Ghulam E Mustafa

Rasm Ghusl-e-Kabah, Bid'at Faroshon ky Liye Lamha-e-Fikriya

70 posts in this topic

Kya Yahan Nam Nihad Towheedi Wahabiyo ki Shirk-o-Bid'at ky Fatwy Lagane Wali Machine Kharab Ho Jati Hai ???

Rasm_e_Gusl_e_Kabah_Aur_Bid.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Kya Yahan Nam Nihad Wahabion ki Shirk-o-Bid'at ky Fatwy Lagane Wali Machine Kharab Ho Jati Hai ???

 

 

(bis)

 

(salam)

 

تحقیقی جائزہ

 

غلاف کعبہ مشرفہ

 

کعبہ پر غلاف چڑھانے کی ابتدا کب ہوئی اور آج تک اس کی تاریخ کیا ہے ۔ اس بارے میں تاریخ کا کوئی مؤرخ اس کا قدیم ریکارڈ پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ لیکن جو روایات علماءاسلام تک پہنچی ہیں ان کے مطابق کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے کعبۃ اللہ پر غلاف حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے چڑھایا تھا ۔

 

اس کے بعد صدیوں تک تاریخ خاموش ہے پھر یہ ذکر ملتا ہے کہ عدنان نے کعبہ پر غلاف چڑھایا اس کے بعد پھر عرصہ بعید تک تاریخ خاموش ہے ۔ پھر یمن کا بادشاہ اسد جو زمانہ نبوت سے دو سو 200برس قبل گزرا ہے اس کے متعلق ذکر ملتا ہے کہ اس نے سرخ رنگ کا دھاری دار یمنی کپڑا ” الوسائل “ کا مکمل غلاف چڑھایا ۔ قریش کے انتظام سنبھالنے سے غلاف کعبہ کی مکمل تاریخ ملحق ہے اس قبیلہ کی روایات زمانہ اسلام تک محفوظ ہیں ۔

 

بنی مخزوم کے ایک سردار بنو ربیعہ نے قریش سے یہ بات طے کی کہ ایک سال بنی مخزوم اور ایک سال قریش غلاف چڑھائیں گے ۔ اس کے علاوہ زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ عرب کے مختلف قبیلے اور ان کے سردار جب بھی زیارت کے لیے آتے تو اپنے ساتھ قسم قسم کے پردے لاتے ۔ جتنے لٹکائے جا سکتے وہ لٹکا دئیے جاتے باقی کعبۃ اللہ کے خزانے میں جمع کر دئیے جاتے ۔ جب کوئی پردہ بوسیدہ ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرا پردہ لٹکا دیا جاتا ۔

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کا ایک واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دادی نے اپنے ایک صاحبزادے کے گم ہونے پر نذر مانی کہ اگر مل جائے تو کعبہ پر ریشمی غلاف چڑھائیں گی ۔ جب وہ مل گئے تو انہوں نے نذر پوری کرتے ہوئے سفید رنگ کا ریشمی غلاف چڑھایا ۔

 

زمانہ نبوت سے قبل کی قریش کی تعمیر جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بنفسِ نفیس شریک تھے ۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد اہل مکہ نے بڑے اہتمام کے ساتھ کعبہ پر غلاف چڑھایا ۔

 

فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا :

یہ وہ دن ہے کہ اللہ تعالیٰ کعبہ کی عظمت قائم فرمائے گا اور اب ہم اس پر غلاف چڑھائیں گے ۔ اس زمانے کا ایک یہ واقعہ بھی ملتا ہے کہ ایک عورت کعبہ میں خوشبو کی دھونی دے رہی تھی کہ ایک چنگاری اڑ کر ان غلافوں پر گری اور زمانہ جاہلیت کے تمام غلاف جل گئے ۔ تو مسلمانوں نے کعبۃ اللہ پر غلاف چڑھایا یہ دورِ اسلام کا پہلا غلاف ہے ۔ ( فتح الباری بروایت سعید بن مسیب رحمہ اللہ )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے زمانہ میں کعبہ پر یمنی کپڑے کا دھاری دار غلاف چڑھایا ۔ جب مصر فتح ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے دور خلافت میں اعلیٰ مصری کپڑے ( قباطی ) کا غلاف بنوا کر چڑھایا ۔

 

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں غلاف کعبہ کے بارے میں روایت خاموش ہے ۔ زمانہ قدیم میں یہ دستور تھا کہ جب حجاج کرام دس محرم تک اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے جاتے تو تب کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا ۔

 

اسی طریقے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاءکے زمانے میں عمل ہوتا رہا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں دس محرم کے علاوہ ایک اور غلاف عیدالفطر کے دن بھی چڑھایا پھر اسی طرح یزید رحمہ اللہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے دور میں یہ عمل کیا ۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد میں یہی مستقل طریقہ بن گیا ۔ جو آج تک جاری ہے ۔

 

زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگ اپنی اپنی طرف سے یہ عمل کرتے تھے لیکن اسلامی دور میں غلاف چڑھانا حکومت کی ذمہ داری قرار پایا ۔

مسند عبدالرزاق کی روایت کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ، کیا ہم کعبہ پر غلاف چڑھائیں ؟ انہوں نے فرمایا : کہ اب تمہاری طرف سے اس خدمت کو حکمرانوں نے سنبھال لیا ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے : ( کسوۃ البیت علی الامراء )

” بیت اللہ کا غلاف حکمرانوں کے ذمے ہے ۔ “

 

عباسی خلافت کے زوال تک غلاف کی تیاری مرکزی حکومت کے زیراہتمام ہوتی تھی ۔ جب مرکزی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو مختلف علاقوں کے حکمران اپنی اپنی طرف سے غلاف بنوا کر بھیجتے رہے اور بسا اوقات ایک وقت میں کئی کئی غلاف چڑھائے جاتے ۔

 

اس سلسلہ میں ایک مرتبہ 466ھ میں ہندوستان سے غلاف بنوا کر بھیجا گیا مصر کے فرماں روا الملک الصالح اسمٰعیل بن ناصر نے 750ھ میں غلاف کعبہ تیار کرانا اپنے ذمے لے لیا ۔ اور اس غرض سے تین گاؤں وقف کر دئیے ۔ مصر پر ترکوں کے قبضے کے بعد سلطان سلیمان اعظم نے ملک الصالح کے وقف میں سات گاؤں کا اور اضافہ کر دیا ۔ اس عظیم وقف کی آمدنی سے ہر سال کعبہ کا غلاف مصر سے بن کر آنے لگا ۔ اس کے علاوہ خانہ کعبہ کے اندر کے پردے بھی وقتاً فوقتاً اسی وقف سے بنا کر بھیجے جاتے رہے ۔ اس زمانہ میں اس وقف شدہ زمین کی کل آمدنی جو موجودہ زمانہ میں ایک لاکھ پچاس ہزار درہم مصری پونڈ تھے ۔

 

جب مصر کے وائسرائے محمد علی پاشا نے ترکی سلطنت سے بغاوت کر کے خودمختاری حاصل کر لی تو اس نے یہ وقف منسوخ کر دیا اور غلاف کعبہ صرف حکومت مصر کے خرچ پر بنوا کر بھیجنا شروع کر دیا ۔

 

پہلے غلاف مختلف رنگوں کے ہوتے تھے ۔ خلیفہ مامون الرشید کے دور میں سفید رنگ کا غلاف چڑھایا گیا ۔ سلطان محمود غزنوی نے زرد رنگ کا غلاف چڑھایا ۔

 

٭ خلیفہ ناصر عباسی نے 575ھ تا 622ھ کی ابتدا میں سبز اور پھر سیاہ ریشم کا غلاف بنوا کر بھیجا ۔ تب سے آج تک سیاہ غلاف ہی چڑھایا جا رہا ہے ۔ غلاف کعبہ کے چاروں طرف زری کے کام کی پٹی بنانے اور اس پر کعبۃ اللہ کے متعلق قرآن مجید کی آیات لکھوانے کا یہ سلسلہ سب سے پہلے 761ھ میں مصر کے سلطان حسن نے شروع کیا اس کے بعد سے آج تک یہ طریقہ جاری ہے ۔

