Sign in to follow this  
Followers 0
Exothermic07

اقبال میرے خواب میں

1 post in this topic

اقبال میرے خواب میں

شب گزری ایک عالم اضطراب میں

کل آگئے اقبال میرے خواب میں

 

پوچھا! کیا ارض وطن کے حال ہیں

عرض کی! کہیں ہڑبونگ کہیں ہڑتال ہیں

 

پوچھا! کیسی ہیں ملت اسلامیہ کی شام و سحر

عرض کی! مضطرب ہیں سبھی کراچی تا کاشگھر

 

بولے! کچھ میرے درس مساوات یاد ہیں

عرض کی! اب تو بس اپنے اپنے طبقات یاد ہیں

 

کیا باقی ہیں قائد کہ افکار و ہنر وہ تنظیم و یقین

عرض کی! علامہ اتنی چیزیں تو کبھی ہم میں تھی ہی نہیں

 

مایوس لگے! کہ یعنی اپنے قائد کہ احسانات بھول گئے

عرض کی! جی آقا ہم واقعی اپنی اوقات بھول گئے

 

امید سے پوچھے! وہ جو فقیرانہ خدی کی میں نے تعلیم کی

عرض کی! اس میں تو ہر لیڈر نے اپنی اپنی مرضی کی ترامیم کی

 

کہا! مگر میں نے تو تبلیغ طرز شاہین کی

عرض کی! لیکن مشرف نے نیوٹرل رہنے کی تلقین کی

 

پوچھا! کیا ہوا ایسا کہ مرد مومن سہما سا ہے

عرض کی! "بش" نے پوچھا تھا "بتا تیری رضا کیا ہے"

 

پوچھا! کیا وہ عقیدت جو گنبد قصر سلطانی سے تھی

عرض کی! مرشد اب تو وہ ایشوریا سے ہے کل تک رانی سے تھی

 

بولے! کیا اب بھی وہی غیرت پختون اور افغان میں ہے

عرض کی! بہت تھوڑی سی مگر شاہ رخ خان میں ہے

 

اور وہ جذبہ جو کبھی جمال الدین افغانی میں تھا

عرض کی! کچھ دنوں تک تو دیکھا سندھ کہ پانی میں تھا

 

افسوس! وہی بے نوری، وہی اشک ہیں میرے نرگس چمن میں

پیر و مرشد! بس ایک آپ ہی دیدہ ور تھے سارے وطن میں

 

یعنی امن کی فاختہ، وہ دردمند بلبل سو گئے

نہیں حضور امریکی کب کہ قابض کابل ہو گئے

 

فرمایا! فتح صرف اور صرف تعلیم و ایجاد میں ہے

عرض کی! جی اسی لئے جنیئس گورا آجکل بغداد میں ہے

 

پوچھا! کیا مرد مومن سبھی بے حس ہوگئے ہیں

عرض کی! نہیں سر کہیں کہیں پرچم اور پتلے جلے ہیں

 

اب کہ پوچھا! کیا اگلے وقتوں کی ہی کوئی تیاری ہے

عرض کی! یس سر ہم تیار ہیں عراق کہ بعد اپنی ہی باری ہے

 

پوچھا! کیا نہیں چاہتا مومن کہ خاتمہ بخیر ہو

عرض کی! مگر کوئی نہیں چاہتا امریکا کو اس سے بیر ہو

 

جھلا کر بولے! شکوہ کہ ساتھ میرا جواب شکوہ بھی سمجھا ہوتا

عرض کی! علامہ صاحب صرف سمجھ بوجھ لینے سے بھی کیا معجزہ ہوتا

 

کیا ہجرت کی داستاں بھی نہیں سنائی کسی نے

یس سر جنھوں نے سنائی پھر لوٹا ہے انہی نے

 

افسوس! کہیں بھی وطن میں ضرب کلیمانہ نہیں

مرشد! یہ تو ہے کہ اب جنگ پر تو ہمیں جانا نہیں

 

جاتے ہوئے بولے! یعنی اب ذرا بھی اتحاد نہیں ملت کی نگبہانی کیلئے

عرض کی! نہیں حضرت! اب بھی "ایک ہیں مسلم ملت کی پاسبانی کیلئے

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.