Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 07/16/2017 in all areas

  1. 4 likes
    غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کے استاد بدیع الزمان سندھی کی صحیح بخاری کی ایک سند پر تحقیقی تبصرہ گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی غیرمقلد اپنے استادبدیع الزمان سندھی کے ایک رسالہ "منجدالمستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز" کے بارے میں لکھتاہے۔ یہ رسالہ شاہ صاحب کی اسناد کا مجموعہ ہے جو آپ اپنے شاگردوں اور مستجیزین کو مرحمت فرماتے تھے۔آپ نے اپنے دستخطوں اور مہر کے ساتھ 8/7/1406 ھ کو یہ اجازت نامہ مجھے بھی عطا فرمایا تھا۔اس میں ایک مقام پر آپ نے صحیح بخاری کی سند درج ذیل الفاظ میں رقم کی: "فاخبرنی الشیخ عبدالحق الھاشمی قال:اخبرنا احمد بن عبداللہ بن سالم البغدادی عن عبدالرحمن بن حسن بن محمد بن عبدالوھاب عن جدہ شیخ الاسلام عن عبداللہ بن ابراھیم المدنی عن عبدالقادر التغلبی عن عبدالباقی عن احمد الوفائی عن موسی الحجازی عن احمد الشویکی عن العسکری عن الحافظ شمس الدین ابن القیم عن شیخ الاسلام الحافظ تقی الدین ابی العباس ابن تیمیۃ عن الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی عن شیوخہ الثلاثۃ السرخسی والمستملی والکشمیھنی عن محمد بن یوسف الفربری عن امام الدنیا ابی عبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری" (منجدالمستجیز ص 10-11) اس سند میں نہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہیں اور نہ شاہ عبدالعزیز و محمداسحاق (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات ج1 ص 488-489) زبیر زئی غیرمقلدوں کے لیے ثقہ محدث ہے کیونکہ وہ جو بھی نقل کرتا ہے غیرمقلدوں کے لیے قابل اعتماد ہوتا ہے اکثر غیرمقلد اس کی ہی باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم اس زبیرعلی زئی کی تحریر پر ہی تحقیق کر کےاس کی اور اس کے استاد کی صحیح بخاری کی اس سند کو ضعیف و باطل ثابت کرتے ہیں۔ غیرمقلد زبیرعلی زئی کی پیش کردہ سند کی صحیح اسنادی تحقیق: غیرمقلد زبیر علی زئی کی پیش کردہ صحیح بخاری کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے کیونکہ فخرابن بخاری کا ابوذرالہروی سے نہ ملاقات ثابت اور نہ ہی سماع بلکہ امام فخرابن بخاری کی پیدائش سے پہلے ہی امام ابوذرالہروی وفات پاچکے تھے۔ امام فخر ابن بخاری کی پیدائش کی تاریخ: امام ذہبی لکھتے ہیں: عَلِيّ بْن أَحْمَد بْن عَبْد الواحد بْن أَحْمَد، الشّيْخ الإِمَام، الصّالح، الورع، المعمّر، العالم، مُسْند العالم، فخر الدّين، أَبُو الْحَسَن ابن العلامة شمس الدّين أَبِي الْعَبَّاس المقدسيّ، الصّالحيّ، الحنبليّ، [المتوفى: 690 هـ] المعروف والده بالبُخاري. وُلِد فِي آخر سنة خمسٍ وتسعين وخمسمائة. 595ہجری سال کے آخر میں پیداہوئے۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اور امام ذہبی نے ابن تیمیہ کو امام فخرابن بخاری کے شاگردوں میں لکھا۔اس کا ثبوت یہ ہے وقد روى عَنْهُ الدمياطيّ وقاضي القضاة ابن دقيق العيد، وقاضي القضاة ابن جماعة، وقاضي القضاة ابن صَصْرى، وقاضي القضاة تقيّ الدّين سُلَيْمَان، وقاضي القضاة سعد الدّين مَسْعُود، وأبو الحَجّاج المِزّيّ، وأبو مُحَمَّد البِرْزاليّ، وشيخنا أَبُو حفص ابن القواس، وأبو الوليد بن الحاج، وأبو بَكْر بْن القاسم التُّونسيّ المقرئ، وأبو الْحَسَن عَلِيّ بْن أيّوب المقدسيّ، وأبو الْحَسَن الختني، وأبو محمد ابن المحب، وأبو محمد الحلبي، وأبو الحسن ابن العطّار، وأبو عَبْد اللَّه العسقلاني رفيقنا، وأبو العباس البكري الشريشي، وأبو العباس ابن تيمية. (تاریخ الاسلام،15/665) بلکہ امام ذہبی نے ابن تیمیہ سے امام فخربن بخاری کی تعریف نقل کی جو یہ ہے۔ وقال شيخنا ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري بيني وبين النبي صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حديث. اور ہمارے شیخ ابن تیمیہ نے کہا: میرا سینہ کھل گیا جب میں نے (فخر) ابن بخاری کو اپنے اور نبی ﷺ کے درمیان (سند)حدیث میں داخل کیا۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اس سے واضح ہو گیا کہ ابن تیمیہ امام فخرابن بخاری سے ہی روایت نقل کرتا ہے جن کی پیدائش 595 ہجری کو ہوئی۔ علامہ ابن رجب نے بھی امام فخر ابن بخاری کی پیدائش 795 کے آخر یا 796 ہجری کے شروع میں لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ علي بن أحمد بن عَبْد الْوَاحِد بْن أَحْمَد بْن عَبْد الرَّحْمَنِ السعدي، المقدسي الصالحي، الفقيه المحدث المعمر، سند الوقت، فخر الدين أَبُو الْحَسَن، ابْن الشيخ شمس الدين الْبُخَارِي، وَقَدْ سبق ذكر أَبِيهِ، وعمه الحافظ الضياء. ولد فِي آخر سنة خمس وسبعين وخمسمائة، أو أول سنة ست وسبعين. 575 ہجری کے آخر میں پیدا ہوئےیا 76سال کے شروع میں (ذیل طبقات الحنابلۃ4/241-242) مجھے لگتا ہے علامہ ابن رجب سے خطا ہو گئی جو انہوں نے تسعین کی جگہ سبعین لکھ دیا ۔ (واللہ اعلم) امام زرکلی نے بھی امام فخرابن بخاری کی پیدائش 595 ہجری ہی لکھی ہے یہ ہے اس کا ثبوت ابن البُخاري (595 - 690 هـ = 1199 - 1291 م) علي بن أحمد بن عبد الواحد السعدي المقدسي الصالحي الحنبلي، فخر الدين، أبو الحسن، المعروف بابن البخاري: عالمة بالحديث، نعته الذهبي بمسند الدنيا. أجاز له ابن الجوزي وكثيرون. قال ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري ببيني وبين النبي صلى الله عليه وسلم في حديث. وحدث نحوا من ستين سنة، ببلاد كثيرة بدمشق ومصر وبغداد وغيرها. (الاعلام للزرکلی 4/257) اس بات سے واضح ہو گیا کہ امام فخر ابن بخاری 595 ہجری میں ہی پیدا ہوئے۔ امام ابوذرالہروی کی وفات کی تاریخ خطیب بغدادی امام ابوذر الہروی کی وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: ومات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. اور مکہ میں فوت ہوئے 5 ذی القعد سن 434 ہجری کو تاريخ بغداد(12/456، رقم 5791) امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی کو لکھتے ہیں توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) علامہ ابن منظور بھی امام ابو ذر الہروی کی وفات 434 ہجری کو ہی لکھتے ہیں: مات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. (مختصر تاریخ دمشق، ج 15، ص 299) علامہ برہان الیعمری (متوفی 799ھ) امام ابوذرالہروی کی وفات 435 ہجر ی لکھتے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے۔ توفي رحمه الله تعالى في ذي القعدة سنة خمس وثلاثين وأربعمائة. الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب (2/132) امام ذہبی بھی امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ مَاتَ بِمَكَّةَ فِي ذِي القَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وثَلاَثِيْنَ وَأَرْبَعِ مائَةٍ (سیر اعلام النبلاء 17/557) ان آئمہ حدیث کی تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ امام ابوذر الہروی کی وفات 434 یا 435 ہجری میں ہوئی ہے۔اور جب امام ابوذرالہروی کی وفات ہوئی اس وقت امام فخرابن بخاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کیونکہ ان کی پیدائش 595 یا 596 ہجری میں ہوئی ہے۔ امام ابوذر الہروی کی وفات اور امام فخرابن بخاری کی پیدائش میں تقریبا 160 یا 161 سال کا فاصلہ ہے ۔ پھر زبیر علی زئی اور اس کے استاد نے اپنی سند میں الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی کیسے کہہ دیا؟؟؟ کم از کم دو تین اور راویوں کا فاصلہ ہے سند میں۔ لہذا ہماری بات کا خلاصہ تحقیق یہ ہے کی گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی اور اس کے استاد کی بخاری شریف کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے۔کیونکہ یہ سند متصل نہیں 160 یا161 سال کا فاصلہ ہے رواۃ میں۔ گستاخ المحدثین ز بیر علی زئی کو میرا یہ کہنا ہے کہ اس سند سے تو شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز سے اس لیے بچ رہا تھا کے وہ تقلید کرتے ہیں لیکن خود زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی اس مردود سند میں بھی مقلد راوی موجودہیں ۔امام ابوذرالہروی خود امام مالک کے مقلد ہیں۔ امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة وكان يذكر أن مولده سنة خمس أو ست وخمسين وثلاثمائة شك في ذلك كذا ذكر شيخنا الإمام الحافظ أبو بكر الخطيب رحمه الله وكذا رأيته بخط أبي عبد الله الحميدي رحمه الله وكان أحد الحفاظ الأثبات وكان علي مذهب مالك بن أنس رحمه الله عليه في الفروع ومذهب أبي الحسن في الأصول (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) امام ذہبی لکھتے ہیں امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: وَكَانَ عَلَى مَذْهَبِ مَالِكٍ وَمَذْهب الأَشْعَرِيِّ (سیر اعلام النبلاء 17/557) جب غیرمقلد تقلید کو حرام سمجھتے ہیں تو مقلد راویوں سے سند حدیث کیوں لیتے ہیں؟؟؟ ایک آخری بات جب کوئی سنی حنفی ا مام ابوحنیفہ کو امام الاعظم کہتا ہے تو غیرمقلد فورا اعتراض شروع کر دیتے ہیں لیکن خود اپنا غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کا استاد بدیع الزمان امام بخاری کو امام الدنیا لکھ رہے ہیں اپنی سند حدیث میں تو پھر غیرمقلد خاموش کیوں ہیں؟؟؟ لگتا ہے ان کے ہاں اپنوں کے لیے خصوصی رعایت ہے باقیوں کے لیے بدعت کے فتوے تیار رکھتے ہیں۔ زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی سند کو مردود ثابت کرنے کے لئے اور بھی حوالہ جات موجود ہیں لیکن محققین حدیث کے لیے اتنے حوالہ جات بھی کافی ہیں ۔ خادم حدیث شریف الفقیر رضاءالعسقلانی
  2. 2 likes
  3. 2 likes
    اسلام پر بائیس اعتراضات کا جواب' علامہ پیر غلام رسول قاسمی صاحب نے لکھ کر سرگودھا کے مکتبہ رحمۃ اللعالمین سے شائع کروا دیا ہے۔ اس کتاب میں ان اعتراضات کے جواب کے ساتھ ساتھ نبوت مصطفیٰ ﷺ کے دلائل نیز الحاد کی تاریخ اور عصر حاضر کے اہم انسانی مسائل کے حل پر بھی بحث ہے۔ https://drive.google.com/file/d/0B-i4oEf62HSuMDFpbURPYmFvY00/view http://www.mediafire.com/file/zx9lvaq3o9ujm18/ISLAM_ZINDA_BAAD.pdf
  4. 2 likes
  5. 2 likes
    Sarkar ki shan men gustakhi kerne wale ki sirf aik hi saza hay. Sar tan se juda. hakim e islam usko saza e mout de ga.. agerche toba bhi ker le. jahan tak ulema e karam se suna hai ke uski toba aakhirat men qabol hogi mager dunya main usko saza di jaye gi.. agr ghalti ho tu nishan dehi fermain. Is ke lye Pakistan men jo 295C ka qanoon hay. woh bilkul bar haq qanoon, quran o sunnat ke aen mutabiq hay. Is qanoon ko ghalat kehne wala khud ghalat, jahil, bad bakht or is roe zameen pr aik kala dhaba hay.
  6. 2 likes
    جزاک اللہ افضل بھائی اللہ عزوجل آپ کو اس کا اجرعظیم عطا فرمائے امین
  7. 2 likes
    المستدرک للحاکم اردو جلد 1 http://www.mediafire.com/file/jr3lo4reg2i2ya9/Jild+1+%28Low+Quality%29.pdf جلد 2 http://www.mediafire.com/file/t99re0nqk82s129/Jild+2+%28Low+Quality%29.pdf جلد 3 http://www.mediafire.com/file/rrd1yog3eev5gy1/Jild+3+%28Low+Quality%29.pdf جلد 4 http://www.mediafire.com/file/dlca9ku06d3i3gp/Jild+4+%28Low+Quality%29.pdf جلد 5 http://www.mediafire.com/file/lth8uyu58vpllyx/Jild+5+%28Low+Quality%29.pdf جلد 6 https://mega.nz/#!DkwSjBzQ!TMq7afZiUppNvJ3x50f1bOt0zExMFc2UubkXdGn3EdA
  8. 1 like
    شارح صحیحین و مفسر قرآن علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ سے ایک عظیم تساہل و خطاء محدث العصر علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کی نشان دہی میں ایک عظیم تساہل اور خطاء ہو گی۔ علامہ سعید ملت علیہ الرحمہ اپنی تفسیر تبیان القرآن جلد دہم صفحہ 290-291(سورہ الحجرات ) میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مشہور قاتلین کی سرخی بنا کر تاریخ طبری سے ایک روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310ھ لکھتے ہیں: عبدالرحمان نے بیان کیا کہ محمد بن ابی بکر دیوار پھاند کر حضرت عثمان کے مکان میں داخل ہوئے، ان کے ساتھ کنانہ بن بشر ، سودان بن حمران اور حضرت عمرو بن الحق (صحیح عمرو بن الحمق ہے، رضاالعسقلانی ) بھی تھے اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قرآن شریف سے سورۃ البقرہ پڑھ رہے تھے ،محمد بن ابی بکر نے حضرت عثمان کی داڑھی پکڑ کر کہا: اے بڈھے احمق ! تجھے اللہ نے رسواکردیا، حضرت عثمان نے کہا :میں بڈھا احمق نہیں ہوں ، امیرالمومنین ہوں، محمد بن ابی بکر نے کہا: تجھے معاویہ اور فلاں فلاں نہیں بچا سکے، حضرت عثمان نے کہا : تم میری داڑھی چھوڑ دو، اگر تمہارے باپ ہوتے تو وہ اس داڑھی کو نہ پکڑتے ، محمد بن ابی بکر نے کہا:اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو وہ تمہارے افعال سے متنفر ہو جاتا ، محمد بن ابی بکر کے ہاتھ میں چوڑے پھل کا تیر تھا وہ انہوں نے حضرت عثمان کی پیشانی میں گھونپ دیا، کنانہ بن بشر کے ہاتھ میں ایسے کئی تیر تھے وہ اس نے آپ کے کان کی جڑ میں گھونپ دیئے، او رتیر آپ کے حلق کے آرپار ہوگئے، پھر اس نے اپنی تلوار سے آپ کو قتل کردیا۔ابوعون نے بیان کیا ہے کہ کنانہ بن بشر نے آپ کی پیشانی اور سر پر لوہے کا ڈنڈا مارا اور سودان بن حمران نے آپ کی پیشانی پر وار کرکے آپ کو قتل کردیا۔ عبدالرحمان بن الحارث نے بیان کیا کہ کنانہ بن بشر کے حملہ کے بعد ابھی آپ میں رمق حیات تھی ، پھر حضرت عمرو بن الحق (صحیح عمرو بن الحمق ہے، رضاالعسقلانی ) آپ کے سینہ پر چڑھ بیٹھے اور آپ کے سینہ پر نو وار کیے بالآخر آپ شہید ہوئے(تاریخ الامم والملوک المعروف تاریخ طبری، ج 3، ص 423-424، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بیروت) اس واقعہ کی سند کی تحقیق: علامہ سعیدی علیہ الرحمہ نے تاریخ طبری سے جو اوپر واقعہ نقل کیا ہے وہ یہ ہے: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حدثه عن عبد الرحمن ابن مُحَمَّدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ تَسَوَّرَ عَلَى عُثْمَانَ مِنْ دَارِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَمَعَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ، وَسُودَانُ بْنُ حُمْرَانَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ، فَوَجَدُوا عُثْمَانَ عِنْدَ امْرَأَتِهِ نَائِلَةَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَتَقَدَّمَهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَأَخَذَ بِلِحْيَةِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ يَا نَعْثَلُ! فَقَالَ عُثْمَانُ: لَسْتُ بِنَعْثَلٍ، وَلَكِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ وَفُلانُ وَفُلانُ! فَقَالَ عثمان: يا بن أَخِي، دَعْ عَنْكَ لِحْيَتِي، فَمَا كَانَ أَبُوكَ لِيَقْبِضَ عَلَى مَا قَبَضْتَ عَلَيْهِ فَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَوْ رَآكَ أَبِي تَعْمَلُ هَذِهِ الأَعْمَالَ أَنْكَرَهَا عَلَيْكَ، وَمَا أُرِيدُ بِكَ أَشَدَّ مِنْ قَبْضِي عَلَى لِحْيَتِكَ، قَالَ عُثْمَانُ: أَسْتَنْصِرُ اللَّهَ عَلَيْكَ وَأَسْتَعِينُ بِهِ ثُمَّ طَعَنَ جَبِينَهُ بِمِشْقَصٍ فِي يَدِهِ وَرَفَعَ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرٍ مَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ، فَوَجَأَ بِهَا فِي أَصْلِ أُذُنِ عُثْمَانَ، فَمَضَتْ حَتَّى دَخَلَتْ فِي حَلْقِهِ، ثُمَّ عَلاهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ أَبَا عَوْنٍ يَقُولُ: ضَرَبَ كِنَانَةُ بْنُ بشر جبينه وَمُقَدَّمِ رَأْسِهِ بِعَمُودِ حَدِيدٍ، فَخَرَّ لِجَبِينِهِ، فَضَرَبَهُ سُودَانُ بْنُ حُمْرَانَ الْمُرَادِيُّ بَعْدَ مَا خَرَّ لِجَبِينِهِ فَقَتَلَهُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرحمن ابن الْحَارِثِ، قَالَ: الَّذِي قَتَلَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ التُّجِيبِيُّ وَكَانَتِ امْرَأَةُ مَنْظُورِ بْنِ سَيَّارٍ الْفَزَارِيِّ تَقُولُ: خَرَجْنَا إِلَى الْحَجِّ، وَمَا عَلِمْنَا لِعُثْمَانَ بِقَتْلٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ سَمِعْنَا رَجُلا يَتَغَنَّى تَحْتَ اللَّيْلِ: أَلا إِنَّ خير الناس بعد ثلاثة ... قتيل التجيبي الذي جَاءَ مِنْ مِصْرَ قَالَ: وَأَمَّا عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ فَوَثَبَ عَلَى عُثْمَانَ، فَجَلَسَ عَلَى صَدْرِهِ وَبِهِ رَمَقٌ، فَطَعَنَهُ تِسْعَ طَعْنَاتٍ قَالَ عَمْرٌو: فاما ثلاث منهن فانى طعنتهن اياه الله، وَأَمَّا سِتٌّ فَإِنِّي طَعَنْتُهُنَّ إِيَّاهُ لِمَا كَانَ فِي صَدْرِي عَلَيْهِ. اور طبقات الکبریٰ میں علامہ ابن سعد نے بھی یہ روایت اپنے استاد واقدی سے ہی نقل کی ہے اس کا ثبوت یہ ہے۔ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدٍ: " أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ تَسَوَّرَ عَلَى عُثْمَانَ مِنْ دَارِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَمَعَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ , وَسَوْدَانُ بْنُ حُمْرَانُ , وَعَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ فَوَجَدُوا عُثْمَانَ عِنْدَ امْرَأَتِهِ نَائِلَةَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَتَقَدَّمَهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَخَذَ بِلِحْيَةِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ يَا نَعْثَلُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: لَسْتُ بِنَعْثَلٍ، وَلَكِنْ عَبْدُ اللَّهِ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا ابْنَ أَخِي، دَعْ عَنْكَ لِحْيَتِي، فَمَا كَانَ أَبُوكَ لِيَقْبِضَ عَلَى مَا قَبَضْتَ عَلَيْهِ , فَقَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أُرِيدُ بِكَ أَشَدُّ مِنْ قَبْضِي عَلَى لِحْيَتِكَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَسْتَنْصِرُ اللَّهَ عَلَيْكَ وَأَسْتَعِينُ بِهِ , ثُمَّ طَعَنَ جَبِينَهُ بِمِشْقَصٍ فِي يَدِهِ , وَرَفَعَ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ مَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ فَوَجَأَ بِهَا فِي أَصْلِ أُذُنِ عُثْمَانَ، فَمَضَتْ حَتَّى دَخَلَتْ فِي حَلْقِهِ , ثُمَّ عَلَاهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: فَسَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عَوْنٍ يَقُولُ: ضَرَبَ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرٍ جَبِينَهُ وَمُقَدَّمَ رَأْسِهِ بِعَمُودِ حَدِيدٍ فَخَرَّ لِجَنْبِهِ , وَضَرَبَهُ سَوْدَانُ بْنُ حُمْرَانَ الْمُرَادِيُّ بَعْدَمَا خَرَّ لِجَنْبِهِ فَقَتَلَهُ , وَأَمَّا عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ فَوَثَبَ عَلَى عُثْمَانَ فَجَلَسَ عَلَى صَدْرِهِ وَبِهِ رَمَقٌ فَطَعَنَهُ تِسْعَ طَعَنَاتٍ وَقَالَ: أَمَّا ثَلَاثٌ مِنْهُنَّ فَإِنِّي طَعَنْتُهُنَّ لِلَّهِ، وَأَمَّا سِتٌّ فَإِنِّي طَعَنْتُ إِيَّاهُنَّ لِمَا كَانَ فِي صَدْرِي عَلَيْهِ " (الطبقات الکبریٰ لابن سعد 3/73-74) اس واقعہ کی سند موضوع اور باطل ہے۔ 