Saeedi

Star Member
  • Content count

    1,070
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    250

Saeedi last won the day on October 30

Saeedi had the most liked content!

Community Reputation

660 Excellent

1 Follower

About Saeedi

  • Rank
    Madani Member

Profile Information

  • Gender

Previous Fields

  • Madhab

Recent Profile Visitors

1,922 profile views
  1. جناب معترض صاحب تصفیۃ العقائد کتاب بانی دیوبندیت مولوی محمدقاسم نانوتوی صاحب کی ہے جومولوی اشرفعلی تھانوی، مولوی طارق جمیل اور مسٹرجنید جمشید کا مقتدا ؤامام ہے۔ امام کے مقتدی اُس کے پیروکار ہوتے ہیں،امام کی قراءت ہی مقتدی کی قراءت ہے۔ پھرآپ رضاء المصطفےٰ اعظمی کی ذمہ داری جس طرح ہم پر ڈال رہے ہیں،ایسے ہی قاسم نانوتوی کی بات کی ذمہ داری اشرفعلی،طارق جمیل اور جنید جمشید پر کیوں نہیں ڈالتے؟ ایسے ترجموں میں اور بھی احتمال ہوتے ہیں اور ہم مسلمانوں پر حسنِ ظن رکھتے ہوئے اُن کی ترجمہ کی غلطیوں کو اچھے محامل پر محمول کرتے ہیں،لیکن اِس حسنِ ظن اور اچھے محمل پر محمول کرنے کا اُن لوگوں کے لئے کوئی فائدہ نہیں جن پر پہلے ہی علماء اسلام اُن کے بعض قطعی صریح کفریات کے باعث کافر کا فتویٰ دے چکے ہوں۔اُن کی (من شک فی کفرہ) والی کفریات کے سبب اُن کو غلط اوربظاہر کفری ترجموں کے ممکنہ اسلامی احتمالات سے فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔ اور محض تراجم تک ہی بات محدود نہیں ،اور بھی کفر نظر آنے والی عبارات کے اسلامی احتمالات اور حُسنِ ظن سے فائدہ صرف اور صرف اُن لوگوں کے لئے ہے جو(من شک فی کفرہ)والے کفریات میں مبتلا نہ ہوں۔یعنی یہ اسلامی احتمالات، التزام کفر میں مبتلا لوگوں کے لئے نہیں ہیں۔ جو لوگ کفریہ قول کے سر زد ہونے کے بعداتمام حجت ہونے کے باوجود اپنے قول یا فعل سے اُس کا التزام کر چکے تو اُن کے لئے ہم کافر کہنے میں کوئی فرق نہیں کرتے۔
  2. جناب قاسم صاحب! میں نے پوری بحث کی کلید پیش کی تھی جس کا آپ جواب دینے کی بجائے سائیڈ سے گزر گئے۔ میں بات کا رنگ بدل کر پھر پیش کر رہا ہوں۔ جواب ضرور دینا:۔ کیا عمار کو قتل کرنے سے قاتل فاسق ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر عمار کا قاتل ہونے سے بندہ فاسق ہوجاتاہے تو اُس کا صحابی ہونا اور قاتل ِ عمار ہونا بھی تو اُسی کے قول سے ہی ثابت ہوتا ہے تو وہ دونوں باتیں بھی ایک فاسق کا بیان ہونے کی وجہ سے غیرمعتبر ہو گئیں یا نہیں؟
  3. جناب آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ امیر معاویہ بھی آپ کی طرح مروان کو طلحہ رضی اللہ عنہ کا قاتل سمجھتے تھے اوروہ کسی نامعلوم تیر انداز کو قاتل نہیں سمجھتے تھے ورنہ آپ کا اعتراض امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر نہیں ہو سکے گا جو آپ کا مطلوب ہے ۔
