Saeedi

Star Member
  • Content count

    956
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    202

Saeedi last won the day on March 2

Saeedi had the most liked content!

Community Reputation

639 Excellent

About Saeedi

  • Rank
    Madani Member

Profile Information

  • Gender

Previous Fields

  • Madhab

Recent Profile Visitors

1,352 profile views
  1. تذکرہ غوثیہ کے خلاف فتویٰ فتاویٰ رضویہ میں موجود ہے۔ زیرِبحث کلمہ ہمارے نزدیک مستی کی حالت کاکلام ہے اورمرفوع القلم پر فتویٰ نہیں لگتا۔ البتہ وہابیوں دیوبندیوں کے بزرگ اشرفعلی تھانوی نے کہا ہے کہ یہ کلام کفر نہیں ہے کیونکہ اس میں تاول ہوسکتی ہے،(السنۃ الجلیۃ )۔
  2. شطحیات صوفیہ مستوں کاکلام ہیں ،مستی کی حالت کےکلام والا مرفوع القلم ہے۔ جس سے فرشتے کلام اُٹھاچکے ہیں،شیطان اُنہیں کے خلاف قلم چلاتا ہے۔
  3. عام قبروں کے احکام اورہیں۔ نبی اور وارثِ نبی کی قبرکا مکان کے اندر جائز ہونے پر صحابہ کرام کااجماع ہے۔
  4. یہ اجمالی جواب ہے کہ میں سیدنا عبدالقادر جیلانی کا ہم عقیدہ ہوں۔ جلیل القدر محدث امام سیوطی نے شرح الصدور میں لکھاہے کہ:۔ 64 - وَقَالَ الشَّيْخ عبد الْغفار القوصي فِي التَّوْحِيد كنت عِنْد بَيت الشَّيْخ نَاصِر الدّين وَالشَّيْخ بهاء الدّين الأخميمي قد ورد فَأخذت فروته على كَتِفي فَأَخْبرنِي أَن خَادِم الشَّيْخ أبي يزِيد كَانَ يحمل فروته على كتفه وَكَانَ رجلا صَالحا فَجرى الحَدِيث فِي مساءلة مُنكر وَنَكِير فِي الْقَبْر فَقَالَ ذَلِك الْفَقِير وَكَانَ مغربيا وَالله إِن سألاني لأقولن لَهما فَقَالُوا لَهُ وَمن يعلم ذَلِك فَقَالَ أقعدوا على قَبْرِي حَتَّى تسمعوا فَلَمَّا مَاتَ المغربي جَلَسُوا على قَبره فَسَمِعُوا المساءلة وسمعوه يَقُول أتسألاني وَقد حملت فَرْوَة أبي يزِيد على عنقِي فَمَضَوْا وتركوه ایک میت نے نکیرین سے کہا کہ تم مجھ سے سوال کرتے ہوحالانکہ میں تو بایزید کا فروہ بردار ہوں،تونکیرین اُسے چھوڑکرچلے گئے۔ امام سیوطی پرزبان چلاؤ۔
  5. جناب ! جب مقتضی موجود ہو اورمانع مفقود ہو تووہ محض ترک ِفعل نہیں بلکہ فعل سے رُکے رہنا ہے۔وہ رُکا رہنا بھی دلیل ہے۔
  6. ابن تیمیہ کے متعلق اختلاف کی وجہ ابن تیمیہ کے اقوال پر اطلاع ملنے یا نہ ملنے کی وجہ سے ہے۔
  7. عبدالباری فرنگی محلی کی بحث مذکورہ لنک میں دیکھی جائے۔
  8. صراط الذین انعمت علیہم سے وظائف لیا کریں تو بہتر ہوگا۔
  9. پہلے ادخال السنان کے 292سوالوں کے جواب دیں۔جوامام احمدرضا کے بیٹے نے لکھے تھے اورامام احمدرضا کی وفات سے نودس سال پہلے شائع ہوئے ۔تھانوی پر قرض ہے۔اس کے وارث مناظر ادا کریں۔ امام احمدرضا کی وفات کے دوسال بعدتھانوی نے تغییرالعنوان لکھی اس سے کئی مزیدکفریات کا ارتکاب کیا جو مولانا حشمت علی خان نے قہرواجددیان میں لکھے۔مناظرصاحب ان کا جواب دیں۔ ادخال السنان.pdf ابوحنظلہ کے لئے حنظل (تمہ) کھانا آسان ہے۔مگر جواب دینا مشکل ۔
  10. جان برادر تجربات کے لئے سند نہیں مانگی جاتی۔ابلیس جیسا چور بھی آیت الکرسی کی فضیلت بیان کرے تو صحابی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو بھی کریڈٹ دیتے ہیں۔مشکوٰۃ فضائل القرآن میں ہے۔ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو من الطَّعَام فَأَخَذته وَقلت وَالله لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَة مَا فعل أسيرك البارحة» . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ» . فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ سيعود» . فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ لَا أَعُودُ فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذبك وَسَيَعُودُ» . فرصدته الثَّالِثَة فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُول الله وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ إِنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ ينفعك الله بهَا قلت مَا هُوَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ من الله حَافظ وَلَا يقربنك شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ: زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَات يَنْفَعنِي الله بهَا فخليت سبيلهقال النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أما إِنَّه قد صدقك وَهُوَ كذوب تعلم من تخاطب مُنْذُ ثَلَاث لَيَال» . يَا أَبَا هُرَيْرَة قَالَ لَا قَالَ: «ذَاك شَيْطَان» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