1-علامہ طبری کی ملاقات محمد بن عمر واقدی سے ثابت نہیں کیونکہ واقدی کی وفات 202 ہجری میں ہوئی اس وقت تو علامہ طبری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ یہاں علامہ طبری نے واقدی سے خود نہیں سنابلکہ اس کی کتاب سے نقل کیا ہے کیونکہ سند میں کے الفاظ موجود ہیں۔ 3-علامہ ابن سعد نے یہ واقعہ اپنے استاد محمدبن عمر واقد ی سے نقل کیا ہے۔ 2-محمد بن عمر واقدی خود جمہور کے نزدیک متروک اور کذاب ہے ۔ امام یحیی بن معین فرماتے ہیں: أَحْمَدُ بنُ زُهَيْرٍ: عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ، قَالَ: لَيْسَ الوَاقِدِيُّ بِشَيْءٍ (تاریخ یحیی بن معین /532) ومحمد بن عمر الواقدي قال يحيى بن معين كان الواقدي يضع الحديث وضعاً (مشیخہ النسائی ، 1/76، رقم 6) خطیب بغدادی فرماتے ہیں: فَقَالَ: هَذَا مِمَّا ظُلِمَ فِيْهِ الوَاقِدِيُّ (تاریخ بغداد، 3/9) امام بخاری لکھتے ہیں: وَذَكَرَهُ البُخَارِيُّ، فَقَالَ: سَكَتُوا عَنْهُ، تَرَكَهُ: أَحْمَدُ، وَابْنُ نُمَيْرٍ (تاریخ الکبیر ، 1/178) و قال البخارى : الواقدى مدينى سكن بغداد ، متروك الحديث ، تركه أحمد ، و ابن نمير ، و ابن المبارك ، و إسماعيل بن زكريا . و قال فى موضع آخر : كذبه أحمد (تہذیب الکمال/6175) امام مسلم فرماتے ہیں: متروك الحديث (تہذیب الکمال/6175) امام حاکم فرماتے ہیں: ذاهب الحديث (تہذیب الکمال/6175) امام ابن عدی فرماتے ہیں: أحاديثه غير محفوظة و البلاء منه تهذيب التهذيب 9 / 366 امام علی بن مدینی فرماتے ہیں: و قال ابن المدينى : عنده عشرون ألف حديث ـ يعنى ما لها أصل . و قال فى موضع آخر : ليس هو بموضع للرواية ، و إبراهيم بن أبى يحيى كذاب ، و هو عندى أحسن حالا من الواقدى . تهذيب التهذيب 9 / 366 امام ابوداؤد فرماتے ہیں: لا أكتب حديثه و لا أحدث عنه ; ما أشك أنه كان يفتعل الحديث ، ليس ننظر للواقدى فى كتاب إلا تبين أمره ، و روى فى فتح اليمن و خبر العنسى أحاديث عن الزهرى ليست من حديث الزهرى تهذيب التهذيب 9 / 366 امام بندار فرماتے ہیں: ما رأيت أكذب منه تهذيب التهذيب 9 / 366 امام ابوحاتم رازی فرماتے ہیں: و حكى ابن الجوزى عن أبى حاتم أنه قال : كان يضع . امام ساجی فرماتے ہیں: و قال الساجى : فى حديثه نظر و اختلاف . و سمعت العباس العنبرى يحدث عنه امام نووی فرماتے ہیں: و قال النووى فى " شرح المهذب " فى كتاب الغسل منه : الواقدى ضعيف باتفاقهم . امام ذہبی فرماتے ہیں: و قال الذهبى فى " الميزان " : استقر الإجماع على وهن الواقدى . و تعقبه بعض مشائخنا بما لا يلاقى كلامه . امام دارقطنی فرماتے ہیں: و قال الدارقطنى : الضعف يتبين على حديثه امام نسائی فرماتے ہیں: قَالَ النَّسَائِيُّ: المَعْرُوْفُونَ بِوَضعِ الحَدِيْثِ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَرْبَعَةٌ: ابْنُ أَبِي يَحْيَى بِالمَدِيْنَةِ، وَالوَاقِدِيُّ بِبَغْدَادَ، وَمُقَاتِلُ بنُ سُلَيْمَانَ بِخُرَاسَانَ، وَمُحَمَّدُ بنُ سَعِيْدٍ بِالشَّامِ. (سیر اعلام النبلاء،9/463) لَيْسَ بِثِقَةٍ. (سیر اعلام النبلاء،9/457) امام شافعی فرماتے ہیں: وَقَالَ يُوْنُسُ بنُ عَبْدِ الأَعْلَى: قَالَ لِي الشَّافِعِيُّ: كُتُبُ الوَاقِدِيِّ كَذِبٌ (تاریخ بغداد، 3/14) امام علی بن مدینی فرماتے ہیں: المُغِيْرَةُ بنُ مُحَمَّدٍ المُهَلَّبِيُّ: سَمِعْتُ ابْنَ المَدِيْنِيِّ يَقُوْلُ: الهَيْثَمُ بنُ عَدِيٍّ أَوْثَقُ عِنْدِي مِنَ الوَاقِدِيِّ (سیر اعلام النبلاء،9/462) اور جمہور کے نزدیک ھیثم بن عدی ضعیف اور متروک ہے امام ذہبی ہیثم بن عدی کے بارے میں لکھتے ہیں: قُلْتُ: أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِ الهَيْثَمِ (سیر اعلام النبلاء،9/462) علامہ مرۃ فرماتے ہیں: وَقَالَ مَرَّةً: لاَ يُكْتَبُ حَدِيْثُهُ. (سیر اعلام النبلاء،9/462) امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں: النَّسَائِيُّ فِي (الكُنَى) : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ أَحْمَدَ الخَفَّافُ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاقُ: هُوَ عِنْدِي مِمَّنْ يَضَعُ الحَدِيْثَ يَعْنِي: الوَاقِدِيَّ (سیر اعلام النبلاء،9/462) علامہ ابو اسحاق الجوزجانی فرماتے ہیں: لَمْ يَكُنِ الوَاقِدِيُّ مَقْنَعاً، ذَكَرتُ لأَحْمَدَ مَوْتَهُ يَوْمَ مَاتَ بِبَغْدَادَ، فَقَالَ: جَعَلتُ كُتُبَهُ ظَهَائِرَ لِلْكُتِبِ مُنْذُ حِيْنَ (تاریخ بغداد، 3/15) امام ابوزرعہ فرماتے ہیں: تَرَكَ النَّاسُ حَدِيْثَ الوَاقِدِيِّ (تہذیب الکمال/1249) واقدی کے علاوہ عبدالرحمن بن ابی الزناد پر بھی کافی جرح ہے لیکن اس کو نقل کرنے سے پوسٹ بڑی ہو جائے گی۔ویسے عبدالرحمن بن ابی الزناد کی تمام جرحیں میری پوسٹ "حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین کی صحیح حدیث اور غیرمقلد زبیرعلی زئی کے اعتراضات کا ردبلیغ" میں موجود ہیں۔ خلاصہ تحقیق یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس واقعہ کی سند موضوع اور باطل ہے۔اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں حضرت عمروبن الحمق رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول ﷺ ہیں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا اور نہ ہی محمد بن ابی بکر نے حضرت عثمان کو شہید کیا ہے۔علامہ سعیدی علیہ الرحمہ سے بہت بڑی خطاء ہو گی جو اس واقعہ کو بنا تحقیق کیے اپنی تفسیر میں نقل کردیا۔ اللہ عزوجل علامہ سعیدی علیہ الرحمہ کی تمام خطاؤں کو معاف فرمائے اور ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے(امین)
  9. 1 like
    محمّد علی بھائی ایک گزارش ہے کوشش کیا کریں کے جو بات بھی ہو بحوالہ اور مختصر اردو فونٹ میں ہو ..
