Sign in to follow this  
Followers 0
Bismillah

Dur-E-Mukhtaar Kya Hai? Aor Tasweer Ko Samnay Rakh Kar Namaz Parhnay Ka Hukam?

13 posts in this topic

 

 

dur-e-mukhtaar kya hai aur kiss nay likhi?

tasweer ko samnay rakh kar parney ka kya hukam hai?

 

Edited by Usman Razawi

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

dur-e-mukhtaar kya hai aur kiss nay likhi?

 

 

 

 

Walaikumussalam

 

 

''Durr-e-Mukhtar'' k musanif Imam Haskafi رحمت اللہ علیہ thay

 

is per Imam Muhammad Ameen ibn Abidin Al-Shaami Hanafi رحمت اللہ علیہ ne ''Radd- ul-Mukhtar'' k naam se commentry likhi hay , jo k ''Fatawa Shaami'' k naam se bhi jani jati hay.

 

Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Fazil-e-Barelwi رضی اللہ عنہ ne ''Radda-Al-Mukhtar'' per ''Jadd al-Mumtar Hashiya Radd-al-Mukhtar'' k naam se commentry likhi hay

 

 

 

tasweer ko samnay rakh kar parney ka kya hukam hai?

 

 

 

Tasweer ager Jaandar ki hay aor wazih ho aor Saamnay ya Dain , Baain (right,left) hay to whan nmaz makrooh-e-tahreemi hay , ager tasweer peechay hay to harj nhi aor Akhbarat ya kutab main tasaweer hain to is se nmaz main farq nhi parta

 

isitrah gharon main jo decoration piece waghera hotay hain janwaron k ya isitrah jandar ashya k , to un per bhi kapra daal dena chahiay ..

laikin ager bachon k khilonay hain k jo bikhray rehtay hain aor ezat ki jaga per nhi , jin ki ezat nhi ki jati to us se bhi nmaz main farq nhi parta

 

yeh suwal sun lijiay , yhan mufti sahib nay yeh byan kia hay aor main ne sun kr yhan likh dea hay..

 

 

 

http://mufti.faizaneattar.net/Answer.php?Q=13159

 

 

 

Post 11 By Brother Najam Mirani :

 

 

 

 

مسئلہ ۱۷:  جس کپڑے پر جاندار کی تصویر ہو، اسے پہن کر نما زپڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔ نماز کے علاوہ بھی ایسا کپڑا پہننا، ناجائز ہے۔  یوہیں تصویر مصلّی (نمازی) کے سر پر یعنی چھت ميں ہو یا معلّق (آویزاں) ہو، یا  محل سجود (سجدے کی جگہ) میں ہو، کہ اس پر سجدہ واقع ہو، تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی ، یوہیں مصلّی کے آگے، یا  داہنے، یا بائیں تصویر کا ہونا، مکروہ تحریمی ہے،  اور پسِ پُشت (پیچھے) ہونا بھی مکروہ ہے، اگرچہ ان تینوں صورتوں سے کم اور ان چاروں صورتوں میں کراہت اس وقت ہے کہ تصویر آگے پیچھے دہنے بائیں معلق ہو، یا نصب ہو یا دیوار وغیرہ میں منقوش ہو، اگر فرش میں ہے اور اس پر سجدہ نہیں، تو کراہت نہیں۔ اگر تصویر غیر جاندار کی ہے، جیسے پہاڑ دریا وغیرہا کی، تو اس میں کچھ حرج نہیں۔ (''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، ج۲، ص۵۰۲ ۔ ۵۰۴، وغيرہما

مسئلہ ۱۸: اگر تصویر ذلت کی جگہ ہو، مثلاً جوتیاں اُتارنے کی جگہ يا اور کسی جگہ فرش پر کہ لوگ اسے روندتے ہوں يا تکیے پر کہ زانو وغیرہ کے نیچے رکھا جاتا ہو، تو ایسی تصویر مکان میں ہونے سے کراہت نہیں، نہ اس سے نماز میں کراہت آئے، جب کہ سجدہ اس پر نہ ہو۔  (درمختاروغیرہ

    مسئلہ ۱۹: جس تکیہ پر تصویر ہو، اسے منصوب (یعنی کھڑا) کرنا پڑا ہوا نہ رکھنا، اعزاز تصویر میں داخل ہوگا اور اس طرح ہونا نماز کو بھی مکروہ کردے گا۔  (درمختار

