Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 11/07/2019 in all areas

  1. 2 likes
  2. 1 like
    اس کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں امام ذہبی کے حوالے سے لیکن جناب نے یہاں وہابی تحقیق پیش کی ہے تو جواب بھی وہابی سے دیتے ہیں۔ زئی اس روایت کے کہتا ہے: أبو حفص و كلثوم عن أبى غادية قال… . فقيل قتلت عمار بن ياسر و أخبر عمرو بن العاص فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أن قاتله و سالبه فى النار“إلخ [طبقات ابن سعد 261/3 و اللفظ له، مسند احمد 198/4، الصحيحة 19/5 ]اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا:وهٰذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم… .عر ض ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قاتله و سالبه فى النار والی روایت بھی صحیح ہے۔ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :فقيل… . إلخ پس کہا گیا کہ تو نے عمار بن یاسر کو قتل کیا اور عمرو بن العاص کو یہ خبر پہنچی ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”بے شک اس (عمار ) کا قاتل اور سامان لوٹنے والا آگ میں ہے۔ “اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا راوی فقيل کا فاعل ہے جو نامعلوم (مجہول) ہے۔ راوی اگر مجہول ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ في الناروالی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے۔ ”إسنادہ صحیح“ نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ سے روایت دو راوی بیان کر رہے ہیں :➊ ابوحفص : مجہول۔➋ کلثوم بن جبر : ثقہ۔امام حماد بن سلمہ رحمہ الله نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں ؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔خلاصہ التحقیق : یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح کہنا غلط ہے۔ ۔۔۔ اس بات کا حوالہ پہلے چکا ہوں لیکن پھر وہی بات پوسٹ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اس روایت میں محشی نے خود بتایا ہے کہ اسے ایک راوی کا ترجمہ و توثیق نہ مل سکی اور ایک راوی کی توثیق دینا بھی بھول گیا ہے خود دیکھ لو اپنے پوسٹر میں ہم نے نشان دہی کر دی ہے۔ ارے میاں کسی کا قول نقل کرنا لازمی نہیں ہوتا ہے کہ وہ بات ان کے نزدیک حجت ہو۔ باقی امام ابن معین کے قول کی دلیل بھی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سند ہے اور نہ ہی امام ابن معین جنگ صفین میں تھے کیونکہ وہ ان سے ایک صدی بعد پیدا ہوئے اس لیے ایسے اقوال کے بارے میں امام شعبہ اور امام ابن مبارک کا قول پیش کر چکا ہوں اس لئے مزید اس طرح اقوال پیش کرنے سے گریز کریں جن نہ سند ہوتی ہے اور نہ دلیل ہوتی ہے۔
  3. 1 like
    اس کتاب کا حاشیہ حمدی عبدالمجید سلفی نے لکھا ہے اس نے بھی وہی حوالہ دیا ہے امام ہیثمی کا اس نے بھی نئی کوئی بات نہیں کی۔ امام ہیثمی کی بات کا جواب اوپر ہو چکا ہے کیونکہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے اور یہ صحیح حدیث کے رجال میں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثقہ ہے۔
  4. 1 like
    یہی تو آپ سے سوال ہے کہ جب زئی نے تینوں روایات کو ضعیف قرار دیا ہے تو پھر قاتل کہنے میں کوئی سی صحیح روایت پیش کی ہے جب زئی کا حوالہ یہ ہے تینوں روایات کو ضعیف کہنے میں کیا ابو الغادیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوزخی ہیں؟ تھے؟ سوال : ایک روایت میں آیا ہے کہ قاتل عمار وسالبه فى النار عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے۔ شیخ البانی رحمہ الله نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھئے : [السلسلة الصحيحة 18/5۔ 20 ح 2008 ] یہ بھی ثابت ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو جنگِ صفین میں ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ نے شہید کیا تھا۔ دیکھئے : [مسند احمد 76/4 ح 16698 و سنده حسن ] کیا یہ صحیح ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ دوزخی ہیں ؟ (حافظ طارق مجاہد یزمانی) الجواب : الحمدلله رب العالمين و الصلوٰةوالسلام عليٰ رسوله الأمين، أما بعد : جس روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے، اس کی تخریج و تحقیق درج ذیل ہے : ① ليث بن أبى سليم عن مجاهد عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه… . إلخ [ ثلاثةمجالس من الامالي لابي محمد المخلدي 1/75۔ 