Iqbalwarsipk

Members
  • Content count

    12
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

0 Neutral

About Iqbalwarsipk

  • Rank
    Member

Profile Information

  • Gender
  • Location
    میرپور خاص پاکستان
  • Interests
    کالم نویسی شاعری اور لوگوں کی روحانی اُلجھنوں کو سُلجھانا

Previous Fields

  • Madhab
  1. ان کی کہاوت جو اپنے مال اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللّٰہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللّٰہ وسعت والا علم والا ہے سورہ البقرہ آیت 261 ترجمہ کنزالایمان تفسیر خَزائنُ العرفان خواہ خرچ کرنا واجب ہو یا نفل تمام ابواب خیر کو عام ہے خواہ کسی طالب علم کو کتاب خرید کر دی جائے یا کوئی شِفا خانہ بنادیا جائے یا اموات کے ایصال ثواب کے لئے تیجہ دسویں بیسویں چالیسویں کے طریقہ پر مساکین کو کھانا کھلایا جائے۔ اگانے والاحقیقت میں اللّٰہ ہی ہےدانہ کی طرف اس کی نسبت مجازی ہے مسئلہ:اس سے معلوم ہوا کہ اسناد مجازی جائز ہے جب کہ اسناد کرنے والا غیر خدا کو مستقل فی التصرف اعتقاد نہ کرتا ہو اسی لئے یہ کہنا جائز ہے کہ یہ دوانافع ہے ،یہ مضر ہے ،یہ در دکی دافع ہے ،ماں باپ نے پالا عالم نے گمراہی سے بچایا بزرگوں نے حاجت روائی کی وغیرہ سب میں اسناد مجازی اور مسلمان کے اعتقاد میں فاعل حقیقی صرف اللّٰہ تعالٰی ہے باقی سب وسائل۔ تو ایک دانہ کے سات سو دانے ہوگئے اسی طرح راہِ خدا میں خرچ کرنے سے سات سو گناہ اجر ہوجاتا ہے۔
  2. اِسمِ احمد ﷺ کو ہُونٹوں پہ سجا کرسونا یادِ طیبہ کو نِگاہوں میں بَسا کرسونا کیا خَبر خَاب میں آجائیں بُجھانے کیلئے تِشنگی اور بھی تُم اپنی بَڑھا کرسونا عاصِیوں پر وہ مِہربان صدا رِہتے ہیں اپنے جُرموں پہ نِگاہُوں کو جَما کر سونا عشرتِ وارثی تُم پہ بھی کرم ہُوگا ضرور آج تُم اپنے نصِیبوں کو جَگا کر سونا
  3. کل شام گھر کی جانب جاتے ہُوئے میری نِگاہ اِک شَجر پر پڑی شجر پہ چِند چڑیوں کوچہچاتے دیکھ کر اِک خوشگوار حیرت سے میرے قدم خودبَخود وَہاں رُک گئے چِڑیوں نے جُو مُجھے اپنے قریب آتے دِیکھا تُو پرواز کیلئے پَر تُولنے لگیں میں نے پکار کر رُکنے کی التجا کی اور اُنہیں بتایا کہ میں صیاد نہیں بلکہ خُود اُنکے حُسنِ دام میں مقید ایک پنچھی ہُوں جو اُنکی دید کیلئے ایک مُدت سے تڑپ رَہا ہے۔ اُنہوں نے آپس میں کُچھ صُلح مشورہ کیا اور اُسکے بعد اُن میں سے ایک پُختہ عُمر سمجھدار چِڑیا آگے آئی اور یُوں گُویا ہُوئی اگرچہ اب ہمیں اِنسانوں کا ذرہ بھر بھی بھروسہ نہیں لیکن تُمہارے لہجے کی یاسیت اور تُمہاری التجا کو دیکھتے ہُوئے ہَم چند لمحووں کیلئے یہاں رُکنے کو تیار ہیں مگر ہماری دُو شرطیں ہیں اگر منظور ہُوں تُو ٹھیک ورنہ تُم اپنی راہ لُو اور ہمیں ہماری راہ جانے دو۔ میں نے گِڑگِڑاتے ہُوئے کہا مُجھے تُمہاری تمام شرائظ منظور ہیں مگرخُدا کیلئے یہاں سے مت جاؤ مُجھے میری آنکھوں کی پیاس بُجھا لینے دُو میرے چند سوالات ہیں جو ایک مُدت سے میرے دِل میں ہیں اور بَجز تُمہارے جواب کے کوئی مُجھے مُطمئین نہیں کرپائے گا۔ وہ کِہنے لگی تُو ہماری پہلی شَرط یہ ہے کہ تُم ہمارے قریب بالکل نہیں آؤ گے جبکہ ہَماری دوسری شَرط یہ ہے کہ تُم ہماری جانب نہیں دِیکھو گِے بلکہ جُو بھی سَوال کرو گے اپنی نِگاہُوں کو جُھکا کر کرو گے۔ میں نے اپنی گردن کو اَثبات میں ہِلاتے ہُوئے کہا مُجھے تُمہاری دُونوں شَرائط منظور ہیں کیا اَب میں اپنے سوالات پیش کرسکتا ہُوں؟ اور اُنہوں نے جُونہی مُجھے سُوالات کرنے کی اِجازت دِی میں ایک فاصِلہ بناتے ہُوئے اُن سے دور چَلا گیا اور دوسری شَرط کے اِحترام میں اَپنی نِگاہُوں کو جُھکا کر بیٹھ گیا اور اپنے سوالات یُوں پیش کرنے لگا ۔ میرا پِہلا سوال یہ ہے کہ ایک عرصہ ہُوا میں نے اپنے گھر کے آنگن میں تُمہیں اُترتے نہیں دیکھا اِس کی کیا وجہ ہے؟ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ پہلے میری آنکھ تُمہاری چِہچہاہٹ کے سبب کُھلتی تھی مگر اب صبح کسی شجر پر تُمہاری چہچہاہٹ سُنائی نہیں دیتی ؟ اور میرا تیسرا اور آخری سُوال یہ ہے کہ اَب جبکہ تُم نے شِہر میں آنا چُھوڑ دِیا ہے تُو تُمہارا گُزر بَسر کیسے ہُوتا ہے ؟ وہی چُڑیا کہ جِس نے مُجھے سوالات کی اِجازت دِی تھی مُسکراتے ہُوئے کِہنے لگی کیا واقعی بَس اِتنی سی بات ہے یا پِھر اِن باتوں کے بہانے ہَمارے شِکار کا منصوبہ بنارہے ہُو؟ مُجھے اُنکی بے اِعتمادی سے اَب کوفت مِحسوس ہونے لگی تھی لیکن میرے لئے چُونکہ اِن سوالات کے جوابات نہایت اِہم تھے لِہذا بدستور نِگاہیں جُھکائے اُنہیں یہ یقین دِلانے میں مصروف رَہا کہ میں صِرف اُنکے جوابات کا طلبگار ہُوں اور مُجھے چِڑیُوں کے شِکار سے نفرت ہے کہ چِڑیا سے قُدرتی فِطرت کاحُسن ہے نہ کے غِذا و رِزق کا ذریعہ میرے جَواب سے شائد اُس چِڑیا کی کُچھ تشفی ہوگئی تھی تبھی اُس چڑیا کی پُر اعتماد آواز میری سَماعت سے ٹکرائی۔ سُنو ہَم نہیں جانتے کہ تُم یہاں کِس اِرادے سے آئے ہُو لیکن ہَمارے پاس ایسا کوئی پیمانہ بھی تُو نہیں کہ جِس کے ذریعہ تُمہارے دِل کی بات کو جان سَکیں ویسے بھی قُدرت کے لِکھے کو بھلا کُون ٹال سکتا ہے اگر آج ہَمارے مُقدر میں اسیری لکھی جاچُکی ہے تُو بھلا ہَم آزاد کیسے رِہ سکتے ہیں۔ میں سب سے پِہلے تُمہارے دوسرے سُوال کا جواب دینا چاہونگی تُم نے کہا کہ اب تُمہاری آنکھ ہَماری چہچہاہٹ سے نہیں کُھلتی تُو میں سمجھتی ہُوں کہ اس میں سراسر تُمہارا ہی قُصور ہے ہم تُو آج بھی طُلوعِ فجر کیساتھ ہی اپنے مالک و رَبّ کی حدَ وُ ثَنّا کے ترانے گانے کیلئے اور اُسکا شُکر بَجالانے کیلئے شَجروں سے اَپنا رِشتہ جُوڑے ہُوئے ہیں لیکن ایک تُم اِنسان ہی ہُو کہ اُس وقت شُکر و عِبادت کے بجائے خُوابِ غفلت میں پڑےرِہتے ہو۔ ہَم اپنا کام کر کہ چَلے جاتے ہیں لیکن تُمہیں نہ ہی حَی عَلی الفلاحَ کی آواز بیدار کرپاتی ہے نہ ہی ہمارے چِہچہانے کی آواز تُم سُن پاتے ہُو لِہذا اِس میں قُصور ہَمارا نہیں صرف تُمہارا ہے۔۔ اور تُمہارے تیسرے سُوال کا جواب یہ ہے کہ شائد تُم تھوڑا سا اناج اور پانی رَکھ کر یہ سمجھنے لگے تھے کہ ہمارے دانہ وُ پانی کا وسیلہ صرف حضرتِ انسان ہیں اگر ایسا ہُوتا تو کیا تمام جنگل میں رہنے والے پرندے نابُود نہ ہُوجاتے ہمیں بھی رِزق وہی مُہیا کرتا ہے جو تُم سمیت تمام عالموں کو عطا فرماتا ہے تُم سمجھتے ہُو کہ تُمہیں رزق صرف تُمہاری کوششوں کے سبب مِلتا ہے تُو مجھے یہ تُو بتاؤ کہ پتھر میں موجود کیڑے کو رِزق کیسے مِلتا ہے اور جُو مجبور اور مَعذوُر ہُوں وہ اپنا حِصہ کیسے وُصول کر پاتے ہیں اِس لئے تُمہارا تیسرا سُوال تُمہاری حِماقت کا شاخسانہ ہے ورنہ کوئی ایسا نہیں جو اپنے رازق کو پہچانتا نہ ہُو۔ اور اب میں تُمہارے پہلے سُوال کا جواب دینا چاہُونگی اگرچہ مُجھے مَعلوم ہے کہ تُم اپنے ہم جِنسوں کی مُحبت اور تعصب کی وجہ سے میری بات کو ہَنسی میں اُڑا دُو گے لیکن تُم نے مُجھ سے ایک سُوال کیا ہے مُجھ پر ایک الزام لگایا ہے کہ میں اپنی کُوتاہی سے نِظامِ فِطرت کو بَدل رہی ہُوں ۔ حالانکہ اسکے ذمہ دار بھی تُم خود ہی ہُو۔ اچھا مُجھے ایک بات بتاو کیا تُم جب اپنی مسجدوں میں نماز اَدا کرتے ہُو تو کیا تُمہارا دِل تُمہاری زُبان سے نکلنے والے کلموں کی تصدیق کرتا ہے یا تُمہیں یہ اندیشہ گھیرے رِہتا ہے کہ کوئی خُودکش حملہ آور تُمہاری صَفوں میں داخِل نہ ہُوگیا ہُو ۔ یا بازاروں میں خریداری کرتی ہوئی خواتین اور بَچّوں کو کوئی یہ ضمانت دے سکتا ہے کہ وہ زندہ سلامت اپنے گھر پُہنچ پائیں گے۔ کیا مذہبی جلسہ گاہوں میں ثواب کی نیت سے بیٹھے حاضرین کو کوئی یہ گارنٹی دَے سکتا ہے کہ وہ خُون میں نہیں نہائیں گے۔ کیا اسکول میں جانے والے بَچّوں کی ماؤں کو کوئی یہ یقین دِلا سکتا ہے کہ اُنکے بَچے چیتھڑوں کی شِکل اِختیار نہیں کریں گے اور چلو یہی بتادو کہ جو اللہ کریم کے دوست ہیں جنکا قرب دِلوں کو سکون بخشتا ہے کیا اُنکے دربار کی حاضری ہی مِحفوظ ہے؟ میں نے پہلی مَرتبہ اپنی نگاہُوں کُو اُٹھایا تُو مجھے اُس چڑیا کے چہرے پر طنزیہ ہنسی اور نفرت کے سِوا کُچھ دِکھائی نہیں دِیا میں نے جونہی اپنی جُھکی نِگاہوں کو بُلند کیا وہ سب پرواز کیلئے پر تُولنے لگیں میں صرف اِتنا ہی معلوم کرسکا۔ لیکن اِن سب باتوں سے میرے آنگن میں تُمہارے نہ آنے کا کیا تعلق ہے؟ وہ کہنے لگی جس انسان کے ہاتھوں سے انسان تک محفوظ نہ ہُوں وہ پرندوں کا اِحترام کیا خاک کرے گا جب ایک اِنسان کا قاتل تمام اِنسانیت کا قاتل ہُوتا ہے یہ معلوم ہوتے ہُوئے بھی ایک انسان دوسرے بیگُناہ اِنسان کا خون جائز سمجھنے لگے اور اُس سے اپنے ہاتھ رنگنے کو جنت کا ذریعہ سمجھنے لگے تُو ایسے اِنسانوں سے بھلا ہَم کیوں نہ گھبرائیں اسلئے جب سے اِنسانوں نے اِنسانوں کا خون بہانہ جائز سمجھ لیا ہم نے بھی انسانوں سے کنارہ کرنا سیکھ لیا ہے اب ہمیں تُمہارے آنگن ہی سے نہیں ہر ایک انسان کے آنگن میں اُترنے سے ڈر لگتا ہے یہ کہتے ہُوئے چڑیوں کی وہ ڈار پُھر سے اُڑ گئی۔ اور میں سوچنے لگا اچھا ہوا کہ اُنہوں نے مُجھ سے جواب طلب نہیں کیا ورنہ میرے پاس تُو اُنکے کِسی ایک سُوال کا بھی جواب نہیں تھا۔
