Jump to content
IslamiMehfil

Mustafvi

Under Observation
  • Content Count

    196
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

Mustafvi last won the day on August 9 2012

Mustafvi had the most liked content!

Community Reputation

4 Neutral

About Mustafvi

  • Rank
    Members

Previous Fields

  • Shia

Recent Profile Visitors

517 profile views
  1. میرے نزدیک تو طبرانی کی روایت اب بھی ضعیف ہی ہے غلطیاں تو بڑے بڑوں سے ہو جاتی ہیں میں کس شمار میں ہوں ؟ غلطی کا علم ہو جائے تو اصرار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اقرار کر لینا چاہئے جو میں نے کر لیا اب کوئی اس کا تمسخر اڑائے تو وہ اس کا اپنا ظرف ہے محترم حیران ہونے کے علاوہ کبھی تفکر بھی فرما لیا کریں ذرا طبرانی کی روایت سے وہ مقام تو دکھائیں جہاں لکھا ہو کہ حضرت میمونہؓ نے تین دن قبل بھی راجز کے اشعار سنے تھے یا راجز نے اس وقت کوئی اشعار پڑھے بھی تھے روایت میں تو صرف حضرت میمونہؓ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سننا مذکور ہے الصلواۃ والسلام علیک یا رسول
  2. اعتزار میں نے پوسٹ نمبر 53 اور ایک دو اور مقامات پر یحی بن سلیمان نضلہ پر جرح کے حوالے سے امام بخاری اور ابو حاتم کی جرح پیش کی تھی کہ یہ منکر الحدیث اور لیس باالقوی ہے لیکن یہ میری غلطی تھی یہ جرح یحی بن سلیمان نضلہ پر نہیں بلکہ اس کے ہم نام راوی یحی بن سلیمان المدنی پر ہے میں اپنی غلطی کو تسلیم کرتا ہوں اور معذرت چاہتا ہوں لہذا پوسٹ نمبر 53 و دیگر مقامات پر اس جرح کو اگنور کیا جائے اس کے ساتھ ہی میں پوسٹ نمبر 53 کے سنجیدہ اور ٹو دا پواٗنٹ جواب کا منتظر ہوں
  3. اس دوسری روایت میں بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ راجز نے تین دن کی مسافت سے پکارا تھا صرف اتنا ہے جب اس نے ندا دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غسل فرما رہے تھے۔
  4. محترم جناب خلیل رانا صاحب فرشتے والی بات کا موضوع زیر بحث سے کیا تعلق بنتا ہے ؟؟ آپ نے فرشتے کے حوالے سے جو تفصیلات پوچھی ہیں مجھے ان کے بارے معلوم نہیں ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ فرشتہ درود شریف سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک بمعہ نام پہنچاتا ہے ساری مخلوق کی ساری آوازیں سننے کا علم نہیں بہرحال وہ روایت پیش کریں گے تو معلوم ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک آواز پہنج جاتی ہے کب کیسے وغیرہ کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں معاذ اللہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل سے کیوں چڑ ہو گی ؟؟؟؟؟ مسئلہ زیر بحث تو دور سے مدد مانگنے کا ہے نہ کہ فضائل کا آپ اصل موضوع کو چھوڑ کر بحث کو
  5. احمد لاہوری بھائی چکر میں نہ پڑنے سے مراد یہ ہے کہ میں اس بحث کے چکر میں نہیں پڑتا کہ یہ شرک ہے یا نہیں یا جائز ہے یا نہیں میرے نزدیک قرآن و حدیث کی کسی صحیح مستند اور واضح دلیل سے دور سے مدد مانگنے کا کوئی ثبوت نہیں برادر محمد افان آپ نے ماشا،اللہ کافی محنت کی ہے لیکن سعی لا حاصل اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرائیلؑ سے مدد طلب کرنا نہیں سکھا رہے بلکہ اللہ سے دعا کر رہے ہیں کہ اے اللہ اس کی روح القدس سے مدد فرما
  6. تمام احباب کی خدمت میں اسلام علیکم میں نے اس تھریڈ میں فتح الباری کی معجم الکبیر الطبرانی سے پیش کردہ ایک روایت جس سے صحابہ کرام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور سے مدد مانگنے کا ثبوت پیش کیا جا رہا تھا پر سندا کچھ عرض کیا تھا اصولی طور پر بات صرف روایت کے حوالے تک ہی رہنی چاہئے تھی لیکن بعض اہل علم دوستوں نے بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا اب میں یہاں فائنلی اپنا موقف اس روایت کے حوالے سے پیش کر کے اجازت چاہوں گا کیونکہ بحث برائے بحث کا کچھ حاصل نہیں طبرانی کی اس روایت میں ایک راوی ہے یحی سلیمان بن نضلہ اس راوی کی تعدیل بھی موجود ہے اور اس پر جرح بھی موجود ہے اس کی
  7. محترم خلیل رانا صاحب آپ نے درود شریف کے حوالے سے جو بات کہی ہے وہ موضوع بحث سے تعلق نہیں رکھتی اس حوالے سے میری اہل حدیث سے جو گفتگو ہوئی تھی وہ میں اسی فورم پر پیش کر چکا ہوں وہاں نظر دوڑا لیں http://www.islamimehfil.com/topic/19770-%D8%B5%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%AA-%D9%88%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%88%D8%B6%D9%88%D8%B9-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%DB%81%D9%84-%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88/
