Saeedi

Star Member
  • Content count

    1,074
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    257

Saeedi last won the day on March 18

Saeedi had the most liked content!

Community Reputation

666 Excellent

1 Follower

About Saeedi

  • Rank
    Madani Member

Profile Information

  • Gender

Previous Fields

  • Madhab

Recent Profile Visitors

2,057 profile views
  1. 1۔ علامہ خفاجی کے حوالے سے آپ نے (لا القدرۃ) کی رٹ لگاتے رہے مگر جب ھم نے عبارت سے آئینہ دکھایا خود ہی حقیقتِ ظلم کو قدرت الٰہی سے لا یتصور کہہ کر لاتعلق مان گئے ۔ اور محال عقلی اور کیا ھوتا ھے!! ھم نے علامہ خفاجی کی عبارت پیش کی جس میں خلف کو ممتنع لکھا تھا اور ساتھ ہی نقص اور منافی الوھیت بھی لکھا تھا جس سے ممتنع بالغیر کی تاویل بھی نہیں چل سکتی تو جناب منقار زیرِ پر ھو گئے 2۔ مسائرہ ومسامرہ کا عکس تم نے پیش کیا تو اس میں صاحبِ عمدہ علامہ نسفی حنفی کا قول ھے کہ اللہ تعالیٰ کو ظلم و سفہ و کذب پر قادر ھونے سے وصف نہ کیا جائے اور معتزلہ کے نزدیک وہ یہ سب کر سکتا ہے۔ علامہ نسفی کی بات پر بحث کرتے ہوئے علامہ کمال ابن الھمام حنفی نے کہا (کانہ انقلب مذھب المعتزلہ) (لگتا ھے کہ اس نے معتزلہ کا مذھب اُلٹ بیان کیا)۔ حالانکہ یہ کہنا تب درست ھوتا جب سب معتزلہ کا ایک ھی قول ھوتا جبکہ مزدار راہبِ معتزلہ کا قول مشہور ھے ۔ اور امام فخر الدین رازی نے بھی معتزلہ کا یہی مذھب بتایا ہے ۔ یونہی زیرِ بحث(ظلم،سفہ وکذب کر سکنے کی) بات کو مذھب اشاعرہ (مغفرت مشرکین کا ممکن بالذات اور محال بالغیر ھونا) کے الیق بتانا بھی اشاعرہ کا مذھب بتانا نہیں بلکہ ان کا لازم المذھب بتانا ہے ۔ اسی کتاب کے صفحہ 60 پر ھے کہ اشاعرہ اور ان کے غیر کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو چیز بندوں کے حق میں وصف نقص ھے تو باری تعالیٰ اس سے منزہ ھے وھو محال علیہ تعالیٰ والکذب نقص فی حق العباد ۔ اسی کتاب کے صفحہ 239 پر عقیدہ اہل سنت لکھا کہ : یستحیل علیہ سبحانہ سمات النقص کالجہل والکذب۔ اللہ تعالیٰ پر عیب کی نشانیاں جیسے جہل اور کذب محال ہیں۔ 3۔ شرح مواقف :331 پر خوارج و معتزلہ کا اعتراض لکھا کہ کبیرہ گناہ کی معافی سے خلف فی الوعید اور کذب فی الخبر لازم آتا ہے جو محال ہے ۔ اس پر فرمایا کہ وعید میں سزا لازمًا ھونے کی بات نہ تھی، واقع ھو سکنے کی بات تھی ۔ سزا لازم ھونے کی بات کی خلاف ورزی سے خلف وکذب لازم آ سکتا تھا ۔ اب ان دونوں کا جواز لازم نہیں آتا ۔ اور وہ بھی محال ھے۔ کیوں کہ ھم کہتے ہیں کہ اس ( یعنی صاحب ِ کبیرہ کی معافی)کا محال ھونا ممنوع ہے اور کیسے نہ ھو جبکہ یہ دونوں باتیں (ظاھری خلف وعید اور صورتِ کذب) ممکنات سے ہیں اور باری تعالیٰ کی قدرت میں شامل ہیں ۔ پھر اس بات کو اگر تم حقیقت میں کذب باری مانتے ھو تو تم وقوعِ کذبِ باری کے قائل ھوئے اور وقوع کذب باری کی تکفیر کر کے تم نے اپنی ھی تکفیر کی ۔ پھر اسی شرح مواقف:114 میں ھے کہ انہ تعالیٰ یمتنع علیہ الکذب اتفاقاً ۔الله تعالیٰ پر جھوٹ بالاتفاق محال ہے (قبیح یا نقص وغیرہ ھونے کی وجہ سے)۔ پھر اسی شرح مواقف:413 میں ھے کہ معتزلہ مزداریہ کا موقف ہے کہ الله قادر علیٰ ان یکذب و یظلم ، ولو فعل لکان الھا ظالما۔ تعالی الله عما قالہ علوا کبیرا۔ یعنی اللہ جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے پر قادر ہے، اگر ایسا کرے گا تو خدا جھوٹا اور ظالم ھو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی کہی ھوئی باتوں سے بہت بلند ھے۔ اب معتزلی مزداروں اور دیوبندی مرداروں میں کیا فرق رہ گیا ہے؟ نام نہاد چار صریح حوالوں پر کلام: 1۔ کمال ابن الھمام:- مسائرہ کی زیربحث عبارت میں اشاعرہ کا مذھب مذکور نہیں بلکہ ان کے مذھب کے الیق لکھا اور یہ ظاھر بات ہے کہ لازم المذھب لیس بمذھب۔ 2۔ حاشیہ سیالکوٹی کی زیر بحث عبارت کے بعد والی عبارت میں علم و صدق سمیت کسی بھی صفتِ کمال کی نفی کو ایسا ممتنع بتایا جیسے ذات کی نفی۔ یہ عبارت تمہاری پیش کردہ بے ربط عبارت سے معارض بھی ھے اور متاخر بھی ۔ ذات کی نفی محال عقلی ھے یا محال بالغیر ھے؟ 3۔ شرح المواقف۔(ھما من الممکنات) میں خلف وعید اور اس سے متعلقہ "کذب" مراد ہیں۔ آپ واضح کریں کہ خلف ِ وعید عقلاً ممکن اور شرعاً محال ہے یا شرعاً بھی ممکن ہے اور محض ممکن ہے یا واقع بھی ھو گا؟ اور خلف وعید سے متعلقہ کذب کا بھی وہی حکم ھے یا نہیں؟ 4۔ مسلم الثبوت کے یہ جناب کے پیش کردہ محشی کون ہیں؟ " اگر جھوٹے نبی کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر کرنا ممکن بالذات مانتے ہو تو کیا اسے محال بالغیر بھی مانتے ھو یا نہیں؟ اگر محال بالغیر مانتے ھو تو وہ "غیر" کیا ھے؟ وہ الله کا کذب لازم آنا ھے۔ اگر کذب بھی ممکن بالذات ھے تو ایک ممکن بالذات دوسرے ممکن بالذات کو محال بالغیر کیسے بنا سکتا ہے، اس کے لئے تمہیں ماننا پڑے گا کہ کذب الله تعالیٰ کے لئے محال بالذات ھے ۔ کب تک ابن حزم اور مزدار کی پیروی کرتے رہو گے؟
  2. وقوع کذب باری کا قول دیوبندی کلاموں سے ثابت ھے: 1۔ سرفراز کے مطابق : معبود بڑے بڑے گناہ بخش سکتا ہے مگر نہیں بخشے گا کیونکہ وقوع کذب ھو جائے گا ۔ 2۔ شئی( تین میں سے ایک زمانے میں ) فی الجملہ موجود تو ان الله علی کل شئی قدیر سے جھوٹ بولنے پر قدرت تبھی مانی جائے گی جب ایک زمانے میں کذب موجود و واقع مانا جائے ۔ 3۔ خلف وعید اگر کذب ھے تو خلف وعید کا امکان ماننا نہیں بلکہ وقوع ماننا مختلف فیہ ھو گا۔ 4۔قدرۃ علی القبائح ماننے والے محمود الحسن نے ترجمہ میں لکھا کہ رسولوں نے گمان کیا کہ (اللہ کی طرف سے)ان سے جھوٹ بولا گیا ۔ وقوع کذب باری کا ظن رسولانِ گرامی سے؟؟