  10. 1 like
    Jawab k lea forum per search kar lya karain https://www.islamimehfil.com/topic/3342-ahlesunnat-kay-nazdeek-insan-aur-ghair-insan-ka-nikah-mumkin-hai/
  11. 1 like
    و علیکم السلام۔۔ اس بات کی نشاندہی اللہ تعالیٰ نے سورة طارق میں کی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ (فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۔خُلِقَ مِنْ مَّآئٍ دَافِقٍ ۔ یَّخْرُجُ مِنْ م بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِب) '' لہٰذا انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیداکیا گیا ہے؟وہ اُچھل کر نکلنے والے پانی سے پیداکیا گیا ہے جو پشت اور سینہ کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتاہے'' اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسان کی تخلیق اور پیدائش کے ان مراحل کو سورة المٔومنون میں اس طرح بیان فرمایا ہے: (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍ ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۔ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَاالْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ق ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ) '' اور ہم نے انسان کو مٹی کے سَت سے پیداکیا۔پھر ہم نے اسے ایک محفوظ مقام (رحم مادر)میں نطفہ بنا کر رکھا۔پھر نطفہ کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا پھر بوٹی کو ہڈیاں بنایا پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا،پھر ہم نے اسے ایک اور ہی مخلوق بنا کر پیدا کر دیا۔ پس بڑا بابرکت ہے ،اللہ جو سب بنانے والوں سے بہتر بنانے والا ہے'' اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر ماںباپ کے مخلوط نطفے کا ذکر بھی فرماتاہے ۔ (اِنّاخَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ق نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًا م بَصِیْرًا) '' ہم نے انسان کو (مرد اور عورت کے ) ایک مخلوط نطفے سے پید اکیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا ''
  12. 1 like
    Wa Alaikum salam. Bhai bary bary Aima pe aisi jarah majood hain bhai.. Imam Hakim Rehmatullah Ahl-e-Sunnat k imam thy.. Muhaddis thy.. ilm-e-hadees mein unki khidmaat ko aaj bhi Sunni, Wahabi, deobandi sabhi tasleem karty hain. Jahan tak Mawlood-e-Kaba ka Masla hy toh Moula Ali Razi Allahu anhu k bary mein Ikhtilaaf hy..Aur jahan tak Imam Hakim Rehmatullah ki ye baat hy toh unki isi baat ko Hazrat Shah Waliullah aur dusry aima karam ne bhi naqal kiya hy.. Main yahan un hazrat k dalail bhi likh dyta hun jo Moula Ali ko mawlood-e-kaba tasleem karty hain.. مولود کعبہ حضرت علی حاکم نیشاپوری جو اہل سنت کے بزرگ علما میں شمار ہوتے ہیں اپنی کتاب مستدرک ،ج۳،ص۴۸۳ پر اس حدیث کو باسندو متواتر لکھا ہے : لکھتے ہیں ” وَقَد تَوَاتِرَتِ الاَخبٰارُ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنتِ اَسَد وَلَدَت اَمِیرَ المُومِنِینَ عَلِی ابنُ اَبِی طَالِبٍ کَرَّمَ اللّٰہُ وَجہَہُ فِی جَو فِ الکَعبَۃ “ ”امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ ،فاطمہ ابنت اسدکے بطن مبارک سے خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے “ دلیل نمبر ۲ :حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ” ازالۃ الخفائ“ صفحہ ۲۵۱ پر اس حدیث کو اور واضح طور پر تحریرکیا ہے کہ حضرت علی سے پہلے اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ شرف نصیب نہیں ہوا چنانچہ لکھتے ہیں: ” تواتر الاخبار ان فاطمۃ بنت اسد ولدت امیر المومنین علیاً فی جوف الکعبۃ فانہ ولد فی یوم الجمعۃ ثالث عشر من شہر رجب بعد عام الفیل بثلاثین سنۃ فی الکعبۃ و لم یولد فیھا احد سواہ قبلہ ولا بعدہ“ متواتر روایت سے ثابت ہے کہ امیر المومنین علی روز جمعہ تیرہ رجب تیس عام الفیل کو وسط کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن سے پیدا ہوئے اور آپ کے علاوہ نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ہوا دلیل نمبر ۳ علامہ ابن جوزی حنفی کہتے ہیں کہ حدیث میں وارد ہے : ”جناب فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کا طواف کررہی تھیں کہ وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے اسی وقت خانہ کعبہ کا دروازہ کھلااورجناب فاطمہ بنت اسد کعبہ کے اندر داخل ہو گئیں ۔اسی جگہ خانہ کعبہ کے اندر حضرت علی پیدا ہوئے۔“ (تذکرت الخواص ص ۲۰) دلیل نمبر ۴ شیخ عبد الحق محدث دہلوی: حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی اپنی کتاب ” مدارج النبوہ“ میں تحریر فرماتے ہیں: جناب فاطمہ بنت اسد نے امیر المومنین کا نام حیدر رکھا ،اس لئے کہ معنی کے اعتبار سے باپ (اسد) اور بیٹے کا نام ایک ہی رہے۔ لیکن جناب ابو طالب نےاس نام کو پسند نہیں کیا،یہی وجہ ہے کہ انھوں نے آپ کا نام ” علی “ رکھا۔ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو ”صدیق “ کہہ کر پکارا اور آپ کی کنیت ” ابو ریحانتین“ رکھی۔ ” امین، شریف، ہادی کے القاب سے آپ کو نوازا۔اس کے بعد عبد الحق بن سیف الدین دہلوی تحریر فرماتے ہیں : ” حضرت علی کی ولادت باسعادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی“ (مدارج النبوہ ج۲ ص۵۳۱) دلیل نمبر ۵ علامہ برہان الدین حلبی شافعی: علامہ برہان الدین حلبی شافعی نے حضرت علی ابن ابی طالب کی ولادت کے سلسلہ میں کافی طول بحث کی ہے مختصر یہ کہ حضرت علی خانہ کعبہ کے اندر پیداہوئے ۔ اس وقت حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمرمبارک تیس سال تھی۔ (السیرت الحلبیہ ج۱ ص۱۳۹) دلیل نمبر ۶ ۔ علّامہ سعید گجراتی: علامہ سعید گجراتی ” خدا یا ! تو بہتر جانتا ہے کہ یہ بہتان دشمنان اہلبیت کی طرف سے ہے۔ دشمنان علی نے اس واقعہ کو گڑھا ہے ۔ جب کہ متواتر روایتیں دلالت کرتی ہیں کہ حضرت علی خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔ خدایا ! تو مجھے رسول اکرم کی سنت پر باقی رکھ اور ان کے اہلبیت کی دشمنی سے دور رکھ “ (الاعلام باعلام مسجد الحرام ص۷۶) اس کے علاوہ دیوبندی مولوی اشرف علی تھانوی نے بھی یہ قول کیا ہے حضرت عبدالمصطفی اعظمی نے بھی اپنی کتاب کرامات صحابہ کے صفحہ۴۴ پر حضرت علی کی ولادت خانہ کعبہ میں ہونے کا قول کیا ہے شیخ سعدی فرماتے ہیں کسے را میسر نہ شد ایں سعادت بکعبہ ولادت بمسجدشہادت کتاب آل رسول مصنف پیر سید خضر حسین چشتی ص۱۲۸ (۱) مستدرک حاکم نیشاپوری ،ج۳ص۴۸۳۔۵۵۰( حکیم ابن حزام کے شرح میں)و کفایۃ الطالب،ص۲۶۰ ۲ کفایۃ الطالب ، ص۴۰۷ ۳ ۔الفصول المہمۃ ،ص۳۰ ۴ ۔ ازالۃ الخلفاءج۲ص۲۵۱ ۵۔ تذکرۃ الخواص ،ص۲۰ ۶۔ مناقب ابن مغازلی ،ص ۶، ۷۔الفصول المہمۃ ،ص۳۰ ۸۔ محاضرۃ الاوائل ،ص۷۹ ۹۔ وسیلۃ النجاۃ ،محمد مبین حنفی ،ص۶۰( چاپ گلشن فیض لکھنو ) ۱۰۔ وسیلۃ المآل ،حضرمی شافعی ، ص۲۸۲ ۱۱۔ تلخیص مستدرک ج۲ص۴۸۳ ۱۲ غالیۃ المواعظ ،ج ۲ص۸۹ و الغدیر ،ج۶ ، ص۲۲ ۱۳۔ازاحۃ الخلفاءعن خلافۃ الخلفا ،۱۴۔ مدارج النبوہ ج۲ص۵۳۱ ۱۵۔ کفایۃ الطالب ، ص۴۰۷ ۱۶۔ نور الابصار ، ص۸۵ ۱۷۔ عبقریۃ الامام علی(ع) ،ص۴۳ ۱۸ نزھۃ المجالس ،ج۲ص۴۵۴ ۱۹ السیرۃ الحلبیۃ ،ج۱ص۱۳۹و ج۳ص۳۶۷ ۲۰۔ سیرہ خلفاءج ۸ ص ۲ ۲۱۔ وسیلۃ المال ،ص۱۴۵ ۲۲۔ ریاض الجنان ،ج۱ص۱۱۱ ۲۳الاعلام الا ¾ علام مسجد الحرام خطی بہ نقل علی و کعبہ،ص۷۶ ۲۴۔ قصیدہ علویہ ص۶۱ شمس الزماں خان جامعی صابری Magar Jo Tasleem nahi karty Unka kehna ye hy k Bas Aima karam k Aqwaal hain jinho ne Imam Hakim Rehmatullah ka hawala diya hy.. Jab k Is silsaly mein koi Sahih Hadees naqil nahi ki unho ne aur na hi is pe ijmaa ummat hy... Ye Masla aisa nahi k iski wajah se kisi ko Sunniyat se bahar kardiya jaye ya usy shia kaha jaye..Is bary mein toh khud shia hazrat mein bhi ikhtilaaf hy مشہور شیعه ابن ابی الحدید لکھتا ہے کہ:واختلف فی مولد علی علیه السلام این کان؟ فکثیر من الشیعة یزعمون انه ولد فی الکعبة والمحدثون لا یعترفون بذٰلک، ویزعمون ان المولود فی الکعبة حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی ۔ (شرح نہج البلاغة لابن ابی الحدید 9:1 القول فی نسب امیر المؤمنین علی علیه السلام، دار الکتاب العربی بغداد)ترجمه: حضرت علی کرم اللہ وجهہ کی ولادت گاہ کے بارے میں اختلاف ہے ۔ کثیر شیعوں کا خیال ہے کہ آپ کعبه میں متولد ہوئے ہیں لیکن محدثین اس بات کو نہیں مانتے، ان کے نزدیک "مولود فی الکعبة" صرف حکیم بن حزام (حضرت خدیجه رضی اللہ عنہا کے بھتیجے) ہیں ۔.
  13. 1 like
  14. 1 like
    Wa Alikum salam.. Hazrat mery naqis ilam k mutabiq ye Wahabiyon ki bohat moutbar website hy.. Social media pe Aksar wahabi isi website k andhy muqallid hain.
  15. 1 like
  16. 1 like
    ماشاء اللہ مستدرک چھے جلد اردو، لنک ہے تو مہیا فرما دیں ۔۔۔
  17. 1 like
    M Afzal Razvi حضور میں حضرت نہیں ہوں آپ کو لنک بھیج دیا ہے پرسنل میں چیک کرلیں جزاک اللہ
  18. 1 like
    (حديث مرفوع).حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : ثنا غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ ، تُحَدِّثُونَ وَيُحَدَّثُ لَكُمْ ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ كَانَتْ وَفَاتِي خَيْرًا لَكُمْ ، تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ ، فَإِنْ رَأَيْتُ خَيْرًا حَمِدْتُ اللَّهَ ، وَإِنْ رَأَيْتُ غَيْرَ ذَلِكَ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ . . الراوي : بكر بن عبد الله المزني المحدث : الألباني - المصدر: فضل الصلاة - صفحة 26 خلاصة الدرجة : جيدة رجالها رجال مسلم . . السيوطي - المصدر: الخصائص الكبرى الصفحة أو الرقم: ٢/٤٩١ خلاصة الدرجة: إسناده صحيح... . ترجمہ: حضرت بکر بن عبدللہ المزنی سے روایت ہے، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 'میری حیات بهی تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم حدیثیں بیان کرتے ہو اور تمہارے لئے حدیثیں (دین کے احکام)بیان کیے جاتے ہیں، اور میری وفات بھی تمہارے لئے بہتر ہے کہ تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں ، تمہارا جو نیک عمل دیکھتا ہوں اس پر الله کا شکر ادا کرتا ہوں، اور اگر برے اعمال پاتا ہوں تو تمہارے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں" . سند کی تحقیق ................... . . . . . ١. سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ . ثقة إمام حافظ https://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=3579. . ٢. حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، . ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور. https://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=2491 . ٣.غَالِبٌ الْقَطَّانُ ثقة . https://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=6350 4.بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ . ثقة ثبت https://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=1933
  19. 1 like
