Jump to content
IslamiMehfil

دیوبندی عطاء اللہ شاہ بخاری دردناک عذاب میں اور حضور علیہ السلام کی شفاعت سے محروم


Recommended Posts

دیوبندی عطاء اللہ شاہ بخاری  دردناک عذاب میں اور حضور علیہ السلام کی شفاعت سے محروم

مولوی حکیم اختر  دیوبندی اپنی کتاب میں ‘’آداب عشق رسول’’ میں لکھتا ہے
"ایسے ہی آج دیکھتا ہوں کہ لوگ لمبی لمبی مونچھیں رکھے ہوئے ہیں  دیکھو اوجز المسالک  شرح موطا امام مالک حدیث کی بڑی کتاب ہے جو 14 جلدوں میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے اپنی مونچھوں کو بڑھایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’ میری شفاعت سے محروم کردیا جائے گا اور حوض کوثر پر نہیں آنے پائے گا اور سوال جواب کے لئے قبر میں منکر نکیر کو غصے میں بھیجا جائے گا ،ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اگر توبہ کئے مرگئے" 

📒 آداب عشق رسول صفحہ 23،24

 دیوبندی کی اس نقل کردہ روایت سے خود فرقہ دیوبند کا مستند و معتبر عالم مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری جہنمی،حضور علیہ السلام کی شفاعت  و حوض کوثر کی نعمت  سے محروم  ہے اس لئے کہ مولوی عطا اللہ شاہ بخاری کی مونچھیں بڑی بڑی تھیں جیسا کہ آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں !

IMG-20210608-WA0012.jpg

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By محمد حسن عطاری
      مماتی فرقہ حیاتی کو بناسپتی گھی کہ کر پکارتا ہے اور وہ جواب میں ان کو بناسپتی گھی کہتے ہیں  
       ملاحظہ ہو حیاتی دیوبندی نور محمد تونسوی مماتی دیوبندیوں کے رد میں  کتاب لکھتا ہے جس کا نام
      منکرین  حیات قبر کی خوفناک چالیں اور اس میں مماتی فرقے کو عیار  فتنہ اور بناسپتی کے لقب سے پکارتا ہے 
      دیو کے بندوں اپنے گھر کی آگ تو بجھاو  



    • By محمد حسن عطاری
      عبدالرؤف خان دیوبندی کی کتاب
      براۃ الابرار عن مکائد الاشرار ہے
      علماے دیوبند میں  اس کتاب  کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس  پر 616 دیوبندی وہابی علماء کے دستخط وتصدیقات موجود ہیں
      اس کتاب کے صفحہ 57 بحوالہ کلمہ حق
      لکھا ہے کہ
      ملک الموت اور شیطان لعین کا ہرجگہ حاظر وناظر ہونا نص قطعی سے ثابت ہے اور محفل میلاد میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا نص قطعی سے ثابت نہیں
      رسول صلی اللہ علیہ وسلم  دشمنی پر مبنی یہ عبارت بار بارپڑھیں
      یعنی دیوبندیوں کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حاظر وناظر ہونا کسی نص سے ثابت نہیں بلکہ شرک ہے
                       مــعــاذالـلـــه 
      لیکن اس گھر کو آگ لگ گئ گھر کے چراغ سے
      ملاحظہ ہو امام الوہابیہ اسماعیل دہلوی کا فتوی
      دہلوی  لکھتا ہے کہ
      شرک کے یہ معنی کی جو چیزیں اللہ نے اپنے واسطے خاص کی ہیں ------جیسے مشکل کے وقت پکارنا--- اور ہر جگہ حاظر وناظر سمجھنا------------اور اس بات میں اولیاء انبیاء میں جن وشیطان میں  بھوت پری میں کچھ فرق نہیں  یعنی جس سے کوئ یہ معاملہ کرے گا مشرک ہوجاے گا
      (تقویت الایمان)
      لہذا دہلوی کے فتوے سے براتہ الابرار عن مکائد الاشرار پر دستخط کرنے والے 616 دیوبندی علماء مشرک ہوگئے
      مزے کی بات یہ ہے کہ امام الوہابیہ نے اپنی مذکورہ بالا تحریر میں جسے پوری قوت کے ساتھ شرک بتایا اسی بات کو دیوبندی علماء نے پوری قوت کے ساتھ نص سے ثابت مانا
      کســـی نے ســـچ کہا
      خدا جب دین لیتا ہے 
      تو عقلیں چھین لیتا ہے 

    • By محمد حسن عطاری
      امام الوہابیہ اسماعیل دہلوی لکھتا ہے
       سو اول معنی شرک وتوحید کے سمجھنے چاہیئے
      کوئی اپنے بیٹے کانام عبدالنبی رکھتا ہے کوئی علی بخش کوئی حسین بخش کوئی پیربخش کوئی مداربخش کوئی سالاربخش کوئی غلام محی الدین کوئی غلام معین الدین اور دعوے مسلمانی کے کئے جاتے ہیں 
      تقویت الایمان مع تذکیر الاخوان ص 19
      اشرفعلی تھانوی نے بھی بہشتی زیور میں لکھا کہ
      علی بخش حسین بخش عبد النبی نام شرکیہ ہیں 
      تو دہلوی اور تھانوی کے اس فتوے سے معلوم ہوا کہ ایسے نام رکھناشرک ہے اور ایسے نام رکھنے والوں کو صرف مسلمانی کا دعوی ہی ہے اصل میں وہ مسلمان نہیں بلکہ مشرک ہے 
      لگے ہاتھ تقویت الایمان کےبارے میں رشید احمد گنگوہی کی بھی سن لیں
      تقویت الایمان نہایت عمدہ کتاب ہے اور رد شرک وبدعت میں لاجواب ہے  استدلال اسکی بالکل کتاب اور احادیث سے ہے اس کا رکھنا اور پڑھنا اور اس پر عمل کرنا عین اسلام ہے اور موجب اجر کا ہے 
      (فتاوی رشیدیہ ص 219)
      پتہ چلاکہ تقویت الایمان رشید احمد گنگوہی کے نزدیک بڑی معتبر ہے 
      تو اب تھانوی اور دہلوی کے فتوے سے اور رشید گنگوہی کے تائید سے 
      گنگوہی کے آباءواجداد مشرک ٹھہرے 
      باپ کی جانب سے سلسلہ نسب اس طرح ہے
      مولانا رشید احمد بن مولانا ہدایت احمد بن قاضی پیر بخش بن قاضی غلام حسن بن قاضی غلام علی بن----
      ماں کی جانب سے جو سلسلہ نسب ہے 
      اس میں 
      فرید بخش غلام محمد ----
      (فتاوی رشیدیہ 1ص 14)

      تو اب واضح ہواکہ  رشید احمد گنگوہی کے آباء واجداد تھانوی اور دہلوی کے فتوے سے مشرک ہیں.

×
×
  • Create New...