Sign in to follow this  
Followers 0
kashmeerkhan

Min Doon-Illah Mein Sirf Butt Honay Par Itraz

3 posts in this topic

Ehl_i_Ilm mairi medad kerain & Es ka jewab betaaiy (Mairay pas tafsir nah ha, es liey khod jewab nah dhond sekta). agar form par pahlay sa ha para answer, then link da dai. ehl_i_hadith ka itraaz.. .

(thanks)

 

post-16911-0-35819700-1440868889_thumb.png

post-16911-0-12937200-1440868945_thumb.png

post-16911-0-22093600-1440869294_thumb.png

Edited by kashmeerkhan

Share this post


Link to post
Share on other sites

I have read that article by Doctor Faiz Ahmad Chishti.

Very much informative and nice...

aik do baato ke tasdeeq chahta hon ehl_i_ilm sa kay ye batain thik ha? (as stated in same article):

5۔ مِن دُونِ اللّهِِ کا درست اِطلاق

۔’’مِن دُونِ اللّهِِ‘‘ کا لغوی معنی ہے ’’اللہ کے سوا‘‘ مگر ہر جگہ سیاق و سباق کے حوالے سے اس کے دائرہ اطلاق اور مراد کو متعین کیا جانا ضروری ہے۔ 

جب ہم توحید اور شرک کے باب میں غیر کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد لغوی معنی میں غیر ہو گا۔ اس میں ذاتِ باری تعالیٰ، اس کی صفات و افعال اور اسماء کے علاوہ باقی ہر چیز مخلوق ہے اور وہی ما سِوَ اﷲ کہلاتی ہے۔ 

.............................

 

(2) غیراللہ کو مستحقِ عبادت سمجھنا ’’مِن دُونِ اللّهِِ‘‘ کے ذیل میں شمار ہوگا

یہ اصول ذہن نشین رہے کہ قرآن حکیم کی جن آیات میں عبادت و اُلوہیت اور پوجنے کا ذکر ہو وہاں انبیاء و اولیاء اور ملائکہ و مقربین ’’مِن دُونِ اللّهِِ‘‘ میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ عبادت فقط اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہے اور استحقاقِ عبادت کے لئے ما سِوَ اﷲ ہر شئے غیر ہے۔ لہٰذا یہ مِن دُونِ اللّهِ ِ کا دوسرا اطلاق ہے جو عبادت و الوہیت سے مشروط ہے۔

.............................

اس ساری بحث اور تقابلی جائزے کا خلاصہ یہ ہے کہ   ’’مِن دُونِ اللَّهِِ‘‘ کے بیان کا اطلاق بلا امتیاز اللہ کے نیک بندوں پر نہیں کیا جا سکتا   صرف وہ اس زمرے میں آتے ہیں جن کے باب میں نفیء شرک اور ہر غیر اللہ سے نفیء استحقاقِ عبادت مذکور ہو کیونکہ عبادت و الوہیت فقط اللہ تبارک و تعاليٰ کا خاصہ ہے۔ اس کے سوا کوئی اور اس شان کا مالک نہیں ہو سکتا لیکن وہ مقاماتِ قرآن جہاں نفیء شرک اور نفیء استحقاقِ عبادت کی بات نہ ہو رہی ہو بلکہ کفار و مشرکین اور ان کے مزعومہ معبودانِ باطلہ کی مذمت مقصود ہو وہاں مِن دُونِ اللَّهِ میں انبیائے کرام اور اولیاء و صلحاء اور مقربین شامل نہیں۔ فہمِ دین سے نابلد بعض لوگوں نے اپنے من گھڑت تصورِ توحید کے زعم میں ’’مِن دُونِ اللَّهِ‘‘ کو ایک مستقل اصطلاح بنا ڈالا اور جہاں بھی اس کا تذکرہ آیا سیاق و سباق سمجھے بغیر بعض کو اس میں داخل کیا اور بعض کو اس میں سے خارج کیا. اس نادانی کے نتیجہ کے باعث الزام لگانے والوں کی طرف سے بھی زیادتی ہوئی اور جواب دینے والوں کی طرف سے بھی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں ’’مِن دُونِ اللَّهِ‘‘ کا سیاق و سباق دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ اس کا مذکورہ چیزوں سے تعلق ہی نہیں، یہ تو صرف ردِ شرک اور نفی استحقاقِ عبادت کے لئے آتا ہے۔ 

 

 

میرے ذہن میں یہ سوال آئے ہیں ، پلیز ان کا شرعی جواب دے دیں (میرے ذہن میں بھی ان کے جواب موجود ہیں ، مگر جب اہل علم حضرات بتا دیں گے تو رجسٹری ہو جائے گی اور غلطی کا احتمال نہ رہے گا)۔۔۔

۱

یہ کہنا ٹھیک ہے کہ: ’’من دون اللہ‘‘ میں اللہ کے رسول ، اولیا اور دیگر مقربین صرف اس وقت شمار ہوتے ہیں جب نفی شرک و نفی الوہیت (معبودان باطلہ سے) مراد ہو۔

۲

یہ بات ٹھیک ہے کہ: مطلقا ’’من دون اللہ‘‘ میں صرف اصنام و اوثان مراد نہیں ہوتے۔

۳

یہ بات ٹھیک ہے کہ: ۔ُُمن دون اللہ‘ کا مفہوم ہر جگہ سیاق و سبق سے متعین کرنا پڑے گا۔

Edited by kashmeerkhan

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By kashmeerkhan
      mojha ye malom karna ha kay ye allama shokanee aor qazi shokanee aek he banda ha ya different differnt?
      ye hamaray bazurag ha ya kssi aor mazhab ka?
      tqleed par jo itraz keiya geia ha, ye waqee allama shokanee na keiya ha itraz yah nah?
      tqleed par kieay gaiey es itraz ka ilmi tehqiqi jewab chahaey..
      (thanks)