Sign in to follow this  
Followers 0
Usman Razawi

Ameer Khusro Ka Naateya Kalam نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم

3 posts in this topic

نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم

 

 

 

ابو الحسن یمین الدین امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کا نامِ نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان جیسی نابغہِ روزگار، کثیر الجہتی، ہمہ گیر اور متنوع شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں فارسی غزلیاتِ خسرو کا انتخاب، اردو نثری ترجمے اور اردو منظوم ترجمے کے ساتھ پیش ہے۔

 

منظوم ترجمہ جناب مسعود قریشی صاحب نے کیا ہے جو کہ کتاب خسرو شیریں بیاں مطبوعہ لوک ورثہ اشاعت گھر سے لیا گیا ہے۔

 

امیر خسرو کی ایک مشہور و معروف نعتیہ غزل پیشِ خدمت ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ غزل امیر خسرو کے پانچوں دواوین میں نہیں ملتی لیکن یہ بات سب تذکرہ نگاروں میں متفق ہے کہ یہ غزل امیر خسرو کی ہی ہے۔ اور اسکے پسِ منظر میں عالمِ روحانیت کا ایمان افروز واقعہ بھی مروی ہے۔

 

 

شعرِ خسرو

 

نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم

بہ ہر سُو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم

 

اردو ترجمہ

 

مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی جگہ تھی جہاں کل رات میں تھا، ہر طرف وہاں رقصِ بسمل ہو رہا تھا کہ جہاں میں کل رات کو تھا۔

 

منظوم ترجمہ مسعود قریشی

 

نہیں معلوم تھی کیسی وہ منزل، شب جہاں میں تھا

ہر اک جانب بپا تھا رقصِ بسمل، شب جہاں میں تھا

 

شعرِ خسرو

پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے

سراپا آفتِ دل بود، شب جائے کہ من بودم

 

اردو ترجمہ

 

پری کے جسم جیسا ایک محبوب تھا، اس کا قد سرو کی طرح تھا اور رخسار لالے کی طرح، وہ سراپا آفتِ دل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔

 

منظوم ترجمہ مسعود قریشی

 

پری پیکر صنم تھا سرو قد، رخسار لالہ گُوں

سراپا وہ صنم تھا آفتِ دل، شب جہاں میں تھا

 

شعرِ خسرو

 

رقیباں گوش بر آواز، او در ناز، من ترساں

سخن گفتن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم

 

اردو ترجمہ

رقیب آواز پر کان دھرے ہوئے تھے، وہ ناز میں تھا اور میں خوف زدہ تھا۔ وہاں بات کرنا کس قدر مشکل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔

 

منظوم ترجمہ ۔ مسعود قریشی

عدو تھے گوش بر آواز، وہ نازاں تھا، میں ترساں

سخن کرنا وہاں تھا سخت مشکل، شب جہاں میں تھا

 

شعرِ خسرو

خدا خود میرِ مجلس بود اندر لا مکاں خسرو

محمد شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم

 

اردو ترجمہ

 

اے خسرو، لا مکاں میں خدا خود میرِ مجلس تھا اور حضرت محمد اس محفل کی شمع تھے، کل رات کہ جہاں میں تھا۔

 

منظوم ترجمہ ۔ مسعود قریشی

خدا تھا میرِ مجلس لا مکاں کی بزم میں خسرو

محمد تھے وہاں پر شمعِ محفل، شب جہاں میں تھا

 

 

صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.