Jump to content
IslamiMehfil
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      اس روایت کو امام دیلمی رحمہ اللہ نے مولا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کرکے بیان کیا مسند الفردوس میں حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ عنہ نے امام دیلمی سے اس کی سند بیان کی 
       
      قال أبو عبد الرحمن السلمي حدثنا محمد بن مالك التميمي بمرو حدثنا أبو منصور الرباطي حدثنا محمد بن نهشل بن حميد حدثنا عبد الله بن رجاء عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن الحارثعن علي رفعه "يأتي على الناس زمان همتهم بطونهم، وشرفهم متاعهم، وقبلتهم نساؤهم، ودينهم دارهم ودنانيرهم، أولئك شر الخلق، لا خلاق لهم عند الله"
       
      ( كتاب زهر الفردوس 8/335 )
       
      ترجمہ :- لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ ان کا مقصد ان کا پیٹ ہوگا اور دولت ان کی عزت ھوگی عورت انکا قبلہ ھوگا روپیہ انکا دین ہوگا وہ بدترین لوگ ہوں گے آخرت میں اللہ کے نزدیک ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا 
       
       
      یہ روایت شدید ضعیف و ساقط ہے اور ظلمات میں سے ہے اس کو فضائل کے باب میں بھی بیان نہیں کیا جاسکتا 
       
      اس کی سند میں *"الحارث بن عبد الله الأعور"* متھم بالکذب ہے
       
      ( كتاب تهذيب التهذيب 2/145 )
       
      اسی طرح سند میں *"أبو عبد الرحمن السلمي"* بھی متھم ہے
       
      ( كتاب سير أعلام النبلاء - ط الرسالة 17/252 )
       
      باقی سند میں عبد الله بن رجاء تک سارے مجھول ہیں ہمیں یہ روایت کسی دوسری سند سے نہیں ملی
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین
    • By Aquib Rizvi
      اس کو امام دیلمی رحمہ اللہ نے مسند الفردوس میں روایت کیا اور امام دیلمی سے اس کو باسند شیخ الاسلام حافظ ابن حجرعسقلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور امام سیوطی رحمہ اللہ نے نقل کیا
       
      قال: أنا حمد بن نصر أنا الميداني نا محمد بن يحيى العاصمي نا أحمد بن إبراهيم البعولي نا أبو علي بن الأشعث، نا سريج بن عبد الكريم، نا جعفر بن محمد بن جعفر بن محمد الحسيني أبو الفضل في كتاب "العروس" نا الوليد بن مسلم، نا محمد بن راشد، عن مكحول عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ذكر الأنبياء من العبادة وذكر الصالحين كفارة الذنوب وذكر الموت صدقة، وذكر النار من الجهاد وذكر القبر يقربكم من الجنة وذكر القيامة يباعدكم من النار، وأفضل العبادة ترك الحيل، ورأس مال العالم ترك الكبر، وثمن الجنة ترك الحسد، والندامة من الذنوب التوبة الصادقة"
       
      ( كتاب زهر الفردوس 4/538/39 )
       
      ( كتاب الزيادات على الموضوعات 2/762 )
       
      ترجمہ :- حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کا ذکر عبادت ہے صالحین کا ذکر گناہوں کا کفارہ ہے موت کا ذکر صدقہ ہے اور جہنم کا ذکر جہاد میں سے ہے اور قبر کا ذکر تمہیں جنت کے قریب کردیتا ہے اور قیامت کا ذکر تمہیں جہنم سے دور کر دیتا ہے بہترین عبادت چالوں ( حیلے بہانوں ) کا ترک کرنا ہے، دنیا کا سرمایہ تکبر کو ترک کرنا ہے اور جنت کی قیمت حسد کا ترک کرنا ہے اور گناہوں پر ندامت سچی توبہ ہے
       
       
      ➊ : جعفر بن محمد بن جعفر بن محمد الحسيني أبو الفضل متھم بالوضع ہے
       
      اس کے بارے میں امام ابو عبداللّہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      "وضع الحديث على الثقات"
       
      یہ ثقہ راویوں پر احادیث گھڑتا ہے
       
      ( المدخل إلى الصحیح :- 31 )
       
