Jump to content
اسلامی محفل

Leaderboard


Popular Content

Showing content with the highest reputation since 07/02/2019 in all areas

  1. 2 points
    20 رکعت تراویح پرحضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کا تحقیقی جائزہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت أخبرنَا أَبُو عبد الله مَحْمُود بن أَحْمد بن عبد الرَّحْمَن الثَّقَفِيُّ بِأَصْبَهَانَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِي أخْبرهُم قِرَاءَة عَلَيْهِ أَنا عبد الْوَاحِد بن أَحْمد الْبَقَّال أَنا عبيد الله بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ أَنا جَدِّي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَمِيلٍ أَنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ أَنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ عُمَرَ أَمَرَ أُبَيًّا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ يَصُومُونَ النَّهَار وَلَا يحسنون أَن (يقرؤا) فَلَوْ قَرَأْتَ الْقُرْآنَ عَلَيْهِمْ بِاللَّيْلِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا (شَيْءٌ) لَمْ يَكُنْ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ وَلَكِنَّهُ أَحْسَنُ فَصَلَّى بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَة (إِسْنَاده حسن) ( الأحاديث المختارة للضياء المقدسي 3/367رقم الحدیث 1161) ترجمہ:حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رمضان میںمجھے رات کو تراویح پڑھانے کاحکم دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگ دن میں روزہ رکھ لیتے ہیں مگر تراویح نہیں پڑھ سکتے، اس لئے لوگوں کو تراویح پڑھاؤ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یاامیرالمومنین! یہ ایسی چیز کا حکم ہے جس پر عمل نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں جانتا ہوں لیکن یہی بہتر ہے، پس حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیس20 رکعات تراویح پڑھائی۔ اعتراض: کفایت اللہ سنابلی صاحب غیر مقلد اپنی کتاب انوار التوضیح ص348 پر لکھتے ہیں۔ یہ رویات ضعیف ہے ، سند میں موجود ابو جعفرالرازی سی الحفظ ہے ۔ امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264)نے کہا: شيخ يهم كثيرا۔[الضعفاء لابي زرعه الرازي: 2/ 443]۔ امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا: كان ممن ينفرد بالمناكير عن المشاهير لا يعجبني الاحتجاج بخبره إلا فيما وافق الثقات۔ [المجروحين لابن حبان: 2/ 120]۔ یہ مشہور لوگوں سے منکر روایت کے بیان میں منفرد ہوتا تھا،اس کی حدیث سے حجت پکڑنا مجھے پسند نہیں الاکہ یہ ثقہ رواۃ سے اس کی تائید مل جائے۔ امام ابن حبان نے یہ بھی فرمایا: والناس يتقون حديثه ما كان من رواية أبى جعفر عنه لأن فيها اضطراب كثير لوگ الربیع بن انس سے ابوجعفر کی روایات سے بچتے ہیں،کیوں کہ ان بہت اضطراب ہوتا ہے۔( الثقات - ابن حبان ص4/228) اور زیر بحث حدیث اسی طریق سے ہے،لہذا ضعیف ہے۔یاد رہے کہ متعدد حنفی حضرات نے بھی اس راوی کو ضعیف تسلیم کیا ہے۔ جواب: گذارش ہے کہ کفایت اللہ سنابلی صاحب نے ابو جعفر الرزی پر چند محدثین کرام نے جرح نقل کی ہے مگر اکثر علماء نے اس کی توثیق کی ہوئی ہے۔ہم مسلکی حمایت سے ہٹ کر اس راوی پر محدثین کرام کے آراء کو پیش کرتے ہیں تاکہ حقیقت واضح ہوسکے۔ ابو جعفر الزای پر جرح کرنے والے محدثین کرام کے حوالہ جات ملاحظہ کریں۔ الفلاس : فيه ضعف ، وهو من أهل الصدق سيء الحفظ ۔ ( تاريخ بغداد 11/146.) العجلي : ضعيف الحديث ۔(ترتيب معرفة الثقات 2/391.) أبو زرعة : شيخ يهم كثيراً ۔