Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 12/18/2017 in all areas

  1. 3 likes
    ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
  2. 3 likes
  3. 3 likes
    المعجم الاؤسط للطبرانی اردو Jild # 1 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild1/al mu'jam al awsat Jild 1.pdf Jild #2 https://archive.org/download/Al-Muajam-ul-Aosat-lil-Tabrani/AlMujamAlAwsatJild2.pdf Jild # 3 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild3/al mu'jam al awsat Jild 3.pdf Jild # 4 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild4/al mu'jam al awsat Jild 4.pdf Jild # 5 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild5/al mu'jam al awsat Jild 5.pdf Jild # 6 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 6.pdf Jild # 7 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 7.pdf
  4. 2 likes
    واقعہ حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃ اللہ علیہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی ( القولی الجلی مترجم اردو ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ442 اردو) ( القول الجلی فارسی ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ336 فارسی ) سوال یہ ہے کہ اسی مجذوب بزرگ کا واقعہ اگر اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرمائیں تو ان کے ملفوظات کو لے کر دیوبندی حضرات گندی گندی گالیاں نکالتے ہیں اور لعنتیں بھیجتے ہیں کیا وہی دیوبندی حضرات حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گندی گندی گالیاں دینگے اور ان پر لعنت بھیجیں گے ؟ دیوبندیوں یہودیانہ فطرت چھوڑ دو ، چھوڑ دو یہ منافقت اور دو رنگی یا پھر شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گالیاں دو اور لعنتیں بھیجو ، کیوں سادہ لوح مسلمانوں کو جھوٹ بول کر گمراہ کرتے ہو خود تو گمراہ ہوئے سادہ لوح لوگوں کا ایمان و عقیدہ کیوں برباد کرتے ہے جھوٹ بول کر جھوٹا مفہوم بیان کر کے اور کیوں فتنہ و فساد پھیلاتے ہو شرم تم کو مگر نہیں آتی آئے بھی کیسے شرم و حیاء باقی ہو تو آئے دعا ہے اللہ تمہیں ہدایت عطاء فرمائے
  5. 2 likes
    اسلامی ایجوکیشن پر ترجمہ کی غلطی تھی اور ایسی مزید اغلاط بھی ہوسکتی ہیں۔ پرانے ایڈیشن میں ہرکتاب اور آرٹیکل کے نیچے وضاحت بھی موجود تھی کہ اگر مواد میں کوئی غلطی پائیں تو رابطہ کر کے آگاہ فرمائیں۔ کتابت و ترجمہ کی اغلاط کبھی بھی عقائد کے خلاف دلیل نہیں ہوتیں۔ عقائد کو ثابت کرنے کیلئے مستند روایات و علماء کے حوالے درکار ہوتے ہیں۔ اسلامی ایجوکیشن ویب سائیٹ پر غلطی کی تصحیح اور وضاحت کر دی گئی ہے۔ مولا کا وہی معنی لیا جائے گا جو کہ جمہور علمائے اہلسنت مراد لیتے ہیں۔
  6. 2 likes
    ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے علامہ ابن عدی کی کتاب سے حدثنا علي بن سعيد حدثنا الحسين ابن عيسى الرازي حدثنا سلمة بن الفضل ثنا حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ((إذا رأيتم فلاناً على المنبر فاقتلوه). (الکامل لابن عدی 6/112) اس روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار تیسرے طبقہ کا مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔اور اس روایت میں فلانا کا لفظ ہے نام کی تصریح موجود نہیں۔ اس کے علاوہ محمدبن اسحاق کا شاگرد سلمہ بن الفضل الأبرش بھی کثیر الغلط راوی ہے۔ ایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے حديث جابر بن عبدالله روى سفيان بن محمد الفزاري عن منصور بن سلمة (ولا بأس بمنصور) عن سليمان بن بلال (ثقة) عن جعفر بن محمد (وهو ثقة) عن أبيه (ثقة) عن جابر بن عبدالله رضي الله عنه مرفوعاً (إذا رأيتم فلاناً اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں فلانا کا لفظ ہے ۔اس کے علاوہ سفیان بن محمد الفزاری سخت ضعیف ہے حدثني إبراهيم بن العلاف البصري قال، سمعت سلاماً أبا المنذر يقول: قال عاصم بن بهدلة حدثني زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر فاضربوا عنقه أنساب الأشراف (5/130) برقم (378) اس روایت میں ابراہیم بن العلاف بصری مجہول ہے اس کی توثیق امام ابن حبان کے علاوہ کسی امام نے نہیں کی۔اور امام بن حبان کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں۔ حدثنا يوسف بن موسى وأبو موسى إسحاق الفروي ، قالا : حدثنا جرير بن عبد الحميد ، حدثنا إسماعيل والأعمش ، عن الحسن ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه"، فتركوا أمره فلم يفلحوا ولم ينجحوا. أنساب الأشراف (5/128) اس راویت میں اسماعیل بن ابی خالد اور امام اعمش کا سماع امام حسن بصری سے محل نظر ہے۔اس کے علاوہ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سما ع آپ علیہ السلام سے نہیں ہے۔ حدثنا الساجي قال : ثنا بندار قال : ثنا سليمان قال : ثنا حماد بن زيد قال : قيل لأيوب إن عمراً روى عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال [ إذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ] قال أيوب كذب الكامل (5/103) اس راویت میں عمرو بن عبید بن باب کذاب ہے خود اسی راویت میں امام ایوب کیسان السختیانی نے جرح کی۔
  7. 2 likes
  8. 2 likes