       
      ➋ : محمد بن محمد بن الأشعث أبو الحسن الكوفي 
       
      یہ رافضی احادیث گھڑنے والا راوی ہے
       
      امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے کتاب العلویات کو گھڑا ہے
       
      ( سؤالات السهمي :- 52 )
       
      امام ابن عدی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں میں نے اس سے ایک نسخہ لکھا جو تقریباً ایک ہزار روایات پر مشتمل تھا اور وہ ساری مناکیر ( یعنی باطل ) ہیں پھر آگے فرماتے ہیں اور اس پر اس نسخہ کو گھڑنے کا الزام ہے پھر فرماتے ہیں مجھے اس نسخے میں موجود روایات کی کوئی اصل نہیں ملی
       
      ( الكامل لابن عدي 6/351 ) 
       
      لہذا ثابت ہوا یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے 
       
       
      اس روایت کو امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے بھی موضوع قرار دیا کیونکہ آپ اس کو اپنی کتاب الزیادات علی الموضوعات میں لائے جس کے مقدمے میں آپ نے شرط لگائی ہے کہ آپ اس میں وہ موضوع روایات لائیں گے جو ابن الجوزی رحمہ اللہ الموضوعات میں نہیں لائے 
       
      ( كتاب الزيادات على الموضوعات 2/762 و مقدمة الكتاب ص31 ) 
       
      اس روایت کو امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ نے بھی موضوع قرار دیا 
       
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة 2/396 )
       
       
      لہذا اس روایت کی نسبت نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف کرنا حلال نہیں 
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
    • By Aquib Rizvi
      یہ ایک موضوع ( منگھڑت ) روایت ہے
       
      اس کو امام الحسن الخلال نے فضائل سورہ اخلاص میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا
       
      حدثنا أحمد بن إبراهيم بن شاذان، ثنا عبد الله بن عامر الطائي، حدثني أبي، ثنا علي بن موسى، عن أبيه، موسى، عن أبيه، جعفر، عن أبيه، محمد، عن أبيه، علي، عن أبيه الحسين، عن أبيه علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «من مر على المقابر وقرأ قل هو الله أحد إحدى عشرة مرة، ثم وهب أجره للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات»
       
      كتاب فضائل سورة الإخلاص للحسن الخلال :- 54
       
      ترجمہ :- علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا جو شخص قبرستان سے گزرے اور گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کے اس کا ثواب مردوں کو ایصال کرے تو اس کو ان مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا
       
       
      اس سند عبد الله بن عامر الطائي ہے یہ خود تو متھم بالوضع ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے لیکن اس پر خاص جرح بھی ہے وہ یہ کہ اس نے اپنے والد کے واسطہ سے امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر ایک جھوٹا نسخہ بیان کیا ہے
       
      چناچہ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
       
      عبد الله بن أحمد بن عامر، عن أبيه، عن علي الرضا، عن آبائه بتلك النسخة الموضوعة الباطلة، ما تنفك عن وضعه أو وضع أبيه
       
      ( كتاب ميزان الاعتدال :- 4200 )
       
      یعنی عبداللہ نے اپنے والد کے واسطے سے امام علی رضا اور انکے آباؤ اجداد یعنی اہل بیت سے ایک جھوٹا نسخہ باطل نسخہ روایت کیا ہے 
       
      امام ذہبی فرماتے ہیں یا تو اس نے اس نسخے کو گھڑا ہے یا اس کے باپ نے 
       
       
      اس روایت کو امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب الزیادات علی الموضوعات میں نقل کیا جو ان کے نزدیک اس روایت کے جھوٹے ہونے پر دلالت کرتا ہے
       
      ( كتاب الزيادات على الموضوعات 2/577 )
       
       
      اس کو دوسری سند کے ساتھ امام الرافعی رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں روایت کیا
       
      ( كتاب التدوين في أخبار قزوين 2/297 )
       
