Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 11/12/2019 in all areas

  1. 2 likes
  2. 1 like
    اس کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں امام ذہبی کے حوالے سے لیکن جناب نے یہاں وہابی تحقیق پیش کی ہے تو جواب بھی وہابی سے دیتے ہیں۔ زئی اس روایت کے کہتا ہے: أبو حفص و كلثوم عن أبى غادية قال… . فقيل قتلت عمار بن ياسر و أخبر عمرو بن العاص فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أن قاتله و سالبه فى النار“إلخ [طبقات ابن سعد 261/3 و اللفظ له، مسند احمد 198/4، الصحيحة 19/5 ]اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا:وهٰذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم… .عر ض ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قاتله و سالبه فى النار والی روایت بھی صحیح ہے۔ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :فقيل… . إلخ پس کہا گیا کہ تو نے عمار بن یاسر کو قتل کیا اور عمرو بن العاص کو یہ خبر پہنچی ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”بے شک اس (عمار ) کا قاتل اور سامان لوٹنے والا آگ میں ہے۔ “اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا راوی فقيل کا فاعل ہے جو نامعلوم (مجہول) ہے۔ راوی اگر مجہول ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ في الناروالی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے۔ ”إسنادہ صحیح“ نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ سے روایت دو راوی بیان کر رہے ہیں :➊ ابوحفص : مجہول۔➋ کلثوم بن جبر : ثقہ۔امام حماد بن سلمہ رحمہ الله نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں ؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔خلاصہ التحقیق : یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح کہنا غلط ہے۔ ۔۔۔ اس بات کا حوالہ پہلے چکا ہوں لیکن پھر وہی بات پوسٹ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اس روایت میں محشی نے خود بتایا ہے کہ اسے ایک راوی کا ترجمہ و توثیق نہ مل سکی اور ایک راوی کی توثیق دینا بھی بھول گیا ہے خود دیکھ لو اپنے پوسٹر میں ہم نے نشان دہی کر دی ہے۔ ارے میاں کسی کا قول نقل کرنا لازمی نہیں ہوتا ہے کہ وہ بات ان کے نزدیک حجت ہو۔ باقی امام ابن معین کے قول کی دلیل بھی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سند ہے اور نہ ہی امام ابن معین جنگ صفین میں تھے کیونکہ وہ ان سے ایک صدی بعد پیدا ہوئے اس لیے ایسے اقوال کے بارے میں امام شعبہ اور امام ابن مبارک کا قول پیش کر چکا ہوں اس لئے مزید اس طرح اقوال پیش کرنے سے گریز کریں جن نہ سند ہوتی ہے اور نہ دلیل ہوتی ہے۔
  3. 1 like
    اس کتاب کا حاشیہ حمدی عبدالمجید سلفی نے لکھا ہے اس نے بھی وہی حوالہ دیا ہے امام ہیثمی کا اس نے بھی نئی کوئی بات نہیں کی۔ امام ہیثمی کی بات کا جواب اوپر ہو چکا ہے کیونکہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے اور یہ صحیح حدیث کے رجال میں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثقہ ہے۔
  4. 1 like
    Pyary bhai Forum pe har koi Arbi achi tarha se nahi janta.. Ap Matlooba Ibaraton ka Tarjuma Bhi shukriya.. Jazak Allah..
  5. 1 like
  6. 1 like
    ویڈیو ابھی تک اپلوڈ نہیں ہوئی ۔کوشش جاری ہے جیسے ہی ملے گی اپلوڈ ہو جائے گی ۔