 

ایک طرف آل عمران 97-96 لکھی جاتی ہے :

(( ان اول بيت وضع للناس للذي ببکۃ مبرکا وہدي للعلمين [96] فيہ ايت بينت مقام ابرہيم ومن دخلہ کان امنا وللہ علي الناس حج البيت من استطاع اليہ سبيلا ومن کفر فان اللہ غني عن العلمين )) ( آل عمران :96,97 )

 

دوسری طرف المائدہ آیت نمبر97:

(( جعل اللہ الکعبۃ البيت الحرام قيما للناس والشہر الحرام والہدي والقلآئد ذلک لتعلموا ان اللہ يعلم ما في السموت وما في الارض وان اللہ بکل شيئ عليم)) ( المائدہ : 97 )

 

تیسری طرف سورۃ البقرہ آیت نمبر 127,128 :

(( واذ يرفع ابرہم القواعد من البيت واسمعيل ربنا تقبل منا انک انت السميع العليمo ربنا واجعلنا مسلمين لک ومن ذريتنآ امۃ مسلمۃ لک ص وارنا مناسکنا وتب علينا انک انت التواب الرحيم )) ( سورۃ البقرہ : 127, 128 )

 

چوتھی جانب اس فرماں روا کا نام لکھا جاتا ہے جس کی طرف سے غلاف بنا کر بھیجا گیا ۔ گزشتہ صدی کے آغاز تک غلاف کعبہ دنیا کے سیاسی حالات سے محفوظ رہا ۔ جنگیں ہوتی رہیں سلطنتوں کے تعلقات بنتے اور بگڑتے رہے ، مگر خانہ کعبہ کے لیے غلاف جہاں سے آیا کرتا تھا وہیں سے آتا رہا ۔ لیکن گزشتہ صدی کے آغاز میں دنیا کے سیاسی حالات اس پر بھی اثر انداز ہوئے ۔ جنگ عظیم اول میں جب ترکی سلطنت جرمنی کے ساتھ شریک جنگ ہوئی تو اسے اندیشہ ہوا کہ مصر سے غلاف کے آنے میں انگریز رکاوٹ بنے گا ۔ ایسے میں ترکی نے ایک شاندار غلاف استنبول سے تیار کرا کے حجاز ریلوے کے ذریعے مدینۃ منورہ بھیج دیا ۔

عین وقت پر مصر سے بھی غلاف پہنچ گیا ۔ تو ترکی سے آیا ہوا غلاف مدینۃ منورہ میں محفوظ کر دیا گیا ۔

 

٭ 1923ءمیں شریف حسین اور مصر کے حالات آپس میں خراب ہو گئے اور مصری حکومت نے عین حج کے موقع پر جدہ پہنچے ہوئے غلاف کو واپس منگوالیا ۔ خوش قسمتی سے اس وقت جنگ کے زمانہ میں بھیجا ہوا ترکی غلاف کام آ گیا اسے فوری طور پر مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ پہنچایا گیا ۔

 

٭ 1925ءمیں سلطان ابن سعود رحمہ اللہ اور شریف حسین کی لڑائی کے زمانے میں مصر سے پھر غلاف نہ آیا ۔ ابن سعود رحمہ اللہ نے عراق کا بنا ہوا ایک غلاف چڑھا دیا جو شریف حسین نے بنوا کر رکھا ہوا تھا ۔

 

٭ 1927ءمیں ٹھیک یکم ذوالحجہ کو حکومت مصر نے غلاف بھیجنے سے پھر انکار کر دیا اور ابن سعود کو فوراً مکہ مکرمہ سے ایک غلاف بنوانا پڑا ۔

 

٭ 1928ءمیں مصر سے غلاف نہ آیا اور امرتسر سے مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ اور مولانا اسمٰعیل غزنوی رحمہ اللہ کے زیراہتمام غلاف بنو اکر بھیجا گیا ۔

 

ان تلخ تجربات کی بنا پر مکہ مکرمہ میں ایک دارالکسوۃ قائم کر دیا گیا تا کہ مصر سے آئے دن غلاف نہ آنے کی مصیبت کا مستقل حل کر دیا جائے ۔ اس کارخانے میں مولانا اسمٰعیل غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی مدد سے ہندوستان کے بہت سے کاریگر فراہم کئے گئے ۔

 

٭ 1972ءمیں اس کارخانے کو جدید ترین بنانے اور اس کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایک جدید کارخانہ کی بنیاد 1392ھ کو خادم الحرمین الشریفین ( شاہ فہد رحمہ اللہ ) نے رکھی جو اس وقت وزیر داخلہ اور مجلس وزرا کے نائب تھے ۔

 

٭ 1975ءبمطابق 1395ھ میں اس جدید کارخانے کا افتتاح خادم الحرمین الشریفین جو اس وقت ولی عہد تھے نے اپنے ہاتھ سے کیا ۔ اب یہ کارخانہ بنائی اور رنگائی کے جدید ترین آلات سے مزین ہے ۔ لیکن اس کام کو مشین کی بجائے ہاتھ سے ہی انجام دیا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ ہاتھ کی کاریگری انسانی کمال کا فنی ورثہ تصور کیا جاتا ہے ۔

 

غلاف کی لمبائی 14میٹر اور اس کے اوپر والے ایک تہائی حصہ میں غلاف کو باندھنے والی ڈوری ہوتی ہے جس کی چوڑائی سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔ اور اس پر چاندی اور سونے کی پالش شدہ ڈوری سے قرآنی آیات لکھی جاتی ہیں ۔ اس ڈوری کی لمبائی 47میٹر کے قریب ہوتی ہے جو 16ٹکڑوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔ ڈوری والے حصے سے تھوڑا نیچے اسلامی آرٹ ( خطاطی ) میں سورہ الاخلاص اور چھ قرآنی آیات جن کا تذکرہ پہلے کر آئے ہیں لکھی جاتی ہیں ۔

 

بیچ والے حصہ میں چند آیات درج ہوتی ہیں یہ آیتیں خط ثلث میں لکھی جاتی ہیں جو عربی کا سب سے خوبصورت خط ہے ۔ کعبے کے دروازے کا غلاف جسے برقعہ کہتے ہیں جو عمدہ اور نفیس کالے ریشم سے بنایاجاتا ہے ۔ جبکہ باقی غلاف بھی اسی رنگ کا ہوتا ہے لیکن اس کی عمدہ اور جاذبِ نظر ترتیب و کتابت اس کو دوسرے حصے سے ممتاز بنا دیتی ہے ۔ ان آیات کے نیچے اسی خط اور انداز میں یہ عبارتیں درج ہوتی ہیں کہ یہ غلاف مکہ مکرمہ میں تیار ہوا اور خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے اسے خانہ کعبہ کو بطور تحفہ پیش کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے ۔

 

اس عمدہ اور نفیس غلاف کی تیاری پر ایک کروڑ ستر لاکھ سعودی ریال خرچ آتا ہے ۔ آیات و کلمات سے اس طرح مزین غلاف کعبہ سعودی عرب کی ایک یادگار ہے تاریخ میں اس انداز کا غلاف کعبہ کبھی تیار نہیں کیا گیا ۔

 

قارئین کرام ! یہ مختصر تاریخ غلاف کعبہ آپ کے سامنے پیش کی ۔ اللہ کریم ہماری اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہماری دیرینہ خواہش ہے کہ اللہ کریم اپنے گھر کی زیارت و خدمت کا موقع نصیب فرمائے ۔ ( آمین یارب العالمین )

 

Ye pori post aik risalye se copy kardah hai....