    اہل خبیث اس طرح کی مبہم جرح جو جھوٹی حسد کینا لوگوں کی پھیلائی ہوئی لوگوں کو دیکھا کر پریشان کرتے ہیں۔ وہابیون کے بڑے ملاوں نے ان بکواسوں کا رد پہلے ہی کر دیا۔ انکے گھر کی گواہی اس طرح کی حسد و کینا کی بنیاد پر پھیلائی گئی باتوں کا رد امام ابن عبدالبر نے کر دیا تھا۔ مزید اگر وہ تنگ کرے اور نہ مانے تو اس وہابی کو اسکے اپنے گھر سے بہت سی شہادتیں دے دینگے جیسی ایک پہلے پیش کر دی گئی
  9. 1 like
    Asalamoalikum. Janab mashallah se 14.nov.2018 ko 11:18 am pe mery ghar beti ki wiladat hue hai .is he silsily main apni beti ka naam Aliza rakhna chahta ho kuch websites pe main ne parha hai k aliza hazrat ali ki beti ka naam hay kia yrh baat sahi hay ?pls jawab jald se jald inayat farmaye. Or sath main kuch mubarak islami naam bhi bata dain .jazak Allah
  10. 1 like
  11. 1 like
    امام طبرانی ؒ اپنی کتاب المعجم الکبیر میں با سند ایک روایت نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن یوں ہے 1052 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، ثُمَّ قَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ وَنُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، قَالَتْ: فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِكَ «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ نُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا فَهَلْ [ص:434] كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: «هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنُي، وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَنِي بَكْرٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ وَلَا تُعْلِمُ أَحَدًا، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُوهَا فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ مَا هَذَا الْجِهَازُ؟ قَالَتْ: وَاللهِ مَا أَدْرِي، قَالَ: مَا هَذَا بِزَمَانِ غَزْوِ بَنِي الْأَصْفَرِ فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، قَالَتْ: فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يَنْشُدُهُ: [البحر الرجز] يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا ... حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلُدَا إِنَّا وَلَدْنَاكَ فَكُنْتَ وَلَدًا ... ثَمَّةَ أَسْلَمْنَا فَلَمْ تَنْزَعْ يَدًا إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَ ... وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا وَزَعَمَتْ أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدًا ... فَانْصُرْ هَدَاكَ اللهُ نَصْرًا أَلْبَدَا وَادْعُ عَبَادَ اللهِ يَأْتُوا مَدَدًا ... فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ قَدْ تَجَرَّدَا أَبْيَضُ مِثْلُ الْبَدْرِ يُنَحِّي صُعُدًا ... لَوْ سِيمَ خَسَفَا وَجْهِهِ تَرَبَّدَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ، ثَلَاثًا، أَوْ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، ثَلَاثًا،» ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصِبٍ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّحَابَ لَيَنْتَصِبُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَنُصِرَ بَنِي عَدِيٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَ خَدُّكَ وَهَلْ عَدِيٌّ إِلَّا كَعْبٌ وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيٌّ، فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَاكَ السَّفَرِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ عَمِّ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً» ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ مَرْوَ وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ قَدْ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَأَشْرَفُوا عَلَى مَرْوِ فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ فَقَالَ: يَا بُدَيْلُ لَقَدْ أَمْسَكَتْ بَنُو كَعْبٍ أَهْلَهُ فَقَالَ: حَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ، ثُمَّ هَبَطُوا فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَسَأَلُوهُمْ أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَذَهَبُوا بِهِمْ فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْمِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ فَقَالَ: أَسْفِرُوا فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وُضُوءَهُ يَنْضَحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِمُلْكٍ وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ حضرت اُمّ المؤمنین میمونہؓ فرماتی ہیں انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کرتے ہوئے تین مرتبہ لبیک لبیک لبیک کہی اور تین مرتبہ نصرت نصرت نصرت (تمہاری امداد کی گئی) فرمایا۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میں نے آپؐ کو تین مرتبہ لبیک اور تین مرتبہ نصرت فرماتے ہوئے سنا جیسے آپ کسی انسان سے گفتگو فرما رہے ہوں۔ کیا وضو خانے میں کوئی آپ کے ساتھ تھا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ بنو کعب کا رِجز خواں مجھے مدد کے لئے پکار رہا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ قریش نے ان کے خلاف بنوبکر کی امداد کی ہے۔ تین دن کے بعد آپ ؐ نے صحابہ کو صبح کی نمازپڑھائی تو میں نے سنا کہ رِجز خواں اشعار پیش کررہاتھا حالانکہ وہ (عمر بن سالم راجز) اس وقت مکہ میں تھا اور قریش کی عہد شکنی پر اس نے حضور علیہ السلام سے فریاد کی۔بنو خزاعہ جو کہ حضور علیہ السلام کے صلح حدیبیہ کے بعد حلیف بنے اور بنو قریش کے حلیف بنے اور معاہدہ ہوا کہ دس سال تک جنگ نہ کریں گے قریش نے بد عہدی کی اور بنو بکر کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ کا قتل عام کیا اس وقت جناب راجز نے مکے میں ہی حضور علیہ السلام کو مدد کے لئے پکارا بعد ازاں حضور نے قریش پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہو گیا اور طرح ظاہری و باطنی امداد کا ظہور ہوا اس یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ نبی پاک سے تین دن کی دوری پر بھی مدد کے امداد مانگنے کے لیے نبی پاک کو پکارتے اور نبی پاک بھی اللہ کی عطا و طاقت سے انکی پکار سنتے بھی اور امداد بھی کرتے ۔۔ جس کو آج کل غیر مقلدین نے شرک سمجھ لیا ہے ۔ صحابہ کرام نے اسکو شرک نہ سمجھا اور نہ ہی نبی پاک نے انکو یہ عمل کرنے سے روکا بلکہ انکی امداد فرمائی !!! اس روایت کو امام طبرانی کے علاوہ ایک اور محدث نے بھی نقل کیا ہے ۔ جن کا نام ہے امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) وہ اس روایت کو اپنی سند سے نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن کچھ ایسے ہے 19 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ , قثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ مَيْمُوَنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاةِ فَسَمِعَتْهُ , يَقُولُ: " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلاثًا , أَوْ نُصِرْتَ نُصِرْتَ ثَلاثًا.بلخ۔۔۔۔۔۔ (الكتاب: العاشر من الفوائد من حديث المخلص برقم الحدیث 19) اس سند کے سارے راوی ثقہ ہیں اور اس سند میں کوئی ضعف نہیں ہے ۔ لیکن غیر مقلدین کے عقائد کے خلاف جو بھی روایت انکو نظر آئے تو یہ اسکو ضعیف یا موضوع بنانے سے بعض نہیں آتے ایسا ہی کچھ وہ اپنی ویب سائٹ پر اس روایت پر کیے ہوئے ہیں ۔ خیر میں انکی ایک ایک جرح یا علت جسکو وہ بیان کر کے اپنے مسلک کے سادہ لوگوں کو پاگل بناتے ہیں تحقیق کے نام پر ۔۔ اور وہ لوگ انکی کاپی پیسٹ تحقیق کو اٹھا کر اہلسنت پر ہنستے ہیں ۔۔۔ غیر مقلدین کے اعتراضات کا رد بلیغ ۱۔امام ہیثمیؒ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد رقم طراز ہیں کہ ''رواہ الطبراني في الصغير والكبير وفيه يحي سليمان بن نضلة وھو ضعيف'' (مجمع الزوائد :۶؍۱۶۴) ''اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الصغیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں یحییٰ بن سلیمان نامی راوی ضعیف ہے۔'' امام ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی اس راوی پر کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال : ۳؍۲۹۲ اور لسان المیزان :۶؍۲۶۱ ۲۔اس کی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ لایعرف(میزان الاعتدال :۳؍۸۳) یعنی یہ راوی مجہول ہے اور مجہول راوی کی روایت ضعیف کہلاتی ہے۔ ۳۔اس کی سند میں محمد بن نضلہ نامی راوی کے حالات کتب ِرجال سے نہیں ملتے لہٰذا یہ بھی کوئی مجہول راوی ہے۔ غیر مقلدین کی طرف سے پیش کیے گئے پہلے اعتراض کا جواب۔۔۔۔۔ امام ہیثمی نے یہاں سلیمان بن نضلة کو ضعیف کہہ دیا لیکن انکی حسب عادت کے خلاف انہوں نے یہاں کسی امام کا حوالہ نہ لکھا بلکہ بغیر کسی امام کی جرح لکھی انکو ضعیف کہہ دیا ۔ جبکہ کتب رجال میں جب آپ سلیمان بن نضلة کے بارے میں پڑھتے ہیں تو امام ابن صاعد انکے بارے میں فرماتے ہیں کہ انکا رتبہ بہت بلند و اعلیٰ تھا ۔ امام ابن حبان انکو الثقات میں درج کرتے ہیں اور لکھتے ہیں وھم بھی کر جاتا تھا ۔ (یہ کوئی جرح مفسر نہیں اور نہ ہی اس سے راوی ضعیف ہوتا ہے یہ بالکل ہلکی پھلکی بات ہے جس سے راوی حسن الحدیث درجے کا تو ضرور رہتا ہے ۔) اس راوی پر آ جا کر جرح ملتی ہے تو فقط ایک بندے سے جسکا نام ابن خراش ہے وہ کہتا ہے کہ یہ (سلیمان بن نضلة ) کسی ٹکے کا نہیں ہے پہلی بات یہ جرح کس بنیاد پر کی گئی اسکی وجہ معلوم نہیں اور یہ جرح کے کس درجے کی جرح ہے یہ بھی نہین لکھا غیر مقلدین نے۔ دوسری بات یہ جرح کرنے والا ابن خراش خود شیعہ رافضی اور کذاب ہے امام ذھبی سیر اعلام النبلاء میں اسکے ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں ابن خراش الحافظ ، الناقد ، البارع أبو محمد ، عبد الرحمن بن يوسف بن سعيد بن خراش ، المروزي ثم البغدادي وقال ابن عدي : قد ذكر بشيء من التشيع ، وأرجو أنه لا يتعمد الكذب وقال أبو زرعة محمد بن يوسف الحافظ : خرج ابن خراش مثالب الشيخين ، وكان رافضيا امام ذھبی اس پر امام ابن عدی اور ابو زرعہ کی طرف سے رافضی شیعہ اور کذب کی جرح لکھنے کے بعد اپنا فیصلہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں قلت : هذا معثر مخذول ، كان علمه وبالا ، وسعيه ضلالا ، نعوذ بالله من الشقاء (امام ذھبی کہتے ہیں )میں کہتا ہوں یہ بے یار و مددگار گروہ ہے انکا علم ایک وبال مصیبت ہے اور انکی کوشش گمراہی ہے ہم اللہ سے انکی بد بختی سے پناہ مانگتے ہیں ایسے شخص جو خود رافضی کذب بیانی کرنے والا ہو اسکی طرف سے کی گئی جرح سے ایک حسن الحدیث درجے کے راوی کو ضعیف مان لینا غیر مقلدین کا ہی مذہب ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا عتراض غیر مقلدین سے یہ ہے کہ اسکی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی مجہول ہے ۔ الجواب: اس راوی کی متابعت دوسرے راوی امام یحییٰ بن محمد بن صاعد نے کر رکھی ہے اور یہ راوی سلیمان بن نضلہ سے سماع کرنے والے ہیں او رحفاظ الحدیث میں سے ہیں ۔ امام خطیب بغدادی انکے ترجمے میں فرماتے ہیں 7489- يَحْيَى بْن مُحَمَّد بْن صاعد بْن كاتب أَبُو مُحَمَّد مولى أبي جَعْفَر المنصور كَانَ أحد حفاظ الحديث، وممن عُني بِهِ، ورحل فِي طلبه، وسمع: الْحَسَن بْن عيسى بْن ماسرجس، وَمُحَمَّد بْن سُلَيْمَان لوينًا، ويحيى بْن سُلَيْمَان بْن نضلة الخزاعي، (ج 16 ص 341) تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا ۔۔۔۔ تیسرا اعتراض: کہ اسکی سند میں محمد بن نضلہ کے حالات کتب رجال میں نہیں ملے لہذا یہ مجہول ہے الجواب: اس روایت کا ایک اور حوالہ امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) کی کتاب کا دیا ہے جس میں یہ راوی موجود ہی نہیں تو غیر مقلدین کا اس راوی کی توثیق کا مطالبہ کرنا ہی بیکار ہوا تیسری اہم بات غیر مقلدین سلیمان بن نضلة کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے فقط امام الہیثمی کا قول نقل کرتے ہیں ۔ اگر اس سند میں انکے علاوہ کوئی مجہول راوی ہوتا تو امام ہیثمی اسکا زکر پہلے کرتے پھر اس راوی کا ضعف بتاتے لیکن امام ہیثمی نے صرف ان کی ضعف کی طرف اشارہ کیا اور کسی راوی پر جرح نہیں کی یعنی انکے نزدیک طبرانی کی سند میں صرف ایک ضعف انکے نزدیک تھا کہ سلیمان بن نضلہ ضعیف ہے اور جبکہ اس پر جرح ہی مبھم ہے اور جرح کرنے والا خود رافضی ہے اور دوسرے راوی پر مجہو ل کا الزام لگایا جبکہ وہ صحابہ میں سے ہے اور اسکی دوسری سند میں یہ راوی ہی نہیں تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا اور یہ سند کم از کم حسن الحدیث درجے کی سند ہے ۔۔۔ وہابیہ کی ایک ویب سائٹ اسلامی ویب پر بھی اس سند کو حسن قرار دیا گیا ہے جس کا عکس تمام ثبوت کے اسکین کے ساتھ نیچے موجود ہے (((((((( دعا گو۔ رانا اسد فرحان الطحاوی الحنفی ✍️ 28 اگست 2018)))))
  12. 1 like
    Bhai sahib har Hadith ka zahiri mana nahin leeya jata ... urf mein shararti bachay ko ... yeh bara shaytan heh ... matlab shararti heh ... shaytan yehni Kafir Jinn aag say bana aur oonth aur tamam janwar parinday mitti say ... phir munasbat kahan huwi. Aur har Hadith Sahih bi nahin hoti.
  13. 1 like
  14. 1 like
  15. 1 like
    Imam al-Bayhaqi (rah) has also reported another version of the above narration through a different channel of transmission. وقد أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن محمد بن الحسين بن فنجويه الدينوري بالدامغان ثنا أحمد بن محمد بن إسحاق السني أنبأ عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي ثنا علي بن الجعد أنبأ بن أبي ذئب عن يزيد بن خصيفة عن السائب بن يزيد قال كانوا يقومون على عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه في شهر رمضان بعشرين ركعة قال وكانوا يقرؤون بالمئين وكانوا يتوكؤن على عصيهم في عهد عثمان بن عفان رضي الله عنه من شده القيام Sa'eeb bin Yazeed who said: "In the time of Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him), they would perform “20 rak'ahs” (Tarawih) in the month of Ramadan. He said (also): And they would recite the Mi'in, and they would lean on their sticks in the time of Uthman ibn Affan (Allah be pleased with him), from the discomfort of standing." [Bayhaqi Sunan al-Kubra Volume 002, Page No. 698-9, Hadith Number 4617] Imam al-Nawawi said: 'Its Isnad is Sahih'. (بإسناد صحيح) [Al-Khulasa al-Ahkam, Hadith Number 1961] نجدیوں کی اپنے گھر کی دلیل ٢٠ رکعت تراویح خلفائے راشدین کے زمانے سے چلی آرہی ہیں ... لگاؤ
  16. 1 like
    Janab Hadith ka aik hissa pesh keeya dosra nahin. Hadith ka sayaq o sabaq heh ... hijrat aur shadi ... aur phir kaha gaya kay amaal ka talluq niyatoon par heh ... yehni woh amaal joh ibadat hoon ... ya joh amaal Shariat mein jaiz hoon ... in sab ka daro madaar niyat par heh. Agar niyat raza illahi wasteh kee toh sawab paya aur nah keeh toh kuch nahin ... joh juraim hoon, chori, zina, qatal, gustakh e Ambiyah, waghayra ... in ka talluq niyat say nahin balkay amal say heh. Abh menh tummen kutteh ka bacha kahoon aur kahoon meri niyat yeh thi kay tum wafadar insan kay bachay ho toh kia tum maan loh gay? Joh masail shar'ah mein jaiz hen aur sabat hen aur achay hen in ka talluq niyat say heh ... agar namaz pari aur niyat ibadat nah keeh balkay is wasteh keeh kay Abba dekh raha heh ... chalo dramahi tor par Sajdeh deh loh ... yeh Ibadat nahin hogi ... ibadat ussee waqt hogi jab Allah ki ibadat ki niyat say ibadat karo gay toh. Joh Allamah Kazmi Sahib rahimullah nay likha heh ... aap ki samaj say bahir heh ... woh bilqul tumaray Deobandiat ka radd karti heh ... likha kia heh aur samja kia heh ... Urdu bi parnay aur samajnay say pedal lagtay ho.
