Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 02/19/2018 in all areas

  1. 3 likes
    ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
  2. 3 likes
    المعجم الاؤسط للطبرانی اردو Jild # 1 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild1/al mu'jam al awsat Jild 1.pdf Jild #2 https://archive.org/download/Al-Muajam-ul-Aosat-lil-Tabrani/AlMujamAlAwsatJild2.pdf Jild # 3 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild3/al mu'jam al awsat Jild 3.pdf Jild # 4 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild4/al mu'jam al awsat Jild 4.pdf Jild # 5 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild5/al mu'jam al awsat Jild 5.pdf Jild # 6 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 6.pdf Jild # 7 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 7.pdf
  3. 2 likes
    واقعہ حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃ اللہ علیہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی ( القولی الجلی مترجم اردو ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ442 اردو) ( القول الجلی فارسی ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ336 فارسی ) سوال یہ ہے کہ اسی مجذوب بزرگ کا واقعہ اگر اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرمائیں تو ان کے ملفوظات کو لے کر دیوبندی حضرات گندی گندی گالیاں نکالتے ہیں اور لعنتیں بھیجتے ہیں کیا وہی دیوبندی حضرات حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گندی گندی گالیاں دینگے اور ان پر لعنت بھیجیں گے ؟ دیوبندیوں یہودیانہ فطرت چھوڑ دو ، چھوڑ دو یہ منافقت اور دو رنگی یا پھر شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گالیاں دو اور لعنتیں بھیجو ، کیوں سادہ لوح مسلمانوں کو جھوٹ بول کر گمراہ کرتے ہو خود تو گمراہ ہوئے سادہ لوح لوگوں کا ایمان و عقیدہ کیوں برباد کرتے ہے جھوٹ بول کر جھوٹا مفہوم بیان کر کے اور کیوں فتنہ و فساد پھیلاتے ہو شرم تم کو مگر نہیں آتی آئے بھی کیسے شرم و حیاء باقی ہو تو آئے دعا ہے اللہ تمہیں ہدایت عطاء فرمائے
  4. 2 likes
    مسجد میںقربانی کی کھال، زکوٰۃ، خیرات اور صدقہ لگتا ہی نہیں مسجد میں نیک کمائی سے مدد کرسکتے ہیں بدمذہب کو چندہ دینا بد مذھبیت کو پھیلانا ہے۔ واللہ ورسولہ اعلم
  5. 2 likes
    ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے علامہ ابن عدی کی کتاب سے حدثنا علي بن سعيد حدثنا الحسين ابن عيسى الرازي حدثنا سلمة بن الفضل ثنا حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ((إذا رأيتم فلاناً على المنبر فاقتلوه). (الکامل لابن عدی 6/112) اس روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار تیسرے طبقہ کا مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔اور اس روایت میں فلانا کا لفظ ہے نام کی تصریح موجود نہیں۔ اس کے علاوہ محمدبن اسحاق کا شاگرد سلمہ بن الفضل الأبرش بھی کثیر الغلط راوی ہے۔ ایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے حديث جابر بن عبدالله روى سفيان بن محمد الفزاري عن منصور بن سلمة (ولا بأس بمنصور) عن سليمان بن بلال (ثقة) عن جعفر بن محمد (وهو ثقة) عن أبيه (ثقة) عن جابر بن عبدالله رضي الله عنه مرفوعاً (إذا رأيتم فلاناً اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں فلانا کا لفظ ہے ۔اس کے علاوہ سفیان بن محمد الفزاری سخت ضعیف ہے حدثني إبراهيم بن العلاف البصري قال، سمعت سلاماً أبا المنذر يقول: قال عاصم بن بهدلة حدثني زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر فاضربوا عنقه أنساب الأشراف (5/130) برقم (378) اس روایت میں ابراہیم بن العلاف بصری مجہول ہے اس کی توثیق امام ابن حبان کے علاوہ کسی امام نے نہیں کی۔اور امام بن حبان کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں۔ حدثنا يوسف بن موسى وأبو موسى إسحاق الفروي ، قالا : حدثنا جرير بن عبد الحميد ، حدثنا إسماعيل والأعمش ، عن الحسن ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه"، فتركوا أمره فلم يفلحوا ولم ينجحوا. أنساب الأشراف (5/128) اس راویت میں اسماعیل بن ابی خالد اور امام اعمش کا سماع امام حسن بصری سے محل نظر ہے۔اس کے علاوہ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سما ع آپ علیہ السلام سے نہیں ہے۔ حدثنا الساجي قال : ثنا بندار قال : ثنا سليمان قال : ثنا حماد بن زيد قال : قيل لأيوب إن عمراً روى عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال [ إذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ] قال أيوب كذب الكامل (5/103) اس راویت میں عمرو بن عبید بن باب کذاب ہے خود اسی راویت میں امام ایوب کیسان السختیانی نے جرح کی۔
  6. 2 likes
  7. 2 likes
    اہل خبیث اس طرح کی مبہم جرح جو جھوٹی حسد کینا لوگوں کی پھیلائی ہوئی لوگوں کو دیکھا کر پریشان کرتے ہیں۔ وہابیون کے بڑے ملاوں نے ان بکواسوں کا رد پہلے ہی کر دیا۔ انکے گھر کی گواہی اس طرح کی حسد و کینا کی بنیاد پر پھیلائی گئی باتوں کا رد امام ابن عبدالبر نے کر دیا تھا۔ مزید اگر وہ تنگ کرے اور نہ مانے تو اس وہابی کو اسکے اپنے گھر سے بہت سی شہادتیں دے دینگے جیسی ایک پہلے پیش کر دی گئی
  8. 1 like
    اسلام علیکم تما م اسلامی محفل کے ممبران کا کیا حال ہے اللہ پاک سب کو خوش رکھے آمین
  9. 1 like
    : وہابیہ کا چہیتا امام ابن تیمیہ اپنی کتاب منہاج السنہ، ج 4 ص 400 میں اقرار کرتاہے وطائفة وضعوا لمعاوية فضائل ورووا أحاديث عن النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك كلها كذب لوگوں کی ایک جماعت نے معاویہ کے فضائل گھڑے اور اس سلسلے میں رسول اللہﷺ سے احادیث بیان کردیں جن میں سے سب جھوٹی ہیں ۔ کیا ابنِ تیمیہ کی یہ بات درست ہے؟
  10. 1 like
    Asalamoalikum. Janab mashallah se 14.nov.2018 ko 11:18 am pe mery ghar beti ki wiladat hue hai .is he silsily main apni beti ka naam Aliza rakhna chahta ho kuch websites pe main ne parha hai k aliza hazrat ali ki beti ka naam hay kia yrh baat sahi hay ?pls jawab jald se jald inayat farmaye. Or sath main kuch mubarak islami naam bhi bata dain .jazak Allah
  11. 1 like
  12. 1 like
  13. 1 like
