sunni

Members
  • Content count

    1
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

0 Neutral

About sunni

Previous Fields

  • Madhab
  1. امام صاحب نے کہا ، کسی کیلئے درست نہیں کہ وہ اللہ سے دعا کرے مگر اسی کے واسطے سے ،اور جس دعا کی اجازت ہے اور جس دعا کا حکم ہے وہ وہی ہے جو اللہ تعالی کے اس قول سے مستفاد ہے ٭ سورة الاٴعرَاف آیت 180 ٭ اور اللہ کے سب نام اچھے ہی ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں الحاد اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے ،الدر المختار مع حاشیہ رد المختار 6/ 396 ، 397 ولهذا قال أبو حنيفة وصاحباه رضي الله عنهم: يكره أن يقول الداعي: أسألك بحق فلان أو بحق أنبيائك ورسلك، وبحق البيت الحرام، والمشعر الحرام، ونحو ذلك. اذليس لاحد على الله حق(شرح فقه اكبر مطبوعه كانبور ص160)حضرت امام ابو حنیفہ ؒ اور صاحبین رحمہم اللہ نے فرمایا کہ"کوئی شخص اللہ تعالیٰ کہے کہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بحق فلاں، تیرے نبیوں علیہم السلام کے حق سے یا تیرے رسولوں علیھم السلام کے حق سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیت اللہ یا مشعر الحرام کے حق سے ،تو یہ مکروہ ہے کیونکہ اللہ پر کسی کا حق نہیں !"(مذید تفصیل کے لئے دیکھئے ،در مختار ج 2 ص 248 کنز الدقائق ص 373 زیلعی علی الکنز ص373 فتاویٰ سراجیہ ص172 شرح وقایہ ص 59 ہدایہ ج4 ص 473 عالمگیری ص 16) علامہ قدوری نے کہا کہ" مخلوق کے وسیلہ سے سوال کرنا جائز نہیں کیونکہ مخلوق کا خالق پر کوئی حق نہیں۔" اور بلوجی نے شرح مختار میں فرمایا کہ" اللہ کے سوا کسی کو پکارنا مکروہ ہے!"مذید برآں معدن حاشیہ کنز باب الکراہۃ میں ہے کہ:عن أبي حنيفة رحمه الله أنه قال: لا ينبغي لأحد أن يدعو الله سبحانه وتعالى إلا به. وفي جميع متونهم أن قول الداعي المتوسل بحق الأنبياء والأولياء وبحق البيت والمشعر الحرام مكروه كراهة تحريم، وهي كالحرام في العقوبة بالنار عند محمد. عن أبي يوسف أنه قال قال أبو حنيفة رحمه الله: لا ينبغي لأحد أن يدعو الله إلا به. وذكر العلائي في شرح التنوير عن التتار خانية عن أبي حنيفة أنه قال: لا ينبغي لأحد أن يدعو الله سبحانه إلا به. وفي جميع متونهم أن قول الداعي المتوسل بحق الأنبياء والأولياء وبحق البيت والمشعر الحرام مكروه كراهة تحريم، وهي كالحرام في العقوبة بالنار عند محمد، وعللوا ذلك كلهم بقولهم: لأنه لا حق للمخلوق على الخالق.(علاقی نے شرح تنویر میں تتار خانیہ سے نقل کیا ہے کہ) امام ابو حنیفہ ؒ سے روایت ہے کہ کسی کو یہ مناسب نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے اللہ کے وسیلے کے سوا دعا کرے اور یہ (احناف کی) متون کی جمیع کتابوں میں ہے کہ دعا کرنے والے (وسیلہ پیش کرنے والے) کا قول بحق الانبیاء، بحق الاولیاء بحق بیت اللہ وغیرہ سب مکروہ ہے،اور کراہت تحریمی ہے جو امام محمد ؒ کے نذدیک حرام کی طرح مستوجب جہنم ہے اور سب نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ مخلوق کا خالق پر کوئی حق نہیں۔"