 

(salam)

Abdul Salam

Share this post


Link to post
Share on other sites

جزاک اللہ

Share this post


Link to post
Share on other sites
(bis)

 

(salam)

 

تحقیقی جائزہ

 

غلاف کعبہ مشرفہ

 

کعبہ پر غلاف چڑھانے کی ابتدا کب ہوئی اور آج تک اس کی تاریخ کیا ہے ۔ اس بارے میں تاریخ کا کوئی مؤرخ اس کا قدیم ریکارڈ پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ لیکن جو روایات علماءاسلام تک پہنچی ہیں ان کے مطابق کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے کعبۃ اللہ پر غلاف حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے چڑھایا تھا ۔

 

اس کے بعد صدیوں تک تاریخ خاموش ہے پھر یہ ذکر ملتا ہے کہ عدنان نے کعبہ پر غلاف چڑھایا اس کے بعد پھر عرصہ بعید تک تاریخ خاموش ہے ۔ پھر یمن کا بادشاہ اسد جو زمانہ نبوت سے دو سو 200برس قبل گزرا ہے اس کے متعلق ذکر ملتا ہے کہ اس نے سرخ رنگ کا دھاری دار یمنی کپڑا ” الوسائل “ کا مکمل غلاف چڑھایا ۔ قریش کے انتظام سنبھالنے سے غلاف کعبہ کی مکمل تاریخ ملحق ہے اس قبیلہ کی روایات زمانہ اسلام تک محفوظ ہیں ۔

 

بنی مخزوم کے ایک سردار بنو ربیعہ نے قریش سے یہ بات طے کی کہ ایک سال بنی مخزوم اور ایک سال قریش غلاف چڑھائیں گے ۔ اس کے علاوہ زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ عرب کے مختلف قبیلے اور ان کے سردار جب بھی زیارت کے لیے آتے تو اپنے ساتھ قسم قسم کے پردے لاتے ۔ جتنے لٹکائے جا سکتے وہ لٹکا دئیے جاتے باقی کعبۃ اللہ کے خزانے میں جمع کر دئیے جاتے ۔ جب کوئی پردہ بوسیدہ ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرا پردہ لٹکا دیا جاتا ۔

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کا ایک واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دادی نے اپنے ایک صاحبزادے کے گم ہونے پر نذر مانی کہ اگر مل جائے تو کعبہ پر ریشمی غلاف چڑھائیں گی ۔ جب وہ مل گئے تو انہوں نے نذر پوری کرتے ہوئے سفید رنگ کا ریشمی غلاف چڑھایا ۔

 

زمانہ نبوت سے قبل کی قریش کی تعمیر جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بنفسِ نفیس شریک تھے ۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد اہل مکہ نے بڑے اہتمام کے ساتھ کعبہ پر غلاف چڑھایا ۔

 

فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا :

یہ وہ دن ہے کہ اللہ تعالیٰ کعبہ کی عظمت قائم فرمائے گا اور اب ہم اس پر غلاف چڑھائیں گے ۔ اس زمانے کا ایک یہ واقعہ بھی ملتا ہے کہ ایک عورت کعبہ میں خوشبو کی دھونی دے رہی تھی کہ ایک چنگاری اڑ کر ان غلافوں پر گری اور زمانہ جاہلیت کے تمام غلاف جل گئے ۔ تو مسلمانوں نے کعبۃ اللہ پر غلاف چڑھایا یہ دورِ اسلام کا پہلا غلاف ہے ۔ ( فتح الباری بروایت سعید بن مسیب رحمہ اللہ )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے زمانہ میں کعبہ پر یمنی کپڑے کا دھاری دار غلاف چڑھایا ۔ جب مصر فتح ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے دور خلافت میں اعلیٰ مصری کپڑے ( قباطی ) کا غلاف بنوا کر چڑھایا ۔

 

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں غلاف کعبہ کے بارے میں روایت خاموش ہے ۔ زمانہ قدیم میں یہ دستور تھا کہ جب حجاج کرام دس محرم تک اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے جاتے تو تب کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا ۔

 

اسی طریقے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاءکے زمانے میں عمل ہوتا رہا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں دس محرم کے علاوہ ایک اور غلاف عیدالفطر کے دن بھی چڑھایا پھر اسی طرح یزید رحمہ اللہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے دور میں یہ عمل کیا ۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد میں یہی مستقل طریقہ بن گیا ۔ جو آج تک جاری ہے ۔

 

زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگ اپنی اپنی طرف سے یہ عمل کرتے تھے لیکن اسلامی دور میں غلاف چڑھانا حکومت کی ذمہ داری قرار پایا ۔

مسند عبدالرزاق کی روایت کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ، کیا ہم کعبہ پر غلاف چڑھائیں ؟ انہوں نے فرمایا : کہ اب تمہاری طرف سے اس خدمت کو حکمرانوں نے سنبھال لیا ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے : ( کسوۃ البیت علی الامراء )

” بیت اللہ کا غلاف حکمرانوں کے ذمے ہے ۔ “

 

عباسی خلافت کے زوال تک غلاف کی تیاری مرکزی حکومت کے زیراہتمام ہوتی تھی ۔ جب مرکزی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو مختلف علاقوں کے حکمران اپنی اپنی طرف سے غلاف بنوا کر بھیجتے رہے اور بسا اوقات ایک وقت میں کئی کئی غلاف چڑھائے جاتے ۔

 

اس سلسلہ میں ایک مرتبہ 466ھ میں ہندوستان سے غلاف بنوا کر بھیجا گیا مصر کے فرماں روا الملک الصالح اسمٰعیل بن ناصر نے 750ھ میں غلاف کعبہ تیار کرانا اپنے ذمے لے لیا ۔ اور اس غرض سے تین گاؤں وقف کر دئیے ۔ مصر پر ترکوں کے قبضے کے بعد سلطان سلیمان اعظم نے ملک الصالح کے وقف میں سات گاؤں کا اور اضافہ کر دیا ۔ اس عظیم وقف کی آمدنی سے ہر سال کعبہ کا غلاف مصر سے بن کر آنے لگا ۔ اس کے علاوہ خانہ کعبہ کے اندر کے پردے بھی وقتاً فوقتاً اسی وقف سے بنا کر بھیجے جاتے رہے ۔ اس زمانہ میں اس وقف شدہ زمین کی کل آمدنی جو موجودہ زمانہ میں ایک لاکھ پچاس ہزار درہم مصری پونڈ تھے ۔

 

جب مصر کے وائسرائے محمد علی پاشا نے ترکی سلطنت سے بغاوت کر کے خودمختاری حاصل کر لی تو اس نے یہ وقف منسوخ کر دیا اور غلاف کعبہ صرف حکومت مصر کے خرچ پر بنوا کر بھیجنا شروع کر دیا ۔

 

پہلے غلاف مختلف رنگوں کے ہوتے تھے ۔ خلیفہ مامون الرشید کے دور میں سفید رنگ کا غلاف چڑھایا گیا ۔ سلطان محمود غزنوی نے زرد رنگ کا غلاف چڑھایا ۔

 

٭ خلیفہ ناصر عباسی نے 575ھ تا 622ھ کی ابتدا میں سبز اور پھر سیاہ ریشم کا غلاف بنوا کر بھیجا ۔ تب سے آج تک سیاہ غلاف ہی چڑھایا جا رہا ہے ۔ غلاف کعبہ کے چاروں طرف زری کے کام کی پٹی بنانے اور اس پر کعبۃ اللہ کے متعلق قرآن مجید کی آیات لکھوانے کا یہ سلسلہ سب سے پہلے 761ھ میں مصر کے سلطان حسن نے شروع کیا اس کے بعد سے آج تک یہ طریقہ جاری ہے ۔

 

ایک طرف آل عمران 97-96 لکھی جاتی ہے :

(( ان اول بيت وضع للناس للذي ببکۃ مبرکا وہدي للعلمين [96] فيہ ايت بينت مقام ابرہيم ومن دخلہ کان امنا وللہ علي الناس حج البيت من استطاع اليہ سبيلا ومن کفر فان اللہ غني عن العلمين )) ( آل عمران :96,97 )

 

دوسری طرف المائدہ آیت نمبر97:

(( جعل اللہ الکعبۃ البيت الحرام قيما للناس والشہر الحرام والہدي والقلآئد ذلک لتعلموا ان اللہ يعلم ما في السموت وما في الارض وان اللہ بکل شيئ عليم)) ( المائدہ : 97 )

