Jump to content
IslamiMehfil

Leaderboard

Popular Content

Showing content with the highest reputation since 09/25/2009 in all areas

  1. غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کے استاد بدیع الزمان سندھی کی صحیح بخاری کی ایک سند پر تحقیقی تبصرہ گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی غیرمقلد اپنے استادبدیع الزمان سندھی کے ایک رسالہ "منجدالمستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز" کے بارے میں لکھتاہے۔ یہ رسالہ شاہ صاحب کی اسناد کا مجموعہ ہے جو آپ اپنے شاگردوں اور مستجیزین کو مرحمت فرماتے تھے۔آپ نے اپنے دستخطوں اور مہر کے ساتھ 8/7/1406 ھ کو یہ اجازت نامہ مجھے بھی عطا فرمایا تھا۔اس میں ایک مقام پر آپ نے صحیح بخاری کی سند درج ذیل الفاظ میں رقم کی: "فاخبرنی الشیخ عبدالحق الھاشمی قال:اخبرنا احمد بن عبداللہ بن سالم البغدادی عن عبدالرحمن بن ح
    4 points
  2. ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
    3 points
  3. المعجم الاؤسط للطبرانی اردو Jild # 1 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild1/al mu'jam al awsat Jild 1.pdf Jild #2 https://archive.org/download/Al-Muajam-ul-Aosat-lil-Tabrani/AlMujamAlAwsatJild2.pdf Jild # 3 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild3/al mu'jam al awsat Jild 3.pdf Jild # 4 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild4/al mu'jam al awsat Jild 4.pdf Jild # 5 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild5/al mu'jam al awsat Jild 5.pdf Jild # 6 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 6.pdf Jild # 7 https://ar
    3 points
  4. انکشاف حق کے رد کیلئے کتاب عجائب دیوبند سے ابتدائی چند صفحات ہی کافی ہیں۔ جب مصنف ہی معتبر نہیں اور اُس کیخلاف متفقہ فتوی ہو تو کتاب کی ہمارے نزدیک کیا حیثیت؟ انکشاف حق کے ابتدائی چند صفحات پڑھ کر ایک صحیح العقیدہ سُنی کو فوراً اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کتاب وہابیوں کا دھوکہ ہے۔ کیونکہ مولوی خلیل دیوبندی شروع میں اعلی حضرت سے کفر کے مسئلے پر اختلاف کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس مسئلہ میں تقلید نہیں کی جائے گی اور کفر کا فتوی دینے میں احتیاط کی جائے گی اور دیوبندی اکابر اُن عبارات کا دوسرا مطلب مانتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ مگر آگے چل کر اُس نے باقائدہ دیوبندی اکابرین کا دفا
    3 points
  5. تیجانی صاحب۔ آپ کی جہالت، کم علمی اور گندی سوچ انتہائی قابل افسوس ہے۔ آپ کی جہالت اور گندی سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن الفاظ کو آپ نے ہائی لائٹ کیا ہے وہ تماش بین کے ہیں۔ بالکل اُسی لفظ کہ نیچے لفظ تماشا لکھا ہے۔ یہ لفظ تماشا اصل فارسی کا لفظ ہے۔ جس کا اسکرین شاٹ میں نے اوپر پوسٹ کیا۔ اور اُسی تماشا کو تماشی (باہم پیدل چلنا) کا مفرس کہا گیا ہے۔ پھر بھی آپ کا اتنا ضد اور ہٹ دھرمی کہ ابھی بھی اسے اردو کا لفظ کہہ رہے ہیں۔۔ اور مزید جو اصل لفظ تماشا ہے۔ اُس کا معنی دیکھیں۔ آپ کی جہالت کی انتہا کہ اصل فارسی کا معنی نظارہ ہے۔ جیسا کہ گوگل نے ترجمہ فارسی کا کیا
    3 points