    امام طبرانی ؒ اپنی کتاب المعجم الکبیر میں با سند ایک روایت نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن یوں ہے 1052 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، ثُمَّ قَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ وَنُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، قَالَتْ: فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِكَ «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ نُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا فَهَلْ [ص:434] كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: «هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنُي، وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَنِي بَكْرٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ وَلَا تُعْلِمُ أَحَدًا، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُوهَا فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ مَا هَذَا الْجِهَازُ؟ قَالَتْ: وَاللهِ مَا أَدْرِي، قَالَ: مَا هَذَا بِزَمَانِ غَزْوِ بَنِي الْأَصْفَرِ فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، قَالَتْ: فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يَنْشُدُهُ: [البحر الرجز] يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا ... حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلُدَا إِنَّا وَلَدْنَاكَ فَكُنْتَ وَلَدًا ... ثَمَّةَ أَسْلَمْنَا فَلَمْ تَنْزَعْ يَدًا إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَ ... وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا وَزَعَمَتْ أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدًا ... فَانْصُرْ هَدَاكَ اللهُ نَصْرًا أَلْبَدَا وَادْعُ عَبَادَ اللهِ يَأْتُوا مَدَدًا ... فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ قَدْ تَجَرَّدَا أَبْيَضُ مِثْلُ الْبَدْرِ يُنَحِّي صُعُدًا ... لَوْ سِيمَ خَسَفَا وَجْهِهِ تَرَبَّدَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ، ثَلَاثًا، أَوْ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، ثَلَاثًا،» ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصِبٍ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّحَابَ لَيَنْتَصِبُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَنُصِرَ بَنِي عَدِيٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَ خَدُّكَ وَهَلْ عَدِيٌّ إِلَّا كَعْبٌ وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيٌّ، فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَاكَ السَّفَرِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ عَمِّ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً» ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ مَرْوَ وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ قَدْ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَأَشْرَفُوا عَلَى مَرْوِ فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ فَقَالَ: يَا بُدَيْلُ لَقَدْ أَمْسَكَتْ بَنُو كَعْبٍ أَهْلَهُ فَقَالَ: حَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ، ثُمَّ هَبَطُوا فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَسَأَلُوهُمْ أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَذَهَبُوا بِهِمْ فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْمِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ فَقَالَ: أَسْفِرُوا فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وُضُوءَهُ يَنْضَحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِمُلْكٍ وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ حضرت اُمّ المؤمنین میمونہؓ فرماتی ہیں انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کرتے ہوئے تین مرتبہ لبیک لبیک لبیک کہی اور تین مرتبہ نصرت نصرت نصرت (تمہاری امداد کی گئی) فرمایا۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میں نے آپؐ کو تین مرتبہ لبیک اور تین مرتبہ نصرت فرماتے ہوئے سنا جیسے آپ کسی انسان سے گفتگو فرما رہے ہوں۔ کیا وضو خانے میں کوئی آپ کے ساتھ تھا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ بنو کعب کا رِجز خواں مجھے مدد کے لئے پکار رہا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ قریش نے ان کے خلاف بنوبکر کی امداد کی ہے۔ تین دن کے بعد آپ ؐ نے صحابہ کو صبح کی نمازپڑھائی تو میں نے سنا کہ رِجز خواں اشعار پیش کررہاتھا حالانکہ وہ (عمر بن سالم راجز) اس وقت مکہ میں تھا اور قریش کی عہد شکنی پر اس نے حضور علیہ السلام سے فریاد کی۔بنو خزاعہ جو کہ حضور علیہ السلام کے صلح حدیبیہ کے بعد حلیف بنے اور بنو قریش کے حلیف بنے اور معاہدہ ہوا کہ دس سال تک جنگ نہ کریں گے قریش نے بد عہدی کی اور بنو بکر کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ کا قتل عام کیا اس وقت جناب راجز نے مکے میں ہی حضور علیہ السلام کو مدد کے لئے پکارا بعد ازاں حضور نے قریش پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہو گیا اور طرح ظاہری و باطنی امداد کا ظہور ہوا اس یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ نبی پاک سے تین دن کی دوری پر بھی مدد کے امداد مانگنے کے لیے نبی پاک کو پکارتے اور نبی پاک بھی اللہ کی عطا و طاقت سے انکی پکار سنتے بھی اور امداد بھی کرتے ۔۔ جس کو آج کل غیر مقلدین نے شرک سمجھ لیا ہے ۔ صحابہ کرام نے اسکو شرک نہ سمجھا اور نہ ہی نبی پاک نے انکو یہ عمل کرنے سے روکا بلکہ انکی امداد فرمائی !!! اس روایت کو امام طبرانی کے علاوہ ایک اور محدث نے بھی نقل کیا ہے ۔ جن کا نام ہے امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) وہ اس روایت کو اپنی سند سے نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن کچھ ایسے ہے 19 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ , قثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ مَيْمُوَنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاةِ فَسَمِعَتْهُ , يَقُولُ: " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلاثًا , أَوْ نُصِرْتَ نُصِرْتَ ثَلاثًا.بلخ۔۔۔۔۔۔ (الكتاب: العاشر من الفوائد من حديث المخلص برقم الحدیث 19) اس سند کے سارے راوی ثقہ ہیں اور اس سند میں کوئی ضعف نہیں ہے ۔ لیکن غیر مقلدین کے عقائد کے خلاف جو بھی روایت انکو نظر آئے تو یہ اسکو ضعیف یا موضوع بنانے سے بعض نہیں آتے ایسا ہی کچھ وہ اپنی ویب سائٹ پر اس روایت پر کیے ہوئے ہیں ۔ خیر میں انکی ایک ایک جرح یا علت جسکو وہ بیان کر کے اپنے مسلک کے سادہ لوگوں کو پاگل بناتے ہیں تحقیق کے نام پر ۔۔ اور وہ لوگ انکی کاپی پیسٹ تحقیق کو اٹھا کر اہلسنت پر ہنستے ہیں ۔۔۔ غیر مقلدین کے اعتراضات کا رد بلیغ ۱۔امام ہیثمیؒ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد رقم طراز ہیں کہ ''رواہ الطبراني في الصغير والكبير وفيه يحي سليمان بن نضلة وھو ضعيف'' (مجمع الزوائد :۶؍۱۶۴) ''اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الصغیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں یحییٰ بن سلیمان نامی راوی ضعیف ہے۔'' امام ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی اس راوی پر کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال : ۳؍۲۹۲ اور لسان المیزان :۶؍۲۶۱ ۲۔اس کی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ لایعرف(میزان الاعتدال :۳؍۸۳) یعنی یہ راوی مجہول ہے اور مجہول راوی کی روایت ضعیف کہلاتی ہے۔ ۳۔اس کی سند میں محمد بن نضلہ نامی راوی کے حالات کتب ِرجال سے نہیں ملتے لہٰذا یہ بھی کوئی مجہول راوی ہے۔ غیر مقلدین کی طرف سے پیش کیے گئے پہلے اعتراض کا جواب۔۔۔۔۔ امام ہیثمی نے یہاں سلیمان بن نضلة کو ضعیف کہہ دیا لیکن انکی حسب عادت کے خلاف انہوں نے یہاں کسی امام کا حوالہ نہ لکھا بلکہ بغیر کسی امام کی جرح لکھی انکو ضعیف کہہ دیا ۔ جبکہ کتب رجال میں جب آپ سلیمان بن نضلة کے بارے میں پڑھتے ہیں تو امام ابن صاعد انکے بارے میں فرماتے ہیں کہ انکا رتبہ بہت بلند و اعلیٰ تھا ۔ امام ابن حبان انکو الثقات میں درج کرتے ہیں اور لکھتے ہیں وھم بھی کر جاتا تھا ۔ (یہ کوئی جرح مفسر نہیں اور نہ ہی اس سے راوی ضعیف ہوتا ہے یہ بالکل ہلکی پھلکی بات ہے جس سے راوی حسن الحدیث درجے کا تو ضرور رہتا ہے ۔) اس راوی پر آ جا کر جرح ملتی ہے تو فقط ایک بندے سے جسکا نام ابن خراش ہے وہ کہتا ہے کہ یہ (سلیمان بن نضلة ) کسی ٹکے کا نہیں ہے پہلی بات یہ جرح کس بنیاد پر کی گئی اسکی وجہ معلوم نہیں اور یہ جرح کے کس درجے کی جرح ہے یہ بھی نہین لکھا غیر مقلدین نے۔ دوسری بات یہ جرح کرنے والا ابن خراش خود شیعہ رافضی اور کذاب ہے امام ذھبی سیر اعلام النبلاء میں اسکے ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں ابن خراش الحافظ ، الناقد ، البارع أبو محمد ، عبد الرحمن بن يوسف بن سعيد بن خراش ، المروزي ثم البغدادي وقال ابن عدي : قد ذكر بشيء من التشيع ، وأرجو أنه لا يتعمد الكذب وقال أبو زرعة محمد بن يوسف الحافظ : خرج ابن خراش مثالب الشيخين ، وكان رافضيا امام ذھبی اس پر امام ابن عدی اور ابو زرعہ کی طرف سے رافضی شیعہ اور کذب کی جرح لکھنے کے بعد اپنا فیصلہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں قلت : هذا معثر مخذول ، كان علمه وبالا ، وسعيه ضلالا ، نعوذ بالله من الشقاء (امام ذھبی کہتے ہیں )میں کہتا ہوں یہ بے یار و مددگار گروہ ہے انکا علم ایک وبال مصیبت ہے اور انکی کوشش گمراہی ہے ہم اللہ سے انکی بد بختی سے پناہ مانگتے ہیں ایسے شخص جو خود رافضی کذب بیانی کرنے والا ہو اسکی طرف سے کی گئی جرح سے ایک حسن الحدیث درجے کے راوی کو ضعیف مان لینا غیر مقلدین کا ہی مذہب ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا عتراض غیر مقلدین سے یہ ہے کہ اسکی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی مجہول ہے ۔ الجواب: اس راوی کی متابعت دوسرے راوی امام یحییٰ بن محمد بن صاعد نے کر رکھی ہے اور یہ راوی سلیمان بن نضلہ سے سماع کرنے والے ہیں او رحفاظ الحدیث میں سے ہیں ۔ امام خطیب بغدادی انکے ترجمے میں فرماتے ہیں 7489- يَحْيَى بْن مُحَمَّد بْن صاعد بْن كاتب أَبُو مُحَمَّد مولى أبي جَعْفَر المنصور كَانَ أحد حفاظ الحديث، وممن عُني بِهِ، ورحل فِي طلبه، وسمع: الْحَسَن بْن عيسى بْن ماسرجس، وَمُحَمَّد بْن سُلَيْمَان لوينًا، ويحيى بْن سُلَيْمَان بْن نضلة الخزاعي، (ج 16 ص 341) تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا ۔۔۔۔ تیسرا اعتراض: کہ اسکی سند میں محمد بن نضلہ کے حالات کتب رجال میں نہیں ملے لہذا یہ مجہول ہے الجواب: اس روایت کا ایک اور حوالہ امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) کی کتاب کا دیا ہے جس میں یہ راوی موجود ہی نہیں تو غیر مقلدین کا اس راوی کی توثیق کا مطالبہ کرنا ہی بیکار ہوا تیسری اہم بات غیر مقلدین سلیمان بن نضلة کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے فقط امام الہیثمی کا قول نقل کرتے ہیں ۔ اگر اس سند میں انکے علاوہ کوئی مجہول راوی ہوتا تو امام ہیثمی اسکا زکر پہلے کرتے پھر اس راوی کا ضعف بتاتے لیکن امام ہیثمی نے صرف ان کی ضعف کی طرف اشارہ کیا اور کسی راوی پر جرح نہیں کی یعنی انکے نزدیک طبرانی کی سند میں صرف ایک ضعف انکے نزدیک تھا کہ سلیمان بن نضلہ ضعیف ہے اور جبکہ اس پر جرح ہی مبھم ہے اور جرح کرنے والا خود رافضی ہے اور دوسرے راوی پر مجہو ل کا الزام لگایا جبکہ وہ صحابہ میں سے ہے اور اسکی دوسری سند میں یہ راوی ہی نہیں تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا اور یہ سند کم از کم حسن الحدیث درجے کی سند ہے ۔۔۔ وہابیہ کی ایک ویب سائٹ اسلامی ویب پر بھی اس سند کو حسن قرار دیا گیا ہے جس کا عکس تمام ثبوت کے اسکین کے ساتھ نیچے موجود ہے (((((((( دعا گو۔ رانا اسد فرحان الطحاوی الحنفی ✍️ 28 اگست 2018)))))
  14. 1 like
    رد الشمس والی روایت پر غیر مقلدین کے اعتراضات کا مدلل جواب ردالشمس والی مشہور روایت جس میں نبی پاک کے معجزے کا زکر ہے کہ انہوں نے حضرت علیؓ کی عصر کی نماز کی ادائیگی کے لیے سورج کو واپس پلٹایا اس روایت کی توثیق میں نے جمہور محدثین بشمول امام ابن حجرعسقلانی ، امام بدرالدین عینی، امام طحاوی ، امام قاضی عیاض ، امام جلال الدین سیوطی ، امام مغلطائی الحنفی ، امام ابن حجر مکی ، امام ابو بکر الہیثمی امام شامی ، امام شاہ ولی اللہ محدث ، امام زرقانی سمیت اور کئی محدثین کی توثیق دیکھائی تو ابن تیمیہ اینڈ کمپنی اور دیوبنہ کے پیٹ میں ایسے مروڑ پیدا ہوئے کہ ہر جگہ اسکو ضعیف ثابت کرنے کی کوشیش میں لگے ہیں جبکہ پہلے ابن تییمیہ کی اندھی تقلید میں موضوع سے کم اس پر حکم ہی نہ لگاتے تھے جبکہ یہ روایت بالکل صحیح اور پختہ دلیل ہے نبیؐ کے معجزے کی ۔ جمہور محدثین کی توثیق یہ ہے امام ابن حجرعسقلانی الشافعی شارح بخاری کا ابن تیمیہ اور ابن جوزی کا رد کرنا :۔ الحافظ شیخ الالسلام امام بن حجر عسقلانی الشافعی نے اس روایت کو حسن قرار دیا اور ایک دوسرے طرق کو دلیل قرار دیا کہ یہ روایت نبی کی نبوت کی دلیل ہے اور اس روایت ابن جوزی نے موضوع کہہ کر غلطی کی اور ایسے ابن تیمیہ نے بھی غلطی کی اس کو موضوع قرار دے کر۔ (فتح الباری شرح صحیح بخاری) امام بدرالدین عینی جو شارح بخاری ہیں اور اعظیم محدث کا رد الشمس کو صحیح قرار دینا:۔ امام بدرالدین کہتے ہیں کہ یہ روایت متصل ہے اور ثقات سے مروی ہے اور ابن جوزی کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں جس نے اس میں نقص نکالنے کی کوشیش کی ۔ (عمدتہ القاری شرح صحیح بخاری) امام الحافظ مغلطائی الحنفی:۔ امام مغلطائی فرماتے ہیں کہ ردالشمس والی روایت کو ثقات نے روایت کیا ہے (السرت المصطفیٰ) امام المحدث جلال الدین سیوطی الشافعی :۔ امام جلال الدین سیوطی ؒ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو امام طبرانی ، امام ابن مندہ اور امام طحاوی نے روایت کیا ہے اور اسکے بعض طرق صحیح کی شرط پر ہیں (الخصائص الکبریٰ) امام ابو جعفرالطحاوی (امام طحاوی نے رد الشمس کا باب قائم کیا اور اس باب میں دو مختلف طرق سے روایت نقل کی اور توثیق فرمائی ) (شرح مشکل الاثار) امام قاضی عیاض المالکی :۔ز ل، امام قاضی عیاض اس روایت کو دو طرق سے لکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ دونوں روایات صحیح ہیں اور ثقات سے مروی ہیں اور امام طحاوی سے مروی امام احمد بن صالح کا قول نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کے لائق نہیں جو علم حاصل کرنا چاہتا ہو اور وہ اسماء بنت عمیس والی روایت کو حفظ نہ کرے جبکہ اس میں نبوت کی نشانی ہے (الشفاء قاضی عیاض) امام ابو بکر الہیثمی امام ابو بکر الھیثمیؒ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اس کے سارے رجال ثقہ ہیں سوائے ابراہیم بن الحسن کے اور وہ بھی ثقہ ہیں ابن حبان نے انکو ثقہ کہا ہے اور فاطمہ بنت علی بن ابی طالب کو میں نہیں جانتا (مجمع الزائد) امام ابن حجر مکی شافعیؒ امام ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ اس روایت کو امام ابو زرعہ نے حسن قرار دیا ہے اور دوسرے محدثین نے بھی انکی تائید کی ہے اور رد کیا ہے انکا جو اسکو موضوع کہتے ہیں (الصوائق المحرقہ) اس کے علاوہ امام زرقانی نے بھی اس روایت کو توثیق کی اور ابن تیمیہ کا رد کیا ۔ ماضی قریب کے اعظیم شیخ و محقق الکوثریؒ نے بھی اس روایت کی توثیق کی اور ابن تیمیہ کے مکڑی کے کمزور دلائل کا مدلل رد فرمایا ، علامہ ابن عابدین الشامی نے بھی اس روایت کی توثیق فرمائی علامہ شاہ عبدالعزیز نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب میں جمہور محدثین اہلسنت کی طرف سے توثیق بیان کی ہے (تحفہ اثنا عشریہ ص 436) اسکے علاوہ اہلسنت کے دو اعظیم محدثین امام جلال الدین سیوطی اور امام ابن یوسف الصالحی نے اس موضوع پر پوری کتاب لکھ کر ردالشمس والی روایت کو صحیح قرار دیا اور ابن تیمیہ کا رد کیا ان دو کتب کے نام یہ ہیں ۔کشف البس فی حدیث رد الشمس ۔مزیل البس فی رد الشمس امام ابو زرعہ اور امام احمد بن صالح نے اس روایت کو صحیح قرار دیا بقول امام قاضی عیاض اسکے علاوہ اور کثیر محققین نے اس روایت کو حسن و صحیح قرار دیا اب بھی کوئی متعصب جو ابن تیمیہ ناصبی کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اس ضیعف یا موضوع قرار دیتا ہے تو وہ اس روایت پر متکلمین کی توثیق کے مقابلے متکلمین ہی سے اس روایت پر جرح مفسر پیش کرے کیونکہ متاخرین میں ابن تیمیہ اینڈ کمپنی نے اس میں نقص نکالے جبکہ اس سے پہلے متکلمین اور بعد والے متاخرین نے اس روایت کی توثیق کی ہے اب آتے ہیں معجم الکیر والی سند پر غیر مقلدین کے اعتراضات کی طرف وہابیہ نجدیہ کی طرف سے اس روایت پر دو راوی جو بشمول جمہور محدثین اور وہابیہ کے نزدیک بھی ثقہ ہیں لیکن کیونکہ بغض اہل بیت اور نبی کے مجعزہ کو ماننے سے انکے پیٹ کے کیڑے ایکٹوو ہو جاتے ہیں تو ان راویوں کو جھوٹا اور معاذاللہ کذاب تک ثابت کرنے کی جھوٹی کوشیش کرنے لگ گئے امام طبرانی نے اپنی معجم الکبیر میں اپنی سند سے اسکو بیان کیا جو کہ یہ ہے حدثنا جعفر ن احمد بن سنان الواسطی ثنا علی بن المنذر ثنا ممد بن فضیل بن مرزوق عن ابراھیم بن الحسن عن فاطمہ بنت علی عن اسماء بنت عمیس بلخ۔۔۔۔۔ اس سند میں ایک راوی فضیل بن مرزوق ہے جو کہ تشیع تھا لیکن ثقہ ، ثبت اور صالح تھا جس کی توثیق ان مندرجہ زیل محدثین نے کی ہے ۱۔ متشدد امام ابن حبان نے اسکو ثقات میں زکر کیا اور کہا کہ غلطی بھی کر جاتا اور عطیہ سے موضوع روایت مروی ہیں ۲۔امام ذھبیؒ نے اسکو الکاشف میں ثقہ لکھا ہے ۳۔امام ذھبیؒ نے میزان الااعتدال میں فضیل بن مرزوق پر جمہور کی توثیق نقل کر کے آخر میں ابن حبانؒ کی جو ہلکی پھلکی جرح ہے اسکا تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ابن حبان نے جو کہا کہ عطیہ سے موضوع روایت مروی ہے اس سے تو امام ذھبی کہتے ہیں قلت (میں کہتا ہوں )ٌ عطیہ تو خود ضعیف ہے اس سے یعنی عطیہ کی روایات کی وجہ سے فضیل بن مرزوق پر کوئی اعتراض نہیں آتا ۴۔امام عجلیؒ نے فضیل بن مرزوق کوالثقات میں درج کیا اور کہ یہ ثقہ جائز الحدیث اور سچا تھا اور تشیع تھا ۔ ۵۔امام ابن معین الحنفیؒ نے بھی فضیل بن مرزوق کی توثیق کرتے ہوئے اسکو ثقہ گردانہ ہے ۔ یاد رہے کہ وہابیہ ابن معین سے اسکو ضعیف ثابت کرتے ہیں جبکہ امام ابن معین سے اسکی توثیق بھی ثابت ہے لہذا جرح ساقط ہوئی ۶۔امام ابن شاھینؒ نے فضیل بن مرزوق کو تاریخ الثقات میں زکر کرتے ہوئے ثقہ کہا ہے ۷۔امام ابن حجر عسقلانی نے تو جمہور محدثین سے اسکو ثقہ ثابت کرتے ہئے مندرجہ زیل محدثین سے توثیق لکھی جن کے نام یہ ہیں امام شافعی ، امام ابن ابی حاتم امام ابن عینہ امام امام احمد بن حبنل امام ابن عدی امام ابن شاھین امام ابن حبان وغیرہ ہیں اور اس پر جرح کی ہے امام نسائی نے اور وہ متشدد ہیں اب آتے ہیں اس میں تشیع ہونے والے مسلے پر اصول جرح و تعدیل کے اہل علم لوگوں کو معلوم ہے کہ متقدمین میں تشیع سے مراد وہ لوگ ہوتے تھے جہ اہل بیت کا زکر زیادہ کرتے اور حضرت علی کو شیخین پر فضیلت دیتے اور ہر جنگ کے معاملے میں حضرت علی کو حق مانتے تھے اور بس تبھی امام ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں لکھا کہ متقدمین میں تشیع سے مراد ایسے لوگ جو محض شیخین کے ساتھ حضرت علی کو عثمان بن عفان پر ٖفضیلت دیتے اور بعض حضرت علی ؓ کو نبی پاک کے بعد سب پر فضیلت دیتے وہ بہت نیک ، صالح اور متقی پرہیزگزار تھے اور ایسا عقیدہ تو تابیعن اور تبع تابعین میں بہت سے لوگوں کا تھا تو فقط اسکی وجہ سے انکی روایت کو ترک نہیں کیا جا سکتا البتہ جب تک وہ اپنے عقائد کا داعی نہ ہو اور متکلمین سے تشیع سے مراد رافضی ہے جو کہ آج کے شعیہ ہیں انکی روایت کسی بھی حال میں منظور نہیں تو فضیل بن مرزوق خیر القرون کا راوی ہے اور اس کو تشیع متقدمین نے کہا ہے جیسا کہ ابن معین ، امام نسائی وغیر نے اور تبھی اسکو سچا جائز الحدیث اور ثقہ حجت قرار دیا وہابیہ کا دوسرا اعتراض کہ شیعہ کی روایت قبول نہیں ہوگی یہ والی کیونکہ اس میٰں حضرت علی کی شان بڑھ رہی ہے اور تشیع علی کی شان میں روایتیں گھڑہتے تھے الجواب : ان علمی یتیموں کو یہ بھی معلوم نے کہ ایک راوی جب تمام محدثین کے اتفاق سے ثقہ ہے تو تب اسکی روایت کیوں نہ قبول کی جائے گی ؟؟ جبکہ روایت گھڑہنے والا راوی کذاب ہوتا ہے اور اس روایت میں حضرت علی کی شان معاذاللہ نہ خلفائے راشدین سے افضل ثابت ہو رہی ہے نہ ہی نبی پاک سے ، بلکہ اس میں تو حضرت محمدؐ کا معجزہ ثابت ہو رہا ہے جو کہ انکی شان کو بڑھا رہا ہے اور نبوت کی نشانی ثابت کر رکا ہے تبھی امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں ابن تیمہ و جوزی کا رد کرتے ہوئے لکھا کہ اسکی اسناد حسن ہیں اور ابن تیمیہ نے غلطی کی خطائی کھائی اور ایسے ابن جوزی نے اسکو موضوع کہہ کر دوسرا راوی جس کو تشیع ثابت کر کے سادہ لوگوں کو یہ دھوکہ دیا جاتا ہے کہ رافضی کی روایت قبول نہیں جبکہ اوپر امام ذھبی اور امام ابن حجر سے متقکلمین اور متقدمین سے تشیع کی تشریح ثابت کر دی اور اگر اس پیمانے کو رکھ لیا جائے کہ ہر تشیع کی روایت قبول نہیں ہوگی تو پھر بخاری میں ۴۵ سے زیادہ راوی تشیع بیٹھے ہیں اور امام حاکم تشیع تھے اور امام عبدالرزاق امام بخاری کے دادا استاد بھی تشیع تھے لیکن اتنے برے کبیر محدث تھے وہابیہ کو چاہیے کہ انکی ساری کتب کو رد کر دیں خیر دوسرا راوی جس کا نام علی بن المنذر ہے اسکی توثیق ۔امام ابن حبان نے الثقات میں درج کیا ۲۔امام ابن حجر عسقلانی نے بھی اسکی توثیق کی اور مندرجہ زیل محدثین سے اسکی توثیق نقل کی ہے ا امام نسائی نے کہا ثقہ حجت ہے تشیع ہے امام دارقطنی نے کہا اس میں کوئی حرج نے ہے امام ابن ماجہ نے کہا کہ اکثر کے نزدیک حجت ہے امام ابن ابی حاتم نے کہا کہ ثقہ یعنی حجت ہے اس راوی پر تو کسی ایک امام نے بھی جرح نہیں کی بلکہ بالاتفاق یہ ثقہ حجت راوی ہے تو پھر اس وہابیہ نجدیہ کا اسکو تشیع سے حدیث گھڑنے والا راوی بنانا انکی جہالت اور بغض نبی ہی ہو سکتاہے (نوٹ ان تمام حوالاجات کے اسکین نیچے موجود ہیں ) دعا گو رانا اسد فرحان الطحاوی خادم حدیث ۱۴ جون ۲۰۱۸