 

تیسری طرف سورۃ البقرہ آیت نمبر 127,128 :

(( واذ يرفع ابرہم القواعد من البيت واسمعيل ربنا تقبل منا انک انت السميع العليمo ربنا واجعلنا مسلمين لک ومن ذريتنآ امۃ مسلمۃ لک ص وارنا مناسکنا وتب علينا انک انت التواب الرحيم )) ( سورۃ البقرہ : 127, 128 )

 

چوتھی جانب اس فرماں روا کا نام لکھا جاتا ہے جس کی طرف سے غلاف بنا کر بھیجا گیا ۔ گزشتہ صدی کے آغاز تک غلاف کعبہ دنیا کے سیاسی حالات سے محفوظ رہا ۔ جنگیں ہوتی رہیں سلطنتوں کے تعلقات بنتے اور بگڑتے رہے ، مگر خانہ کعبہ کے لیے غلاف جہاں سے آیا کرتا تھا وہیں سے آتا رہا ۔ لیکن گزشتہ صدی کے آغاز میں دنیا کے سیاسی حالات اس پر بھی اثر انداز ہوئے ۔ جنگ عظیم اول میں جب ترکی سلطنت جرمنی کے ساتھ شریک جنگ ہوئی تو اسے اندیشہ ہوا کہ مصر سے غلاف کے آنے میں انگریز رکاوٹ بنے گا ۔ ایسے میں ترکی نے ایک شاندار غلاف استنبول سے تیار کرا کے حجاز ریلوے کے ذریعے مدینۃ منورہ بھیج دیا ۔

عین وقت پر مصر سے بھی غلاف پہنچ گیا ۔ تو ترکی سے آیا ہوا غلاف مدینۃ منورہ میں محفوظ کر دیا گیا ۔

 

٭ 1923ءمیں شریف حسین اور مصر کے حالات آپس میں خراب ہو گئے اور مصری حکومت نے عین حج کے موقع پر جدہ پہنچے ہوئے غلاف کو واپس منگوالیا ۔ خوش قسمتی سے اس وقت جنگ کے زمانہ میں بھیجا ہوا ترکی غلاف کام آ گیا اسے فوری طور پر مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ پہنچایا گیا ۔

 

٭ 1925ءمیں سلطان ابن سعود رحمہ اللہ اور شریف حسین کی لڑائی کے زمانے میں مصر سے پھر غلاف نہ آیا ۔ ابن سعود رحمہ اللہ نے عراق کا بنا ہوا ایک غلاف چڑھا دیا جو شریف حسین نے بنوا کر رکھا ہوا تھا ۔

 

٭ 1927ءمیں ٹھیک یکم ذوالحجہ کو حکومت مصر نے غلاف بھیجنے سے پھر انکار کر دیا اور ابن سعود کو فوراً مکہ مکرمہ سے ایک غلاف بنوانا پڑا ۔

 

٭ 1928ءمیں مصر سے غلاف نہ آیا اور امرتسر سے مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ اور مولانا اسمٰعیل غزنوی رحمہ اللہ کے زیراہتمام غلاف بنو اکر بھیجا گیا ۔

 

ان تلخ تجربات کی بنا پر مکہ مکرمہ میں ایک دارالکسوۃ قائم کر دیا گیا تا کہ مصر سے آئے دن غلاف نہ آنے کی مصیبت کا مستقل حل کر دیا جائے ۔ اس کارخانے میں مولانا اسمٰعیل غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی مدد سے ہندوستان کے بہت سے کاریگر فراہم کئے گئے ۔

 

٭ 1972ءمیں اس کارخانے کو جدید ترین بنانے اور اس کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایک جدید کارخانہ کی بنیاد 1392ھ کو خادم الحرمین الشریفین ( شاہ فہد رحمہ اللہ ) نے رکھی جو اس وقت وزیر داخلہ اور مجلس وزرا کے نائب تھے ۔

 

٭ 1975ءبمطابق 1395ھ میں اس جدید کارخانے کا افتتاح خادم الحرمین الشریفین جو اس وقت ولی عہد تھے نے اپنے ہاتھ سے کیا ۔ اب یہ کارخانہ بنائی اور رنگائی کے جدید ترین آلات سے مزین ہے ۔ لیکن اس کام کو مشین کی بجائے ہاتھ سے ہی انجام دیا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ ہاتھ کی کاریگری انسانی کمال کا فنی ورثہ تصور کیا جاتا ہے ۔

 

غلاف کی لمبائی 14میٹر اور اس کے اوپر والے ایک تہائی حصہ میں غلاف کو باندھنے والی ڈوری ہوتی ہے جس کی چوڑائی سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔ اور اس پر چاندی اور سونے کی پالش شدہ ڈوری سے قرآنی آیات لکھی جاتی ہیں ۔ اس ڈوری کی لمبائی 47میٹر کے قریب ہوتی ہے جو 16ٹکڑوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔ ڈوری والے حصے سے تھوڑا نیچے اسلامی آرٹ ( خطاطی ) میں سورہ الاخلاص اور چھ قرآنی آیات جن کا تذکرہ پہلے کر آئے ہیں لکھی جاتی ہیں ۔

 

بیچ والے حصہ میں چند آیات درج ہوتی ہیں یہ آیتیں خط ثلث میں لکھی جاتی ہیں جو عربی کا سب سے خوبصورت خط ہے ۔ کعبے کے دروازے کا غلاف جسے برقعہ کہتے ہیں جو عمدہ اور نفیس کالے ریشم سے بنایاجاتا ہے ۔ جبکہ باقی غلاف بھی اسی رنگ کا ہوتا ہے لیکن اس کی عمدہ اور جاذبِ نظر ترتیب و کتابت اس کو دوسرے حصے سے ممتاز بنا دیتی ہے ۔ ان آیات کے نیچے اسی خط اور انداز میں یہ عبارتیں درج ہوتی ہیں کہ یہ غلاف مکہ مکرمہ میں تیار ہوا اور خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے اسے خانہ کعبہ کو بطور تحفہ پیش کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے ۔

 

اس عمدہ اور نفیس غلاف کی تیاری پر ایک کروڑ ستر لاکھ سعودی ریال خرچ آتا ہے ۔ آیات و کلمات سے اس طرح مزین غلاف کعبہ سعودی عرب کی ایک یادگار ہے تاریخ میں اس انداز کا غلاف کعبہ کبھی تیار نہیں کیا گیا ۔

 

قارئین کرام ! یہ مختصر تاریخ غلاف کعبہ آپ کے سامنے پیش کی ۔ اللہ کریم ہماری اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہماری دیرینہ خواہش ہے کہ اللہ کریم اپنے گھر کی زیارت و خدمت کا موقع نصیب فرمائے ۔ ( آمین یارب العالمین )

 

Ye pori post aik risalye se copy kardah hai....

 

(salam)

Abdul Salam

 

Janab app koi mustanad hawala pesh karain koi scan page taakey uss say yeh baat maan li jai aur aghar app ky likhay howay hawala jat sach hain tu Raza-e-Mustafa Ahl-e-Sunnat Wal Jama'at ka Monthly Magazine app ky Rasail say pechly 1-2 Years say yeh mutalba kar raha hai ky Ghilaf-e-Kabah Huzoor (saw) ya Sahaba ky zamane mein tha yeh sabit karain.

Iss ko jo Ghusl diya jata hai yeh kon si sunnat, hadith ya sahaba ky aqwal say sabit hai yeh sabit karain laikin app ky rasail abhi tak khamosh hein.

so mein nahi man sakta ky app ka diya howa koi bhi hawala darust hai iss liye app say guzarish hai ky sirf likhein nah balky saboot woh dein jiss ko saboot kaha aur mana jaa sakain.