  3. سبحٰن السبوح 1307ھ میں امکان کذب کے جدید مدعیان (براہین قاطعہ کے شروع میں امکان کذب کا دفاع کرنے والے صاحبان کو دہلوی کے مقتدی اور مدعیان جدید )لکھا تھا کہ "اِن مقتدیوں یعنی مدعیانِ جدید کو ابھی (1307ھ) تک مسلمان ھی جانتا ہوں اگرچہ ان کی بدعت و ضلالت میں شک نہیں "۔ تحذیرالناس کی تکفیر کی نفی یہاں سے اخذ کرنا ھرگز درست نہیں ہے ۔ سبحٰن السبوح سے ایک سال پہلے لکھی گئی کتاب اعلام الاعلام بان ھندوستان دارالاسلام (1306ھ) میں لکھا ہے ۔ "جو نجدی وہابی ۔ ۔ ۔ کہے آج تک جو صحابہ تابعین خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین سمجھتے رہے خطا پر تھے، نہ پچھلا نبی ھونا حضور کے لئے کوئی کمال بلکہ اس کے معنی یہ ہیں جو میں سمجھا ۔ ۔ ۔یہ سب فرقے بالقطع والیقین کافر ہیں"۔ سبحٰن السبوح کی اس عبارت کو حسام الحرمین کا ناسخ لکھنے والے دیوباندی علماء بھی دستیاب ہیں، ڈیرہ غازی خان کے ایک صاحب نے کتاب لکھی (انشاء قلیل در دفاع مولانا طارق جمیل)،اس کے صفحہ 4 پر سبحٰن السبوح کی اس عبارت کو حسام الحرمین کا ناسخ لکھا ہے، دیو باندیوں کی تحقیق کے کیا کہنے!؟
  4. یہ کہنا(معبود جھوٹ بول سکتا ہے) ایسے ھی ھے جیسے یہ کہنا کہ دیوبندیوں کا معبود خود کشی کر سکتا ہے مگر کرتا نہیں (تو جس کی موت و حیات ممکن ہو وہ تو ممکن الوجود ھے نہ کہ واجب الوجود)۔ یا جیسے یہ کہنا کہ دیو باندیوں کا معبود اتنا بھاری پتھر بنا سکتا ہے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے ۔ یا جیسے یہ کہنا کہ دیوبندیوں کا معبود چوری کر سکتا ہے، نہ کر سکے تو قدرت پر حرف آتا ہے اور کر سکے تو اس کی ملکیت سے کچھ چیزوں کو خارج ماننا پڑتا ہے جن کی وہ چوری کر سکے اور جن کے لئے کوئی اور مالک ومعبود ماننا لازم آتا ہے ۔ حقیقت میں سچا معبود سب کا ایک ھی ھے جیسا کہ سورۃ اخلاص میں ھے اور اپنے خیالات کے مطابق لوگوں کے بہت معبود ہیں جیسا کہ سورۃ الکافرون میں ھے : لا اعبد ما تعبدون۔ وغیرہ ۔ ان کے تصوراتی معبودوں پر جرح کر کے ھم اُن کے تصورِ معبود کو درست کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ جرحیں ھم سب کے سچے معبود کے متعلق سوچی بھی نہیں جا سکتیں۔ دیوبندی کتاب میں شیعہ کے تصورِ معبود کے متعلق یہ جرح موجود ہے ایسے احمق خدا کو میں نہیں مانتا"۔ ارواح ثلاثہ۔" سرفراز لکھتا ہے کہ :"اس کو قدرت ھے کہ بڑے سے بڑے گنہگار حتی کہ کافر و مشرک کو جنت میں داخل کر دے یقینا وہ اپنے اختیار سے ایسا کر سکتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ وہ کرے گا ھرگز نہیں کیونکہ اس کا وعدہ سچا ھے"۔ (تنقيد متین:139). دیوبندیت/دیوبندگی کے امام سرفراز گکھڑوی کے نزدیک : اگر بڑے سے بڑے گنہگار جنت میں داخل ھوں تو الله جھوٹا ھو جائے گا ۔حالانکہ کافر و مشرک کو چھوڑ کر ھر بڑے سے بڑا گناہ گار جلد یا دیر سے جنت میں داخل ضرور ھو گا ۔ تو اس وقت دیو باندیوں کے نزدیک ان کے معبود کا جھوٹا ھونا ثابت ھو جائے گا ۔
