Jump to content
IslamiMehfil

آج 27 رجب المرجب ہے اور شب معراج کا دن ہے اور اسلامی محفل۔۔۔۔۔۔۔


Recommended Posts

(salam)


 


آج پاکستان میں 27 رجب المرجب کا دن ہے اور اسلامی محفل پر مجھے کوئی ایک بھی موضوع شب معراج کے حوالے سے نہیں ملا ہے ابھی تک، اس میں 2 ہی باتیں ہو سکتی ہیں۔


 


1- 


کسی نے کوئی بھی  مضمون یہاں پر پوسٹ ہی نہیں کیا ہے۔


 


2- 


مجھے نہیں ملا لیکن فورم پر موجود ہے۔


 


 


براۓ محربانی تحریری طور پر کحپھ مواد جو کہ مستند ہو اور معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس کو آج کے دن ضرور پوسٹ کریں۔ جزاک اللہ۔


 


کتب ہوں یا پھر ویسے کوئی تحریری مواد ہے۔


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Bismillah
      Asalamou Alekum !   Baaz auqat main raat ko jab sota hoon, to mera chehra asman ki taraf hojata hai ya jan bhooj kay bhi agar main asman ki taraf chehra kar kay sau jaaon to mujhay bohat darawanay khawab atay hain. Aur jab ankh khulti hai to main kuch deer kay liey apna jism paralysed mehsoos karta hoon. Halki si Ankh to khuli hoti hai lekin haath ki ungli tak hilana bhi mumkin nahi hota. Yahan tak kay main apna chehra bhi hila nahi sakta. Aissa lagta hai jaissay kay ander say mukamal meray jism pe kaboo pa liya ho. Aur main itna gabra jata hoon keh aissa lagta hai keh maut ho jaey gi. Yani keh bohat zayada khauff hota hai. . Yeh kabi kabar hi hota hai jaissay keh mahenay do maheenay main 1 bar.   Aissa kyon hota hai? Asman ki taraf chehra kar kay kyon nahi sona chahiey?   Main to aksar apna chehra right side par karkay hi sota hoon lekin raat ko need main chehra asman ki taraf to hi jata hain na. neend main to pata nahi chalta na keh chehra kiss taraf hai.   Jawab kay liey shukrya!    
    • By Tanveer Afridi
      ایصال ثواب کی نیت سےکونڈۓکی نیاز کااھتمام کرناجائز ھے. [فتاوی رشید احمد گنگوئی] <کتاب> فتاوئ رشیدیہ ۱۱۹
      scan page required
    • By خاکسار
      ماہِ شعبان کی پندرہویں رات کو شبِ برأت کہا جاتا ہے شب کے معنی ہیں رات اور برأت کے معنی بری ہونے اور قطع تعلق کرنے کے ہیں ۔ چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لیے اس رات کو شبِ برأت کہتے ہیں ۔ اس رات کو لیلۃ المبارکۃ یعنی برکتوں والی رات، لیلۃ الصک یعنی تقسیم امور کی رات اور لیلۃ الرحمۃ یعنی رحمت نازل ہونے کی رات بھی کہا جاتا ہے۔ 



      جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں،

       
      ''لیلۃ القدر کے بعد شعبان کی پندرھویں شب سے افضل کوئی رات نہیں ''۔ (لطائف المعارف ص ١٤٥)


      جس طرح مسلمانوں کے لیے زمین میں دو عیدیں ہیں اسی طرح فرشتوں کے آسمان میں دو عیدیں ہیں ایک شبِ برأت اور دوسری شبِ قدر جس طرح مومنوں کی عیدیں عید الفطر اور عید الاضحٰی ہین فرشتوں کی عیدیں رات کو اس لیے ہیں کہ وہ رات کو سوتے نہیں جب کہ آدمی رات کو سوتے ہیں اس لیے ان کی عیدیں دن کو ہیں ۔ (غنیۃ الطالبین ص ٤٤٩)
       
       
      تقسیمِ امور کی رات

      ارشاد باری تعالیٰ ہوا، ''قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا، بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام''۔(الدخان ٢ تا ٤ ، کنزالایمان)

       


      علامہ قرطبی مالکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

       


      یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ امور تو پہلے ہی سے لوح محفوظ میں تحریر ہیں پھر اس شب میں ان کے لکھے جانے کا کیا مطلب ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ امور بلاشبہ لوح محفوظ مین تحریر ہیں لیکن اس شب میں مذکورہ امور کی فہرست لوح محفوظ سے نقل کرکے ان فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہے جن کے ذمہ یہ امور ہیں ۔ 



      حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں

       


      حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں،

       


      حضرت عثمان بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ

       


      چونکہ یہ رات گذشتہ سال کے تمام اعمال بارگاہِ الہٰی میں پیش ہونے اور آئندہ سال ملنے والی زندگی اور رزق وغیرہ کے حساب کتاب کی رات ہے اس لیے اس رات میں عبادت الہٰی میں مشغول رہنا رب کریم کی رحمتوں کے مستحق ہونے کا باعث ہے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہی تعلیم ہے۔ 
    • By خاکسار
      یہ جو نیچے حدیث شریف دی گئی ہے شعیب الایمان کی وہ دعوت اسلامی کی طرف سے ہے اور ان کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔

       

      لیکن اب دیوبند اور وھابیہ نے ایک نئی بات نکالی ہے کہ یہ حدیث شریف ضعیف ہے اور منکر حدیث کی ہے اور اس کو شعیب الایمان والوں نے بھی ضعیف ہی کہا ہے دیوبند کے مطابق۔ 

       

      مجھے کیا چاہیے؟ مجھے اس  حدیث شریف کے سہی ہونے کا جواز اور شعیب الایمان کا سکین چاہیے۔

       



       

      دیوبند کے دیۓ گۓ سکین اس حدیث شریف کے حوالے سے درج ذیل ہیں۔

       



       



       

       


×
×
  • Create New...