Jump to content
IslamiMehfil

دیوبندیوں کا فتویٰ ۔ اہلِ حدیث لا مذہب


Recommended Posts

fatwas

<H1 style="DISPLAY: inline">عقائد و ایمانیات</H1> Pakistan Question: 12461 عذاب قبر کسے کہتے ہیں؟ کچھ لوگ جو مماتی کہلاتے ہیں کہتے ہیں کہ اس قبر میں عذاب نہیں ہوتا، بلکہ روح کا مثالی جسم ہوتا ہے جسے عذاب و ثواب ہوتا ہے۔ برائے کرم اس بارے میں آگاہ فرمائیں اورعلمائے حق علمائے دیوبند کے موقف سے جواب عنایت فرماویں۔ منتظر رہوں گا اور دعا گوہوں کہ اللہ آپ کو مزید دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے (آمین۔

 

20 May, 2009 Answer: 12461 فتوی: 724=724/م

 

 

 

عذاب قبر برحق ہے، قرآن کریم کی متعدد آیات اور احادیث کثیرہ اس بارے میں وارد ہیں، محض عقلی شبہات کی بنا پر ایسے امور کو رد کرنا صحیح نہیں۔ عذاب قبر سے مراد یہ ہے کہ روح میت میں لوٹائی جاتی ہے خواہ علیین میں ہو یا سجین میں ہو، پھر اس کا ایک خاص تعلق بدن سے قائم کردیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بدن کو ثواب یا عذاب کا احساس ہوتا ہے، مگر یہ معاملہ عالم غیب کا ہے اس لیے ہمیں میت کے احساس کا عام طور سے شعور نہیں ہوتا، عالم غیب کی جو باتیں ہمیں حضور صلی اللہ عیہ وسلم نے بتائی ہیں، ہمیں ان پر ایمان لانا چاہیے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑدوگے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ تم کو بھی عذاب قبر سنادے جو میں سنتا ہوں۔

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

 

 

 

 

 

 

 

 

>عقائد و ایمانیات< India Question: 14817 میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ (۱)مرنے کے بعد مسلمان کی روح کہاں رہتی ہے، جنت میں رہتی ہے یا مردے کے جسم میں ہمیشہ کے لیے لوٹا دی جاتی ہے؟ اگر جنت میں رہتی ہے تو پھر قبر میں اس کے جسم کو راحت کیسے ملتی ہے؟ (۲)مرنے کے بعد کافر کی روح کہاں رہتی ہے، جہنم میں رہتی ہے یا مردے کے جسم میں ہمیشہ کے لیے لوٹا دی جاتی ہے؟ اگر جسم میں نہیں رہتی ہے تو ان پر عذاب کیسے ہوتا ہے؟ مہربانی کرکے تفصیل سے بتائیں۔

 

05 Aug, 2009 Answer: 14817 فتوی: 1143=940/ل

 

 

 

(۱) مرنے کے بعد نیک روحیں علیین میں رہتی ہیں، مقام علیین ساتویں آسمان پر زیر عرش ہے، یہ جنت کے متصل ہے، اس لیے ان ارواح کو جنت کی سیر نصیب ہوتی رہتی ہے اورکفار وفجار وفساق کی روحیں سجین میں رہتی ہیں، سجین ساتویں زمین میں ہے اور حدیث سے ثابت ہے کہ جہنم بھی ساتویں زمین میں ہے، اس لیے اہل سجین کو جہنم کی تپیش اورایذائیں پہنچتی رہیں گی، نیک یا بد ارواح کا باوجود علیین وسجین میں ہونے کے اپنی قبور اور اجسام کے ساتھ ایک نوع کا اتصال وتعلق رہتا ہے جس کی وجہ سے جسم کو راحت یا تکلیف کا احساس ہوتا ہے، اور یہ تعلق خاص اوقات میں زیادہ بھی ہوجاتا ہے۔

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

Pakistan Question: 12317

 

یہاں کچھ لوگ قبر کے عذاب کا انکار کرتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے تفصیل میں بتائیں۔

 

 

 

11 May, 2009 Answer: 12317 فتوی: 686=686/م

 

 

 