  4. جناب آپ نے جس روایت کی سند مانگی ھے اس پر میرا استدلال موقوف نہیں تھا، میرا استدلال اس سے پہلے مکمل ھو چکا تھا ۔ یہ روایت تو میں نے بطور تائید مزید پیش کی تھی اور تمہارے اصول کے مطابق(جس کے تحت تم نے وہابیوں کے حوالے میرے خلاف پیش کئے) تمہارے ھم مسلک کی کتاب (الصحیح من سیرۃ علی) سے روایت پیش کی جس نے صحیح مان کر کتاب میں لکھی تھی ۔ میں نے ابوالغادیہ کے قاتل ھونے کے دعوے کو اُس کے زعم کے ساتھ مقید بتایا ہے اور اس کو ایک ناکام قاتلانہ حملہ کہا ہے تمہارے موقف کے مطابق تو ابوالغادیہ حقیقت میں ایک قاتل و ظالم و فاسق شخص ھے۔ تو ایسے شخص کا بیان از روئے قرآن معتبر ھی نہیں ھے۔ پس تمہارا استدلال اپنے ھی اصول سے بے بنیاد ھو گیا ہے ۔
  5. کیا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ پر اعتراضات کرنے سے تمہارے شیخ الاسلام کا دفاع ھو جائے گا؟
  6. یہ جھوٹ کیوں بولا؟حالانکہ دونوں میں سے ہر ایک نے اقرار کیا۔ "یقول کل واحد منھما انا قتلتُہ(ان میں سے ھر ایک کہتا تھا کہ میں نے ان کو قتل کیا ہے)" ۔ آپ تو فیضی کی بیان کردہ روایت پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں ۔ باقی فیضی مجھ پر حجت نہیں ،وہ آپ کا اور آپ اُس کے،ہم اُس کو کچھ نہیں جانتے۔ ہاں!اِس صحیح روایت کا آپ کے پاس کوئی جواب نہیں۔اس کے معارض روایت کو قبول کرنا اور اِسے ترک کرنا سینہ زوری ہے۔ یہاں تعارض کاعلمی حل تطبیق ِ روایات ہی ہے۔اور تطبیق وہی ہے کہ ایک(ابوالغادیہ) نے قاتلانہ حملہ کرکے جناب عمارؓ کو زخمی کیا مگر اپنے گمان میں سمجھا کہ میں نے قتل کیا ہے۔مگر قتل بعد والے (ابن حوی سکسکی )نے کیا اور سر بھی اُسی کے قبضہ میں تھا اور بیانِ نزعی کا گواہ بھی وہی تھا ۔ بعض اوقات قتل کرنے کے مدعی کی بات بھی مغالطہ پر مبنی ہو سکتی ہے،مثلا: سورۃ النساء:157(وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ)۔(اور اُن یہود کے اس کہنے پر کہ:ہم نے قتل کیا مسیح ابن مریم کو۔اور اُنہوں نے اُس کو قتل نہ کیا اور نہ اُسے سولی دی،بلکہ اُن کو اشتباہ میں ڈال دیا گیا)۔ پس لازم نہیں کہ ہر مدعی قتل حقیقت میں بھی قاتل ہو۔ اِس حدیث کو پڑھیں :۔ لا تمس النار مسلما رآني أو رأى من رآني ترمذی، مشکوۃ جس مسلم نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا تو اُسے دوزخ نہیں چھوئے گی۔ آپ کے اتھارٹی البانی نے اس حدیث کو ضعیف کہنے کے بعد تراجعات البانی میں رجوع کرتے ہوئے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ اس حدیث کے علاوہ خود قرآن پاک میں (وکلا وعداللہ الحسنیٰ )۔ جس میں فتح مکہ سے پہلے والے اور بعد والے (طلقاء)صحابہ سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اِس آیت اور حدیث کو سامنے رکھیں تو ہماری بیان کردہ تطبیق ہی ماننی پڑے گی۔اور ابوالغادیہ کو صحابی ماننے والے اُسے بیعت رضوان میں شامل مانتے ہیں۔