ghulamahmed17

Under Observation
  • Content count

    452
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Everything posted by ghulamahmed17

  1. محترم میں قادری سلطانن صاحب آپ اگر یہ جملے بھی نہ لکھیں تو اور کیا لکھیں گے ، وہ ثابت کریں ، یہ ثابت کریں اس کے سوا آپ کے پاس آخر رکھا ہی کیا ہے ۔ آپ نے لکھا کہ معاویہ بن ابوسفیان پر سکوت ہے ، میں نے آپ کو بتایا کہ سکوت کیسا ہے ؟ آپ نے کہا کہ دیکھاؤ کہ کہاں لکھا ہے کہ ابن ملجم مجتہد ہے ؟ میں نے کتابیں آپ کے سر کے اوپر رکھ دی ۔ اب ابن ملجم صحابی تھا یا نہیں ، مجتہد تھا یا نہیں مگر بارہ الہی میں لعنتی قرار پا چکا ۔ اب آپ ثابت فرمائیں کہ حجر بن عدیؓ کے قتل میں معاویہ بن ابوسفیان کیسے مجتہد قرار پاتے ہیں ۔ یا آپ کو اس فورم نے صرف افسانے لکھنے کے لیے ایڈ کر رکھا ہے ۔
  2. چلیں قادری سلطانی صاحب اگر آپ بضد ہیں کہ جواب آپ ہی کو دینا ہے تو پڑھو ۔ کف لسان یہ ہے کہ معاویہ بن ابوسفیان کے عرس منانا جھنڈے اٹھانا اور من گھڑت فضائل کا باپ بند کر کے ان کو کافر نہ کہا جائے اور ان پر لعنت نہ کی جائے ۔ ہر دو طرف سے بالکل مکمل سکوت اور خاموشی کا نام کفِ لسان ہے ۔ --------------- قادری سلطانی صاحب پڑھیں اس اُمت کا بدبخت ترین انسان جس نے سیدنا علیؓ کو شہید کیا وہ بھی صحابہ میں سے تھا ۔ -------- امام ذہبی نے اپنی کتاب " تجريد أسماء الصحابۃ " حصۃ اول میں سیدنا علیؓ کے قاتل ابنِ ملجم کو صحابہ میں /3782 نمبر پر ذکر کیا ہے۔ تجريد أسماء الصحابۃ ، الجزء الاوّل ،صفحہ نمبر/356 المؤلف: محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي أبو عبد الله شمس الدين -------------------------- امام حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں ۔ ----------------------------- پڑھیے !جی ہاں ابن ملجم بھی مجتہد ہی تھا ۔سیدنا عمر نے عمروبن العاص کو خط لکھا:" عبدالرحمان بن ملجم کا گھر مسجد کے قریب کر دو تا کہ وہ لوگوں کو قرآن مجید اور فقہ کی تعلیم دے"تاريخ الإسلام - الإمام الذهبيجلد3 ، ص / 653 قادری سلطانی صاحب سیدنا علیؓ کی شہادت پر اس حرامی کو بھی اک ثواب سے نواز دیں ۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے بھی اجتہاد ہی کیا ہو ؟ -------------------------------- چلیں اب سب مجتہدین میں صحابہ اور اہل بیت کی قتل و غارت پر اک اک ثواب بانٹتے پھریں ۔ -------------------
  3. شریعت میں کہیں نہیں کہ معاویہ نام نہیں رکھا جا سکتا مگر جب ہماری اہل سنت کی کتابیں بھری پڑی ہیں کہ معاویہ بن ابوسفیان نے سیدنا علیؓ کے خلاف بغاوت کی اور ہتیار اُٹھائےاور یوں باغی ٹہرے ۔ جب حدیث صحیحہ سے ثابت ہے معاویہ بن ابوسفیان نے خطبوں میں وہ بُری بدعت شروع کرائی جس میں معاویہ کے گورنر کی طرف سے سیدنا علیؓ کو گالیاں دی جاتیں اور لعنت کی جاتی تھی ۔ جب احادیث میں موجود ہے کہ معاویہ بن ابوسفیان سیدنا علیؓ سے بغض رکھتا تھا ۔ جب ہماری بےشمار اہل سنت کی کتابوں میں لکھا کہ معاویہ بن ابوسفیان کے اشارے پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا ، اب وہ روایات درست ہیں یا غلط یہ دوسری بات ہے ۔ جب ہماری اہل سنت کی کتابوں میں لکھا پڑا ہے کہ معاویہ شراب پیتا تھا ۔ جب کریم آقاﷺ نے اس خاندان بنو امیہ سے دور رہنے کی طرف اشارہ کیا تھا ۔ تو جناب امیر اہل سنت نے ان باتوں کی طرف کیوں توجہ نہیں دی اور 7 محرم کے دن جو کہ شہادت سیدنا امام حسینؓ کی شہادت سے صرف تین دن کی دوری پر تھا اس دن سیدنا امام حسینؓ کے قاتلین کے امیر و بادشاہ یذید کے والد کا نام رکھنا بڑا ہی عجیب تر ہے ۔ کیا امیر اہل سنت نے کریم آقاﷺ کی اس فرمان کی کبھی کھوج اور تلاش نہیں کی کہ : " وہ بُرے لوگ کون تھے ؟ " جن کے بارے کریم آقاﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ کو فرمایا تھا : " اے عبداللہ بن عمرو تمہارا کیا حال ہو گا جب تم بُرے لوگوں میں رہ جاؤ گے ۔ " پھر بھی معاویہ رضا نام رکھنا ؟ ----------------------
  4. آج تک سوائے باتوں کے آپ کے پلے کچھ بھی نہیں ہے جناب یہی سوال جو آپ کہ رہے ہیں ، آپ سعیدی صاحب کو کہیں اور وہ لکھیں کہ میں انہی سوالوں کا جواب لکھ دوں تو پھر دیکھنا لکھتا ہوں یا نہیں ، لیکن یہ ہر بار درمیان میں شریر بچوں کی طرح ٹانگ نی اڑایا کریں ۔ -----------------------
  5. چلیں قادری سلطانی صاحب نیچے موجود عربی الفاظ کا اوپر موجود مکمل حدیث کی روشنی میں مولا کا ترجمہ کریں ۔
  6. آپ لوگ کس قدر مجبور اور لاچار و بے بس ہو چکے ہو ممبروں پر پگڑیاں باندھ کر سوال ہاتھوں میں تھام کر پڑھتے ہوئے مولا کا معنی آقا کرنے پر اہل سنت سے نکالنے والے ، بدمذہب اور گمراہ کا فتویٰ دینے والے آج یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ یہ تک نہیں لکھ رہے کہ مولا کا معنی آقا کرنا جائز ہے کہ ناجائز ہے ، واہ ری بے بسی چلیں قادری سلطانی صاحب چلیں قادری سلطانی صاحب نیچے موجود عربی الفاظ کا اوپر موجود مکمل حدیث کی روشنی میں مولا کا ترجمہ کریں ۔
  7. جو بندہ سالوں سے مولا کا معنی آقا کرنے پر رافضیت و گمراہی کا فتوی دیتا رہا وہ ثبوت ملنے پر تین ماہ سے اک بات کا جواب تک نہیں دے پا رہا پھر سعیدی صاححب کی خدمات ماننگی گئی تو جناب میں میں جواب انہیں ہی کو دوں گا ، ہر بندہ کو کسی صورت جواب نہیں دیا جا سکتا ، پھر آج تک جناب سلطانی صاحب آپ آگے آگے بھاگ رہے ہیں اور مجھ سے بار بار سند کا مطالبہ بڑے ہی تعجب کی بات ہے ۔ امن کیجے اور صبر کیجے ۔ سعیدی صاحب کو جواب لکھنے دیں ۔ --------------------
  8. پہلی بات ڈاکٹر صاحب کے معاویہ بن ابوسفیان کے موضوع پر نئے اور آخری خطاب کے بعد پہلے سارے حوالہ جات کی اہمیت ختم ہو گی ہے چاہے وہ موقف ڈاکٹر صاحب کا اپنا ہو یا کسی بھی منہاج القرآن کے بڑے سے بڑے مفتی کا ۔ دوسری بات آپ معاویہ بن ابوسفیان کے ہر گناہ کبیرہ کو کیوں اجتہادی غلطی کی چادر میں چھپانا چاہتے ہیں ؟ حضرت عمر فاروقؓ نے ابن ملجم کو بھی مجتہد کہا تھا ، اسے بھی سیدنا علیؓ کے قتل پر اجتہادی خطاء کا فائدہ دے دیں کیا ؟ جناب سعیدی صاحب ابنِ عباسؓ کا جہاں مجتہد کا قول ہے وہی حمار والا بھی قول ہے میں بحث کو کسی اور طرف الجھانا نہیں چاہتا اس لیے حضرت حجر بن عدی کے قتل کو آپ اجتہادی خطاء میں نہ چھپائیں ، معاویہ بن ابوسفیان کی یہ اجتہادی خطاء کتنی تھی شاید اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا ۔ -------------------------------
  9. چلیں سعیدی صاحب نہیں تو قادری سلطانی صاحب آپ ہی لکھ دیں کہ مولا کا معنی آقا کرنا جائز ہے کہ ناجائز ہے ؟ ---