عذاب قبر برحق ہے، قرآن وحدیث سے ثابت ہے، ارشاد ربانی ہے: النَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا (الآیة) اور حدیث میں ہے: استنزھوا من البول ، فإنّ عامة عذاب القبر منہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث اس بارے میں وجود ہیں، کتب حدیث کا مطالعہ کیجیے۔

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

>عقائد و ایمانیات</H1> Pakistan Question: 4461 عقیدہ حیاة النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں مسلک اہل سنت والجماعت کا کیا عقیدہ ہے؟ تفصیل سے جواب عنایت فرماویں۔

 

03 Jul, 2008 Answer: 4461 فتوی: 445=445/ م

 

 

عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ایک استفتاء کے جوا ب میں مفتی تقی عثمانی صاحب زید مجدہم نے جو تفصیل لکھی ہے اس کو بعینہ آپ کے سوال کے جواب میں نقل کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ وہ اس طرح ہے: انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام سمیت تمام مخلوقات کو موت آتی ہے، البتہ موت کے بعد ہر انسان کو برزخی زندگی سے واسطہ پڑتا ہے۔ برزخی زندگی کامطلب صرف یہ ہے کہ انسان کی روح کا اس کے جسم سے کسی قدر تعلق رہتا ہے یہ تعلق عام انسانوں میں بھی ہوتا ہے مگر اتنا کم کہ اس کے اثرات محسوس نہیں ہوتے، شہداء کی ارواح کا تعلق ان کے جسم سے عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے اس لیے قرآن کریم نے انھیں احیاء قراردیا ہے اور احادیث کی رو سے ان کا جسم محفوظ رہتا ہے۔ انبیاء کرام کا درجہ شہداء سے بھی بلند ہے اس لیے احادیث کے مطابق ان کی ارواح کا تعلق جسم سے سب سے زیادہ ہوتا ہے یہاں تک کہ ان کی میراث بھی تقسیم نہیں ہوتی اور ان کے ازواج کا نکاح بھی دوسرا نہیں ہوسکتا، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔ چونکہ ان کی ارواح کاتعلق سب سے زیادہ ہوتا ہے اس لیے شہداء کی طرح انھیں بھی احیاء قرار دیا گیا ہے۔ مگر یہ حیات اس طرح کی نہیں ہے جیسی انھیں موت سے پہلے حاصل تھی۔

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

">عقائد و ایمانیات</H1> Pakistan Question: 4422 کچھ علماء کے مطابق ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں موجود ہیں یا قبر میں موجود ہیں، بس ان کا دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اور اگر نہیں، تو پھر ہم نماز میں یہ کیوں کہتے ہیں: السلام علیک ایہاالنبی اور قرآن میں بھی ہے کہ اللہ اور فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ سلام تو زندہ لوگوں پر بھیجتے ہیں۔ اس کا جواب تفصیل سے عنایت فرماویں۔

 

03 Jul, 2008 Answer: 4422 فتوی: 844=878/ د

 

 

 

تعلق سے کس قسم کا تعلق مراد ہے؟ برزخ میں مرنے کے بعد ہر شخص کو حیات برزخی حاصل ہوتی ہے جو دنیا کی حیات سے مختلف ہوتی ہے ،اسی حیات کی وجہ سے وہ عذاب یا ثواب کو محسوس کرتا ہے۔ شہداء کرام کو یہ حیات عام لوگوں سے زیادہ اور قوی حاصل ہوتی ہے جس کی بنا پر اس کا جسم خاک سے متاثر نہیں ہوتا اور مثل زندہ جسم کے صحیح سالم رہتا ہے جیسا کہ احادیث میں وارد ہے اور مشاہدات شاہد ہیں۔ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام کی حیات اس سے بھی قوی ہوتی ہے کہ ان کا جسم بھی صحیح سالم رہتا ہے، ان کی میراث تقسیم نہیں ہوتی، ان کی ازواج دوسرے کے نکاح میں نہیں آسکتیں۔ ان سب کا حاصل یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر اطہر میں حیات ہیں ،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دنیا میں ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ بلکہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے میرے پاس پہونچاتے ہیں۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص میری قبر پر درود بھیجتا ہے اسے میں خود سنتا ہوں اور دور سے درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالی کے فرشتے میرے پاس پہونچاتے ہیں۔

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

 

26 May, 2008 Answer: 4022 فتوی: 172/ م= 172/ م

 

 