    مسئلہ ۲۰: اگر ہاتھ میں یا اور کسی جگہ بدن پر تصویر ہو، مگر کپڑوں سے چھپی ہو، یا انگوٹھی پر چھوٹی تصویر منقوش ہو، یا آگے، پیچھے، دہنے، بائیں، اوپر، نیچے کسی جگہ چھوٹی تصویر ہو یعنی اتنی کہ اس کو زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اعضا کی تفصیل نہ دکھائی دے، یا پاؤں کے نیچے، یا بیٹھنے کی جگہ ہو، تو ان سب صورتوں میں نماز مکروہ نہیں۔  (درمختار

    مسئلہ ۲۱: تصویر سر بریدہ یا جس کا چہرہ مٹا دیا ہو، مثلاً کاغذ یا کپڑے یا دیوار پر ہو تو اس پر روشنائی پھیر دی ہو یا اس کے سر یا چہرے کو کھرچ ڈالا یا دھو ڈالا ہو، کراہت نہیں۔  (ردالمحتار

    مسئلہ ۲۲: اگر تصویر کا سر کاٹا ہو مگر سر اپنی جگہ پر لگا ہوا ہے ہنوز (یعنی ابھی تک) جدا نہ ہوا، تو بھی کراہت ہے۔ مثلاً کپڑے پر تصویر تھی، اس کی گردن پر سلائی کر دی کہ مثل طوق کے بن گئی۔  (ردالمحتار

    مسئلہ ۲۳: مٹانے میں صرف چہرہ کا مٹانا کراہت سے بچنے کے ليے کافی ہے، اگر آنکھ یا بھوں، ہاتھ، پاؤں جُدا کر ليے گئے تو اس سے کراہت دفع نہ ہوگی۔  (ردالمحتار

    مسئلہ ۲۴: تھیلی یا جیب میں تصویر چھپی ہوئی ہو، تو نماز میں کراہت نہیں۔  (درمختار)

    مسئلہ ۲۵: تصویر والا کپڑا پہنے ہوئے ہے اور اس پر کوئی دوسرا کپڑا اور پہن لیا کہ تصویر چھپ گئی، تو اب نماز مکروہ نہ ہوگی۔  (ردالمحتار

    مسئلہ ۲۶: یوں تو تصویر جب چھوٹی نہ ہو اور موضع اہانت (یعنی ذلّت کی جگہ) میں نہ ہو، اس پر پردہ نہ ہو، تو ہر حالت میں اس کے سبب نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے، مگر سب سے بڑھ کر کراہت اس صورت میں ہے، جب تصویر مصلّی کے آگے قبلہ کو ہو، پھر وہ کہ سر کے اوپر ہو، اس کے بعد وہ کہ داہنے بائیں دیوار پر ہو، پھر وہ کہ پیچھے ہو دیوار یا پردہ پر۔  (ردالمحتار، عالمگيری

    مسئلہ ۲۷: یہ احکام تو نماز کے ہیں، رہا تصویروں کا رکھنا اس کی نسبت صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ ''جس گھر میں کُتّا ہو یا تصویر ، اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔'' (''صحيح البخاري''، کتاب المغازي، الحديث: ۴۰۰۲، ج۳، ص۱۹.) یعنی جب کہ توہین کے ساتھ نہ ہوں اور نہ اتنی چھوٹی تصویریں ہوں۔

    مسئلہ ۲۸: روپے اشرفی اور دیگر سکّے کی تصویریں بھی فرشتوں کے داخل ہونے سے مانع ہیں یا نہیں۔ امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ نہیں اور ہمارے علمائے کرام کے کلمات سے بھی یہی ظاہر ہے۔  (درمختار، ردالمحتار

    مسئلہ ۲۹: یہ احکام تو تصویر کے رکھنے میں ہیں کہ صورت اہانت و ضرورت وغیرہما مستثنیٰ ہیں، رہا تصویر بنانا یا بنوانا، وہ بہرحال حرام ہے۔ (6) (ردالمحتار

(بحوالہ بہارِ شریعت جلد اول حصہ سوم ، صفحہ 629-627)

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

YANI K ''Radd- al-Mukhtar'' ''Fatawa Shaami'' ''Radda-Al-Mukhtar'' ''Jadd al-Mumtar Hashiya Radd-al-Mukhtar'' YEH SAB ''Durr-e-Mukhtar'' KI TASHREEH HAIN, BAS MUKHTALIF MUKHTALIF ULMA-E-KARAAM NAY ISSAY MUKHTALIF ANDAAZ MAIN BEAAN KYA HAI, YANI K YEH SAB KUCH EK HI HAI, SAHI?

