Jump to content

مدینہ شریف کو یثرب کہنا جائز نہیں


Eccedentesiast

تجویز کردہ جواب

English Translation:

 

http://www.islamimeh...aba-as-yathrib/

 

 

فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ایک اہم استفتا

 

 

مسئلہ ۶ ثانیہ: کیا حکم شرع شریف کا اس بارے میں کہ مدینہ شریف کو ''یثرب'' کہنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو شخص یہ لفظ کہے اس کی نسبت کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا

 

الجواب: مدینہ طیبہ کو یثرب کہنا ناجائز وممنوع وگناہ ہے اور کہنے والا گنہگار ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من سمی المدینۃ یثرب فلیستغفر اﷲ ھی طابۃ ھی طابۃ، رواہ الامام ۱؎ احمد بسند صحیح عن البراء ان عازب رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

جو مدینہ کو یثرب کہے اس پر توبہ واجب ہے۔ مدینہ طابہ ہے مدینہ طابہ ہے۔ (اسے امام احمد نے بسند صحیح براء بن عازب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ ت)

 

(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل عن براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۸۵)

 

علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں :فتسمیتھا بذٰلک حرام لان الاستغفار انما ھو عن خطیئۃ ۲؎۔یعنی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدینہ طیبہ کا یثرب نام رکھنا حرام ہے کہ یثرب کہنے سے استغفار کاحکم فرمایا اور استغفار گناہ ہی سے ہوتی ہے۔

 

(۲ ؎ التیسیر شرح جامع الصغیر تحت حدیث من سمی المدینۃ یثر ب الخ مکتبہ الامام الشافعی ریاض ۲ /۴۲۴)

 

ملا علی قاری رحمہ الباری مرقاۃ شریف میں فرماتے ہیں :قد حکی عن بعض السلف تحریم تسمیۃ المدینۃ بیثرب ویؤیدہ مارواہ احمد لافذکر الحدیث المذکور ثم قال) قال الطیبی رحمہ اﷲ تعالٰی فظہران من یحقر شان ما عظمہ اﷲ تعالٰی ومن وصف ماسماہ اﷲ تعالٰی بالایمان بمالایلیق بہ یستحق ان یسمی عاصیا ۱؎ الخ۔

 

بعض اسلاف سے حکایت کی گئی ہے کہ مدینہ منورہ کویثرب کہنا حرام ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو امام احمد نے روایت فرمایا ہے۔ پھر حدیث مذکور بیان فرمائی۔ پھر علامہ طیبی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا پس اس سے ظاہر ہو اکہ جو اس کی شان کی تحقیر کرے کہ جس کو اللہ تعالٰی نے عظمت بخشی اور جس کو اللہ تعلٰی نے ایمان کانام دیا اس کا ایسا وصف بیان کرے جو اس کے لائق اور شایان شان نہیں تو وہ اس قابل ہے کہ اس کا نام عاصی (گنہگار) رکھا جائے الخ (ت)

(۱؎ المرقاۃ شرح المشکوٰۃ کتاب المناسک تحت حدیث ۲۷۳۸ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۵ /۶۲۲)

قرآن عظیم میں کہ لفظ یثرب آیا وہ رب العزت جل وعلا نے منافقین کا قول نقل فرمایا ہے :واذاقالت طائفۃ مہنم یااھل یثرب لامقام لکم ۲؎۔جب ان میں سے ایک گروہ نے کہااے یثرب کے رہنے والو! تمہارے لئے کوئی جگہ اور ٹھکانا نہیں۔ (ت)

 

(۲؎ القرآن الکریم ۳۳ /۱۳)

 

یثرب کا لفظ فساد وملامت سے خبر دیتاہے وہ ناپاک اسی طرف اشارہ کرکے یثرب کہتے اللہ عزوجل نے ان پر رد کے لئے مدینہ طیبہ کا نام طابہ رکھا، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :یقولون یثرب وھی المدینۃ۔ رواہ الشیخان ۳؎ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔وہ اسے یثرب کہتے ہیں اور وہ تو مدینہ ہے۔ (اس کو بخاری ومسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)

 

(۳ ؎ صحیح البخاری فضائل المدینۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۲)

(صحیح مسلم کتاب الحج باب المدینۃ تنفی خبثہا الخ ۱ /۴۴۴)

اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :ان اﷲ تعالٰی سمی المدینۃ طابۃ ۔ رواہ الائمۃ احمد ومسلم ۱؎ والنسائی عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔بے شک اللہ عزوجل نے مدینہ کا نام طابہ رکھا۔ (اسے ائمہ احمد، مسلم اور نسائی نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)

