• Announcements

    • Sag-e-Attar

      IslamiMehfil Rules (Please Must Read, Before You Post Anything)   04/09/2017

        فورم کےعمومی قوانین آخری ترمیم: ۱۰ اپریل ۲۰۱۷ ۔۔۔عمومی فورم رول نمبر ۱۵ ایڈ کیا گیا ،جو نیچے آخر میںبولڈ فونٹ میں موجود ہے۔ فورم کی انتظامیہ کی طرف سے تمام ارکان کو خوش آمدید! پوسٹ ارسال کرنے سے پہلے تمام اراکین کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ مندرجہ ذیل قواعد و ضوابط کا مطالعہ کر لیں تا کہ مستقبل میں کسی قسم کا کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔ اگر کوئی پوسٹ یا ٹاپکس فورم رولز کے خلاف نظر آئے تو تمام ممبرز سے گزارش ہے کہ رپورٹ کا بٹن استعمال کرکے انتظامیہ کی مدد کریں۔ ۱- اسلامی محفل ایک مکمل اسلامی سنی حنفی بریلوی مسلک سے منسلک فارم ہے جس میں کسی قسم کی غیر اسلامی و غیر اخلاقی پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
      کسی قسم کی غلط پوسٹ کسی ممبر کو فارم پر نظر آئے تو رپورٹ بٹن کو استعمال کر کے انتظامیہ کو اطلاع کریں۔ اپنی طرف سے کسی ممبر پر نقطہ چینی کرنے کی اجازت نہیں۔

      ۲- اس فورم یا منتظمین کے متعلق کوئی شکوہ یا شکایت یا اعتراض واضح طور پر کسی بھی سیکشن میں بیان نہیں کرسکتے۔ اور شکوہ شکایت وغیرہ کرنے کیلئے ایڈمن سے براہ راست رابطہ کریں

      ۳- فورم میں دستخط استعمال کرنے کیلئے صرف ایک تصویر اور اس کی ازحد چوڑائی550پکسلز اور اونچائی145پکسلزسے زیادہ نہ ہو۔اور ساتھ میں کچھ لنکس کی اجازت ہے۔ سیگنیچر امیج میں یا لنکس میں کسی بد مذہب سائٹ کا لنک یا قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں۔

      ۴- کسی جاری گفتگو کے دوران ایسے روابط ارسال کرنے سے پرہیز کریں جن کا گفتگو سے تعلق نہ ہو۔

      ۵- بحث برائے بحث سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کریں

      ۶۔ فورمز کی انتظامیہ آپ کو ہدایت کرتی ہے کہ براہ کرم کسی قسم کی ذاتی معلومات جیسے کہ اپنا پتا یا فون نمبر ارسال مت کریں جس سے تمام لوگوں کی اس تک رسائی ممکن ہو سکے۔ان معلومات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہر ممکن طور پر ، اگر آپ اپنی معلومات کا تبادلہ کسی دوسرے رکن کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں تو ذاتی پیغامات کا استعمال کریں۔ ۷۔ ٹاپک کے لئے مناسب ،موضوع سے متعلق ٹائٹل استعمال کریں۔  need answer,  jawab dejiye, please read it, must reply وغیرہ جیسے غیر موضوع ٹائٹل استعمال نہ کریں. ٹائٹل کی ایک بہتر مثال یہ ہے۔
      "A good example: "Help: I need "This" Book Scan
      "A bad example: "PLZZ HEEEEELP ۸۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک نام جہاں بھی استعمال کریں۔ درود شریف ضرور لکھیں۔ درود شریف والا ایموٹیکن بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ (s.a.w) یا (pbuh) وغیرہ لکھنے کی اجازت نہیں۔ ۹۔ سنیوں کے آپسی اختلافات میں فورم کا *رجحان جمہور اور جید علماء کی طرف ہوگا۔ اس لئے ان موضوعات پر طویل بحث ممنوع ہے۔
      مثلاً...پیر کرم شاہ صاحب والا موضوع۔۔۔ اس جیسے موضوعات پر فورم کا رخ جید علماء اور جمہور علماء کی طرف ہوگا۔ دوسرا یعنی ویڈیو کا مسئلہ یا اسپیکر پر نمازوغیرہ کا مسئلہ(فروعی مسائل) ۔
      اس جیسے مسائل کو بنیاد کو بنا کر علماء کو برا بھلا کہنا ہرگز ممنوع ہےاور بلا وجہ بحث بھی ممنوع ہے۔ فروعی مسائل میں فورم کا رجحان بعض اوقات کسی عالم کی طرف یا بعض اوقات غیر جانبدار بھی ہوسکتا ہے۔