Share this post


Link to post
Share on other sites

اسی طرح یزید رحمہ اللہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے دور میں یہ عمل کیا ۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد میں یہی مستقل طریقہ بن گیا ۔ جو آج تک جاری ہے ۔

 

aslamualikum only to muslims.

yahan to Wahabi najdi ne yazeed e paleed ke sath rehmatullah likh diya hai. Allah azawajal in ka hashar yazeed ke sath hi kare, AMEEN

ان آیات کے نیچے اسی خط اور انداز میں یہ عبارتیں درج ہوتی ہیں کہ یہ غلاف مکہ مکرمہ میں تیار ہوا اور خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے اسے خانہ کعبہ کو بطور تحفہ پیش کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے

Kya ye shirk nahi? Najdion ne kabaa ke ghulaf pe apna naam likhna to gawara kr liya lekin Huzoor sallallahualaihiwasalm se dushmani ke un ke Naame garami aur nshanaat ko mitaaney ke dar pe hain.

 

Abdussalam tum ne post ko shayad ghoor se nai parha ke is me Ghusle kaaba ka jawab manga hai jab ke tum Ghilaf e Kaaba ka Jawaz pesh kar rahe ho.

 

aur Yeh wohi Abdussalam hai jis ne kuch rooz qabal apna id block kiye jane ka dawa kiya tha au ab ye wohi purana id use kar raha hai. Munafqat ki had hai.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Ji Abdussalam Sahab Umar Taj Bhai ne sahi kaha... hum ne jiss cheez ka mutalba kiya app ne apni post mein uss ka ek bhi jagha zikr nahi kiya so idher udher ki batain marne ki bajai topic per baat karain nahi tu apne hee mazhab per Bid'at ka fatwa laga dein.

aur haan Umar Taj Bhai app Yazeed ky baray mein itne hee baat say pareshan ho gai meray pass aik Wahabi ki Book mojood hai jiss ka name hai '' Sayyidina Yazeed Rehmatullah Alaihe ''

Abb kya karain inn ka :(

Share this post


Link to post
Share on other sites

Yaqeenan Abdussalam Meri dua ke nateejey me bohat khush hua ho ga. ke me ne itni "jaleel ul qadar" hast jin ko janab ke ulama qatae jannati sabit karne ki sar toor kashishon me masroof hain, zaroor hashar me us ke sah hone ke talabgar hon ge. Aur janab ne be sakhta meri dua par AMeen bhi keh dia ho ga.

 

Allah Azzawajal Tum jaison ka hashar yazeed e paleed jaison ke sayh hi kare ga. Inshallah. Allah Paak to ye Dunya me hi zahir kiye ja raha hai..

 

Janab Abdussalam meri last post me Apki post ke jawab me kuch sawal hai agar munasib samjhen to un ka jawab bhi de dijye ga. Nahi to majbooran mujhe aik dafa phir Aap ko farar hone wala kehna pare ga.

Share this post


Link to post
Share on other sites
Ji Abdussalam Sahab Umar Taj Bhai ne sahi kaha... hum ne jiss cheez ka mutalba kiya app ne apni post mein uss ka ek bhi jagha zikr nahi kiya so idher udher ki batain marne ki bajai topic per baat karain nahi tu apne hee mazhab per Bid'at ka fatwa laga dein.

 

(bis)

(salam)

 

Janab Ghulam-e-Mustafa and Janab Umer Taj Attari sahib

wesye to main is ko findout kernye ki koshish kar raha hon, lakin sare-dast ye zaroor batana chahta hon ke

Bidaa't har us cheez ko kehtye hain jo ke deen main dakhil ki jaye (shayed aap bhool gaye they).. lehaza zara ye batain ke kia kisi bhi maslak ke aalim ne ye baat deen ke izafe se jori (Ghusal-e-Kaa'ba)? agar nahin to bhir ye bidaa't nahin. (kion ke iska taa'luq deen ke mukammal honye se hai na ke duiya ke lehaz se, warna har nai ejad(invention) and har naya tareeqa bidaa't kelaye ga and Hadith (agar ghalat matlab liya jaye) ki roo se bidaa't "zalalat" hai and zalalat "gumrahi")

 

Is ke liye mujhye ya aap ko kahin or janye ke zaroorat nahin apnye hi aalimo ke bidaa't ke tareef un ki kitabon se maloom kerlain to behtar hoga..

 

fi-aman:

(salam)

Abdul Salam

Share this post


Link to post
Share on other sites
(bis)

(salam)

 

Janab Ghulam-e-Mustafa and Janab Umer Taj Attari sahib

wesye to main is ko findout kernye ki koshish kar raha hon, lakin sare-dast ye zaroor batana chahta hon ke

Bidaa't har us cheez ko kehtye hain jo ke deen main dakhil ki jaye (shayed aap bhool gaye they).. lehaza zara ye batain ke kia kisi bhi maslak ke aalim ne ye baat deen ke izafe se jori (Ghusal-e-Kaa'ba)? agar nahin to bhir ye bidaa't nahin. (kion ke iska taa'luq deen ke mukammal honye se hai na ke duiya ke lehaz se, warna har nai ejad(invention) and har naya tareeqa bidaa't kelaye ga and Hadith (agar ghalat matlab liya jaye) ki roo se bidaa't "zalalat" hai and zalalat "gumrahi")

 

Is ke liye mujhye ya aap ko kahin or janye ke zaroorat nahin apnye hi aalimo ke bidaa't ke tareef un ki kitabon se maloom kerlain to behtar hoga..

 

fi-aman:

(salam)

Abdul Salam

 

Wah SubhanAllah... Rah-e-Farar ekhtyaar karne ka kya hee EASY tareeqa talash kia hai app ne.

Hum Mehfil-e-Milad manain, Gayarhaween ki Mehfil karain, Milad Shareef ka Jaloos nikalain tu woh sab kuch Deen ky andar hota hai aur hota bhi bidat hai (baqool app ky) laikin KHANA KABAH (BAQOOL APPKE) DEEN SAY BAHIR HAI :unsure:

Abdulsalam sahab aghar mein ghalat nahi tu yeh reply likhty waqt app apne hoosh mein nahi thay ise liye app ne KABAH ko deen say bahir likh diya.

Aur aghar yeh sab kuch deen say bahir hai tu mujhe batao ky Deen kehty kiss cheez ko hein ???

Mujhe pata hai jab app ki Apni bari aai tu app ise tarha ky bahane talash karty hein laikin janab yahan app ka aisa koi bahana nahi chalne wala yaa tu sabit karo ky Kabah Deen ky Andar nahi Bahir hai tu yaa phir meray aitraaz ka answer doo.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Abdussalam ki last post sy us ki pareshani aur jawab se lailmi aur Farar ki koshish soraj ki tarah rashan hai.

Jab baat apne pe ai to Bidat ki nai tareef hone lagi hai.

 

Bhai aap ki itlaaa ke liye arz hai ke Bidaat ki ye nai tareef bhi jo apne liye aur aur dosron ke liye kuch aur hoti hai bhi deen me bidat hai.

 

 

Aur abdussalam sahib apki post me se kuch chezoon ki taraf m ne aap ki tawajuh dilai thi aap ne us ka jawab bhi na diya.

Edited by Umar Taj Attari

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

(salam)

 

Wah SubhanAllah... Rah-e-Farar ekhtyaar karne ka kya hee EASY tareeqa talash kia hai app ne.

Hum Mehfil-e-Milad manain,

 

Meelad ke naam per jo kuch hota hai us ki wajah Meelad hi hai na..... mujhye bolnye ki zarorat nahi baat kahi se kahin chali jaye gee,

 

 

Gayarhaween ki Mehfil karain,

jab meelad ko apnye mangharat dalail se sabit karlia to Giyarhween bhi jayez......?

 

 

 

Milad Shareef ka Jaloos nikalain tu woh sab kuch Deen ky andar hota hai

jawab wo hi pehli line walal.....!

 

 

aur hota bhi bidat hai (baqool app ky) laikin KHANA KABAH (BAQOOL APPKE) DEEN SAY BAHIR HAI :unsure:

Abdulsalam sahab aghar mein ghalat nahi tu yeh reply likhty waqt app apne hoosh mein nahi thay ise liye app ne KABAH ko deen say bahir likh diya.