(۱؎ مسند احمد بن حنبل عن جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۸۹)

(صحیح مسلم کتا الحج باب المدینۃ تنفی خبثہا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۵)

 

مرقاۃ میں ہے :المعنی ان اﷲ تعالٰی سماھا فی اللوح المحفوظ او امرنبیہ ان یسمیھا بہا ردا علی المنافقین فی تسمیتھا بیثرب ایماء الی تثریبہم فی الرجوع الیہا ۲؎۔

 

مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے لوح محفوظ میں مدینہ منورہ کانام ''طابہ'' رکھا ہے یا اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ وہ مدینہ پاک کا نام طابہ رکھیں، یثرب رکھنے میں اہل نفاق کارد کرتے ہوئے ان کی سرزنش (توبیخ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ انھوں نے پھر نازیبا (یامتروک) نام کی طرف رجوع کرلیا۔ (ت)

 

(۲؎ المرقاۃ شرح المشکوٰۃ کتا ب المناسک حدیث ۲۷۳۸ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۵/ ۶۲۲)

 

اسی میں ہے :قال النووی رحمہ اﷲ تعالٰی قد حکی عیسٰی بن دینار ان من سماھا یثرب کتب علیہ خطیئۃ واما تسمیتھا فی القراٰن بیثرب فہی حکایۃ قول المنافقین الذین فی قلوبہم مرض ۳؎۔

 

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا عیسٰی بن دینار رحمۃ اللہ علیہ سے حکایت کی گئی ہے کہ جس کسی نے مدینہ طیبہ کا نام یثرب رکھا یعنی اس نام سے پکارا تو وہ گناہ گار ہوگا، جہاں تک ک قران مجید میں یثرب نام کے ذکر کا تعلق ہے تو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ منافقین کے قول کی حکایت ہے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے۔ (ت)

 

(۳؎المرقاۃ شرح المشکوٰۃ کتا ب المناسک حدیث ۲۷۳۸ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۵ /۶۲۲)

 

بعض اشعار اکابرمیں کہ یہ لفظ واقع ہوا، ان کی طرف سے عذر یہی ہے کہ اس وقت اس حدیث وحکم پر اطلاع نہ پائی تھی جو مطلع ہوکر کہے اس کے لئے عذر نہیں معہذا شرع مطہر شعر وغیرہ شعر سب پر حجت ہے۔ شعر شرع پر حجت نہیں ہوسکتا، مولانا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قد سرہ، مشکوٰۃمیں فرماتے ہیں :

 

آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم او رامدینہ نام نہاد از جہت تمدن واجتماعی مردم واستیناس و ایتلاف ایشاں دردے ونہی کرد از خواندن یثرب یا از جہت آنکہ نام جاہلیت است یا سبب آنکہ مشتق از یثرب بمعنی ہلاک وفساد وتثریب بمعنی توبیخ وملامت ست یا بتقریب آنکہ دراصل نام صنمے یا یکے از جبابرہ بود، بخاری درتاریخ خود حدیثے آوردہ کہ یکبار یثرب گوید باید کہ دہ بار مدینہ گوید تاتدارک و تلافی آں کند ودر روایتے دیگر آمدہ باید کہ استغفار کند و بعضے گفتہ اند کہ تعزیر باید کرد قائل آں را وآنکہ درقرآن مجید آمدہ است یا اہل یثرب از زباں منافقان ست کہ بذکر آں قصد اہانت آن می کردند عجب کہ برزبان بعضے اکابر دراشعار لفظ یثرب آمدہ ۱؎ انتہی۔ واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ ۔

 

آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کا نام ''مدینہ'' رکھا، اس کی وجہ وہاں لوگوں کارہنا سہنا اور جمع ہونا اور اس سے انس ومحبت رکھنا ہے اور آپ نے اسے یثرب کہنے سے منع فرمایا اس لئے کہ یہ زمانہ جاہلیت کا نام ہے یا اس لئے کہ یہ ''ثرب'' سے بنا ہے جس کے معنی ہلاکت اور فساد ہے اور تثریب بمعنی سرزنش اور ملامت ہے یا اس وجہ سے کہ یثرب کسی بت یا کسی جابر و سرکش بندے کا نام تھا۔ امام بخاری اپنی تاریخ میں ایک حدیث لائے ہیں کہ جو کوئی ایک مرتبہ ''یثرب'' کہہ دے تو اسے دس مرتبہ ''مدینہ'' کہنا چاہئے تاکہ اس کی تلافی اور تدارک ہو جائے قرآن مجیدجو ''یا اھل یثرب'' آیا ہے تو وہ اہل نفاق کی زبان سے اد اہوا ہے کہ یثرب کہنے سے وہ مدینہ منورہ کی توہین کا ارادہ رکھتے تھے، ایک دوسری روایت میں ہے کہ یثرب کہنے والا اللہ تعالٰی سے استغفار کرے اور معافی مانگے اور بعض نے فرمایا کہ اس نام سے پکارنے والے کو سزا دینی چاہئے۔ حیرت کی بات ہے کہ بعض بڑے لوگوں کی زبان سے اشعار لفظ یثرب صادر ہوا ہے۔ انتہی، اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے اور عظمت وشان والے کا علم بہت پختہ اور بڑا مکمل ہے۔ (ت)