کیا اہل احدیث جس حدیث کو رد کردیں ، وہ قابل اعتبار نہیں ہوتی؟ اہل حدیث تو صحیح حدیث کا بھی انکار کردیتے ہیں، تو کیا اس کی وجہ سے وہ صحیح حدیث قابل عمل نہیں ہوگی؟ بہرحال وسیلے سے متعلق بخاری شریف کی روایت ملاحظہ فرمائیں: حدثنا الحسن بن محمد قال حدثنا محمد بن عبد اللہ الأنصاري قال حدثني أبي عبد اللہ بن المثنی عن ثُمامة بن عبد اللہ بن أنس بن مالک أن عمر بن الخطاب رضي اللہ عنہ کان إذا قُحدوا استسقی بالعباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنہ فقال: اللّٰہم إنا کنا نتوسل إلیک بنبینا صلی اللہ علیہ وسلم فتسقینا وإنا نتوسل إلیک بعمّ نبیّنا فاسقِنا قال فیسقَون․ (بخاری شریف: ج۱ ص۱۳۷)

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

<H2 India Question: 3509 کیا کسی نبی یا ولی کو اللہ سے کچھ مانگنے میں وسیلہ بنانا جائز ہے؟ اگر قرآن کریم یا صحیح حدیث سے ثابت ہو براہ کرم، اس کو واضح کریں۔

 

12 Apr, 2008 Answer: 3509 فتوی: 449/ ب= 88/ تب

 

 

نبی کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کیتعلیم دی ہے۔ بخاری شریف میں حدیث ضریر اس پر شاد ہے۔ اسی طرح ولی کے وسیلہ سے دعا مانگنا بھی درست ہے۔ حدیث صحیح میں ہے کنا نتوسل بعباس یعنی صحابہٴ کرام حضرت عباس کے واسطہ دعا کرتے تھے۔

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

 

< India Question: 2926 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال فرمانے کے بعد صحابہ کرام کس طرح سلام پیش کرتے تھے؟

 

05 Mar, 2008 Answer: 2926 فتوی: 153/ ل= 153/ ل

 

 

فضائل حج ج۲ ص۱۱۲، پر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں: امام نووی نے اپنے مناسک میں سلام کے طویل الفاظ لکھنے کے بعد لکھا ہے حضرت ابن عمر -رضی اللہ عنہ- وغیرہ سے غایت اختصار نقل کیا گیا ہے، حضرت ابن عمر تو اتنا ہی کہتے تھے: السلام علیک یا رسول اللہ، السلام علیک یا أبابکر، السلام علیک یا أبتاہ ااس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال فرمانے کے بعد صحابہٴ کرام کے سلام پیش کرنے کا طریقہ معلوم ہوگیا، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو۔ (فضائل حج، ج۲ ص۱۱۲)

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

 

 

عقائد و ایمانیات Pakistan Question: 2855 منصب اولیاء کے بارے میں صحیح حدیث کے حوالے سے بتائیں۔ کیا غوث، قطب، ابدال، ولی وغیر ہم ہرزمانہ میں موجود ہوتے ہیں اور کیا نظام قدرت میں ان کا کوئی عمل دخل ہے؟ براہ کرم، قرآن و حدیث اور بزرگان دین کی زندگیوں کی روشنی میں تفصیل سے بتائیں۔

 

03 Mar, 2008 Answer: 2855 فتوی: 139/ ل= 139/ ل

 

 

عن شریح بن عبید قال: ذکر أھل الشام عند علي وقیل ألعنھم یا أمیر الموٴمنین قال: لا إني سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: الأبدال یکونون بالشام وھم أربعون رجلاً کلما مات رجل أبدل اللّٰہ مکانہ الخ حضرت شریح بن عبید تابعی روایت کرتے ہیں کہ ایک موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اہل شام کا ذکر کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ اے امیرالموٴمنین! شام والوں پر لعنت کیجیے حضرت علی نے کہا نہیں، میں نے رسول کریم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابدال شام میں ہوتے ہیں اور وہ چالیس ہیں، جب ان میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو اللہ اس کی جگہ دوسرے شخص کو مقرر کردیتا ہے، ان (ابدال) کے وجود و برکت سے بارش ہوتی ہے، ان کی مدد سے دشمنان دین سے بدلہ لیا جاتا ہے اور انھیں کی برکت سے اہل شام سے عذاب کو دفع کیا جاتا ہے (مشکاة: ۵۸۲) اسی کی شرح میں ملا علی قاری نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت نقل کی، جس سے غوث، قطب، ولی وغیرہ کے وجود کا پتہ چلتا ہے، نیز مذکورہ بالا حدیث سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ان کی برکت سے بارش، دشمنوں کے مقابل میں مدد، اور عذاب کو دفع کیا جاتا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مرقاة: ج۱۱ ص۴۶۰، ط امدادیہ پاکستان) مظاہر حق جدید، ج۷ ص۵۲۸) دلائل السلوک، تعلیم الدین، رسائل ابن عابدین وغیرہ۔