  17. 1 like
    امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی گستاخی تو نہ نکلی تھانوی کی اس گستاخی کے بارے میں کیا خیال ہے؟
  18. 1 like
    خانہ کعبہ بعض اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جاتا ہے خانہ کعبہ شریف کا بعض اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جانا کرامت کے طور پر جائز ہے ۔ فقہاء علیہم الرّحمہ نے بھی اسکی تائید کی ہے ۔ چنانچہ امام حصکفی رحمتہ اللہ علیہ متوفیٰ 1088ھ در مختار مین فرماتے ہیں کہ مفتی جن و انس امام نسفی رحمۃ اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ سنا ہے خانہ کعبہ اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جاتا ہے ، کیا یہ کہنا شرعاً جائز ہے ؟ امام نسفی علیہم الرّحمہ نے فرمایا (خرق العادۃ علی سبیل الکرامۃ لا ھل الولایۃ جائز عند اھل السنۃ) یعنی۔ خرق عادت کرامت کے طور پر اولیاء اللہ کے لیئے اہلسنت کے نزدیک جائز ہے ۔ (الدُّرُّ المختار کتاب الطلاق صفحہ نمبر 253) مفتی بغداد امام سیّد محمود آلوسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کعبۃ اللہ بعض اولیاء اللہ کی زیارت کو جاتا ہے اور یہ اہلسنت کے نزدیک جائز ہے ۔ (تفسیر روح المعانی جلد 13 صفحہ 14 امام آلوسی رحمۃُ اللہ علیہ ) امام غزالی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جن کا طواف بیت اللہ کرتا ہے ۔ (احیاء العلوم جلد اوّل صفحہ 450 ) مشہور دیوبندی عالم علامہ محمد زکریا کاندہلوی صاحب لکھتے ہیں : بعض اللہ والے ایسے ہوتے ہیں کہ خود کعبہ ان کی زیارت کو جاتا ہے،(فضائل حج صفحہ 93 دارالاشاعت) حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی صاحب بوادر النوادر میں یہی بات لکھتے ہیں بشکریہ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
  19. 1 like
    Aslam o alikum..mje ye poochna hy k pay diamond conmpany k sath kaam krna kesa hy ku k is me network marketing b shaamil hy or company diamond minning ka business krti hy jis ki base pr hmein b 50 weeks tk profit milta rehta hy..me is chez k bary me fatwa b chahta hu is company or network marketing ka or mje ye b btaein k ye halaal hy ya haraam...shukriya
  20. 1 like
  21. 1 like
    دیوخانی فرقے کی بدعت نماز عیدین و خطبہ کے بعد دعا خود ان کے اصولوں و قواعد سے
  22. 1 like
    ترجمانی:اسعد اعظمی.بنارس ڈاکٹر موسیٰ موسوی نجف کے رہنے والے اور ایک بڑے شیعی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ۱۹۳۰ء ؁ میں پیدا ہوئے، خالص شیعی خاندان اور شیعی ماحول میں رہنے کے باوجود موجودہ شیعیت سے وہ بیزار رہتے تھے، وہ شیعہ اور حقیقی تشیع یا شیعیت کے مابین فرق اور بڑا فاصلہ مانتے تھے۔ اس لیے انہوں نے موجودہ تشیع کی اصلاح کی تحریک چلا رکھی تھی، انہوں نے ’’الشیعۃ والتصحیح: الصراع بین الشیعۃ والتشیع‘‘ کے نام سے عربی زبان میں ایک مختصر کتاب لکھی اور رائج الوقت شیعی عقائد پر نقد کرتے ہوئے ان میں اصلاح کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ان کے دادا مشہور شیعی زعیم امام اکبرسید ابو الحسن موسوی نے ابتداء یہ تحریک شروع کی تھی، اور تمام تر مخالفت کے باوجود اسے جاری رکھا تھا، ڈاکٹر موسیٰ موسوی نے بھی اس کام کو اور منظم کیا اور اس مقصد کو آگے بڑھایا۔ اس کتاب میں ڈاکٹر موسیٰ نے ’’ضرب القامات فی یوم عاشوراء‘‘کے عنوان سے پانچ صفحات میں گفتگو کی ہے، جس میں انہوں نے تعزیہ داری اور ماتم ومرثیہ خوانی وغیرہ کی مختصر تاریخ بیان کرنے کے بعد لکھاہے کہ: ہمیں تعیین کے ساتھ یہ معلوم نہیں کہ ایران وعراق کے شیعی علاقوں میں عاشوراء کے دن سینہ کوبی اور زنجیروں سے ضرب لگانے کی شروعات کب ہوئی۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دسویں محرم کو شہادت حسین کے غم میں سروں پر تلواریں مارنے اور اپنے کو لہولہان کرنے کی رسم ہندوستان سے ہی ایران وعراق میں آئی ہے، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب انگریز ان ممالک پر حکومت کررہے تھے، انگریزوں ہی نے شیعوں کی جہالت، سادہ لوحی، اور امام حسین سے ان کی غلو آمیز محبت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو سر پھٹول کی تربیت دی۔ ماضی قریب تک تہران اور بغداد میں موجود برطانوی سفارت خانے ان حسینی جلوسوں کی مالی امداد کرتے تھے جو سڑکوں اور گلی کوچوں میں اس بھیانک منظر کے ساتھ نمودار ہوتے تھے، انگریز اپنی سامراجی سیاست کے تحت اس وحشیانہ کاروائی کو اس لیے بڑھاوا دے رہے تھے تاکہ برطانوی عوام اور سامراج مخالف اخبارات و جرائد کو ہندوستان اور دیگر اسلامی ممالک پر اپنے قبضہ کا جواز پیش کریں، اور ان ممالک کے باشندوں کو ایسی وحشی قوم کی شکل میں پیش کریں جسے ایک ایسے سرپرست کی ضرورت ہے جو اسے جہالت اور درندگی کے دلدل سے نکالے، چنانچہ عاشوراء کے دن جب سڑکوں پر ماتمی جلوس چلتے اور اس میں شامل ہزاروں لوگ زنجیروں سے اپنی پیٹھوں پر ضرب لگاتے اور خون میں لت پت ہوتے، اپنے سروں کو ڈنڈوں اور تلواروں سے لہولہان کرتے تو ان تمام مناظر کی تصویریں انگریزی او ریورپی اخبارات میں شائع کی جاتیں، اور سامراجی آقا بڑی خوبصورتی کے ساتھ یہ دلیل پیش کرتے کہ دیکھو ہم محض انسانی فریضہ کی ادائیگی کے لئے ان ممالک میں ڈیرہ ڈالے ہیں جن کے باشندوں کی یہ تہذیب ہے، ان قوموں کو تمدن اور ترقی کی راہ پر لگانے کی خاطر ہمارا قیام وہاں ضروری ہے۔ ڈاکٹر موسیٰ موسوی مزید لکھتے ہیں: بیان کیا جاتا ہے کہ عراق پر برطانوی قبضے کے زمانہ میں اس وقت کے عراقی صدر یاسین ہاشمی عراق سے برطانوی حکومت کے خاتمہ کے متعلق گفت و شنید کے لیے جب لندن گئے تو انگریزوں نے ان سے کہاکہ ہم تو عراق میں محض عراقی عوام کی مدد کے لئے ہیں تاکہ وہ ترقی سے بہرہ ور ہو اور وحشت وبربریت سے باہر نکلے۔ اس بات سے یاسین ہاشمی بھڑک اٹھے اور ناراض ہوکر مذاکرات والے کمرے سے باہر نکل آئے، مگر انگریزوں نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ان سے معذرت کی اور بصد احترام ان سے درخواست کی کہ عراق سے متعلق ایک دستاویزی فلم مشاہدہ کریں، ان کو جو فلم دکھائی گئی وہ نجف، کربلا اور کاظمیہ کی سڑکوں پر چلنے والے حسینی (ماتمی) جلوسوں کی تھی جن کے لاٹھیوں اور زنجیروں کی مار دھاڑ کے خوفناک اور نفرت انگیز مناظر فلمائے گئے تھے۔ گویا انگریز عراقی صدر سے یہ کہنا چاہتے تھے کہ آپ ہی بتائیں معمولی تہذیب و تمدن والی بھی کوئی قوم اپنے آپ ایسا کر سکتی ہے؟ ڈاکٹر موسیٰ موسوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ شام کے ایک بڑے شیعہ عالم سید محسن امین عاملی نے ۱۳۵۲ ؁ھ میں اس ماتمی حرب و ضرب اور اس سے متعلقہ اعمال کو حرام ٹھہرایا اور اپنی بات کو انہوں نے بڑی صراحت اور بے مثال جرأت کے ساتھ کہا اور شیعوں سے اس طرح کے کاموں کو چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا۔ مگر علماء اور مذہب کے قائدین نے ان کی سخت مخالفت کی اور اپنے ساتھ بے لگام عوام کو بھی ملالیا۔ ان کی اصلاحی کوششیں خاک میں ملنے کے قریب تھیں، مگر ہمارے دادا سید ابوالحسن شیعہ جماعت کے اعلیٰ رہنما کی حیثیت سے ان کی اصلاحی تحریک کے مؤید ہوگئے اور ان کے فتویٰ کی مکمل طور سے تائید کا اعلان کیا۔ ان حضرات کی مخالفت ہوتی رہی مگر سید ابوالحسن کے مقام ومرتبہ اور رعب ودبدبہ کی وجہ سے مخالفت کا زور کم ہوا اور عوامی پیمانے پر سید ابوالحسن کے فتویٰ کو مقبولیت حاصل ہوئی اور دھیرے دھیرے ان رسوم میں بڑی کمی آگئی، ہمارے دادا جب ۱۳۶۵ ؁ھ میں وفات پاگئے تو بعض نئی قیادتوں نے ان کاموں پر لوگوں کو دوبارہ ابھارنا شروع کیا، اور دھیرے دھیرے اس میں تیزی آتی گئی، پھر بھی ۱۳۵۲ ؁ھ کے پہلے جیسی پوزیشن پر نہیں لوٹ سکی۔ موسوی صاحب نے اس مقام پر عبرت و موعظت سے پر ایک واقعہ بھی ذکر کیا ہے، لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ محرم کی دسویں تاریخ کو بارہ بجے دن میں میں کربلا میں امام حسین کے روضہ کے قریب کھڑا تھا، ایک مشہور بزرگ شیعہ عالم بھی میرے قریب کھڑے تھے، اتنے میں ماتم کرنے والوں کا ایک جلوس حضرت حسین پر ماتم کرتے ہوئے تلواروں سے اپنے سروں کو لہولہان کیے روضہ حسین میں داخل ہوا، اس جلوس میں شریک لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں پر خون بہے جارہے تھے، یہ بڑا ہی نفرت آمیز اور رونگٹے کھڑا کر دینے والا منظر تھا۔ پھر ایک دوسرا جلوس بھی آ پہنچا، یہ لوگ بھی زنجیروں سے اپنی پیٹھوں پر ضرب لگا لگا کر لہولہان کئے ہوئے تھے۔ یہ سب منظر دیکھ کر وہ بزرگ شیعی عالم مجھ سے پوچھتے ہیں: کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اوپر مصائب وآلام کے پہاڑ توڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا: آپ سن نہیں رہے ہیں؟ یہ لوگ ’’واحسیناہ‘‘ کہہ رہے ہیں، یعنی حضرت حسین کا ماتم کررہے ہیں۔ پھر بزرگ عالم نے دوبارہ فرمایا: ألیس الحسین الآن فی ’’مقعد صدق عند ملیک مقتدر‘‘؟ کیا حضرت حسین اس وقت قدرت والے بادشاہ (اللہ رب العزت) کے پاس مجلس حق (یعنی جنت) میں نہیں ہیں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے دوبارہ سوال کیا: کیا حضرت حسین اس لمحہ اس جنت میں نہیں ہیں ’’التي عرضہا کعرض السماوات والأرض أعدت للمتقین‘‘ جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے، اور جو متقیوں کے لئے بنائی گئی ہے؟ میں نے کہا: بالکل! ان کا اگلا سوال تھا کہ کیا جنت میں ’’حور عین کأمثال اللؤلؤ المکنون‘‘ بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں نہیں ہیں جو چھپے ہوئے (محفوظ) موتیوں کی طرح ہیں؟ میں نے کہا :کیوں نہیں! اس موقع پر وہ لمبی سانس لیتے ہیں اور انتہائی درد بھرے لہجے میں فرماتے ہیں: بربادی ہو ان نادانوں اور کم عقلوں پر، یہ لوگ ایسی حرکتیں کیوں کر رہے ہیں! کیا اس امام کے واسطے کر رہے ہیں جو اس وقت جنت اور نعمت میں محظوظ ہورہے ہیں، ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے آبخورے اور جگ لے کر اور ایسا جام لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے پر ہو آمدورفت کر رہے ہیں۔ (یطوف علیہم ولدان مخلدون بأکواب وأباریق وکأس من معین)انتہی۔
  23. 1 like
