ziabashir

Members
  • Content count

    28
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

0 Neutral

About ziabashir

  • Rank
    Member

Previous Fields

  • Madhab
    Shia

Recent Profile Visitors

104 profile views
  1. محمد علی صاحب سوالات کا جواب تو آپ نے دیا نہیں وہ تو دے دیں کیا بریلوی جناب محمدﷺ کے پاس مکمل نفع نقصان کا اختیار نہیں مانتے ؟ کیا بریلوی جناب محمدﷺ کے بارے میں نہیں مانتے کہ وہ اللہ کی سلطنت میں جیسے چاہیں تصرف کریں؟ اب اگر مانتے ہیں تو محمد علی صاحب آپ کے اقرار کے مطابق یہ شرک ہوا کہ نہیں؟؟ Agar kissi makhlooq kay mutaliq yeh nazria rakha jahay kay woh qulli tor par nafa nuqsaan raziq mushkal kusha ... par qadir heh toh phir us ko Ilah ka darja deeya gaya. Yehni meri taraf say joh aap nay likha heh aur jis mafoom meh khadam nay samja aur apnay ilfaaz meh biyan keeya, us mafoom meh aap ka point bilqul darust heh.
  2. مجھے آپنی غلطی کا اقرار کرنے میں کوئی مسلہ نہیں اللہ مجھ کو کسی پر جھوٹ باندھنے سے بچائے
  3. محمد علی صاحب معذرت کرتا ہوں آپ سے اگر کوئی بات بری لگی ہو جہاں تک بات ہے کہ میں نے آپ پر جھوٹ باندھا محترم آپ نے خود تسلیم کیا ہے Agar kissi makhlooq kay mutaliq yeh nazria rakha jahay kay woh qulli tor par nafa nuqsaan raziq mushkal kusha ... par qadir heh toh phir us ko Ilah ka darja deeya gaya. Yehni meri taraf say joh aap nay likha heh aur jis mafoom meh khadam nay samja aur apnay ilfaaz meh biyan keeya, us mafoom meh aap ka point bilqul darust heh. میرے سوالات کا جواب تو دے دیجئے کیا بریلوی جناب محمدﷺ کے پاس مکمل نفع نقصان کا اختیار نہیں مانتے ؟ کیا بریلوی جناب محمدﷺ کے بارے میں نہیں مانتے کہ وہ اللہ کی سلطنت میں جیسے چاہیں تصرف کریں؟ اب اگر مانتے ہیں تو محمد علی صاحب آپ کے اقرار کے مطابق یہ شرک ہوا کہ نہیں؟؟
  4. محمد علی صاحب نے حق مان لینے کے بعد بھی انکار ہی کا فیصلہ کیا ہے تو ان کی مرضی محمد علی اور رانا خلیل صاحب نے مان لیا تھا کہ عرب کے لوگ آپنے الہٰ کے پاس احتیارات اللہ کے اذن سے سمجھتے تھے اس بات کو باقی لوگ سیدی صاحب نے نہیں مانا اب خلیل رانا صاحب آپنی مانی ہوئ بات سے انکار کر کے سیدی صاحب سے مل گئے ہیں خلیل صاحب آپ نے آپنے دعوے کا ثبوت پیش کرنا تھا وہ کر دیں اور منوا لیں بریلوی مسلک سچاہے کیوں نہیں ثابت کر دیتے؟؟؟ خلیل صاحب آپ نے لکھا تھا مسلمان مومن انبیاء واولیاء میں جو بھی اختیارات مانتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطاء سے مانتا ہے، جب کہ مشرکین کہتے تھے کہ ہم بھی اللہ کی عطا سے اختیارات مانتے ہیں مگر اللہ نے اب ان کو اپنے حکم میں نہیں رکھا ، اَب یہ جو چاہیں کرسکتے ہیں،مشرکین کا یہی استقلال کا عقیدہ ان کو معبود بناتا ہے، جس کی تردید قرآن کریم میں جگہ جگہ ہے۔ میرا موقف پہلی پوسٹ سے لے کر ابھی تک وہی ہے تبدیل نہیں ہوا گفتگو کا فیصلہ ہو اس لئے پچھلی کئی پوسٹوں سے میں شرک کی ایک صورت اللہ کے سوا کسی اور ہستی کو نفع نقصان کا مالک مان لینا پر بات کر رہا تھا۔ یہ لکھا تھا میں نے پہلی پوسٹ میں کسی ہستی کے بارے میں سمجھنا کہ وہ نفع نقصان کا اختیار رکھتی ہے یہی تو ہے اُس ہستی کو الٰہ بنانا۔ اسی بات کی وضاحت کی میں نے پوسٹ نمبر 82 نفع نقصان کا اختیار ہونے سے میری مراد نفع نقصان کا مالک ہونا ہے کسی ہستی کے بارے میں سمجھنا کہ اب وہ ہر نفع کو دے سکے ہر نقصان سے بچا سکے کوئ بھی کسی بھی قسم کا ہو، زرق نہیں مل رہا بیٹا چاہیے، کسی بھی بیمارئ سے جسے مرضی نجات دہ دے، ہر مشکل پریشانی کو دور کر سکےیاں کسی کو کسی بھی مشکل پریشانی میں ڈال سکے، جو نعمت چاہے دے جو نعمت چاہے روک لے عرض ہے کہ پورا اختیار کسی کو جو چاہے دے کسی بھی سے جو چاہے روک لے۔ اللہ کی سلطنت میں جیسے چاہے تصرف کر سکے یہ ہے اس ہستی کو الہٰ بنانا۔ امید ہے میرا موقف آپ کو سمجھ آ گیا ہے کہ میں کس چیز کوالہٰ بنانا کہہ رہا ہوں میرا موقف تبدیل ہر گز نہیں ہوا آپ نے اگر غلط سمجھا تو میرا کیا قصور آپ لوگوں کی طرف سے آپنے نام نہاد اصولوں کا ثبوت نہیں آتا بلا وجہ بات کو آپ لمبی کر رہے ہیں ثابت کر دیں مخلوقات کیلئے ذاتی اور عطائی کا اصول اور منوا لیں بریلوی مسلک سچا ہے بغیر ثابت کئے آپ ادھر ادھر کی بات کرتے جا رہے ہیں افسوس مجھے ذیادہ محمد علی صاحب پر ہے خود مان لینے کے بعد کے Agar kissi makhlooq kay mutaliq yeh nazria rakha jahay kay woh qulli tor par nafa nuqsaan raziq mushkal kusha ... par qadir heh toh phir us ko Ilah ka darja deeya gaya. Yehni meri taraf say joh aap nay likha heh aur jis mafoom meh khadam nay samja aur apnay ilfaaz meh biyan keeya, us mafoom meh aap ka point bilqul darust heh. محترم محمد علی صاحب یہی بات حق ہے جو آپ نے مان لی اب میرا آپ سے سوال ہے کہ جناب کیا بریلوی اللہ کے سوا کسی اور ہستی کے پاس مکمل نفع نقصان کا اختیار مانتے ہیں؟ بریلوی اللہ کے سوا کسی ہستی کے بارے میں مانتے ہیں کہ وہ اللہ کی سلطنت میں جیسے چاہے تصرف کر سکے جو چاہے کسی کو دے جو چاہے کسی سے روک لے؟ آپ کا مسلک ہے آپ بتا دیجئے ۔ آپ نے سوالوں کا جواب نہیں دیا کیوں ؟؟ کس چیز کی پردہ داری ہے محمد علی آپ جہاں تک بات ہے اللہ کی صفات کی اللہ کو اُن تمام صفات میں (جو قرآن حدیث سے ثابت ہیں) یکتا بے مثال اور لا شریک مانتا ہوں میں نے یہ نہیں لکھا اللہ کے اختیارات ذاتی نہیں مجھ پر تہمت نہ لگا ئیں۔ میری بات بلکل صاٖف ہے احمد لاہوری کا مسلہ یہ ہے کہ وہ الہٰ ہونے کو اللہ ہونے پر قیاس کر رہے ہیں یعنی جو اللہ کے لئے مانتے ہو بلکل وہی کسی اور کے لئے مانو تو شرک ہو گا وہ ہستی الہٰ قرار پائے گی۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں آپ کو بلکل وہی کا لفظ کا کیا مطلب ہے آپ کو نہی پتا ؟ اللہ کے سوا کسی کو الہٰ بنانے کیلئے لازمی نہیں وہ تمام صفات اس ہستی میں مانی جائیں جو اللہ کے لئے ہیں۔ اتنی سی بات آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی اس لئے لوگوں میں پھر کہہ دیتا ہوں کہ آپ آپنے بنائے خودساختہ اصول استقلال ذاتی کو الہٰ ہونے کی شرط ثابت کر دیں اور مجھ سے منوا لیں بریلوی مسلک سچا ہےبلا وجہ بات کو لمبی نا کریں ثبوت دیں جو آپ کو پہلے دینا چاہیے تھا اللہ ہم کو حق مان لینے کی توفیق دے آمین
  5. محمد علی صاحب آپ کی دعا کا شکریہ اللہ ہم کو حق سمجھنے اور مان لینے کی توفیق دے آمین۔ آپ کی پوسٹ پڑھ کر دل کو خوشی ہوئی آپ کی پوسٹ سے لگ رہا کہ آپ فیصلہ دلیل پر کرتے ہیں ۔ پھر آپ نے ذکر کیا علم غیب پر گفتگو اور کافی عجیب بات کی ایک وہابی کے بارے میں خیر یہ میرا موضوع نہیں۔ آپ نے لکھا ZiaBashir baee ko be yahi problem heh, Tawheed kay bunyadi asool o zawabat ka ilm nahin in ko, jis waja say ek sans meh; agar is ko makhlooq kay leyeh mana jahay toh makhlooq ilah ban jati heh, aur phir dosray jumlay meh wohi baat makhlooq kay leyeh sabat kartay hen aur Ilah nahin banta. Abh yeh kahen gay kay meh nay in ko tana mara heh, halan kay haq yahi heh kay janab ko nahin pata, aur agar pata hota toh joh kichri pakki heh woh nah pakti. Baee, mera mashwara heh kay aap hamaray asool o zawabat seekhen aur phir in ko azma kar dekh lenh. Yaqeen karen jistera ham aap kay asooloon kay mutabiq ham aap par Quran o Hadith say ihtiraz warid kartay hen aap hamaray asool o zawabat par Quran o hadith kee rooh say ham par kohi ihtiraz warid nah kar pahen gay. Meh Wahhabi aur Deobandi reh chooka hoon, aur meh aap ko ba hasiyat e sahib e tarjurba keh raha hoon. Agar aap kay asool o zawabat Quran o Hadith kay mutabiq hotay toh meh kabi bi Sunni nah hota. محمد علی صاحب اصول و ضوابط کی بات کی آپ نے محترم یہ بات ذہن مین رکھ لیجئے جو بھی اصول آپ بنائیں پہلے اس اصول کو قرآن اور حدیث کی دلیل سے ثابت کریں پھر اس اصول کو استعمال کریں نہ کہ یہ اصول بغیر دلیل کے استعمال کریں۔ آپ دیوبندی اور وہابی میں رہ چکے ہیں اور آپ کو ان کے اصول غلط لگے اور آپنے خیال میں آپ ان کے اصولوں پر اعتراض کر رہے ہیں مجھ پر بھی کئے آپ نے کچھ کی وضاحت میں کر چکا ہوں۔ محمدعلی صاحب آپ نے لکھا: Salam alayqum, Khadam nay lafz 'har'/'kissi bi' ko 'qull' kay mafoom meh samja, yehni Allah kay jesa 'qull', jis mafoom meh Allah kay leyeh har/ every/ qulli/ ka lafz bola jata heh. Meh nay aap ki likhi huway ko ba-ghor para aur Ahle Sunnat kay asool o zawabat kay mutabiq paya. Agar kissi makhlooq kay mutaliq yeh nazria rakha jahay kay woh qulli tor par nafa nuqsaan raziq mushkal kusha ... par qadir heh toh phir us ko Ilah ka darja deeya gaya. Yehni meri taraf say joh aap nay likha heh aur jis mafoom meh khadam nay samja aur apnay ilfaaz meh biyan keeya, us mafoom meh aap ka point bilqul darust heh. وعلیکم اسلام: آپ کا جواب پڑھ کر خوشی ہوئی آپ نے مان لیا کہ Agar kissi makhlooq kay mutaliq yeh nazria rakha jahay kay woh qulli tor par nafa nuqsaan raziq mushkal kusha ... par qadir heh toh phir us ko Ilah ka darja deeya gaya. Yehni meri taraf say joh aap nay likha heh aur jis mafoom meh khadam nay samja aur apnay ilfaaz meh biyan keeya, us mafoom meh aap ka point bilqul darust heh. محترم محمد علی صاحب یہی بات حق ہے جو آپ نے مان لی اب میرا آپ سے سوال ہے کہ جناب کیا بریلوی اللہ کے سوا کسی اور ہستی کے پاس مکمل نفع نقصان کا اختیار مانتے ہیں؟ بریلوی اللہ کے سوا کسی ہستی کے بارے میں مانتے ہیں کہ وہ اللہ کی سلطنت میں جیسے چاہے تصرف کر سکے جو چاہے کسی کو دے جو چاہے کسی سے روک لے؟ آپ کا مسلک ہے آپ بتا دیجئے ۔ جہاں تک آپ نے بات کی حقیقی اور مجازی ملکیت کی وہ تو سیدھی بات ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے اللہ ہر چیز کا مالک ہے ہمارے پاس جو ملکیت و اختیار ہے وہ عارضی ہے اس کو مجازی کہہ لو لیکن یہ غلط ہے کہ حقیقی اور مجازی کی تقسیم کر کے مخلوق کے پاس وہ اختیار مان لو جو صرف اللہ کے لئے خاص ہیں جیسے نفع نقصان کا مالک ہونا اور زندگی موت کا ما لک ہونا۔ پھر محمد علی صاحب آپ نے آپنے مسلک کے اصول بتائے اور ان پر اعتراض کے جوابات بھی دئے آپ نے لکھا: Note: Allah ki har khoobi/sift Zaati, Qulli, Haqiqi, Bi Ghayr Izni, Qadeem, Daimi, Istiqlali kay mafoom meh heh. Ilah Ka Tayyun: Kissi bi makhlooq ko zaat ya kissi be khoobi ko Zaati, Qulli, Haqiqi, Bi Ghayr Izni, Qadeem, Daimi, Istiqlali ... mafoom kay mutabiq man-na us ko Ilah bana heh. Ihtiraz: Abh is par aap ka ihtiraz heh kay agar yeh darust heh toh phir Mushrikeen bi Mushrik nahin keun kay woh Allah kee Atah say tamam khoobiyan apnay khudahoon say mantay thay. محمد علی صاحب بریلوی مسلک کے کیا اصول ہیں یہ میں آچھی طرح جانتا ہوں میں بھی بریلوی مسلک میں ہی پیدا ہوا ہوں بچپن سے یہی سن کر بڑا ہوا ہوں کہ احمد رضا خان مجدد دین و ملت ہیں۔ میں نے آپنی پوسٹ کا آغاز ہی ایسا کیا تھا کہ بریلوی خودساختہ اصولوں کا باطل ہونا ظاہر ہو جائے آپ نے بھی وہی بات دہرا دی جو خلیل رانا صاحب نے میری پوسٹ کے جواب میں کہی تھی اور ابھی تک ثابت نہیں کر پائے۔ کسی ہستی کو الہٰ ماننے کیلئے آپ نے اصول بیان کیا ہے جو واجب الوجود اور پھر وہی استقلال ذاتی کا ہی ہے الفاظ تھوڑے بڑھا دئے ہیں۔ کسی ہستی کو الہٰ بنانے کیلئے واجب الوجود کی شرط نہیں اس لئے میں نے اس پر بات چھوڑ دی ۔ محترم اوپر آپ نے اقرار کیا ہے Agar kissi makhlooq kay mutaliq yeh nazria rakha jahay kay woh qulli tor par nafa nuqsaan raziq mushkal kusha ... par qadir heh toh phir us ko Ilah ka darja deeya gaya. Yehni meri taraf say joh aap nay likha heh aur jis mafoom meh khadam nay samja aur apnay ilfaaz meh biyan keeya, us mafoom meh aap ka point bilqul darust heh. محترم بتا دیجئے کسی ہستی کے پاس کلی نفع نقصان کا اختیار ماننا اس کو الہٰ بنا نا ہے کہ نہیں چاہے ماننے والا اس ہستی کے پاس اللہ کے اذن سے اختیار مانے۔ اور بریلوی اللہ کے سوا کس ہستی کے پاس کلی نفع نقصان کا اختیار مانتے ہیں اللہ کے اذن سے؟؟؟؟ اور خودی آپ نے اعتراض بھی نقل کر دیا اور واقعی یہ اعتراض آپ کےاصول کو باطل ثا بت کر رہا ہے اور جو وضاحت آپ نے کی کمال ہی کر دیا کہتے ہیں وہ ان کا الہٰ مان کر ان کے پاس اللہ کے اذن سے اختیارات مانتے تھے جھگڑا ہی ختم ہوا اللہ الٹی سمجھ سے بچائے الہٰ ماننا ہے کیا اسی پر تو گفتگو ہے یہ ہم ایک دوسرے کو بتانے کی کوشش کر رہے ہیں محترم فرق پڑتا ہے وہ اللہ کے اذن سے اختیارات مانتے تھے اس سے آپ کے اصول پر وہ مشرک ثابت نہیں ہوتے اور آپ کی وضاحت بلکل بیکار ہے میرے دوست ایک دم سے کسی ہستی کے بارے میں کہیں گے کہ یہ اب ہمارا الہٰ ہے نہیں پہلے آپ اس میں کچھ مانیں گیں تو وہ الہٰ بنے گی کیا مانیں گیں یہ ہمارا موضوع ہے ۔ Wazahat: Is par wazahat yeh heh kay chalen bil farz ham aap ki baat ko haq tasleem kar letay hen, magar is ka aap bi inqar nahin kar saktay kay unoon nay Ilah maan kar khoobiyan Atahi maneeh hen. Hamaray asool o zawabat kay mutabiq sirf makhlooq Ilah man-na hi Shirk akbar kay lazam honay kay leyeh kafi heh. Is leyeh khoobiyoon kay zaati ya atahi honay ka nazria rakhnay say un kay Mushrik honay meh farq nahin parray ga. Haqiqat yeh heh kay Mushrik apnay khudahoon kay leyeh khoobiyan Atahi mantay thay, magar un khoobiyoon kay tasarruf meh apnay khudahoon ko Allah ka mohtaj nahin mantay thay balkay khud mukhtar mantay thay, aur yeh khud mukhtari ka nazria un kay Shirk kee dosri waja banta thah, pehli waja makhlooq meh say kissi ko Ilah maan lena hee Shirk heh. اسی طرح کا اصول بغیر دلیل کے احمد لاہوری نے بھی پیش کیا بالفاظ دیگر اگر کہا جائے کہ الٰہ ماننے کے لیے ذاتی قدرت و اختیار کا پایا جانا ضروری نہیں، تو پھر ذات باری تعالیٰ کے لیے بھی ذاتی قدرت و اختیار کا ماننا ضروری نہ رہا، کہ یہ صفت الوہیت ہی نہیں۔ اور اگر ذات باری تعالیٰ کے لیے ذاتی قدرت اور اختیار کا مالک ہونا لازم مانا جائے تو پھر غیر اللہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ غیر مستقل اختیار تسلیم کرنا شرک نہیں ہو گا، کہ جب ملکیت نہیں پائی جا رہی تو شرکت و برابری کیسی؟ اور اگر یوں کہا جائے کہ اختیار کا غیر کے اذن کے تحت ہونا الٰہ ہونے سے مانع نہیں، تو اس سے لازم آئے گا کہ ذات باری تعالیٰ کی قدرت و اختیار کا غیر کے اذن کے تحت ہونا بھی ممنوع نہ ہو۔ بصورت دیگر اگر کہا جائے کہ الٰہ ہونے کے لیے اختیار کا کسی کے اذن و منشا کے تحت نہ ہونا لازم ہے، ایسے میں کسی غیر اللہ کے اختیار کو تحت اذن الٰہی ماننے سے شرک ثابت نہ ہو گا، کہ شرط مفقود ہوئی۔ تو فرمائیے کیا آپ اللہ تعالیٰ کی قدرت و اختیار کو کسی کا عطا کردہ سمجھتے ہیں؟ اگر نہیں، تو کسی غیر اللہ میں غیر مستقل اور اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ اختیار ماننے سے شرکت و برابری کیسے ثابت ہو گی؟ کیا آپ قدرت و اختیار الٰہی کو غیر کے اذن کے تحت مانتے ہیں؟ اگر نہیں تو غیر اللہ کا اختیار جو تحت اذن الٰہی ہو، اس کے ماننے سے باری تعالیٰ سے شراکت و برابری کیونکر ہو گی؟ آپنے پاس سے اصول بنا لینے کا ایک مسلہ ہے ایک تو آپ وہ ثابت نہیں کر پاتے دوسرا ایسی مثال مل جاتی ہے جس پہ وہ اصول کام نہیں کرتا اور اس کا باطل ہونا ظاہر ہو جاتا ہے۔ احمد لاہوری کا مسلہ یہ ہے کہ وہ الہٰ ہونے کو اللہ ہونے پر قیاس کر رہے ہیں یعنی جو اللہ کے لئے مانتے ہو بلکل وہی کسی اور کے لئے مانو تو شرک ہو گا وہ ہستی الہٰ قرار پائے گی۔ شرک کی ایک قسم نہیں کئی قسمیں ہیں الہٰ کا مفہوم بڑھا وسیع ہے۔ میں اب صرف الہٰ بنانے کی ایک صورت پر بات کر رہا ہوں کسی ہستی کو نفع نقصان کا مالک سمجھنا اس کو الہٰ بنانا ہے ۔ یہ کام کیا تھا عرب کے لوگوں نے پر نہ تو وہ ان کو واجب الوجود مانتے تھے اور نہ ان کے اختیارات ذاتی مانتے تھے ۔ عرب کے لوگوں کو اللہ اکبر کا اقرار تھا بڑی مصیبت میں وہ صرف اللہ کو پکارتے تھے یعنی اللہ کے سوا کسی کو نفع نقصان کا مالک ماننا شرک ہے جو شرطیں اور اصول بریلوی لوگوں نے آپنی عقل سے بنائے ہیں وہ باطل ہیں عرب کے لوگوں کا شرک بھی ان بریلوی اصولوں پر شرک ثابت نہیں ہوتا ۔ کچھ دلائل دوبارہ نقل کر دوں احمد لاہوری صاحب کیلئے 1۔ مشرکینِ مکہ کے عقائد اللہ کے بارے میں مشرکین: ہمارے الہٰ کے پاس جو اختیار ہے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے۔ ہمارے الٰہوں کا مالک اللہ ہے۔ 23.84. قُلۡ لِّمَنِ الۡاَرۡضُ وَ مَنۡ فِیۡہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ٘ 23.84. پوچھیے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو۔ 23.85. سَیَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰہِ ؕ قُلۡ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ٘ 23.85. فوراً جواب دیں گے کہ اللہ کی، کہہ دیجئے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے۔ 23.86. قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبۡعِ وَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ ٘ 23.86. دریافت کیجئے کہ ساتوں آسمانوں کا اور بہت با عظمت عرش کا رب کون ہے؟ 23.87. سَیَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰہِ ؕ قُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ٘ 23.87. وہ لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے (١)۔ 23.88. قُلۡ مَنۡۢ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ یُجِیۡرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ٘ 23.88. پوچھئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناہ دیتا ہے (١) اور جس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دیا جاتا (٢) اگر تم جانتے ہو تو بتلاؤ؟ 23.89. سَیَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰہِ ؕ قُلۡ فَاَنّٰی تُسۡحَرُوۡنَ ٘ 23.89. یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجئے پھر تم کدھر جادو کر دیئے جاتے ہو (١) 23.90. بَلۡ اَتَیۡنٰہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ٘ 23.90. حق یہ ہے کہ ہم نے انہیں حق پہنچا دیا ہے اور یہ بیشک جھوٹے ہیں۔ 29.61. وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ۚ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ٘ 29.61. اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین و آسمان کا خالق اور سورج اور چاند کو کام میں لگانے والا کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ(١) پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں (٢) 29.62. اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ وَ یَقۡدِرُ لَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ٘ 29.62. اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ (١) یقیناً اللہ تعالٰی ہرچیز کا جاننے والا ہے (٢)۔ 29.63. وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِہَا لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ٘ 29.63. اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا اللہ تعالٰی نے۔ آپ کہہ دیجئے کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، بلکہ ان میں اکثر بے عقل ہیں (١)۔ 31.32. وَ اِذَا غَشِیَہُمۡ مَّوۡجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ فَمِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوۡرٍ ٘ 31.32. اور جب سمندر پر موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو وہ (نہایت) خلوص کے ساتھ اعتقاد کر کے اللہ تعالٰی ہی کو پکارتے ہیں (١) پھر جب وہ (باری تعالیٰ) انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچاتا ہے تو کچھ ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں (۲) اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو بدعہد اور ناشکرے ہوں۔ (۳) 39.38. وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلۡ اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلۡ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖۤ اَوۡ اَرَادَنِیۡ بِرَحۡمَۃٍ ہَلۡ ہُنَّ مُمۡسِکٰتُ رَحۡمَتِہٖ ؕ قُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ؕ عَلَیۡہِ یَتَوَکَّلُ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ٘ 39.38. اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ آپ ان سے کہئے کہ اچھا یہ تو بتاؤ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالٰی مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالٰی مجھ پر مہربانی کا ارادہ کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے (١) توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں (٢)۔ 10.31. قُلۡ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اَمَّنۡ یَّمۡلِکُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ مَنۡ یُّخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ یُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ وَ مَنۡ یُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ؕ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ اللّٰہُ ۚ فَقُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ٘ 10.31. آپ کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وہ یہی کہیں گے کہ ' اللہ ' (١) تو ان سے کہیئے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے۔ صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 321 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0 عباس بن عبدالعظیم، نضر بن محمد یمامی، عکرمہ یعنی ابن عمار، ابوزمیل، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے لیبک لا شریک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہلاکت ہو تمہارے لئے اس سے آگے نہ کہو مگر مشرکین کہتے مگر ایک شریک۔ اے اللہ تو اس کا مالک ہے اور اس کے مملوک کا بھی، یہ کہتے اور بیت اللہ کا طواف کرتے۔ محترم میں چاہتا ہوں کہ ہماری گفتگو کا فیصلہ ہو میں پھر گزارش کر دیتا ہوں یہ ذاتی اور عطائی کی تقسیم کااصول قرآن اور حدیث سے ثابت کر دیں میں مان لوں گا بریلوی مسلک سچا ہے لیکن آپ یہ کر نہیں پائیں گیں۔ ثابت کرنے کا مطالبہ کرتے اتنی لمبی گفتگو ہو چکی ہے خلیل رانا صاحب تو غائب ہو چکے دعوی کرنے کے بعد اللہ ان کو عافیت دے شائد کہیں مصروف ہوں گے۔ اللہ ہم کو ہر گمراہی سے بچا لے آمین