( سؤالات البرذعي 1/443.) امام نسائی : ليس بالقوي. (سنن النَّسَائي: 3 / 258.) ابن حبان کا مکمل قول: کفایت اللہ سنابلی صاحب نے ابن حبان کی جرح مکمل نقل نہیں کی۔ كان ممن ينفرد بالمناكير عن المشاهير لا يعجبني الاحتجاج بخبره إلا فيما وافق الثقات۔۔۔۔ یہ مشہور لوگوں سے منکر روایت کے بیان میں منفرد ہوتا تھا،اس کی حدیث سے حجت پکڑنا مجھے پسند نہیں الاکہ یہ ثقہ رواۃ سے اس کی تائید مل جائے۔۔۔۔ اس جرح کے بعد ابن حبان نے متصل جو بات کہی وہ بھی ملاحظہ کریں، ابن حبان لکھتےہیں۔ ولايجوز الاعتبار بروايته إلا فيما لم يخالف الاثبات. اور نہ اس کی روایت پر اعتبار کیا جاسکتا ہےالا یہ کہ اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کے مخالفت نہ ہو۔ یعنی کہ جس روایت میں اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت نہ ہو تو اس پر اعتبار اور اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ اما م ابن حبان کے اس مکمل قول سے واضح ہوا کہ ابو جعفر الرازی کی منفرد روایت سے احتجاج کرنا محدث ابن حبان کو پسند نہ تھا مگر وہ روایت جس میں ابو جعفر الرازی اپنے سے ثقات راوی کی مخالفت نہ کرے اس پر اعتبار اور استدلال کیا جاسکتا ہے۔جبکہ پیش کردہ ضیاء المختارہ کی روایت میں کسی ثقہ راوی کی مخالفت ثابت نہیں بلکہ دیگر ثقہ راویوں نے20رکعت کے بیان میں ابو جعفر الرزای کی موافقت بھی کی ہے جس سے محدث ابن حبان کا ابو جعفر الرزی کا ربیع بن انس سے مرویات پر مضطرب کا اعتراض بھی رفع ہوجاتا ہے۔اس لیے یہ حدیث تو ابن حبان کے اصول کے مطابق بھی قابل حجت اور صحیح روایات ہے۔ ابو جعفر الرازی کی توثیق کرنے والے محدثین کرام کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ إمام ابن معين : ثقة ۔(تاريخ بغداد 11/146.) ، ایک دوسرے مقام پر کہا : ثقة ، وهو يغلط فيما يروي عن مغيرة ۔( الدوري4772 .) ایک دوسرے شاگرد نے رویات کیا کہ : ليس به بأس ۔ ( من كلام أبي زكريا في الرجال 82.) ایک دوسرے مقام پر کہا : صالح ۔( الجرح والتعديل 6/280.) ، ایک مقام پر کہا : يُكتب حديثه إلا أنه يخطئ۔(تاريخ بغداد 11/146.) ابن المديني: ثقة ۔(سؤالات ابن أبي شيبة 148) الساجي : صدوق ليس بمتقن ۔(تاريخ بغداد 11/146) امام ابن عمار : ثقة ۔(تاريخ بغداد 11/146) امام أبو حاتم : ثقة صدوق صالح الحديث ۔( الجرح والتعديل 6/280) . حافظ ابن حجر : صدوق سيء الحفظ خصوصاً عن مغيرة ۔(تقريب التهذيب 8019 ) حافظ ابن حجر ایک دوسرے مقام پر ابو جعفر کی روایت کے بارے میں لکھتے ہیں۔ الإسناد حسن۔( مختصر البزار 2/ 265) علامہ ذہبی۔صالح الحديث۔ (میزان الاعتدال3/320رقم6595) ابْن سعد : وكان ثقة۔(طبقات ابن سعد 7 / 380) حاكم: ثقة. (تهذيب: 12 / 57) امام ضیاء المقدسی: وَثَّقَهُ عَليّ بن الْمَدِينِيّ وَيحيى بن معِين۔( الأحاديث المختارة6/97) ضیاء المختارہ میں 13 روایات اس سند سے ہیں۔ محدث ابْن شاهين۔ ثقاته۔(البدر المنیر3/623) علامہ حازمی ۔ ثِقَة.( البدر المنیر3/623) مذکورہ بالاپیش کردہ حوالہ جات سے رابو جعفر الرزای کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا قارئین کرام کے علمی استعداد پر ہے۔مذکورہ بالاتحقیق سے معلوم کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی 20 رکعت والی روایت حسن اور قابل احتجاج ہے۔اس پر کفایت اللہ سنابلی صاحب کے اعتراضات باطل و مردود ہیں۔
  2. 1 point
  3. 1 point
