Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 01/21/2019 in all areas

  1. 2 likes
  2. 2 likes
    حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مخالف نہیں۔ کیونکہ حضرت علی کے اس قول میں حجر اسودکے بروز قیامت گواہی دینے کا ذکر ہے ظاہر ہے جو مسلمان جیسا عمل کرے گا ویسی ہی گواہی ملے گی ،اگر نیک عمل ہوگا تو حجر اسود کی گواہی پر بروز قیامت فائدہ اٹھائے گا اور اگر برا عمل ہوگا تو نقصان اٹھائے گا۔
  3. 2 likes
    حدیث پاک میں صبی کے الفاظ ہیں جو کم سن کو ظاہر کرتے ہیں۔
  4. 2 likes
    مسجد میںقربانی کی کھال، زکوٰۃ، خیرات اور صدقہ لگتا ہی نہیں مسجد میں نیک کمائی سے مدد کرسکتے ہیں بدمذہب کو چندہ دینا بد مذھبیت کو پھیلانا ہے۔ واللہ ورسولہ اعلم
  5. 2 likes
    Wa Alikum salam.. Hazrat mery naqis ilam k mutabiq ye Wahabiyon ki bohat moutbar website hy.. Social media pe Aksar wahabi isi website k andhy muqallid hain.
  6. 1 like
    اس کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں امام ذہبی کے حوالے سے لیکن جناب نے یہاں وہابی تحقیق پیش کی ہے تو جواب بھی وہابی سے دیتے ہیں۔ زئی اس روایت کے کہتا ہے: أبو حفص و كلثوم عن أبى غادية قال… . فقيل قتلت عمار بن ياسر و أخبر عمرو بن العاص فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أن قاتله و سالبه فى النار“إلخ [طبقات ابن سعد 261/3 و اللفظ له، مسند احمد 198/4، الصحيحة 19/5 ]اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا:وهٰذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم… .عر ض ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قاتله و سالبه فى النار والی روایت بھی صحیح ہے۔ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :فقيل… . إلخ پس کہا گیا کہ تو نے عمار بن یاسر کو قتل کیا اور عمرو بن العاص کو یہ خبر پہنچی ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”بے شک اس (عمار ) کا قاتل اور سامان لوٹنے والا آگ میں ہے۔ “اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا راوی فقيل کا فاعل ہے جو نامعلوم (مجہول) ہے۔ راوی اگر مجہول ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ في الناروالی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے۔ ”إسنادہ صحیح“ نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ سے روایت دو راوی بیان کر رہے ہیں :➊ ابوحفص : مجہول۔➋ کلثوم بن جبر : ثقہ۔امام حماد بن سلمہ رحمہ الله نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں ؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔خلاصہ التحقیق : یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح کہنا غلط ہے۔ ۔۔۔ اس بات کا حوالہ پہلے چکا ہوں لیکن پھر وہی بات پوسٹ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اس روایت میں محشی نے خود بتایا ہے کہ اسے ایک راوی کا ترجمہ و توثیق نہ مل سکی اور ایک راوی کی توثیق دینا بھی بھول گیا ہے خود دیکھ لو اپنے پوسٹر میں ہم نے نشان دہی کر دی ہے۔ ارے میاں کسی کا قول نقل کرنا لازمی نہیں ہوتا ہے کہ وہ بات ان کے نزدیک حجت ہو۔ باقی امام ابن معین کے قول کی دلیل بھی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سند ہے اور نہ ہی امام ابن معین جنگ صفین میں تھے کیونکہ وہ ان سے ایک صدی بعد پیدا ہوئے اس لیے ایسے اقوال کے بارے میں امام شعبہ اور امام ابن مبارک کا قول پیش کر چکا ہوں اس لئے مزید اس طرح اقوال پیش کرنے سے گریز کریں جن نہ سند ہوتی ہے اور نہ دلیل ہوتی ہے۔
  7. 1 like
    اس کتاب کا حاشیہ حمدی عبدالمجید سلفی نے لکھا ہے اس نے بھی وہی حوالہ دیا ہے امام ہیثمی کا اس نے بھی نئی کوئی بات نہیں کی۔ امام ہیثمی کی بات کا جواب اوپر ہو چکا ہے کیونکہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے اور یہ صحیح حدیث کے رجال میں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثقہ ہے۔
  8. 1 like
    یہی تو آپ سے سوال ہے کہ جب زئی نے تینوں روایات کو ضعیف قرار دیا ہے تو پھر قاتل کہنے میں کوئی سی صحیح روایت پیش کی ہے جب زئی کا حوالہ یہ ہے تینوں روایات کو ضعیف کہنے میں کیا ابو الغادیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوزخی ہیں؟ تھے؟ سوال : ایک روایت میں آیا ہے کہ قاتل عمار وسالبه فى النار عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے۔ شیخ البانی رحمہ الله نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھئے : [السلسلة الصحيحة 18/5۔ 20 ح 2008 ] یہ بھی ثابت ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو جنگِ صفین میں ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ نے شہید کیا تھا۔ دیکھئے : [مسند احمد 76/4 ح 16698 و سنده حسن ] کیا یہ صحیح ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ دوزخی ہیں ؟ (حافظ طارق مجاہد یزمانی) الجواب : الحمدلله رب العالمين و الصلوٰةوالسلام عليٰ رسوله الأمين، أما بعد : جس روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے، اس کی تخریج و تحقیق درج ذیل ہے : ① ليث بن أبى سليم عن مجاهد عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه… . إلخ [ ثلاثةمجالس من الامالي لابي محمد المخلدي 1/75۔ 2، السلسلة الصحيحة 18/5، الآحادو المثاني لابن ابي عاصم 102/2 ح 803 ] یہ سند ضعیف ہے۔ لیث بن ابی سلیم جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے، ◈ بوصیری نے کہا: ضعفه الجمهور ” جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔“ [ زوائد ابن ماجه : 208، 230 ] ◈ابن الملقن نے کہا: وهو ضعيف عند الجمهور ” وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ “ [خلاصة البدر المنير : 78، البدر المنير : 104/2 ] ◈ امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا : ضعيف كوفي [ كتاب الضعفاء : 511 ] ② المعتمر بن سليمان التيمي عن أبيه عن مجاهد عن عبدالله بن عمرو رضى الله عنه … إلخ [المستدرك للحاكم 387/3 ح 5661 وقال الذهبي فى التلخيص : عليٰ شرط البخاري و مسلم ] یہ سند سلیمان بن طرخان التیمی کے عن کی وجہ سے ضیف ہے۔ سلیمان التیمی مدلس تھے، دیکھئے جامع التحصیل [ ص106] کتاب المدلسین لا بی زرعۃ ابن العراقی [ 24] اسماء من عرف بالتدلیس للسیوطی [ 20] التبیین لأسماء المدلسین للحلبی [ ص29] قصیدۃ المقدسی و طبقات المدلسین للعسقلانی [ 2/52] ◈ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا : كان سليمان التيمي يدلس ” سلیمان التیمی یدلیس کرتے تھے۔“ [ تاريخ ابن معين، رواية الدوري : 3600 ] امام ابن معین کی اس تصریح کے بعد سلیمان التیمی کو طبقۂ ثانیہ یا اولیٰ میں ذکر کرنا غلط ہے بلکہ حق یہ ہے کہ طبقۂ ثالثہ کے مدلس ہیں لہٰذا اس روایت کو ”صحیح علیٰ شرط الشیخین“ نہیں کہا جا سکتا۔ ③ أبو حفص و كلثوم عن أبى غادية قال… . فقيل قتلت عمار بن ياسر و أخبر عمرو بن العاص فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أن قاتله و سالبه فى النار“إلخ [طبقات ابن سعد 261/3 و اللفظ له، مسند احمد 198/4، الصحيحة 19/5 ] اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا: وهٰذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم… . عر ض ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قاتله و سالبه فى النار والی روایت بھی صحیح ہے۔ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فقيل… . إلخ پس کہا گیا کہ تو نے عمار بن یاسر کو قتل کیا اور عمرو بن العاص کو یہ خبر پہنچی ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”بے شک اس (عمار ) کا قاتل اور سامان لوٹنے والا آگ میں ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا راوی فقيل کا فاعل ہے جو نامعلوم (مجہول) ہے۔ راوی اگر مجہول ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ في النار والی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے۔ ”إسنادہ صحیح“ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ سے روایت دو راوی بیان کر رہے ہیں : ➊ ابوحفص : مجہول۔ ➋ کلثوم بن جبر : ثقہ۔ امام حماد بن سلمہ رحمہ الله نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں ؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔ خلاصہ التحقیق : یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح کہنا غلط ہے۔ (توضیح الاحکام ج 2 ص 477) اب زئی نے یہاں تینوں روایات کو ضعیف قرار دیا ہے تو حضرت ابوالغادیہ کے قاتل ہونے پر کون سی صحیح سند پیش کی ہے جب کہ ضعیف روایات خود زئی کے لئے حجت نہیں اوپر حوالہ دے چکا ہوں خود اسی کے اصول سے اس کے موقف کا رد کیا ہے۔