Aur aghar yeh sab kuch deen say bahir hai tu mujhe batao ky Deen kehty kiss cheez ko hein ???

Mujhe pata hai jab app ki Apni bari aai tu app ise tarha ky bahane talash karty hein laikin janab yahan app ka aisa koi bahana nahi chalne wala yaa tu sabit karo ky Kabah Deen ky Andar nahi Bahir hai tu yaa phir meray aitraaz ka answer doo.

 

Zara ye zaroor dekhain ke main ne Gusle-Kaaba kaha hai na ke sirf Kaaba

mere khiyal main itni urdu to aati hi hogi.......

 

 

phir bhi jawab yahi hai ke main is ka jawab dhoondh raha hon, dont think i'm trying to runaway..... main Insha Allah ghar ponhcha kar hi dam longa

 

 

fi-aman:

(salam)

Abdul Salam

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

(salam)

Abdussalam ki last post sy us ki pareshani aur jawab se lailmi aur Farar ki koshish soraj ki tarah rashan hai.

Jab baat apne pe ai to Bidat ki nai tareef hone lagi hai.

 

Janab aap ka suraj kahan hai nazar nahin aa raha? jo sirf aap ko hi nazar aa raha hai

aisi surat main bari hi mazhaka khaiz sorat-e-hal hoti hai zara khayal rakhain

 

 

fi-aman:

(salam)

Abdul Salam

Share this post


Link to post
Share on other sites
Meelad ke naam per jo kuch hota hai us ki wajah Meelad hi hai na..... mujhye bolnye ki zarorat nahi baat kahi se kahin chali jaye gee,

 

Jab bandy ky pass hath peir marny ky ilawa kuch nah hoo aur koi Daleel nah hoo tu aise hee batain karta hai.

 

jab meelad ko apnye mangharat dalail se sabit karlia to Giyarhween bhi jayez......?

 

Chalo app ky liye mangharat hee sahi Sabit tu hoo gaya hai yeh tu ajj app ne bhi maan liya.

 

jawab wo hi pehli line walal.....!

 

Jahilon wali batain nah karain koi daleel lain.

 

Zara ye zaroor dekhain ke main ne Gusle-Kaaba kaha hai na ke sirf Kaaba

mere khiyal main itni urdu to aati hi hogi.......

 

Jab Kabah ky sath kuch karna hai woh bhi Deen ki hadh mein reh kar karna hoo ga app ki baat say tu koi yeh bhi samajh sakta hai ky Ma'azAllah Kabah ky upper ya ander kuch bhi kar sakty hein tu wahan koi aisa waisa kaam bhi karne ka koi harj nahi. :unsure:

Baat samjhana maqsood zyada tafseel say mein nahi bolna cahta umeed hai app mein itne tu aqal hoo gi ky app samajh sakty hein ky Deen ki kisi cheez ky sath bhi kuch karna hai tu deen mein reh kar hee kiya jai yeh nahi ky deen say bahir hoo jain.

phir bhi jawab yahi hai ke main is ka jawab dhoondh raha hon, dont think i'm trying to runaway..... main Insha Allah ghar ponhcha kar hi dam longa

 

Haan yeh aik aqal mandon wali baat ki app ne beharhal mein tu yahan per bhi yahi kahon ga ky jiss cheez ko ajj tak app ky Molvi sabit nahi kar sakay woh app kahan say karain gai.

Share this post


Link to post
Share on other sites
Haan yeh aik aqal mandon wali baat ki app ne beharhal mein tu yahan per bhi yahi kahon ga ky jiss cheez ko ajj tak app ky Molvi sabit nahi kar sakay woh app kahan say karain gai.

 

 

(bis)

(salam)

sirf aik jawab,

"jab aap ne haq ko pehchan liya to aap ko khud baghair kisi daleel ke ye maloom ho jayega ke kis qisim ki ghair zaroori dalil mang rahye hain aap"

 

merye bas main yaqeenan nahin kisi ko rah-e=rast per lana, Sirf Allah hi hidayat denye wala hai

 

mujhye is se waqai faraq nahin perta ke main Ghusl-e-Kaaba ki koi dalil laon ya na laon,

 

jis cheez ki zaroorat hai us per hi tehqeeq kar raha hon, Allah ka lakh lakh shukar hai

 

fi-aman:

(salam)

Abdul Salam

Share this post


Link to post
Share on other sites

Zara masroof hon iss liye shayad zyada baat na kar paoo. Filhaal Abdulsalam sahab ki ab tak ki posts per thora tabsarra kiye lete hain.

 

sare-dast ye zaroor batana chahta hon ke

Bidaa't har us cheez ko kehtye hain jo ke deen main dakhil ki jaye (shayed aap bhool gaye they).. lehaza zara ye batain ke kia kisi bhi maslak ke aalim ne ye baat deen ke izafe se jori (Ghusal-e-Kaa'ba)? agar nahin to bhir ye bidaa't nahin. (kion ke iska taa'luq deen ke mukammal honye se hai na ke duiya ke lehaz se, warna har nai ejad(invention) and har naya tareeqa bidaa't kelaye ga and Hadith (agar ghalat matlab liya jaye) ki roo se bidaa't "zalalat" hai and zalalat "gumrahi")

 

Bari anookhi baat kar di janab aap ne. Ye qaida aap kaha se laye ke agar kisi bhi maslak ke kisi bhi alim ne kisi cheez ko biddat qaraar nahi diya tu woh cheez shara'ee tour per bhi biddat na hogi? Matlab kal ko saray ulema muttafiq ho kar kisi cheez ko biddat qaraar dein chahay us cheez ki asal Quran-o-Sunnat se sabit ho tu bhi aap usay biddat maan lein gay?

 

Maslan jaisa ke wahabiya najdiya ke nazdeek Milad-un-Nabi (saw) biddat hai tu agar aaj tak aap ke wahabiya nadjiya ulema ne issay biddat na kaha hota tu ye biddat na hoti? Matlab aap ke nazdeek kya cheez biddat hai aur kya nahi iss ka dar-o-madar ulema per mouqof hai ke woh jisay biddat qaraar dein tu biddat woh jisay jayaz qaraar dein tu jayaz!

 

Mazeed ye ke Wahabiya Najdiya Mamoolat-e-Ahle'Sunnat mein jin jin cheezo ko biddat qaraar dete hain unn per inn wahabiya najdiya ke ilawa kin ulema ka biddat ka qoul moujoud hai? Jaisa ke Milad-un-Nabi (saw) , issay Wahabiya Najdiya ke ilawa kin ulema ne biddat qaraar diya hai?

 

Aap ke nazdeek shayad kisi cheez ke biddat honay ya na honay ka sara dar-o-madar Wahabiya Najdiya ke fatway hi hain.

 

Meelad ke naam per jo kuch hota hai us ki wajah Meelad hi hai na..... mujhye bolnye ki zarorat nahi baat kahi se kahin chali jaye gee,

 

Matlab jihad ke naam per jo bawlay musalmaano ko hi maar rahay hain uss mein bhi kasoor aap Jihad ke hukm ko dein gay? Kal ko aap ke Wahabiya Najdiya ki American government se wafadaari ki soorat mein agar koi goora Masjid-e-Haram mein khara ho kar sharab piya ga tu shayad aap Masjid-e-Haram ki hi gira dein gay ke na Masjid hogi na bay'hurmati hogi.

 

Milad ke naam per jo koi bhi ghair'shar'aee kaam karay woh ghalat karta hai lekin aap sarr patakh patakh kar marr jaye tu bhi iss se Milad ka ghalat hona sabit nahi kar saktay. Na mantak se na shariat se.

 

jab meelad ko apnye mangharat dalail se sabit karlia to Giyarhween bhi jayez......?

 

Hazrat Milad ke radd mein jo dalail aap paish kartay woh kya aap ko farishtay aa kar batatay hain? Quran ki nas se aap Milad ka radd kar saktay hain? Kisi hadith se sareeh mumaniat sabit kar saktay hain? Tu phir jo ghair'mantaki dalail aap Milad ke radd mein paish kartay hain unhay bhi man'gharat hi kaha jana chahiye. Waisay agar aap ko Milad per diye gaye dalail man'gharat lagtay hain tu uss per aik alehda topic banaye lete hain wahi per tafseel se baat ho jaye gi. Kya khayal hai phir?