    یوٹیوب پر ایک غیر مقلد وھابی نجدی کا کلپ دیکھا جس میں وہ مسجد نبوی شریف کے صحن میں بیٹھ کر ایک اشتہار لوگوں کو دکھا رہا ہے کہ دیکھو اس اشتہار میں غوث پاک کے نناوے نام لکھے ہیں اور لکھا ہے کہ ان ناموں کے ورد سے برکت ہوتی ہے مصیبتیں دُور ہوتی ہیں وغیرہ پھر کہتا ہے کہ حدیث میں ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کے نناوے نام پڑھنے سے برکت ہوتی ہے غوث پاک کے نام میں کیا برکت ہوسکتی ہے؟یہ شرکیہ عقیدہ ہے۔ آئیے آپ کو ایک حوالہ دکھاتے ہیں کہ اہل بیت اطہار کے ناموں میں کیا برکت ہے اہل بیت اطہار بھی تو خدا نہیں ہیں ،یہ بھی تو بزرگ ہیں۔ قارئین بتائیں کہ کیا اس میں شرک کی تعلیم ہے ؟ بزرگوں کا نام لینے سے مجنون ٹھیک ہوجائے لیکن وھابیوں کا یہ حال ہے کہ بزرگوں کا نام لینے سے ان کا پاگل پن بڑھ جاتا ہے۔
  24. 1 like
    Islami Mehfil ki aik Member Islami Bhan IQRA k walid e Mohtaram ka Intiqal ho gaya hai. انا للہ وانا الیہ راجعون Tamam Members say Madani Iltija hai k Wo In k walid Sahib k liye Dua e Magfirat b karain aur esal e Sawab ki b tarkeeb banain aur yahan is thread main submit karwatay jain.... Jazakumullahu khaira Was'salam ma'alikram
  25. 1 like
    جان برادر تجربات کے لئے سند نہیں مانگی جاتی۔ابلیس جیسا چور بھی آیت الکرسی کی فضیلت بیان کرے تو صحابی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو بھی کریڈٹ دیتے ہیں۔مشکوٰۃ فضائل القرآن میں ہے۔ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو من الطَّعَام فَأَخَذته وَقلت وَالله لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَة مَا فعل أسيرك البارحة» . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ» . فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ سيعود» . فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ لَا أَعُودُ فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذبك وَسَيَعُودُ» . فرصدته الثَّالِثَة فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُول الله وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ إِنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ ينفعك الله بهَا قلت مَا هُوَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ من الله حَافظ وَلَا يقربنك شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ: زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَات يَنْفَعنِي الله بهَا فخليت سبيلهقال النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أما إِنَّه قد صدقك وَهُوَ كذوب تعلم من تخاطب مُنْذُ ثَلَاث لَيَال» . يَا أَبَا هُرَيْرَة قَالَ لَا قَالَ: «ذَاك شَيْطَان» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
  26. 1 like
    کسی بھی چیز یا کسی بھی کام کرنے سے پہلے اللہ عزوجل کا نام لینےیا اس کا کلام پڑھنے سے اس میں برکت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ عزوجل کا نام مبارک برکت والا ہے۔
  27. 1 like
    جناب منہاجی صاحب بدزبانی دلائل کی قائم مقام نہیں ہوتی۔آپ نے خود پوسٹ لگادی ہے جس میں آقا لکھنے اور آقا ماننے کے الفاظ موجود ہیں۔ اور ہماری سابقہ پوسٹوں کو بھی آپ نہیں پڑھتے بس زبان درازی کوآپ نے علمی بحث سمجھا ہواہے۔آپ دلائل کاجواب دینا توکیا،ان کوچھوتے تک نہیں۔ کبھی کہانی کا نام دے کر سمجھتے ہیں کہ جواب ہوگیا۔ کبھی تفصیل کو چھوڑ کر اجمال کو پیش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جواب ہوگیا۔ یہ ذہنی پراگندگی جواب نہیں کہلاتی۔آپ کا قائد ترجمہ کرتا ہے تووہ اپنی کتاب میں اس موضوع کی تفصیل دے جاتا ہے اور اس کا ترجمہ اس تفصیل کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے۔ آپ کا شیخ الاسلام کہتا ہے کہ میں اتنے سال تک عالم خواب میں امام اعظم کا شاگرد رہاہوں۔9سال یا 15،20سال؟آپ اپنے شیخ کے تضاد دور کریں۔یہاں اجمال اورتفصیل کی بات بھی نہیں ہوسکتی۔اب دیکھتے ہیں کہ آپ کیا کہانی بناتے ہیں۔۔ملاحظہ ہو:۔ https://www.youtube.com/watch?v=zWLumAQ5Y74
  28. 1 like
    The post Powerful Speech by QAIDE AHLE SUNNAT SHAH AHMAD NOORANI SIDDIQUI RA appeared first on SunniSpeeches. View the full article
  29. 1 like
    آپ دونوں حضرات سے گزارش ہے کہ دونوں اخلاق کے دائرے میں رہ کر گفتگو کریں اور اچھی زبان کا استعمال کریں
  30. 1 like
    Salam alayqum. Maulana has written no such book. There is a speech in Urdu with similar name and it should be available on youtube. Yeh kitab dekhen Shia kay mutaliq: http://books.nafseislam.com/read-book.php?book_id=541&book=mazhab-e-shia
  31. 1 like
    غیر مقلد اس فتوی پر کیا اعتراض رکھتا ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں اپنا دعوی ثابت کرے نا اس صورت میں بیوی کیوں حرام ہوجائے گی ؟ غیرمقلدوں کو ذرا بھی حیا نہیں، بات بات پر بیوی حرام کرانے پر کیوں تل جاتے ہیں؟؟۔،۔
  32. 1 like
  33. 1 like
  34. 1 like
    فروعی مسئلہ کی بحث میں پڑنا اپنا وقت ضائع کرنا ہے۔
  35. 1 like
  36. 1 like
    Abu. Izrael: Ye Aap logoon ki Ghalat Fahmi. Apni Usool Ki kitaboon say Sirf Quran Pak ki ayaat per apna Emaan hi sabit kardo ye bhi Bari baat hay.