      لیکن اس سند میں بھی داؤد بن سليمان الغازي ہے یہ راوی بھی کذاب ہے اور اس نے بھی ایک گڑھا ہوا نسخہ بیان کیا ہے امام علی رضا رضی اللہ عنہ سے اس کو امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ اور امام ذہبی رحمہ اللہ دونوں نے کذاب قرار دیا
       
      كذبه يحيى بن معين، ولم يعرفه أبو حاتم، وبكل حال فهو شيخ كذاب له نسخة موضوعة على الرضا
       
      امام ذہبی فرماتے ہیں اسے یحییٰ بن معین نے کذاب قرار دیا امام ابوحاتم نے کہا میں اسے نہیں جانتا اور امام ذہبی فرماتے ہیں کہ یہ ایک جھوٹا شخص ہے جس کے پاس امام علی رضا رضی اللہ عنہ پر گھڑا ہوا نسخہ تھا 
       
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/8 )
       
      حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی موافقت کی 
       
      ( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 3/397 )
       
       
      خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ ایک جھوٹی روایت ہے جس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حلال نہیں
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
    • By Aquib Rizvi
      یہ ایک موضوع روایت ہے جو کئی کتب احادیث میں موجود ہے درج ذیل سند کے ساتھ
       
      ..... يحيى بن زهدم، عن أبيه، حدثني أبي عن أنس بن مالك قال قال رسول الله ......
       
      ( كتاب شعب الإيمان - ط الرشد 11/426 )
       
      ( كتاب الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني 1/369 )
       
      ( كتاب المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي - مخطوط 3/106 )
       
      ( كتاب الموضوعات لابن الجوزي 3/204 )
       
       
      روایت کا متن اس طرح ہے
       
      لا تكرهوا أربعة فإنها لأربعة لا تكرهوا الرمد فإنه يقطع عروق العمى ولا تكرهوا الزكام فإنه يقطع عروق الجذام ولا تكرهوا السعال فإنه يقطع عروق الفالج ولا تكرهوا الدماميل فإنها تقطع عروق البرص
       
      چار چیزوں کو چار وجہ سے برا مت جانو آشوب چشم کو برا مت جانو کیوں کہ وہ بینائی کی جڑ کاٹتی ہے زکام کو برا مت جانو کیوں کہ وہ جذام کی جڑ کاٹتا ہے کھانسی کو برا مت کہو کیونکہ وہ فالج کی جڑ کاٹتی ہے چہرے کے دانوں کو برا مت جانو کیوں کے وہ برس کی جڑ کاٹتے ہیں
       
       
      امام ابن الجوزی رحمہ اللہ اپنی الموضوعات میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں :
       
      هذا حديث موضوع
       
      قال ابن حبان: يحيى عن أبيه نسخة موضوعة لا يحل كتبها إلا على التعجب
       
      یہ حدیث موضوع منگھڑت ہے امام ابن حبان نے فرمایا یحیی بن زھدم نے اپنے باپ سے جھوٹی روایات کا نسخہ روایت کیا اس کی روایت کتابوں میں لکھنا جائز نہیں ما سوائے تعجب کہ
       
       
      شیخ الاسلام امیر المؤمنین فی الحدیث حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
       
      هذا باطل
       
      یہ ایک جھوٹی روایت ہے 
       
      ( كتاب لسان الميزان 6/255 )
       
       
      دراصل مسئلہ یہ ہے کہ یحیی بن زھدم فی نفسہ تو صدوق ہے لیکن اس نے اپنے باپ سے زهدم بن الحارث سے موضوع روایات کا ایک نسخہ روایت کیا لہذا اس کے باپ سے اس کی روایات جھوٹی شمار ہوں گی جیسا کہ حافظ ابن حجر اور امام ابن الجوزی کا حکم واضح ہے
       
      جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اس کا تذکرہ کیا :
       
      يحيى بن زهدم الغفاري له نسخة موضوعة عن أبيه عن جده عن أنس
       
      ( تلخيص كتاب الموضوعات :- 895 ) 
       
       
      لہذا اس جھوٹی روایت کی نسبت نبی علیہ الصلاۃ و السلام کی طرف کرنا حلال نہیں 
       
       
      فقط واللہ و رسولہ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
×
×
  • Create New...