  15. 1 like
  16. 1 like
    Imam al-Bayhaqi (rah) has also reported another version of the above narration through a different channel of transmission. وقد أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن محمد بن الحسين بن فنجويه الدينوري بالدامغان ثنا أحمد بن محمد بن إسحاق السني أنبأ عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي ثنا علي بن الجعد أنبأ بن أبي ذئب عن يزيد بن خصيفة عن السائب بن يزيد قال كانوا يقومون على عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه في شهر رمضان بعشرين ركعة قال وكانوا يقرؤون بالمئين وكانوا يتوكؤن على عصيهم في عهد عثمان بن عفان رضي الله عنه من شده القيام Sa'eeb bin Yazeed who said: "In the time of Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him), they would perform “20 rak'ahs” (Tarawih) in the month of Ramadan. He said (also): And they would recite the Mi'in, and they would lean on their sticks in the time of Uthman ibn Affan (Allah be pleased with him), from the discomfort of standing." [Bayhaqi Sunan al-Kubra Volume 002, Page No. 698-9, Hadith Number 4617] Imam al-Nawawi said: 'Its Isnad is Sahih'. (بإسناد صحيح) [Al-Khulasa al-Ahkam, Hadith Number 1961] نجدیوں کی اپنے گھر کی دلیل ٢٠ رکعت تراویح خلفائے راشدین کے زمانے سے چلی آرہی ہیں ... لگاؤ
  17. 1 like
    أَمَا عَلِمْت أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّ فَاطِمَةَ زَوْجَتُك فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. (رد المحتار: ج6 ص243) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے فرمایا تھا: (اے علی!) فاطمہ دنیا میں بھی تمہاری بیوی ہے اور آخرت میں بھی تمہاری بیوی ہے۔ یہ بعینہ ویسی دلیل ہے جیسی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماقبل میں گزری ہے جس میں نکاح کا باقی رہنا ثابت ہو رہا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کا یہ ارشاد فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا اپنی بیوی کو غسل دینا یہ آپ کی خصوصیت ہے، عام رواج اس وقت یہ نہیں تھا۔ مشہور فقیہ و محقق علامہ ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں: فَادِّعَاؤُهُ الْخُصُوصِيَّةَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَذْهَبَ عِنْدَهُمْ عَدَمُ الْجَوَازِ ـ. (رد المحتار: ج6 ص243) ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اپنی خصوصیت کا دعویٰ پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت صحابہ کے ہاں بیوی کو غسل دینا ناجائز شمار ہوتا تھا۔ (اسی لیے تو حضرت ابن مسعود نے اشکال کیا اور حضرت علی نے جواباً اپنی خصوصیت کا ذکر فرمایا) معلوم ہوا کہ اس دور میں خاوند اپنی بیویوں کو غسل نہیں دیتے تھے۔ مشہور عالم علامہ ابن عبد البر (ت463ھ) بھی اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لأن بنات رسول الله اللواتي توفين في حياته زينب ورقية وأم كلثوم ولم يبلغنا أن إحداهن غسلها زوجها. (التمہید: ج1 ص380) ترجمہ: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صاحبزادیاں؛ حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات ہی میں فوت ہوئیں، ان میں سے کسی کے بارے میں ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ ان کو ان کے خاندوں نے غسل دیا ہو۔ ثابت ہوا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی )بشرط ثبوت( خصوصیت تھی، عام رواج ہرگز نہیں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا تھا۔ (معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: ج5 ص232) دوم: یہ کہ اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں نے مل کر غسل دیا تھا۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی: حدیث نمبر 6905) سوم : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے انتقال سے پہلے غسل فرمایا اور نئے کپڑے پہنے اور فرمایا کہ:”میں رُخصت ہو رہی ہوں، میں نے غسل بھی کرلیا ہے، اور کفن بھی پہن لیا ہے، مرنے کے بعد میرے کپڑے نہ ہٹائے جائیں۔“ یہ کہہ کر قبلہ رُو لیٹ گئیں اور رُوح پرواز کرگئی، ان کی وصیت کے مطابق انہیں غسل نہیں دیا گیا۔ (مصنف عبد الرزاق: ج3 ص257 حدیث نمبر6151 وغیرہ) جب روایات اس سلسلے میں متعارض ہیں تو اس واقعے پر کسی شرعی مسئلے کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں ہوگا۔ ثانیاً..... بعض محققین نے یہ تسلیم کرنے کی صورت میں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا ہے، اس روایت کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے غسل دینے سے مراد غسل کے سامان کا انتظام کرنا تھا، اس لیے غسل کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مجازاً ہے، حقیقتاً غسل حضرت ام ایمن ہی نے دیا تھا۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے: فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا غَسَّلَتْهَا أُمُّ أَيْمَنَ حَاضِنَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا فَتُحْمَلُ رِوَايَةُ الْغُسْلِ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى مَعْنَى التَّهْيِئَةِ وَالْقِيَامِ التَّامِّ بِأَسْبَابِهِ۔ (رد المحتار: ج6 ص243) عن عائشة : أن جبريل جاء بصورتها في خرقة حرير خضراء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن هذه زوجتك في الدنيا والآخرة. (جامع الترمذی: حدیث نمبر3880) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہے سفیان ثوری رحمہ اللہ (ت161ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ امام سفیان ثوری فرماتےہیں: ونقول نحن لا يغسل الرجل امرأته لأنها لو شاء تزوج أختها حين ماتت ونقول تغسل المرأة زوجها لأنها في عدة منه. (مصنف عبد الرزاق: ج3 ص256 حدیث نمبر6145) ترجمہ: ہمارا موقف یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو غسل نہیں دے سکتا کیونکہ بیوی کے مرنے کے بعد (نکاح ٹوٹ جاتا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ) یہ جس وقت چاہے اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے اور ہمارا موقف یہ بھی ہے کہ عورت اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ یہ اس کی عدت میں ہے (جو کہ نکاح کے آثار کا نتیجہ ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے نکاح میں آنے کے بعد امہات المؤمنین دنیا و آخرت میں آپ کی زوجات ہیں حتی کہ آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی وہ آپ کی بیویاں رہی ہیں۔ چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ (ت279ھ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت لائے ہیں: عن عائشة : أن جبريل جاء بصورتها في خرقة حرير خضراء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن هذه زوجتك في الدنيا والآخرة. (جامع الترمذی: حدیث نمبر3880) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہے۔ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ علیہ السلام کی وفات کے باوجود آپ کا ان سے نکاح باقی ہے۔ تو جب آپ کا نکاح باقی ہے تو آپ کا غسل کی بات کرنا صحیح و درست ہوا۔