  6. اللہ ہم کو ہر گمراہی سے بچا لے قرآن کی صاف آیات اور صاف احادیث نقل کر دیں کہ جناب نوح علیہ اسلام جناب لوط علیہ اسلام جناب عیسیٰ علیہ اسلام جناب محمدﷺ بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور آپ لوگ ہیں کہ مان لینے کو تیار نہیں۔ میرا موقف بلکل صاف بیان کر دیا ہے میں نے کسی ہستی کے بارے میں سمجھنا کہ اب وہ ہر نفع کو دے سکے ہر نقصان سے بچا سکے کوئ بھی کسی بھی قسم کا ہو، زرق نہیں مل رہا بیٹا چاہیے، کسی بھی بیمارئ سے جسے مرضی نجات دہ دے، ہر مشکل پریشانی کو دور کر سکےیاں کسی کو کسی بھی مشکل پریشانی میں ڈال سکے، جو نعمت چاہے دے جو نعمت چاہے روک لے عرض ہے کہ پورا اختیار کسی کو جو چاہے دے کسی بھی سے جو چاہے روک لے۔ اللہ کی سلطنت میں جیسے چاہے تصرف کر سکے یہ ہے اس ہستی کو الہٰ بنانا۔ آپ لوگوں کو اس بات میں کوئی اختلاف ہے تا بیان کی جئے تاکہ گفتگو نتیجہ خیز ہو اللہ آپ کو سمجھ دے دین کی اللہ سے دعا ہے اللہ ہم کو ہر گمراہی سے بچالے آمین
  7. وسیم صاحب کی پوسٹ کا بندہ کیا جواب دے جواب میں سلام کرنا ہی بہتر ہے اللہ آپ کو دین کی سمجھ دے آمین۔ احمد لاہوری صاحب شائد واقعی الفاظ کا چناؤ غلط ہے میری طرف سے ایک کوشش اور کرتا ہوں احمد صاحب آپ نے لکھا احمد لاہوری کی کیا مجال ہے جناب کہ امریکہ یا فرعون کو نفع نقصان کا مالک مانے۔ مگر امریکہ اور فرعون کے لیے ظلم کا اختیار تو آپ بھی مانتے ہیں، اگرچہ تھوڑا بہت سہی، جس کا آپ اظہار بھی کر چکے۔ ایسے میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نہیں ہو جاتی کہ خود آپ کے نزدیک محض اختیار ماننا غلط نہیں، بلکہ اسے بعض دیگر شرائط کے ساتھ مقید ماننا۔ اگرچہ اس بات کا اظہار کرنے میں آپ کو تردد ہو۔ جی جناب آپ فرعون اور امریکہ کو نفع نقصان کا مالک نہیں مانتے اگر چہ انہوں نے نقصان پہنچایا نفع نقصان کا اختیار ہونے سے میری مراد نفع نقصان کا مالک ہونا ہے کسی ہستی کے بارے میں سمجھنا کہ اب وہ ہر نفع کو دے سکے ہر نقصان سے بچا سکے کوئ بھی کسی بھی قسم کا ہو، زرق نہیں مل رہا بیٹا چاہیے، کسی بھی بیمارئ سے جسے مرضی نجات دہ دے، ہر مشکل پریشانی کو دور کر سکےیاں کسی کو کسی بھی مشکل پریشانی میں ڈال سکے، جو نعمت چاہے دے جو نعمت چاہے روک لے عرض ہے کہ پورا اختیار کسی کو جو چاہے دے کسی بھی سے جو چاہے روک لے۔ اللہ کی سلطنت میں جیسے چاہے تصرف کر سکے یہ ہے اس ہستی کو الہٰ بنانا۔ امید ہے میرا موقف آپ کو سمجھ آ گیا ہے کہ میں کس چیز کوالہٰ بنانا کہہ رہا ہوں سیدی صاحب کیا کہنے آپ کے میں آپ کی طرح بغیر دلیل کے دعوے کرنے کا کام نہیں کرتا عرب کے لوگ آپنے الہٰ کے پاس اختیارات اللہ کے اذن سے مانتے تھے یعنی وہ مانتے تھے کہ ان کے الہٰ کا مالک بھی اللہ ہے یہ سب میں نے آپنی سب سے پہلی پوسٹ میں دلیل کے ساتھ بیان کیا ہے وہ دوبارہ پڑھ لیں
  8. احمد لاہوری صاحب میں کوشش کرتا ہوں وضاحت کی آگر چہ پہلے بھی کر چکا ہوں کوئی کسی کو نقصان پہنچائے یا نفع اس سے وہ نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا نفع نقصان کا اختیار ہونا اس سے بلند تر چیز ہے۔ فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم کئے کفار عرب نے جناب محمدﷺ پر ظلم کئے ، آج کافر مسلمانوں پر ظلم کر رہے قتل کر رہے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ فرعون نفع نقصان کا مالک تھا یاں کفار عرب نفع نقصان کے مالک تھے یاں آج کل امریکہ یاں روس نفع نقصان کے مالک ہیں اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے ایک دوسرے کے ذریعے ہم آزمائے جاتے ہیں کل قیامت کو ہمیں ہر بات کا حساب دینا ہے ۔ احمد لاہوری صاحب کیا آپ فرعون کو امریکہ کو نفع نقصان کا مالک مانتے ہیں؟؟ میں نے پہلے بھی لکھا تھا اور اب دوبارہ لکھ رہا ہوں بات سمجھ لی جئے کسی ہستی کا نفع نقصان کا اختیار رکھنے کا یاں محتار کل ہونے کا مطلب ہے اب وہ ہر نفع کو دے سکے ہر نقصان سے بچا سکے کوئ بھی کسی بھی قسم کا ہو، زرق نہیں مل رہا بیٹا چاہیے، کسی بھی بیمارئ سے جسے مرضی نجات دہ دے، ہر مشکل پریشانی کو دور کر سکےیاں کسی کو کسی بھی مشکل پریشانی میں ڈال سکے، جو نعمت چاہے دے جو نعمت چاہے روک لے عرض ہے کہ پورا اختیار کسی کو جو چاہے دے کسی بھی سے جو چاہے روک لے۔ اللہ کی سلطنت میں جیسے چاہے تصرف کر سکے۔ محترم یہ بات میں آپ کو بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ کسی ہستی کے بارے میں یہ سمجھنا جو میں نے اوپر بیان کیں ہیں یہ اس ہستی کو الہٰ بنانا ہے اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں اللہ کے سوا ایسی کوئی ہستی نہیں جس کا حکم ارادہ زمین اور آسمان کی اس سلطنت میں نافذ ہو اللہ آپنے اختیارات میں کسی کو شریک نہیں کرتا ۔
  9. احمد لاہوری صاحب اگر آپ نے پڑھا ہے تو میری بات صاف ہے کیا زرداری کو پاکستان کی حکومت نہیں ملی تھی ؟ آج نواز شریف پاکستان کا حکمران ہے اختیارات کچھ نہ کچھ تو سب کو ملتے ہیں لوگ ایک دوسرے کو نفع نقصان بھی پہنچا دیتے ہیں۔ میں صاف صاف بتا چکا ہوں اللہ کے سوا کسی کے پاس کونسا اختیار ماننا شرک ہے کسی ہستی کے بارے میں سمجھنا کہ وہ نفع نقصان کا اختیار رکھتی ہے یہی تو ہے اُس ہستی کو الٰہ بنانا۔ کسی ہستی کے بارے میں سمجھنا کہ وہ ہر مشکل پریشانی دور کر سکتی ہے یہی تو ہے اُس کو الٰہ بنانا۔ کسی ہستی کے بارے میں سمجھنا کہ وہ اللہ کی زمین اور آسمان کی اِس سلطنت میں تصرف کر سکتی ہے یہی تو ہے اُس کو الٰہ بنانا۔ سیدی صاحب شرک کی وکالت میں نہیں آپ لوگ کر رہے ہیں میں صرف یہ بتا رہاہوں کہ جو آپ کا تصور شرک ہے اس سے تو عرب کے لوگ بھی مشرک ثابت نہیں ہوتے وہ بھی اللہ کے اذن سے اختیارات مانتے تھے وہ بھی اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے کہ اللہ نے ہمارے الہٰ کو نفع نقصان اور مشکل پر یشانیاں دور کرنے کے اختیارات دئے ہیں وہ مانتے تھے کہ ان کے الہٰ کا مالک بھی اللہ ہے آگے جو آپ لوگوں کا دعویٰ ہے مگر اللہ نے اب ان کو اپنے حکم میں نہیں رکھا ، اَب یہ جو چاہیں کرسکتے ہیں،مشرکین کا یہی استقلال کا عقیدہ ان کو معبود بناتا ہے یہ سرا سرا جھوٹا دعوی ہے اس دعوے کو غلط مان لیں تو پھر آپ عرب کے لوگوں کو بھی مشرک ثابت نہیں کر سکتے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں آپ لوگ اس دعوے کو قرآن اور حدیث سے ثابت کیوں نہیں کر دیتے اگرسچے ہو تو آپ کو بات سمجھ نہیں آ رہی اللہ نے کسی ہستی کو نفع نقصان کا اختیار نہیں دیا نہ ود کو نہ سواع کو نہ یغوث کو نہ منات کو نہ عزی کونہ کسی برے کو اور نہ کسی آچھے کو اللہ نے جناب نوح علیہ اسلام کو بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں دیا جناب نوح علیہ اسلام 950 سال تبلیغ کی قوم نے بات نہیں مانی بہت تھوڑے لوگ ایمان لاے۔ آپ نے اللہ سے دعا کی میں بےبس ہوں( مغلوب ہوں) تو میری مدد فرما۔ 11.27. فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ ٘ 11.27. اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں (١) اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح طور پر سوائے نیچ (٢) لوگوں کے (٣) اور کوئی نہیں جو بے سوچے سمجھے (تمہاری پیروی کر رہے ہیں) ہم تو تمہاری کسی قسم کی برتری اپنے اوپر نہیں دیکھ رہے، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھ رہے ہیں۔ 11.28. قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَآتَانِي رَحْمَةً مِّنْ عِندِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَارِهُونَ ٘ 11.28. نوح نے کہا میری قوم والو! مجھے بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوا اور مجھے اس نے اپنے پاس کی کوئی رحمت عطا کی ہو (١) پھر وہ تمہاری نگاہوں میں (٢) نہ آئی تو کیا یہ زبردستی میں اسے تمہارے گلے منڈھ دوں حالانکہ تم اس سے بیزار ہو (٣)۔ 11.29. وَيَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۚ وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ إِنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ وَلَٰكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ ٘ 11.29. میری قوم والو! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا (١) میرا ثواب تو صرف اللہ تعالٰی کے ہاں ہے نہ میں ایمان داروں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں (٢) انہیں اپنے رب سے ملنا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو (٣)۔ 11.30. وَيَا قَوْمِ مَن يَنصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِن طَرَدتُّهُمْ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٘ 11.30. میری قوم کے لوگو! اگر میں ان مومنوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلے میں میری مدد کون کر سکتا ہے (١) کیا تم کچھ بھی نصیحت نہیں پکڑتے۔ 11.31. وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا ۖ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنفُسِهِمْ ۖ إِنِّي إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ ٘ 11.31. میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، میں غیب کا علم بھی نہیں رکھتا، نہ یہ میں کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، نہ میرا یہ قول ہے کہ جن پر تمہاری نگاہیں ذلت سے پڑ رہی ہیں انہیں اللہ تعالٰی کوئی نعمت دے گا ہی نہیں (١) ان کے دل میں جو ہے اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے، اگر میں ایسی بات کہوں تو یقیناً میرا شمار ظالموں میں ہو جائے گا (٢)۔ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ ٘ 54.9. ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا (١)۔ 54.10. فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ ٘ 54.10. پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر۔ نوح علیہ اسلام آپنے بیٹے کے نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔ 11.42. وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ الْكَافِرِينَ ٘ 11.42. وہ کشتی انہیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر جا رہی تھی (١) اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ رہ (٢)۔ 11.43. قَالَ سَآوِي إِلَىٰ جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ ۚ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ ٘ 11.43. اس نے جواب دیا کہ میں تو کسی بڑے پہاڑ کی طرف پناہ میں آجاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا (١) نوح نے کہا آج اللہ کے امر سے بچانے والا کوئی نہیں، صرف وہی بچیں گے جن پر اللہ کا رحم ہوا۔ اسی وقت ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وہ ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا (٢)۔ 11.44. وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ٘ 11.44. فرما دیا گیا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل جا (١) اور اے آسمان بس کر تھم جا، اسی وقت پانی سکھا دیا گیا اور کام پورا کر دیا گیا (٢) اور کشتی ' جودی ' نامی (٣) پہاڑ پر جا لگی اور فرما دیا گیا کہ ظالم لوگوں پر لعنت نازل ہو (٤)۔ 