهوا السعال فإنه يقطع عروق الفالج ولا تكرهوا الدماميل فإنها تقطع عروق البرص
       
      چار چیزوں کو چار وجہ سے برا مت جانو آشوب چشم کو برا مت جانو کیوں کہ وہ بینائی کی جڑ کاٹتی ہے زکام کو برا مت جانو کیوں کہ وہ جذام کی جڑ کاٹتا ہے کھانسی کو برا مت کہو کیونکہ وہ فالج کی جڑ کاٹتی ہے چہرے کے دانوں کو برا مت جانو کیوں کے وہ برس کی جڑ کاٹتے ہیں
       
       
      امام ابن الجوزی رحمہ اللہ اپنی الموضوعات میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں :
       
      هذا حديث موضوع
       
      قال ابن حبان: يحيى عن أبيه نسخة موضوعة لا يحل كتبها إلا على التعجب
       
      یہ حدیث موضوع منگھڑت ہے امام ابن حبان نے فرمایا یحیی بن زھدم نے اپنے باپ سے جھوٹی روایات کا نسخہ روایت کیا اس کی روایت کتابوں میں لکھنا جائز نہیں ما سوائے تعجب کہ
       
       
      شیخ الاسلام امیر المؤمنین فی الحدیث حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
       
      هذا باطل
       
      یہ ایک جھوٹی روایت ہے 
       
      ( كتاب لسان الميزان 6/255 )
       
       
      دراصل مسئلہ یہ ہے کہ یحیی بن زھدم فی نفسہ تو صدوق ہے لیکن اس نے اپنے باپ سے زهدم بن الحارث سے موضوع روایات کا ایک نسخہ روایت کیا لہذا اس کے باپ سے اس کی روایات جھوٹی شمار ہوں گی جیسا کہ حافظ ابن حجر اور امام ابن الجوزی کا حکم واضح ہے
       
      جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اس کا تذکرہ کیا :
       
      يحيى بن زهدم الغفاري له نسخة موضوعة عن أبيه عن جده عن أنس
       
      ( تلخيص كتاب الموضوعات :- 895 ) 
       
       
      لہذا اس جھوٹی روایت کی نسبت نبی علیہ الصلاۃ و السلام کی طرف کرنا حلال نہیں 
       
       
      فقط واللہ و رسولہ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
×
×
  • Create New...