اور اصحاب الشجرۃ کو جنتی کہا گیا ہے(لا یدخل النار احد ممن بایع تحت الشجرۃ)۔ اور تم شیعوں کی کتاب الصحیح من سیرۃ علی میں لکھی حدیث سے نتیجہ نکلتا ھے کہ عمار کو کوئی صحابی قتل نہیں کر سکے گا : الصحيح من سيرة أنه (صلى الله عليه وآله) قال لعمار: "لا يقتلك أصحابي، ولكن تقتلك الفئة الباغية"(1). 1- السيرة النبوية لابن هشام ج2 ص142 و (ط مكتبة محمد علي صبيح) ج2 ص345 وتاريخ الخميس ج1 ص344 والأعلاق النفيسة ووفاء الوفاء ج1 ص329 والسيرة الحلبية ج2 ص72 و (ط دار المعرفة) ج2 ص262 وقاموس الرجال (الطبعة الأولى) ج7 ص118 وجواهر المطالب لابن الدمشقي ج2 ص43 وبحـار الأنوار ج30 ص238 وراجع ج33 ص12 وخـلاصـة عبقات الأنوار ج3 ص39 و 50 والدرجات الرفيعة ص259 وعن العقد الفريـد ج2 ص289 وسبل الهدى والرشاد ج3 ص336 والمسترشد ص658 وغوالي اللآلي ج1 ص113 وكشف الغمة ج1 ص260. وراجع: الغديـر ج9 ص21 و 22 و 27 عن مصادر كثيرة.
  7. یہ جھوٹ کیوں بولا؟ اس لئے کہ یہ روایت آپ کی روایت کے لئے متعارض تھی ۔ قتل کرنے کے دو دعویٰ دار صحیح سند سے ھم نے پیش کئے ہیں ، آپ ایک کا دعویٰ پیش کر رہے ہیں ۔ جبکہ ھم نے دو کے دعوے پیش کئے تھے۔ اذا تعارضا تساقطا(جب دو دعوے متعارض ھوں تو دونوں ساقط) سے کیا مراد ھے؟
  8. جناب آپ پہلے ایک جھوٹ ایجاد کرتے ہیں پھر اسے میری طرف منسوب کرتے ہوئے مجھ سے اس کا ثبوت مانگنا شروع کر دیتے ہیں ۔ میں نے محمد بن ابوبکرؓ کو حضرت عثمان کا قاتل نہیں کہا بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے اسے قاتلوں کا لانے والا بتایا تھا ۔ منقول ھے کہ آپ کے بیٹے قاسم بن محمد بن ابوبکرؓ دعا مانگتے تھے کہ : اللہم اغفر لابی ذنبہ فی عثمان(اے اللہ میرے باپ کا حضرت عثمان والا گناہ بخش دے)۔ اور منقول ہے کہ امام حسن علیہ السلام جناب محمد بن ابوبکرؓ کو فاسق کہا کرتے تھے ۔ آپ لوگوں کے مطابق ایسے فاسق کو مصر کا گورنر بنانے سے جناب علی رضی اللہ عنہ کی خلافت راشدہ خاصہ پر سوالیہ نشان لگتا ہے!!
  9. میرے مکرم! میں نے مروان کو بے گناہ ڈیکلیئر نہیں کیا جو آپ کا یہ مطالبہ درست ھو۔ میرا مقصد یہ تھا کہ اس بات میں دو قول ملتے ہیں کہ حضرت طلحہ کو مروان کا تیر لگا تھا یا نامعلوم شخص کا تیر لگا تھا۔ جب قول دو ھوں گے تو دونوں قول بیان کرنے والے مصنفین کو آپ ناصبی کیسے اور کیوں کہ رھے ھیں، کیا علامہ بدرالدین عینی بھی جناب کے معیار کے مطابق ناصبی ھے؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک حضرت طلحہ کو مروان کے تیر مارنے کا قول پہنچا تھا اور سہم غرب (نامعلوم تیر) کا قول نہ پہنچا تھا؟
  10. آل طلحہ کی FIR کا آپ سے اس لئے کہا تھا کہ آپ آج مروان کو یقین کے ساتھ تیر انداز نامزد کر رہے ہیں مگر آل طلحہ کو یہ یقین نہیں تھا ۔ ابن کثیر نے مروان کے علاوہ نامعلوم تیر انداز کا قول لکھا تو جناب نے اسے ناصبی قرار دے دیا ۔ کیا اور جس جس نے بھی مروان کے علاوہ نامعلوم تیر انداز کا قول لکھا ھے، وہ سب بھی ناصبی ھیں؟