  5. جناب معترض صاحب تصفیۃ العقائد کتاب بانی دیوبندیت مولوی محمدقاسم نانوتوی صاحب کی ہے جومولوی اشرفعلی تھانوی، مولوی طارق جمیل اور مسٹرجنید جمشید کا مقتدا ؤامام ہے۔ امام کے مقتدی اُس کے پیروکار ہوتے ہیں،امام کی قراءت ہی مقتدی کی قراءت ہے۔ پھرآپ رضاء المصطفےٰ اعظمی کی ذمہ داری جس طرح ہم پر ڈال رہے ہیں،ایسے ہی قاسم نانوتوی کی بات کی ذمہ داری اشرفعلی،طارق جمیل اور جنید جمشید پر کیوں نہیں ڈالتے؟ ایسے ترجموں میں اور بھی احتمال ہوتے ہیں اور ہم مسلمانوں پر حسنِ ظن رکھتے ہوئے اُن کی ترجمہ کی غلطیوں کو اچھے محامل پر محمول کرتے ہیں،لیکن اِس حسنِ ظن اور اچھے محمل پر محمول کرنے کا اُن لوگوں کے لئے کوئی فائدہ نہیں جن پر پہلے ہی علماء اسلام اُن کے بعض قطعی صریح کفریات کے باعث کافر کا فتویٰ دے چکے ہوں۔اُن کی (من شک فی کفرہ) والی کفریات کے سبب اُن کو غلط اوربظاہر کفری ترجموں کے ممکنہ اسلامی احتمالات سے فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔ اور محض تراجم تک ہی بات محدود نہیں ،اور بھی کفر نظر آنے والی عبارات کے اسلامی احتمالات اور حُسنِ ظن سے فائدہ صرف اور صرف اُن لوگوں کے لئے ہے جو(من شک فی کفرہ)والے کفریات میں مبتلا نہ ہوں۔یعنی یہ اسلامی احتمالات، التزام کفر میں مبتلا لوگوں کے لئے نہیں ہیں۔ جو لوگ کفریہ قول کے سر زد ہونے کے بعداتمام حجت ہونے کے باوجود اپنے قول یا فعل سے اُس کا التزام کر چکے تو اُن کے لئے ہم کافر کہنے میں کوئی فرق نہیں کرتے۔
  6. جناب قاسم صاحب! میں نے پوری بحث کی کلید پیش کی تھی جس کا آپ جواب دینے کی بجائے سائیڈ سے گزر گئے۔ میں بات کا رنگ بدل کر پھر پیش کر رہا ہوں۔ جواب ضرور دینا:۔ کیا عمار کو قتل کرنے سے قاتل فاسق ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر عمار کا قاتل ہونے سے بندہ فاسق ہوجاتاہے تو اُس کا صحابی ہونا اور قاتل ِ عمار ہونا بھی تو اُسی کے قول سے ہی ثابت ہوتا ہے تو وہ دونوں باتیں بھی ایک فاسق کا بیان ہونے کی وجہ سے غیرمعتبر ہو گئیں یا نہیں؟
  7. جناب آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ امیر معاویہ بھی آپ کی طرح مروان کو طلحہ رضی اللہ عنہ کا قاتل سمجھتے تھے اوروہ کسی نامعلوم تیر انداز کو قاتل نہیں سمجھتے تھے ورنہ آپ کا اعتراض امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر نہیں ہو سکے گا جو آپ کا مطلوب ہے ۔