  9. 1 like
    ایک بات سات کتابوں میں لکھی ہوئی ہے اسی بات کا ہم کئی بات تحقیقی رد کر چکے ہیں جن کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ارے میاں ایک ضعیف روایت ساتھ تو کیا لاکھ کتب میں ہو وہ ضعیف رہتی ہے اور وہ ایک ہی حوالہ رہتا ہے باقی اس کو کتب میں نقل کرنے سے نئی روایت نہیں بن جاتی۔ الحمدللہ جناب نے کوئی بھی نئی بات نہیں کی وہی پرانی روایت پیش کی جن کا ہم پہلے جواب دے چکے ہیں لیکن اب کی بار کتب اور تھیں لیکن روایت وہی پرانی تھی۔ لگتا ہے یہی ضعیف روایت ہی جناب کی کل کائنات ہے۔ جناب کے تمام دلائل کا رد کیا جا چکا ہے کوئی نئی بات ہو تو کریں پرانی روایات کو کتب بدل بدل کر پیش نہ کریں کیونکہ ان کاجواب پہلے ہو چکا ہے۔ شکریہ
  10. 1 like
    ارے جناب یہ کوئی نیا حوالہ نہیں وہی پرانی روایت ہے لیکن اس میں ہم نے پہلے نشان دہی کر دی تھی کہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے لیکن جناب اس کا جواب نہیں دیا پھر اسے دوبارا پوسٹ کر دی ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ یہ نیا حوالہ ہے ارے میاں پوسٹر بنانے سے پہلے پڑھ بھی لیا کرو غور سے۔ اب جناب آپ پر لازم ہے اس راوی کی توثیق پیش کریں جمہور ائمہ اہل سنت سے؟؟
  11. 1 like
    پھر وہی پرانی روایت پوسٹ کر دی بس اب کی بار البانی آگیا ہے روایت وہی ہے جس کا ہم پہلے جواب دے چکے ہیں۔ چلیں البانی سے پوچھ کر دیں کہ اس روایت کو صحیح کہا ہے تو کیا کلثوم بن جبر کا سماع حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کیا ثابت ہے؟؟؟ اگر ثابت ہے تو جناب البانی کے مقلد ہیں تو ثابت کریں سماع ورنہ امام ذہبی نے اس روایت کو منقطع قرار دیا ہے سیر اعلام النبلاء میں اس کا اوپر حوالہ دے چکا ہوں پہلے۔ اور فقیل کہنے والا راوی کون ہے جب کہ یہ مجہول کا صیغہ ہے تو پھر اس کی سند کیسے صحیح ہے؟؟ اب البانی کی طرف سے جناب پر جواب دینا لازم ہے ۔
  12. 1 like
    اس روایت کا مکمل اسنادی جواب اوپر مکمل چکا ہے باقی جناب کی یہاں ایک ترجمہ کی غلطی دیکھانی تھی وہ یہ کہ یہاں قال کلثوم بن جبر کا نہیں بلکہ عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا ہے جو کہ مجہول ہے اور امام طبرانی کی سند میں اس بات کی تصریح ہے۔ حدثنا علي بن عبد العزيز وأبو مسلم الكشي قالا ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا ربيعة بن كلثوم ثنا أبي قال كنت بواسط القصب عند عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر فقال: « الآذان هذا أبو غادية الجهني فقال عبد الأعلى أدخلوه فدخل وعليه مقطعات له رجل طول ضرب من الرجال كأنه ليس من هذه الأمة فلما أن قعد قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يمينك قال نعم خطبنا يوم العقبة فقال « يأيها الناس ألا إن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ألا هل بلغت؟ قالوا نعم قال: اللهم اشهد. قال « لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض قال: وكنا نعد عمار بن ياسر من خيارنا قال فلما كان يوم صفين أقبل يمشي أول الكتيبة راجلا حتى إذا كان من الصفين طعن رجلا في ركبته بالرمح فعثر فانكفأ المغفر عنه فضربه فإذا هو رأس عمار قال يقول مولى لنا أي كفتاه قال فلم أر رجلا أبين ضلالة عندي منه إنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم ما سمع ثم قتل عماراً" )المعجم الکبیر للطبرانی ج 22 ص 363 رقم 912)
  13. 1 like
    ارے جناب محدثین کا اسلوب بھی یہ دیکھ لیا کرو کیونکہ بعض محدثین حدیث کو مختصر اور بعض مفصل بیان کرتے ہیں۔ لیکن مسنداحمد کی روایت میں متن میں لفظ "قال" ہے جس کا نہ ترجمہ کیا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ "قال" کس نے کہا ہے؟؟ آیا یہ کلثوم بن جبر نے کہا ہے یا عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر نے کہا ہے؟؟ اس بات کی مسنداحمد میں تصریح نہیں اس لیے ہم نے اس کی مکمل اسناد جمع کر کے پتہ چلایا کہ یہ "قال" عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر نے کہا ہے یہ کلثوم بن جبر نے نہیں کہااس لئے ترجمہ کرنے والے نے غلط ترجمہ کیا اور اس "قال" کو کلثوم بن جبر کی طرف منسوب کر دیا جو کہ درست نہیں۔ جب کہ امام طبرانی کی روایت میں قال کہنے والے بندے کی تصریح موجود ہے اس لئے واضح ہو گیا کہ اس بات کو بیان کرنے والا عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ہے جو کہ مجہول ہے۔ امام طبرانی کی روایت کی ہے: حدثنا علي بن عبد العزيز وأبو مسلم الكشي قالا ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا ربيعة بن كلثوم ثنا أبي قال كنت بواسط القصب عند عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر فقال: « الآذان هذا أبو غادية الجهني فقال عبد الأعلى أدخلوه فدخل وعليه مقطعات له رجل طول ضرب من الرجال كأنه ليس من هذه الأمة فلما أن قعد قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يمينك قال نعم خطبنا يوم العقبة فقال « يأيها الناس ألا إن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ألا هل بلغت؟ قالوا نعم قال: اللهم اشهد. قال « لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض قال: وكنا نعد عمار بن ياسر من خيارنا قال فلما كان يوم صفين أقبل يمشي أول الكتيبة راجلا حتى إذا كان من الصفين طعن رجلا في ركبته بالرمح فعثر فانكفأ المغفر عنه فضربه فإذا هو رأس عمار قال يقول مولى لنا أي كفتاه قال فلم أر رجلا أبين ضلالة عندي منه إنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم ما سمع ثم قتل عماراً" )المعجم الکبیر للطبرانی ج 22 ص 363 رقم 912)
  14. 1 like