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

 

 

 

Pakistan Question: 2852 میں نے فضائل اعمال کے باب زیارت قبر مبارک حدیث نمبر ۵۵۵میں پڑھاہے کہ سید احمد رفیع نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دست مبارک اپنے ہاتھ دینے کی درخوست کی کہ تاکہ وہ دست مبارک کا بوسہ لے سکے، اس کو ۹۰/ ہزار لوگوں نے دیکھا ، حضرت جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بھی ان میں شامل تھے، کیا یہ سچ ہے؟ ایک دوسرے واقعہ میں ہے کہ یمنی حاجی جو صرف رسول اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے کی وجہ سے اپنے قافلہ سے پیچھے رہ گئے تھے، خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے ساتھ لے لیا اور مکہ آگئے ، جب وہ بیدار ہوئے تو وہ مکہ میں تھے، کیا ایساممکن ہے؟ میں یہ دونوں واقعات پڑھ کر بہت تذبذب میں ہوں، براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔

 

16 Feb, 2008 Answer: 2852 فتوی: 117/ ھ= 36/ تھ

 

 

ایسا ممکن تھا اور ہے تب ہی تو ایسے واقعات پیش آئے اورآتے ہیں، شرعاً عقلاً نقلاً تو کچھ استبعاد نہیں بلکہ ممکنات میں سے ہیں اللہ پاک کی قدرت سے یہ امورخارج نہیں۔ البتہ ہم جیسے لوگوں کے نزدیک حیرت انگیز ہوسکتے ہیں جس طرح نئی نئی ایجادات بھی عامة لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا کرتی ہیں،ہوائی جہاز، موبائل، فیکس ، وائرلیس وغیرہ آلات سے انجام پانے والے امور بھی حیرت انگیز ہیں، کچھ عرصہ قبل اگر کہا جاتا کہ ایک آلہ ایسا ایجاد ہونے والا ہے کہ مثل ماچس کی ڈبی کے ہوگا اس میں نہ تار ہوگا نہ اور کچھ ظاہری اتصال مگر ایک آدمی یہاں کان پر لگائے گا اور دوسرا اسی جیسی ڈبی (موبائل) پچاس ہزار میل دوری پر لگائے گا اور دونوں اسی طرح گفتگو کریں گے کہ جس طرح دوفٹ کے فاصلہ پر بیٹھ کر کرتے ہیں، تو شاید اس جیسی بات کو سن کر بہت لوگ تو بے ساختہ ہنس ہی دیتے اور کبھی اس کو صحیح قرار دینے کو تیار نہ ہوتے، مگر اب ان جیسی چیزوں کی کثرت نے حیرت کو ختم کردیا، معلوم نہیں کہ واقعاتِ مذکورہ میں جناب کو بہت تذبذب کس طرح پیش آیا ہے؟ اگر اس کو صاف و واضح انداز پر تحریر فرمائیں تو ان شاء اللہ اس کو سامنے رکھ کر تفصیل سے جواب لکھ دیا جائے گا۔

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

 

27 Feb, 2008 Answer: 2851 فتوی: 184/ د= 156/ د

 

 