  8. جناب آپ نے جس روایت کی سند مانگی ھے اس پر میرا استدلال موقوف نہیں تھا، میرا استدلال اس سے پہلے مکمل ھو چکا تھا ۔ یہ روایت تو میں نے بطور تائید مزید پیش کی تھی اور تمہارے اصول کے مطابق(جس کے تحت تم نے وہابیوں کے حوالے میرے خلاف پیش کئے) تمہارے ھم مسلک کی کتاب (الصحیح من سیرۃ علی) سے روایت پیش کی جس نے صحیح مان کر کتاب میں لکھی تھی ۔ میں نے ابوالغادیہ کے قاتل ھونے کے دعوے کو اُس کے زعم کے ساتھ مقید بتایا ہے اور اس کو ایک ناکام قاتلانہ حملہ کہا ہے تمہارے موقف کے مطابق تو ابوالغادیہ حقیقت میں ایک قاتل و ظالم و فاسق شخص ھے۔ تو ایسے شخص کا بیان از روئے قرآن معتبر ھی نہیں ھے۔ پس تمہارا استدلال اپنے ھی اصول سے بے بنیاد ھو گیا ہے ۔
  9. کیا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ پر اعتراضات کرنے سے تمہارے شیخ الاسلام کا دفاع ھو جائے گا؟
  10. یہ جھوٹ کیوں بولا؟حالانکہ دونوں میں سے ہر ایک نے اقرار کیا۔ "یقول کل واحد منھما انا قتلتُہ(ان میں سے ھر ایک کہتا تھا کہ میں نے ان کو قتل کیا ہے)" ۔ آپ تو فیضی کی بیان کردہ روایت پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں ۔ باقی فیضی مجھ پر حجت نہیں ،وہ آپ کا اور آپ اُس کے،ہم اُس کو کچھ نہیں جانتے۔ ہاں!اِس صحیح روایت کا آپ کے پاس کوئی جواب نہیں۔اس کے معارض روایت کو قبول کرنا اور اِسے ترک کرنا سینہ زوری ہے۔ یہاں تعارض کاعلمی حل تطبیق ِ روایات ہی ہے۔اور تطبیق وہی ہے کہ ایک(ابوالغادیہ) نے قاتلانہ حملہ کرکے جناب عمارؓ کو زخمی کیا مگر اپنے گمان میں سمجھا کہ میں نے قتل کیا ہے۔مگر قتل بعد والے (ابن حوی سکسکی )نے کیا اور سر بھی اُسی کے قبضہ میں تھا اور بیانِ نزعی کا گواہ بھی وہی تھا ۔ بعض اوقات قتل کرنے کے مدعی کی بات بھی مغالطہ پر مبنی ہو سکتی ہے،مثلا: سورۃ النساء:157(وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ)۔(اور اُن یہود کے اس کہنے پر کہ:ہم نے قتل کیا مسیح ابن مریم کو۔اور اُنہوں نے اُس کو قتل نہ کیا اور نہ اُسے سولی دی،بلکہ اُن کو اشتباہ میں ڈال دیا گیا)۔ پس لازم نہیں کہ ہر مدعی قتل حقیقت میں بھی قاتل ہو۔ اِس حدیث کو پڑھیں :۔ لا تمس النار مسلما رآني أو رأى من رآني ترمذی، مشکوۃ جس مسلم نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا تو اُسے دوزخ نہیں چھوئے گی۔ آپ کے اتھارٹی البانی نے اس حدیث کو ضعیف کہنے کے بعد تراجعات البانی میں رجوع کرتے ہوئے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ اس حدیث کے علاوہ خود قرآن پاک میں (وکلا وعداللہ الحسنیٰ )۔ جس میں فتح مکہ سے پہلے والے اور بعد والے (طلقاء)صحابہ سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اِس آیت اور حدیث کو سامنے رکھیں تو ہماری بیان کردہ تطبیق ہی ماننی پڑے گی۔اور ابوالغادیہ کو صحابی ماننے والے اُسے بیعت رضوان میں شامل مانتے ہیں۔اور اصحاب الشجرۃ کو جنتی کہا گیا ہے(لا یدخل النار احد ممن بایع تحت الشجرۃ)۔ اور تم شیعوں کی کتاب الصحیح من سیرۃ علی میں لکھی حدیث سے نتیجہ نکلتا ھے کہ عمار کو کوئی صحابی قتل نہیں کر سکے گا : الصحيح من سيرة أنه (صلى الله عليه وآله) قال لعمار: "لا يقتلك أصحابي، ولكن تقتلك الفئة الباغية"(1). 1- السيرة النبوية لابن هشام ج2 ص142 و (ط مكتبة محمد علي صبيح) ج2 ص345 وتاريخ الخميس ج1 ص344 والأعلاق النفيسة ووفاء الوفاء ج1 ص329 والسيرة الحلبية ج2 ص72 و (ط دار المعرفة) ج2 ص262 وقاموس الرجال (الطبعة الأولى) ج7 ص118 وجواهر المطالب لابن الدمشقي ج2 ص43 وبحـار الأنوار ج30 ص238 وراجع ج33 ص12 وخـلاصـة عبقات الأنوار ج3 ص39 و 50 والدرجات الرفيعة ص259 وعن العقد الفريـد ج2 ص289 وسبل الهدى والرشاد ج3 ص336 والمسترشد ص658 وغوالي اللآلي ج1 ص113 وكشف الغمة ج1 ص260. وراجع: الغديـر ج9 ص21 و 22 و 27 عن مصادر كثيرة.
  11. یہ جھوٹ کیوں بولا؟ اس لئے کہ یہ روایت آپ کی روایت کے لئے متعارض تھی ۔ قتل کرنے کے دو دعویٰ دار صحیح سند سے ھم نے پیش کئے ہیں ، آپ ایک کا دعویٰ پیش کر رہے ہیں ۔ جبکہ ھم نے دو کے دعوے پیش کئے تھے۔ اذا تعارضا تساقطا(جب دو دعوے متعارض ھوں تو دونوں ساقط) سے کیا مراد ھے؟
  12. جناب آپ پہلے ایک جھوٹ ایجاد کرتے ہیں پھر اسے میری طرف منسوب کرتے ہوئے مجھ سے اس کا ثبوت مانگنا شروع کر دیتے ہیں ۔ میں نے محمد بن ابوبکرؓ کو حضرت عثمان کا قاتل نہیں کہا بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے اسے قاتلوں کا لانے والا بتایا تھا ۔ منقول ھے کہ آپ کے بیٹے قاسم بن محمد بن ابوبکرؓ دعا مانگتے تھے کہ : اللہم اغفر لابی ذنبہ فی عثمان(اے اللہ میرے باپ کا حضرت عثمان والا گناہ بخش دے)۔ اور منقول ہے کہ امام حسن علیہ السلام جناب محمد بن ابوبکرؓ کو فاسق کہا کرتے تھے ۔ آپ لوگوں کے مطابق ایسے فاسق کو مصر کا گورنر بنانے سے جناب علی رضی اللہ عنہ کی خلافت راشدہ خاصہ پر سوالیہ نشان لگتا ہے!!
  13. میرے مکرم! میں نے مروان کو بے گناہ ڈیکلیئر نہیں کیا جو آپ کا یہ مطالبہ درست ھو۔ میرا مقصد یہ تھا کہ اس بات میں دو قول ملتے ہیں کہ حضرت طلحہ کو مروان کا تیر لگا تھا یا نامعلوم شخص کا تیر لگا تھا۔ جب قول دو ھوں گے تو دونوں قول بیان کرنے والے مصنفین کو آپ ناصبی کیسے اور کیوں کہ رھے ھیں، کیا علامہ بدرالدین عینی بھی جناب کے معیار کے مطابق ناصبی ھے؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک حضرت طلحہ کو مروان کے تیر مارنے کا قول پہنچا تھا اور سہم غرب (نامعلوم تیر) کا قول نہ پہنچا تھا؟
  14. آل طلحہ کی FIR کا آپ سے اس لئے کہا تھا کہ آپ آج مروان کو یقین کے ساتھ تیر انداز نامزد کر رہے ہیں مگر آل طلحہ کو یہ یقین نہیں تھا ۔ ابن کثیر نے مروان کے علاوہ نامعلوم تیر انداز کا قول لکھا تو جناب نے اسے ناصبی قرار دے دیا ۔ کیا اور جس جس نے بھی مروان کے علاوہ نامعلوم تیر انداز کا قول لکھا ھے، وہ سب بھی ناصبی ھیں؟