  10. پلیز پہلے بھی لکھا ہے کہ درمیان میں چھلانگ نہ لگائیں یا تو جناب سعیدی صاحب کو جواب لکھنے دیا کریں یا لکھیں کہ مکمل بات اس کے بعد آپ سے ہو گی ۔ وقت نہ ضائع کیا کریں ، آپ کو شوق ہے تو آپ کے لیے نیا ٹاپک شروع کرتا ہوں وہاں آ کر اپنا شوق پورا فرما لیں ۔
  11. پلیز پہلے بھی لکھا ہے کہ درمیان میں چھلانگ نہ لگائیں یا تو جناب سعیدی صاحب کو جواب لکھنے دیا کریں یا لکھیں کہ مکمل بات اس کے بعد آپ سے ہو گی ۔ وقت نہ ضائع کیا کریں ، آپ کو شوق ہے تو آپ کے لیے نیا ٹاپک شروع کرتا ہوں وہاں آ کر اپنا شوق پورا فرما لیں ۔
  12. کمال بات ہے آپ دونوں میں سے ایک بھائی بھی ہمت نہیں کر رہا کہ مولا کا معنی آقا کرنا جائز ہے یا ناجائز ہے لکھ دے ۔ چلیں سعیدی صاحب نہیں تو قادری سلطانی صاحب آپ ہی لکھ دیں کہ مولا کا معنی آقا کرنا جائز ہے کہ ناجائز ہے ؟ ----------------------------
  13. اگر حوالے لگائے ہوتے تو مجھے نظر آتے اور ہر کوئی دیکھتا کہ یہ کتاب ہے اور یہ حوالہ ہے ۔ جناب سعیدی صاحب امام حجر عسقلانیؒ کی جس کتاب اور صفحہ پر حوالہ ہے اس کتاب کا وہ پیج لگائیں ، آخر آپ ہر بات میں رکاوٹ کیوں ڈالنا چاہتے ہیں ۔ ایک بات دس دس بار لکھ رہا ہوں ، پلیز کتاب کی صورت میں حافظ حجر عسقلانیؒ کا ابو عبداللہ الجدلی پر مکمل اعتراض پیش فرمائیں ۔ امید ہے کہ آپ کتاب پیش فرما دیں گے َ
  14. سعیدی صاحب کیا نئی سے نئی حکایات سنارہے ہیں میں پوچھ رہا ہوں کہ مولا کا معنیٰ آقا کر نا جائز ہے کہ ناجائز وہ لکھ دیں ، آپ کبھی اک ضرورت کی ایجاد فرماتے ہیں کبھی دوسری او اللہ کے بندے عقیدہ ایک لکھو ، جائز ہے یا ناجائز ہے ؟ --------------------
  15. لگتا ہے آپ ہر بات سند سے ہی پیش فرما رہے ہیں ، سارے جہان کے علم ہے کہ حضرت حجر بن عدیؓ کو معاویہ بن ابوسفیان نے بے گناہ قتل کیا ؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ الزام ہے تو آپ ان کے قاتل کا نام لکھ دیں ؟
  16. حافظ حجر عقسلانیؒ کا مکمل اعتراض کتاب سے پیش فرمائیں ۔ اجو بھی اعتراض ہے وہ پیش کر دیں ----------------------
  17. جناب سعیدی صاحب بات کو الجھایا نہ کریں کیا اوپر موجود امام احمد رضا خان بریلوی کا حوالہ معاویہ بن ابو سفیان عادل خلیفہ اور کتاب کا حوالہ چلیں وہ بھی عادل خلیفہِ درست ہیں ؟ ہاں یا نہیں؟ -----------------
  18. جن محدثین نے یہ اصول کتابوں میں لکھا ہے پلیز وہ پیش فرما دیں ۔ حافظ حجر عقسلانیؒ کا مقام حدیث میں بہت اہم ہے لہذا ان کا مکمل اعتراض کتاب سے پیش فرمائیں ۔ یہ بدعت ایسی نہیں ہے کہ اہل تشیع نے گھڑ لی ہے اہل سنت کے بڑے بڑے اماموں اور محدثین نے معاویہ کی گالیوں کے کارنامے ذکر کیے ہیں َ کیا وہ بھی بھی اہل تشیع ہیں ؟ ---------------------------------------
  19. گویا کہ آپ امام احمد رضا خان بریلوی کے دو حوالہ جات اور کتاب " حضرت امیر معاویہ خلیفہِ راشد " کی تصدیق فرما رہے ہیں کہ وہ بارہ خلفائے عادل میں سے ایک خلیفہِ عادل تھے ۔ اور اوپر کے تینوں حوالہ جات اہل سنت کے درست عقائد میں سے ہیں ۔ ----------------------------------
  20. اگر اللہ پاک آپ کے ہوش و حواس قائم رکھتا تو نیچے سیدنا امام حسین علیہ السلام کا نام بھی لکھا ہوا ہے اسے فقرے کو ہائی لائٹ اس اہم بات کی وجہ سے کیا گیا ہے کہ اس میں حضرت حجر بن عدی کے جنازہ اور بیڑیوں کا ذکر ہے ۔ اللہ پاک آپ کو مکمل عبارت پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ----------------------------------------