    *شمشادنامی غیر کے مقلد کی کا دعویٰ کہ امام اعظم اما م مالک سے ہر علم میں کم تھے اور اسکی پیش کردہ دلیل پر تحقیقی نظر* غیر کا مقلد پہلے ایک روایت جو کہ امام شافعی سے منسوب ہے اسکو نقل کرنے سے پہلے ایک پھکی بنا کر لکھتا ہے : امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ کون ؟؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا اصول فقہ کا بانی سمجھا جاتاہے اب اس بانی اصول الفقہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ کون ہوتا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں: امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم قال سمعت الشافعي قال لي محمد بن الحسن: أيهما أعلم بالقرآن صاحبنا أو صاحبكم؟ يعني أبا حنيفة ومالك بن أنس، قلت: على الإنصاف؟ قال: نعم، قلت: فأنشدك الله من أعلم بالقرآن صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: صاحبكم يعني مالكاً، قلت: فمن أعلم بالسنة؟ صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: اللهم صاحبكم. قلت : فأنشدك بالله من أعلم بأقاويل أصحاب محمد صلى الله عليه وعلى آله وسلم صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: صاحبكم، قلت: فلم يبق إلا القياس والقياس لا يكون إلا على هذه الأشياء فمن لم يعرف الأصول فعلى أي شيء يقيس؟!!!! [الجرح والتعديل موافق 1/ 12 واسنادہ صحیح] ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن الحسن نے کہا: کہ امام مالک اورامام ابوحنیفہ رحمہما اللہ میں سے زیادہ جانکار کون ہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا انصاف کے ساتھ بتلادوں؟ محد بن حسن نے کہا: جی ہاں۔ امام شافعی کہتے ہیں پھر میں نے کہا اللہ کے واسطے بتاؤ قران کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟ محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ قران کے زیادہ جانکار تھے۔ اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے پوچھا : اچھا یہ بتاؤ حدیث کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟ محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ حدیث کے زیادہ جانکار تھے۔ اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ اب باقی بچا قیاس تو قیاس انہیں قران وحدیث ہی پر ہوتا ہے پس جو شخص (ابوحنیفہ) اصول یعنی قران و حدیث سے ناواقف ہو وہ قیاس کس پر کرے گا؟؟؟ گھوپو پھر روایت پر اپنا خلاصہ بھی لکھتا ہے کہ : اس پورے کام میں غورکریں گے توصاف معلوم ہوتا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ وہی ہوسکتاہے جو سب سے زیادہ حدیث (نصوص کتاب وسنت) کا جانکار ہوگا، اسی لئے امام شافعی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو قران و حدیث میں کم علم کے ساتھ ساتھ فقہ میں بھی امام مالک رحمہ اللہ سے کمزور بتلایا ہے الجواب: اس غیر کے مقلد شمشاد نامی کو چاہیے تھا کہ یہ کہتاکے امام الحسن بن شیبانی ؒ جو خود حنفی ہیں وہ امام اعظم کو امام مالک سے ہر علم میں کم سمجھ رہے ہیں جبکہ متن میں بھی اقرار تو امام محمد بن حسن کر رہےہین امام شافعی نے تو اپنے منہ سے کچھ نہ بولا لیکن اس جاہل کو متن سمجھنے کی بھی تمیز نہیں اور اگر ہوگی بھی تو اس نے بات امام شافعی کی طرف لٹا دی ہے خیر اب ہم اسکا تحقیقی جواب پیش کرتے ہیں اس روایت کا متن ہی اس روایت کو باطل بنانے کے لیے کافی ہے امام محمد بن الحسن الشیبانی جو امام اعظم ابو حنیفہؒ کے شاگرد بنے پھر مدینہ امام مالکؒ کے پاس ۳ سال تک رہے اور انکی الموطا یاد کی ہے پھر وہ امام اعظمؒ کی شاگردی اختیار کی واپس آکر اور اپنی وفات تک فقہ حنفی کی تدوین کرتے رہے انہوں نے فقہ حنفی کی تائید اور تدوین میں سب سے زیادہ کتب تصنیف کی ہیں وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ امام اعظم معاذاللہ قرآن کا علم بھی حدیث کا علم اور اثار کا علم بھی نہیں رکھتے تو اللہ انکو امت کا سب سے بڑا فقیہ امام کیسے بنا دیا ؟ دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ امام محمد بن الحسن الشیبانی جو خود موطا روایت کرتے ہیں امام مالک سے وہ بھی نیچے امام ابو حنیفہ ؓ سے مروی اثار لکھ کر کہتے ہیں ہمارا اس پر عمل ہے وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ امام مالک ہر علم میں امام اعظم سے مقدم ہیں ؟ نیز امام محمد بن الحسن الشیبانی نے تو امام مالک کے رد پر مکمل کتاب تصنیف کی ہے جسکا نام انہوں نے الرد علی اہل مدینہ کے نام سے لکھی اگر وہ انکو ہر علم میں مقدم سمجھتے تو امام اعظم کی تائید اور دفاع میں امام مالک کے خلاف کتاب کیسے لکھتے ؟؟ امام شافعی کا فیصلہ! امام شافعی ؒ تو خود اپنے تما م تمام شیوخ جن میں امام مالک بھی شامل ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر فقہ کے باب میں سب سے زیادہ احسان امام محمد بن الحسن الشیبانی الحنفیؒ نے کیا ہے (تاریخ اسلام و سند صحیح ) امام شافعی تو امام محمدبن الحسن کو اما م مالک پر فوقیت دیتے تھے وہ کس طرح یہ سمجھتے ہوں کہ : امام ابو حنیفہ امام مالک سے ہر علم میں کم ہیں نیز پھر اما م محمد بن الحسن کا بھی یہی کہنا ہو؟ نیز اسکو امام ابن ابی حاتم نے اپنی کتاب آداب مناقب میں نقل کیاہے اور اس میں امام ابن ابی حاتم نے تعصب کی وجہ سے امام شافعی سے انکی زندگی کے آغاز میں امام اعظم اور صاحبین کے خلاف کہے گئے اقوال زیادہ نقل کیے اور اما م شافعی کی طرف سے امام اعظم کی مداح و ثناء میں اقوال نہ ہونے کے برابر لکھے ہیں اور اسی کتاب میں سند صحیح کےساتھ موجود ہے کہ امام شافعی کہتے ہیں رائے یعنی قیاس کوئی چیز ہے تو اس میں تمام لوگ اہل عراق (یعنی امام اعظم و صاحبین ) کے سب بچے ہیں پھر اپنی زندگی کے آخری حصے میں تھے تو کہتے تھے کہ : فقہ میں تما م لوگ بال بچے ہیں اہل اعراق (یعنی امام اعظم و صاحبین) کے امام اعظم تو فقہ کے باب مین سب کو امام اعظم و صاحبین کے بال بچے سمجھتے تھے وہ کیسے امام مالک کو مقدم کر سکتے تھے فقہ میں امام ابو حنیفہ پر ؟ جبکہ انکے نزدیک تو امام محمد بن الحسن الشیبانی بھی اما م مالک سے مقدم تھے فقہ کے باب میں اوردوسری بات امام مالک خود امام ابو حنیفہ کو بے نظیر فقیہ مانتے تھے اسی کتاب آداب الشافعی میں امام ابن ابی حاتم با سند صحیح سے لکھتے ہیں کہ : امام شافعی نے اما م مالک سے پوچھا کہ آپ نے امام ابو حنیفہ کو دیکھا ہوا ہے ؟ تو امام مالک نے کہا بیشک میں نے اسے دیکھا ہوا اسکے پاس دلائل کا اتنا انبار ہوتا ہے وہ ایک مٹی کے ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہے تو کئی دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں امام مالک کا امام عظم کے بارے یہ مشہور قول بھی ابن ابی حاتم نے ہضم نہ ہوا اور پیٹ میں مروڑ اٹھے جسکے بائث انہوں نے لکھا کہ امام مالک کی مراد تھی کہ امام ابو حنیفہ غلط ہونے پربھی ڈٹے رہتے (معاذاللہ استغفار) جبکہ امام اعظم کا اپنا قول صحیح سند سے ثابت ہے وہ کہتے ہیں اے ابو یوسف: تم میرے منہ سے نکلی ہر بات نا لکھ لی کروکیونکہ میں اکثر اپنے اقوال سے رجوع کر لیتا ہوں صبح ایک فیصلہ ہوتا ہے تو رات کو رجوع کر چکا ہوتاہوں نتیجہ: اس سے معلوم ہوا کہ اما م اعظم بہت محتاط اور دلائل پر گہری نظر رکھنے والے امام تھے کہ انکو اپنے اجتیہاد کے خلاف کوئی روایت مل جاتی تو فورا اپنا قیاس رد کر دیتے اور روایت کو قبول کر لیتے اور دوسرا سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ اما م اعظم اپنے تمام شاگردوں کو اپنی اجازت سے لکھواتے تھے بغیر اجازت امام ابو یوسف کو بھی لکھنے سے منع فرما دیتے یہی وجہ ہے کہ امام اعظم اپنے کسی بھی فیصلے پر جب مدلل تحقیق کر چکے ہوتے تو تب لکھواتے یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی میں باقی فقہ کی طرح اقوال میں تکرار نہیں ہے اب آتے ہیں اسکی سند کی طرف: اسکی سند بظاہر صحیح ہے لیکن بظاہر ہر سند صحیح ہونے سے متن صحیح نہیں ہو جاتا ہے اہل علم جو اصول حدیث جانتے ہیں وہ یہ بات خوب سمجھتے ہیں تو ہم اس روایت کی سند میں متعدد علتیں پیش کرتے ہیں : ۱۔