 

Zara ye zaroor dekhain ke main ne Gusle-Kaaba kaha hai na ke sirf Kaaba

 

Ghulam-e-Mustafa bhai ke sawal ke jawab mein aap ne keh diya ke aap ne Kaaba ko deen se bahir nahi kaha balkay Gusl-e-Kaaba ki baat ki hai. Tu phir yaha aap hi ki paish'karda mantak istimaal kiye deta hon;

 

Gusl-e-Kaaba ke naam per jo kuch hota hai us ki wajah Kaaba hi hai na

 

Alfaaz aap hi ke hain, sirf Milaad ki jageh Kaaba hai yaha.

 

Janab aap ka suraj kahan hai nazar nahin aa raha? jo sirf aap ko hi nazar aa raha hai

aisi surat main bari hi mazhaka khaiz sorat-e-hal hoti hai zara khayal rakhain

 

Kiya Sooraj ki taraf deekhnay se Sooraj nazar aa jata hai? :unsure:

 

jab aap ne haq ko pehchan liya to aap ko khud baghair kisi daleel ke ye maloom ho jayega ke kis qisim ki ghair zaroori dalil mang rahye hain aap

 

Siyaasi bayanaat se perhaaiz kijiye, waisay bhi iss qism ke siyaasi statements se sabit kuch na hoga.

 

merye bas main yaqeenan nahin kisi ko rah-e=rast per lana, Sirf Allah hi hidayat denye wala hai

mujhye is se waqai faraq nahin perta ke main Ghusl-e-Kaaba ki koi dalil laon ya na laon,

jis cheez ki zaroorat hai us per hi tehqeeq kar raha hon, Allah ka lakh lakh shukar hai

 

Kya baat hai janab aap ki. Pichli posts mein tu khud aap iqraar kar rahay thay ke mein iss ki tehqeeq kar raha hon, ab keh rahay koi farq nahi parta ke daleel lao ya na lao. Kafi mutazaad qism ki baatein kar rahay hain hazrat aap.

 

Chaliye filhaal itna hai. Aap hi kuch aqwaal se aap hi per kuch sawalaat paish kiye hain mumkin hai jawab jald aye ga.

Share this post


Link to post
Share on other sites
sirf aik jawab,

"jab aap ne haq ko pehchan liya to aap ko khud baghair kisi daleel ke ye maloom ho jayega ke kis qisim ki ghair zaroori dalil mang rahye hain aap"

merye bas main yaqeenan nahin kisi ko rah-e=rast per lana, Sirf Allah hi hidayat denye wala hai

mujhye is se waqai faraq nahin perta ke main Ghusl-e-Kaaba ki koi dalil laon ya na laon,

jis cheez ki zaroorat hai us per hi tehqeeq kar raha hon, Allah ka lakh lakh shukar hai

 

MasahAllah humare Sybarite bhai ne rahi sahi kasar puri kar di.

Janab jaisa ky Sybarite bhai ne kaha ky Ghusl-e-Kaaba ky naam per jo kuch hota hai uss ki wajha Kaaba hai na humara aitraaz bhi bilkul ise tarha hai jaisy hum meelad per Jaloos nikalain tu app DALEEL manty ho, Meelad per Jhandy Lehrain tu app DALEEL mangty ho, Meelad Shareef per Batiyan Jalain tu app DALEEL mangty ho, Azaan say pehly Darood par lain tu app DALEED mangty ho so aghar hum say Daleel mangty ho tu khudh jo kaam karty ho uss ki bhi daleel pesh karain nahi tu app ka yeh dawah bilkul ghalat hai ky '' WAHHABIYAH KA HAR AMAL QURAN O HADITH SAY SABIT HAI ''

Share this post


Link to post
Share on other sites
MasahAllah humare Sybarite bhai ne rahi sahi kasar puri kar di.

Janab jaisa ky Sybarite bhai ne kaha ky Ghusl-e-Kaaba ky naam per jo kuch hota hai uss ki wajha Kaaba hai na humara aitraaz bhi bilkul ise tarha hai jaisy hum meelad per Jaloos nikalain tu app DALEEL manty ho, Meelad per Jhandy Lehrain tu app DALEEL mangty ho, Meelad Shareef per Batiyan Jalain tu app DALEEL mangty ho, Azaan say pehly Darood par lain tu app DALEED mangty ho so aghar hum say Daleel mangty ho tu khudh jo kaam karty ho uss ki bhi daleel pesh karain nahi tu app ka yeh dawah bilkul ghalat hai ky '' WAHHABIYAH KA HAR AMAL QURAN O HADITH SAY SABIT HAI ''

 

 

(bis)

(salam)

 

Janab Sybarite and Ghulam-e-Mustufa sahib

jesa ke main ne kaha ke" Mujhye waqai faraq nahin perta ke main Ghusl-e-Kaa'ba ki koi daleel laon ya na laon" to main apni baat per abhi tak (filhal) qayeem hon... lehaza is cheez main waqt barbad karna merye nazdeek sahi nahin, han agar barsabeel-e-tazkarah dalil zaroor post kar doonga (Insha Allah),

 

fi-aman:

(salam)

Abdul Salam

Share this post


Link to post
Share on other sites
(bis)

(salam)

 

Janab Sybarite and Ghulam-e-Mustufa sahib

jesa ke main ne kaha ke" Mujhye waqai faraq nahin perta ke main Ghusl-e-Kaa'ba ki koi daleel laon ya na laon" to main apni baat per abhi tak (filhal) qayeem hon... lehaza is cheez main waqt barbad karna merye nazdeek sahi nahin, han agar barsabeel-e-tazkarah dalil zaroor post kar doonga (Insha Allah),

 

fi-aman:

(salam)

Abdul Salam

ayee najdi nam tu tera acha hai kash aqida bi acha hota khair najdi ager tumain daleel see koi faraq nahi parta tu is fourm py gass charny ayee ho kia??????

munafiq pay rab ki lannat

Share this post


Link to post
Share on other sites
Janab Sybarite and Ghulam-e-Mustufa sahib

jesa ke main ne kaha ke" Mujhye waqai faraq nahin perta ke main Ghusl-e-Kaa'ba ki koi daleel laon ya na laon" to main apni baat per abhi tak (filhal) qayeem hon... lehaza is cheez main waqt barbad karna merye nazdeek sahi nahin, han agar barsabeel-e-tazkarah dalil zaroor post kar doonga (Insha Allah),

 

Abdul Salam

 

Awwal tu ye ke Ghusl-e-Kaa'ba ki behs mein zimnan kuch aur sawalaat bhi kiye thay aap se, shayad aap ne post poori parhi nahi. Doosri baat Ghusl-e-Kaa'ba per shara'ee daleel paish karne ki, tu hazrat aap hi Ghair'muqallideen hi ka qoul hai ke jo baat Quran-o-Hadith se sabit nahi woh biddat hai, shirk hai. Humara tu sirf aap se itna sawal hai ke aap ke mutabiq ye Rasm-e-Ghusl-e-Kaa'ba kya hai? Wajib, farz, sunnat, biddat, shirk ..? Ab ya tu Rasm-e-Ghusl-e-Kaa'ba per Quran-o-Hadith se dalail paish kar ke apnay maslak se imaan'daari ka saboot dijiye ba'soorat-e-deegar humein tu maloom hi hai ke aap kya hain.

 

Aur farq tu ghair'muqallideen ko waqai nahi parta. Jin ulema ki kitabo ko saal'ha'saal dhoom dhaam se chaapa jata hai waqt anay per unhi ulema ko laat maar dene walo se kuch ba'eed nahi.