2، السلسلة الصحيحة 18/5، الآحادو المثاني لابن ابي عاصم 102/2 ح 803 ] یہ سند ضعیف ہے۔ لیث بن ابی سلیم جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے، ◈ بوصیری نے کہا: ضعفه الجمهور ” جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔“ [ زوائد ابن ماجه : 208، 230 ] ◈ابن الملقن نے کہا: وهو ضعيف عند الجمهور ” وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ “ [خلاصة البدر المنير : 78، البدر المنير : 104/2 ] ◈ امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا : ضعيف كوفي [ كتاب الضعفاء : 511 ] ② المعتمر بن سليمان التيمي عن أبيه عن مجاهد عن عبدالله بن عمرو رضى الله عنه … إلخ [المستدرك للحاكم 387/3 ح 5661 وقال الذهبي فى التلخيص : عليٰ شرط البخاري و مسلم ] یہ سند سلیمان بن طرخان التیمی کے عن کی وجہ سے ضیف ہے۔ سلیمان التیمی مدلس تھے، دیکھئے جامع التحصیل [ ص106] کتاب المدلسین لا بی زرعۃ ابن العراقی [ 24] اسماء من عرف بالتدلیس للسیوطی [ 20] التبیین لأسماء المدلسین للحلبی [ ص29] قصیدۃ المقدسی و طبقات المدلسین للعسقلانی [ 2/52] ◈ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا : كان سليمان التيمي يدلس ” سلیمان التیمی یدلیس کرتے تھے۔“ [ تاريخ ابن معين، رواية الدوري : 3600 ] امام ابن معین کی اس تصریح کے بعد سلیمان التیمی کو طبقۂ ثانیہ یا اولیٰ میں ذکر کرنا غلط ہے بلکہ حق یہ ہے کہ طبقۂ ثالثہ کے مدلس ہیں لہٰذا اس روایت کو ”صحیح علیٰ شرط الشیخین“ نہیں کہا جا سکتا۔ ③ أبو حفص و كلثوم عن أبى غادية قال… . فقيل قتلت عمار بن ياسر و أخبر عمرو بن العاص فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أن قاتله و سالبه فى النار“إلخ [طبقات ابن سعد 261/3 و اللفظ له، مسند احمد 198/4، الصحيحة 19/5 ] اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا: وهٰذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم… . عر ض ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قاتله و سالبه فى النار والی روایت بھی صحیح ہے۔ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فقيل… . إلخ پس کہا گیا کہ تو نے عمار بن یاسر کو قتل کیا اور عمرو بن العاص کو یہ خبر پہنچی ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”بے شک اس (عمار ) کا قاتل اور سامان لوٹنے والا آگ میں ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا راوی فقيل کا فاعل ہے جو نامعلوم (مجہول) ہے۔ راوی اگر مجہول ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ في النار والی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے۔ ”إسنادہ صحیح“ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ سے روایت دو راوی بیان کر رہے ہیں : ➊ ابوحفص : مجہول۔ ➋ کلثوم بن جبر : ثقہ۔ امام حماد بن سلمہ رحمہ الله نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں ؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔ خلاصہ التحقیق : یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح کہنا غلط ہے۔ (توضیح الاحکام ج 2 ص 477) اب زئی نے یہاں تینوں روایات کو ضعیف قرار دیا ہے تو حضرت ابوالغادیہ کے قاتل ہونے پر کون سی صحیح سند پیش کی ہے جب کہ ضعیف روایات خود زئی کے لئے حجت نہیں اوپر حوالہ دے چکا ہوں خود اسی کے اصول سے اس کے موقف کا رد کیا ہے۔
  5. 1 like
    ہم نے یہاں بات کی تھی کہ زئی نے روایات کو ضعیف قرار دیا ہے جس کا حوالہ ہم دے چکے ہیں اب بھی دے دیتے ہیں جناب کو زئی کا اسناد پر موقف یہ ہے دیکھ لو: کیا ابو الغادیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوزخی ہیں؟ تھے؟ سوال : ایک روایت میں آیا ہے کہ قاتل عمار وسالبه فى النار عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے۔ شیخ البانی رحمہ الله نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھئے : [السلسلة الصحيحة 18/5۔ 20 ح 2008 ] یہ بھی ثابت ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو جنگِ صفین میں ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ نے شہید کیا تھا۔ دیکھئے : [مسند احمد 76/4 ح 16698 و سنده حسن ] کیا یہ صحیح ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ دوزخی ہیں ؟ (حافظ طارق مجاہد یزمانی) الجواب : الحمدلله رب العالمين و الصلوٰةوالسلام عليٰ رسوله الأمين، أما بعد : جس روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے، اس کی تخریج و تحقیق درج ذیل ہے : ① ليث بن أبى سليم عن مجاهد عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه… . إلخ [ ثلاثةمجالس من الامالي لابي محمد المخلدي 1/75۔ 2، السلسلة الصحيحة 18/5، الآحادو المثاني لابن ابي عاصم 102/2 ح 803 ] یہ سند ضعیف ہے۔ لیث بن ابی سلیم جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے، ◈ بوصیری نے کہا: ضعفه الجمهور ” جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔“ [ زوائد ابن ماجه : 208، 230 ] ◈ابن الملقن نے کہا: وهو ضعيف عند الجمهور ” وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ “ [خلاصة البدر المنير : 78، البدر المنير : 104/2 ] ◈ امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا : ضعيف كوفي [ كتاب الضعفاء : 511 ] ② المعتمر بن سليمان التيمي عن أبيه عن مجاهد عن عبدالله بن عمرو رضى الله عنه … إلخ [المستدرك للحاكم 387/3 ح 5661 وقال الذهبي فى التلخيص : عليٰ شرط البخاري و مسلم ] یہ سند سلیمان بن طرخان التیمی کے عن کی وجہ سے ضیف ہے۔ سلیمان التیمی مدلس تھے، دیکھئے جامع التحصیل [ ص106] کتاب المدلسین لا بی زرعۃ ابن العراقی [ 24] اسماء من عرف بالتدلیس للسیوطی [ 20] التبیین لأسماء المدلسین للحلبی [ ص29] قصیدۃ المقدسی و طبقات المدلسین للعسقلانی [ 2/52] ◈ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا : كان سليمان التيمي يدلس ” سلیمان التیمی یدلیس کرتے تھے۔“ [ تاريخ ابن معين، رواية الدوري : 3600 ] امام ابن معین کی اس تصریح کے بعد سلیمان التیمی کو طبقۂ ثانیہ یا اولیٰ میں ذکر کرنا غلط ہے بلکہ حق یہ ہے کہ طبقۂ ثالثہ کے مدلس ہیں لہٰذا اس روایت کو ”صحیح علیٰ شرط الشیخین“ نہیں کہا جا سکتا۔ ③ أبو حفص و كلثوم عن أبى غادية قال… . فقيل قتلت عمار بن ياسر و أخبر عمرو بن العاص فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أن قاتله و سالبه فى النار“إلخ [طبقات ابن سعد 261/3 و اللفظ له، مسند احمد 198/4، الصحيحة 19/5 ] اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا: وهٰذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم… . عر ض ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قاتله و سالبه فى النار والی روایت بھی صحیح ہے۔ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فقيل… . إلخ پس کہا گیا کہ تو نے عمار بن یاسر کو قتل کیا اور عمرو بن العاص کو یہ خبر پہنچی ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”بے شک اس (عمار ) کا قاتل اور سامان لوٹنے والا آگ میں ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا راوی فقيل کا فاعل ہے جو نامعلوم (مجہول) ہے۔ راوی اگر مجہول ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ في النار والی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے۔ ”إسنادہ صحیح“ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ سے روایت دو راوی بیان کر رہے ہیں : ➊ ابوحفص : مجہول۔ ➋ کلثوم بن جبر : ثقہ۔ امام حماد بن سلمہ رحمہ الله نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں ؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔ خلاصہ التحقیق : یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح کہنا غلط ہے۔ (اوپر دیکھ لیں میاں کیا زئی نے تینوں روایات کی تضعیف نہیں کی ہوئی؟؟ کیا یہ ہم نے جھوٹ بولا ہے) (الحدیث شمارہ نمبر 31 ص 26) (توضیح الاحکام ج 2 ص 477) باقی زئی نے جو یہ لکھا ہے: تنبیہ : ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جنگِ صفین میں شہید کرنا ان کی اجتہادی خطا ہے جس کی طرف حافظ ابن حجر رحمہ اللہ العسقلانی نے اشارہ کیا ہے۔ دیکھئے : [الاصابة 151/4 ت 881، ابوالغادية الجهني] وما علينا إلا البلاغ یہ بات خود اسی کے اصول سے باطل ہے کیونکہ ایک تو صحیح سند نہیں دی سب کو اس نے ضعیف قرار دیا ہے جب ضعیف قرار دیا ہے تو قاتل کیسے ثابت ہوتا ہے؟؟ جب کہ زئی صاحب خود ضعیف روایت کے حکم پر لکھتے ہیں: "علمائے کرام کا دوسرا گروہ ضعیف روایات پر عمل کا قائل نہیں چاہے عقائد و احکام ہوں یا فضائل مناقب اور اسی گروہ کی تحقیق راجح ہے۔" (مقالات ج 2 ص 270) آخر میں زئی صاحب لکھتے ہیں : "اگر کوئی شخص دلیل کے ساتھ ہماری غلطی ثابت کر دے تو اعلانیہ رجوع کرتے ہیں۔" (مقالات ج 2 ص 283) اب ہم نے یہاں زئی کی غلطی کی نشان دہی کر دی ہے ایک طرف سب روایات کو ضعیف قرار دیا ہے اور دوسری طرف بنا دلیل کے قاتل کہہ دیا ہے پھر کہتے ہیں ضعیف پر عمل نہیں کرنا چاہیے لہذا زئی تو اب زندہ نہیں اگر ہوتا اس کو یہ پتہ چلتا تو ضرور رجوع کرتا اس بات سے۔ واللہ اعلم
  6. 1 like
    ایک بات سات کتابوں میں لکھی ہوئی ہے اسی بات کا ہم کئی بات تحقیقی رد کر چکے ہیں جن کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ارے میاں ایک ضعیف روایت ساتھ تو کیا لاکھ کتب میں ہو وہ ضعیف رہتی ہے اور وہ ایک ہی حوالہ رہتا ہے باقی اس کو کتب میں نقل کرنے سے نئی روایت نہیں بن جاتی۔ الحمدللہ جناب نے کوئی بھی نئی بات نہیں کی وہی پرانی روایت پیش کی جن کا ہم پہلے جواب دے چکے ہیں لیکن اب کی بار کتب اور تھیں لیکن روایت وہی پرانی تھی۔ لگتا ہے یہی ضعیف روایت ہی جناب کی کل کائنات ہے۔ جناب کے تمام دلائل کا رد کیا جا چکا ہے کوئی نئی بات ہو تو کریں پرانی روایات کو کتب بدل بدل کر پیش نہ کریں کیونکہ ان کاجواب پہلے ہو چکا ہے۔ شکریہ
  7. 1 like
    اس میں بھی وہی عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے جس کا پہلے جواب دیا چکا ہے جناب یہ بھی وہی پرانی روایت ہے جب کا تحقیقی جواب ہم اوپر دےآئے ہیں جس کا جناب نے ابھی تک جواب نہیں دیا لیکن اسے پھر پوسٹ کر دیا ہے یہ انتہائی غیر مناسب رویہ ہے جناب کا
  8. 1 like
    ارے جناب یہ کوئی نیا حوالہ نہیں وہی پرانی روایت ہے لیکن اس میں ہم نے پہلے نشان دہی کر دی تھی کہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے لیکن جناب اس کا جواب نہیں دیا پھر اسے دوبارا پوسٹ کر دی ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ یہ نیا حوالہ ہے ارے میاں پوسٹر بنانے سے پہلے پڑھ بھی لیا کرو غور سے۔ اب جناب آپ پر لازم ہے اس راوی کی توثیق پیش کریں جمہور ائمہ اہل سنت سے؟؟
  9. 1 like
    پھر وہی پرانی روایت پوسٹ کر دی بس اب کی بار البانی آگیا ہے روایت وہی ہے جس کا ہم پہلے جواب دے چکے ہیں۔ چلیں البانی سے پوچھ کر دیں کہ اس روایت کو صحیح کہا ہے تو کیا کلثوم بن جبر کا سماع حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کیا ثابت ہے؟؟؟ اگر ثابت ہے تو جناب البانی کے مقلد ہیں تو ثابت کریں سماع ورنہ امام ذہبی نے اس روایت کو منقطع قرار دیا ہے سیر اعلام النبلاء میں اس کا اوپر حوالہ دے چکا ہوں پہلے۔ اور فقیل کہنے والا راوی کون ہے جب کہ یہ مجہول کا صیغہ ہے تو پھر اس کی سند کیسے صحیح ہے؟؟ اب البانی کی طرف سے جناب پر جواب دینا لازم ہے ۔
  10. 1 like
    تو ہم بھی اسی خلیفہ راشدکے بیٹے رضی اللہ عنہما کی صلح پر قائم ہیں اس لئے یہ باتیں اپنے پاس رکھے ہیں ہمیں نہ بتائیں۔ باقی ہم بنا کسی تحقیق کسی کو کیسے قاتل مان لیں ؟؟ کیا شریعت میں بنا دلیل کے کسی کو قاتل کہا جا سکتا ہے؟؟ ان سب حوالہ جات کے اوپر جواب دیئے جا چکے ہیں ان کو پھر پوسٹ کر دیا ہے حیرت ہے تھوڑی ہمت کریں جو ہم نے ان حوالہ جات کا تحقیقی طور پر جو رد کیا ہے ان کا جواب تحریر کر کے پوسٹ کریں ورنہ ان کو دوبارہ پوسٹ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
  11. 1 like
    عسقلانی بھائی جہاں کا خمیر ہوتا ہے وہاں ہی جا ملتا ہے یہی حساب رافضیوں تفضیلیوں تفسیقیوں وہابیوں اور دیابنہ کا ہے۔اس رافضی نے بہت سی عام فہم عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن صحابئ رسول صلی الله عليه وآلہ وسلم پر بھونکنے والے ہمیشہ منہ کی ہی کھائیں گے اللہ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرماۓ آمین بجاہِ سیدالانبیاء والمرسلینﷺ
  12. 1 like
  13. 1 like
    Pyary bhai Forum pe har koi Arbi achi tarha se nahi janta.. Ap Matlooba Ibaraton ka Tarjuma Bhi shukriya.. Jazak Allah..