یہ واقعہ جو مناظرے کا ہے امام شافعی اور امام محمد بن الحسن الشیبانی کا اسکو بیان کرنے والا فقط ایک راوی ہے جس پر اس قصے کا دارومدار ہے اور اسکا نام ہے محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم یہ خود امام مالک کے مذہب پر تھا اور امام شافعی کے بھی اور متشدد بھی تھا اسکا ترجمہ بیان کرتےہوئے امام ابن ایبک الصفدی (المتوفیٰ ۷۶۴ھ) کیا فرماتے ہیں دیکھتے ہیں : ابن عبد الحكم الشافعي محمد بن عبد الله بن عبد الحكم بن أعين بن ليث الإمام أبو عبد الله المصري الفقيه أخو عبد الرحمن وسعد لزم الشافعي مدة وتفقه به وبأبيه عبد الله وغيرهما روى عنه النسائي وابن خزيمة وثقه النسائي وقال مرة لا بأس به وكان الشافعي معجبا به لذكايه وحرضه على الفقه وحمل في محنة القرآن إلى بغداذ ولم يجب ورد إلى مصر وانتهت إليه رياسة العلم في مصر له تصانيف منها أحكام القرآن والرد على الشافعي فيما خالف فيه الكتاب والسنة والرد على أهل العراق وأدب القضاة توفى سنة ثمان وستين (الكتاب: الوافي بالوفيات ،المؤلف: صلاح الدين خليل بن أيبك الصفدي (المتوفى: 764هـ) امام ابن ایبک نے انکے بارے میں فرماتے ہیں : کہ ابن عبدالحکم یہ فقیہ تھے ان سے امام نسائی ، ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے امام نسائی کہتے تھے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے پھر امام ابن ایبک آگے لکھتے ہیں انہوں نے کافی تصانیف بھی لکھی ہیں اور انہوں نے بنام احکام القرآن لکھی ہے ۲۔اور انہوں نے خود اما م شافعیؒ کے رد میں کتاب لکھی ہے جسکا نام تھا الرد علی الشافعي فيما خالف فيه الكتاب والسنة یعنی امام شافعی پر ان مسائل میں رد جس میں انہوں نے قرآن اور سنت کی مخالفت کی ہے (استغفار ) یہ ہے وہابیہ کی منافقت کیا یہ اب بقول اس راوی کے امام شافعی کو قرآن و حدیث کا مخالف سمجھیں گے ؟؟ چونکہ پہلے دور میں کیا ہوتا تھا محدثین جب کسی مجتہد کے فتوے کو سمجھ نہ پاتے اور انکے فتوے کو بظاہر ایک روایت کے خلاف سمجھ لیتے تو فورا یہ فتویٰ ٹھوک دیتے تے یہ تو قرآن و حدیث کے خلاف ہے بجائے ان سے یہ پوچھنے یا تحقیق کرنے کے کہ : مخالف کی دلیل کیا ہے اور جو روایت انکے پاس ہے کیا وہ مخالف کے منہج کے مطابق قابل قبول ہے بھی یا نہیں خیر آگے چلتے ہیں اما م ابن ایبک آگے لکھتے ہیں : ۳۔ انہوں نے ایک اور کتاب لکھی تھی الرد علی اہل العراق (یعنی امام اعظم و صاحبین) تو ایسے راوی جو اتنا متعصب ہو جو خود امام شافعی اور امام اعظم و صاحبین کے رد میں کتب لکھ چکا ہوتو ایسے متعصب راوی کی روایت پر کون یقین کر سکتا ہے ؟ کیونکہ ایسا متعصب راوی جس سے عداوت رکھتا ہے وہ ضرورالفاظ ایسے بیان کرتا ہے جس سے متن پورا کا پورا تبدیل ہو جاتا ہے اسکا ایک ثبوت اسی راوی ہی سے پیش کرتے ہیں جو کہ اس نے امام شافعی سے ایک ایسی بات بیان کی جسکی وجہ سے امام ربیع بن سلیمان جو امام شافعی کے کبیر شاگرد تھے انہوں نے اس راوی کو کذاب قرار دیتے ہوئے اما م شافعی پر اسکا بہتان لگانے کا اقرار کیا اوراسی وجہ سے امام ابن الجوزی بھی اسکو کذاب مانتے تھے امام ربیع بن سلیمان کی جرح کی وجہ سے لیکن چونکہ یہ جمہور محدثین کے نزدیک متفقہ ثقہ ہے تو محدثین نےتصریح کی ہے کہ یہ اس سے کوئی غلطی ہوئی ہوگی نقل کرنے یا بیان کرنے میں کیونکہ امام ابن خزیمہ نے اسکے حفظ پر کلام کیا ہے کہ اسناد میں اسکا ضبط اچھا نہ تھا جیسا کہ آگے بیان ہوگا اس وجہ سے امام نسائی نے بھی اسکے مطلق فتویٰ دیا کے اس کےبارے میں جھوٹ کا اقرار نہیں کی جا سکتا ہے امام ذھبیؒ نے تزکرہ الحفاظ میں بھی اس راوی یعنی محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم کو شامل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : قلت له كتب كثيرة منها الرد على الشافعي وكتاب أحكام القرآن ورد على فقهاء العراق وغير ذلك مات في سنة ثمان وستين ومائتين رحمه الله تعالى. (الكتاب: تذكرة الحفاظ المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ) میں کہتا ہوں اس نے کافی کتب لکھی تھیں جن میں ایک الرد علی الشافعی وکتاب احکام القرآن اوردوسری ورد علی فقہا العراق لکھی (نوٹ: یہ متصب اور مخالف پرست ہونے کی نشانی ہے ) اب ہم ثبوت پیش کرتے ہیں کہ اس راوی نے امام شافعی سے کونسی ایسی روایت بیان کی ہے جس پر امام ربیع بن سلیمان نے اسکو قسم کھا کر کذاب قرار دیا تھا : چناچہ امام ابن حجر عسقلانیؒ تہذیب التہذیب میں اس راوی کے ترجمے میں تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ : وقال الذهبي في الميزان قال ابن الجوزي كذبه الربيع ورده الذهبي بأنه صدوق ثم نقل كلام النسائي وغيره فيه انتهى وابن الجوزي نقل ذلك من كلام الحاكم حيث نقل في علوم الحديث عن طريق بن عبد الحكم قصة مناظرة الشافعي مع محمد بن الحسن في ما يناسب إلى أهل المدينة من تجويز إتيان المرأة في الدبر وهي قصة مشهورة فيها احتجاج الشافعي لمن يقول بالجواز قال فقال الربيع لما بلغه ذلك كذب محمد والله الذي لا إله إلا هو لقد نص الشافعي على تحريمه في ستة كتب وقد أوضحت في مواضع أخر أنه لا تنافي بين القولين فالأول كان الشافعي حاكيا عن غيره حكما واستدلالا ولو كان بعض ذلك من تصرفه فالباحث قد يرتكب غير الراجح بخلاف ما نقله الربيع فإنه في تلك المواضع يذكر معتقده نعم في آخر الحكاية قال والقياس أنه حلال وقد حكى الذهبي ذلك أيضا وتعقبه التحريم كذا قال ولم يفهم المراد فإن في الحكاية عمن قال بالتحريم أن الحجة قول الله تعالى فمن ابتغى وراء ذلك الآية فدل على الحصر في الإتيان في الفرج فأورد عليه لو أخذته أو جعله تحت إبطها أو بين فخذيها حتى انزل لكان حلالا بالاتفاق فلم يصح الحصر ووجه القياس أنه عضو مباح من امرأة حلال فأشبه الوطء بين الفخذين وأما قياسه على دبر الغلام فيعكر عليه أنه حرام بالاتفاق فكيف يصح ثم قال الذهبي وقد حكى الطحاوي هذه الحكاية عن بن الحكم عن الشافعي فأخطأ في نقله ذلك عنه وحاشاه من تعمد الكذب وقد تقدم الجواب عن هذا أيضا (تہذیب التہذیب) امام ذھبی نے میزان میں کہا ہے کہ ابن جوزی نے یہ امام حاکم کے کلام سے نقل کیا ہے جیسے کہ امام حاکم نے علوم الحديث میں طریق بن عبد الحکم سے ایک مناظرے کا قصہ امام شافعی اور امام محمد بن الحسن کے بارے میں نقل کیا ہے جو کہ اہل مدینہ کی طرف منسوب ہے عورتوں کے پیچھے حصے سے جماع کرنے کے بارے میں مشھور قصہ ہےا س میں امام شافعی کا ان لوگوں کے بارے میں احتجاج ہے جو جواز کے قائل ہیں جب ربیع کو یہ بات پہنچی تو انھوں نے کہا اس محمد(بن عبداللہ الحکم) نامی شخص نے جھوٹ بولا ہے للہ کی قسم جسکے سوا کوئی معبود نہیں امام شافعی کا اسکو حرام کہنے پر 6 کتب میں نص موجود ہےاور یقینا میں نے واضح کیا ہے کئی جگہوں پر کہ اپ ان اقوال کو ایک دوسرے کے متنافی نا کہے ایک تو امام شافعی اسے دلیل پکڑنے میں (مستدل بنانے میں) اور حکم لگانے میں دوسرے سے حکایت نقل کر رہے ہیں ناکہ خود سے بتا رہے ہیں اگرچہ بعض باتیں انکی تصرف سے ہیں پس بحث کرنے والا غیر راجح قول کا ارتکاب کرتا ہے بخلاف ربیع کے نقل کےکیونکہ وہ ان جگہوں پر معتقد ہو کر بھی نقل کررہا ہے تو آپ نے دیکھ سکتے ہیں کہ اس راوی جو کہ ثقہ توتھا فقیہ بھی تھا لیکن یہ اسناد یا متن میں کچھ ایسی گڑبڑ کر دیتا تھا کہ روایت کا مکمل متن اور مطلب تبدیل کر کے رکھ دیتا تھا یہی وجہ ہے کہ اسکی یہ باتوں کو محدثین نے تسامع میں درج کیا ہے نہ کہ اسکو کذاب قرار دیا اسی طرح خود امام ذھبی میزان کے بارے یہی روایت امام شافعی نے نقل کر کے لکھتے ہیں کہ یہ روایت منکر ہے (نوٹ: جس طرح اما م ذھبی نے اسکا اما م شافعی سے عجیب و غریب متن کے ساتھ روایت کرنے کو متن قرار دیا ہے ویسے ہی ہم اوپر اسکا بیان کردہ امام شافعی سے امام محمد بن الحسن کے ساتھ ایک اور مناظرے کا قصہ متن کے لحاظ سے منکر ثابت کر آئے ہیں ) لیکن محدثین نے بھی اس واقعے پر اپنا کلام ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بات حقیقت کے منافی ہے جیسا کہ امام ذھبیؒ ہی نے خود سیر اعلام میں اس واقعے کا تعقب کیا ہے اور اسکو رد کرتےہوئے اپنا خوبصورت فیصلہ بیان کیا ہے : امام ذھبی سیر اعلام میں ابن الحکم سے اس واقعے کا کچھ حصہ ذکر کرکے اسکا تعقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں : قلت: وعلى الإنصاف؟ لو قال قائل: بل هما سواء في علم الكتاب، والأول أعلم بالقياس، والثاني أعلم بالسنة، وعنده علم جم من أقوال كثير من الصحابة، كما أن الأول أعلم بأقاويل علي، وابن مسعود، وطائفة ممن كان بالكوفة من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فرضي الله عن الإمامين، فقد صرنا في وقت لا يقدر الشخص على النطق بالإنصاف - نسأل الله السلامة -. (سیر اعلام النبلاء جلد ۸ ،ص ۱۱۲) میں کہتا ہوں ! انصاف کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کتاب اللہ کا علم ہونے کے حوالے سے یہ دونوں حضرات برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ، پہلے والے صاحب (یعنی امام ابو حنیفہ)قیاس کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہیں اور دوسرے صاحب (یعنی امام مالک )سنت کا زیادہ علم رکھتے ہیں انکے پاس صحابہ کے اقوال کا بہت سارا ذخیرہ ہے اور جیسا کہ پہلے صاحب (یعنی امام ابو حنیفہ) کے پاس حضرت علی ، حضرت عبداللہ بن مسعود اور کفہ میں موجود صحابہ کرام کے اقوال کے بارے میں زیادہ علم موجود ہے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں اماموں سے راضی ہو۔ ہم ایک ایسے وقت میں آگئے ہیں جس میں آدمی انصاف کے ساتھ برنے کی قدرت ہی نہیں رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں تو امام ذھبی ؒ نے خود اس بات کارد کرتے ہوئے انصاف کا دمن پکڑتے ہوئے اپنا فیصلہ دیا ہے کہ : امام مالک اور امام اعظم ابو حنیفہ علم قران میں برابر تھے یہ کہا جائے گا اور اجتیہاد اور مسائل میں امام اعظم کو مقدم کیا امام ذھبی نے اور احادیث کے مختلف طریق اور اقوال پر امام مالک کو مقدم کیا لیکن اس بھی تخصیص کرتے ہوئےامام اعظم کے بارے میں فرمایا کہ : امام ابو حنیفہ حضرت علی ، حضرت ابن مسعود اور اہل کوفی کی جماعت کے اقوال اور روایات کے حافظ تھے کیا وہابی ہر رویت میں امام ذھبی کاحکم پیش کرتے ہیں کیا اس بات پر امام ذھبی سے اتفاق کریں گے ؟ یا ان پر بھی بدعتی اور حنفی ہونے کا الزام لگائیں گے ؟ جبکہ امام ذھبی نے علم حدیث کی بنیاد کرنےوالے حضرات میں امام ابو حنیفہ کو بھی شامل کیا ہے اللہ ہم کو غیر مقلدین کے فتنے سے محفوظ رکھے اور ہم سلف اور صالحین محدثین اور فقہا کا دفاع ان گندے انڈے غیر مقلدین سے کرتے رہیں گے ا *دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی*
  15. 1 like
    امام دارقطنی کا قول اس وقت صحیح ہو گا جب اس کی کوئی دلیل ہو گی ورنہ 271 سال کے فاصلے بعد کسی کے بارے میں بنا کسی دلیل کے قاتل کہہ دینے سے کوئی قاتل نہیں ہو جاتا نہ ہی وہ شرعی طور پر قاتل ثابت ہوتا ہے ورنہ ایسے بے اسناد اقوال صحابہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے خلاف کتب میں بھرے پڑے ہیں اس لیے بنا دلیل کے ایسے اقوال کو ماننا بھی اصول حدیث کی روشنی میں درست نہیں۔ جب ثقہ تابعین کی مرسل روایات امام دارقطنی کے اصول سے ماننا درست نہیں تو خود امام دارقطنی کا بے سند قول جنگ صفین کے بارے میں ماننا کیسے درست ہو سکتا ہے؟؟ اس لئے اس قول کی دلیل چاہیے صحیح سند کے ساتھ ۔ ان تمام باتوں کا رد میں پہلے کر چکا ہوں جن کا جناب نے جواب نہیں دیا بس وہی پرانے پوسٹر چپکائے جارہے ہیں اور کچھ نہیں ہے جناب کے پاس۔ اس لیے ہم بھی جناب کے اصول سے وہی پوسڑ چپکا دیتے ہیں
  16. 1 like
    ارے بھائی پہلی بات یہ ہے آپ کا سند پرمنکر کا حکم تھا تو اس لیے میں صرف سند پر بات کی اور کسی بات پر نہیں کی لیکن سند صحیح مان چکے ہیں تو پھر اس فائدہ نہیں کہ بحث کی ہے۔ میں پہلے بھی شافعی حنفی جھگڑوں میں پڑ پڑ کر بہت سے علمی دوستوں سے دور ہو چکا ہوں اس لیے اب مزید اس پر پھر واپس نہیں جانا چاہتا اس لئے آپ کی پوسٹ کا جواب نہیں دے رہا ہوں کیونکہ اس سے مزید فاصلے پیدا ہو جائیں گے۔ اللہ عزوجل ہم سب کو ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
  17. 1 like
    جی ضرور ہم انتظار میں رہیں گے۔ لیکن جواب اصولی اور تحقیقی ہو اور پوسٹرز سے نہ ہو بلکہ تحریری جواب ہو۔ ان شاء اللہ ہم ضرور آپ کی اس تحریر کا جواب دیں گے۔ باقی میری مجبوری یہ ہے چائینہ میں کبھی اسلامی محفل پر لاگ ان نہیں ہو پاتا کیونکہ میرا وی پی این اس سائٹ کو اوپن نہیں کرتا اس لئے جیسے میں آئن لائن ہوا کروں گا تو آپ کو جواب دے دیا کروں گا۔ آپ کا بھی شکریہ
  18. 1 like
    عسقلانی بھائی اس بندے کو صرف کاپی پیسٹ کرنا آتا ہے اسکے علاوہ اور کچھ نہیں۔۔نہ اسے محدثین کے منہج کا پتا ہے کہ جب کوئی محدث کسی حدیث کے بارے میں صحیح کا حکم لگاتا ہے تو اسکا کیا مطلب ہوتا ہے۔۔بس کاپی پیسٹ اور میک اپ کر کے عوام کو جھانسے دیتا ہے۔۔ آپ نے اسکا دجل صحیح ظاہر کیا ہے
  19. 1 like
    وعلیکم السلام ورحمةالله وبركاته مکتبہ شاملہ کا لنک مجھے بھی نہیں ملا آئی فون کے سٹور میں کچھ بھائیوں نے بتایا ہے کہ کنٹری سیٹنگ میں جا کر سیٹنگ تبدیل کرنا پڑے گی کوئی عرب ملک سیلیکٹ کرنا ہوگا تب ڈاؤنلوڈ ہو گا
  20. 1 like
    ارے جناب کچھ کہنے سے پہلے بندہ ائمہ حدیث کا منہج اور اسلوب بھی دیکھ لیتا ہے۔ امام ذہبی نے جناب نے کہا کہ امام ذہبی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب میں ابن ملجم لعنتی کو صحابی لکھا ہے جب کہ یہ بات ایک بہتان ہے امام ذہبی نے کہیں بھی اسے صحابی نہیں لکھا۔ اگرصرف کتاب کے نام "تجرید اسماء الصحابۃ" سے استدلال کر رہے ہیں تو یہ جناب کی کم فہمی ہے اس میں امام ذہبی نے بہت سے تابعین اور غیر تابعین کا ذکر بھی کیا ہے۔ اسی صفحہ میں چند افراد کے نام ہیں جن کی امام ذہبی نے خود تصریح کی ہے کہ ان صحبت ثابت نہیں ہے وہ یہ ہیں۔ عبد الرحمن بن معاذ بن جبل توفي مع ابيه في طاعون عمواس لا صحبة له. عبد الرحمن بن معاوية لا تصح له صحبة نزل مصر وروي عنه سويد بن قيس * مرسل * تو جناب دیکھ سکتے ہیں کہ امام ذہبی نے غیر صحابہ کا ذکر بھی کیا ہے اور خود تصریح کی ہے جب کہ ابن ملجم کا کہیں بھی نہیں لکھا کہ وہ صحابی ہے اگر صحابی والی امام ذہبی کی عبارت جناب کے پاس ہے تو پیش کریں ورنہ اس بات سے رجوع کریں۔ امام ذہبی تو ابن ملجم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ اہل ہی نہیں کہ اس سے حدیث لی جائے لیں امام ذہبی کا موقف: عبد الرحمن بن ملجم المرادي، ذاك المعثر الخارجي.ليس بأهل أن يروي عنه، وما أظن له رواية، وكان عابدا قانتا لله، لكنه ختم بشر، فقتل أمير المؤمنين عليا متقربا إلى الله بدمه بزعمه، فقطعت أربعته ولسانه، وسملت عيناه، ثم أحرق.نسأل الله العفو والعافية (میزان الاعتدال ج 4 ص 592) امید ہے اب امام ذہبی کے حوالے سے ایسی بات نہیں کریں گے۔ باقی ر ہا جناب کا یہ اعتراض: " ابن ملجم بھی مجتہد ہی تھا ۔ سیدنا عمر نے عمروبن العاص کو خط لکھا " عبدالرحمان بن ملجم کا گھر مسجد کے قریب کر دو تا کہ وہ لوگوں کو قرآن مجید اور فقہ کی تعلیم دے" تاريخ الإسلام - الإمام الذهبي جلد3 ، ص / 653 یہ اعتراض بھی باطل ہے کیونکہ امام ذہبی نے اس واقعہ کی سند نہیں لکھی بلکہ اسے امام ابن یونس کے حوالے سے لکھا ہے جو یہ ہے: وقيل: إنّ عُمَر كتب إِلَى عَمْرو بْن العاص: أنْ قَرّبْ دار عَبْد الرَّحْمَن بْن مُلْجم من المسجد ليُعَلِّم النّاس القرآن والفقه[تاریخ الاسلام (ت بشار) ج 2 ص 273]اور یہی عبارت امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں بھی نقل کی ہے جس کا ثبوت یہ ہے:وقيل: إن عمر كتب إلى عمرو بن العاص: أن قرب دار عبد الرحمن بن ملجم من المسجد ليعلم الناس القرآن والفقه،[سیر اعلام النبلاء (ط الرسالۃ) ج 2 ص 539]اس میں بندہ دیکھ سکتا ہے کہ امام ذہبی نے و قیل کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور قیل مجہول کےصیغے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ یہ بات امام ذہبی کی خود کی نہیں ہے بلکہ انہوں نے علامہ ابن یونس مصری کی تاریخ سے یہ بات نقل کی ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے:علامہ ابن یونس لکھتے ہیں:وقيل: إن عمر كتب إلى عمرو: أن قرّب دار «عبد الرحمن بن ملجم» من المسجد؛ ليعلّم الناس القرآن والفقه.