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

 

Bhai uooper itni tafseel se main ne likha hay

 

Durr-e-Mukhtar ki sharah hay Radd-ul-Mukhtar ya fatawa shaami aor Radd-ul-Mukhtar ki sharah hay Jadd-al-Mumtar

Share this post


Link to post
Share on other sites

Allama Faiz Ahmad Owaisi (m-a) ki kitab ''ALAHAZRAT ULAMA-E-BAHAWULPUR KI NAZAE MAIN'' se makhuz:

 

P52.gif

Share this post


Link to post
Share on other sites

assalamu alaikum usman razawi sahab,

mujhe ye batao ki apne jo durre mukhtarr ki in kitabo ki bat ki unmese kon si kitab hadith or quran se sabse kareeb he

Share this post


Link to post
Share on other sites

Kindly please remove the naked image from this post ooh  admin of this community are you sleeping what is happening in your forum.

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

assalamu alaikum usman razawi sahab,

mujhe ye batao ki apne jo durre mukhtarr ki in kitabo ki bat ki unmese kon si kitab hadith or quran se sabse kareeb he

 

WaAlaikumussalam

 

Jnab Mundarja bala kutub ka basic Makhaz Quran-o-Hadees hi hain agar aap ko kisi bat par aitraz hay to Munazra section main byan karain. Shukria

 

 

Kindly please remove the naked image from this post ooh  admin of this community are you sleeping what is happening in your forum.

 

Muhtram darasal orignal poster nay koi islamic image tinypic par upload kia hua tha aor uska link yahan diya hua tha lekin wahan say wo image remove ho gya lekin us ki jgah koi ghair akhlaqi image kisi nay upload kar diya jis ka link same hay... is wja say yeh masla pesh aaya.

 

Aap ka bahut shukria k aap nay nishadehi farmayi .. Allah Ta'la aap ko Jaza-e-Khair ata farmaye .. Aameen

Share this post


Link to post
Share on other sites

''Durr-e-Mukhtar'' k musanif Imam Haskafi رحمت اللہ علیہ thay

 

is per Imam Muhammad Ameen ibn Abidin Al-Shaami Hanafi رحمت اللہ علیہ ne ''Radd- al-Mukhtar'' k naam se commentry likhi hay , jo k ''Fatawa Shaami'' k naam se bhi jani jati hay.

 

*Correction: Its 'Radd-ul-Muhtaar' also known as 'Fatawa Shaami'

2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

مسئلہ ۱۷:  جس کپڑے پر جاندار کی تصویر ہو، اسے پہن کر نما زپڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔ نماز کے علاوہ بھی ایسا کپڑا پہننا، ناجائز ہے۔  یوہیں تصویر مصلّی (نمازی) کے سر پر یعنی چھت ميں ہو یا معلّق (آویزاں) ہو، یا  محل سجود (سجدے کی جگہ) میں ہو، کہ اس پر سجدہ واقع ہو، تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی ، یوہیں مصلّی کے آگے، یا  داہنے، یا بائیں تصویر کا ہونا، مکروہ تحریمی ہے،  اور پسِ پُشت (پیچھے) ہونا بھی مکروہ ہے، اگرچہ ان تینوں صورتوں سے کم اور ان چاروں صورتوں میں کراہت اس وقت ہے کہ تصویر آگے پیچھے دہنے بائیں معلق ہو، یا نصب ہو یا دیوار وغیرہ میں منقوش ہو، اگر فرش میں ہے اور اس پر سجدہ نہیں، تو کراہت نہیں۔ اگر تصویر غیر جاندار کی ہے، جیسے پہاڑ دریا وغیرہا کی، تو اس میں کچھ حرج نہیں۔ (''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، ج۲، ص۵۰۲ ۔ ۵۰۴، وغيرہما