11.45. وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ ٘ 11.45. نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے، یقیناً تیرا وعدہ بالکل سچا ہے اور تو تمام حاکموں سے بہتر حاکم ہے (١)۔ 11.46. قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ ٘ 11.46. اللہ تعالٰی نے فرمایا اے نوح یقیناً وہ تیرے گھرانے سے نہیں ہے (١) اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں (٢) تجھے ہرگز وہ چیز نہ مانگنی چاہیے جس کا تجھے مطلقا علم نہ ہو (٣) میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے (٤)۔ 11.47. قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ ٘ 11.47. نوح نے کہا میرے پالنہار میں تیری ہی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وہ مانگوں جس کا مجھے علم ہی نہ ہو اگر تو مجھے نہ بخشے گا اور تو مجھ پر رحم نہ فرمائے گا، تو میں خسارہ پانے والوں میں ہو جاؤنگا (١)۔ اللہ نے جناب لوط علیہ اسلام کو نفع نقصان کا اختیار نہیں دیا جب فرشتے لوط علیہ اسلام کے پاس نوجوانوں کی شکل میں آئے تو آپ پریشان ہو گئے قوم سے مقابلے کی طاقت آپ علیہ اسلام کے پاس نہ تھی کہ آپنے مہمانوں کو بچا سکیں۔ 11.77. وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ ٘ 11.77. جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے بہت غمگین ہوگئے اور دل ہی دل میں کڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مصیبت کا دن ہے (١) 11.78. وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ ۚ قَالَ يَا قَوْمِ هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي ۖ أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ ٘ 11.78. اور اس کی قوم دوڑتی ہوئی اس کے پاس آپہنچی، وہ تو پہلے ہی سے بدکاریوں میں مبتلا تھی (١) لوط نے کہا اے قوم کے لوگو! یہ میری بیٹیاں جو تمہارے لئے بہت ہی پاکیزہ ہیں (٢) اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں (٣)۔ 11.79. قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ ٘ 11.79. انہوں نے جواب دیا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ ہمیں تو تیری بیٹیوں پر کوئی حق نہیں ہے اور تو اصلی چاہت سے بخوبی واقف ہے (١) 11.80. قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ ٘ 11.80. لوط نے کہا کاش مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا اسرا پکڑ پاتا (١)۔ 11.81. قَالُوا يَا لُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوا إِلَيْكَ ۖ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلَّا امْرَأَتَكَ ۖ إِنَّهُ مُصِيبُهَا مَا أَصَابَهُمْ ۚ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۚ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ ٘ 11.81. اب فرشتوں نے کہا اے لوط! ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں ناممکن ہے کہ یہ تجھ تک پہنچ جائیں پس تو اپنے گھر والوں کو لے کر کچھ رات رہے نکل کھڑا ہو۔ تم میں سے کسی کو مڑ کر بھی نہ دیکھنا چاہیئے، بجز تیری بیوی کے، اس لئے کہ اسے بھی وہی پہنچنے والا ہے جو ان سب کو پہنچے گا یقیناً ان کے وعدے کا وقت صبح کا ہے، کیا صبح بالکل قریب نہیں (١) 11.82. فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ ٘ 11.82. پھر جب ہمارا حکم آپہنچا، ہم نے اس بستی کو زیر زبر کر دیا اوپر کا حصہ نیچے کردیا اور ان پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے۔ 11.83. مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ ٘ 11.83. تیرے رب کی طرف سے نشان دار تھے اور وہ ان ظالموں سے کچھ بھی دور نہ تھے (١) اللہ نے جناب عیسیٰ علیہ اسلام کو نفع نقصان کا اختیار نہیں دیا 5.75. مَا الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ وَ اُمُّہٗ صِدِّیۡقَۃٌ ؕ کَانَا یَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ انۡظُرۡ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ٘ 5.75. مسیح ابن مریم سوا پیغمبر ہونے کے اور کچھ بھی نہیں، اس سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو چکے ہیں ان کی والدہ ایک راست باز عورت تھیں (١) دونوں ماں بیٹا کھانا کھایا کرتے تھے (۲) آپ دیکھئے کہ کس طرح ہم ان کے سامنے دلیلیں رکھتے ہیں اور پھر غور کیجئے کہ کس طرح وہ پھرے جاتے ہیں۔ 5.76. قُلۡ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا ؕ وَ اللّٰہُ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ٘ 5.76. آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان کے مالک ہیں نہ کسی نفع کے۔ اللہ ہی خوب سننے اور پوری طرح جاننے والا ہے (١)۔ اللہ نے جناب محمدﷺ کو بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں دیا محمد ﷺ مختار کل نہیں، محمدﷺ نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، کفار عرب نے آپﷺ کی تکذیب کی آپﷺ کو تکالیف اور پریشانیاں دیں ،ان سب کو دور کرنے کا اختیار محمدﷺ کے پاس نہ تھا انہوں نے صبر کیا آپنے اللہ سے مدد مانگی، صرف اللہ پڑ توکل کیا جو اسباب تھے ان کو اختیار کیا یہاں تک کے کافر سے بھی پناہ لی۔ 6.162. قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ٘ 6.162. آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ 53.1. وَ النَّجۡمِ اِذَا ہَوٰی ٘ 53.1. قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے (١) 53.2. مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمۡ وَ مَا غَوٰی٘ 53.2. کہ تمہارے ساتھی نے نہ راہ گم کی ہے اور نہ ٹیڑھی راہ پر ہے (١) 53.3. وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی٘ 53.3. اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔ 53.4. اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ٘ 53.4. وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔ 53.5. عَلَّمَہٗ شَدِیۡدُ الۡقُوٰی٘ 53.5. اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا۔ 69.40. اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ٘ 69.40. کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے (١) 69.41. وَّ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تُؤۡمِنُوۡنَ٘ 69.41. یہ کسی شاعر کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے۔ (۱) 69.42. وَ لَا بِقَوۡلِ کَاہِنٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ٘ 69.42. نہ کسی کاہن کا قول ہے (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو۔ (۱) 69.43. تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ٘ 69.43. یہ تو رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ 69.44. وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ٘ 69.44. اور اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا (١) 69.45. لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ٘ 69.45. تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے (١) 69.6. ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ ٘ 69.46. پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے (١) 69.47. فَمَا مِنۡکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡہُ حٰجِزِیۡنَ٘ 69.47. پھر تم سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے والا نہ ہوتا (١) 69.48. وَ اِنَّہٗ لَتَذۡکِرَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ٘ 69.48. یقیناً یہ قرآن پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے۔ 69.49. وَ اِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡکُمۡ مُّکَذِّبِیۡنَ٘ 69.49. ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں۔ 33. قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّہٗ لَیَحۡزُنُکَ الَّذِیۡ یَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّہُمۡ لَا یُکَذِّبُوۡنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ٘ 6.33. ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں (١)۔ 6.34. وَ لَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَصَبَرُوۡا عَلٰی مَا کُذِّبُوۡا وَ اُوۡذُوۡا حَتّٰۤی اَتٰہُمۡ نَصۡرُنَا ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَکَ مِنۡ نَّبَاِی الۡمُرۡسَلِیۡنَ ٘ 6.34. اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جاچکی ہے سو انہوں نے اس پر صبر ہی کیا، ان کی تکذیب کی گئی اور ان کو ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ کہ ہماری امداد ان کو پہنچی (٢) اور اللہ کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں (٢) اور آپ کے پاس بعض پیغمبروں کی بعض خبریں پہنچ چکی ہیں (٣)۔ 6.35. وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَمَعَہُمۡ عَلَی الۡہُدٰی فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ٘ 6.35. اور اگر ان (کافروں) کی بے توجہی آپ پر گراں گزرتی ہے تو اگر آپ یہ کرسکیں کہ زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرکے یا آسمان میں سیڑھی لگا کر انکے پاس کوئی معجزہ لے آئیں تو ایسا کر دیکھیں اور اگر اللہ چاہتا تو خود بھی انکو ہدایت پر اکٹھا کرسکتا تھا (مگر یہ اس کی مشیت نہیں) لہذا آپ نادان مت بنئے۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1084 حدیث مرفوع مکررات 15 متفق علیہ 11 حمیدی سفیان بیان اور اسماعیل قیس سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت خباب نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر سے تکیہ لگائے بیٹھے تھے چونکہ ہمیں مشرکوں کی طرف سے بہت اذیت پہنچی تھی اس لئے میں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیوں نہیں فرماتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر سیدھے بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ تھے کہ ان کی ہڈیوں پر گوشت یا پٹھوں کے نیچے لوہے کی کنگھیاں کی جاتی تھیں (مگر) یہ شدید تکلیف بھی انہیں ان کے دین سے نہیں ہٹاتی تھی اور بعض کے بیچ سر میں آرا رکھ کر دو ٹکڑے کردیئے جاتے تھے پھر بھی انہیں چیز ان کے دین سے نہ ہٹاتی تھی اور واللہ اللہ تعالیٰ اس دین کو کامل کرے گا حتیٰ کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک اس طرح بے خوف ہو کر سفر کرے گا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوگا بیان نے یہ الفاظ بھی زیادہ روایت کئے ہیں کہ اپنی بکریوں پر بھیڑیے کا خوف نہ ہوگا۔ 