(تاریخ ابن یونس المصری ج 1 ص 315) اور امام ابن حجر عسقلانی نے بھی اس بات کو بلا سند نقل کیا ہے جس کا ثبوت یہ ہے:وقيل أن عمر كتب إلى عمر وإن قرب دار عبد الرحمن بن ملجم من المسجد ليعلم الناس والقرآن والفقه(لسان المیزان ج 3 ص 440) اس بات کی کوئی سند موجود نہیں ہے یہ سب بے سند بات ہے۔ اس لیے بے سند بات کے لیے اپنے محقق فیضی صاحب کی باتیں سن لیں فیضی امام مرتضی زبیدی علیہ الرحمہ کی عبارت سے استدلال کرتے ہوئے ان کی عبارت کا ترجمہ اس طرح کرتا ہے:اور اسی طرح جب امام بخاری اپنے تمام راویوں کو گرا دیں تو ایسی حدیث کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ صحیح بخاری میں ہو تو اور امام بخاری اسے قال یا روی سے لائے ہوں تو یہ انداز اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ حدیث ان کے نزدیک ثابت ہے اور اگر یذکر یا یقال سے لائے ہوں تو پھر اس میں کلام کی گنجائش ہے اور صحیح بخاری کے علاوہ ان کی کسی دوسری کتاب میں بلا سند حدیث ہو تو وہ مردود ہے اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔آگے لکھتا ہے:لہذا سوچئے کہ التاریخ الکبیر میں درج شدہ ایک ایسی روایت کیونکر قابل قبول ہو سکتی ہے جس میں دو راویوں کے درمیان 68 یا 83 سال کا فرق ہے؟؟[الاحادیث الموضوعۃ ص 98] اپنی دوسری کتاب میں لکھتا ہے:اگرچہ ہر حدیث کا صحاح ستہ میں مذکور ہونا اس کی صحت کے لیے شرط نہیں ہے تاہم یہ تو لازمی شرط ہے کہ ہر حدیث سے پہلے سند ہو۔[شرح خصائص علی رضی اللہ عنہ ص 352] آگے لکھتا ہے: ہمارے معاصر نے بلاسند حدیث نقل کر کے یقینا بے پر کی اڑائی ہے اس لیے اس کی نقل کردہ روایت بے بنیاد مردود اور باطل ہے۔ پھرکہتا ہے:اگر یقال یا یذکر (کہا جاتا ہے، ذکر کیا جاتا ہے) یعنی صیغہ مجہول استعمال کیا ہو تو اس میں اعتراض کی گنجائش ہے۔[شرح خصائص علی رضی اللہ عنہ ص 354] اور آگے فیضی اپنی تمام بحث کا نتیجہ نکال کر کہتا ہے:خیال رہے کہ بلاسند حدیث بیان کرنے کی تردید میں ائمہ حدیث نے ضوابط و قواعد بیان کرنے میں اس عاجز نے جو محنت کی ہے اس کا باعث فقط یہ ہے کہ مجھ ایسے قارئین بھی ایسے قواعد سے آشنا ہوں ورنہ میری کوشش حکیم ظفر وغیرہ ایسے بے اصول لوگوں کے لئے نہیں ہے۔ کیونکہ عقل مند کے لئے ایسے بے اصول لوگ بالکل اسی طرح غیر اہم ہیں جس طرح بلا سند روایت۔(شرح خصائص علی رضی اللہ عنہ ص 355) امید ہے جناب ہماری بات تو مانیں گے نہیں اس لیے فیضی صاحب کی بات مان لیں کہ یہ بے سند اقوال باطل ہے اور مردود ہے اور امام ذہبی پر جو الزام لگایا ہے وہ الحمدللہ باطل ہے۔
  21. 1 like
    قصاص کا مطالبہ تو حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں کے نزدیک حق تھا۔ اختلاف یہ تھا کہ حضرت معاویہ کہتے تھے:پہلے عثمان کا قصاص پھر علی کی بیعت۔ مگرحضرت علی فرماتے تھے : پہلے علی کی بیعت پھرعثمان کا قصاص۔ اسی سے تمہاری دونوں باتوں کا جواب ہو جاتا ہے کہ قصاص کا مطالبہ درست تھا یا نہیں؟ اور حضرت علی کو قاتلین عثمان میں وہ داخل مانتے تھے یا خارج مانتے تھے۔ ندویوں کے متعلق ہمارا موقف کوئی اچھا نہیں ہے۔ انوار اللہ فاروقی نے مقاصدالاسلام میں جو کچھ لکھا،بغیر ثبوت کے لکھا،اور اس کی حیثیت الزام سے زیادہ نہیں۔ تاہم اُس نے جس بات کو خیال لکھا تھا،تم نے اُسے اُس کا عقیدہ لکھ کر اُس پر بھی جھوٹ بولا ہے۔
  22. 1 like
    جب تک بات کا ترجمہ نہیں کرو گے بات آگے نہیں بڑھے گی بہت ہو چکی تمہاری یہ ڈرامے بازی
  23. 1 like
    قاسم علی صاحب آپ نے (علیہ السلام) کے متعلق جھوٹ بولا ھے، الیاس قادری صاحب نے اسے منع کیا ھے، کفر نہیں کہا۔ آپ بتائیں کہ کتاب میں کس جگہ اسے کفر لکھا ھے؟ حضرات حسنین کریمین کے بہنوئی حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنے ایک بیٹے کا نام ( معاویہ) رکھا اور امیر معاویہ کو خوش کیا۔ یہ معاویہ جناب عون و محمد کے سوتیلے بھائی اور حضرت زینب بنت فاطمۃ الزھراء کے سوتیلے بیٹے ھیں۔ پس امیر معاویہ کی رضا جوئی کے لئے یہ نام رکھنا بھی آل ابو طالب کی سنت ھے۔
  24. 1 like
    ان ایام میں سوگ کرنا روافض سے تشبہ رکھتا ھے اور جشن منانا نواصب سے تشبہ رکھتا ھے۔
  25. 1 like
    تمہاری اب تک کی باتوں سے بھی یہی ثابت ھوتا ھے کہ حجر بن عدی معاویہ کی حکومت کا باغی تھا۔
  26. 1 like
    یہاں سے بھی پسپا ہوگئے ؟ محترم آپ کو شاید یہ علم ہی نہیں کہ فردِ جرم اور شہادتوں کے بعد فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور وہ اجتہاد ہے۔ کیا سمجھے؟؟
  27. 1 like
    جی محترم میں تو جناب کے محولہ بالا ریفرنسز سے ہی شہادتیں پیش کروں گا، مگر آپ تو بتائیں ناں کہ آپ نے حجر بن عدی کا مقدمہ امیرمعاویہ پر طعن کے لئے اٹھایا تھا تو صرف شہ سرخیوں پر اکتفاء کیوں کیا؟ امیرمعاویہ کی زیادتی اور حجر بن عدی کی مظلومی پیش کرنے کے لئے آپ نے فردِ جُرم اور شہادتوں کا تذکرہ کیوں ہضم کر لیا۔ ان کو پیش کئے بغیر آپ کا اعتراض ناتمام رہتا ہے۔ اپنے اعتراض کی تقریب تام کریں۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اورآپ یہ ذمہ داری پوری کریں۔ یا تسلیم کریں کہ یہ آپ کے بس کا روگ نہیں اور آپ صرف مانگے تانگے کے حوالوں کو میک اپ کرکے پیش کرنے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ پھر میں آپ کی محولہ بالا کتابوں سے یہ فردِ جرم اور شہادتیں پیش کروں گا۔اور تفصیل سے پیش کروں گا۔ وہ باقی آٹھ پوائنٹس پر خاموشی؟
  28. 1 like
  29. 1 like
    جزاک اللہ خیرا۔ اسد بھائی نے روایت کے جھوٹے ہونے کی صحیح وضاحت کردی ہے۔ اور راوی کا صحیح تعیین کر دیا ہے ۔ بس اس میں ایک چھوٹی سی وضاحت یہ ہے کہ امام احمدؒ اپنے شیوخ کے معاملے میں بہت محتاط ہیں ۔ اور ائمہؒ نے ذکر کیا ہے کہ ان کے شیوخ ثقہ ہیں ۔ اگرچہ یہ علی الاطلاق نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں تفصیل ہے ۔لیکن بہر حال اگر کوئی یہ بات بھی کرے تو دراصل یہ روایات امام احمدؒ کی روایت سے ہے ہی نہیں ۔ بلکہ فضائل صحابہ رضی اللہ عنہ کتاب ان کے بیٹے عبد اللہ بن احمد ؒ نے روایت کی ہے اور اس میں بہت اضافات کئے ہیں ۔پھر ان سے بھی نیچے کے راوی ابوبکر ابن مالک القطیعیؒ ہیں انہوں نے بھی ۔ کتاب میں اضافات کئے ہیں ۔ اوراس کا ذکر کتاب میں موجود ہے ۔ پہلے امام احمدؒ کی روایات ہیں پھر اس کے بعد ابو بکر قطیعیؒ کے اضافات ہیں ۔۔ج۲ص۶۰۹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ یعنی وہ روایات جو ابوبکر قطیعی کی اپنے شیوخ سے ہیں ، عبد اللہ بن احمدبن حنبلؒ کے علاوہ۔ اور یہ مذکورہ روایت اسی حصہ کی یعنی اضافات قطیعی میں سے ہے ۔ چناچہ یہ راوی الحسن بن علی بن البصری ۔۔امام احمد بن حنبل ؒ کا شیخ نہیں بلکہ ابوبکر قطیعیؒ کا شیخ ہے ۔
  30. 1 like
    اسلام علیکم تما م اسلامی محفل کے ممبران کا کیا حال ہے اللہ پاک سب کو خوش رکھے آمین
  31. 1 like
    انبیاء علیہم السلام کی قبور کے اوپر پر مسجد بنانا منع ہے۔ قبور کے ساتھ علیحدہ مسجد نبوی بھی ہے جوکہ اب تک موجودہے۔ مدینہ منورہ میں مزار مبارک سید الشھداء سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے مزار کے قریب بھی مسجد ہے فقیر دیکھ آیا ہے اب تو اس کی تزئین ہورہی ہے ،الحمد للہ اسی طرح مسلم ممالک میں مزارات کے ساتھ مسجدیں بنی ہوئی ہیں۔ وھابیہ مغالطہ دیتے ہیں۔
  32. 1 like
  33. 1 like
    Pyary bhai Forum pe har koi Arbi achi tarha se nahi janta.. Ap Matlooba Ibaraton ka Tarjuma Bhi shukriya.. Jazak Allah..
