Saeedi

Star Member
  • Content count

    936
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    192

Saeedi last won the day on September 18

Saeedi had the most liked content!

Community Reputation

633 Excellent

About Saeedi

  • Rank
    Madani Member

Profile Information

  • Gender

Previous Fields

  • Madhab

Recent Profile Visitors

962 profile views
  1. ہر جواب کے لئے عبارت النص لازمی نہیں ہوتی۔اشارۃ النص ،اقتضاء النص اور دلالۃ النص بھی استدلال کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔اور وہ اثبات مسئلہ کی دلیل بنتے ہیں۔ہربات کے لئے دوسروں سے عبارت النص مانگنے والے اپنی باری پر آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں۔
  2. ابوداؤد شریف کی حدیث ملاحظہ ہو:۔ 3206 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، بِمَعْنَاهُ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، أُخْرِجَ بِجَنَازَتِهِ فَدُفِنَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يَأْتِيَهُ بِحَجَرٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، قَالَ كَثِيرٌ: قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي ذَلِكَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ حَسَرَ عَنْهُمَا ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهِ، وَقَالَ: «أَتَعَلَّمُ بِهَا قَبْرَ أَخِي، وَأَدْفِنُ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِي پتھر رکھنے کی وجہ قبرکی پہچان ہونا تھی۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ قبر کی پہچان کے لئے پہچان کرانے والا پتھر رکھنا جائز ہے۔
  3. کذب کا تعلق چاہت یا قدرت سے نہیں بلکہ اِخبار سے ہوتا ہے۔ کیا حق تعالیٰ اپنی دی ہوئی خبرکے خلاف خبر دے سکتا ہے؟۔یہ ممکن ہے یا نہیں؟ اگر جواب ہاں میں دوگے تویہ امکان کذب ہوگا ۔ مفتی احمدیار خان رحمۃ اللہ علیہ نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔
  4. تانیب الخطیب سے جواب
  5. جناب والا یہ مسئلہ فقہ حنفی کاایک جزئیہ ہے۔ اس پر اعتراض اگرکوئی حنفی کرتا ہے تو اس جزئیہ سے بے خبری کی وجہ سے کرسکتا ہے چاہے وہ بہشتی زیور پر اس مسئلہ میں اعتراض کرے یا فتاویٰ رضویہ پراس مسئلہ میں اعتراض کرے،اعتراض درست نہیں ہے۔
  6. میں کوئی عالم فاضل نہیں ھوں۔ آپ کسی مدرسہ سے رابطہ کریں۔