    اعلیٰ حضرت پر اعتراض کا جوابمولوی ایوب دیوبندی لکھتا ہے"مولوی احمد رضا خان بریلوی کا شعر ہے عزت بعد ذلت پہ لاکھوں سلام شعر کے مصرعہ کا مطلب یہ ہے کہ جو عزت اللّہ نے آپ (حضورﷺ )کو ذلت ملنے کے بعد دی اس پر لاکھوں سلام ہوں یعنی نبی پاک (حضورﷺ ) پر ایک وقت وہ بھی گزرا کہ آپ ذلت کے مقام پر فائز تھے بعد ازاں اللّہ نے عزت سے ٙ نوازا۔ (دست و گریبان صفحہ 92۔۔93۔۔130۔۔247۔۔) الجواب۔۔ایک ہی کتاب میں تقریباً 4 جگہ اس بہتان کو دہرایا گیا ہے۔ مکمل شعر یوں ہے کثرت بعد قلت پہ اکثر درود عزت بعد ذلت پہ لاکھوں سلام (حدائق بخشش حصہ دوم صفحہ 36 مطبوعہ اکبر بک سیلرز لاہور ) دیوبندی مولوی نے اس شعر کو انتہائی باطل معنی پر محمول کیا ہے ۔ دراصل اس شعر میں لفظ "بعد " زبر کے ساتھ نہیں بلکہ پیش کے ساتھ ہےجس کا مطلب دوری ہوتا ہے۔ تو مطلب ہو گا ذلت سے دور۔ بالفرض اگر اس لفظ "بعد "کو زبر کے ساتھ پڑھا جائے تو ہرگز خطاب معاذالللہ حضورﷺ سے نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے پچھلے مصرعہ میں "قلت و کثرت " کا ذکر ہے جس سے مراد اہل عرب ہیں۔ تو اس شعر کا مطلب ہے کہ پہلے مسلمانوں کا گروہ کم تھا پھر کثیر ہو گیا۔ اور اسلام سے پہلے اہل عرب ذلت و گمراہی میں تھے۔ اللّہ نے ان کو اسلام کی نعمت سے مالا مال کر کے عزت و بلندی اور کثرت عطا فرمائی۔ یہ شعر بخاری شریف کی اس حدیث پاک کی شرح ہے; "اے گروہ عرب۔۔ تم ذلت اور گمراہی کی جس حالت میں تھے وہ تمہیں معلوم ہے۔ اللّہ تعالیٰ نے اسلام اور حضورﷺ کے ذریعے نجات دلائی۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الفتن۔ جلد 9۔ صفحہ 57۔ مطبوعہ دار طوق النجات) مولوی ایوب لکھتا ہے "ایک بریلوی کہنے لگا کہ یہ تو لفظ "بعد " (پیش کے ساتھ) ہے۔۔ "بعد " (زبر ) کے ساتھ نہیں میں نے کہا میرے پاس حدائق بخشش کی کئی شرحیں ہیں مفتی غلام حسن قادری لاہوری کی مولوی نعیم الله خان قادری کی مفتی محمد خان قادری کی صوفی امام الدین کی ان سب نے تو "بعد " (زبر کے ساتھ ) مانا ہے ۔۔ (دست و گریبان صفحہ 92) الجواب۔۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ اگر لفظ "بعد " زبر کے ساتھ ہی لیا جائے تو بھی اس کا مطلب وہ نہیں جو مولوی صاحب نے اپنی ازلی جہالت کے سبب سمجھا ہے۔۔ بلکہ وہ مطلب ہے جو میں نے اوپر بیان کیا۔۔ اور جن شارحین کا نام مولوی صاحب نے لکھا ہے ان شارحین نے بھی اس شعر میں لفظ بعد زبر کے ساتھ مان کر اس شعر کی وی تشریح بیان نہیں کی جو مولوی صاحب نے بیان کی ہے ۔۔۔۔۔۔مثلاً ۔۔۔۔۔۔ مولانا نعیم الله خان قادری اس شعر کی شرح میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔ "یارسول الله۔۔ الله تعالیٰ نے آپ کی ذات بابرکات کے طفیل مسلمانوں کی قلت کو کثرت میں بدل دیا۔۔ وہ بے سروسامانی کے عالم میں تھے حتیٰ کہ مسلمانوں کو ہجرت کے بعد استقامت اور غلبہ عطا فرمایا ۔۔ مسلمانوں کو فتوحات کے بعد فتوحات حاصل ہوئیں اور چار سو مسلمانوں اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔ اور کفر و شرک کی ذلالت سے اسلام اور توحید کی عزت بلند ہوئی۔" (شرح سلام رضا صفحہ 58 ۔ 59 ۔اویسی بک سٹال 2011 ) دیوبندی ایک جاہل قوم ہے اور گستاخی رسولﷺ کے سبب الله نے ان کی عقلیں چھین لی ہیں اور علم سے با الکل بے بہرہ ہیں۔۔ اس لئے انہیں سمجھ تو کچھ آتا نہیں جس کی وجہ سے اعلیٰ حضرات پر اعتراض کرتے رہتے ہیں اور پھر منہ کی کھاتے ہیں۔۔ مولوی ایوب نے بھی اپنی جہالت سے مجبور ہو کر 3 جلدوں میں دست و گریبان نامی کتاب لکھی ہے جو جھوٹ و بہتان سے بھری ہوئی ہے اور اپنی جہالت کا خوب مظاہرہ کیا ہے ۔
  20. 1 like
  21. 1 like
    Jazak allah bhaijaan bht hi umdah..
  22. 1 like
    اہل خبیث اس طرح کی مبہم جرح جو جھوٹی حسد کینا لوگوں کی پھیلائی ہوئی لوگوں کو دیکھا کر پریشان کرتے ہیں۔ وہابیون کے بڑے ملاوں نے ان بکواسوں کا رد پہلے ہی کر دیا۔ انکے گھر کی گواہی اس طرح کی حسد و کینا کی بنیاد پر پھیلائی گئی باتوں کا رد امام ابن عبدالبر نے کر دیا تھا۔ مزید اگر وہ تنگ کرے اور نہ مانے تو اس وہابی کو اسکے اپنے گھر سے بہت سی شہادتیں دے دینگے جیسی ایک پہلے پیش کر دی گئی
  23. 1 like
  24. 1 like
    *امیرِ اہلسنت مولانا الیاس عطار قاری پر صحابی حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ کی گستاخی کے الزام کا منہ توڑ جواب* دیوبندی مولوی کاذب خائن المعروف ساجد خان اور مفتری نجیب نے امیرِ اہلسنت علامہ مولانا الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ پر حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ کی گستاخی کا الزام لگا کر اپنے رافضی بھائیوں کی طرح دل کھول کر تبرا کیا دیوبندیوں میں تھوڑی سی غیرت ہے تو ہمارے جواب کا جواب دیں اور اس جواب میں خاص کر مولوی ساجد خان اور مفتری نجیب کو مخاطب کیا گیا ہے اگر ان دونوں میں شرم و حیاء نام کی کوئی چیز ہوگی تو ضرور جواب دیں.
  25. 1 like
    السلام علیکم اس بے غیرت کمینے کو اگر کوئی جاہل بھی مناظرے کا کہے یہ اس سے بھاگ جاتا ہے۔علماء اہل سنت اس کو مناظرے کا چیلنج کر چکے ہیں مگر یہ بزدل کیسے آۓ میدان میں۔
  26. 1 like
    Agar ap mujhe fresh links send kar den to buht meherbani hogi...m Al Hakim Al Mustadrak k urdu m complete volumes download karna chahta hun..
  27. 1 like
  28. 1 like
    Salam alayqum, Jahan taq mera naqis ilm heh Talaq ho chuki heh aur daranay ka uzr qabl e lehaz nahin. Magar behtreen yeh heh kay aap Muftiyan e Kiram say rabta keren aur kissi qassai type Mufti say nahin. Kissi tajurba-kar Mufti say, Bareilly Shareef mein, ruju karen. Istifta mein apni beti ka zeroor likhna. Shahid kuch kunjaish ho.