  11. اگر مولا کامعنی زیربحث حدیث میں آقا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس جس کے سید وسردار وآقا ہوتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس اس کے سید وسردار وآقا ہوتے۔ جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور علی کی مولائیت کا دائرہ تو ایک ہی رکھا مگر سیادت کادائرہ ایک نہیں رکھا بلکہ اس میں فرق رکھا۔ آپ فرما سکتے تھے کہ جس کا میں سید(آقا)ہوں ، علی بھی اس کا سید (آقا)ہے۔ آپ ﷺنے خود کو تمام انسانوں کا اورتمام جہانوں کا سید قرار دیا مگر حضرت علی کو سیدالعرب قراردے کر فرق رکھا۔ جواب نہ آیا۔ آپ کے شیخ الاسلام نے امام اعظم کی کتنا عرصہ شاگردی کی۔15 ، 20سال شاگرد رہے یا 9سال شاگرد رہے۔کونسا عرصہ درست ہے اور کونسا بیان جھوٹ ہے؟ جواب درکار ہے۔
  12. اگر مولا کامعنی زیربحث حدیث میں آقا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس جس کے سید وسردار وآقا ہوتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس اس کے سید وسردار وآقا ہوتے۔ جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور علی کی مولائیت کا دائرہ تو ایک ہی رکھا مگر سیادت کادائرہ ایک نہیں رکھا بلکہ اس میں فرق رکھا چنانچہ طاہرالقادری نے کنزالمطالب میں بیان کیا ہے:۔ جب کہ حضرت ابوبکروحضرت عمررضی اللہ عنہما کو (انبیاء ومرسلین کو چھوڑکر)سب جنتی بزرگوں کے سردار(آقا) قرار دیا گیا ہے۔راوی امام حسین علیہ السلام ہیں۔ منہاجی صاحبو!اگر مولا کامعنی یہاں سید وآقا ہی لینا ہے تو فرق والی ان حدیثوں کوکہاں لے جاؤ گے؟ آپ ولی اورمولاکی حدیثیں پیش کرتے ہو۔آپ کے قائد نے ولی اورمولا کا استغاثہ کی کتاب میں معنی مددگارکیا ہے،آقا نہیں کیا۔کیوں؟ الحمدللہ !ہم گالیاں نہیں دیتے۔ہم دلائل دیتے ہیں۔
  13. جناب منہاجی صاحب بدزبانی دلائل کی قائم مقام نہیں ہوتی۔آپ نے خود پوسٹ لگادی ہے جس میں آقا لکھنے اور آقا ماننے کے الفاظ موجود ہیں۔ اور ہماری سابقہ پوسٹوں کو بھی آپ نہیں پڑھتے بس زبان درازی کوآپ نے علمی بحث سمجھا ہواہے۔آپ دلائل کاجواب دینا توکیا،ان کوچھوتے تک نہیں۔ کبھی کہانی کا نام دے کر سمجھتے ہیں کہ جواب ہوگیا۔ کبھی تفصیل کو چھوڑ کر اجمال کو پیش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جواب ہوگیا۔ یہ ذہنی پراگندگی جواب نہیں کہلاتی۔آپ کا قائد ترجمہ کرتا ہے تووہ اپنی کتاب میں اس موضوع کی تفصیل دے جاتا ہے اور اس کا ترجمہ اس تفصیل کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے۔ آپ کا شیخ الاسلام کہتا ہے کہ میں اتنے سال تک عالم خواب میں امام اعظم کا شاگرد رہاہوں۔9سال یا 15،20سال؟آپ اپنے شیخ کے تضاد دور کریں۔یہاں اجمال اورتفصیل کی بات بھی نہیں ہوسکتی۔اب دیکھتے ہیں کہ آپ کیا کہانی بناتے ہیں۔۔ملاحظہ ہو:۔ https://www.youtube.com/watch?v=zWLumAQ5Y74
  14. اجمال اور تفصیل موجود ہو تو اجمال کو تفصیل کی روشنی میں پڑھا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں تین جگہ (الدم)کو حرام بتایا گیا اورایک (دما مسفوحا)کو حرام بتایا گیا تو مفصل سے مجمل کی وضاحت ہوتی ہے۔ مولا کا ترجمہ آقا کرنے والااگر یہ عقیدہ بھی رکھے گا(جیسا کہ بالعموم ہوتاہے) تو اس پر فتویٰ جاری ہوگا اور اگراس کا عقیدہ وہ نہیں ہوگا تو ترجمہ موول ہوگا۔ اگر کہیں ترجمہ پر اعتراض ہے تو وہ (ترجمہ جمع عقیدہ)پر محمول کیا جائے۔
  15. جناب سترہویں غلام احمد صاحب !۔ آپ پوسٹ پڑھیں تو سہی، اس کا جواب بھی اس میں موجود ہے۔