  18. 1 like
    Janab Hadith ka aik hissa pesh keeya dosra nahin. Hadith ka sayaq o sabaq heh ... hijrat aur shadi ... aur phir kaha gaya kay amaal ka talluq niyatoon par heh ... yehni woh amaal joh ibadat hoon ... ya joh amaal Shariat mein jaiz hoon ... in sab ka daro madaar niyat par heh. Agar niyat raza illahi wasteh kee toh sawab paya aur nah keeh toh kuch nahin ... joh juraim hoon, chori, zina, qatal, gustakh e Ambiyah, waghayra ... in ka talluq niyat say nahin balkay amal say heh. Abh menh tummen kutteh ka bacha kahoon aur kahoon meri niyat yeh thi kay tum wafadar insan kay bachay ho toh kia tum maan loh gay? Joh masail shar'ah mein jaiz hen aur sabat hen aur achay hen in ka talluq niyat say heh ... agar namaz pari aur niyat ibadat nah keeh balkay is wasteh keeh kay Abba dekh raha heh ... chalo dramahi tor par Sajdeh deh loh ... yeh Ibadat nahin hogi ... ibadat ussee waqt hogi jab Allah ki ibadat ki niyat say ibadat karo gay toh. Joh Allamah Kazmi Sahib rahimullah nay likha heh ... aap ki samaj say bahir heh ... woh bilqul tumaray Deobandiat ka radd karti heh ... likha kia heh aur samja kia heh ... Urdu bi parnay aur samajnay say pedal lagtay ho.
  19. 1 like
    امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی گستاخی تو نہ نکلی تھانوی کی اس گستاخی کے بارے میں کیا خیال ہے؟
  20. 1 like
    خانہ کعبہ بعض اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جاتا ہے خانہ کعبہ شریف کا بعض اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جانا کرامت کے طور پر جائز ہے ۔ فقہاء علیہم الرّحمہ نے بھی اسکی تائید کی ہے ۔ چنانچہ امام حصکفی رحمتہ اللہ علیہ متوفیٰ 1088ھ در مختار مین فرماتے ہیں کہ مفتی جن و انس امام نسفی رحمۃ اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ سنا ہے خانہ کعبہ اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جاتا ہے ، کیا یہ کہنا شرعاً جائز ہے ؟ امام نسفی علیہم الرّحمہ نے فرمایا (خرق العادۃ علی سبیل الکرامۃ لا ھل الولایۃ جائز عند اھل السنۃ) یعنی۔ خرق عادت کرامت کے طور پر اولیاء اللہ کے لیئے اہلسنت کے نزدیک جائز ہے ۔ (الدُّرُّ المختار کتاب الطلاق صفحہ نمبر 253) مفتی بغداد امام سیّد محمود آلوسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کعبۃ اللہ بعض اولیاء اللہ کی زیارت کو جاتا ہے اور یہ اہلسنت کے نزدیک جائز ہے ۔ (تفسیر روح المعانی جلد 13 صفحہ 14 امام آلوسی رحمۃُ اللہ علیہ ) امام غزالی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جن کا طواف بیت اللہ کرتا ہے ۔ (احیاء العلوم جلد اوّل صفحہ 450 ) مشہور دیوبندی عالم علامہ محمد زکریا کاندہلوی صاحب لکھتے ہیں : بعض اللہ والے ایسے ہوتے ہیں کہ خود کعبہ ان کی زیارت کو جاتا ہے،(فضائل حج صفحہ 93 دارالاشاعت) حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی صاحب بوادر النوادر میں یہی بات لکھتے ہیں بشکریہ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
  21. 1 like
    یہ اجمالی جواب ہے کہ میں سیدنا عبدالقادر جیلانی کا ہم عقیدہ ہوں۔ جلیل القدر محدث امام سیوطی نے شرح الصدور میں لکھاہے کہ:۔ 64 - وَقَالَ الشَّيْخ عبد الْغفار القوصي فِي التَّوْحِيد كنت عِنْد بَيت الشَّيْخ نَاصِر الدّين وَالشَّيْخ بهاء الدّين الأخميمي قد ورد فَأخذت فروته على كَتِفي فَأَخْبرنِي أَن خَادِم الشَّيْخ أبي يزِيد كَانَ يحمل فروته على كتفه وَكَانَ رجلا صَالحا فَجرى الحَدِيث فِي مساءلة مُنكر وَنَكِير فِي الْقَبْر فَقَالَ ذَلِك الْفَقِير وَكَانَ مغربيا وَالله إِن سألاني لأقولن لَهما فَقَالُوا لَهُ وَمن يعلم ذَلِك فَقَالَ أقعدوا على قَبْرِي حَتَّى تسمعوا فَلَمَّا مَاتَ المغربي جَلَسُوا على قَبره فَسَمِعُوا المساءلة وسمعوه يَقُول أتسألاني وَقد حملت فَرْوَة أبي يزِيد على عنقِي فَمَضَوْا وتركوه ایک میت نے نکیرین سے کہا کہ تم مجھ سے سوال کرتے ہوحالانکہ میں تو بایزید کا فروہ بردار ہوں،تونکیرین اُسے چھوڑکرچلے گئے۔ امام سیوطی پرزبان چلاؤ۔
  22. 1 like
    Yeh farq Hadith ki tabeer ka heh ... yehni jab RasoolAllah kay pass Jibrael e ameen tashreef farma huway toh aap par khauf tari huwa ... agar pehlay hi pata thah Nabi hen toh khauf toh phir drama huwa ... yeh aik itraz heh Allamah Saeed Ahmad Assad sahib ka joh maqool heh ... us ki islah mein likha thah kay agar la-ilmi wala nazria rakh leeya jata toh alam e arwah mein Nabi bi mantay aur pedaish say chalees saal ki umar taq bi Nabi man letay ... nabuwat kay salb honay ka nazria nah rakhtay aur is buray nazriyeh say bach jatay. Rahi baat Nabi ko ilm honay ki toh Nabi ko pedaish say hi pata hota heh kay woh Nabi heh ... Isa alayhis salam ka farmana mujjay Allah nay Rasool banaya heh aur kitab deeh heh aur woh bi abhi chand dinoon ki pedaish kay baad ... halan kay haqiqat mein unneh Nabuwat ka ilaan karnay ka hukum aur Injeel 30 saal ki umar mein huwa ... magr izhar pehlay kar deeya aur ilm pehlay say hi thah ... Asal mein joh itrazat in hazrat kay hen ... in ki tabeer Ahadith ghalat heh. Yehni RasoolAllah par khauf tari ho gaya jab Wahi nazil huwi. Halan kay iqra bismi rabbi kallazi ... pehli ayaat nazil huwi. Kia Allah nay taruf bi nahin karwaya ... police walay bi atay hen aur batatay hen ham police walay hen aur tooh chor heh is leyeh pakr rahay hen. Allah nay Jibraeel ameen ko beja jah Wahi deh aah ... aur jissay wahi deni heh ussay khabr bi nahin kay woh Nabi heh. Yeh esay heh jesa sari zindgi aik banda school teacher ho aur phir us ko wafad beja jahay aur kaha jahay bachoon ko science-dan bana ... istera kohi nahin karta ... kam say kam banda taruf toh kartwata heh ... Allah joh sab hikmatoon wala us nay taruf bi nahin karaya kay aye Muhammad tum kon ho ... pehlay hi iqra bismi rabbi kallazi ... Mera Rabb aisi bey-hikmati say paak heh ... agar pehlay nah hota toh hikmatoon wala Rabb pehlay ayaat nazil farmata ... Allah nay aap ko Rasool chun leeya aur da'ee e ilahi banaya aur khushkhabri denay wala aur darnay wala aur Shahid. Keun kay pehlay hi maloom thah kay Nabi hoon is leyeh Allah (subhanahu wa ta'ala) nay iqra bismi rabbi kallazi nazil keeh. Aur joh aap nay bayan ki heh wohi baat mein upar biyan kar aya hoon kay sirf ilaan aur tableegh ka hukum jari nahin huwa thah.