2.214. اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلۡزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ ٘ 2.214. کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے (١) انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔ 16.106. مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ٘ 16.106. جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے بجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو (١) مگر جو لوگ کھلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔ شان نزول: حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت عمار بن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی مشرکین نے انہیں ان کے والد یاسر اور والدہ سمیہ ، بلا،خباب، اور سالم رضی اللہ عنہم اجمین کو پکڑ لیا حضرت سمیہ کو انہوں نے دو اونٹوں کے درمیان باندھ کر ایک برچھا آپ کی شرمگاہ پر مارا اور آپ سے ان میں ایک نے کہا کہ تو آدمیوں کی وجہ سے اسلام لائی ہے پھر انہیں اور ان کے شوہر حضرت یاسر کو شہید کر دیا گیایہ دونوں اسلام میں سب سے پہلے شہداء ہیں حضرت عمار نے مجبور ہو کر ان کے سامنے اپنی زبان سے ان کی مرضی کے مطابق کہہ دیا نبی کو خبر دی گئی کہ عمار کافر ہوگیا تو آپ نے فرمایا ہرگز نہیں عمار اپنے سر سے پاؤں تک ایمان سے بھرا ہوا ہے اور ایمان اس کے خون اور گوشت میں رچ بس چکا ہے حضرت عمار رسول اللہ کے پاس روتے ہوئے آئے رسول اللہ ان کی آنکھیں پوچھنے لگے اور آپ نے فرمایا ان سے اگر وہ پھر اس طرح کریں تو تو تم پھر ان کے سامنے یہی بات جو تم نے کہی تھی دوہرا دینا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (طبری14۔122، مستدرک2۔357) صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1096 حدیث موقوف مکررات 40 متفق علیہ 20 محمد بن کثیر سفیان اسماعیل بن ابی خالد قیس بن ابی حازم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام لائے ہم برابر غالب رہے۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1097 حدیث موقوف مکررات 27 متفق علیہ 11 یحیی بن سلیمان ابن وہب عمر بن محمد ان کے دادا زید بن عبداللہ بن عمر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد حضرت عمر اپنے گھر میں خوفزدہ تھے کہ ان کے پاس عاص بن وائل سہمی ابوعمرو آیا جو ایک ریشمی حلہ اور ایک ریشمی گوٹ کا کرتہ پہنے ہوئے تھا۔ عاص قبیلہ بنو سہم کا تھا اور بنو سہم زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے تو عاص نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تمہارا کیا حال ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ تمہاری قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ اگر میں مسلمان ہوگیا تو وہ مجھے قتل کردیں گے اس نے کہا تم پر کسی کا بس نہ چلے گا عاص کے یہ بات کہنے کے بعد حضرت عمر نے کہا میں اب بے خوف ہوں پھر عاص باہر نکلا تو لوگوں کو دیکھا کہ مکہ کی وادی ان سے بھر گئی ہے عاص نے ان سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا ہم عمر بن خطاب کے پاس جا رہے ہیں جو اپنے دین سے پھر گیا ہے عاص نے کہا ان پر تمہارا بس نہیں چلے گا (یہ سن کر) سب لوگ واپس ہو گئے۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1924 حدیث مرفوع مکررات 23 متفق علیہ 5 احمد بن جعفر معقری، نضر بن محمد، عکرمہ بن عمار، شداد بن عبد اللہ، ابوعمار، یحیی بن ابی کثیر، ابوامامہ، واثلہ، انس، عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی راستے پر نہیں ہیں اور وہ سب لوگ بتوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں بہت سی خبریں بیان کرتا ہے تو میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھپ کر رہ رہے ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مسلط تھی پھر میں نے ایک طریقہ اختیار کیا جس کے مطابق میں مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نبی ہوں، میں نے عرض کیا نبی کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس چیز کا پیغام دے کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ صلہ رحمی کرنا اور بتوں کو توڑنا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا میں نے عرض کیا کہ اس مسئلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک غلام راوی نے کہا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے میں نے عرض کیا کہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے اس وقت تم اپنے گھر جاؤ پھر جب سنو کہ میں ظاہر (غالب) ہوگیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی طرف چلا گیا اور رسول اللہ مدینہ منورہ میں آگئے تو میں اپنے گھر والوں میں ہی تھا اور لوگوں سے خبریں لیتا رہتا تھا اور پوچھتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ منورہ والوں سے میری طرف کچھ آدمی آئے تو میں نے ان سے کہا کہ اس طرح کے جو آدمی مدینہ منورہ میں آئے ہیں وہ کیسے ہیں تو انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں ان کی قوم کے لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے تو میں مدینہ منورہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پہچانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں تم تو وہی ہو جس نے مجھ سے مکہ میں ملاقات کی تھی میں نے عرض کیا جی ہاں پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کچھ سکھایا ہے مجھے اس کی خبر دیجئے 11.12. فَلَعَلَّکَ تَارِکٌۢ بَعۡضَ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ وَ ضَآئِقٌۢ بِہٖ صَدۡرُکَ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ کَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَہٗ مَلَکٌ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِیۡرٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ٘ 11.12. پس شاید کہ آپ اس وحی کے کسی حصے کو چھوڑ دینے والے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے اور اس سے آپ کا دل تنگ ہے، صرف ان کی اس بات پر کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترا؟ یا اس کے ساتھ فرشتہ ہی آتا، سن لیجئے! آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں (١) اور ہرچیز کا ذمہ دار اللہ تعالٰی ہے۔ 10.20. وَ یَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ۚ فَقُلۡ اِنَّمَا الۡغَیۡبُ لِلّٰہِ فَانۡتَظِرُوۡا ۚ اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ ٘ 10.20. اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر ان کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی؟ (١) سو آپ انہیں فرما دیجئے کہ غیب کی خبر صرف اللہ کو ہے (٢) سو تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ 10.48. وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ٘ 10.48. اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو۔ 10.49. قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ فَلَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ٘ 10.49. آپ فرما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لئے تو کسی نفع کا اور کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہی نہیں مگر جتنا اللہ کو منظور ہو، ہر امت کے لئے ایک معین وقت ہے جب ان کا وہ معین وقت آپہنچتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ اگے سرک سکتے ہیں (١)۔ 10.109. وَ اتَّبِعۡ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ وَ اصۡبِرۡ حَتّٰی یَحۡکُمَ اللّٰہُ ۚۖ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ ٘ 10.109. اور آپ اس کی پیروی کرتے رہیے جو کچھ آپ کے پاس وحی بھیجی جاتی ہے اور صبر کیجئے (!) یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں اچھا ہے (٢)۔ 7.187. یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرۡسٰہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ ۚ لَا یُجَلِّیۡہَا لِوَقۡتِہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕۘؔ ثَقُلَتۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا تَاۡتِیۡکُمۡ اِلَّا بَغۡتَۃً ؕ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنۡہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ اللّٰہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ٘ 7.187. یہ لوگ آپ سے قیامت (١) کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا (٢) آپ فرما دیجئے اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے (٣) اس کے وقت پر اس کو سوائے اللہ کے کوئی ظاہر نہ کرے گا وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا (٤) وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وہ آپ اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کر چکے ہیں (٥) آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 7.188. قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ نَفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ کُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ لَاسۡتَکۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَیۡرِۚۖۛ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ ۚۛ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ٘ 7.188. آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لئے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت منافع حاصل کرلیتا اور کوئی نقصان مجھے نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔ 3.128. لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ اَوۡ یُعَذِّبَہُمۡ فَاِنَّہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ٘ 3.128. (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا اللہ ان کے حال پر مہربانی کر کے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں. 3.129وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ٘ اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1703 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 5 حبان بن موسی، عبد اللہ، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ فجر کی نماز کی دوسری رکعت کے رکوع کے بعد ربنا لک الحمد کہہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا، اے اللہ! لعنت بھیج فلاں، فلاں اور فلاں پر راوی کہتا ہے کہ میں نے اپنے کان سے سنا کہ اس وقت یہ آیت (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ الخ) 3۔ آل عمران : 128) اللہ نے نازل فرمائی کہ اے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں کچھ نہیں اللہ چاہے گا تو ان پر مہربانی فرمائے گا یا عذاب دے گا تحقیق وہ ظالم ہیں اس حدیث کو اسحاق بن راشد نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 331 حدیث مرفوع مکررات 13 متفق علیہ 8 محمد بن بشار ابن عدی و سہل سعید قتادہ انس سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رعل ذکوان عصیہ اور بنو لحیان نے یہ دعویٰ کرکے کہ وہ اسلام لا چکے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوم کے لئے امداد کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصار ان کی امداد کے لئے ان کے حوالہ کئے انس نے کہا کہ ہم ان انصاریوں کو قراء کہتے تھے یہ لوگ دن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات بھر نماز پڑھتے چنانچہ وہ عابد و زاہد ستر قراء ان کے ساتھ روانہ ہوئے اور مقام بیرمعونہ میں پہنچ کر ان لوگوں نے ان انصاریوں سے بے وفائی کی اور سب کو شہید کردیا تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک قنوت میں رعل ذکوان اور بنو لحیان کے لئے بد دعا کی قتادہ نے کہا کہ اس نے بیان کیا ہے کہ مسلمان کی شان میں ایک عرصہ تک یہ آیت پڑھتے رہے کہ آگاہ ہو جاؤ اور ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل گئے ہیں وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہم اس سے راضی ہیں پھر یہ بعد میں منسوخ ہو گئی۔ 