  8. برادر کشمیر خان صاحب میں نے اپنی پوسٹ نمبر 16 میں آپ کے لئے ایک دعا کی تھی لیکن ابھی شاید اس دعا کی قبولیت میں کچھ وقت لگے گا
  9. میرے بھائی میں اپنا موقف پیش کئے دیتا ہوں میں جائز ناجائز کے چکر میں نہیں پڑھتا لیکن میرے علم کی حد تک مقربین خدا سے حیات میں یا بعد از وفات دور سے مدد مانگنے کی قرآن و حدیث سے کوئی مستند اور صحیح دلیل موجود نہیں ہے ایک اور بات کنفرم کرتے جائیں تاکہ آئندہ کبھی بوقت ضرورت کام آ سکے آپ کے نزدیک جرح مبہم قابل قبول نہیں ہے ؟ جرح و تعدیل میں سے آپ تعدیل کو مقدم کرتے ہیں ؟
  10. محترم عقیل صاحب برائے مہربانی میری پوری پوسٹ کو کوٹ کرنے کی بجائے صرف متعلقہ لائن کو کوٹ کر کے جواب دے دیا کریں جیسا کہ آپ پوری پوسٹ کوٹ کرنے کے بعد کرتے ہیں ۔ تو پھر امام بخاری کا بوجھ آپ میرے پر کیوں ڈال رہے ہیں اگر انہوں نے کسی پر جرح کر کے پھر خود ہی اس سے ہی روایت کی ہے تو اس کا جواب دہ میں کیسے ہوا؟ بات تو حدیث کے حوالے سے چل رہی تھی ورنہ قرآن پر تو سب ہی دارو مدار رکھتے ہیں صرف آپ نہیں اور میری معلومات کے مطابق عقائد میں اقوال امام کی تقلید نہیں ہوتی ۔ میں نے شرک کی بات ہی نہیں کی میں کیسے کسی کی نیت پر مطلع ہو سکتا ہوں جب تک وہ خود اپنی نیت کا اظہار نہ کرے آپ کا کہ
  11. محترم خلیل رانا صاحب میرا مکمل کامنٹ یہ تھا کہ میں نے اس روایت کو موضوع تو کہا ہی نہیں صرف ضعیف کہا ہے اور بقول آپ کے ضعیف حدیث فضائل اعمال میں جائز ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس سے میں اتفاق کرتا ہوں لیکن یہ بات آپ بھی تسلیم کریں گے کہ ضعیف حدیث عقائد کے اندر قبول نہیں ہوتی اور یہاں اس ضعیف روایت سے اثبات عقیدہ کیا جا رہا ہے رہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سماعت کا تو یہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اس سے نبی مکرم کا معجزہ ثابت ہو سکتا ہے اگر اس ضعیف حدیث کو فضائل اعمال کے علاوہ صرف فضائل میں بھی حجت مان لیا جائے
  12. محترم جناب خلیل رانا صاحب بحوالہ پوسٹ نمبر 33 میں نے اس روایت کو موضوع تو کہا ہی نہیں صرف ضعیف کہا ہے اور بقول آپ کے ضعیف حدیث فضائل اعمال میں جائز ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس سے میں اتفاق کرتا ہوں لیکن یہ بات آپ بھی تسلیم کریں گے کہ ضعیف حدیث عقائد کے اندر قبول نہیں ہوتی اور یہاں اس ضعیف روایت سے اثبات عقیدہ کیا جا رہا ہے محترم جناب سعیدی صاحب ابن عدی نے کہا ہے کہ یہ راوی مالک سے اور اہل مدینہ سے روایت کرتا ہے اس کی عام احادیث مستقیم ہوتی ہیں ابن عدی نے یہ نہیں کہا اس کی اہل مدینہ سے روایات مستقیم ہوتی ہیں اور اس راوی کے انکل کا بھی کوئی حال معلوم نہیں یعنی یہ مجہول ال
  13. محترم جناب عقیل احمد آپ کے تفصیلی کامنٹ کا شکریہ بات صرف اتنی سی تھی کہ میں نے اس روایت کو ضعیف کہا تو آپ اس روایت کی صحت ثابت کر دیتے لیکن بجائے اس روایت کی صحت ثابت کرنے کے آپ کو اپنے سوالات پر اصرار ہے ۔ لیکن شاید آپ بات کو گھما پھرا کر اصل بات سے دور رہنا چاہتے ہیں تو میں حتی الوسع آپ کے سوالات کے مختصر جوابات دئے دیتا ہوں تاکہ آپ کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے ۔ جرح اور تعدیل کے حوالے سے چار اقوال ہیں پہلا جرح مبہم مقبول نہیں بلکہ جرح مفسر معتبر ہے دوسرا جرح بغیر سبب کے قبول کی جائے گی جبکہ تعدیل بغیر ذکر سبب کے معتبر نہیں تیسرا جرح و تعدیل دونوں بغیر ذکر سبب کے قبول ہیں چوتھ
  14. اور آپ سے اس ایک روایت کی صحت ثابت نہیں ہورہی حضرت عمر کی اس کرامت کو کلیہ کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟ ایک جزئی واقعہ کو کل پر منطبق کرنا عجیب بات ہے
  15. میرے بھائی بات کو آپ خود بحث برائے بحث کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ اور ایسے سوال پوچھ رہے ہیں جن کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں بنتا ۔ اپنے بارے میں جتنا بتانا ضروری تھا وہ بتا دیا ۔ اب بات تو دلائل کی ہے جس میں ذاتیات کی ضرورت نہیں ہے میں نے تکنیکی باتوں کا انکار نہیں کیا صرف زیادہ تکنیکی باتوں سے گریز کا مشورہ دیا تھا میں نے حدیث کے راویوں پر کچھ جرح پیش کی تھی لیکن آپ سوائے اس بات کہ اگر حدیث کا ضعیف نہ ہونا ثابت کر دیا جائے تو ۔۔ پر ہی ہیں حالانکہ میں نے درخواست کی تھی کہ اس حدیث کی صحت ثابت کر دیں
×
×
  • Create New...