      ۱۰۔ غیر اخلاقی پوسٹ کرنے پر وارننگ یا بین کیا جا سکتا ہے۔

      ۱۱۔ کسی بھی عالم چاہے بد مذہبوں کا ہو ان کی بگاڑ کر تصویر شئیر کرنا منع ہے۔

      ۱۲۔ انگلش سیکشن کے علاوہ کسی بھی سیکشن میں انگلش پوسٹ کرنا منع ہے۔

      ۱۳۔ پوسٹ کو متعلقہ سیکشن میں کریں غیر متعلقہ سکیشن میں پوسٹ کرنے پر آپ کی پوسٹ کو موو (move) کر دیا جائے گا۔ ۱۴۔ عورتوں کی تصاویر ویڈیوز وغیرہ شئیر کرنا منع ہے۔ ۱۵۔ یہ فورم آپ کی سائیٹس کی تشہیر، بیک لنکنگ یا گوگل رینکنگ بڑھانے کے لئے نہیں ہے۔ جو بھی اسلامی مواد پوسٹ کریں اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کیلئے پوسٹ کریں۔ غیر متعلقہ لنکس ٹاپکس سے حذف کر دیے جائیں گے۔اگر کسی اسلامی سنی ویب سائیٹ کا لنک آپ پوسٹ کرنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر ممبرز مستفید ہوں، تو سنی سائیٹس کے متعلقہ سیکشن میں نیا ٹاپک ویب سائیٹ ٹائٹل ہیڈنگ کے ساتھ  پوسٹ کریں۔

        مناظرہ سیکشن کے قوانین

      ۱۔ تمام ممبرز (خصوصاً سُنی ممبرز) مناظرہ سیکشن میں غلط زُبان کا استعمال نہ کریں اور اَدب کے دائرے میں رہ کر اعتراض کریں یا جواب دیں۔ غلط زبان استعمال کرنے پر آپکی پوسٹ میں ترمیم یا پوسٹ کو ڈیلیٹ کیا جاسکتا ہے۔ اور بار بار کرنے پر وارن یا بین بھی کیا جا سکتا ہے۔

      ۲۔ اگر کسی ممبر کے ایک موضوع پر دو مختلف ٹاپکس نظر آئے تو ایک ٹاپک بغیر اطلاع کے لاک یا ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔

      ۳۔ جن موضوعات سے متعلق پہلے سے ٹاپکس موجود ہیں، اپنا سوال،اعتراض یا جواب اُسی ٹاپک میں پوسٹ کریں۔ اگر الگ سے ٹاپک بنا کر پوسٹ کیا تو آپکے ٹاپک کو بند، ضائع یا دوسرے ٹاپک کے ساتھ یکجا کیا جاسکتا ہے۔

      ۴۔ مناظرہ سیکشن بحث برائے بحث کیلئے نہیں ہے۔ اگر کوئی پوسٹ بحث برائے بحث یا موضوع سے ہٹ کر محسوس ہوئی تو بغیر اطلاع کئے ڈیلیٹ کر دی جائے گی۔ بار بار ایسا کرنے پر وارن کیا جا سکتا ہے۔اور بین بھی کیا جاسکتا ہے۔

      ۵۔ ایسی سائٹ جن کا تعلق بد مذہبوں سے ہو یا ان سائٹ پر بد مذہبوں کا کوئی مواد موجود ہو ان کی کسی بھی قسم کی تشہیر کسی پوسٹ میں ان کا لنک وغیرہ شئیر کرنا پوسٹ کرنا سخت منع ہے ۔خلاف ورزی پر پوسٹ ڈیلیٹ یا ایڈیٹ کی جاسکتی ہے۔

      ۶۔ بدمذہبوں کی ویڈیوز شئیر کرنا منع ہے اگر کسی اعتراض کا جواب درکار ہو تو اس ویڈیو کا سکرین شاٹ لے کر بد مذہبوں کی سائٹ کا لنک ریمو کر کے امیج کی صورت میں پوسٹ کریں۔