Share this post


Link to post
Share on other sites
Awwal tu ye ke Ghusl-e-Kaa'ba ki behs mein zimnan kuch aur sawalaat bhi kiye thay aap se, shayad aap ne post poori parhi nahi. Doosri baat Ghusl-e-Kaa'ba per shara'ee daleel paish karne ki, tu hazrat aap hi Ghair'muqallideen hi ka qoul hai ke jo baat Quran-o-Hadith se sabit nahi woh biddat hai, shirk hai. Humara tu sirf aap se itna sawal hai ke aap ke mutabiq ye Rasm-e-Ghusl-e-Kaa'ba kya hai? Wajib, farz, sunnat, biddat, shirk ..? Ab ya tu Rasm-e-Ghusl-e-Kaa'ba per Quran-o-Hadith se dalail paish kar ke apnay maslak se imaan'daari ka saboot dijiye ba'soorat-e-deegar humein tu maloom hi hai ke aap kya hain.

 

Aur farq tu ghair'muqallideen ko waqai nahi parta. Jin ulema ki kitabo ko saal'ha'saal dhoom dhaam se chaapa jata hai waqt anay per unhi ulema ko laat maar dene walo se kuch ba'eed nahi.

 

(bis)

(salam)

 

Janab "Ya-Rasool-Madad" sahib

Welcome to my post thaks for joing us here and reading the truth about the aqeedah and ama'al

 

Janab Sybarite

Jesa ke main ne pehlye kaha ke "Barsabeel-e-Tazkarah bilkul karonga (Insha Allah (azw) )

aap ke dosri batain (sawalat) bhi perh leiye they lehaza un ka bhi jawab de donga lakin is waqat nahin bulkye pehlye wait karonga ke koi ail ghair muqallid ke sawalat ka jawab to dye phi us per baat kernye ke baad (Insha Allah (azw) )

 

 

fi-aman:

(salam)

Abdul Salam

Share this post


Link to post
Share on other sites
Janab Sybarite and Ghulam-e-Mustufa sahib

jesa ke main ne kaha ke" Mujhye waqai faraq nahin perta ke main Ghusl-e-Kaa'ba ki koi daleel laon ya na laon" to main apni baat per abhi tak (filhal) qayeem hon... lehaza is cheez main waqt barbad karna merye nazdeek sahi nahin, han agar barsabeel-e-tazkarah dalil zaroor post kar doonga (Insha Allah),

 

Janab buht hairangi hoti hai app per ky app ne tu Wahabi Mazhab ki Basti karwa di ky app ka tu yeh Elaan hai ky WAHABI KA HAR AMAL QURAN O HADITH SAY SABIT HAI SIRF QURAN O HADITH ISS KY SIWA KUCH NAHI aur ajj app kehty ho iss ka jawab daina meray liye zarori nhi.

Jawab tu Insah'Allah app Qayamat tak nahi laa sakty laikin itne baat zaror hai ky app jaison ki hawa iss topic per hee nikal gai hai tu phir baqi topics per app ne kya baat karni hai.

Share this post


Link to post
Share on other sites
Janab Sybarite

Jesa ke main ne pehlye kaha ke "Barsabeel-e-Tazkarah bilkul karonga (Insha Allah (azw) )

aap ke dosri batain (sawalat) bhi perh leiye they lehaza un ka bhi jawab de donga lakin is waqat nahin bulkye pehlye wait karonga ke koi ail ghair muqallid ke sawalat ka jawab to dye phi us per baat kernye ke baad (Insha Allah (azw) )

Abdul Salam

 

"Barsabeel-e-Tazkarah" wali baat tu janab tab hoti ke jab asal mouzo koi aur hota aur darmyaan mein zimnaan Rasm-e-Ghusl-e-Kaa'ba ki baat nikal aati. Yaha tu asal mouzo hi Rasm-e-Ghusl-e-Kaa'ba hai. Ab ya tu aap ko iss topic mein baat shuru hi nahi karni chahiye thi aur ab kardi hai tu phir dalail paish karne mein kahay ki sharm?

 

Rahi baat aap ke sawalaat ki tu hazrat zara nazar ghumaiye... ghair'muqallideen ki taraf se kiye gaye kaafi sawalaat ka jawab tu forum per mil hi jaye ga aap ko.

Share this post


Link to post
Share on other sites
Janab buht hairangi hoti hai app per ky app ne tu Wahabi Mazhab ki Basti karwa di ky app ka tu yeh Elaan hai ky WAHABI KA HAR AMAL QURAN O HADITH SAY SABIT HAI SIRF QURAN O HADITH ISS KY SIWA KUCH NAHI aur ajj app kehty ho iss ka jawab daina meray liye zarori nhi.

Jawab tu Insah'Allah app Qayamat tak nahi laa sakty laikin itne baat zaror hai ky app jaison ki hawa iss topic per hee nikal gai hai tu phir baqi topics per app ne kya baat karni hai.

 

(bis)

(salam)

Janab Gulam-e-Mustafa sahib

 

Meri baat ka jawab denye ke liye aap ne shaid aik laine poori ki poori chor di and mujh se question hai ke main ne apnye aqeedah ke khilaf likh diya”Aqwal-e-Ulama-e-Haq”, ya beizzati karwa di?

 

To jaba zara is se phlye ka jumla bhi mulahiza farmain ke

 

Pehlye bohat si posts main bayan ho chuka hai ke, humara sab se pehlye amal Quran-o-Hadith, secondly Aqwal-e-Sahaba (ra), thrirdly Aqwal-e-Taabaeen then Aqwala-e-Taba-Taabaeen and is ke bawajoo kisi maslye ka hal na milye to phir ulama-e-Haq ke aqwal and aamal,"

 

wo bhi us waqat jab in ka amal ya aqwal Quran-o-Hadith se na takraye….

 

To janab Hazoor-e-akram (saw) ki Hadith ke mutabiq jab aap ko Nas-e-Qurani, Nas-e-Hadith, na milye to aik Sahabi ko apnye Qayas se faisla (decision) kerne ko kaha, jis se aap log qayas ko sabit bhi kartye hain to humara amal behar hal Quran-o-Hadith ke mutabiq hi hoa.

 

fi-aman:

(salam)

Abdul Salam

Share this post


Link to post
Share on other sites
Rahi baat aap ke sawalaat ki tu hazrat zara nazar ghumaiye... ghair'muqallideen ki taraf se kiye gaye kaafi sawalaat ka jawab tu forum per mil hi jaye ga aap ko.

 

(bis)

(salam)

 

Janab Sybarite,

yahan zaroori hai ke in sawalat ka jawab aap log dain chahye kisi post se hi copy past karian....

warna shaid baad main aap is se inkar hi kerdain ke aap ne ye nahin kaha(said) ya maana (believed) bilkul Ghunat-tut-Talebeen ki tarha

 

Is ke baad is per bhi kafi behas hogi ke aqeedah kis ka kharab hai agar nahin to main again ye hi kahonga ke

in batoon ke baad hi aap hazrat ka aqeedah wazeh hoga is ke ilawa mean while doosri posts per bhi jawabat jari rakhnye ki koshish karonga.(Insha Allah (azw) )

 

 

fi-aman:

(salam)

Abdul Salam

Share this post


Link to post
Share on other sites
Janab Sybarite,

yahan zaroori hai ke in sawalat ka jawab aap log dain chahye kisi post se hi copy past karian....

warna shaid baad main aap is se inkar hi kerdain ke aap ne ye nahin kaha(said) ya maana (believed) bilkul Ghunat-tut-Talebeen ki tarha

 

Is ke baad is per bhi kafi behas hogi ke aqeedah kis ka kharab hai agar nahin to main again ye hi kahonga ke

in batoon ke baad hi aap hazrat ka aqeedah wazeh hoga is ke ilawa mean while doosri posts per bhi jawabat jari rakhnye ki koshish karonga.(Insha Allah (azw) )

Abdul Salam

 

Hazrat agar aap ne kisi doosray topic mein sawalaat kiye hain tu topic ka link de dein kyu ke masroofiyat ke baais tamaam topics parhnay se mein qasir hon. Iss topic mein agar aap ke kisi sawaal ka jawab reh gaya ho tu woh bhi bata dein. Humaray aqaid per bhi sawal hain tu zaroor paish kijiye.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.