6.71. قُلۡ اَنَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤی اَعۡقَابِنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ کَالَّذِی اسۡتَہۡوَتۡہُ الشَّیٰطِیۡنُ فِی الۡاَرۡضِ حَیۡرَانَ ۪ لَہٗۤ اَصۡحٰبٌ یَّدۡعُوۡنَہٗۤ اِلَی الۡہُدَی ائۡتِنَا ؕ قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ اُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ٘ 6.71. آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ تعالٰی کے سوا ایسی چیز کو پکاریں کہ وہ نہ ہم کو نفع پہنچائے اور نہ ہم کو نقصان پہنچائے کیا ہم الٹے پھر جائیں اسکے بعد کہ ہم کو اللہ تعالٰی نے ہدایت کر دی ہے، جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطان نے کہیں جنگل میں بے راہ کر دیا ہو اور وہ بھٹکتا پھرتا ہو اس کے ساتھی بھی ہوں کہ ہمارے پاس آ(١)۔ آپ کہہ دیجئے کہ یقینی بات ہے کہ راہ راست وہ خاص اللہ ہی کی راہ ہے (٢) اور ہم کو یہ حکم ہوا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے مطیع ہوجائیں۔ 10.106. وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ٘ 10.106. اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کر سکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہو جاؤ گے۔ 10.107. وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اِنۡ یُّرِدۡکَ بِخَیۡرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِہٖ ؕ یُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ٘ 10.107. اور اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہیے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے والا نہیں (١) وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کر دے اور وہ بڑی مغفرت بڑی رحمت والا ہے۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 91 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 1 بدون مکرر ہناد بن سری، ابن مبارک، عکرمہ بن عمار، سماک حنفی، ابن عباس، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تین سو انیس تھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف منہ فرما کر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے رب سے پکار پکار کر دعا مانگنا شروع کر دی اے اللہ! میرے لئے اپنے کئے ہوئے وعدہ کو پورا فرمایا اے اللہ! اپنے وعدہ کے مطابق عطا فرما اے اللہ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر اپنے رب سے ہاتھ دراز کئے قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ سے گر پڑی پس حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو اٹھایا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی آپ کی اپنے رب سے دعا کافی ہو چکی عنقریب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرے گا اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی (اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ Ḍ۝) 8۔ الانفال : 9) جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں تمہاری مدد ایک ہزار لگاتار فرشتوں سے کروں گا پس اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرشتوں کے ذریعہ امداد فرمائی حضرت ابوزمیل نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث اس دن بیان کی جب مسلمانوں میں ایک آدمی مشرکین میں سے آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس سے آگے تھا اچانک اس نے اوپر سے ایک کوڑے کی ضرب لگنے کی آواز سنی اور یہ بھی سنا کہ کوئی گھوڑ سوار یہ کہہ رہا ہے اے حیزوم آگے بڑھ پس اس نے اپنے آگے مشرک کی طرف دیکھا کہ وہ چت گرا پڑا ہے جب اس کی طرف غور سے دیکھا تو اس کا ناک زخم زدہ تھا اور اس کا چہرہ پھٹ چکا تھا پس اس انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے سچ کہا یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی پس اس دن ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید ہوئے ابوزمیل نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جب قیدیوں کو گرفتار کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو حضرت ابوبکر نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمارے چچا زاد اور خاندان کے لوگ ہیں میری رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فدیہ وصول کر لیں اس سے ہمیں کفار کے خلاف طاقت حاصل ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ اللہ انہیں اسلام لانے کی ہدایت عطا فرما دیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب آپ کی کیا رائے ہے میں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول میری وہ رائے نہیں جو حضرت ابوبکر کی رائے ہے بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہمارے سپرد کر دیں تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں عقیل کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کریں اور اپنے رشتہ داروں میں سے ایک کا نام لیا تاکہ میں اس کی گردن مار دوں کیونکہ یہ کفر کے پیشوا اور سردار ہیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کی طرف مائل ہوئے اور میری رائے کی طرف مائل نہ ہوئے جب آئندہ روز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے بتائیں تو سہی کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کو رلا دیا پس اگر میں رو سکا تو میں بھی روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت ہی اختیار کرلوں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو مجھے تمہارے ساتھیوں سے فدیہ لینے کی وجہ سے پیش آیا ہے تحقیق مجھ پر ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربیی درخت سے بھی اور اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی (مَا کَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَکُونَ لَهُ) یہ بات نبی کی شان کے مناسب نہیں ہے کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہائے۔ سے اللہ عزوجل کے قول پس کھاؤ جو مال غنیمت تمہیں ملا ہے پس اللہ نے صحابہ کے لئے غنیمت حلال کر دی۔ 8.67. مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ٘ 8.67. نبی کے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ اس کے پاس جنگی قیدی آتے تاآنکہ زمین (میدان جنگ) میں کافروں کو اچھی طرح قتل نہ کردیا جاتا۔ تم دنیا کامال چاہتے ہو جبکہ اللہ (تمہارے لیے) آخرت چاہتا ہے۔ اور اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے 8.68. لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ٘ 8.68. اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی (١) تو جو کچھ تم نے لے لیا ہے اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی۔ 8.69. فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ٘ 8.69. پس جو کچھ حلال اور پاکیزہ غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ پیو (١) اور اللہ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ غفور و رحیم ہے۔ صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2348 حدیث مرفوع مکررات 7 متفق علیہ 3 خلاد بن یحیی، عمر بن ذر، ذر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا کہ اے جبرائیل علیہ السلام! تمہیں کون سی چیز اس بات سے روکتی ہے کہ تم ہمارے پاس اس سے زیادہ آؤ جتنا تم آیا کرتے ہو، تو یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم صرف تمہارے رب کے حکم سے اترتے ہیں جو ہمارے سامنے اور ہمارے پیچھے ہے اسی کیلئے ہے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوال کا جواب تھا۔ 19.64. وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمۡرِ رَبِّکَ ۚ لَہٗ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡنَا وَ مَا خَلۡفَنَا وَ مَا بَیۡنَ ذٰلِکَ ۚ وَ مَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا ٘ 19.64. ہم بغیر تیرے رب کے حکم کے اتر نہیں سکتے (١) ہمارے آگے پیچھے اور ان کے درمیان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں، تیرا پروردگار بھولنے والا نہیں۔ 35.22. وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ٘ 35.22. اور زندہ اور مردے برابر نہیں ہو سکتے (١) اللہ تعالٰی جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے (٢) اور آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔ (۳) 35.23. اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِیۡرٌ ٘ 35.23. آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ 35.24. اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ بِالۡحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ ٘ 35.24. ہم نے ہی آپ کو حق دے کر خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے والا نہ گزرا ہو۔ 39.65. وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ٘ 39.65. یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا (١) 39.66. بَلِ اللّٰہَ فَاعۡبُدۡ وَ کُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ٘ 39.66. بلکہ اللہ ہی کی عبادت کر (١) اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔ 39.67. وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ٭ۖ وَ الۡاَرۡضُ جَمِیۡعًا قَبۡضَتُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ٘ 39.67. اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالٰی کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے (١) وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔ 72.18. وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا ٘ 72.18. اور یہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ (۱) 72.19. وَّ اَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبۡدُ اللّٰہِ یَدۡعُوۡہُ کَادُوۡا یَکُوۡنُوۡنَ عَلَیۡہِ لِبَدًا ٘ 72.19. اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لئے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں 72.20. قُلۡ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِہٖۤ اَحَدًا ٘ 72.20. آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ 72.21. قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا ٘ 72.21. کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں۔ (۱) 72.22. قُلۡ اِنِّیۡ لَنۡ یُّجِیۡرَنِیۡ مِنَ اللّٰہِ اَحَدٌ ۬ۙ وَّ لَنۡ اَجِدَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مُلۡتَحَدًا ٘ 72.22. کہہ دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے بچا نہیں سکتا (١) اور میں ہرگز اس کے سوا کوئی جائے پناہ بھی نہیں پا سکتا۔ 