  34. 1 like
    منتظم اعلی حضرت علامہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ 1۔ جنہوں نے 1952ء سے قادیانیوں کے خلاف باقاعدہ کام شروع کیا۔ 2۔ مرزائیوں کے خلاف آل پاکستان مسلم پارٹیز کے بورڈ کے رکن منتخب ہوئے۔ 3۔ 1953ء میں آرام باغ کراچی سے تحریک کا آغاز ہوا تو آپ پیش پیش تھے۔ گرفتاریاں دینے کے لئے نوجوانوںکے جتھے تیار کئے۔ 4۔ 15اپریل 1974ء کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی۔ 5۔ 30جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں ایک تاریخی قرارداد پیش کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ 6۔ بیرونی ممالک نیروبی‘ ماریشس‘ لاطینی امریکہ‘ سرینام‘ برٹش‘ گیانا ٹرینی ڈاڈ میں قادیانیوں سے مناظرے کئے۔ یہ مناظرے بند کمروں میں نہیں‘ مجمع عام میں ہوئے اور قادیانیوں کو مکمل شکست دی۔ اس کے علاوہ ٹرینی ڈاڈ اور جنوبی امریکہ اور نیروبی میں مرزائی مناظر ذلیل ہوکر کتابیں لے کر بھاگ گئے۔ 7۔ مرزائیوں کے سربراہ مرزا ناصر الدین کو قومی اسمبلی میں شکست دی۔ بالاخر آپ کی کوششوں سے آپ کی پیش کردہ قرارداد پر 7ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ 8۔ آپ کے مناظروں کو دیکھ کر 400قادیانیوں نے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ آپ قادیانیوں کے خلاف ننگی تلوار تھے۔
  35. 1 like
    اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا ۔بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِ۔يْمًا اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بےشک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا(سورہ نسا ۔۱۵۷۔۱۵۸) یہود کا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کو قتل کر دیا (نعوذ باللہ) یہاں اللہ پاک نے یہود کہ اس قول کی دو ٹوک الفاظ میں نفی کریدی اور ما قتلوہ اور ما صلبوہ کہ کر ان کے قتل مطلق کی نفی فرما دی اور یہ فرما دیا کہ بل رفعہ اللہ الیہ یعنی ، بلکہ اللہ نے اٹھا الیا اس کو اپنی طرف۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ کو موت سے بچا کر اوپر آسمانوں میں اپنی طرف اٹھا لیا ۔ اب یہاں کچھ باتیں سمجھ لیجئے۔ ۱۔ بل رفعہ اللہ کی ضمیر اسی طرف راجع ہے جس طرف کہ ما قتلوہ اور ما صلبوہ کی ضمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ ما قتلوہ اور ما صلبوہ کی ضمیر یں حضرت عیسیٰ کے جسم و جسد اطہر کی طرف راجع ہیں۔ روح بلا جسم کی طرف راجع نہیں ہیں۔اس لیے کہ قتل کرنا اور صلیب چڑھانا جسم کا ہی ممکن ہے روح کا قطعا ناممکن ہے۔لہذا بل رفعہ کی ضمیر اسی جسم کی طرف راجع ہوگی جس جسم کی طرف ما قتلوہ اور ما صلبوہ کی ضمیریں راجع ہیں۔ساتھ ہی ساتھ یہ کہ یہود روح کے قتل کے مدعی نہ تھے بلکہ جسم کو وہ قتل کرنا چاہتے تھے اور بل رفعہ اللہ میں اس کی تردید کی گئی لہذا بل رفعہ سے مراد جسم(مع روح) ہی ہو گا نہ کہ صرف روح۔ ۲۔ اگر رفع سے رفع روح بمعنی موت مراد ہے تو قتل و صلب کی نفی سےکیا فائدہ؟ کیوں کہ قتل و صلب سے غرض موت ہی ہوتی ہے اور یہاں "بل "کے بعد بصیغہ ماضی" رفعہ" کو لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمہارے قتل و صلب سے پہلے ہی ان کو ہم نے اپنی طرف اٹھا لیا۔یہی بات ہے کہ جملہ ائمہ و مفسرین اس بات پر بالکل متفق ہیں آپ کوئی بھی مستند تفسیر اٹھا کر دیکھ لیجئے (کئی ایک کہ تراجم اب نیٹ پر بھی دستیاب ہیں) کہ حضرت عیسیٰ کا یہ رفع ان کی زندگی کی حالت میں ان کے جسد عنصری کے ساتھ ہوا۔مثلا ۱۔ علامہ ابن جریر طبری تفسیر جامع البیان میں اس آیت کے تحت سدی سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔نیز حضرت مجاہد سے روایت کرتے ہیں سیدنا عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے زندہ اٹھا لیا۔(جامع البیان جز ۶ص ۱۴،۱۵)۲۔علامہ ابن کثیر حضرت مجاہد کی روایت کو یوں نقل فرمایا ہے"یہود نے ایک شخص کو جو مسیح کا شبیہ تھاصلیب پر لٹکایاجبکہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمانوں پر اٹھالیا۔(ج۳ص۱۲)۳۔اب لفظ رفع کے بارے میں کچھ باتیں سمجھ لیجئے ۔ لفظ رفع قرآن مجید میں مختلف صیغوں کی صورت میں کل ۲۹ دفعہ استعمال ہوا ہے۔ ۱۷ مرتبہ حقیقی اور ۱۲ مرتبہ مجازی معنوں میں ۔ گو کہ رفع کے معنی اٹھانے اور اوپر لے جانے کہ ہیں لیکن وہ رفع کبھی اجسام کا ہوتا ہے کبھی معانی و اعراض کا، کبھی اقوال و افعال کا ہوتا ہے اور کبھی مرتبہ و درجہ کا۔ جہاں رفع اجسام کا ذکر ہو گا وہاں رفع جسمانی مراد ہو گی۔اور جہاں رفع اعمال و درجات کا ذکر ہو گا وہاں رفع معنوی مراد ہو گا۔یعنی جیسی شے ہو گی اس کا رفع بھی اس کے مناسب ہوگا مثال۱۔ رفع جسمانی و رفع ابویہ علی العرش (یوسف ۱۰۰) اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر۔ ۲۔ رفع ذکر و رفعنا لک ذکرک۔ اور ہم نے آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا۔ ۳۔ رفع درجات ورفعنا بعضھم فوق بعض درجٰت(الزخرف ۳۲) اور بلند کر دیئے درجے بعض کے بعض پر ۔ اب یہاں جیسی شے ہے ویسے ہی اس کے مناسب رفع کی قید ہے جیسا کہ آخر میں خود ذکر و درجے کی قید موجود ہے۔ رفع کی مذکورہ تعریف اور مثالوں سمجھنے کے بعد اب یہ سمجھنا کہ قرآن میں جہاں کہیں رفع آئے گا وہ روحانی یا درجات کا ہی رفع ہوا گا محض ایک جہالت کی بات ہ۔ ۔ یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ اس آیت میں آسمان کا لفظ تو نہیں بلکہ صرف اتنا ہے کہ اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کواوپر آسمانوں کی طرف اٹھا یا ہو کیونکہ اللہ پاک تو ہر جگہ موجود ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لی جائے کہ اللہ رب العزت کے لیے فوق و علو ہے ،گو کہ وہ جہت و مکان سے منزہ ہے لیکن انسانی تفہیم کے لیے اور کسی جہت و جگہ کی تکریم کے لیےاس نے اسے اپنی طرف منسوب بھی فرمایا ہے، انہی معنوں میں قرآن میں کہا گیا ہے: [ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْر(سورہ ملک ۱۶) ترجمہ: کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پس یکایک وہ لرزنے لگے۔ اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۭ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْر(سورہ ملک ۱۷) کیا تم اس سے نڈر ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے وہ تم پر پتھر برسا دے پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہے۔(مرزا بشیر الدین نے ام امنتم من فی السما کا ترجمہ آسمان میں رہنے والی ہستی سے کیا ہے۔تفسیر صغیر ص ۷۶۰) اسیا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نزول وحی کے انتظار میں باربار آسمان کی طرف دیکھا کرتےتھے۔ قَدْ نَرٰى تَ۔قَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ(بقرہ ۱۴۴) ترجمہ: بے شک ہم دیکھتے ہیں بار بار اٹھنا تیرے منہ کا آسمان کی طرف۔ نیز یہ حدیث بھی ملاحظہ فرمایئے۔ وعن أبي الدرداء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : " من أشتكى منكم شيئا أو اشتكاه أخ له فليقل : ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض كما أن رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على هذا الوجع . فيبرأ " . رواه أبو داود (بحوالہ مشکوٰۃ حدیث ج۲ نمبر ۳۴) ترجمہ: حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " تم میں سے جس شخص کو کوئی بیماری ہو یا اس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو اسے چاہئے کہ یہ دعا پڑھے۔ ہمارا پروردگار اللہ ہے، ایسا اللہ جو آسمان میں ہے، تیرا نام پاک ہے، تیری حکومت آسمان و زمین (دونوں) میں ہے، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی تو اپنی رحمت زمین پر نازل فرما، تو ہمارے چھوٹے اور بڑے گناہ بخش دے تو پاکیزہ لوگوں کا پروردگار ہے (یعنی ان کا محب اور کا رساز ہے اور تو اپنی رحمت میں سے (جو ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے رحمت عظیمہ) نازل فرما، اور اس بیماری سے اپنی شفا عنایت فرما " (اس دعا کے پڑھنے سے انشاء اللہ بیمار) اچھا ہو جائے گا۔ ( ابوداؤد ) نیز مزے کی بات یہ ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے رفعہ اللہ کے معنی آسمان کی طرف اٹھایا جانا لکھے ہیں۔ "رافعک کے معنی یہی معنی ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ فوت ہو چکےتو ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی (ازالہ اوہام ص ۲۶۶، خزائن ج۳ص۲۳۴)۔ نیز حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کرآسمانوں پر جا بیٹھے۔(حاشیہ براہیں احمدیہ ص ۳۶۱، خزائن ج۱ ص ۴۳۱)۔نیز مرزا نے مزید لکھا ہے کہ"شریعت نے دو طرفوں کو مانا ہےایک خدا کی طرف اور وہ اونچی ہے جس کا مقام انتہائی عرش ہےاور دوسری طرف شیطان کی اور بہت نیچی ہےاور اس کا انتہا زمین کا پاتال۔غرض یہ کہ تینوں شریعتوں کا متفق علیہم مسئلہ ہےکہ مومن مر کر خدا کی طرف جاتا ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔تحفہ گولڑویہ ص ۱۴) گویا کہ حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ اختلاف نہیں کہ کس طرف اٹھائے گئےقادیانیوں کو بھی تسلیم ہے کہ رفع آسمانوں کی طر ف ہوا یعنی جہت رفع میں کوئی اختلاف نہیں ہاں حالت رفع میں ہے جس کی وضاحت میں نے پہلے ہی کر دی ہے۔چنانچہ بل رفعہ اللہ الیہ یعنی اللہ نے حضرت عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا کہ معنی یہی ہیں کہ اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ (معارج ۴)چڑہیں گے اس کی طرف فرشتے اور روح ۔ (اس کی طرف یعنی اللہ کیطرف) سے مراد یہی ہے کہ آسمان کی طرف چڑھتے ہی
  36. 1 like
  37. 1 like
    IMAM BUKHARI NE APNI SAHEEH ME KAI JAGAH APNE MAUQIF PER ISTEDLAAL KARTE HUE MAZMOON SE MUKHTALIF AHADITH SE ISTEDLAL KIA HAI UNKA FIQHI RUJHAAN SHAFAI MASLAK KI TARAF HAI MAGAR BA FARZE MUHAAL UNHE MUJHTAHID MAAN LIA JAAYE TO B UNKA FIQH BOHOT KAMZOR SAABIT HOTA HAI
  38. 1 like
    Jawab with scans in single pdf file: http://www.scribd.com/doc/154878713/Nabi-Kareem-ke-Barazakhi-Azdwaji-Zindagi-Shabbashi-per-Aetiraz
  39. 1 like
    اسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ محمّد علی بھائی اللہ پاک کا آپ پر کرم ہوا ، آپ کو اللہ پاک دونوں جہاں میں کامیاب و کامران کرے ، آپ کا واقعہ درس عبرت ہے آپ ہمارے تھے جناب اس لئے آپ کو ہماری جانب کھینچ لیا گیا ، ہمیشہ خوش رہیں انشا اللہ عزوجل ہم اسی مذہب اہل سنت اور مسلک اعلاحضرت پر قائم و دائم رہینگے اللہ پاک اہل سنت کے جملہ مسائل حل کرے ہمیں سچا پکا سنی مسلمان رکھے کہ ایمان کی دولت سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے
  40. 1 like
    السلام علیکم الحمداللہ ، اللہ نے اپنے حبیب کے صدقےوطفیل ہمیں اولادِ نرینہ کے نعمت سے نوازا ہے۔ آپ سب سے دعاوٗں کی خاص التجا ہے کہ اللہ اس بچے کو بدمذہبوں بددینوں کے شر سے محفوظ رکھے اور اپنے حبیب سرورِ دوعالم کی غلامی میں قبول فرمائے۔ آمین۔
  41. 1 like
  42. 1 like
  43. 1 like
    السّلام و علیکم، جزاک اللہ خیراً مغل بھائی یہ خزانہ شیئر کرنے کا بے حد شکریہ، اللہ عزّوجل آپ کے علم اور عمر میں اضافہ فرمائے۔ آمین اللہ حافظ
  44. 1 like
    (1) qasim nanotvi (2) rasheed gangohi (3) khalil anbethvi (4) ashraf ali thanvi jo in ki kufriya ibarat ko sahi kahe won bhi in ke hukam main dakhil hai.
  45. 1 like
    بعض اولیاء کو۔۔۔ محفوظ از خطا۔۔۔۔اور۔۔۔۔الہاماً تلمیذ الرحمِن ۔۔۔ ماننا
  46. 1 like
  47. 1 like
    awwalan sab say pahli baat tu yeh hai ... keh imam hasan nay qatil ka naam bataya hi nahi jesa ke kutub main mojod hai ... qurtbi aik morrikh hain morrikh ko jo waaqiyat milte hen woh naqal kardete hen. tahqeq karna un ka kaam nahi hota .. ab us ke kuch arsa bad ka hi waqiya lai lain yazeed ki maut ka kisi bhi morrikh nay aisi wajah nahi likhi jis par sab nay ittefaq kya ho.. hadith ki tarah is main asmae rijal nahi hotay .. lakin jab khud imam hassan nay hi qatil ka naam nahi bataya .. tu baqi sab morrikho ke ya tu qayasat hain ya phir unhain is tarah ke waqiyat mile hen .. aur inhonay bagair tahqeq ke byan kardya .. kunke un ka maqsood tarekh main sihah e sittah likhna nahi hota jo baat ,maloom howi unhain byan karna hota hai..phir morrikh ne jo likha hai woh yeh bhi zaroori nahi keh is ka moqqaf hoo kunke tarekh me zaeef qaol bhi hote hen... agar waqayi ap ko zehar ap ki biwi nay dya hai tu tu is baray main bhi wazih saboot nahi hai keh hazrat ameer e mowiyah ke ima par hi howa hai ... warna imam hussain radi ALLAHOTALA Anho jab karabala main yazeed aur us ke rafeeqo ki muzammat karsakte hen tu imam hassan ke qatilo ko aap ne be niqab kyon nahi kya ...hadith main hai jo burai dekehe usay hath say rokay zuban say rokay tu karabala main aap ne hath say bhi roka zaban say bhi roka lakin yahan taqiyah ki kya hikmat posheda thhi ? yakenan jawab wahi hai keh imam hassan nay qatil ka nam hi nahi bataya .. tu imam hussain mahaz zann ki buniyad par kisi be gunah par ilzam kyon rakhte... jab ke yahan tu yeh bhi sabot nahi keh imam hussain ke zann say yeh baat guzri hoo keh ameer mowiyah ki wajah hazrat hassan shahed howe hen ... hussainiat imam hussain ke naam par ronay petne ya nachne ka naam nahi balke hussinayat imam hussain ki taleemat wa sabar jo ap ne karbala ke medan main thame rakha us ko nibahne ka naam hai .................. zamukhshari ahlesunnat ka nahi hai muatazli hai.. tafseer kashaf ka mutala zara gaur say karlete tu yeh qayas ma al fariq aap say na hota ..... ansari tilmasani bhi morrikh hai aur morrikh ke baray maine wazahat kardi hai... .......... aik aur mudahaka khaiz baat yeh hai koi bhi hawla 500 sanh hijri say pahle yani awail ke door ka nahi hai yeh sari kitabain 500 saal baad jo tareekh likhi jayeegi un ke hain.. woh bhi in wojohat ke hotay howee manna ? jo hum nay byan kardi....
  48. 1 like
  49. 1 like
    Shariq bhai pehly islamimehfil ko ghoom phir kar dekh tu lain ke yahan kiss kiss ka jawab diya gaya hai aur kiss ka nahi aur kinhon ne jawab diya aur kon forum chor kar bhagh gai. brother aghar app ko Ahl-e-Sunnat ya Ala Hazrat per ajj tak kisi aitraaz ka jawab nahi mila tu saboot ke sath aitraaz karain jawab daina humara kaam hai.
  50. 1 like
    in logo k aqaid aur nazriyat me share karoon to aap logo ko inki gandi zehniyaat ka andaza kuch na kuch to zaroor hojay ga aik baar Nighat Hashmi ki Student (bal k mureeed e khaas keh lain to byja na hoga) ny farmaya: "Nabi sirf aik messenger hain.........apko aik example dy k samjhati hun........jistarha aik school ki principal KISI PEON K ZARIYE messege bhijwati hain kisi teacher k pas..........BILKUL ISI TARHA Nabi b ALLAH ka messege hamen deny k liye bhejy gay hain" sharm uj ko magar nhe aati....... is misal ko mulahiza farmaiye.........inki soch reflect horhi hy is sy...... ALLAH ki misal k liye is ny principal ka word use kiya........ hamary meethy meeethy AAQA k liye PEON ki misal tk deny sy gurez na kiya................???? (al amaan walhafeeez) {bughz e Nabi to dekhiye.......!!! } aur apny aap ko AAQA sy b ooper ka darja ata farma diya.......aur TEACHER bun bethi.......!!! ary esy aqeeda rakhny waly to gadhon aur kuttoon sy b zaleel hain..........!!! ac gustakhi to shayad jahilon k baap (abu jahal) ny b na ki ho......!!! mujy aaj tk us gustakh k ye words yaad hain..........!!!