  14. 1 like
  15. 1 like
    ویڈیو ابھی تک اپلوڈ نہیں ہوئی ۔کوشش جاری ہے جیسے ہی ملے گی اپلوڈ ہو جائے گی ۔
  16. 1 like
    awwalan sab say pahli baat tu yeh hai ... keh imam hasan nay qatil ka naam bataya hi nahi jesa ke kutub main mojod hai ... qurtbi aik morrikh hain morrikh ko jo waaqiyat milte hen woh naqal kardete hen. tahqeq karna un ka kaam nahi hota .. ab us ke kuch arsa bad ka hi waqiya lai lain yazeed ki maut ka kisi bhi morrikh nay aisi wajah nahi likhi jis par sab nay ittefaq kya ho.. hadith ki tarah is main asmae rijal nahi hotay .. lakin jab khud imam hassan nay hi qatil ka naam nahi bataya .. tu baqi sab morrikho ke ya tu qayasat hain ya phir unhain is tarah ke waqiyat mile hen .. aur inhonay bagair tahqeq ke byan kardya .. kunke un ka maqsood tarekh main sihah e sittah likhna nahi hota jo baat ,maloom howi unhain byan karna hota hai..phir morrikh ne jo likha hai woh yeh bhi zaroori nahi keh is ka moqqaf hoo kunke tarekh me zaeef qaol bhi hote hen... agar waqayi ap ko zehar ap ki biwi nay dya hai tu tu is baray main bhi wazih saboot nahi hai keh hazrat ameer e mowiyah ke ima par hi howa hai ... warna imam hussain radi ALLAHOTALA Anho jab karabala main yazeed aur us ke rafeeqo ki muzammat karsakte hen tu imam hassan ke qatilo ko aap ne be niqab kyon nahi kya ...hadith main hai jo burai dekehe usay hath say rokay zuban say rokay tu karabala main aap ne hath say bhi roka zaban say bhi roka lakin yahan taqiyah ki kya hikmat posheda thhi ? yakenan jawab wahi hai keh imam hassan nay qatil ka nam hi nahi bataya .. tu imam hussain mahaz zann ki buniyad par kisi be gunah par ilzam kyon rakhte... jab ke yahan tu yeh bhi sabot nahi keh imam hussain ke zann say yeh baat guzri hoo keh ameer mowiyah ki wajah hazrat hassan shahed howe hen ... hussainiat imam hussain ke naam par ronay petne ya nachne ka naam nahi balke hussinayat imam hussain ki taleemat wa sabar jo ap ne karbala ke medan main thame rakha us ko nibahne ka naam hai .................. zamukhshari ahlesunnat ka nahi hai muatazli hai.. tafseer kashaf ka mutala zara gaur say karlete tu yeh qayas ma al fariq aap say na hota ..... ansari tilmasani bhi morrikh hai aur morrikh ke baray maine wazahat kardi hai... .......... aik aur mudahaka khaiz baat yeh hai koi bhi hawla 500 sanh hijri say pahle yani awail ke door ka nahi hai yeh sari kitabain 500 saal baad jo tareekh likhi jayeegi un ke hain.. woh bhi in wojohat ke hotay howee manna ? jo hum nay byan kardi....