  37. 1 like
    ویسے قادری بھیا یہ کیا فارمولا ہے ہم لنکس دیں تو وہ حذف ہوجائے اور خود دو تو کوئی حرج نہیں محدث فورم اور اردو مجلس میں کیا فرق ہے ذرا واضح کردو ویسے اوپر پوری عبارت اردو مجلس اور محدث فورم کی ہی ہے عجیب منطقیں ہیں ایڈمنسٹریشن کی؟
  38. 1 like
  39. 1 like
    اسعدک اللہ فی الدارین: محترم اگر اسی طرح تمام پاروں کا لنک مل جائے تو کرم نوازی
  40. 1 like
    Har Kafir Badmazhab Hai Lakin Har Badmazahb Kafir Nahi.... Kafir...Zaruruyat E Deen K Munkir Ko kahete Hai Bad mazhab ...Zaruriyat E Ahele Sunnat K Munkir Ko Kahete Hai
  41. 1 like
    Urdu fonts are useful to write articles. It is good method to download urdu fonts from net.
  42. 1 like
    وہابی جاہل ہیں اس لیے ایسے اعتراضات کرتے ہیں۔۔مختصر جواب اس مضمون میں موجود ہے ۔ملاحظہ کیجیے
  43. 1 like
  44. 1 like
    سبحان اللہ ،ماشاء اللہ ۔جزاک اللہ خیرا۔ وہابیوں کے امام اسماعیل دہلوی نے لکھا کہ کنجی جس کے ہاتھ میں ہوتی ہے قفل بھی اسی کے ہاتھ ہوتا ہے کہ جب چاہے کھولے اور جب چاہے بند کر دے ملخصا [تقویتہ الایمان ]۔ تو جب ان احادیث سے یہ ثابت ہو گیا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو کنجیاں عطا کی گہں ہیں تو ثابت ہوا کہ اختیار و تصرف بھی دیا گیا۔کہ باذن الہی جب بھی چاہیں جس کو جو مرضی ہو تقسیم فرمایں۔۔۔۔سبحان اللہ عزوجل مذکورہ بالا مضمون میں سورۃ کوثر کی آیت کوڈ کی گہی ہے تو یاد رہے کہ انا اعطینک الکوثر میں کوثر سے مراد صرف حوض کوثر نہیں بلکہ خیر کثیر مراد ہے اور خیر کثیر میں حوض کوثر بھی شامل ہے ۔۔جیسا کہ اس آیت کی تفسر میں بخاری شریف میں بھی یہی لکھا ہے اور دیگر متعدد مفسرین کرام نے بھی اس سے مراد خیر کثیر ہی لیا ہے ۔ لہذا وہابیوں کا یہ عقید ہ کہ اللہ نے نبی کو بے اختیار بنایا ہے اور ان کو بتوں کی طرح بے اختیار قرار دینا ۔۔جہالانہ عقیدہ ہے ۔۔۔۔۔۔ نامعلوم وہابیوں کو یہ احادیث نظر کیوں نہیں آتیں ؟؟
  45. 1 like
    Facebook pe la deenyat bohat sar utha rahi he jis ke muqable ke liye aese software ki bohat zarorat thi. lekin har zarorat yahan se puri nahi ho pati plz is trah ke dosre softwares jin me text form me books hon or search options ke sath copy paste kar satke hon pls share karen. jese Dawateislami ka fatawa razawiyyah software. etc. radde badmazhab ke hawale se kuttub ki ashad zarurat he jin se mjh jese kam ilam bhi faida utha saken.
  46. 1 like
  47. 1 like
    ماشاءاللہ عزوجل انشاء اللہ کل اس پر ویڈیو بنا کر یوٹیوب پر بھی اپ لوڈ کردوں گاء اور خوش آمدید بھی
  48. 1 like
  49. 1 like
  50. 1 like
    piari sisters qufle Madinah aur umme anwar raza ..aap dono sisters ka bohat bohat shukria kah aap nai mujh gunahgaar ki request pai esale sawab kia ... ALLAH aap ko bohat bohat bohat jazaye khair ata farmaye AMEEN..aur Qufle Madinah bahan aap ka bohat bohat shukria aap nai mairay liye request ki