(۱؎ اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتا ب المناسک باب حرم المدینۃ مکتبہ نوری رضویہ سکھر ۲ /۹۴۔ ۳۹۳)

 

Title.jpg

116 Desktop Resolution.jpg

117 Desktop Resolution.jpg

118 Desktop Resolution.jpg

119 Desktop Resolution.jpg

Link to comment
Share on other sites

(bis)

 

(saw) (saw) (saw)

 

(salam)

 

(azw)(ja) Usman Bhai is baat ka ilm to tha lekin ab tafseel jo aap ne pesh ki (azw)(al) us say maloomat mein bohat izafa hua.

 

yahan ek baat ki taraf tawaja mabzol karwana chahoun ga k ek kalam bhi hai jis mein Madinah Paak ko yasrab kaha gaya hai. jo k kuch is tarha hai .... "yasrab kay WAALI (saw), saray NABI (as) teray dar kay sawali" puchna yeh chahta houn k is kalam kay baray mein sharai hukam kiya hai?

 

agay koi Bhai is per kisi Sunni Mufti sb. ka fatwa hasil kar lein to (azw)(sa)

 

Dua hai k ALLAH PAAK ap kay ilm-o-amal mein mazeed izafa aur barkatein farmae ... Aameen

 

Duaon ki iltija k sath

 

fi-aman:

Link to comment
Share on other sites

On 3/6/2010 at 6:07 PM, sh@h!d said:
 

 

 

(wasalam)

 

Shahid bhai Hosla afzai farmanay ka bhut shukria ....... yeh Tafseel to hmaray saron k taaj Sayyadi Alahazrat (ra) nay paish farmai hay .... main nay to bas isay yhan Copy/paste kr dea hay......

Aap nay bhut achay suwal ki traf tawajuh mabzool krwai hay .... yeh Naat shareef ''Shaah-e-Madeenah (saw)'' jis ka zikr aapnay kia , aajkal nihayat maqbool hay , is silsilay main kuch batain arz krta chaloon k awwalan yeh naat shareef music ya aajkal k naam nihad daff k sath parhi jati hay , jo k hram hay ... doosri bat yeh k aam tor per aorat ki aawaz hoti hay jo k mard ko sunna hram aor aorat ka baghair uzr apni aawaz ko is had tak buland krna k namahram tak phunchay , bazt-e-khud hram hay

 

behrhaal ager kisi jga yeh sab baatain ya is kay elawa koi Qabahat na ho to ab is Naat shareef k alfaz ko dekha jaye ga ... Lafz ''Yasrab'' ka istemal Madeenah Paak k liay sakht manoo hay jesa k uooper byan hochuka .... aor Ash'aar ka masla bhi Taajdaar-e-Ahl-e-Sunnat (ra) nay wazih darj farmaya hay k :

شرع مطہر شعر وغیرہ شعر سب پر حجت ہے

 

 

lihaza is se maloom hua k Naat shareef parhtay waqt ''Yasrab'' ki bjaye ''Madeenah'' kehna chahiay aor yun parhna chahiay ''Madeenah k waali Saaray Nabi Tairay Dar k Suwali''

 

Allah pak ham sab ko Amal ki tofeeq ata farmae .. Aameen...

 

Jazak Allah (azw)

 

Dua main yaad rakhnay ki guzarish...

Link to comment
Share on other sites

  • 1 month later...