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیائے کرام علیہم الصلاة والسلام قبروں میں زندہ ہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے عن أنس -رضي اللہ عنہ- أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال الأنبیاء أحیاء في قبورھم یصلون علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے استاد ابومنصور کے حوالہ سے لکھا ہے کہ متکلمین محققین اس بات کے قائل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے بعد زندہ ہیں اپنی امت کی طاعات و نیکیوں سے خوش ہوتے ہیں اور برائیوں سے رنج محسوس کرتے ہیں الخ (الحاوی للفتاویٰ، ج۲ ص۱۴۹) قاضی عیاض رحمہ اللہ کتاب شفاء کی شرح میں شہاب خفاجی نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے جسم اطہر کو زمین کے لیے حرام کردیا ہے، اور قبر شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حیات عطا فرمائی ہے دیگر انبیائے کرام کی طرح۔ اور حاکم ابوداوٴد نے اوس بن اوس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ انبیائے کرام کے جسم اطہر کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے (کھائے) تفسیر مظہری، امداد الفتاویٰ، ج۱ ص۷۶۱ وغیرہ میں یہ رواتیں موجود ہیں۔ احمد رضا خاں صاحب نے کیا بات لکھی ہے؟ اور کہاں لکھی ہے؟ مذکورہ تفصیل کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو جز محل اشکال ہو اس کی حوالہ کے ساتھ نشاندہی کرکے دوبارہ دریافت کریں۔

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

 

- India Question: 2322 ایک سلفی کہتا ہے کہ رسول صلى الله عليه وسلم انتقال کرچکے ہیں اور آپ کے روضہ پر جانا اور دورد و سلام نہیں پڑھنا چاہیے کیوں کہ رسول صلى الله عليه وسلم انتقال کرچکے ہیں اور سلام کا جواب نہیں دے سکتے۔ قرآن و حدیث کے دلائل سے اس سلسلے میں رہ نمائی فرمائیں۔

 

11 Sep, 2007 Answer: 2322 فتوی: 605/ ن= 598/ ن

 

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں حیات ہیں، عن أنس -رضي اللہ عنہ- أن النبي صلی اللہ عیلہ وسلم قال: الأنبیاء أحیاء في قبورھم یصلون (رواہ البیھقي) اگر کوئی شخص روضہٴ اقدس کے پاس درود وسلام پڑھتا ہے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنتے ہیں اور اگر کوئی دور سے پڑھتا ہے تو وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچادیا جاتا ہے۔ عن أوس بن أوس الثقفي عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: من أفضل أیّامکم یوم الجمعة فأکثروا علي الصلاة فیہ فإن صلاتکم تعرض علي قالوا یا رسول اللہ وکیف تعرض علیک صلاتنا وقد أرمت فقال: إن اللہ حرم علی الأرض أن تأکل أجسام الأنبیاء (رواہ أبوداوود والبیھقي) وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من صلی علي عند قبري سمعتہ ومن صلی علي نائیا بلغتہ (الترغیب) اور امام بخاری نے تاریخ کبیر میں روایت کیا ہے عن عمار سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إن للّہ تعالی ملکاً أعطاہ أسماع الخلائق قائم علی قبري فما من أحد یصلي عليّ صلاة إلا بلغتها اور سعودی عرب کے سلفیوں کے فتاویٰ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر جاکر درود و سلام پڑھنے کا حکم مذکور ہے ثم ائت قبر النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقل: السلام علیک أیها النبي ورحمة اللہ وبرکاتہ وأکثر من الصلاة والسلام علیہ․ (فتاوی اللجنة الدائمة: ج9ص116، ط: ریاض) اور نبی علیہ السلام، سلام کرنے والوں کا جواب بھی دیتے ہیں عن أبي هریرة -رضي اللہ عنہ- أن سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما من أحد یسلم علي إلا ردّ اللہ علی روحي حتی أردّ علیہ السلام․ رواہ أبوداوٴد بسند صحیح)

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

Pakistan Question: 1596 اللہ عز وجل فر ماتے ہیں کہ میں تیرے شہ رگ سے بھی زیا دہ قریب ہوں تو مجھ سے مانگ ۔ تو لوگ کسی اور کو وسیلہ کیونکر بناتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ 23 Sep, 2007 Answer: 1596 فتوی: 530/ د= 526/ د

 

 

بیشک اللہ تعالیٰ شہ رگ سے بھی قریب ہیں نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ نیز اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ مجھ سے مانگو میں تمھاری دعا کو قبول کروں گا۔ اور مانگنے کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول وعمل سے بتلایا ہے، وسیلہ سے دعا مانگنا بھی احادیث سے ثابت ہے، اس لیے وسیلہ سے دعا کرنا جائز ہے، ابن ماجہ اور مشکوة میں روایتیں موجود ہیں۔ اصحاب غار کا اپنے اعمال خیر کے وسیلہ سے دعا کرنا حدیث میں آیا ہے۔ اور یہ بھی مروی ہے عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ کان یستفتح بصعالیک المھاجرین (مشکوة: ج۲ ص۴۴۷)