      کسی سنی عالم کی تضحیک سخت منع ہے۔

      ۷۔ اگر کو ئی اعترض بھی ہو جس میں سنی عالم کے خلاف غلط زبان استعمال کی گئی ہو تو اس میں سے غلط زبان کو ریمو کر کے اعتراض پوسٹ کیا جائے۔

      ۸۔ صرف وہی سائٹ شئیر کی جائیں جو سنیوں کی ہوں صلح کلی مکتب فکر کی سائٹ بھی شئیر کرنا منع ہے۔

      ۹۔ اسلامی محفل کے کسی بھی ٹیم ممبر یا سینئر ممبر سے بدتمیزی ناقابل برداشت ہوگی اور بین بھی کیا جاسکتا ہے۔ ٹیم ممبرز بھی حدود کے دائرے میں رہ کر جواب دینے کے مجاز ہیں۔

      ۱۰۔ انتظامیہ کا فیصلہ حتمی ہے۔ اگر آپ کو کسی نقطے پر اعتراض ہے تو مناظرہ سیکشن میں پوسٹنگ کرکے اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔ کسی بھی ممبر کو رولز کے خلاف کوئی پوسٹ نظر آئے تو فوراً رپورٹ کے بٹن سے ہمیں آگاہ کریں۔
         

Search the Community

Showing results for tags 'حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Urdu Forums
    • Urdu Literature
    • Faizan-e-Islam
    • Munazra & Radd-e-Badmazhab
    • Questions & Requests
    • General Discussion
    • Media
    • Islami Sisters
  • English & Arabic Forums
    • English Forums
    • المنتدی الاسلامی باللغۃ العربیہ
  • Arabic Forums
  • IslamiMehfil Team & Support
    • Islami Mehfil Specials