  23. 1 like
    Aslam o alikum..mje ye poochna hy k pay diamond conmpany k sath kaam krna kesa hy ku k is me network marketing b shaamil hy or company diamond minning ka business krti hy jis ki base pr hmein b 50 weeks tk profit milta rehta hy..me is chez k bary me fatwa b chahta hu is company or network marketing ka or mje ye b btaein k ye halaal hy ya haraam...shukriya
  24. 1 like
    یوٹیوب پر ایک غیر مقلد وھابی نجدی کا کلپ دیکھا جس میں وہ مسجد نبوی شریف کے صحن میں بیٹھ کر ایک اشتہار لوگوں کو دکھا رہا ہے کہ دیکھو اس اشتہار میں غوث پاک کے نناوے نام لکھے ہیں اور لکھا ہے کہ ان ناموں کے ورد سے برکت ہوتی ہے مصیبتیں دُور ہوتی ہیں وغیرہ پھر کہتا ہے کہ حدیث میں ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کے نناوے نام پڑھنے سے برکت ہوتی ہے غوث پاک کے نام میں کیا برکت ہوسکتی ہے؟یہ شرکیہ عقیدہ ہے۔ آئیے آپ کو ایک حوالہ دکھاتے ہیں کہ اہل بیت اطہار کے ناموں میں کیا برکت ہے اہل بیت اطہار بھی تو خدا نہیں ہیں ،یہ بھی تو بزرگ ہیں۔ قارئین بتائیں کہ کیا اس میں شرک کی تعلیم ہے ؟ بزرگوں کا نام لینے سے مجنون ٹھیک ہوجائے لیکن وھابیوں کا یہ حال ہے کہ بزرگوں کا نام لینے سے ان کا پاگل پن بڑھ جاتا ہے۔
  25. 1 like
    Islami Mehfil ki aik Member Islami Bhan IQRA k walid e Mohtaram ka Intiqal ho gaya hai. انا للہ وانا الیہ راجعون Tamam Members say Madani Iltija hai k Wo In k walid Sahib k liye Dua e Magfirat b karain aur esal e Sawab ki b tarkeeb banain aur yahan is thread main submit karwatay jain.... Jazakumullahu khaira Was'salam ma'alikram
  26. 1 like
    جان برادر تجربات کے لئے سند نہیں مانگی جاتی۔ابلیس جیسا چور بھی آیت الکرسی کی فضیلت بیان کرے تو صحابی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو بھی کریڈٹ دیتے ہیں۔مشکوٰۃ فضائل القرآن میں ہے۔ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو من الطَّعَام فَأَخَذته وَقلت وَالله لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَة مَا فعل أسيرك البارحة» . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ» . فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ سيعود» . فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ لَا أَعُودُ فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذبك وَسَيَعُودُ» . فرصدته الثَّالِثَة فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُول الله وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ إِنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ ينفعك الله بهَا قلت مَا هُوَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ من الله حَافظ وَلَا يقربنك شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ: زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَات يَنْفَعنِي الله بهَا فخليت سبيلهقال النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أما إِنَّه قد صدقك وَهُوَ كذوب تعلم من تخاطب مُنْذُ ثَلَاث لَيَال» . يَا أَبَا هُرَيْرَة قَالَ لَا قَالَ: «ذَاك شَيْطَان» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
  27. 1 like
    کسی بھی چیز یا کسی بھی کام کرنے سے پہلے اللہ عزوجل کا نام لینےیا اس کا کلام پڑھنے سے اس میں برکت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ عزوجل کا نام مبارک برکت والا ہے۔
  28. 1 like
  29. 1 like
    جناب سلفی صاحب فقیر پہلے عرض کرچکا ہے کہ آپ اس کی سند امام نووی علیہ الرحمہ سے پوچھیں، کیونکہ یہ عبارت ہم نے نہیں لکھی،بلکہ امام نووی نے لکھی ہے۔ ہم نے جو پوچھا ہے کہ امام نووی علیہ الرحمہ نے یہ جو عبارت لکھی ہے کیا یہ قرآن وحدیث کے خلاف شرکیہ عقاید والی عبارت لکھی ہے؟اور کیا یہ جھوٹ لکھ دیا ؟ دوسری بات نواب صدیق حسن خاں وھابی نے جو شعر لکھا ،ہم اس کا مطلب نثر میں لکھ دیتے ہیں کہ اے قاضی شوکانی المدد ہم آپ سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا نواب صدیق حسن خاں وھابی نے یہ کہہ کر شرک کیا اور کیا وہ شرک کے مرتکب ہوۓ؟یا ایسا کہہ کر موحد ہی رہے ؟ کیا نواب صدیق حسن خاں عالم دین نہیں تھےاور کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ایسا کہنا شرک ہے ؟
  30. 1 like
    salam AalaHazrat ne aik pora risal likha hai kay (البدورالاجلۃفی امورالاھلۃ ۱۳۰۴ھ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث ثبوت ہلال کے طریقے ye teen 3 rasial hai hai AlaHazrat kay in mein khoob jawab majood hai
  31. 1 like
  32. 1 like
  33. 1 like
    عدیل صاحب نے یہ واضح کر دیا کہ غیر مقلدیت جہالیت کا نام اور اپنے عالم کی تقلید کا نام ہے۔یہ زبیر علی زئی سے بڑامتاثر ہے ،اگر زیبر علی زئی کی علمی حالت دیکھنی ہو تو اپنے ہی مسلک کے عالم کی تحقیق پڑھ لو۔
  34. 1 like
    أَخْبرنِي بِشَيْء غَرِيب قَالَ كنت شَابًّا وَكَانَت لي بنت حصل لَهَا رمد وَكَانَ لنا اعْتِقَاد فِي ابْن تَيْمِية وَكَانَ صَاحب وَالِدي وَيَأْتِي الينا ويزور وَالِدي فَقلت فِي نَفسِي لآخذن من تُرَاب قبر ابْن تَيْمِية فلأكحلها بِهِ فانه طَال رمدها وَلم يفد فِيهَا الْكحل فَجئْت الى الْقَبْر فَوجدت بغداديا قد جمع من التُّرَاب صررا فَقلت مَا تصنع بِهَذَا قَالَ أَخَذته لوجع الرمد أكحل بِهِ أَوْلَادًا لي فَقلت وَهل ينفع ذَلِك فَقَالَ نعم وَذكر أَنه جربه فازددت يَقِينا فِيمَا كنت قصدته فَأخذت مِنْهُ فكحلتها وَهِي نَائِمَة فبرأت ترجمہ:مجھے ایک عجیب چیز کے بارے میں خبر دی ہے۔کہا میں جوان تھا اور میری ایک بیٹی تھی جس کو آشوب چشم کی بیماری تھی اور ہمارا ابن تیمیہ کے بارے میں بڑا اچھا اعتقاد تھا وہ میرے والد کا دوست تھا وہ ہمارے پاس میرے والد کی زیارت کے لیے آتا رہتا تھا میں نے اپنے دل میں یہ خیال کیا کہ میں ضرور ابن تیمیہ کی قبر کی مٹی لوں گا اور اس کا سرمہ بیٹی کی آنکھ میں ڈالوں گا اس لیے کہ کافی عرصے سے اس کی آنکھیں خراب ہیں اور اس کو سرمہ فائدہ نہیں دے رہا.پس میں قبر کے پاس آیا تو میں نے وہاں بغدادی کو پایا جو کہ وہاں مٹی جمع کر رہا تھا تو میں نے اس سے کہا تو اس سے کیا کرے گا تو اس نے جواب دیا میں اس کو آنکھوں کے درد کے لئے لے رہا ہوں کہ اس کا سرمہ اپنی اولاد کو ڈالوں گا.تو میں نے کہا کیا یہ کوئی فائدہ دے گا اس نے کہا جی ہاں.اور اس نے ذکر کیا کہ اس نے اس کا تجربہ کیا ہوا ہے تو جس بات کا میں نے ارادہ کیا ہوا تھا اس میں میرا یقین اور زیادہ ہوگیا تو پس میں نے وہاں سے مٹی اٹھائی اور اس کا سرمہ اپنی بیٹی کو سونے کی حالت میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئی.
