Jump to content
IslamiMehfil

میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا مجھے اچھا لگا کہ پہچانا جاؤں لہذا میں نے مخلوق کی تخلیق کی


Recommended Posts

میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا مجھے اچھا لگا کہ پہچانا جاؤں لہذا میں نے مخلوق کی تخلیق کی

 

اس کو حدیث قدسی کے طور پر شیئر کیا جاتا ہے مگر یہ حدیث نہیں ہیں بلکہ باطل اور بے اصل ہے اس روایت کے بارے میں جلیل القدر آئمہ محدثین کا کلام درج ذیل ہے

 

روایت کا مکمل متن

 

كُنْتُ كَنْزًا لَا أُعْرَفُ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ خَلْقًا فَعَرَّفْتُهُمْ بِي فَعَرَفُونِي

 

میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا مجھے کوئی نہیں جانتا تھا مجھے اچھا لگا کہ میں جانا جاؤں تو میں نے مخلوق کی تخلیق کی اور انہیں اپنا تعارف کروایا تو انہوں نے مجھے پہچان لیا

 

❶ حافظ الدنیا حجۃ اللہ فی الارض شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بے اصل قرار دیا

 

حديث: كنت كنزا لا أعرف، فأحببت أن أعرف فخلقت خلقا، فعرفتهم بي فعرفوني، قال ابن تيمية: إنه ليس من كلام النبي صلى الله عليه وسلم، ولا يعرف له سند صحيح ولا ضعيف، وتبعه الزركشي وشيخنا

حافظ شمس الدین سخاوی نے کہا کہ اس روایت کے بارے میں حافظ تقی الدین ابن تیمیہ نے کہا کہ یہ کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہم اس کی کوئی بھی صحیح یا ضعیف سند کو نہیں جانتے اور تقی الدین ابن تیمیہ کے کلام کی موافقت کی حافظ شمس الدین زرکشی نے اور ہمارے شیخ ابن حجر عسقلانی نے

( كتاب المقاصد الحسنة :- 838 )

( كتاب أحاديث القصاص ص55 )

( كتاب التذكرة في الأحاديث المشتهرة ص136 )

 

❷ امام ملا علی قاری الحنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

 

حديث كنت كنزا لا أعرف فأحببت أن أعرف فخلقت خلقا فعرفتهم بي فعرفوني نص الحفاظ كابن تيمية والزركشي والسخاوي على أنه لا أصل له

اس روایت پر ابن تیمیہ زرکشی اور سخاوی جیسے حفاظ کرام کی نص موجود ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں . ( اور دوسری کتاب میں حافظ ابن حجر عسقلانی کا بھی نام لیا )

( كتاب المصنوع في معرفة الحديث الموضوع :- 232 )

( كتاب الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة :- 353 )

 

❸ امام المحدثین حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو بے اصل قرار دیا

كنت كنزا لا أعرف فأحببت أن أعرف، فخلقت خلقا فعرفتهم بي فعرفوني" لا أصل له

( كتاب الدرر المنتثرة في الأحاديث المشتهرة :- 330 )

 

درج ذیل محدثین کی اس روایت کے بے اصل اور باطل ہونے پر تصریحات موجود ہیں

 

 

➊ امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ

( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة 1/148 )

 

➋ امام عجلونی رحمہ اللہ

( كتاب كشف الخفاء ط القدسي 2/132 )

 

➌ علامہ ابو طاہر پٹنی رحمہ اللہ 

( كتاب تذكرة الموضوعات للفتني ص11 )

 

➍ علامہ ابن المبرد رحمہ اللہ

( كتاب التخريج الصغير والتحبير الكبير :- 696 )

 

➎ علامہ امیر مالکی رحمہ اللہ

( كتاب النخبة البهية في الأحاديث المكذوبة على خير البرية ص95 )

 

➏ علامہ محمد بن خلیل الطرابلسی رحمہ اللہ

( كتاب اللؤلؤ المرصوع ص143 )

 

ان تمام محدثین کرام نے اس روایت کو بے اصل و باطل قرار دیا ہے کل ملا کر 12 محدثین کرام بنتے ہیں جنہوں نے اس روایت کے بے اصل و باطل ہونے پر تصریح فرمائی

 