  4. آج کل حال ہے یہ قوم کے جوانوں کا کُچھ کو موبائیل کُچھ کو روگ مہ جبینوں کا گھر سے لے جایئں گھر پہ چُھوڑنے بھی خود آیئں کسقدر ہے خیال اِنہیں قوم کی حَسِینُوں کا پہلے اُلفت تھی کِتابوں سے مدرسوں سے اِنہیں اب گُزارہ نیٹ بِن ہوتا نہیں شَبِینُوں کا پہلے یہ کہتا تھا اََبّا مجھکو لاکہ دو قلم اَب یہ رَسیا ہوگیا ہے مائیکل کے گانوں کا پہلے اَبّا آئیڈیل تھے بِہنوں سے بھی پیار تھا اب یہ دیوانہ ہے بِلّوُ شَنوُ شبّوُ رانوں کا پہلے امّاں کے اِشارے پہ چلے آتے تھے یہ اب تو لگتا بند ہی ہے وال اِنکے کانوں کا پہلے گھر کے سامنے سے جو گُزر سکتے نہ تھے اب بذریعہ وہ موبایئل مالک گھر کے خانوں کا پہلے عشرت وارثی پلکیں بِچھا رکھتے تھے جو اب وہ غُراتے ہیں چہرہ دیکھ کہ مہمانوں کا
  5. بسم اللہ الرحمٰن الرحیم محترم قارئین السلامُ علیکم چند دنوں سے ایک پوسٹ بنام اللہ کو خدا کہنا کیسا ؟ایک فورم پر حیرت انگیز طور پر بار بار پوسٹ کی گئی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اِسے ایسے خوفناک انداز میں تحریر کیا گیا کہ لوگ شائد سہم سے گئے اور اُنہیں ایسا لگا ہوگا کہ بھئی اپنا ایمان تو خطرے میں تھا اللہ بھلا کرے صاحب مضمون کا جنکی بدولت آتش پرستوں کیساتھ خاتمہ ہونے سے بچ گئے میں نے جب اِس پوسٹ کو پڑھا تو مجھے تشویش لاحق ہوئی کہ اس تحریر کولکھنے کا مقصد چاہے جو بھی رہا ہو لیکن ایک بات ضرور ہے کہ اس کالم میں علامہ اقبال سے لیکر شیخ سعدی علیہ الرحمہ تک اور بر صغیر کے ہزاروں علماء کی ذات کو نشانہ بنایا گیا ہے لہذا سب سے پہلے دارالافتاء حیدرآباد فون کیا اور فتویٰ معلوم کیا فون نمبر 0092222621563 اسکے بعد دارالافتاء کنزالایمان کراچی فون نمبر 00922134855174 پھر دارالافتاء نورالعرفان کراچی [ون نمبر00922132203640 ]اسکے بعد مفتی محمد یعقوب سعیدی صاحب سے گفتگو کی اسکے بعد اتمام حجت کیلئے بنوری ٹاؤں کراچی کے دارالافتاء کے مفتی عبداللہ شوکت (دیوبند) سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی کہ جناب کیا فرماتے ہیں علماءدین بیچ اس مسئلہ کے کہ کیا اللہ کریم کو خدا کہہ کر پکارنا جائز ہے یا ناجائز اور مجھے دونوں طبقوں کے علماء سے ایک ہی جواب مرحمت ہوا کہ بالکل جائز ہے اور مفتی عبداللہ نے مزید کہا کہ علماء اُمت کا اس پر اجماع بھی ہے لیکن بعض شر پسند عناصر مسلمانوں میں منافرت پھیلانے کیلئے ایسا پروپیگنڈہ کرتے ہیں جو قابل مذمت ہے اور علامہ غلام رسول سعیدی تبیان القران جلد 3 صفحہ 361 پر بحث کرتے ہوئے رقمطراز ہیں جسکا خلاصہ پیش خدمت ہے کہ ایسے نام سے اللہ کو پکارنا جو اُس کی شان کے زیبا نہ ہو منع ہے جیسے اللہ کے ساتھ میاں کا اضافہ کے یہ لفظ میاں انسانوں کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے یا اللہ کیساتھ سائیں کا اضافہ کہ سائیں فقیر کو بھی کہتے ہیں اس لئے اس کا اطلاق ممنوع ہے جبکہ ایسے الفاظ سے اللہ کو پُکارنا جو اُس کی شان کے مطابق ہیں جیسے فارسی میں خدا اور ترکی میں تنکری کہ ان کے معنیٰ میں ابہام نہیں جائز ہیں محترم قاریئن اب آتے ہیں اُس حدیث کی جانب جس کو موصوف نے بڑی ڈھٹائی کیساتھ اپنے حق میں پیش کیا ہے [میں اِسے من وعن پیش کر رہا ہوں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، کھانے پینے لباس رہنے سہنے میں تو وہ اُنہی میں سے ہوگا قیامت میں اُس کے ساتھ حشر ہوگا۔ (سنن ابو داود)۔ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا(علیہ الرحمہ) فتاوی رضویہ جلد۸ صفحہ 622 پر ارشاد فرماتے ہیں بحرالرائق ودرمختار و ردالمحتار وغیرہا ملاحظہ ہوں کہ'' بد مذہبوں سےمشابہت اُسی اَمر میں ممنوع ہے جو فی نفسہ شرعاً مذموم یا اس قوم کا شعار خاص یا خود فاعل کو ان سے مشابہت پیدا کرنا مقصود ہو ورنہ زنہار وجہ ممانعت نہیں سیدی اعلحضرت نے تشبہ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے جسے آپ جلد نمبر اکیس تا چوبیس میں دیکھ سکتے ہیں جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ جس فعل کو کفار مذہب کا حصہ سمجھ کر رسماً ادا کرتے ہوں مثلا سینے پر زنار باندھنا یا صلیب لٹکانا یا بغل وغیرہ کے بال بڑھانا اُنکی مشابہت ممنوع اور حرام ہے یا یہ کہ کُفار سے مُحبت کی بنا پر اُنکی نقالی کرے۔ نا کہ کسی زبان کے استعمال سے مشابہت لازم آئے گی لیکن محترم قارئین فاضل کالم نگارنے ایک ایسے مسئلے کو اپنی جانب سے متنازع بنادیا جو کہ مسئلہ تھا ہی نہیں اور جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع بھی ہے اب دیکھتے ہیں کہ خدا کے لغوی معنیٰ کیا ہیں تو خدا کے لغوی معنٰی وہی ہیں جو اللہ کی شان کے مطابق ہیں یعنٰی مالک ،آقا ،باکمال ،معبود ، اور ربّ ۔ اب یا تو موصوف کو فارسی زبان سے بغض تھا یا علماء برصغیر سے بیزاری جو بنا سمجھے کروڑوں مسلمانوں کو بمعہ علماء کرام آتش پرستوں سے مُشابہت کی نوید سُنا کر معاذ اللہ ثمَ معاذ اللہ جہنم کی نوید سُنا ڈالی محترم قارئین کرام ایک حدیث کا مفہوم ہے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہُ سے مروی ہیکہ رسولِ اقدس علیہ الصلواۃ والسلام کا فرمانِ عبرت نشان ہے فرمایا کہ جس نے بغیر علم کے کوئی فتویٰ دیا تو اُس کا گُناہ فتوٰی دینے والے پر ہوگا اور جس نے جان بوجھ کر اپنے بھائی کو غلط مشورہ دیا تو اُس نے اُس کے ساتھ خیانت کی (۔(سنن ابو داود کتاب العلم باب التوقی فی الفتیا، جلد نمبر 3 صفحہ 449 لیکن یہاں حال یہ ہے کہ ایک حدیث سُنی کتاب دیکھنے کی نوبت نہیں آتی جو یاد رھا صرف اُسی کو اپنی جانب سے قولِ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) بتا کر بیان کر دیا جاتا ہے یا کسی کے نظریہ سے مُتاثر ہو کر کروڑوں مسلمانوں کو کفر کے فتوٰی سے نواز دیا جاتا ہے اور اس طرح مسلمانوں میں انتشار کی کیفیت پیدا کردی جاتی ہے جو قابل مذمت عمل ہے اللہ کریم ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے ۔ اور ایسے نیم عالم خطرہ ایمان سے بھی محفوظ رکھے میں نے تمام حقائق آپ کے سامنے رکھ دئیے ہیں اور تمام علماء کی رائے بھی اب یہ آپکا فرض ہیکہ ہر آرٹیکل پر جزاک اللہ کے نعرے چسپاں کریں یا کچھ تحقیق بھی کریں
  6. آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم ۔ واللیل والضُحٰی ویلکم ویلکم ہو زمیں و زماں کے مختار تُم رب کی تخلیق میں ایک شاہکار تم رب کے محبوب تم رب کے دِلدار تم ہم گنہگاروں کے اک خریدار تم عاصیوں کی صدا ویلکم ویلکم۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم کل بھی روتا تھا ابلیس اور آج بھی اُس کے یاروں کا سینے میں گُھٹتا مے دَم بارھویں کی مَحافِل سجاتے ہُوئے مرحَبا کی مَچاتے ہیں جب دُھوم ہم نعرہ َٔمرحبا ویلکم ویلکم۔ ۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم پُہنچے بُراق پہ جب کہ شاہِ زَمَن حُور و غُلماں یہ بُولے مَنا کہ جَشَن آگئے وہ جو باعِثِ تَخلیق ہیں اپنے غیروں سبھی پہ جو شفیق ہیں قُدسیوں نے کہا ویلکم ویلکم ۔ ۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم رَبّ کے پیغامِ لولاک میں ہے پِنہاں اُس کے مِحبوب کی عَظمتُوں کے نِشاں یہ چَمکتے سِتارے زَمیں کہکشاں فَلک شَمسُ و قَمر اور یہ سارا زماں آپ ہی پہ فِدا ویلکم ویلکم ۔ ۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم آپ ہی کے لئے ہے بَندھا یہ سَماں آپ ہی کی ہے کوثر حَسِیں گُلسِتاں مُجھکو بُلوَا لو اب تو یہاں سے وہاں صَدقہ حَسنین کا تُم کو شاہِ زماں ہُو قُبول اِستدعا ویلکم ویلکم ۔ ۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم عشرتِ وارثی پہ نِگاہِ کرم کب سے بیکار بیٹھا ہے شاہِ اُمم پھر دِکھادو اِسے اپنا سوھنا حَرم لکھ رہا ہے ثنا اِسکا رکھنا بھرم ہوگئی اِبتدأ ویلکم ویلکم ۔ ۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم
  7. سیٹھ عبدالرزاق آج بُہت خُوش تھا اور خُوش کیوں نہ ہُوتا کہ آج اُسکی برسوں پرانی مُراد بَر آنے والی تھی ۔ وہ ایک ایسے قافلے میں شریک ہُونے جارہا تھا کہ جِس قافلے کی منزل حَرمِ پاک تھی۔ وہ کئی دِنوں سے اپنے رشتہ داروں سے مُلاقات کر رہا تھا اور ہر ایک آنے والے کو بتا رہا تھا کہ آخر اسکا بُلاوہ بھی دیارِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آگیا ہے ، وہ اپنے شہر کا جانا مانا رَئیس تھا ایک مُدت سے دِیارِ حَرم کی زمین کو بوسہ دینے کی خُواہش اُسکے دِل میں مچل رہی تھی اور بِلاآخر آج وہ دِن آپُہنچا تھا کہ اُسے اِس مُبارک سفر کی سعادت حاصل ہُونے جارہی تھی۔ اور پھر وہ گھڑی بھی آپُہنچی کہ وہ اپنے بیوی، بَچوں سے الوداع ہو کر عازم سفر ہُوگیا دیار حَبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کے تصور کی خُوشی اسقدر تھی کہ اس احساس نے اِسے اپنوں کی جُدائی کا کوئی خاص مَلال نہ ہُونے دِیا۔ وداع کرتے ہُوئے مُحلہ داروں ، دوست احباب اور گھر والوں نے سو امن پھول کی پتیاں بھی اُس پر نچھاور کر ڈالیں تھیں اُس نے برقی قمقموں سے جگمگاتے ہوئے اپنے گھر پر الوداعی نِگاہ ڈالی اور اپنے مُلازم عبداللہ کیساتھ قافلے والوں کیساتھ عازم سفر ہُوگیا۔ عبداللہ اُسکا خاص مُلازم تھا جِسے گھر والوں نے اِسرار کر کے سیٹھ عبدالرزاق کیساتھ کردِیا تھا تاکہ عبداللہ سفرمیں آنے والی تکلیفوں کو خُود پر بَرداشت کرتے ہوئے سیٹھ عبدالرزاق کیلئے آسائش پیدا کر سکے اور عبداللہ کی خِدمت نے ثابت کردِیا تھا کہ سیٹھ عبدالرزاق کے گھر والوں کا فیصلہ بالکل صائب تھا۔ واقعی عبداللہ کی موجودگی میں کبھی سیٹھ عبدالرزاق کو شکایت کا کوئی موقع ہاتھ نہیں آیا تھا ۔ عبداللہ جہاں ایک بہترین خِدمتگار ثابت ہُوا تھا وہیں وہ ایک بِہترین باورچی بھی ثابت ہُوا تھا تمام سفر میں اپنے مالک کی ہر ایک ضرورت کا اُس نے دھیان رکھا تھا بلکہ جب کبھی سیٹھ عبدالرزاق آرام کی زیادتی کے سبب اپنی تھکن کا اِظہار کرتا تُو فوراً عبداللہ اپنے مالک کے ہاتھ پاؤں دَباناشروع کردیتا جِسکی وجہ سے سیٹھ عبدالزاق کا کاہل جسم پھر سے توانا ہُوجاتا اور آخر وہ دِن بھی آپُہنچا کہ مِیر کارواں نے منزل کے آنے کا مُژدہ جاں فِزا سب کو سُنایا۔ تب ہر چہرہ خُوشی سے تمتمانے لَگا تھا۔ کعبۃ اللہ پر پہلی نظر پَڑتے ہی ہر آنکھ اشکبار نظر آرہی تھی اور ہَر چہرے کو دیکھ کر یُوں مِحسوس ہُورہا تھا کہ جیسے صدیوں سے مِحبوس غلاموں کوآزادی کا پروانہ مِل گیا ہُو ۔ طواف و سعی کے بعد سب ایک قطار میں اپنے سر مُنڈوا رہے تھے کِسی نے بَڑھ کر آب زَم زَم پیش کیا۔ تُو کوئی عمرہ کی مُبارکباد دے رَہا تھا رِہائش چُونکہ حَرم سے نزدیک تر تھی اِس لئے جسکا جب جی چاہتا حَرم میں چَلا آتا اور گھنٹوں گُزر جاتے لیکن وقت کا احساس نہیں ہُوتا۔ وقت مگر کسی کیلئے کب ٹِہرتا ہے سو گُزرتا رَہا۔۔ گُزرتا رَہا۔۔۔ اور ایک دِن چاروں جانب سے مِنٰی چلو۔مِنٰی چلو کی صدائیں آنے لگیں اور عبداللہ تمام سامان ِضرورت اپنے توانا کاندھوں پر سنبھالے سیٹھ عبدالرزاق کے پیچھے پیچھے چَلا جارہا تھا 2 دِن بعد وہ عرفات کے میدان میں موجود تھے اور رُو رُو کر خُدائے رَحمٰن سے اپنے گُناہوں کی معافی مانگ رہے تھے مغرب کی آذان سُنتے ہی وہ مُزدلفہ کے میدان کی جانب چل دیئے تھے اگلے دِن شیطان کو کنکریاں مارنے اور قربانی سے فارغ ہُونے کے بعد جب وہ اپنے خیموں میں داخِل ہوئے تُو عبداللہ اپنے مالک کو نمکین گوشت کھلانے کیلئے تیاری کر رہا تھا۔ آج سب طوافِ زیارت سے فارغ ہُوچُکنے کے بعد اپنے خیموں میں موجود تھے اورامیر قافِلہ کے حُکم کے منتظر تھے آج پھر سب کو اِک مبارک سفر درپیش تھا کوئی خُوبصورت لہن میں،، حاجیوں آؤ شہنشاہ کا روضہ دِیکھو ۔ کعبہ تُو دیکھ چُکے اب کعبہ کا کعبہ دیکھو۔۔ پڑھ کر حاجیوں کے عشق کو مزید بیدار کر رہا تھا اور آخر وہ مُبارک ساعت بھی آپُہنچی جب اَمیرِ قافِلہ نے کُوچ کا حُکم سُنا ڈالا اور تمام حاجی مُجرموں کی طرح سَروں کو جھکائے ادب سے قافلہ میں شریکِ سفر تھے۔ سفر جاری تھا کہ کِسی دیوانے نے صدا لگائی وہ دِیکھو سبز گُنبد نظر آرہا ہے اور ساتھ ہی مسجد نبوی کے نُور بار مینار بھی نظر آرہے ہیں ہر آنکھ دیوانے کے ہاتھوں کا اِشارہ پاتے ہی شوقِ دیدار کی خاطر دیوانہ وار طوافِ مینار و گُنبد میں مصروف تھی مگر ایک دیوانہ تھا جو اپنی نِگاہوں کو باوجود ہزار خُواہش نہیں اُٹھا پارہا تھا۔ مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) پُہنچ کر اَمیر قافلہ نے اعلان کیا سب بقیع کی جانب چلو ہم باب جبرائیل سے باادب طریقے سے قدموں کی طرف سے داخل ہونگے ہر ایک پروانہ وار وجد کی کیفیت طاری کئے حاضر ہُونے کیلئے بیقرار تھا لیکن وہ دیوانہ اپنی نظریں جُھکائے دروازے کے باہر ہی ٹِہر گیا تھا عبدالرزاق نے اُس دیوانہ کی اِس حَرکت کو مُلاحِظہ کیا تُو دیوانے کے قریب چَلا آیا اور کہنے لگا عبداللہ ہر مسلمان کی خُواہش ہوتی ہے کہ اپنے کریم آقا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے روضے پر حاضر ہُو کر شفاعت کی سند حاصل کرے لیکن عبداللہ میں دیکھ رَہا ہُوں کہ تُم اندر داخل ہونے کے بجائے باہر ٹہر گئے ہو کیا تُمہیں یہ اندیشہ ہے کہ کوئی ہمارا سامان یہاں سے اُٹھا کر لیجائے گا ۔ سُنو اگر ایسا کوئی وہم تُمہارے دِل میں موجود ہے تُو اِسے باہر نِکال پھینکو اور یہ سعادت حَاصل کر لُو یہ موقع ہر ایک کو نہیں مِلتا تُم خُوش نصیب ہُو جو یہاں تک پُہنچنے میں کامیاب ہُوگئے ہُو۔ عبداللہ کے قدم سیٹھ عبدالرزاق کی بات سُن کر بھی ٹس سے مَس نہ ہوئے سیٹھ عبدالرزاق کو عبداللہ کی اِس نافرمانی سے تشویش لاحق ہُونے لگی تھی ایکبارپھر سیٹھ عبدالرزاق نے عبداللہ کے کاندھوں کو جھنجوڑتے ہُوئے دھیمے لہجے میں کہا عبداللہ کیا میری بات سمجھ میں نہیں آرہی تُمہیں؟ عبداللہ نے نہایت غمگین لہجے میں مالک کو جواب دِیا میرے آقا میں جانتا ہُوں کہ ہر مسلمان کے دِل کی خُواہش ہوتی ہے کہ وہ ایکبار ضرور اِس دربار میں حاضر ہُو اور مجھے قُرآن مجید کا وہ فرمان بھی معلوم ہے کہ جسمیں گُنہگاروں کو بخشش کیلئے اپنے محبوب(صلی اللہ علیہ وسلم) کے قدموں میں حاضر ہوکر معافی چاہنے کا حُکم دِیا گیا ہے لیکن میرے آقا میں کروں کہ مجھ میں اِتنی ہمت نہیں کہ اپنی زندگی بھر کی گُناہوں کی پُوٹلی لیکر اپنے کریم آقا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے رُوبرو حاضر ہُوسکوں اِس لئے مجھے اپنے حُکم کی تعمیل سے قاصر سمجھتے ہوئے مُعاف فرما دیجئے وہ جانتے ہیں کہ اُنکا ایک غلام شرمندگی کے سبب اُن کے سامنے حاضر ہونے سے شرما رہا ہے اور مجھے یہ نہیئ یقین ہے کہ وہ میرے اِس عُذر کو قبول فرماتے ہُوئے میری شفاعت کا ذِمہ بھی اپنے مقدس ہاتھوں میں ضُرور لیں گے اور میں بھی اُنکے دربار سے خالی ہاتھ نہیں جاؤنگا۔ دِیارِ حَبیب (صلی اللہُ علیہ وسلم) سے حاجیوں کا قافِلہ رحمتیں برکتیں اور مغفرتیں سمیٹ کر واپِس اپنے وطن کیلئے رَواں دواں تھا مدینہ طیبہ سے روانہ ہوتے جو قافلہ جُدائی کے سبب مغموم اور بیقرار تھا اب معمول کے مُطابق آپس میں ہَنسی مذاق کرتا ہُوا آگے بڑھ رَہا تھا مگر عبداللہ کو جیسے چُپ سی لگ گئی تھی عبداللہ کی خِدمت گُزاری میں حالانکہ کوئی کَمی نہیں آئی تھی مگر اب عباللہ کی شوخیاں نہ جانے کہاں گُم ہو کر رِہ گئی تھی۔ تمام قافلہ والوں کو اگرچہ اَمیر قافلہ نے تاکید کی تھی کہ واپسی سے قبل سفر کی ضرورتوں کا مکمل سامان ساتھ رَکھا جائے مگر بُہت کَم لوگ تھے جِنہوںنے اَمیرِ قافلہ کی بات پر کا ن دَھرا تھا ۔ البتہ ایسا کوئی حاجی نہ تھا جِس نے تَحائف خَریدنے میں کوئی کَمی چُھوڑی ہُو۔ شائد یہی وجہ تھی کہ اکثر حَاجیوں کا زاد راہ نصف راستے میں ہی خَتم ہُونے لگا تھا۔ ایک دِن عبداللہ نے اپنے مالک کو خبر دِی کے کھانا پکانے کیلئےگھی موجود نہیں ہے اور قافِلہ میں بھی ایسا کوئی شخص موجود نہیں جو وافر مِقدار میں گھی رکھتا ہُو اگر آپ حُکم دیں تُو سادہ پانی سے ہی شوربہ تیار کرلوں۔ سیٹھ عبدالرزاق نے عبداللہ کو سمجھایا کہ جب تک قافِلہ ٹہرا ہُوا ہے تُم نزدیک کی بستی میں چلے جاؤ اور اُنہیں بتانا کہ ہم حاجی لوگ ہیں اور واپسی کے سفر میں ہیں وہ ضرور حاجیوں کا سُن کر تُمیں گھی دے دیں گے۔ اَگلے پڑاؤ پر عبداللہ نے اپنے مالک کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے پاس اب نمک بھی خَتم ہُوچُکا ہے۔ مالک نے پھر وہی جُملہ دُھرایا کہ اس بستی کے مکینوں کو جاکر بتاؤ کہ ہم حاجی ہیں کوئی تُمہیں نمک دینے میں تامل نہیں کرے گا۔ اور ایک دِن یہ قافِلہ واپس شہر کی حُدود میں داخل ہورہا تھا تمام حاجیوں کا اُنکے گھر والوں نے پر تپاک استقبال کیا اور جب سیٹھ عبدالرزاق اپنے گھرمیں داستانِ حرم سُنا رھا تھا تو تمام گھر کے افراد عقیدت و اِشتیاق سے یہ داستان سُن رہے تھے کبھی سُننے والوں کے چہرے وفود خُوشی سے چَمک چَمک جاتے کبھی حیران رِہ جاتے اور کبھی کسی موڑ پر سامعین کی آنکھیں ڈُبڈبا جاتی تھی لیکن کسی کی بھی نظر کونے میں اُداس بیٹھے عبداللہ کی جانب نہیں گئی۔ وقت گُزرتا رہا لیکن عبداللہ کے چہرے کا تبسم جیسے کہیں کُھو کر رِہ گیا تھا کُچھ عرصہ کے بعد کسی دوسرے شہر کے کُچھ تاجر سیٹھ عبدالرزاق کے گھرمہمان ٹہرے وہ لوگ اِس بات سے نابَلد تھے کہ سیٹھ عبدالرزاق ابھی چند ماہ پہلے حج کی سعادت حاصل کرچُکا ہے ۔ کافی دیر گُزرنے کے بعد بھی باتوں کاکوئی ایسا سلسلہ نہیں چَل سکا جِس کے ذریعے سیٹھ عبدالرزاق اپنے حج کی داستان اپنے کاروباری مہمانوں کے گُوش گُزار کر سکتا یہاں تک کہ کھانے کا وقت ہوگیا جب دستر خُوان بِچھایا جانے لگا تُو اچانک سیٹھ عبدالرزاق نےعبداللہ کو مُخاطِب کرتے ہُوئے کہا عبداللہ وہ دَستر خُوان کیوں نہیں بِچھاتے جِس پر ہم دورانِ حج کھانا کھایا کرتے تھے۔ اچانک کسی مہمان کی آواز بُلند ہوئی عبدالرزاق بھائی کیا آپ اِمسال حج پر گئے تھے؟ سیٹھ عبدالرزاق جیسے اِس موقع کی تلاش میں تھا فوراً تمام مہمانوں کو اپنے سفر کی روئیداد سُنانے لگا اور سلسلہ کھانے کے بعد تک جاری رَہا ہر ایک مِہمان اُسکے مقدر پر رَشک کر رہا تھا اور اُسے مبارکباد پیش کر رَہا تھا۔ شام کو مِہمانوں کے جانے کے بعد سیٹھ عبدالزاق نے عبداللہ کو تنہائی میں بُلا بھیجا جب عبداللہ خِدمت میں حاضر ہوگیا تو سیٹھ عبدالرزاق نے عبداللہ کو اپنے سامنے بیٹھنے کا اِشارہ کیا عبداللہ کے فرش نَشین ہوتے ہی سیٹھ عبدالرزاق نے عبداللہ کو مُخاطب کرتے ہُوئے کہا ،، کیا بات ہے عبداللہ میں دِیکھ رَہا ہُوں کہ جب سے تُم نے حج کی سعادت حاصِل کی ہے تُم یکسر خَاموش ہُوگئے ہُو وہ خُوشی جو ایک حاجی کے چہرے پر اِس سعادت کے حاصِل ہُوجانے کے باعِث ہونی چاہیئے وہ مجھے کبھی تُمہارے چہرے پہ نظر نہیں آئی؟ عبداللہ چند لمحے خاموش بیٹھا دیواروں کو گُھورتا رہَا۔ لیکن جب سیٹھ عبدالرزاق نے عبداللہ کو حاجی عبداللہ خاموش کیوں ہُو۔ کہہ کر مُخاطِب کیا تُو عبداللہ کی خَاموشی بھی ٹُوٹ ہی گئی۔ مالک مجھے حاجی کہہ کر مُخاطِب نہ کریں عبداللہ کی آواز میں التجا سے ذیادہ احتجاج کی جھلک نظر آرہی تھی۔ کیوں حاجی نہ کَہوں تُمہیں۔ کیا تُم نے میرے ساتھ حج کی سعادت حاصل نہیں کی؟ سیٹھ عبدالرزاق نے عبداللہ کو حیرت سے دیکھتے ہُوئے سُوال کیا۔ مالک ہم اپنا حج تُو بُہت پہلے گھی اور نمک کے عِوض فروخت کر چُکے ہیں۔عبداللہ جواب دیتے ہُوئے روہانسہ ہُوگیا تھا۔ کیا بِہکی بِہکی باتیں کر رہے ہو عبداللہ کہیں کِسی ہُوا کی جھپٹ کا شِکار تُو نہیں ہُوگئے تُم؟ عبداللہ : نہیں مالک میں کِسی فریب میں مُبتلا نہیں ہُوں اور نہ ہی میں کوئی دیوانہ ہُوں۔ مگر آپ شائد بھول گئے ہیں۔ سیٹھ عبدالزاق : کیا بُھول گیا ہُوں میں۔ جو کہنا ہے ذرا صاف صاف کہو۔ عبداللہ : کیا آپ بُھول گئے کہ حج سے واپس آتے ہُوئے سفر میں جب گھی خَتم ہونے پر آپ نے مُجھے حُکم دِیا تھا کہ بَستی والوں کو بتاؤں کہ ہم لوگ حاجی ہیں سُو اسطرح میں نے بستی والوں سے صرف اِتنا ہی کہا تھا کہ میرا مالک حج کا فرض اَدا کرنے کے بعد یہاں سے گُزر رَہا تھا کہ ہمارے سامان میں گھی خَتم ہوگیا آپ مہربانی کریں اور اِس حج کی لاج رکھتے ہُوئے ہمیں کُچھ گھی عنایت کردیں اور یوں آپ کے حج کے عوض میں مفت گھی لے آیا تھا۔ اور آپکے دوسرے حُکم کو پُورا کرنے کیلئے میں نے اَگلی بَستی والوں کو اپنے حج کے مُتعلق بتایا اور یُوں اپنا حج بھی داؤ پر لگا دِیا۔ میرے مالک میرے پاس تو صرف اِک حج کی دولت تھی جِسے میں نَمک کے بدلے دے آیا ہوں لیکن نجانے آپ کے پاس کتنے حج ہیں کہ ہر موقع پر آپ دوسروں کو یہ باور کرانے میں مصروف رِہتے ہیں کہ آپ حج کی سعادت حاصل کرچُکے ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے چُنانچہ جب آپ نے آج اپنے مہمانوں کو جتانے کیلئے مجھ سے کہا تھاکہ وہ دستر خُوان بِچھاؤں جس پر ہم دورانِ حج کھانا کھایا کرتے تھے تو میں یہی سوچ رہا تھا کہ میں نے تُو آپ کیساتھ صرف ایک ہی حج کیا تھا جِسے نمک کے عوض بیچ چُکا ہوں لیکن خبر نہیں آپ کے پاس کتنے حج ہیں جو روزانہ کئی کئی حج بیچے چلے جارہے ہیں۔
  8. السلامُ علیکم میرے نام سے اکثر لوگ پہلی مرتبہ میں دھوکہ کھا جاتے ہیں جی ہاں سچ کہتا ہُوں عشرت چونکہ کامن نام ہے جو مرد اور خواتین دونوں ہی استعمال کرتے ہیں ابتدا میں اکثر ایسا بھی ہُوا کہ فرینڈ شپ کی درخواست آتی خُوب محبت کی پینگیں بڑھتیں لیکن جب سامنے والے کو معلوم ہوتا کہ ہم وہ نہیں جو وہ ہمیں سمجھ رہے تھے تو ایسا بھاگتے کہ پلٹ کہ ہی نہیں آتے اُس پر مستزاد یہ کہ ہم اکثر اپنی عمربھی پُوری بتادیتے تھے کہ جناب چالیس کے آس پاس ہیں سُو جنس چھپانا ہمیں پسند نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اب ہَم آپکو نہیں بتائیں گے کہ ہماری عُمر چالیس سے بھی اُوپر جانے کیلئے پر تول رہی ہے ویسے ہماری قسمت اچھی ہے جو دُھول میں چلایا ہُوا لٹھ اکثر نشانے پر جالگتا ہے جس کے سبب لوگ ہمیں باذوق اور صاحب علم سمجھ بیٹھتے ہیں اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ تُک بندی کرتے ہُوئے کچھ لکھ لیا اور یار دوست اُسے شاعری مان لیتے ہیں پیشے کے حِساب سے تیلی ہیں کہ ابا کی وراثت سے ایک آئل فیکٹری ہمیں بھی مِل گئی بس آجکل عرب کے شیخوں کی طرح تیل سے لت پت ہیں دِل چاہتا ہے کہ لوگ ہمیں بھی ادیب یا شاعر کہیں اور جب وہ کہتے ہیں تو اندر ہی اندر بڑے خُوش ہوتے ہیں اگرچہ بظاہر عاجزی کے پیکر دِکھائی دیتے ہیں اب چونکہ کِسی کا دِل دُکھانا اچھی بات نہیں اس لئے اپنی تعریف سُن کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں مگر یار لوگ ہمیں دانا سمجھ لیتے ہیں اب آپ ہی کہیے اِس میں ہمارا کیا قصور ہے؟
  9. یہ 1984 کی بات ہے جب میں میٹرک کے ایگزام سے فارغ ہوکر اپنے مستقبل کی تیاری کر رھا تھا آنکھوں میں ہزار سپنے تھے دِل میں ترنگ تھی میں اکثر اپنے فیوچر کے بارے میں سوچا کرتا مجھے بس ایک ہی دُھن سوار تھی کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد لیکچرار بننا ہے مذہب سے قربت فقط اتنی تھی کہ پانچ وقت کی نماز پڑھ لیا کرتا تھا۔ اُنہی دِنوں ایک عجیب واقعہ پیش آیا اوربس زندگی بدل گئی میرے خاندان والوں کا عجب حال تھا بُغض اولیاءَاللہ میں حد سے بَڑھےہوئے تھے اولیاءَاللہ کو بُتوں سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ اور اُنہیں نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور فلمی گانوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تھا اور ہرہر معاملے میں مُتشدد تھے ایک رات میں عشاء کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکل رہا تھا کہ میری نظر مسجد کے دروازے میں کھڑے اپنے کلاس فیلو پر پڑی میں نے لپک کر اُسے خود سے بغلگیر کرلیا چُوں کے مسجد کے احترام سے ناواقف تھا اس لئے مسجد کے دروازے کے اندر ہی کلاس کے دیگر ساتھیوں کا حال احوال پوچھنا شروع کردیا بات سے بات نکلتی چلی گئی اور ہم نے نا سمجھی میں کسی فلم سے مُتعلق گفتگو شروع کردی ہماری گفتگو جاری تھی کہ کسی نے دھیرے سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا میں نے چونکتے ہوئے پلٹ کر دیکھا تو ایک نوجوان جس کے چہرے پہ داڑھی تھی اوروہ اپنے سر پہ ناسی رنگ کا عمامہ سَجائے کھڑا تھا، میں نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا جی؟ اُس نے نہایت شفقت بھرے لہجے میں کہا آپ کے قیمتی وقت میں سے چند لمحے درکار ہیں!میں نے کہا جی فرمایئے تب اُس نے کہا بھائی چند لمحوں کے لئے اگر مسجد میں ہی بیٹھ کر بات کرلیں تو بہتر ہوگا آپ کو بھی ثواب مِلے گا اور مجھے بھی میرا دوست تو مولوی نما نوجوان کو دیکھتے ہی یہ کہہ کر کھسک لیا کہ مجھے دیر ہورہی ہے اور گھر والے پریشان ہورہے ہونگے جبکہ میں شرمیلی طبیعت کی وجہ سے انکار نہ کرسکا اور دوبارہ مسجد میں داخل ہوگیا مسجد میں ایک کونے میں چند نوجوان قُرانی قاعدہ ہاتھ میں لئے سبق یاد کر رہے تھے وہ نوجوان مجھے لیکر ایک طرف بیٹھ گیا اور بڑے دھیمے لہجے میں سمجھانے لگا بھائی مسجد میں دُنیا کی بات کرنے سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں اور فلموں کی باتیں وہ بھی مسجد میں یہ تو اور بھی سخت گُناہ کا کام ہے ۔ میرا ندامت سے سر جُھک گیا تب اُنہوں نے میری حالت دیکھ کر کہا بھائی کوئی بات نہیں شاید آپ نے بھولے سے یہ گناہ کا کام کیا ہے اپنے رَب عزوجل سے معافی مانگ لیجئے گا وہ نہایت ہی کریم ہے مُعاف فرمادیگا اُس کے بعد اُنہوں نے مجھے تجوید سے قران پڑھنے کی دعوت دی جو میں نے کچھ پس وپیش کے بعد قبول کرلیمیں روزانہ عشا کی نماز کے بعد درس اور مدرسے میں بیٹھنے لگا جمعرات کو مدرسے کی چُھٹی ہوا کرتی کہ وہ سب ہفتہ وار اجتماع میں جایا کرتے تھے چند ہفتے تو میں اپنے اُستاد کو ٹالتا رہا لیکن ایک مرتبہ اُنہوں نے ایسے دلنشین انداز میں التجا کی کہ میں انکار نہ کرسکا اور اجتماع میں جانے کی حامی بھر لی اور جب میں پہلی مرتبہ اجتماع میں گیا تو میری زندگی میں انقلاب برپا ہوگا اصلاحی بیانات سُن کر ساری پلاننگ جو میں نے فیوچر کے لئے بنا رکھی تھیں ریت کی دیوار کی طرح ڈھے گیئںلیکن جب اجتماع سے واپس گھر پہنچا تو ابو نے ڈانٹ ڈپت سے میری خوب تواضع کی جب میں نے اجتماع کا بتایا تو ذیادہ سیخ پا ہوگئے اور سمجھانے لگے کہ مولویوں کے چکر میں پڑوگے تو بہت پیچھے رہ جاؤ گے ابا پَکے کاروباری تھے دین کے معاملے میں میری طرح کورے تھے اُس رات تو میری جان چھوٹ گئی لیکن جلد ہی بڑے ابا کا بُلاوہ آگیا اور مجھے سمجھایا گیا بیٹا یہ ناسی پگڑی والوں کے چکر میں تُم کب سے آگئے بیٹا یہ لوگ اچھے نہیں ہیں شرک کی دعوت دیتے ہیں مزاروں پہ سجدے کرتے ہیں نبی کو خُدا کے برابر سمجھتے ہیں اور اِنہوں نے اپنا نیا دین بنایا ہوا ہے اسلئے خبردار جو آج کے بعد کبھی اِن کیساتھ بھی نظر آئے میں اپنے تمام طایا بلخصوص بڑے ابو کی بہت عزت کیا کرتا تھا اُن کے مُنہ سے یہ انکشافات سُن کر بھونچکا سا ہوگیا قصہ مُختصر اُس دَن کے بعد میں نے اُس مسجد اور مدرسہ میں جانا چُھوڑ دیا ایک دَن سَرِ راہ اُسی نوجوان سے مُلاقات ہوگئی۔ اُنہوں نے جب مدرسے نہ آنے کا سبب پوچھا تو میں نے طایا ابو والی تمام باتیں دُھرا دیں جِنہیں وہ بَڑے تَحمُل سے سُنتے رہے اور میری گُفتگو خَتم ہونے کے بعد گویا ہوئے اقبال بھائی آپ ہمارے ساتھ کافی دِن رہے ہیں کیا آپ نے اِن الزامات کو جو آپکے طایا ابو نے ہم پر لگائے ہیں اُن میں سے کوئی بھی بات ہم میں پائی میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ آپ کے طایا ابو جھوٹ بُول رہے ہیں مگر اتنا ضرور کہونگا کہ وہ دعوتِ اسلامی کے مُتعلق کچھ نہیں جانتے بھائی دعوتِ اسلامی تو اُسی دعوت کو عام کررہی ہے جِسے ہمارے پیارے آقا علیہ السلام نے بڑی محنت سے لوگوں تک پہنچایا صحابہ کرام رضوانُ اللہ علیہم اجمعین نے پھیلایا اور بُزرگان دین نے جسکی آبیاری اپنے پسینے اور خون سے کی مجھے آپکی جانب سے پہلے ہی اندیشہ تھا کہ آپکے خاندان والے آپکو ضرور بھڑکایئں گے میں تو صرف دُعا ہی کرسکتا ہوں کہ اللہ کریم آپ کے لئے منزل کی تلاش آسان فرمادے بس اتنی استدعا ضرور کرونگا کہ آپ مجھ سے رابطہ نہ توڑیں جب تک کہ آپ حقیقت کو نہ پالیں اگر آپ مُناسب سمجھیں تو کل میرے پاس تشریف لایئں میں آپکو چند کتابیں دونگا جنہیں پڑھ کر آپ کے لئے منزل کا انتخاب آسان ضرور ہوجائے گا اُس نوجوان کی باتوں میں ایسا اخلاص تھا کہ باوجود اِس کہ مجھے بڑوں کی طرف سے سختی کیساتھ سمجھایا گیا تھا کہ دعوتِ اسلامی والوں سے رابطہ نہ رَکھوں میرے قدم خود بخود اُسی مسجد کی جانب اُٹھتے چلے گئے جہاں میری پہلی ملاقات اُس اسلامی بھائی سے ہوئی تھی مسجد میں مجھے صرف ایک کتابچہ پیش کیا گیا جسکا نام تھا کنزالایمان اور دیگر تراجم کا تقابلی جائزہ یہ ایک چھوٹا سا کتابچہ تھا جس میں امام احمد رضا (علیہ الرحمہ) اور دیگر علماء کے تراجم کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا تھا بِلا مُبالغہ صرف اس ایک کتابچہ نے مجھ پر آشکارہ کردیا کہ جو لوگ قران کے ترجمہ میں اسقدر احتیاط پیش نظر رکھیں کہ کوئی دوسرا ترجمہ اُسکا مُقابل نہ بن سکے وہ لوگ غلط نہیں ہوسکتے چونکہ میرا خاندان والد صاحب اور ایک چچا کو چھوڑ کہ انتہائی مذہبی تھا اس لئے اچھی خاصی دینی کُتب موجود تھیں اب میں دونوں طریفین کی کُتب پڑھ رھا تھا البتہ فرق صرف اتنا تھاکہ دعوت اسلامی والوں کی کتابیں صرف مسجد میں ہی پڑھ سکتا تھا چند ماہ میں ہی مجھے مطالعے سے اندازہ ہوگیا کہ جِنہیں بدعتی اور بے دین کہا جارہا ہے حقیقت میں وہی لوگ اعتدال پسند ، عُشاقِ مصطفیٰ ، اور سُنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی کرنے والے ہیں اور مجھے کونسی منزل کا انتخاب کرنا ہے میں جان چُکا تھا چند دن کے بعد ہی امیرِ اھلسُنت مدظلہُ العالی میرے شہر تشریف لائے اور اُن کے چہرے پہ نظر پڑتے ہی دِل نے کہا واللہ یہ چہرہ کسی اللہ کے ولیء کامل کا ہی ہوسکتا تھا میں نے کُھل کر دعوتِ اسلامی کا ساتھ دینے کا خود سے پیمان کیا اور اُسکے بعد میرے خاندان والوں کے لئے جیسے میں دُنیا میں نہ رھا پہلے پہلے تو مجھے صرف سمجھایا گیا بعد میں شوشل بائیکاٹ کردیا گیا کبھی سر سے عمامے کو نُوچ کہ پھینکا گیا تو کبھی شادی میں بُھلا دیا گیا کبھی محفل میں بیگانہ بنایا گیا تو کبھی خلوت میں ڈرایا گیا۔یعنی ہر وہ سِتم کیا گیا جس سے میرے دِل کو زخم پہنچے جب میں کبھی ذیادہ دِل برداشتہ ہوجاتا تو امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی کی بارگاہ میں حاضر ہوجاتا اُس وقت چونکہ دعوتِ اسلامی کا کام ابتدائی تھا اسلئے کبھی نشست مُیسر آجاتی تو کبھی امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی کیساتھ عام بسوں میں سفر کا موقع مِل جاتا کبھی آپ اپنے کاشانہء اقدس پہ لیجا کر ساتھ کھانا کھلاتے تو کبھی عام دِنوں میں ساتھ افطار پہ بِٹھالیتے اُس وقت جس فیض کا دریا امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی کی ذات سے جاری تھا اور جسقدر آسانی سے ملاقات کے مواقع مُیسر تھے آج اُسکا تصور بھی مُحال ہے۔ ایک مرتبہ میرے والد اس نیت کیساتھ کراچی پہنچے کہ مولانا سے لڑوں گا کہ آپ نے ہمارے بچے کو بِگاڑ دیا اچھا بھلا میرا کاروبار میں ہاتھ بٹاتا تھا آپ نے مولوی بنادیا لیکن جب امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی سے مُلاقات ہوئی آپ نے میرے والد کو گھر چلنے کی دعوت دی گھر لیجا کر اپنے ساتھ کھانا کھلایا میرے ابو اُس درمیان گھر کی سادگی اور امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی کے آداب طعام اور ادبِ رزق اور آپکے اخلاق سے اسقدر مُتاثر ہوئے کہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی نے میرے والد سے کراچی آمد کا سبب پوچھا تو فقط اتنا کہہ سکے ،، مولانا میں تو آپ سے اپنا ایک بیٹا واپس لینے آیا تھا مگر آپ سے ملنے کے بعد دِل چاہتا ہے سارے بیٹے آپ ہی کو دے دوں آج الحمدُللہ میری جو بھی پہچان ہے سب امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی کے فیضان نظر کی مرہونِ مِنت ہے القصہ مختصر دعوت اسلامی اور امیر اھلسُنت مُدظلہُ العالی کے میری فیملی پر اسقدر احسانات ہیں جنکا شُکریہ میں تا زیست ادا نہیں کرپاوں گا اسلئے یہ چھوٹی سی نظم پیش کی ہے شُکریہ اے دعوتِ اسلامی تیرا شُکریہ آکہ فِتنوں سے ہمیں تونے بچایا شُکریہ ظُلمتوں کی رات تھی اِک اِک دیا تھا بُجھ رہا تُونے فانوسِ رضا آکہ جلایا شُکریہ دُور ہوتے جارہے تھے سُنتوں سے اُمتی سُنتوں کی راہ پہ تونے چلایا شُکریہ تھے لباسِ خضر میں رہزن یہاں جلوہ نُما تونے سیدھا راستہ ہم کو دکھایا شُکریہ کاش عشرت وارثی محشر میں جب بیدار ہو ساتھ ہو عطار کے اِنکا نِکما شُکریہ
  10. محترم قارئین السلامُ علیکم زندگی میں کُچھ واقعات ایسے پیش آتے ہیں جو تمام زندگی بُھلائے نہیں جاسکتے میری زندگی میں ایسے لاتعداد واقعات موجود ہیں جنہیں آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ آپکا اور میرا ایسا رشتہ ہے جو وقت گُزرنے کیساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جارہا ہے اور آپ کا حق ہے کہ آپ بھی اِن عجیب وغریب واقعات کو جانیں اور اُن رازوں کو سمجھیں جو قدرت ہیمں وقتاً فوقتاً سمجھانے کی کوشش کرتی ہے یہ سینکڑوں واقعات ہیں جِن میں سے چند آپ سے اپنے کالموں کے ذریعے بیان کر چُکا ہوں۔ آج بھی ایک ایسا ہی عجیب وغریب واقعہ آپکی خدمت میں پیش کر رہا ہوں جسکو پڑھ کر شائد آپ محو حیرت رہ جائیں گے۔ یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب میں نے میٹرک کا امتحان دیا تھا اور رزلٹ کا انتظار کر رہا تھا گرمیوں کے دِن تھے اس لئے راتیں چھتوں پر بسر کی جاتی تھیں اور جب صبح ٹھنڈک کا احساس شدید ہوجاتا تو اپنے کمروں میں آجایا کرتے تھے میرپور خاص کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ دِن چاہے کِتنا ہی گرم ہو راتیں عموماً ٹھنڈک کا احساس دیتی ہیں اُس رات بھی ابو ڈھیر سارے آم لائے تھے جِنہیں برف اور پانی کیساتھ ٹب میں ٹھنڈا کرتے ہوئے ابو نے مذاقاً مجھ سے یہ جُملہ کہہ دیا، یار اب تو مونچھیں بھی نِکل آئیں ہیں اور میٹرک بھی کرلیا ہے میرے خیال میں تو تُمہیں کوئی کاروبار شروع کردینا چاہیے۔ یہ بات کہنے کے بعد ابو تو آم نوش کرنے لگے جب کہ میں پرسنل بزنس کے متعلق سوچنے لگا اور مجھے کیا کاروبار کرنا چاہیے اسی سلسلے میں پروگرام بنانے لگا، اور اِسی کیفیت میں کجھ دیر بعد نیند کی وادیوں میں کھو گیا صبح فجر کی نماز کے بعد میں نے ابو کی چابیوں میں سے ایک چابی جو ایک بند دوکان کی تھی جس میں اسٹاک سامان رکھا جاتا تھا خاموشی سے نِکالی اور اُس دُکان کی صفائی سُتھرائی کرنے کے بعد دُکان کا لُک دینے لگا جس میں دو ایک گھنٹے کی کوشش کے بعد میں کامیاب بھی ہوگیا جب اَبو مارکیٹ پُہنچے تو اُنہیں حیرت کا جھٹکا لگا کہ میں ایک گودام کو دُکان کی شِکل دے چُکا تھا ابو نے ماجرا دریافت کیا تو میں نے کہہ دِیا کہ آپ ہی نے تو رات کو کہا تھا کہ میں جوان ہوچُکا ہوں اور مجھے اپنا بِزنس کرنا چاہیے سو میں نے یہ دوکان کھول لی ابو نے مجھے کافی سمجھایا کہ وہ صرف ایک مذاق تھا لیکن میری آنکھوں میں نَمی دیکھ کر اور مارکیٹ میں کہیں میرا مذاق نہ بنے ابو اُس وقت خاموش ہوگئے اور وہاں سے چلے گئے لیکن مجھے اُن کے رویے سے ظاہر ہوگیا تھا کہ ابو گھر پر ضرور اس بات پر میری خبر لیں گے لہٰذا شام تک وہاں بیٹھ کر میں جلدی گھر چلا گیا اور اماں کو اپنے حق میں رائے دینے کیلئے راضی کرنے لگا اماں چُوں کہ مجھ سے بُہت پیار کرتی تھیں۔ اسلیئے وہ خُود بھی راضی ہو گئیں اور ابو کو بھی کسی نہ کسی طرح راضی کر ہی لیا۔ اب میں نے باقاعدہ اُس دُکان پر جانا شروع کردیا لیکن چند ماہ کی کافی کوششوں کے باوجود بھی وہ دُکان نہیں چل پائی جس کی وجہ سے میں دلبرداشتہ ہونے لگا اور میں سوچنے لگا کہ دُکان کے بجائے اپنی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے کافی دِن میں اِنہی سوچوں میں گرفتار رہا، کہ ایک دِن عجیب واقعہ ہوگیا جس نے میری سوچ کو بدل دیا۔ ہُوا یوں کہ ایک دِن ابو میری دُکان پر آئے اور مجھے کہنے لگے اقبال ایک کام کردو جب تک میں تُمہاری دُکان پر بیٹھ جاتا ہوں، میں خوشی خُوشی راضی ہوگیا، ابو نے کہا فُلاں کاٹن فیکٹری چلے جاؤ اور وہاں سے کچھ سیمپل لے آؤ میں ابو کو اپنی دُکان پر چھوڑ کر موٹر بائیک تک پُہنچا تو مجھے یاد آیا کہ موٹر بائیک کی چابی تو دُکان پہ ہی رہ گئی ہے چُنانچہ واپس دُکان پر آیا تو دیکھا کہ بڑے بھائی ابو سے کہہ رہے تھے اقبال سارا دِن دُکان پر فارغ بیٹھا رہتا ہے اگر میرے ساتھ ہوتا تو میرا ہی کچھ ہاتھ بٹاتا آپ اِس کی دُکان بند کروائیں تاکہ یہ میرا کچھ ہاتھ بٹا دیا کرے میں چُوں کہ اُنکی پُشت کی جانب تھا اِس لئے اُنہیں میری آمد کی خبر نہ ہوسکی میں ابو کے جواب کیلئے متجسس تھا اس لئے خاموشی سے کھڑا رہا، ابو نے جو جواب دیا اُس نے میری ہمت بالکل توڑ کے رکھ دی، ابو میرے بڑے بھائی سے کہہ رہے تھے اقبال سے دُکان چل تو رہی نہیں ہے لیکن اگر میں منع کرونگا تو اپنی امیّ سے سفارش کروائے گا اسکو اسکے حال پر چھوڑ دو یہ خُود بیزار ہوکر دُکان چھوڑ دے گا، اس کے بعد ابو اور بڑے بھائی کیا باتیں کرتے رہے مجھے کُچھ خبر نہیں کیونکہ میرے جسم میں اتنی ہمت ہی نہیں رہی تھی وہ کھڑا رہ سکتا کسی طرح خُود کو سنبھالا اور وہاں سے چل دیا ایک بچے کو بھیج کر موٹر بائیک کی چابی منگوائی اور کاٹن فیکٹری کی جانب روانہ ہوگیا۔ کاٹن فیکٹری سے نکلتے ہوئے پھر آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں فیکٹری کی مین گیٹ کیساتھ اندر ایک مزار مُبارک بنا ہوا تھا جس پر حضرت رحمت علی شاہ بُخاری (رحمتہ اللہِ علیہ) کا نام کُنندہ تھا اُس کیساتھ ایک نیم کا درخت تھا جِسکے سائے تلے ایک واٹر ہینڈ پمپ لگا ہوا تھا میں نے اپنی آنکھوں کو صاف کیا اور اُس ھینڈ پمپ کو چِلا کر ہاتھ مُنہ دُھونے لگا۔ ہاتھ مُنہ دُھو کر خُشک کئے تو یہ سوچ کر کہ میرے والد بھی نہیں چاہتے کہ میں کامیاب ہوجاؤں ایک بار پھر آنکھیں بھر آئیں میں وہیں مزار مُبارک کے پاس اُس درخت کے سائے میں بیٹھ کر سسکنے لگا کچھ دیر بعد میں نارمل ہوگیا اور وہاں سے اُٹھ کر اپنی دُکان پر چلا آیا۔ اگرچہ اس واقعہ کا ذکر میں نے اپنی والدہ تک سے نہیں کیا لیکن دِل ایسا غمگیں رہنے لگا مانو جیسے کوئی بھاری پتھر ہر وقت سینے پر پڑا ہو جب جُمعتہُ المُبارک کا دِن آیا تو میں جُمعہ کی نماز پڑھ کر اپنے کزن جو اُس وقت میرا واحد دوست بھی ہُوا کرتا تھا اور جمعہ کا دِن میں اپنے اس خالہ زاد کے ساتھ ہی گُزارنا پسند کیا کرتا تھا میں اپنی سایئکل پہ سُوار چلا جارہا تھا شہر کے درمیان میں ریلوے پھاٹک تھا جب میں پھاٹک کراس کر کے اُسی کاٹن فیکٹری کے نزدیک پُہنچا تو یکا یک ایک نحیف ونراز عُمر رسیدہ بُزرگ نے مجھے ہاتھ کے اِشارے سے رُکنے کا اِشارہ دِیا مجھے اگرچہ بُہت جلدی تھی کہ مجھے معلوم تھا کہ میرے خالہ زاد بھائی نے میرے اِنتظار میں دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا ہوگا اور مجھے اُس دِن ویسے بھی دِیر ہوگئی تھی لیکن اماں نے ہمیشہ بُزرگوں کا احترام کرنا سِکھایا تھا سو میں نے چند قدم آگے اپنی سائیکل کو روک لیا وہ بُزرگ پلٹ کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے بیٹا مجھے ریلوے اسٹیشن جانا ہے کیا مجھے گیٹ تک پُہنچا دو گے اب مزے کی بات یہ تھی صرف پٹری عبور کر کے وہ صاحب اسٹیشن پر پُہنچ سکتے تھے جب کہ وہ چاہ رہے تھے کہ میں ایک طویل سفر طے کر کے اُنکو اسٹیشن کے گیٹ پر پُہنچاؤں۔ پہلے تو میرے دِل میں آیا کہ مُعذرت کرلوں لیکن پھر نجانے کس خیال کے تحت میں نے اپنی سایئکل کو واپس موڑ لیا اور اُن صاحب سے پیچھے بیٹھنے کی استدعا کی جب سائیکل پر کچھ لمحے تک وزن محسوس نہیں ہُوا تو پیچھے مُڑ کر دیکھا تو معلوم ہُوا کہ وہ صاحب تو نجانے کب پِچھلے اسٹینڈ پر بیٹھ بھی چُکے تھے اُس دِن ہُوا کے جھکڑ چل رہے تھے اور سایئکل چلانے میں دُشواری پیش آرہی تھی لیکن اُن صاحب کے بیٹھنے کے بعد تو گویا سائیکل میں پر لگ گئے ہُوں بہرحال اسٹیشن پر وہ صاحب جیسے ہی اُترے میں نے سائیکل کو یو ٹرن دیا اور بھاگنے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ اُن صاحب نے چِلا کر آواز دی برخوردار! ذرا رُکنا تو سہی مجھے جِسقدر جلدی تھی وہ صاحب مجھے اُتنا ہی لیٹ کئے جانے کے درپے تھے۔ میں نے عرض کیا جناب اب کیا ہے؟ وہ گویا میرے اضطراب سے لُطف اندوز ہورہے تھے کہنے لگے برخوردار دو روپے کا نوٹ ہے جیب میں؟ میں نے سوچا لو ایک تو نیکی کی اِنکے پچاس پیسے جو پک اپ والے کو دینے پڑتے بچا دیئے اب دو روپیہ اور اِنہیں دو، میں نے جُھلا کر جیب میں ہاتھ ڈالا تو دو روپیہ کا نوٹ خود بیقرار ہو کر ہاتھ میں آگیا میں نے دو روپیہ کا وہ نوٹ اُنکے ہاتھ پر رکھ کر جونہی پیڈل مارا وہ پھر چِلائے میاں رُکو تو سہی کیا قلم ہے جیب میں؟ مجھے اب غُصہ آنے لگا تھا مجھے ایسا محسوس ہونے لگا تھا جیسے وہ بُزرگ میرے ساتھ کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔ میرے اِنکار پر اُنہوں نے اپنی جیب سے قلم نِکالا اور نوٹ پر کُچھ لکھنے لگے اُس کے بعد اُنہوں نے وہ نوٹ مجھے واپس کردیا اور کہنے لگے برخوردار یہ لو اپنا نُوٹ اور اِسے پیسوں کی دراز میں رکھ دِینا مجھے اُنکی حرکتیں عجیب سی محسوس ہورہی تھیں کبھی پیسے مانگ رہے تھے اور اب اپنا آٹو گراف خود ہی نوٹ پر ڈال کر یوں واپس کر رہے ہیں جیسے مُجھ پر اِحسان کر رہے ہوں میں نے وہ نوٹ اپنی جیب میں رکھا تو کہنے لگے میاں ذرا ذرا سی بات پر رویا نہیں کرتے ویسے تُم ہمیں پسند آئے ہو۔ میرا ذہن اپنے کزن میں اُلجھا ہُوا تھا یہ سب کچھ اُس وقت میرے لئے ہرگِز اہم نہیں تھا بلکہ میں جلد از جلد اپنے کزن سے مِلنے کیلئے بیقرارتھا لہٰذا گَردن گھماتے ہوئے خُدا حافظ کہا اور سائیکل کی اسپیڈ بڑھانے لگا مجھے خُوف تھا وہ صاحب کہیں پھر پیچھے سے نہ پُکار لیں لیکن اُنہوں نے مجھے پھر کوئی صدا نہیں لگائی البتہ راستہ بھر مجھے اُنکی ذومعنی مُسکراہٹ کا مطلب سمجھ نہیں آسکا۔ جب میں اپنے کزن کے پاس پُہنچا تو اُس نے شکایت بھرے لہجے میں تاخیر کا سبب معلوم کیا؟ میں اُسے تمام واقعہ تفصیل سے سُنانے لگا کہ کس طرح ایک بوڑھے شخص کی مدد کے چکر میں آج مُجھے تاخیر ہوگئی میں یہ واقعہ اِتنے اِنہماک سے سُنا رہا تھا کہ مجھے خبر ہی نہ ہوسکی کہ کب میرے کزن کے ابو بھی وہاں آموجود ہوئے نوٹ پر آٹو گراف والی بات سُن کر وہ خاموش نہ رہ سکے اور مجھے مُخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے بیٹا وہ نوٹ فوراً پھاڑ کر پھینک دو، میں نے حیرت سے استفسار کیا مگر کیوں؟ وہ کہنے لگے تم ابھی بَچّے ہو نہیں سمجھ سکتے کہ کس طرح ٹھگ ٹائپ کے لوگ اپنے نِشان ذدہ نُوٹ بُھولے بَھالے لوگوں کی جیبوں اور پیسوں کی دراز میں داخِل کردیتے ہیں اور پھر کوئی الزام لگا کر اپنے نوٹ کی نِشانی بتا کر لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں، مجھے اُنکی کوئی بات پَلّے نہیں پڑی تو وہ کہنے لگے اگر یہ نوٹ تُم اپنی پیسوں کی دراز میں رکھو گے اور اُس شخص نے پولیس میں یہ ر پورٹ لِکھوا دی کہ تُم نے اُس کی رقم چوری کی ہے اور اُسکی بتائی ہوئی نِشانی والا نوٹ پولیس نے تُمہاری دراز سے برآمد کرلیا تو سمجھو سال دو سال کیلئے جیل پُہنچ جاؤ گے۔ وہ تو تجویز دیکر چلے گئے لیکن میرے چہرے پر ۱۲ بج گئے یہ واقعی پریشانی والی بات تھی اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آگیا تو میں اور میرے گھر والے کِسی کو مُنہ دِکھانے کے قابل نہیں رہیں گے لیکن نُوٹ پھاڑ کے پھینکنے والی تجویز مجھے قطعی پسند نہیں آئی کیونکہ یہ رقم میری ذاتی کمائی تھی میں نے سوچا شام کو گھر کی طرف جاتے ہوئے اِس رقم سے پیٹ بھر کر گول گَپّے کھاؤں گا تاخیر سے آنے کی سزا کزن نے اسطرح دِی کہ اُس جُمعہ کو کافی دیر تک اُس نے مجھے واپس نہ آنے دِیا واپسی پر چُونکہ رات کا اندھیرا پھیل چُکا تھا لِہٰذا گول گَپے والا مجھے کہیں نظر نہیں آیا۔ گھر پُہنچتے ہی اَمّی نے خَفگی کا اظہار کرتے ہُوئے تاخیر کا سبب معلوم کیا تو تمام دِن کی رُوداد اَمّی کو سُنانے لگا اُنہوں نے بھی اُس نُوٹ میں دِلچسپی کا اِظہار کیا اور اُس نُوٹ کی بابت معلوم کیا تو میں نے اَمی کو وہ نُوٹ دیتے ہوئے کہا اَمّی آپ خود اپنے ہاتھ سے اِس نُوٹ کو پھاڑ ڈالیں اَمّی نے اُس نُوٹ کو غور سے دیکھا اور مجھ سے دریافت کرنے لگی تُم شکل سے دُکاندار کم اور طالب علم زیادہ لگتے ہو کیا تُم نے اُنہیں بتایا تھا کہ تُم دُکان پر بیٹھتے ہو؟ میں نے اپنا سر نَفی میں گُھمایا تو اُنہوں نے مجھے وہ نُوٹ واپس دیتے ہوئے کہا اِسے احتیاط سے جیب میں سنبھال کر رکھ لو اور اِسے صبح جاتے ہی اپنے پیسوں والی دراز میں چَسپاں کردینا۔ میں حیرت سے اَمّی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا اور اگر وہ بڑے میاں پولیس کو لے آئے تُو؟ اَمِّی نے میری ہِمت بندھاتے ہوئے کہا ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا میرا دِل گواہی دے رہا ہے کہ تُمہارے دِن پھرنے والے ہیں، بس وہی کرو جو میں تُم سے کہہ رہی ہوں مجھے اَمِّی کا یہ فیصلہ اگرچہ مُناسب نہیں لگا لیکن بہرحال مجھے اَمِّی کے فیصلے کو ہر ایک فیصلے پر اہمیت دینی ہی تھی کیونکہ وہی تو تھیں جو مجھے ہمیشہ حوصلہ دِیا کرتی تھیں اور اِسطرح ہَفتہ کی صُبح میں نے دُکان کھولتے ہی جو سب سے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ اُس نوٹ کو ایک سادہ کاغذ پر چسپاں کیا اور کاغذ کے پیچھے نوٹ کو چُھپایا اور اُس کاغذ کو سلوشن ٹیپ کی مدد سے دراز کی سایڈ میں چُپکا دِیا۔ دراصل اِک خوف تھا جو میرے مَن میں جگہ بنا چُکا تھا۔ اِس لئے احتیاطًً میں نے یہ طریقہ اپنایا تھا۔ مُجھے دُکان کھولے بَمُشکل ایک گَھنٹہ ہی ہُوا ہوگا کہ ایک شَخص جس کے چہرے پہ چیچک کے پُرانے نَشان تھے میری دُکان پر آیا اور مجھ سے مُختلف آیٹمز کی قیمتیں دریافت کرنے لگا میں بڑی خوش اخلاقی سے دَام بتاتا رہا وہ کہنے لگا کیا آج ہی دُکان کھولی ہے؟ میں نے جواباً بتایا کہ نہیں دُکان کو تو کئی ماہ ہوگئے، وہ حیرت کا اظہار کرنے لگا کہ میں نے یہ دُکان پہلے کیوں نہیں دیکھی! بہرحال اُسنے اپنی جیب سے ایک فہرست نکالی اور مجھے سامان لَکھوانے لگا اور کچھ دیر ہی میں اُس نے اسقدر بڑا آرڈر مجھے لِکھوا دِیا کہ مجھے اُس کی دماغی صحت پر شُبہ ہونے لگا کیونکہ یہ میری دُکان میں موجود 25 فی صد سامان کی لسٹ تھی اور اِسکا اَماؤنٹ میری دُکان کی 10 دِن کی سیل کے برابر تھا مجھے شُبہ ہُوا کہ شائد یہ میرے ساتھ کوئی مذاق کیا جارہا ہے لہٰذا میں نے اُس شخص کو اِس تمام سامان کی قیمت بتائی اور کچھ ایڈوانس رقم کا مُطالبہ کیا، وہ شخص یہ کہتا ہُوا دُکان سے روانہ ہوگیا کہ آپ تمام سامان کی پیکنگ کرلیں اور بِل تیار رکھیے گا میں دو گھنٹے بعد آکر سامان لیجاؤں گا اور آپکو پیمنٹ بھی تبھی کردونگا مجھے ابھی مارکیٹ سے مزید خریداری بھی کرنی ہے، میرا شک اب یقین میں بدل گیا کہ یہ شخص ضرور مجھ سے مذاق کر رہا ہے ورنہ مجھے کُچھ ایڈوانس رقم ضرور دے کر جاتا۔ اُس شخص کے جاتے ہی مزید چند نئے کسٹُمر دُکان پر آئے اور میں اُن میں مصروف ہوگیا، تقریباً دو گھنٹے کے بعد وہی شخص پھر دُکان پر آدھمکا اور مجھ سے اپنا آرڈر طلب کیا تو میرے ماتھے پر پسینہ آگیا، مجھے پریشان دیکھ کر اُس نے استفسار کیا آپ نے میرا سامان پیک کردیا؟ میں نے جب اُسے بتایا کہ اُسکا سامان ابھی تک نہیں نِکالا گیا ہے تو وہ پریشان ہوگیا اور کہنے لگا میں تو ڈاٹسن بھی لے آیا ہوں اور مارکیٹ سے فارغ بھی ہوچُکا ہوں آخر آپ نے میرے ساتھ پہلی مرتبہ میں ہی ایسا سلوک کیوں کیا؟ میں نے اُسے سچ سچ بتادیا کہ میں نے آج تک اِتنا بڑا آرڈر بُک نہیں کیا ہے اِس وجہ سے مجھے لگا کہ آپ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔ وہ شائد میری سچائی سے مُتاثر ہُوا تھا اُس نے مجھ سے پُوچھا آپ کم از کم کتنے وقت میں تمام سامان پیک کرسکتے ہیں؟ میں نے کہا بُہت جلدی بھی کروں تو 45 منٹ تو لگ ہی جائیں گے۔ اُس نے پرس نکالا اور مکمل رقم میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کوشش کرنا اِس سے زیادہ وقت نہ لگے میں جب تک ڈرائیور کو چائے پِلا لاتا ہوں، میں نے کہا کہ چائے میں پِلوا دِیتا ہوں مگر وہ نہیں مانا کہ اسطرح آپ کا دھیان مہمانی میں رہے گا آپ صرف کام میں دھیان رکھیں میں نے اُس کے جانے کے بعد سب سے پہلے اُن نوٹوں کی جانچ کی اور پھر سامان کی پیکنگ میں مصروف ہوگیا، تمام سامان 45 منٹ سے قبل ہی پیک کرلیا گیا وہ شخص45 منٹ بعد آیا اور اپنا سامان لے گیا اور جاتے جاتے کہہ گیا میں دو چار دِن بعد پھر آؤں گا اَ ب مجھ پر بھروسہ کرنا میں اُسکی اِس بات سے کچھ شرمندہ ہوگیا۔ اُس شخص کے جانے کے بعد پھر شام تک دُکان پر ایسا رَش رہا کہ ایک گاہک جاتا نہیں تھا کہ دوسرا آموجود ہوتا تھا اڑوس پڑوس کے دُکاندار بھی محوِ حیرت تھے کہ آج یہ ہو کیا رہا ہے شام تک میرا مارے تھکن کے بُرا حال ہوگیا مغرب سے قبل ہی میں نے دُکان سمیٹنا شروع کردی جب رقم گِننا شروع کی تو حیرت زدہ رہ گیا یہ رقم میری ایک ماہ کی سیل سے بھی زیادہ تھی دُکان تقریباً خالی ہوچُکی تھی میں نے بڑے بھائی کو جب اپنی سیل کی رقم دی تو وہ بھی حیرت کرنے لگے میں نے اُنہیں بتایا کہ دُکان تقریباً خالی ہوچُکی ہے مجھے صبح دُکان کے لئے سامان چاہیے آپ انتظام کردیجئے گا، اور اُسکے بعد سیدھا گھر چلا آیا، گھر میں داخل ہوتے ہی اَمِیّ نے سوال کیا اقبال آج کیسا دِن گُزرا میں اُنکو تمام دِن کی روداد سُنانے لگا، وہ بُہت خُوش تھیں۔ لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ آج کا دِن واقعی میرے لئے لکی تھا لیکن ہر دِن تو ایسا نہیں ہوسکتا جب میں نے اِس خدشے کا اظہار اپنی اَمِیّ سے کیا تو وہ کہنے لگی اَب تُمہارا ہر دِن لکی ہوگا بس اُس نوٹ کی حِفاظت کرنا۔ لیکن مجھے اب بھی نہیں لگتا تھا کہ یہ سب صرف ایک نوٹ کی وجہ سے ہورہا ہے لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ جب تک میں اُس نُوٹ کی حِفاظت کرسکا قسمت مجھ پر مہربان رہی لیکن دوسال بعد اپنی ایک اپنی دراز بدلنے کے چکر میں اُس نُوٹ کو بھول گیا چند دِن میں جب سیل ٹوٹنے لگی تو مجھے اُس نُوٹ کا خیال آیا جب اسٹور میں اُس دراز کو تلاش کرنے کے بعد دِیکھا تو اُس میں وہ نُوٹ موجود نہیں تھا شائد کسی مُلازم نے اُسے پالیا تھا۔ یہ دُکان تقریباً دو سال بڑے آب و تاب کیساتھ میں نے چلائی پھر ابو فیکٹری پر بُلانے لگے تو میں نے اُس شاپ کو خیرباد کہا اور ابو کیساتھ فیکٹری پر جانے لگا چند ماہ کے بعد مجھے اَمِّی نے ایک عجیب بات بتائی کہ ایک بُزرگ جنکی عُمر ایک صدی سے زیادہ تھی اور اُنکے متعلق یہ بات مَشہور تھی کہ وہ صاحب کشف ہیں اکثر ہماری گَلی سے گُزرا کرتے تھے اور بارہا میں نے اُن سے اُس ہستی کے مُتعلق معلوم کرتی رہی جنہوں نے تُمہیں وہ نُوٹ دیا تھا مگر یہ بُزرگ ہمیشہ مجھے یہ کہہ کر ٹال دیتے تھے کہ قُدرت کے رازوں سے پردہ اُٹھانے کی کوشش مت کرو آج جب میں پھر وہی سوال کیا تو کہنے لگے لگتا ہے تو اِس سوال کو جانے بِنا میرا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ تُو سن ایک دِن تیرا بیٹا اقبال ایک مزار کے پاس بیٹھا رو رہا تھا وہاں سے ایک مَرد قلندر اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے گُزر رہے تھے کہ اُنکی نظر تیرے روتے ہُوئے بیٹے پر پڑی اُنہیں تیرے بیٹے پر پیار آگیا پھر وہی جُمعہ کے دِن تیرے بیٹے سے مِلے اُسے پرکھا اور اُس پر اپنی نظر ڈال کر چلے گئے تیرا بیٹا بڑا خُوش نصیب ہے یہ اولیاءَ اللہ کی نظر میں آگیا ہے ایک دِن آئے گا کہ لوگ اِسے پہچان جائیں گے جب میں نے اُن بُزرگ کا نام معلوم کیا تو وہ صاحب کشف بُزرگ کہنے لگے وہ ہمارے دوست ہیں حضرت سید اسماعیل شاہ بُخاری، اُسکے بعد اَمِّی نے حُکم دیا کہ مجھے اُن بُزرگ حضرت سید اسماعیل شاہ بُخاری سے دوبارہ جاکر مُلاقات کرنی چاہیے میں جب مطلوبہ مُقام پر پہنچا تو مجھے انتہائی حیرت ہوئی کہ وہاں اُن بُزرگ کا آستانہ نہیں بلکہ مزار مُبارک موجود تھا اور زیادہ حیرت تب ہوئی جب یہ پتہ چلا کہ اُنہیں پردہ فرمائے ہوئے دس برس کا عرصہ گُزر چُکا ہے۔ میں اپنا سر تھام کر رہ گیا یا اِلٰہی یہ کیا ماجرا ہے جس ہستی سے میں ڈھائی، تین برس قبل مِلا تھا اُنکے وصال کو 10 برس کیسے ہوسکتے ہیں؟ مجھے سر تھامے دیکھ کر ایک صاحب کو تشویش ہوئی تو وہ بڑی اپنائیت سے میرے قریب آئے اور میری طبیعت دریافت کرنے لگے میں نے بتایا کہ میں ٹھیک ہوں مگر آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں؟ کیا آپ اِن صاحِبِ مزار کے مُتعلق جانتے ہیں؟ اُنہوں نے بتایا کہ وہ یہیں مزار کے قریب میں ہی رہتے ہیں اور بابا اسماعیل شاہ صاحب (رحمتہ اللہ علیہ) کی حیات ظاہری کے زَمانے سے ہی اُنکی خِدمت میں آیا کرتے ہیں میں نے سوال کیا بابا کے وصال کو کتنا عرصہ ہوگیا؟ وہ کہنے لگے تقریباً 10 برس ہوگئے ہیں، میں نے پُوچھا کیا بابا صاحب کی کوئی یادگار تصویر آستانے میں موجود ہے؟ وہ کہنے لگے بابا کی کوئی یادگار تصویر تو موجود نہیں البتہ میرے پاس ایک محفل کی تصویر ضرور موجود ہے جس میں بابا صاحب موجود ہیں، میں نے اُن سے عرض کی کیا آپ مجھے وہ تصویر دِکھا سکتے ہیں؟ وہ کہنے لگے اچھا تُم بیٹھو میں اپنے گھر سے وہ تصویر لاتا ہوں، کُچھ دیر میں وہ صاحب آئے تو اُنکے ہاتھ میں ایک تصویر تھی جس میں ایک بُزرگ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے وہ صاحب کہنے لگے یہ ہیں بابا اسماعیل(رحمتہ اللہ علیہ) میں نے اُس تصویر کو غور سے دیکھا تو فرطِ جذبات سے میرے مُنہ سے نکل گیا، واللہ یہ تو وہی ہیں، وہ شخص میری کیفیت کو دیکھ کر کُچھ پریشان ہورہا تھا بلآخر اس نے پوچھ ہی لیا بیٹا آخر بات کیا ہے مجھے بھی کُچھ بتاؤ؟ میں نے کہا کہ میں نے حضرت سید اسماعیل شاہ بُخاری رحمتہ اللہ علیہ سے دو ڈھائی برس قبل مُلاقات کی ہے وہ میری سائیکل پر سوار بھی ہوئے اور مجھ سے باتیں بھی کی اور مجھے انعام بھی دِیا تھا جِسے میں اب گَنوا چُکا ہوں، جب کہ یہاں سب یہی کہہ رہے ہیں کہ اُنکے وصال کو 10 برس کا عرصہ گزرچُکا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ جو اِنسان دُنیا سے 10 برس قبل پردہ کرچُکا ہو میں اُس سے بعد پردہ فرمانے کے مُلاقات کرلوں۔ وہ صاحب کہنے لگے بیٹا یہ اللہ کے راز ہیں جو اللہ ہی بہتر جانتا ہے میں تو بس اِتنا جانتا ہوں کہ اولیاءَ اللہ ہماری طرح کے عام بشر نہیں ہوتے یہ وہ خُوش نصیب اشخاص ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی دوستی کیلئے چُن لیتا ہے اور اللہ ہی ہے جو اِنہیں ایسی قُوت اور طاقت عطا فرماتا ہے جسکا ادراک ہم جیسے معمولی لوگ جو اپنی تمام عُمر گُناہوں اور نافرمانی میں گُزار دیتے ہیں نہیں کرسکتے اللہ تعالیٰ تو قادر اور قُدرت والا ہے کیا وہ گُنہگار اور نیک کو ایک جیسی طاقت عطا کرے گا وہ تو بڑا عادل ہے یقیناً اپنے نیک بندوں کو اپنے اولیاءَ کو زمانے میں ممتاز کرتا ہے جس کے سبب لوگوں کے دِل میں اُنکی عظمت کا سکہ بیٹھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بیٹا تُم پہلے شخص نہیں ہو کہ جس نے بعد وصال بابا اسماعیل (رحمتہ اللہ علیہ) کو جاگتی آنکھوں سے دیکھا ہے بلکہ اِس علاقے کے کئی لوگوں نے تہجد کیلئے مسجد جاتے ہوئے اپنی جاگتی آنکھوں سے بابا اسماعیل کو علاقے میں گشت کرتے دیکھا ہے لیکن تُم خُوش نصیب ہو جس نے بابا سے کلام بھی کیا اور کُچھ لمحے اُنکے ساتھ بھی گُزارے ہیں۔ میں نے فوراً مزارِ پاک پر حاضری دی فاتحہ پڑھی اور جائے نماز کے اِحَاطہ میں سجدہ شُکر بجا لایا اور اللہ کریم کی بارگاہ میں دُعا کی اے میرے پروردِیگار میں تیرا بُہت گُنہگار بندہ ہوں تیرے اِک دوست نے مجھ بدکار پر نظر کرم ڈالی ہے میں تُجھ سے مغفرت کا طلبگار ہُوں مجھ پر تیرے دوستوں کی نظر کرم ہمیشہ بنی رہے تو اور تیرے محبوبین ہمیشہ مجھ سے راضی رہیں اور میرے دِل کو اپنے مِحبوب بندوں کی مُحبت سے بھر دے اور میرے سینے کو کینہ اور بغض سے پاک کردے۔ مُحترم قارئین مجھے لگتا ہے کہ اُس دِن میری دُعا مقبول ہوگئی تھی کیونکہ میں اُس خاندان میں پیدا ہُوا تھا جہاں اولیاءَاللہ کا ذکر سُن کر ہی پیشانی پر بَل آجاتے تھے جَہاں مَزارات اولیاءَ اللہ کو معاذ اللہ ثُمَّ معاذ اللہ بُت کدوں سے تعبیر کیا جاتا ہے مجھے اللہ کریم نے اپنے دوستوں کی نظر عنایت کے سبب گُمراہی اور اندھیرے کی تاریک وادی سے نِکال کر اپنے دوستوں کے مُحِبین کی صف میں شامِل کرلیا الحمدُ للہِ عزوجل (یا رَبَّ العالمین یوں تو تیرے مجھ گُنہگار پر کروڑوں اِحسان ہیں لیکن فقط تیرا یہ ایک اِحسان ہی ایسا ہے کہ جسکا شُکر میں ساری زندگی سر بسجود ہوکر بَجالاؤں تب بھی ممکن نہیں کہ شُکر ادا کرپاؤں) یا رَبَّ العالمین تمام دُنیا کے مسلمانوں کے قلوب کو اپنے اولیاءَ کی مُحبت کا گہوارہ کردے (آمیں بِجاہِ النَّبِیِ الامین وصلی اللہ تعالٰی علیٰ وآلِہ واصحابِہِ واَزاجِہِ وبارک وسلم)۔
  11. شہلا حِیران و پریشان ایک شاہراہ پر کھڑی سوچ رہی تھی،کہ نجانے آج تمام شہر کے نوجوانوں کو کیا ہُوگیا ہے لگتا ہی نہیں کہ یہ وہی شہر ہے جہاں شریر نوجوان آئے دِن کِسی دوشیزہ کی آبرو کو تار تار کر دِیا کرتے تھے جہاں تنہا عورت گھر سے نِکلتے ڈرتی تھی جہاں سَر شام خواتین اپنے گھروں میں دُبک کر بیٹھ جایا کرتی تھیں اور جہاں کِسی عورت کو ضرورت کے تِحت گھر سے نِکلنا بھی ہوتا تُو اسقدر چادروں کو خُود پر لپیٹ لیا کرتی کہ کوئی شناخت ہی نہیں کرپاتا کہ کِس عُمر کی اور کِس گھر کی خَاتون بازار سے گُزری ہے۔ مگر شہلا نے تو کوئی لِبادہ خُود پر طاری نہیں کیا تھا اور اُسے بازار میں گُھومتے پھرتے پَل دو پَل کا عرصہ نہیں گُزرا تھا بلکہ وہ تُو سہ پہر سے بازار میں کبھی یہاں سے وَہاں اور کبھی وَہاں سے یہاں گُھوم رَہی تھی شہلا حیران اسلئے بھی تھی کہ اُس نے جان بوجھ کر چہرے پہ نِقاب نہیں لگایا تھا تاکہ منچلے نوجوان اُس کے حُسن سے لُطف اندوز ہوسکیں اور اُسکے قریب بِلا جھجک آسکیں۔ اور وہ ایسی گئی گُزری بھی نہیں تھی کہ اُسے نظر بھر کے دِیکھا نہ جائے اُسکی سہلیاں اُسے اکثر کہا کرتی تھیں کہ شہلا تُمہارے حُسن کے آگے تو مہتاب کی چَمک بھی مدہم پَڑجاتی ہے ہَم لڑکیوں کی نِگاہیں تُمہارے چہرے سے نہیں ہَٹتیں اگر شہر کے مَنچلے نوجوان تُمہیں دیکھ لیں تُو شہر میں قیامت برپا ہُوجائے تُم انسانی رَنگ و رُوپ میں کوئی اَپسرا مِحسوس ہُوتی ہُو یہی وَجہ تھی کہ خُود شِہلا بھی اکثر اپنے حُسن سے خُوفزدہ رَہا کرتی۔ وہ ہَمیشہ سے خُود کو صرف گھر تک مِحدود رکھا کرتی تھی کَبھی گھر میں بھی دوپٹہ سر سے گِرنے نہیں دِیتی اُسے زیادہ ہَنسی مذاق بھی پسند نہیں تھا ہمیشہ لئے دِیئے انداز میں سب سے پیش آتی اگرچہ بُہت ملنسار تھی لیکن سنجیدگی اور متانت ہمیشہ اُسکی شخصیت کا اِحاطہ کئے رِہتی تھی۔ لیکن آج وہ گھر سے بن سنور کر نِکلی تھی اور خُود چاہتی تھی کہ کوئی اُسے دَعوت گُناہ دے۔ کیونکہ آج بھوک سے لَڑتے ہُوئے تیسرا دِن تھا گھر کی تمام تر ذِمہ داری ماں کے انتقال کے بعد سے شہلا کے ناتواں کاندھوں پر آپڑی تھیں بابا زندہ تھے لیکن اپنی آنکھوں کی بینائی کھو بیٹھے تھے غُربت کی وجہ سے بابا کا جِسم کافی لاغر ہُوچُکا تھا جوڑوں کے شدید درد کی وجہ سے مسجد بھی نہ جاسکتے تھے تمام دِن چارپائی پر پَڑے کھانستے رِہتے شہلا سے چھوٹے دو بہن بھائی بھی اپنی ضرورت کیلئے شہلا کی کڑھائی سِلائی پر انحصار کرتے تھے لیکن کئی دِن ہُوئے شہلا کو کوئی کام نہیں مِلا تھا۔ اگر گھر میں صِرف بابا ہی ہوتے تُو شائد وہ یہ انتہائی قدم نہ اُٹھاتی لیکن چھوٹے بِہن بھائیوں کی بھوک نے اُسے جھنجوڑ کر رکھ دِیا تھا اُسکی اُمید کیساتھ ساتھ اب اُسکی ہمت بھی دَم تُوڑ چُکی تھی اُس نے یہ سُوچ کر آج اپنے گھر سے پِہلی مَرتبہ قدم نِکالا تھا کہ چَاہے اُسے آج اپنی عِصمت کا سودا کرنا پڑجائے لیکن وہ آج خالی ہاتھ گھر نہیں لُوٹے گی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اسُکے چُھوٹے بِہن بھائی اِس اُمید پر دروازے پہ نِگاہیں جَمائے بیٹھے ہوُنگے کہ ابھی آپی دروازے سے کھانا لئے دَاخل ہُوگی۔ لیکن شام ہُونے کو آئی تھی اور اُسے کِسی نے نظر بھر کے دِیکھنا تُو درکِنار نِگاہ اُٹھا کر بھی نہیں دِیکھا شام ہوتے ہی دُکانداروں نے اپنی دُکانوں کو سمیٹنا شروع کردِیا تھا اور اب بازار میں اندھیرا پھیلنے لگا تھا یکایک ایک جانب سے ایک سنتری نِکل آیا اور اُسے ڈانٹتے ہُوئے گھر جانے کی تلقین کی اب اُسکے پاس اسکے سِوا کوئی چَارہ نہیں تھا کہ وہ گھر لُوٹ جائے اور اپنے چُھوٹے بِہن بھائیوں کو دِلاسہ دیکر مزید ایک دِن اِس کرب کیساتھ گُزارے کہ اسکے بہن بھائی رات بھر بھوک سے سسکتے ہُوئے گُزاریں۔ گھر کی دِہلیز سے گُزر کر جونہی وہ بابا کی چارپائی کے سامنے سے گُزرنے لگی بابا کی آواز نے اُسکے قدموں کو جَکڑ لیا۔ کہاں گئی تھیں شہلا بیٹی؟ آج دوپہر سے تُمہارے قدموں کی چاپ نہیں سُنی۔ شہلا کیا بتاتی کہ وہ کِس خاردار راہ کی تلاش میں گھر سے نِکلی تھی مگر شائد کانٹوں نے بھی اُسکے دامن میں سَمانا پسند نہیں کیا تھا۔ کہاں ہُو بِٹیا جواب کیوں نہیں دیتیں تُم؟ شائد شِہلا کی خاموشی سے بابا گھبرا گئے تھے بابا کی پریشانی شِہلا سے کب برداشت ہُوسکتی تھی ، بھری دُنیا میں اِک وہی تُو تھے جنکے دَم قدم سے شِہلا کا حُوصلہ بُلند تھا شہلا آگے بَڑھی اور بابا کے قدموں سے لِپٹ گئی اُس نے بُہت چاہا کہ اپنے اِحساسات پر کنٹرول رکھ سکے لیکن قدموں سے لِپٹے ہی شہلا کی ہچکیاں بُلند ہُونے لگیں تھیں بابا مسلسل شِہلا کے سَر پر ہاتھ پھیرے جارہے تھے اور اُسکی تکلیف جاننا چاہتے تھے اُس نے اپنے باپ سے کبھی جُھوٹ نہیں بُولا تھا اب وہ روتے ہُوئے سُوچ رہی تھی کہ آخر یہ کڑوا سچ کِسطرح اپنے باپ کیسامنے بیان کرپائے گی۔ بٹیا جُو بھی دِل میں ہے کہدو دِل کا غُبار ہلکا ہُوجائے گا ورنہ دِل کا بوجھ کبھی کبھی ضمیر کا بُوجھ بن جاتا ہے اور ضمیر کا بوجھ سہنے کی طاقت انسانوں میں نہیں ہُوتی۔ شِہلا نے چند لَمحے سُوچا اور اِس نتیجے پر پُہنچی کہ بابا نے ہمشہ سچائی کا درس دِیا ہے اور وہ آج بھی اپنے بابا سے سچ ہی کہے گی اور اُس نے سِسکیوں اور آہوں کے درمیان کسی مُجرم کی طرح اپنی آج کی کہانی بابا کے گُوش گُزار کردی اُسے یقین تھا کہ اُسکی کہانی سن کر بابا بھی رُو پڑیں گے لیکن یہ کیا شِہلا کی بات سُن کر بابا کے قہقہے بُلند ہورہے تھے اور شہلا سوچ رہی تھی کہیں بابا پر رنج کی وجہ سے دورہ تُو نہیں پَڑ گیا۔ کُچھ دِیر میں اِن قہقہوں نے کھانسی کے دُورے کی شِکل اِختیار کرلی شِہلا نے بھاگ کر صراحی سے پانی گلاس میں اُنڈیلا اور بابا کے مُنہ سے لگا دِیا کُچھ دِیر میں بابا کی کھانسی سنبھلی تو بابا نے شِہلا کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہُوئے کہا۔ ۔ ۔ جہاں تک بات ہے تُمہارے چھوٹے بہن بھائیوں کے بھوک کی تُو ایک اللہ کا بندہ آیا تھا اور مہینے بھر کا راشن اور آج کیلئے سالن روٹی دے گیا تھا جِسے کھا کر تُمہارے بِہن بھائی کب کے سُو چُکے ہیں۔ ۔ ۔ اور تُمہیں اِس بات کا حِیرانی ہے نا کہ کِسی نے تُمہاری جانب نِگاہ اُٹھا کر کیوں نہیں دِیکھا۔ تُو میری پیاری بِٹیا تُمہیں تو کوئی جب نِگاہ اُٹھا کر دیکھتا نا جب تُمہارے بابا نے اپنی جوانی میں کِسی کو نِگاہ اُٹھا کر دیکھا ہوتا۔