  35. 1 like
  36. 1 like
    Noor-ul-Iman [Lafzi Tarjma Kanz-ul-Iman] پارہ اول http://www.mediafire.com/view/x74n3pzez1f6bbj/%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84.pdf
  37. 1 like
    Wahabi apnay paish karda tarjumay ko maan kar phass gya!!! Blue Circles per ghoor karain........Sabit howa kay Quran mai jahan Nabi-e-Karim ke leay Shahid aya hai wahan matlab Hazir O Nazir he hai.
  38. 1 like
    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ بھائی یہ اہلحدیثوں کا دھوکہ ہے۔۔۔ جواب ملاحظہ فرمائیں:۔ میں کہتا ہوں ہم نے تو جواب پہلے سے دے رکھا ہے ان کے اوچھے ہتھکنڈوں کا۔ ان اہلحدیثوں میں ہمت ہے اور ذرا بھی غیرت باقی ہے تو بخاری شریف کی ان چالیس احادیث کا جواب دیں جن سے میرے مصطفی کریم نبی پاک ﷺ کا علم غیب عطائی واضح طور پر ثابت ہو رہا ہے۔۔۔۔ ہمت ہے تو جواب دیں۔ لنک یہ ہے بک کا:۔ http://www.islamimehfil.com/topic/23636-%DA%86%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%B3-%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D8%AB%D9%90-%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%D8%B9%D9%84%D9%85-%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D9%90-%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%AB%D8%A8%D9%88%D8%AA/
  39. 1 like
    کتاب فرقہ بریلویت پاک و ہند کا تحقیقی جایز میں دیوبندی الیاس گھمن نے دجل و فریب کاری سے کام لیا ، الیاس گھمن کی اس جہالانہ تحقیق پر میثم رضوی صاحب کا مضمون پیش خدمت پے۔ https://www.scribd.com/doc/267180971/%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%B3-%DA%AF%DA%BE%D9%85%D9%86-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%AC%D9%84-%D9%88-%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%DB%81-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%A7%D9%88%D9%84
  40. 1 like
    Deobandi Wahabion Aor Modoodi Ki Gustakhian - Scan Pages.pdf Ghair Muqallid Nam Nihad Ahlehadees Wahabion Ki Gustakhian - Scan Pages.pdf
  41. 1 like
    http://everything4human.blogspot.com
  42. 1 like
    Urdu fonts are useful to write articles. It is good method to download urdu fonts from net.
  43. 1 like
    15-1 Krishn Qadyani.pdf 15-2 Mubahis-e-Qadyani.pdf 15-3 Tardeed-e-Nabuwat-e-Qadyani.pdf 15-4 Mujaddid-e-Waqt Kon Ho Sakta Hay.pdf
  44. 1 like
    Facebook pe la deenyat bohat sar utha rahi he jis ke muqable ke liye aese software ki bohat zarorat thi. lekin har zarorat yahan se puri nahi ho pati plz is trah ke dosre softwares jin me text form me books hon or search options ke sath copy paste kar satke hon pls share karen. jese Dawateislami ka fatawa razawiyyah software. etc. radde badmazhab ke hawale se kuttub ki ashad zarurat he jin se mjh jese kam ilam bhi faida utha saken.
  45. 1 like
    Altabsheer Be Radd-it-Tahzeer & Altabsheer Par Etrazat k Jwabat Az Allama Syed Ahmad Saeed Kazmi رحمت اللہ علیہ: Altabsheer-full.pdf RAR FORMAT AlTabsheer-1.rar AlTabsheer-2.rar AlTabsheer-3.rar Nazria-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Syed Muhammad Madani Miyan Ashrafi Jeelani : NazriaKhatmeNabowatAurTahzeerunnaas.pdf التنویر لدفع ظلام التحذیر یعنی مسلہء تکفیر از علامہ غلام علی قادری اشرفی رحمت اللہ علیہ Altanweer-full.pdf Altanweer Different Print Al-Tanweer.pdf RAR FORMAT Altanweer-1.rar Altanweer-2.rar Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Snaullah Naqshbandi Mujaddidi : Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Molvi Qasim NaNotvi Ka Jurm (Az Kitab: Hassam-Ul-Haramain k 100 Saal) Az Dr.Altaf Hussain Saeedi Molvi Qasim Nanotvi Ka Jurm.rar Abtal-e-Aghlat-e-Qasmia . http://www.nafseisla...glatQasmiya.htm Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaddisana Nazar Az Allama Manzir-Ul-Islam AlAzhari : Asar Ibn-e-Abbas Par Muhadisana Nazar.rar Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaqiqana Nazar Az Ghulam Naseer-ud-Deen Sialwi : Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaqqiqana Nazar.rar Deobandiyat K Muhtamim-e-Awwal Ka Khatm-e-Nabuwat Say Inkar Az Allama Badr-Ud-Deen Ahmad Qadri رحمت اللہ علیہ: Deobandiyat K Muhtamim-e-Awwal Ka Khatm-e-Nabuwat Say Inkar.rar Khatmiyat-e-Muhammadi (Peace And Blessings Be Uopn Him) Aor Tahzeer-un-Nas Az Allama Abd-Ul-Hakeem Akhtar ShahJahan Poori رحمت اللہ علیہ : Khatmiyat-e-Muhammadi (Peace And Blessings Be Uopn Him) Aor Tahzeer-un-Nas.rar Masla-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Shareef-Ul-Haq Amjadi رحمت اللہ علیہ : Masla-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Qasim Nanotwi Aor Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Az Hazrat Allama Peer Hafiz Sultan Mahmood Daryawi : Qasim Nanotwi Aor Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Taqseem-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Qadri AbdurRzaq Bhtralwi Taqseem-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Tahzeer-Un-Nas K Difa Ka Ta'qub Az Muhtram Khaleel Ahmad Rana Tahzeer-un-Nas k Difa Ka Ta'qub.rar
  46. 1 like
    SubhanAllah MashaAllah You're Doing Great Brother JazzakAllahu Kheira
  47. 1 like
    HAZRAT SAEEDI SAB,BARE DIL KI KHOWASH HE KE AP KI QADAM BOSI KA SHARF HASIL HO,OR FAQEER KO AP SE SHARAH ASOOL SIKHNE KA KOI MUQA MU YASIR HO,JIS KHOBI SE AP URDU LOGHAT ME ASOOL KI TASHREEH FARMAT E HEN,SHAED HI APKA KOI MANAZIR SAMNE AE,ALLAH TAALA AP JESE ULOOMA KA SAYA HAM AHLE SUNAT PER HAMESHA RAKHE AMEEN.
  48. 1 like
  49. 1 like
  50. 1 like