  6. ایک غیر مقلد کی جہالت چیک کریں دعا کے کے سلسلے میں کفایت اللہ وہابی محدث فورم پر ایک وہابی کے سوال کے جواب میں لکھتا ہے۔ دیکھیں کتنی جہالت سےوہابی کسی اور کے دعا کے تجربے کو کہہ رہا کہ یہ بات کسی روایت میں نہیں ہےاور یقین نہ آئے تو جب جب آپ کی کوئی چیز گم ہو جائے ان الفاظ کو پڑھ کر دیکھیں۔ پتہ چل جائے گا کہ یہ نسخہ کتنا مجرب ہے۔ پھر آگے لکھتا ہے: آدمی کو چاہئے کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ اذکار و ادعیہ کی پابندی کرے ا ور مجرب کے نام پر خود ساختہ ادعیہ و اذکار کی دوکان چلانے والوں سے ہوشیا ر رہے۔اگرکسی کو مسنون دعائیں یاد نہیں تو وہ اپنے الفاظ میں بھی جب چاہے اللہ
    3 points
  7. Source: dawatulquran.net/ham-naami-ka-mughalta/
    3 points
  8. 20 رکعت تراویح پرحضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کا تحقیقی جائزہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت أخبرنَا أَبُو عبد الله مَحْمُود بن أَحْمد بن عبد الرَّحْمَن الثَّقَفِيُّ بِأَصْبَهَانَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِي أخْبرهُم قِرَاءَة عَلَيْهِ أَنا عبد الْوَاحِد بن أَحْمد الْبَقَّال أَنا عبيد الله بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ أَنا جَدِّي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَمِيلٍ أَنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ أَنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ
    2 points
  9. حدیث پاک میں صبی کے الفاظ ہیں جو کم سن کو ظاہر کرتے ہیں۔
    2 points
  10. امام ابواسحاق ابراہیم بن موسیٰ الشاطبی نے اپنی معروف کتاب الاعتصام میں بدعت کی اقسام بھی بیان کی ہیں اور بدعت حسنہ کے جواز پر دلائل بھی دئیے ہیں۔
    2 points
  11. ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے علامہ ابن عدی کی کتاب سے حدثنا علي بن سعيد حدثنا الحسين ابن عيسى الرازي حدثنا سلمة بن الفضل ثنا حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ((إذا رأيتم فلاناً على المنبر فاقتلوه). (الکامل لابن عدی 6/112) اس روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار تیسرے طبقہ کا مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔اور اس روایت میں فلانا کا لفظ ہے نام کی تصریح موجود نہیں۔ اس کے علاوہ محمدبن اسحاق کا شاگرد سلمہ بن ا
    2 points
  12. میرے خیال میں یہ ایک تازہ تازہ دیوبندی یا وہابی غیر مقلد ہے۔ اس لئے علمی گفتگو کی اُمید بہت ہی کم ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ بیسیوں صفحات کاپی پیسٹ کرنا شروع کردے گا۔ پھر بھی چند چھوٹے سے سوالات ہیں۔ اُمید کرتے ہیں ٹو دا پوائںٹ جواب آئے گا۔ ۱۔ قبر کو پوجنے کو کس نے جائز کہا ہے؟ ہم صرف ایک اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں۔ ہمارے کسی مستند عالم کی تحریر، تقریر، عمل وغیرہ سے یہ بات ثابت کرو۔ خالی چاولیں مارنے سے تمہاری اپنی بدنامی ہوگی۔ جو کہ خیر اس پوسٹ سے ہوچکی ہے۔ ۲۔ اوپر جو لکھا ہے۔ اُس کا جواب کدھر ہے؟ ہم صاحب صحیح مسلم، اما سیوطی، صاحب فتح الباری اور دیگر جید علماء کی مانیں یا چودھویں صدی
    2 points
  13. میں نے اس بات وضاحت کر دی ہے کہ اگر اس کی نیت انبیاءکرام علیہم السلام میں شمولیت اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی تفضیل پر نہیں تو پھر جائز ہے۔ اس نعرہ میں یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ اس مراد یہ ہو کہ سوالاکھ بار نعرہ حیدری تو اس میں کونسی شرعی قباحت ہے؟؟؟ یہ بات نعرہ لگانے کی نیت پر ہے اور نیت کا علم اللہ عزوجل ہی بہتر جانتا ہے۔ویسے یہ نعرہ لوگوں کے عقائد کے مطابق ہو گا، جیسا عقیدہ ہوگا ویسے ہی اس کی مراد ہو گی ۔ اگر نعرہ لگانے والا رافضی ہے تو اس میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تفضیل انبیاء کرام علیہم السلام پر اور حضرات شیخین رضی
    2 points
×
×
  • Create New...