72.23. اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِسٰلٰتِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ٘ 72.23. البتہ میرا کام اللہ کی بات اور اس کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچا دینا ہے (اب) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 237 حدیث مرفوع مکررات 5 متفق علیہ 5 زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ابوحیان، ابی زرعة، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اس کی مذمت بیان کی اور اس کو بڑا معاملہ قرار دیا پھر فرمایا میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں آتا ہوا نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہوگا جو بڑبڑا رہا ہوگا اور وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں تو میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں تحقیق میں تجھے پہنچا چکا میں تم میں کسی کو اس حال میں نہ پاؤں گا کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی گردن پر سوار گھوڑا ہنہناتا ہوگا وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں میں کہوں گا میں تیرے معاملہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں تحقیق میں تجھ تک پہنچا چکا ہوں میں تم سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر سوار بکری منمنا رہی ہو وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں میں کہوں گا کہ میں تیرے معاملہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں تحقیق میں تجھے پیغام حق پہنچا چکا ہوں میں تم سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر چیخنے والی کوئی جان ہو تو وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں میں کہوں گا میں تیرے معاملہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں تحقیق میں پیغام حق پہنچا چکا ہوں میں تم سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر لدے ہوئے کپڑے حرکت کر رہے ہوں تو وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے پیغام حق پہنچا چکا ہوں میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر سونا چاندی لدا ہوا ہوگا وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے اللہ کے احکام پہنچا چکا ہوں۔ مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 2 حدیث مرفوع حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا " جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو جو اللہ تنہا چاہے۔ کچھ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں
  10. میری پوری کوشش ہے گفتگو الجھے نہ ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکیں ایک دوسرے کو الزام دینا بڑا آسان ہے میں نے پوری کوشش کی ہے کسی کا موقف صیح طرح سے بیان کروں اس میں کوئی تبدیلی نہ کروں سیدی صاحب اب تو محمد علی اور خلیل رانا صاحب اقرار کر چکے ہیں عرب کے لوگ آپنے الہٰ کے پاس جو اختیارات مانتے تھے وہ اللہ کے اذن سے مانتے تھے یہاں تک تو سیدی صاحب آپ بھی مان لیجئے آگے جو رانا صاحب نے کہا مگر اللہ نے اب ان کو اپنے حکم میں نہیں رکھا ، اَب یہ جو چاہیں کرسکتے ہیں،مشرکین کا یہی استقلال کا عقیدہ ان کو معبود بناتا ہے میں نے تو کوشش کی ہے اختلاف ختم ہو جائے اور جو آپ نے دعوی کیا ہے مگر اللہ نے اب ان کو اپنے حکم میں نہیں رکھا ، اَب یہ جو چاہیں کرسکتے ہیں،مشرکین کا یہی استقلال کا عقیدہ ان کو معبود بناتا ہے اس دعوے کو ثابت کر دیں تو میں مان لوں گا بریلوی مسلک سچا ہے نہیں تو آپ مان لیں بریلوی مسلک باطل ہے یاں آپ مان لیں کہ آپ کا دعوی غلط ہے۔ اللہ ہم کو ہر گمراہی سے بچائے آمین جو طعنے مارنے ہیں وہ آپ کی مرضی ہے خلیل رانا صاحب اور باقی لوگ ہماری گفتگو ہی اسی پر ہو رہی ہے کہ کسی ہستی کے بارے میں کیا ماننا اس ہستی کو الہٰ بنانا ہے اسی میں تو میرا اور آپ لوگوں کا اختلاف ہے۔ خلیل رانا صاحب کی تان وہی پر ٹوٹتی ہے وہ بتوں کو الہٰ مانتے تھے جناب والا یہی تو میں بتانے کی کوشش کر رہا ہوں قرآن اور حدیث سے کہ انہوں نے کیا مانا کس بات پر قرآن نے ان کو مشرک قرار دیا میری پہلی پوسٹ کو دوبارہ غور سے پڑھ لیں دلائل کے ساتھ بتا یا ہے کہ عرب کے لوگوں نے اللہ کے سوا اور ہستیوں کےپاس نفع نقصان کا اختیار مانا یہی تو ہے ان ہستیوں کو الہٰ بنانا اللہ کے سوا اور ہستیوں کو مشکل پریشانیاں دور کرنے والی مانا کہ یہ اللہ کی سلطنت میں جیسے مرضی تصرف کر کے ہماری مشکلات کو حل کردیں گی یہی تو ہے ان ہستیوں کو الہٰ بنانا اور ان کو دعوی بھی یہی تھا کہ اللہ نے ان ہستیوں کو نفع نقصان کے اختیارات دئے ہوئے ہیں ان لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا سوچنے کی بات ہے جو کام عرب کے لوگ کریں تو وہ مشرک وہی کام بریلوی کریں تو آپنا فیصلہ خود کر لو۔ خلیل رانا صاحب جو بات مجھ سے منوانا چاہتے ہیں مشرکیں عرب آپنے الہٰ کو اللہ کے برابر سمجھتے تھے بلکل قرآن کی آیت ہے میں کیسے انکار کرسکتا ہوں آیت پہلے نقل کر کے مجھ سے بات منوا لیتے محترم میں آپ کی طرح نہیں کہ آپنے پاس سے ذاتی اور عطائی کا اصول بنا کر قرآن کا انکار کر دوں جیسے آپ حضرات کرتے ہیں جب آپ کے سامنے قرآن کی وہ آیات نقل کی جائیں جس میں اللہ نے آپنے رسول جناب محمدﷺ نے اعلان کروایا ہے جناب محمد ﷺ بھی آپنے اور تمھارے نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ حق تو اللہ نے آپنے رسول جناب محمدﷺ سے اعلان کروا دیا ہے آپ لوگ نہیں مانتے ہیں خیر بات ہو رہی تھی عرب کے لوگ آپنے الہٰ کو اللہ کے برابر سمجھتے تھے محترم خلیل رانا صاحب برابری کئ قسم کی ہوتی ہے مثال کے طور پر کوئی ہندو ہو سکھ ہو مسلمان ہو وہ پاکستانی ہونے میں برابر ہے اگر وہ پاکستان کا شہری ہے۔ اس طرح اور کئی مثالیں دیں جا سکتی ہیں۔ 26.95. وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ ٘ 26.95. اور ابلیس کے تمام لشکر (١) بھی وہاں۔ 26.96. قَالُوا وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ ٘ 26.96. آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے۔ 26.97. تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ٘ 26.97. کہ قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے۔ 26.98. إِذْ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ٘ 26.98. جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے (١) چونکہ برابری کئی طرح کی ہوتی ہے جیسے کسی اور ہستی کی عبادت کرنا اس ہستی کو اللہ کے برابر ماننا ہے عبادت کرنے کے لحاظ سے اس لئے محترم خلیل رانا صاحب آپ بتائے آپ کیا مطلب نکال رہے ہیں وہ بتائیے تا کہ ہم قرآن کی باقی آیات سے دکھیں کہ آپ کا نکالا مطلب صیح ہے کہ نہیں۔ جہاں تک بات ہے احمد لاہوری صاحب کے سوالوں کی محترم میری پہلی پوسٹ کو غور سے پڑھ لیں میں نے کس چیز کو شرک لکھا وہ صاف صاف بتا دیا ہے
  11. سیدی صاحب میں انتظار کر رہا تھا کہ آپ لوگوں کی طرف سے عرب کے لوگ استقلال ذاتی کے قائل تھے اس بات کا ثبوت آئے لیکن نہیں آ سکا سارے بریلوی علما آکھٹے کر لو پورا زور لگا لو پھر بھی تم عرب کے لوگوں کے لئے استقلال ذاتی ثابت نہیں کر پاؤ گے تو آپنے بریلوی مسلک کو باطل مان لو نہیں تو استقلال ذاتی ثابت کر دو عرب کے لوگوں کے لئے ۔ سیدی صاحب مجھ پر چھوٹ کی تہمت لگائی آپ کایہ کہناکہ(اس بات کوتوآپ لوگوں کوبھی اقرار ہے)ایک بہت بڑی غلط بیانی ہے اوراس کا آپ کے پاس مچھرکے برابربھی کوئی ثبوت نہیں۔ورنہ ہم نے کہاں یہ اقرار کیا؟ثبوت دیں۔ ورنہ جھوٹ اورجھوٹے مذہب سے توبہ کریں۔ سیدی صاحب خلیل رانا صاحب نے اقرار کیاہے اگر آپ نے کچھ کہنا ہے تو ان کو کہیں خلیل رانا صاحب نے لکھا تھا مسلمان مومن انبیاء واولیاء میں جو بھی اختیارات مانتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطاء سے مانتا ہے، جب کہ مشرکین کہتے تھے کہ ہم بھی اللہ کی عطا سے اختیارات مانتے ہیں مگر اللہ نے اب ان کو اپنے حکم میں نہیں رکھا ، اَب یہ جو چاہیں کرسکتے ہیں،مشرکین کا یہی استقلال کا عقیدہ ان کو معبود بناتا ہے، جس کی تردید قرآن کریم میں جگہ جگہ ہے سیدی صاحب پہلے خلیل رانا صاحب کو سمجھاو کہ آپ کا مسلک کیا ہے
  12. سیدی صاحب اصلاح کا شکریہ پچھلی پوسٹ میں واجب الوجود لکھنا تھا غلطی سے وحدت الوجود لکھ دیا یہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی آپ کا شکر یہ کہ آپ نے صاف لفظوں میں آپنا موقف بیان کیا کسی بھی اختلاف کے وقت فریقین کو ایک دوسرے کو موقف کو صیح طور پر سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ تاکہ اختلاف کا حل ہو سکے 1 واجب الوجود سیدی صاحب نے لکھا ہم نے واجب الوجود(ازلی ابدی)ماننے کوالٰہ ماننا بتایا۔مگرآپ نے الٰہ ماننے سے واجب الوجودماننا لازم سمجھا۔ آپ نے واجب الوجودماننے کوالٰہ ماننے کی شرط کادرجہ دیا۔وہ الٰہ برحق ماننے کی شرط ضرور ہے۔مطلق معبود ماننے کی شرط ہرگزنہیں۔اس کومطلق الٰہ ماننے کی شرط سمجھنا بھی آپ نے غلط سمجھا۔ جی محترم آپ کی بات سمجھ آ گئی یہ واجب الوجود شرط نہیں کسی ہستی کو الہٰ بنانے کی ۔یعنی کوئی کسی کو واجب الوجود مانے بغیر بھی الہٰ بنا سکتا ہے یہ شرط نہیں ہے اس لئے میں آپ سے واجب الوجود ثابت کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا واجب الوجود پر بات ختم ہوئی۔ 2 استقلال ذاتی: جناب سیدی صاحب نے لکھااستقلال ذاتی ماننے کامطلب یہ کہ اختیارات کوخداداد نہ مانا جائے یا مقیدباذن اللہ نہ مانا جائے۔آپ نے محض عطائی نہ مانناہی استقلال ذاتی سمجھا۔یہ بھی آپ غلط سمجھے۔ اس بات میں مجھے آپ سے اختلاف ہے میں کوشش کرتا ہوں صاف لفظوں میں اختلاف کو بیان کروں جو بندہ اللہ کی ذات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ زمین اور آسمان کو تخلیق کرنے والا ہے تمام کاموں کی تدبیر اللہ کر رہاہے تمام چیزوں پر اللہ اختیار رکھتا ہے اس بندے کیلئے تو یہ بات صاف ہے اللہ کے سوا کسی کے پاس جو کمال خوبی اختیار ہے وہ اللہ کا ہی دیا ہوا ہے اللہ کے سوا کسی کے پاس ذاتی کسی چیز کا ہونا ممکن ہی نہیں یعنی استقلال ذاتی ناممکن ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ اسی بات میں میرا اور آپ کا اختلاف شروع ہوتا ہے میں آپنی پوسٹ میں دلائل کے ساتھ بیان کیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی ہستی کے پاس کچھ اختیارات ماننا اس ہستی کو الہٰ بنا لینا ہے مثال کے طور پر اللہ کے سوا کسی ہستی کے پاس نفع نقصان کا اختیار ماننا اس ہستی کو الہٰ بنا لینا ہے چاہے آپ اللہ کے اذن سے مانیں تب بھی۔ یعنی اللہ کے سوا کسی ہستی کے پاس نفع نقصان کا اختیار ماننا شرک ہے اس کیلئے استقلال ذاتی کی شرط بریلوی لوگوں کی خود ساختہ ہے ۔ اس بات کو تو آپ لوگوں کو بھی اقرار ہے عرب کے لوگ آپنے الہٰ کے پاس جو اختیارات(نفع نقصان کے، مشکل پریشانی دور کرنے کے) مانتے تھے وہ اللہ کے اذن سے مانتے تھے لیکن آپنی استقلال ذاتی کی شرط کی لاج رکھنے کیلئے آپ لوگوں کی طرف سے ایک دعوی آیا کہ عرب کے لوگ آپنے الہٰ کو اللہ کے حکم میں نہیں مانتے تھے کہ جو چاہیں کریں یعنی اللہ سے اختیارات ملنے کے بعد وہ اللہ کے ماتحت نہیں رہے، یہی عرب کے لوگوں کا الہٰ بنا لینا تھا۔ میں شروع سے اب تک آپ سے اسی دعوے کا ثبوت مانگ رہا ہوں اور آپ لوگ قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں کرتے۔ اس لیے مخترم سیدی صاحب ، محمد علی صاحب، خلیل رانا صاحب یاں اور بھی جو لوگ ہیں ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ عرب کے لوگوں کیلئے استقلال ذاتی ثابت کریں قرآن اور حدیث کی دلیل سے اگر آپ نے یہ کر دیا تو میں مان لوں گا بریلوی مسلک سچا ہے اور اگر آپ نہ کر پائیں تو آپ مان لیں بریلوی مسلک باطل ہے ہمارے اختلاف کو حل کرنے کا طریقہ میں نے آپ کو بتا دیا ہے