اصول حدیث کا بڑا مشہور قاعدہ ہے جس کا ہم پہلے بھی کئی بار ذکر کر چکے ہیں کہ ہر وہ روایت جس کے بارے میں محدثین کرام فرمائے ( لا أصل له ) ( لم أقف عليه ) ( لم أجده ) ( لا أعرفه ) اور کوئی دوسرا ناقد حدیث ان محدثین کا تعاقب نہ کرے تو اس روایت کی نفی کی جائے گی وہ روایت موضوع اور بے اصل قرار دی جائے گی ملاحظہ ہو

 

امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ اپنی اصول حدیث کی کتاب التدریب الراوی میں نقل کرتے ہیں

إذ قال الحافظ المطلع الناقد في حديث: لا أعرفه، اعتمد ذلك في نفيه، كما ذكر شيخ الإسلام

جب حافظ باخبر ناقد کسی حدیث کے بارے میں کہے ( لا أعرفه ٬ لا أصل له ٬ لم اقف عليه) وغیرہ وغیرہ تو اس کی نفی پر اعتماد کیا جائے گا جیسا کہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے ذکر کیا

پھر خود آگے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں

وأما بعد التدوين والرجوع إلى الكتب المصنفة، فيبعد عدم الإطلاع من الحافظ الجهبذ على ما يورده غيره، فالظاهر عدمه

مگر تدوین حدیث کے بعد اور کتب مصنفہ کی مراجعت کے بعد کسی ناقد حافظ کا کسی ذکر کردہ روایت پر مطلع نہ ہونا بعید ہے پس ظاہر یہی ہے کہ اس روایت کا وجود نہیں ہے

( كتاب تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي 1/349 )

 

ہم اوپر محدثین کرام کا کلام اس روایت کے تحت نقل کر آئے جنہوں نے اس روایت پر یہی کلام کیا ہے . ( لا أصل له )

 

اور کسی دوسرے محدث نے کسی محدث کے کلام پر تعاقب نہیں کیا لہذا اس اصول کی روشنی میں یہ روایت بے اصل و باطل ہے

 

اسی طرح علم حدیث کا ایک اور مشہور قاعدہ بھی ہے کے ہر وہ حدیث جس کا وجود کتب احادیث میں نہ ہو حفاظ کے سینوں میں نہ ہو اور وہ ایسے زمانے میں ظاہر ہو جب تدوین حدیث مکمل ہوچکی ہے تو وہ روایت موضوع کہلائے گی

 

امام نور الدین ابن عراق الکنانی م963ھ رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں

 

ما ذكره الإمام فخر الدين الرازي أن يروي الخبر في زمن قد استقرئت فيه الأخبار ودونت فيفتش عنه فلا يوجد في صدور الرجال ولا في بطون الكتب

امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ نے جس چیز کا ذکر کیا وہ یہ ہے کہ حدیث اس زمانے میں روایت کی جائے یا ذکر کی جائے جب احادیث کا استقراء کیا جا چکا ہے اور تفتیش کے باوجود نہ محدثین کے سینوں میں ملے اور نہ کتب احادیث میں ( تو ایسی روایت موضوع ہوتی ہے )

( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة 1/7 )

 

زیر بحث روایت کا بھی کتب احادیث میں وجود نہیں اور جلیل القدر حفاظ کرام محدثین نے اس کے بے اصل ہونے پر صراحت کی ہے

 

لہذا اس اصول سے بھی یہ روایت موضوع ثابت ہوتی ہے

 

یہی اصول فی زمانہ بریلوی مکتبہ فکر ( اہلسنت و جماعت ) کے مشہور و معروف عالم مفتی محمد شریف الحق امجدی صاحب نے بھی بیان کیا ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں

" اس روایت کے جھوٹے اور موضوع ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ کسی حدیث کی معتبر کتاب میں یہ روایت مذکور نہیں "

( فتویٰ شارح بخاری 1/307 )

 

خلاصہ کلام یہ کہ یہ حدیث قدسی نہیں ہے اسکی نسبت نہ ہی اللہ ﷻ کی طرف کی جائے اور نہ ہی نبی ﷺ کی طرف

 

فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب

 

خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی

 

 

مؤرخہ 6 ذو الحجہ 1443ھ 

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...