Calendars

  • Community Calendar

Found 1 result

  1. نبی پاکﷺ اپنی قبر مبارک میں اپنی امت کے اعمال پر مطلع ہوتے ہیں اس مشہور روایت کی تحقیق! امام البزار اپنی مسند میں اپنی سند سے روایت بیان کرتے ہیں حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُحَدِّثُونَ وَنُحَدِّثُ لَكُمْ، وَوَفَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ [ص:309]، فَمَا رَأَيْتُ مِنَ خَيْرٍ حَمِدْتُ اللَّهَ عَلَيْهِ، وَمَا رَأَيْتُ مِنَ شَرٍّ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺنے فرمایا کہ میری حیات بھی تمہارے لیے بہتر ہے اور میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر ہے تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں اگر نیک اعمال ہوں تو میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اگر برے ہوں تو میں تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں اس روایت پر متعدد متفقہ جید محدثین کی توثیق درج ذیل ہے ۱۔امام ابن عراقیؒ اس روایت کو نقل کرنے سے پہلے لکھتےہیں : وروی ابو بکر البزار فی مسندہ باسناد جید عن اب مسعود ؓقال رسولﷺ بلخ۔۔۔۔ (کتاب طرح التثریب فی شرح التقریب امام ین الدین ابی الفضل عبدالرحیم بن الحسین االعراق ، ص ۲۹۶) ۲۔ امام جلال الدین سیوطیؒ امام سیوطی اسی روایت کے بارے فرماتے ہیں اوخرج البزار بسند صحیح من حدیث ابن مسعود مثله (الخصائص الکبریٰ ص ۴۹۱) ۳۔ امام ہیثمیؒ امام الحافظ نور الدین علی بن ابو بکر الہیثمی مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کرنے سے پہلے ایک باب قائم کرتے ہیں : (باب مایحصل لا مته ﷺمن استغفار بعد وفاتة) یعنی نبی پاکﷺ کا بعد از وصال استغفار کرنا اپنی امت کے لیے پھر اس روایت کو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت نقل کر کے فرماتے ہیں رواہالبزار ورجالہ رجال الصحیح (مجمع الزوائد ص ۹۳) ۴۔امام سمہودیؒ امام سمہودی اس روایت کو نققل کرنے سے پہلے فرماتے ہیں: الحدییث وللبزار برجال الصحیح عن ابن مسعود بلخ۔۔۔ (خلاصہ الوافا با خبار دارالمصطفیٰﷺ ص ۳۵۳) اتنے بڑے جید محدثین کی تائید حاصل ہونے پر اس روایت کے رجال کی تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن ہم اس کی سند پر تحقیق پیش کر کے ان جید محدثین کی تائید کرینگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سند کی تحقیق! سند کا پہلا راوی : يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، یہ امام بخاری سمیت صحاح ستہ کے اماموں کے شیخ ہیں امام ابن ابی حاتم انکا ترجمہ یوں نقل کرتے ہیں: 969 - يوسف بن موسى القطان الكوفى، وأصله اهوازي روى عن جرير بن عبد الحميد وحكام بن سلم ومهران بن ابى عمر العطار وأبي زهير عبد الرحمن بن مغراء وسلمة بن الفضل وعبد الله بن ادريس ومحمد بن فضيل ووكيع وعبد الله بن نمير روى عنه أبي وأبو زرعة. نا عبد الرحمن قال سألت أبي عنه فقال: هو صدوق (الجرح والتعديل لا ابن ابی حاتم برقم ۹۶۹) امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ ان سے میرے والد اور امام ابو زرعہؒ نے روایت کیا ہے اور میرے والد (امام ابی حاتمؒ) فرماتے ہیں یہ صدوق تھے امام خطیب بغدادیؒ انکے بارے میں فرماتے ہیں : وكان ثقة (تاریخ بغداد ج۱۶، ص ۴۵۴) مختصر یہ صحیح بخاری کا راوی ہے متفقہ ثقہ ہے سند کا دوسرا راوی: عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادَ 340 - عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد أبو عبد الحميد المكى مولى الازد روى عن معمر وابن جريج سمعت أبى يقول ذلك، نا عبد الرحمن قال قرئ على العباس بن محمد الدوري قال سمعت يحيى بن معين يقول ابن علية عرض كتب ابن جريج على عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فأصلحها له فقلت ليحيى ما كنت اظن ان عبد المجيد هكذا قال يحيى كان اعلم الناس بحديث ابن جريج ولكن لم يكن يبذل نفسه للحديث، نا عبد الرحمن قال قرئ على العباس قال سمعت يحيى بن معين وسئل عن عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فقال ثقة (نا عبد