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

 

 

<H1 style="DISPLAY: inline">عقائد و ایمانیات</H1> Pakistan Question: 971 وسیلہ کو آپ کیوں جائز کہتے ہیں حالاں کہ مماتی دیوبندی اور ائمہٴ اربعہ رحمہم اللہ اسی کو مانتے ہیں کہ وسیلہ ناجائز ہے (ذات کا بھی اور مُردوں کا بھی)؟ اس لیے لوگوں کو صحیح بتایا کریں اور اکابر کی غلطی کو مان لیں۔ اللہ جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!

 

25 Jul, 2007 Answer: 971 (فتوى: 806/ب = 52/تب)

 

 

وسیلے کا جواز احادیث مبارکہ سے ثابت ہے خواہ وسیلہ زندوں سے اختیار کیا جائے یا مردوں سے، (ترمذی: ۱۹۸ وابن ماجہ ۹۹) میں حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ذاتِ اقدس کے وسیلے سے دعا کرنے کا حکم فرمایا تھا اور دعا کے کلمات بھی بتائے تھے جن کے الفاظ یہ ہیں: اللھم إني أسئلک وأتوجّہ إلیک بمحمد نبيّ الرحمة دوسری حدیث بخاری باب الاستسقاء میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے أن عمر بن الخطاب کان إذا قحطوا استسقی بالعباس بن عبد المطلب، فقال: کنا نتوسل إلیک بنبیّنا، فتسقینا، وإنا نتوسل إلیک بعم نبیّنا فاسقنا فیسقوا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہٴ کرام کی موجودگی میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دعا مانگی اور کسی نے نکیر نہیں کی۔ پس باجماع صحابہ توسل بالحی کا ثبوت ہوا۔ غیر مقلدوں کے مشہور محدث علامہ شوکانی بھی وسیلے کے جواز کے قائل ہیں، چنانچہ وہ حدیث مذکور کی شرح میں لکھتے ہیں: ویستفاد من قصة العباس استحباب الاستشفاع بأھل الخیر والصلاح وأھل بیت النبوة یہ دونوں احادیث زندوں کے توسل کے بارے میں تو صریح ہیں، رہا توسل بالاموات کا مسئلہ تو اس پر صحابی حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کا عمل موجود ہے۔ صحابی مذکور نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا کرنے کو کہا تھا، اس نے دعا کی اور وہ قبول بھی ہوئی (رواہ البیھقي من طریقین نحوہ وأخرج الطبراني في الکبیر والمتوسط، کذا في إنجاح الحاجة، ص:۹۹) اسی طرح بیہقی اور ابن ابی شیبہ میں ایک دوسری حدیث مروی ہے عن مالک الدار قال أصاب الناسَ قحط في زمان عمر بن الخطاب فجاء رجل إلی قبر النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ استسق لأمتک؛ فإنھم قد ھلکوا فأتاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في منامہ فقال ائت عمر فاقرأہ السلام وأخبرہ، والقصة مذکورة في الاستیعاب (کذا في إنجاح الحاجة) تیسری بات یہ کہ جب توسل بالاحیاء کا مسئلہ باجماعِ صحابہ ثابت ہے تو توسل بالاموات بدرجہٴ اولی ثابت ہوگا؛ کیوں کہ مردہ تغیر احوال سے مامون ہے جب کہ زندہ اس سے مامون نہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے من کان منکم مستنًا فلیَسْتنَّ بمن قدمات؛ فإن الحيّ لا توٴمَن علیہ الفتنة (رواہ رزین کذا في مشکوة) یہ اور اس کے علاوہ دیگر دلائل کی وجہ سے ہم توسل کے قائل ہیں۔ مماتی دیوبندی کے کیا دلائل ہیں؟ ائمہ اربعہ جواز توسل کے قائل نہیں۔ اس کی تصریح باحوالہ لکھ کر بھیجیں۔

 

 

 

واللہ تعالیٰ اعلم

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...