مدینہ منورہ کے فضائل پر ''الدکتورابو ابراہیم ملا خاطر '' (دامت برکاتہم العالیہ ) نے ایک ضخیم کتاب تصنیف فرمایی ہے ... اس کا اردوترجمہ ضیاءالقران پبلکشنز نے ''فضائل مدینہ '' کے نام سے شائع کیا ہے ... کتاب مذکورہ تقریبا 800 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور اپنے موضوع پر ایک جامع تصنیف ہے ...اسی کتاب میں صفحہ١١٢ ، ١١٣ پر مدینہ شریف کو یثرب کہنے کی ممانعت پر بحث کی گیی ہے جو کہ ہدیہ قاریین کی جارہی ہے :

مدینہ طیبہ کو یثرب کہنا منع ہے: :

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے مدینہ طیبہ تشریف لانے سے پہلے اسے یثرب کہا جاتا تھا ، جب آپ صلی الله علیہ وسلم تشریف لایےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام المدینہ ، طیبہ اور طابہ رکھا جیسا ک پیچھے گزر چکا ہے اور آپ( صلی اللہ علیہ وسلم )نےیثرب کہنے سے منع فرمایا - ابھی ابھی آپ پڑھ چکے ہیں حدیث ابو ہریرہ میں تھا کہ لوگ مدینہ کو یثرب کہتے ہیں حالانکہ یہ مدینہ ہے ، منافق اسے یثرب کہتے تھے ، مومنوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے یثرب کہیں جب کہ انہوں نے سن لیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام مدینہ، طیبہ اور طابہ رکھاہے -

 

١٢٢ : حضرت البراء بن عاذب رضی اللہ عنھما سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا جس نے مدینہ کو یثرب کہا اسے اللہ تعالی سےمغفرت طلب کرنی چاہئیے ، یہ طابہ ہے طابہ ہے اس حدیث کو امام احمد ، ابو یعلی اورابن شبہ نے ذکر کیا ہے اس کے راوی ثقہ ہیں - ابن شبہ ، عبدالرزاق، ابن شبہ اور الجندی نے مرسل روایت کی ہے -

 

١٢٣- ابن شبہ نے حضرت ابن عباس کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس کی سند میں ابن ابی یحییٰ ہیں ، لیکن حدیث البراء بن عاذب اس کی موید ہے -

 

١٢٤- ابن شبہ نے حضرت ابوایوب کی حدیث روایت کی ہےکہ رسول علی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو یثرب کہنے سے منع فرمایا-

یہ حدیث الحافظ نے الفتح میں ذکر کی ہے ، اور کویی تبصرہ نہیں لکھا ہے ، یہ بھی ابن ابی یحییٰ کے طریق سے ہے ، مگر حدیث براءاس کی بھی موید ہے -

اور یہ حقیقت ہے کہ توبہ و استغفار گناہ کی وجہ سے کیا جاتا ہے - اگرچہ صغیرہ گناہ ھی ہو اسی وجہ سے امام عیسی بن دینار مالکی فرماتے ہیں جس نے مدینہ کو یثرب کہا اس پرخطاءو گناہ لکھا جاتا ہے-

یثرب کہنے سے اس لئے منع فرمایا کیونکہ یثرب یا تثریب سے مشتق ہے جس کا مطلب زجر و تو بیخ اورملامت ہے یا یہ ثرب سے مشتق ہے جس کا مطلب فساد ہے اور یہ دونوں قبیح مفہوم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوبصورت نام پسند کرتے تھے اور قبیح نام ناپسند فرماتے تھے -

اگر یثرب کہنا ممنوع ہے تو قرآن میں یثرب کیوں استعمال ہوا ، تو قرآن میں اس نام کا ذکر منافقین کے قول کو حکایت کے طور پر ہے ، جن کے دلوں میں مرض تھا ، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

وَ اِذْ یَقُوۡلُ الْمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲﴾

وَ اِذْ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ یٰۤاَہۡلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوۡا ۚ وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوْرَۃٌ ؕۛ وَمَا ہِیَ بِعَوْرَۃٍ ۚۛ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾

 

(خاتمہ )

 

نوٹ :

اس کتب کااردو ترجمہ آن لائن بھی دستیاب ہے

 

 

.. جزاک اللہ عزوجل

untitled Desktop Resolution.jpg

Link to comment
Share on other sites

بحث میں حصہ لیں

آپ ابھی پوسٹ کرکے بعد میں رجسٹر ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ پہلے سے رجسٹرڈ ہیں تو سائن اِن کریں اور اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کریں۔
نوٹ: آپ کی پوسٹ ناظم کی اجازت کے بعد نظر آئے گی۔

Guest
اس ٹاپک پر جواب دیں

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • حالیہ دیکھنے والے   0 اراکین

    • کوئی رجسٹرڈ رُکن اس صفحے کو نہیں دیکھ رہا
×
×
  • Create New...