  13. محترم میری پوری کوشش ہے کہ گفتگو آچھے انداز سے ہو نتیجہ خیز ہومیں نے صاف صاف دلائل کے ساتھ بتا یا شرک کسے کہتے ہیں آپ لوگ نہیں مانتے اب انصاف تو یہ ہے کہ آپ لوگ دلائل سے ثابت کریں جو آپ کہتے ہیں کہ کسی ہستی کے بارے میں کیا ماننا اس کو الہٰ بنا لینا ہے۔ آپ لوگ دعوے پے دعوے کرتے جا رہے ہیں دلائل نہیں دیتے مسلہ کیا ہے ؟ آپ لوگوں سےپھر گزارش کرتا ہوں قرآن اور حدیث کی دلیل سے ثابت کی جئے 1 وحدت الوجود 2 استقلال ذاتی 3 لائق عبادت ہونے کا مطلب کیا ہے آپ کے نزدیک آپ لوگ اگر سچے ہیں تو دلائل سے ثابت کیوں نہیں کر دیتے جو مجھے سمجھ آئی ہے کہ آپ لوگوں کے نزدیک شرک کیا ہوتا ہے میں وہ بیان کر دیتا ہوں میں کچھ غلط سمجھا ہوں تو اصلاح کر دیجئے گا 1 کسی ہستی کو جب تک وجب الوجود نہ مان جائے تب تک وہ ہستی الہٰ نہیں قرار پائے گی اور شرک نہیں ہو گا 2 کسی ہستی کے پاس جو آختیارات ہیں جیسے نفع نقصان وغیرہ کے جب تک وہ ذاتی (اللہ کے دئیے ہوے نہیں یاں اگر اللہ نے دئے تو اب وہ ہستی اللہ کے حکم میں نہیں)نہیں مانے جائے گا تب تک وہ ہستی الہٰ نہیں قرار پائے گی یعنی آپ لوگوں کی طرف سے استقلال ذاتی کی شرط ہے۔ 3 کسی ہستی کو لائق عبادت سمجھ کر اس کی عبادت کرے گا تو ہی وہ ہستی الہٰ قرار پائے گی اب ان باتوں کے مطلق میرا موقف سن لی جئے واجب الوجود اور استقلال ذاتی کی شرط آپ لوگوں کی خودساختہ بنائی ہوئی ہے قرآن اور حدیث سے آپ یہ ثابت نہیں کر پائیں گیں لائق عبادت سے کیا مراد ہے کسی ہستی کے بارے میں کیا ماننا اس کو لائق عبادت ماننا ہے اس چیز کی وضاحت مجھے آپ لوگوں سے مطلوب ہے
  14. محترم سیدی صاحب قرآن اور حدیث کی دلیل سے ثابت کی جئے 1 واجب الوجود 2 استقلال ذاتی 3 مستحق عبادت ان تینوں باتوں سے آپ کی مراد کیاہے اور پھر اس کو ثابت کی جئے اگر آپ سچے ہیں تو
  15. محمد علی صاحب آپ سے مودبانہ گزارش کی تھی کہ کسی ہستی کو الہٰ بنانے کا جو آپ کا نظریہ ہے اس کو ثابت کی جئے 1 واجب الوجود 2 استقلال ذاتی وہ تو آپ نے ثابت نہیں کیا میں انتظار کر رہا ہوں کہ آپ لوگ ان اوپر بیان کی گئی دو باتوں کو ثابت کریں ۔ مجھ کو واقعی آپ حیران کرتے جا رہے ہو آپ کی باتیں پڑھ کر پتا چلا کہ آپ مانتے ہیں کہ دجال زندگی اور موت کا مالک ہے آپ نے لکھا Janab, mera Rabb bi wohi heh joh murdoon ko zinda karta heh, aur zindoon ko murda karta heh, joh zameenoon say rizq deta heh aur asmanoon say barish barsata heh, joh matti kay putlay ko jaan bakshta heh, joh har baat janta heh, joh har mushkal kusha kar sakta heh, joh zameenoon aur asmanoon kay tamam nazamoon ko chalata heh. کاش آپ یہی تک رک جاتے یہ سب اللہ کے لئے مانتے اور کسی کے لئے نہ مانتے۔ آپ کی باتو ں سے پتا چلتا ہے کہ آپ کو یہ نہیں پتا کہ نفع نقصان کا اختیار کیا ہوتا ہے ؟ زندگی اور موت کا اختیار کیا ہوتا ہے؟ ایک بات تو ہے میرا موقف آپ کو کافی حد تک سمجھ آ گیا ہے کہ میں کس چیز کو شرک کہہ رہا ہوں۔ آپ نے لکھاْ محترم مردے کو زندہ کرنا مٹی کے پتلے میں جان ڈال دینا یہ اللہ ہی کا اختیار ہے زندگی اور موت کا مالک صرف اللہ ہے اللہ کے علاوہ کسی اور کے پاس یہ اختیار سمجھنا اس ہستی کو الہٰ بنا لینا ہے شرک ہے Yeh under lined asool ka hissa aap, Hazrat Ibrahim alayhis salaam ya kissi aur nabi, ya Quran ki alhamd kee alif say leh kar wan'naas ki seen kay darmiyan joh kuch heh us say sabat kar denh. محترم جناب براہیم علیہ اسلام نے کہا تھا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے، پیارے ابرہیم علیہ اسلام کی بات بلکل صاف ہے رب وہ ہوتا ہے جو زندہ کر سکے اور موت دے سکے لیکن آپ کی طرح ان سے جگھڑنے والا نہیں مانا بولا یہ بھی کوئی بات ہے میں بھی زندگی دیتا ہوں اور موت بھی دیتا ہوں محمد علی صاحب آپ کی ہی طرح وہ بھی نہیں جانتا تھا کہ زندگی اور موت کا مالک ہونے کا مطلب کیا تھا؟ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاۗجَّ اِبْرٰھٖمَ فِيْ رَبِّهٖٓ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ ۘاِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّيَ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحْيٖ وَاُمِيْتُ ۭ قَالَ اِبْرٰھٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ يَاْتِيْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ٢٥٨؁ۚ 258-2 کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، اس لیے کہ اللہ نے اسے حکومت دی تھی، جب ابراہیم نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، اس نے کہا میں زندگی بخشتا اور موت دیتا ہوں ۔ ابراہیم نے کہا پھر اللہ تو سورج کو مشرق سے لاتا ہے، پس تو اسے مغرب سے لے آ، تو وہ جس نے کفر کیا تھا حیرت زدہ رہ گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ میں کیا کہوں آپ کو آپ کی جہالت یاں آپ نے کہا ya Quran ki alhamd kee alif say leh kar wan'naas ki seen kay darmiyan joh kuch heh us say sabat kar denh. آئیے اللہ کا قرآن پڑھتے ہیں ہے کوئی اللہ کے سوا زندگی اور موت دینے والا؟؟؟ كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28؀ 28-2 تم کیسے اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہو، حالانکہ تم بے جان تھے تو اس نے تمھیں زندگی بخشی، پھر وہ تمھیں موت دے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِي الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَمَا قُتِلُوْا ۚ لِيَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِيْ قُلُوْبِھِمْ ۭ وَاللّٰهُ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ١٥٦؁ -3 اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں نے کفر کیا اور اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا جب انھوں نے زمین میں سفر کیا، یا وہ لڑنے والے تھے، اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کیے جاتے، تاکہ اللہ اسے ان کے دلوں میں حسرت بنا دے اور اللہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔ قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۠ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ١٥٨؁ 158-7 کہہ دے اے لوگو! بے شک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، وہ (اللہ) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف اس کی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، پس تم اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر ایمان لاؤ، جو اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو، تاکہ تم ہدایت پاؤ۔ وَهُوَ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 80؀ 80-23 اور وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتاہے اور اسی کے قبضہ میں رات اور دن کا بدلنا ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟ محمد علی ابھی بات سمجھ آئی کہ نہیں ؟ اور قرآن پڑھتے ہیں اللہ پوچھتا ہے آپنے قرآن میں اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ۭ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 40؀ۧ 40-30 اللہ وہ ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، پھر تمھیں رزق دیا، پھر تمھیں موت دے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا، کیا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرے؟ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں ۔ ہے کوئی جو موت دے سکے جو زندگی دے سکے ؟ اللہ لا شریک ہے زندگی اور موت دینے کے اللہ کے اختیار میں کوئی شریک نہیں ۔ لیکن محمد علی صاحب آپ اللہ کے سوال کے جواب دجال کہہ سکتے ہیں کیوں کہ آپ دجال کو زندگی اور موت دینے والا مانتے ہیں۔ افسوس ہو رہا ہے آپ پر اللہ کے لئے میرے دوست اصلاح کر لو هُوَ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۚ فَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَـقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 68؀ۧ 68-40 وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتاہے، پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ''ہو جا ''تو وہ ہو جاتا ہے۔ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۭ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَاۗىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ Ď؀ 8-44 اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔ اللہ نے بتا دیا الہٰ وہ ہوتا ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے اور اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں کوئی زندگی موت کا مالک نہیں یہ ہے حق قرآن کی صاف آیت قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 26؀ۧ 27-45 کہہ دے اللہ ہی تمھیں زندگی بخشتا ہے، پھر تمھیں موت دیتا ہے، پھر تمھیں قیامت کے دن کی طرف(لے جا کر ) جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اللہ نے آپنے رسول جناب محمدﷺ سے بھی کہلوا دیا کہ اللہ ہی تم کو زندگی دیتا ہے پھر تم کو موت دیتا ہے وَهُوَ الَّذِيْٓ اَحْيَاكُمْ ۡ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ 66؀ 66-22 اور وہی ہے جس نے تمھیں زندگی بخشی، پھر تمھیں مارے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا۔ بے شک انسان یقینا بہت ناشکرا ہے۔ لی جئے محمد علی صاحب آپ کی خواہش پوری کر دی ہے اب تو مان لو اللہ ہی زندگی دیتا ہے موت دیتا ہے اور کوئی زندگی موت کا مالک نہیں۔ میرا نہیں خیال تھا کہ مجھے ایک مسلماں سے یہ بات منوانی پڑے گی کہ اللہ ہی زندگی اور موت کا مالک ہے اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو بتا دوں نفع نقصان اور زندگی موت کا مالک ہونے کا مطلب کیا ہے جب میں کہتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا اس کا یہ مطلب نہیں اللہ کے سوا کوئی کسی کو نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا یاں کسی کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں حکومت طاقت ہی نہیں۔ دیکھے اسباب کے تحت اس دنیا کا نظام چلتا ہے۔ ایک دوسرے سے ہمیں نفع نقصان بھی ہوتا ہے۔زرق اور نعمتیں عموما اسباب کے تحت ہی ملتی ہے اللہ کا مقرر کر دہ نظام ہے۔ مسلمان ہو کافر ہو ایک دوسرے کو نفع نقصان ، رزق ، فائدہ ایک دوسر ے کی مدد کرتے ہیں اس کو میں مانتا ہوں ۔اسباب کے تحت ایک دوسرے کو نفع نقصان پہنچا دینا مدد کرنا ، مدد مانگنایہ شرک نہیں۔ مسلمان ہو کافر ہو حکومت بادشاہت ملتی ہے فرعون کو بھی ملی تھی اور جناب سلیمان علیہ اسلام کے پاس تو ایسی بادشاہت تھی جو صرف سلیمان علیہ اسلام کو ہی ملی تھی۔ کوئ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچا دینے سے نفع نقصان کا مالک نہیں بن جاتا ورنہ فرعون کے پاس اختیار نہیں تھے کیا؟؟ نفع نقصان کا اختیار ہونا اس سے بلند تر شے ہے۔ کسی ہستی کا نفع نقصان کا اختیار رکھنے کا یاں محتار کل ہونے کا مطلب ہے اب وہ ہر نفع کو دے سکے ہر نقصان سے بچا سکے کوئ بھی کسی بھی قسم کا ہو، زرق نہیں مل رہا بیٹا چاہیے، کسی بھی بیمارئ سے جسے مرضی نجات دہ دے، ہر مشکل پریشانی کو دور کر سکےیاں کسی کو کسی بھی مشکل پریشانی میں ڈال سکے، جو نعمت چاہے دے جو نعمت چاہے روک لے عرض ہے کہ پورا اختیار کسی کو جو چاہے دے کسی بھی سے جو چاہے روک لے۔ اسی طرح لوگ ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل بھی ہوتے ہیں ایک دوسرے کی زندگی بھی بچاتے ہیں فرشتے آ کر جان قبض کرتے ہیں زندگی اور موت کا مالک ہونے کا مطلب ہے زندگی اور موت کے مکمل اختیارات کسے کب کتنی سارے کا سارا اختیار۔