  7. خودکشی اورنمازجنازہ نبی کریم ﷺ نے خودکشی والے کی نمازجنازہ نہ پڑھی تو اس پر امام نووی نے شرح مسلم میں لکھا:۔ قَوْلُهُ (أتى النبي صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ)۔۔۔۔ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلِيلٌ لِمَنْ يَقُولُ لَا يُصَلَّى عَلَى قَاتِلِ نَفْسِهِ لِعِصْيَانِهِ وَهَذَا مَذْهَبُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَالْأَوْزَاعِيِّ وَقَالَ الْحَسَنُ وَالنَّخَعِيُّ وَقَتَادَةُ وَمَالِكٌ وَأَبُو حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيُّ وَجَمَاهِيرُ الْعُلَمَاءِ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَأَجَابُوا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ بِنَفْسِهِ زَجْرًا لِلنَّاسِ عَنْ مِثْلِ فِعْلِهِ وَصَلَّتْ عَلَيْهِ الصَّحَابَةُ یعنی صحابہ نے نمازجنازہ پڑھا اورنبی کریم ﷺ نے نہ پڑھا تاکہ دوسرے لوگ ایسے فعل سے بازرہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ میں دونوں پہلو ہیں۔
  8. تہذیب التہذیب میں ہے قال عبد الله بن أحمد عن أبيه ما أنكر حديث حسين بن واقد عن أبي المنيب وقال العقيلي أنكر أحمد ابن حنبل حديثه وقال الأثرم قال أحمد في أحاديثه زيادة ما أدري أي شيء هي ونفض يده وقال الساجي فيه نظر وهو صدوق يهم قال أحمد أحاديثه ما أدري إيش هي غایۃ المقصدفی زوائد المسند میں ہیثمی نے یہ روایت یوں بیان کی ہے:۔ 4045 - حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِى حُسَيْنٌ [بن واقد المروزىِّ] ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِى عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ، ثُمَّ أُتِينَا بِالطَّعَامِ، فَأَكَلْنَا، ثُمَّ أُتِينَا بِالشَّرَابِ، فَشَرِبَ مُعَاوِيَةُ، ثُمَّ نَاوَلَ أَبِى، ثم قَالَ مُعَاوِيَةُ: كُنْتُ أَجْمَلَ شَبَابِ قُرَيْشٍ، وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا، وَمَا شَىْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً، كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَابٌّ غَيْرُ اللَّبَنِ. وَإِنْسَانٍ حَسَنِ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُنِى اس روایت میں مشروب کا خمر ہونا اور حرام کے لفظ کہیں مذکور نہیں۔اور روایت کا سیاق وسباق بھی ظاہرکرتا ہے کہ وہ مشروب دودھ تھا۔
  9. امام احمد کے نزدیک یہ روایت منکر بنتی ہے۔
  10. الحسن بن عمارہ امام ابوحنیفہ کو بعدوفات غسل دینے والا شخص ہے۔ امام ابویوسف اور امام محمد اس کی روایت سے حجت پکڑتے ہیں۔امام محمد کی کتابیں الحجۃ علیٰ اہل المدینۃ ،الاصل المعروف بالمبسوط للشیبانی،السیر الصغیر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔امام ابویوسف کی کتاب الخراج اورکتاب الردعلیٰ سیر الاوزاعی ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔سب کے سکین ممکن نہیں۔نیٹ پردستیاب ہیں۔ محمد بن اسحاق اس کی روایات کو سرفراز صفدرگکھڑوی اور امین صفدر اوکاڑوی معتبر مان چکے ہیں مثلاً:اذا صلیتم عل المیت فاخلصوا لہ الدعاء (ابوداؤد،ابن ماجہ)سے یہ لوگ اپنی کتابوں میں حجت پکڑچکے ہیں حالانکہ اس سے استدلال کا دارومدار محمد بن اسحق کو معتبر ماننے پر ہے۔ نمازجنازہ اورخودکشی نمازہ جنازہ توپڑھی جائے گی۔تاہم زجراً نمازجنازہ نہ ہونے کے قول میں نفی سے نفی کمال لیں گے۔تاکہ لوگ خودکشی سے نفرت کریں۔
  11. سنگ در جاناں پر کرتا ہوں جبیں سائی سجدہ نہ سمجھ نجدی سردیتاہوں نذرانہ محبوب کے دروازے پر پیشانی رگڑتاہوں،اور یوں سر کا نذرانہ (تحفہ)دینے کی کوشش میں ہوں،نجدی اسے سجدہ مت سمجھ بیٹھنا۔سجدے میں پیشانی رگڑی نہیں جاتی بلکہ زمین پررکھی جاتی ہے اورساتھ ہی زمین پر ناک بھی رکھی جاتی ہے اوردونوں پاؤں کے سرے،گھٹنے اورہاتھ بھی زمین پررکھے جاتے ہیں۔نمازمیں کوئی نمازی زمین پر صرف ماتھا رگڑے تو نجدی بھی اسے سجدہ نہیں مانتا مگر مزار پر کوئی ماتھا رگڑے تو جھٹ سجدہ کالیبل لگا دیتاہے۔ مستدرک حاکم اورمسنداحمد میں ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری نے نبی پاکﷺ کی قبرانورپرچہرہ رکھا ہواتھا،(چہرہ کا کونسا حصہ رکھا تھا اور کونسا نہیں؟اس بات کی کوئی تصریح نہیں۔ماتھا،ناک،ہونٹ،رخسار ،سبھی کا احتمال ہے)۔مروان نے اعتراض کیا۔ بوسے اورسجدے میں فرق نہ کرنا اور عبادت اور تعظیم میں فرق نہ کرنا اورعشق اورشرک میں فرق نہ کرنا ہی پہلےمروان کا اور اب قرن الشیطان کا کام ہے۔
  12. ھر بات حوالہ سے کی جائے تو بہتر ہوگا۔ تیس نکات پر بات کے لئے الگ تھریڈ بناؤ تو اصل بات کھل سکے گی ورنہ ایک ایک سطری جواب سے کیا تسلی ہوسکتی ہے؟ آپ خود بھی تو صاحب مطالعہ ہوتوکیا آپ کا مطالعہ صرف مہدی کی بحث تک ہے؟