الرحمن أنا عبد الله بن أحمد بن محمد بن حنبل فيما كتب إلى قال سئل يحيى بن معين وانا اسمع - عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فقال ثقة - 3) ليس به بأس نا عبد الرحمن قال سألت أبي عنه فقال ليس بالقوى يكتب حديثه كان الحميدى يتكلم فيه. (الجرح والتعدیل لا ابن ابی حاتم برقم ۳۴۰) امام ابن ابی حاتم امام یحییٰ بن معین سے بیان کرتے ہیں کہ عبدالمجید صالح تھا پھر فرمایا دو مرتببہ اسکوثقہ کہہ کر توثیق کی ہے اسکے بعد ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں کے میرے والد انکو لیس بالقوی قرار دیتے اور اسکی حدیث لکھی جائے اور اس میں کمزوری ہے یاد رہے امام ابن معین الحنفیؒ امام ابو حاتم وغیرہ سے بڑے محدث اور متشدد تھے تو انکی توثیق راجع قرار پائے گی 3435- عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد عن أبيه وابن جريج وأيمن بن نابل وعنه كثير بن عبيد والزبير بن بكار قال أحمد ثقة يغلو في الارجاء وقال أبو حاتم ليس بالقوي توفي 206 م (الکاشف امام ذھبی ) امام ذھبی فرماتے ہیں اسکو امام احمد نے ثقہ فرمایا اور یہ مرجئی تھا اور ابو حاتم نے اسکے قوی ہونے کی نفی کی ہے اسکے علاوہ امام ذھبی کے نزدیک یہ راوی معتبر اور صدوق ہے جیسا کہ وہ اس راوی کو اپنی کتاب : ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق میں زکر کیا ہے اور اس کتاب کے مقدمے مین انہوں نے لکھا ہے کہ اس میں ان راویان کے نام ہے جو صدوق اور حسن الحدیث ہیں لیکن ان پر جروحات بھی ہیں (لیکن راجع یہی ہے کہ وہ راوی صدوق و حسن الحدیث ہیں ) 220 - عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد المدني (م على) : ثقة مرجىء داعية غمزه ابن حبان نیز اسکے علاوہ امام ذھبی میزان الاعتدال میں بھی اسکی توثیق فرماتے ہوئے کھتے ہیں : 5183 - عبد المجيد بن عبد العزيز [م، عو] بن أبي رواد. صدوق مرجئ كابيه. کہ عبدالمجید صدوق ہے اور مرجئی ہے امام ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی اسکی توثیق فرمائی ہے لسان المیزان میں وہ صیغہ (هـ) استعمال کرتے ہوئے اسکی توثیق کی طرف فیصلہ دیاہے 1706 - م4 , (هـ) عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد (2: 648/ 5183). ========= [مفتاح رموز الأسماء التي حذف ابن حجر ترجمتها من الميزان اكتفاءً بذكرها في تهذيب الكمال] رموز التهذيب: (خ م س ق د ت ع 4 خت بخ ف فق سي خد ل تم مد كن قد عس)، ثم (صح) أو (هـ): - (صح): ممن تكلم فيه بلا حجة. - (هـ): مختلف فيه والعمل على توثيقه. -ومن عدا ذلك: ضعيف على اختلاف مراتب الضعف. (لسان المیزان برقم ۱۷۰۶) اسکے علاوہ امام ابن حجر نے تقریب میں بھی اسکو صدوق یخطی قرار دیا ہے اور ابن حبان کا اس پر جرح کرنے کو باطل قرار دیا ہے 4160- عبد المجيد ابن عبد العزيز ابن أبي رواد بفتح الراء وتشديد الواو صدوق يخطىء وكان مرجئا أفرط ابن حبان فقال متروك من التاسعة مات سنة ست ومائتين م (تقریب التہذیب بررقم ۵ؤ۴۱۶۰) یعنی عبدالمجید صدوق درجے کا ہے اور یخطی ہے اور ابن حبان نے اس پر متروک کی جرح کر کے حد سے تجاوز کیا اسکی توثیق مندرجہ زیل اماموں نے کی ہے ۱۔امام ابن معین (متشدد) ۲۔امام احمد بن حنبل ۳۔ امام نسائی (متشدد) ۴۔ امام ابو داود ۵۔ امام نسائی ۶۔ امام ذھبی ۷۔ امام ابن حجر نیز یہ راوی طبقہ ثالثہ کا مدلس راوی ہے جسکی روایت عن کے ساتھ ضعیف ہوتی ہے لیکن اسکی شاہد موجود ہے جسکو امام سیوطی نے الخصائص الکبرہ میں با سند صحیح نقل کیا ہے جو کہ مرسل ہے تو اسکی تدلیس والا اعتراض یہاں بےضرر ہے جیسا کہ اس روایت کی دوسری مرسل سند ایسے ہے حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : ثنا غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ ، تُحَدِّثُونَ وَيُحَدَّثُ لَكُمْ ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ كَانَتْ وَفَاتِي خَيْرًا لَكُمْ ، تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ ، فَإِنْ رَأَيْتُ خَيْرًا حَمِدْتُ اللَّهَ ، وَإِنْ رَأَيْتُ غَيْرَ ذَلِكَ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ . ترجمہ : حضرت بکر بن عبدللہ المزنی سے روایت ہے،رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 'میری حیات بهی تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم حدیثیں بیان کرتے ہو اور تمہارے لئے حدیثیں (دین کے احکام)بیان کیے جاتے ہیں، اور میری وفات بھی تمہارے لئے بہتر ہے کہ تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں ، تمہارا جو نیک عمل دیکھتا ہوں اس پر الله کا شکر ادا کرتا ہوں،اور اگر برے اعمال پاتا ہوں تو تمہارے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں ۔ (الراوي : بكر بن عبد الله المزني المحدث : الألباني - المصدر: فضل الصلاة - صفحة 26 خلاصة الدرجة : جيدة رجالها رجال مسلم . المحدث : محمد ابن عبد الهادي - المصدر: الصارم المنكي صفحة 329 خلاصة الدرجة : مرسل إسناده صحيح ) السيوطي - المصدر: الخصائص الكبرى الصفحة أو الرقم: ٢/٤٩١ خلاصة الدرجة: إسناده صحيح ۔) امام ابن سعد نے بھی مرسل روایت کی ایک اور بے غبار سند بیان کی ہے أخبرنا يونس بن محمد المؤدب، أخبرنا حماد بن زيد، عن غالب، عن بكر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «حياتي خير لكم، تحدثون ويحدث لكم، فإذا أنا مت كانت وفاتي خيرا لكم، تعرض علي أعمالكم، فإذا رأيت خيرا حمدت الله، وإن رأيت شرا استغفرت الله لكم» (طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۹۴) امید ہے جناب کو اب تدلیس والے اعتراض کا کافی و شافی جواب مل گیا ہے سند کا تیسرا راوی :سفیان الثوری یہ متفقہ ثقہ اور امیر المومنین فی حدیث ہیں امام ذھبی انکا تعارف یوں کرواتے ہیں هو شيخ الإسلام، إمام الحفاظ، سيد العلماء العاملين في زمانه، أبو عبد الله الثوري، الكوفي، المجتهد، مصنف كتاب (الجامع) . (سیر اعلام النبلاء برقم 82) سند کا چوتھا راوی : عبداللہ بن سائب الکندی 303 - عبد الله بن السائب الكندي روى عن زاذان وعبد الله (6) ابن معقل وعبد الله بن قتادة المحاربي روى عنه الشيباني أبو إسحاق والأعمش وسفيان الثوري وأبو سنان [الشيباني - 7] سمعت أبي يقول ذلك. نا عبد الرحمن قال ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين أنه قال: عبد الله بن السائب ثقة. نا عبد الرحمن قال سمعت أبي يقول: عبد الله بن السائب الذي يروى عنه زاذان ثقة. (الجرح والتعدیل لا ابن ابی حاتم ) 891 - عبد الله بن السَّائِب الكندى ثِقَة (الثقات امام عجلی ) الغرض یہ متفقہ ثقہ امام ہیں سند کا پانچواں راوی: زاذان أبو عمر1 450- زاذان أبو عمر1: سمع من عبد الله بن مسعود، ثقة. (الثقات عجلی ) 417 - زَاذَان ثِقَة كَانَ يتَغَنَّى ثمَّ تَابَ (تاریخ الثقات ابن شاھین) 1603- زاذان أبو عمر الكندي مولاهم الضرير البزاز عن علي وابن مسعود ويقال سمع عمر وعنه عمرو بن مرة والمنهال بن عمرو ثقة توفي 82 م (امام ذھبی الکاشف) 4556- زاذان أبو عمر الكندي مولاهم سمع: علي بن أبي طالب، وعبد الله بن مسعود، وعبد الله بن عمر. روى عنه: ذكوان أبو صالح، وعبد الله بن السائب، وعمرو بن مرة، وغيرهم. وكان ثقة (تاریخ بغداد امام خطیب) 1976- زاذان أبو عمر الكندي البزاز ويكنى أبا عبد الله أيضا صدوق يرسل وفيه شيعية من الثانية مات سنة اثنتين وثمانين بخ م 4 (تقریب التہذیب امام ابن حجر) اما م ابن حجر کہتے ہین کہ یہ صدوق ہے شیعت کا عنصر پایا جاتا تھا اس میں اور ارسال بھی کرتا تھا امام ذھبی انکا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں : 470- زاذان 1: "م، أبو عمر الكندي، مولاهم، الكوفي، البزاز، الضرير، أحد العلماء الكبار. ولد: في حياة النبي صلى الله عليه وسلم وشهد خطبة عمر بالجابية. وكان ثقة، صادقا، روى جماعة أحاديث. (سیر اعلام النبلاء) زاذان یہ ابو عمر ہیں اور علماء میں سے تھے یہ نبی پاک کی زندگی میں پیدا ہوئے اور وہ ثقہ صدوق تھے سند کے پانچوے راوی خود صحابی رسولﷺ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں اس تحقیق سے معلووم ہوا کے اسکی سند صحیح ہے اور محدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے دعاگو: خادم الحدیث رانا اسد الطحاوی الحنفی البریلوی )