مسئلہ ۱۸: اگر تصویر ذلت کی جگہ ہو، مثلاً جوتیاں اُتارنے کی جگہ يا اور کسی جگہ فرش پر کہ لوگ اسے روندتے ہوں يا تکیے پر کہ زانو وغیرہ کے نیچے رکھا جاتا ہو، تو ایسی تصویر مکان میں ہونے سے کراہت نہیں، نہ اس سے نماز میں کراہت آئے، جب کہ سجدہ اس پر نہ ہو۔  (درمختاروغیرہ
    مسئلہ ۱۹: جس تکیہ پر تصویر ہو، اسے منصوب (یعنی کھڑا) کرنا پڑا ہوا نہ رکھنا، اعزاز تصویر میں داخل ہوگا اور اس طرح ہونا نماز کو بھی مکروہ کردے گا۔  (درمختار
    مسئلہ ۲۰: اگر ہاتھ میں یا اور کسی جگہ بدن پر تصویر ہو، مگر کپڑوں سے چھپی ہو، یا انگوٹھی پر چھوٹی تصویر منقوش ہو، یا آگے، پیچھے، دہنے، بائیں، اوپر، نیچے کسی جگہ چھوٹی تصویر ہو یعنی اتنی کہ اس کو زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اعضا کی تفصیل نہ دکھائی دے، یا پاؤں کے نیچے، یا بیٹھنے کی جگہ ہو، تو ان سب صورتوں میں نماز مکروہ نہیں۔  (درمختار
    مسئلہ ۲۱: تصویر سر بریدہ یا جس کا چہرہ مٹا دیا ہو، مثلاً کاغذ یا کپڑے یا دیوار پر ہو تو اس پر روشنائی پھیر دی ہو یا اس کے سر یا چہرے کو کھرچ ڈالا یا دھو ڈالا ہو، کراہت نہیں۔  (ردالمحتار
    مسئلہ ۲۲: اگر تصویر کا سر کاٹا ہو مگر سر اپنی جگہ پر لگا ہوا ہے ہنوز (یعنی ابھی تک) جدا نہ ہوا، تو بھی کراہت ہے۔ مثلاً کپڑے پر تصویر تھی، اس کی گردن پر سلائی کر دی کہ مثل طوق کے بن گئی۔  (ردالمحتار
    مسئلہ ۲۳: مٹانے میں صرف چہرہ کا مٹانا کراہت سے بچنے کے ليے کافی ہے، اگر آنکھ یا بھوں، ہاتھ، پاؤں جُدا کر ليے گئے تو اس سے کراہت دفع نہ ہوگی۔  (ردالمحتار
    مسئلہ ۲۴: تھیلی یا جیب میں تصویر چھپی ہوئی ہو، تو نماز میں کراہت نہیں۔  (درمختار)
    مسئلہ ۲۵: تصویر والا کپڑا پہنے ہوئے ہے اور اس پر کوئی دوسرا کپڑا اور پہن لیا کہ تصویر چھپ گئی، تو اب نماز مکروہ نہ ہوگی۔  (ردالمحتار

    مسئلہ ۲۶: یوں تو تصویر جب چھوٹی نہ ہو اور موضع اہانت (یعنی ذلّت کی جگہ) میں نہ ہو، اس پر پردہ نہ ہو، تو ہر حالت میں اس کے سبب نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے، مگر سب سے بڑھ کر کراہت اس صورت میں ہے، جب تصویر مصلّی کے آگے قبلہ کو ہو، پھر وہ کہ سر کے اوپر ہو، اس کے بعد وہ کہ داہنے بائیں دیوار پر ہو، پھر وہ کہ پیچھے ہو دیوار یا پردہ پر۔  (ردالمحتار، عالمگيری
    مسئلہ ۲۷: یہ احکام تو نماز کے ہیں، رہا تصویروں کا رکھنا اس کی نسبت صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ ''جس گھر میں کُتّا ہو یا تصویر ، اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔'' (''صحيح البخاري''، کتاب المغازي، الحديث: ۴۰۰۲، ج۳، ص۱۹.) یعنی جب کہ توہین کے ساتھ نہ ہوں اور نہ اتنی چھوٹی تصویریں ہوں۔
    مسئلہ ۲۸: روپے اشرفی اور دیگر سکّے کی تصویریں بھی فرشتوں کے داخل ہونے سے مانع ہیں یا نہیں۔ امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ نہیں اور ہمارے علمائے کرام کے کلمات سے بھی یہی ظاہر ہے۔  (درمختار، ردالمحتار
    مسئلہ ۲۹: یہ احکام تو تصویر کے رکھنے میں ہیں کہ صورت اہانت و ضرورت وغیرہما مستثنیٰ ہیں، رہا تصویر بنانا یا بنوانا، وہ بہرحال حرام ہے۔ (6) (ردالمحتار

(بحوالہ بہارِ شریعت جلد اول حصہ سوم ، صفحہ 629-627)

Edited by Najam Mirani
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

*Correction: Its 'Radd-ul-Muhtaar' also known as 'Fatawa Shaami'

 

 

Means k Radd k daal par Zabar naheen paish hay? wikipedia par Radd al-Mukhtar ala ad-Dur al-Mukhtar likha tha ... anways main nay aap ki nishandehi par Radd-Ul-Mukhtar likh diya hay ... means k daal par paish...

 

Nishandehi ka shukria :) Jazak Allah Azawajal

 

 

 

 

 

 

Jazak Allah Azawajal

 

Aap ki post copy kar k main nay Post.2 main add kar di hay,,

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

(bis)

 

 

 

 

Bahut bahut shukria Bhai :)

 

Guzarish hay keh mazeed koi ghalati nazar aaye to islah farmain ......... Aap na btatay to main isay radd al-mukhtar hi parhta rehta  :( ..... ..  Aap ka bahut bahut Shukria k islah farmayi :)

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.