  21. جناب محترم سعیدی صاحب روافض کی کتابوں میں جس طرح مولیٰ علیؓ کو ظاہری خلافت میں خلیفہِ بلافصل مانا جاتا ہے ہم اہل سنت کا ہرگز ہرگز وہ عقیدہ نہیں ہے ہے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ظاہری خلیفہِ بلافصل مانتے ہوئے اگر مولا کا معنی دوست ، محبوب ، مددگار کی ہی طرح آقا یا کوئی اور معنیٰ کیا جائے تو کیا پھر وہ جائز ہے کہ نہیں محترم سعیدی صاحب آپ ناحق بھاگ رہے ہیں محترم اب جائز و ناجائز بتانا ہی پڑے گا ۔ آخر اس میں کون سی پریشانی آپ جناب کو درپیش ہے کہ آپ میتے محترم کتنے دن سے اک فقرہ نہیں لکھ پا رہے کہ جائز ہے ناجائز امید ہے آپ مہربانی فرمائیں گے اور دوٹوک لکھیں کہ جائز ہے ناجائز؟ -----------------------------
  22. ،جناب سلطانی قادری صاحب مختصراً حدیث صحیح ہے آپ کے انکار اور فضول اعتراضات کا کوئی جواز ہی باقی نہیں قادری سلطانی آپ لوگ ساری زندگی بھی لگا دیں تو بھی اس حدیث صحیح کو کسی بھی صورت ضعیف بھی قرار نہیں دے سکیں گے ، ان شاء اللہ
  23. جناب محترم قادری سلطانی صاحب مجھے آپ کے ان پیش کردہ معنی سے کوئی اختلاف نہیں ، میری آپ حضرات سے گذارش فقط اتنی ہے کہ لفظ مولا کے جو معنی آپ نے پیش فرمائے انہیں میں مولا کا اک معنی آقا بیان کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟ -------------------
  24. قادری سلطانی صاحب اصل میں آپ کے اوسان جاتے رہے ہیں ، اگر آپ پوسٹیں پڑھنے کی زحمت فرماتے تو آپ کو یہ تکلیف پھر سے نہ کرنا پڑتی جناب قادری سلطانی صاحب اور جنابِ سعیدی صاحب اب محققِ اھل سنت محمد ابوزھرہ مصریؒ اور دیگر حوالہ جات کو حدیثِ صحیح سے ثابت کیا جاتا ہے ۔ پڑھیے جناب: عن أبي عبد الله الجدَلي قال: ‏‏‏‏قالت لي أم سلمة: أيُسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بينكم على المنابر؟! قلت: سبحان الله! وأنى يسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟! قالت: ‏‏‏‏أليس يُسَبُّ علي بن أبي طالب ومن يحبه؟ وأشهد أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كان يحبه! " ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ مجھے سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا رسول اللہﷺ کو تم لوگوں کی موجودگی میں ممبروں پر بُرا بھلا کہا جا رہا ہے ؟ میں نے کہا سبحان اللہ ! آپ کو کہاں برا بھلا کہا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا : کیا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اُن سے محبت کرنے والوں پر سب و شتم نہیں کیا جا رہا ؟ اور میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہﷺ اُن سے محبت کرتے تھے " ۔ حدیثِ صحیح کتاب کا نام : سلسلہ احادیثِ صحیحہ / 5( اردو) مصنف کا نام : علامہ محمد ناصر الدین البانی حدیث کی سند ‏‏‏‏أخرجه الطبراني في "المعجم الأوسط " (6/389/5828) ، و"المعجم الصغير" (199- هندية) : حدثنا محمد بن الحسين أبو حُصين القاضي: قال: حدثنا عون ابن سلام قال: حدثنا عيسى بن عبد الرحمن السُلَمي عن السُّدِّي عن أبي عبد الله الجدَلي قال: ‏‏‏‏قالت لي أم سلمة: أيُسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بينكم على المنابر؟! قلت: سبحان الله! وأنى يسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟! قالت: ‏‏‏‏أليس يُسَبُّ علي بن أبي طالب ومن يحبه؟ وأشهد أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كان يحبه! وقال الطبراني: ‏‏‏‏"لم يروه عن السدي إلا عيسى". ‏‏‏‏قلت: ومن طريقه أخرجه أبو يعلى في "مسنده " (12/444- 445) ، والطبراني أيضاً في "المعجم الكبير" (23/323/738) من طرق أخرى عن عيسى به . ‏‏‏‏قلت: وهذا إسناد جيد، ورجاله كلهم ثقات، وفي السدي- واسمه إسماعيل بن عبد الرحمن- كلام يسير لا يضر، وهو من رجال مسلم. وأما إعلال المعلق على "المسند " بقوله: ‏‏‏‏"رجاله ثقات إلا أنه- عندي- منقطع، ما علمت رواية لإسماعيل بن عبد الرحمن السدي عن أبي عبد الله الجدلي فيما اطلعت عليه. والله أعلم "! ‏‏‏‏قلت: وهذا من أسمج ما رأيت من كلامه؛ فإن السدي تابعي روى عن أنس في "صحيح مسلم "، ورأى جماعة من الصحابة مثل الحسن بن علي، وعبد الله بن عمر، وأبي سعيد، وأبي هريرة كما في "تهذيب المزي "، يضاف إلى ذلك أن السدي لم يرم بتدليس، فيُكتفى في مثله المعاصرة، كما هو مذهب جمهور الحفاظ الأئمة , فلعله جنح به القلم إلى مذهب الإمام البخاري في "صحيحه " الذي يشترط اللقاء وعدم الاكتفاء بالمعاصرة، وما أظنه يتبناه؛ وإلا انهار مئات التصحيحات والتحسينات التي قررها، ويغلب عليه التساهل في الكثير منها، وبخاصة ما كان فيا من الرواة ممن لم يوثقهم أحد غير ابن حبان، وهو لا يشترط اللقاء! ‏‏‏‏ومحمد بن الحسين شيخ الطبراني؛ مما فات على صاحبنا الشيخ الأنصاري رحمه الله أن يترجم له في كتابه النافع: "بلغة القاصي والداني "، وقد ترجم له الخطيب (2/129) ترجمة حسنة، وأنه روى عنه جماعة من الحفاظ، وفاته الطبرانيُّ، ثم قال: ‏‏‏‏"وكان فهماً، صنف "المسند". وقال الدارقطني: كان ثقة. وقال إبراهيم بن إسحاق الصواف: أبو حصين صدوق، معروف بالطلب، ثقة. مات سنة (296) ". ‏‏‏‏ ‏‏‏‏هذا، وقد تابع السدي: أبو إسحاق وهو السبيعي؛ رواه فطر بن خليفة عنه عن أبي عبد الله الجدلي قال: ‏‏‏‏قالت أم سلمة: يا أبا عبد الله! أيسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فيكم؟ قلت: ومن يسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ قالت: ... فذكره. ‏‏‏‏أخرجه الطبراني في "الكبير" (23/322/737) . ‏‏‏‏قلت: ورجاله ثقات؛ على الكلام المعروف في أبي إسحاق، وقد اختلف عليه في إسناده ومتنه، فرواه بعضه عنه بلفظ: ‏‏‏‏"من سب عليّاً فقد سبني، ومن سبني سبه الله ". ‏‏‏‏وهو بهذا اللفظ منكر، ولذلك أوردته في "الضعيفة" (2310) ، وخرجته هناك، وتعقبت من صححه، فليراجع في المجلد الخامس منه، وهو تحت الطبع، وسيكون بين أيدي القراء قريباً إن شاء الله تعالى، وقد طبع بحمد الله ومنته. ‏‏‏‏والأحاديث في حب النبي - صلى الله عليه وسلم - لعلي رضي الله عنه كثيرة جدّاً، أصحها حديث إعطائه الراية يوم خيبر، وقوله - صلى الله عليه وسلم -: ‏‏‏‏"لأعطين هذه الراية رجلاً يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله ... ". ‏‏‏‏رواه جمع من الصحابة في "الصحيحين " وغيرهما، وقد خرجت بعضها فيما تقدم (3244) ، وفي " تخريج الطحاوية " (484/713) . * ------------------ قادری سلطانی صاحب میری پوسٹ باغی کے ٹاپک پر کب بحال فرمائیں گے ؟ یا میں پھر سے نئی لگاؤں ؟ ----------------------------