  29. 1 like
    Breaking News!!! Ismaili Deobandi Molvi Ilyas Ghumman ke wife ne wahabi Mufti Muhammad Rehan ko khat mai apny husband Ilyas Ghuman ke shaitani/khabees fitrat o harkaat se agah kar dya. Es ke wife kehte hai k yeh a) apni Step Daughters, Madrasay ke larkio se khabees harkatain o Zana kar chuka hai. Kamsan larko se bhe zana kar chuka hai. مفتی ریحان نے مولانا سلیم اللہ خان اور مولانا محمد احمد لدھیانوی سمیت کئی علماء کے خط بھی بھیجے ہیں جنہوں نے الیاس گھمن سے اعلان لا تعلقی کیا ہے .اس کے ساتھ دس سے زائد آڈیوز ، ویڈیوز بھی موجود ہیں . مذکورہ خاتون کی جانب سے مکتب دیوبند کے علماء کو لکھا گیا خط بھی آئی بی سی اردو کے پاس موجود ہے. ثبوت کے طعر پر یہاں وہ لنک بھی دے رہے ہیں جن ویبسائٹس اور آئڈیز پر یہ ساری انسانیت سوز داستاں اپلوڈ ہوئ ہے. 1) http://ibcurdu.com/news/33142… . 2) http://qudrat.com.pk/special-articles/03-Oct-2016/18910 .
  30. 1 like
    Bhai Wesy mega.nz archive se mujhy acha laga khas kar Slow internet walon k liye.. kun k Wahan file archive se jaldi downlaod ho jati hy..aur In case internet off ho jaye toh On hony ki surat mein wahin se download hona shuru hoga jahan se net off howa tha.. ye lijiye Archive pe.. Jild # 1 https://ia801900.us.archive.org/13/items/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%201%20LRes.pdf Jild # 2 https://ia801900.us.archive.org/13/items/SahiIbneHibbanJild1-8/sahi%20ibne%20hibban%20Jild%202%20HRes.pdf Jild # 3 https://ia801900.us.archive.org/13/items/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%203%20LRes.pdf Jild # 4 https://archive.org/download/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%204%20LRes.pdf Jild # 5 https://ia801900.us.archive.org/13/items/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%205%20LRes.pdf Jild # 6 https://archive.org/download/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%206%20LRes.pdf Jild # 7 https://archive.org/download/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%207%20LRes.pdf Jild # 8 https://archive.org/download/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%208%20LRes.pdf
  31. 1 like
    M Afzal Razvi bhai jaan hakim al mustadrak ki shuruhat Sharah mil jayen tau bohaaat acha hoga kyunki bohaat sari hadees hakim mustadrak main aesi hain jo zaeef hain or kuch hadees aesi hain jin ko samajhna mushkil hai KYA IS KI KOI SHARAH LIKHI GAYE HAI AGAR SHARAH MIL JAYE TAU BE HAD MEHARBANI HOGI
  32. 1 like
    شیعہ کی تکفیر سے ٹاپک کا یہ تعلق ہے۔ یہ کہنا کہ پیر صاحب نے قادیانی کے علاوہ کسی کی تکفیر نہیں کی ۔یہ حوالے آپ کے گھر کی گواہی سے غلط ثابت ہوگئے۔جب پیر صاحب شیخین کرمین اور امہات المومنین کے گستاخوں پر فتوی لگایا تو گساخ رسول پر خاموشی کس طر ح فرما سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ ثبوت مانگنا ضد اور ہٹ دھرمی کہ سوا کچھ نہیں۔ "میں نہ مانوں" شروع سے دیوبندیوں کا شیوا رہا ہے۔ ورنہ مردود کب کی توبہ کر چکے ہوتے۔
  33. 1 like
    تمام باتوں کا جواب تمہارے گھر سے دیدیا ہے۔ پیر صاحب نے شیعہ کی تکفیر کی ہے۔ حوالہ ساتھ میں درج ہے۔ جو اسکین تم نے دیا ہے وہ تمہارے اپنوں نے غلط ثابت کر دیا۔اور اس میں مصنف کی غلط فہمی ہے جس کو تمہارے گھر کے ساتھ ساتھ پیر صاحب کے مرید کے سنے ہوئے ملفوظ سے بھی غلط ثابت کر دیا ہے۔ پیرصاحب نے حسام الحرمین دیکھی اور تائید کی بلکہ صبح اس سے درس دینے کا عزم کیا۔ پیر صاحب کی صحبت میں رہنے والے مرید پیر صاحب کی حیات کے بعد آنے والی نسل سے زیادہ معتبر ہیں۔ بتائو تھانوی کی صحبت میں جو بیٹھے ہوتے تھے ان کی بات تمہارے نزدیک زیادہ معتبر ہوگی یا آج کے دور میں کوئی تھانوی کا پرپوتا ایسی بات کہہ دے جو تھانوی کے عقیدے کے خلاف ہو۔ مجھے پتہ ہے یہاں بھی تم چبل مارو گے۔ شکست خوردہ کی ضد اور ہٹ دھرمی کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ یہ ٹاپک تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ جو دلیل تم نے دینی تھی دیدی۔ ہماری طرف سے دلائل آگئے۔ عوام خود فیصلہ کرے گی کون حق پر ہے۔
  34. 1 like
  35. 1 like
  36. 1 like
    شیعہ اور عقیدہ تحریفِ قرآن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیعہ رافضی پادری شرف الدین علی الحسینی الاسترابادی اپنی کتاب "تاویل الآیات الظاھرة في فضائل العترة الطاھرة" میں نقل کرتا ہے کہ ابوجعفر علیہ السلام سے روایت ہے،جبرائیلؑ رسولؐ اللہ کے پاس یہ آیت ایسے لے کر آئے تھے: "وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا في علي فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ" اور اگر تم کو اس میں،جو ہم نے اپنے بندے(محمدؐ) پر نازل فرمائی ہے "علی" کے بارے میں،کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورة تم بھی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جو تمھارے مددگار ہوں،ان کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔ (معاذ اللہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۠ وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 23؀ اور اگر تمہیں اِس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اُتاری ہے،یہ ہماری ہے یا نہیں،تو اِس کے مانند ایک ہی سورة بنا لاؤ،اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لو،ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس کی چاہو،مدد لے لو،اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھاؤ ۔(23) "سُوْرَةُ الْبَقَرَة"
  37. 1 like
    حقہ پینے اورنہ پینے کے حوالے سے اعلیٰ حضرتؒ پرالزام کا منہ توڑجواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لنک پرکلک کریں احکام شریعت کی عبارت میں خیانت (613479226) سرفرازخان صفدرکاامام احمدرضاپرافتراء.pdf
  38. 1 like
    برادرم سعیدی صاحب کی ایک پرانی پوسٹ
  39. 1 like
    http://www.islamimehfil.com/topic/11156-alahazrat-aur-huqqa/
  40. 1 like
  41. 1 like
    IS masla mey ikhtilaf hai Dono taraf ulama e ahle sunnat hain,is liye kisi moqif par b shidat nahi karni chahiye,واللہ اعلم
  42. 1 like
    HAME YAHAN PER BOHAT KUCH SIKHNE KO MILTA HE, HAMRI DUWA HE KE ALLAH IS SITE HAMESHA AHLE SUNNA KE AKABIR SE ABAD RAKHE AMEEN,
  43. 1 like
  44. 1 like
    Rana Saheb Lajawab Tehreer Share Kerne Ka Bahut Shukriya Allaah Behter Jaza Dene Wala Hai Ek Seedhi Si Baat Jo Hai Woh Yeh ke Koi Bhi Shakhs Jiske Paas Zara Bhi Eimaan Hoga Woh Apne Piyare Nabi ke Gustakh Ko Apna Chaprasi Banana Bhi Pasand Nahi Karega Imaam Banana To Usske Qayas Bhi Door Hoga
  45. 1 like
    MASHALLAH Jazak Allah Khalil Rana Bhai !!!!!!!!!!!
  46. 1 like
    Rana Sahib... Share Kerney Ka Buhut Shukriya... Is Sey Hamarey Sunnis Ko Buhut Faida Hoga.. Insha Allah
  47. 1 like