  11. میرے مشفق آپ بھول رھے ھیں ۔ خلافت راشدہ خاصہ کے لئے تو پیمانے اور بھی سخت ھو جاتے ہیں ۔ جو بات عادل خلیفہ کے لئے ناجائزہ ھو تو خاص خلفائے راشدین کے لئے وہ بدرجہ اولیٰ ناجائز ھو گی۔ اگر الزام علیہ مروان کو معاویہ گورنر بنائے تو اعتراض کرتے ہو، اور مولا مرتضیٰ اگر الزام علیہ محمد بن ابوبکرؓ کو گورنر بنائیں تو چپ سادھ لیتے ھو، کیا تمہارے لینے کے باٹ اور ہیں اور دینے کے باٹ اور ہیں؟
  12. آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ دونوں کے اقراری دعوے نہ ھوتے تو فیضی کی روایت میں یہ کیوں لکھا ھوتا کہ "یقول کل واحد منھما انا قتلتُہ(ان میں سے ھر ایک کہتا تھا کہ میں نے ان کو قتل کیا ہے" ۔ آپ تو فیضی پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں ۔ آپ ایک طرف ابوالغادیہ کا دعویٰ بلا دلیل مان رہے ہیں اور دوسری طرف سکسکی کا دعویٰ بلا دلیل مسترد کر رہے ہیں ۔ بلکہ مرنے سے عین پہلے کے الفاظ اور کوئی نہ بتا سکا اور جس نے بتائے تو اس کی بات آپ بلا دلیل ٹھکرا رھے ھیں اور فیضی نے یہ روایت قبول کرتے ہوئے لکھی تھی اور اس کو مسترد نہ کر سکا تھا ۔ اور ھم ابوالغادیہ کے الفاظ اُس کے گمان پر محمول کرتے ہیں اور ابن حوی سکسکی کے دعویٰ کو مدلل ھونے کی وجہ سے حقیقت پر ۔ 1۔ سر قلم کر کے لانے والا وھی ھے۔2۔ بیان نزعیdying declaration کا گواہ وھی ھے۔ 3۔ "میرے صحابی اے عمار تجھے قتل نہ کریں گے" کی روایت کے موافق ھے۔4۔ قرآن میں سب صحابہ کے لئے الحسنیٰ اور حدیث میں سب صحابہ کے لئے طوبیٰ کی خوشخبری کا بھی یہی مقتضیٰ ھے۔ اور بھی دلائل ہیں مگر "اَینٹی صحابہ " کے لئے فی الحال یہی کافی ہیں ۔
  13. اس مقدمہ میں آپ کا موقف روافض والا ہے، کیا میں آپ کے مقابلے میں اُن کے حوالے پیش کروں تو وہ آپ پر حُجت ھوں گے؟ آپ کو رافضی حوالے پیش کرتے ہیں، اس لئے آپ کا اپنا مطالعہ نہیں ہے ورنہ سارا مقدمہ پڑھتے تو آپ کو پتہ چلتا کہ مولا علی مرتضیٰ چل کر عثمان رضی اللہ عنہ کے وارث سے اس کا بیان لینے آئے تھے یا نہیں؟ اور محمد بن ابوبکرؓ نے تسلیمی بیان کیا دیا؟ اور زوجہ عثمان نے اسے کتنا ذمہ دار ٹھہرایا؟ آپ آل طلحہ کی مروان کے خلاف FIR پیش کریں اور میں یہ حوالہ جناب کے حوالے کر دوں گا ۔
  14. جناب آپ نے طلحہ رضی اللہ عنہ کے کسی وارث سے مروان کو الزام علیہ بنائے بغیر اُسے گورنر بنانے کے فعل کو خلافت عادلہ کی نفی کی بنیاد بنایا تھا ۔ ۔ ۔ میں نے جناب کے بارے مسلمہ قاعدہ کلیہ کو الزاما جناب پر لوٹایا ھے ۔ ۔ ۔ میرا وہ مسلک نہیں ہے ۔ ۔ ۔ آپ کا مسلک آپ کو مبارک ہو ۔ ۔ ۔ جناب مرتضیٰ مشکل کشا کو جو FIR پیش ھوئی اُسے پڑھو۔ ۔ ۔ وارثان طلحہ کی ایف آئی آر کی سند پیش کرو تو آپ کو آپ کی مطلوبہ سند بھی پیش کر دیں گے انشاءاللہ ۔