    اہل اللہ کی توھین زہر ہلاہل ہے شیخ عبد الوہاب شعرانی 973ھ علیہ الرحمہ نے عارف بالله تعالی سیدی محمد وفا رضی اللہ تعالی عنہ کے ترجمہ میں آپ کا یہ قول نقل کیا ہے:- امتهان العباد المكرمين بعد معرفتهم سم ساعة متى خالط القلب مات لوقته "اللہ تعالی کے مکرم بندوں کو پہچاننے کے بعد ان کی توہین کرنا ایک لمحہ میں اثر کرنے والا زہر ہے جیسے ہی دل میں شامل ہوا فی القور دل کی موت واقع ہو جاتی ہے"_ [الطبقات الكبرى المسمى لواقح الأنوار القدسية في مناقب العلماء والصوفية جلد2.ص.30-اردو برکات روحانی ج.2 ص.460] الامان و الحفیظ اج کل جو لوگ اولیائے کرام بلکہ جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی توھین کر رہیں ہیں ان کے دلوں کا کیا حال ہوگا یقیناً ان کے دل گل سڑ چکے ہیں، نسأل الله العفو و العافیۃ ہم اللہ سے معافی اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں آمین خادم علم و العلماء فقير محمد ریحان رضا النوری 29/مئی/2019 Ahlullah(Allah Walo) Ki Toheen Zahr E Halahal Hai Shaikh Abdul Wahab Sharani 973Hijri علیہ الرحمہ Ne Aarif Billah Sayyadi Muhammad Wafa رضی اللہ عنہ Ke Tarzume Mai Aapka Ye Qaul Naqal Kiya Hai:- امتهان العباد المكرمين بعد معرفتهم سم ساعة متى خالط القلب مات لوقته "Allah Tala Ke Mukarram(Mehboob,Wali Aulia)Bando Ko Pahchanne Ke Baad Un Ki Toheen Karna Ek Lamha Mai Asar Karne Wala Zahr Hai Jaise Hi Dil Mai Shamil Hua Fil-For Dil Ki Maut Waqe Ho Jati Hai"_ •[Tabqat Ul Kubra Jild.2 Safa.30(Arabic), Barkaat E Ruhani Jild.2 Safa.460(Urdu)] الامان و الحفیظ Aaj Kal Jo Log Aulia E Kiram Balke Jo Log Sahaba E Kiram رضی اللہ عنہم Ki Shan E Aqdas Mai Gustakhiya Kar Rahe Hai Unke Dilo Ka Kya Haal Hoga_ Yaqinan Unke Dil Gal Sadh Chuke Hai, نسأل الله العفو و العافیۃ Hum Allah Se Maafi Or Salamati Ka Sawal Karte Hai'n آمین
  4. 1 point
    شیعہ بدعتی راوی کی روایت اور اہل سنت کا اس سے احتجاج کا تحقیقی جائزہ عرب تفضیلی محقق احمد غماری صاحب فتح الملک العلی مترجم ص ۲۷۱ پر لکھتے ہیں: محدثین نے اس شرط [داعی الی بدعت]کا اعتبار نہیں کیا اور نہ ہی اپنے تصرفات میں اسے زینہ بنایا ہے بلکہ ثقہ شیعہ راویوں نے اپنے مذہب کی تائید میں جو بیان کی ہیں ان سے حجت پکڑی ہے۔حضرت امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے شیعہ راویوں سے حضرت علی ؓ کے فضائل میں روایت نقل کیں ہیں۔ جیسے انت منی و انا منک تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہو۔(صحیح بخاری ،کتاب المغازی باب عمرۃ القضاۃ،رقم الحدیث:۴۰۰۵) اس حدیث کو امام بخاری نے عبیداللہ بن موسیٰ العبسی سے نقل کیا ہے جس کے بارے میں خود امام بخاری نے کہا ہے: انہ کان شدید التشیع کہ وہ تشیع میں سخت تھا۔(التہذیب:ترجمہ عبیداللہ بن موسیٰ العبسی : ج ۲ ص ۳۵) اسی طرح حدیث:لا یحبک الا مومن و لا یبغضک الا منافق(صحیح مسلم،کتاب الایمان باب الدلیل علی ان حب الانصار علی من الایمان الخ رقم الحدیث:۱۱۳)ترجمہ: تجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اور تجھ سے منافق یہ بغض کرے گا۔اس حدیث کو امام مسلم نے عدی بن ثابت کی روایت سے نقل کیا ہے حالانکہ وہ ایک غالی اور اپنے مذہب کا داعی شیعہ ہے۔(التہذیب ترجمہ عدی بن ثابت ج ۴ ص ۱۰۷) غماری صاحب یہ مثالیں دینے کے بعد آگے ص ۲۷۲ پر لکھتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کے کہ یہ شرط(لگانا کہ وہ روایت بدعتی کے مذہب کی تائید نہ کررہی ہو)باطل ہے اور روایت کی صحت اور قبول میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔اعتبار صرف راوی کے ضبط اور اتقان کا ہے۔ جواب: عرض یہ ہے کہ محدثین نے جو شیعہ راوی سے استدالال کے قواعد بنائے ہیں وہ بالکل صحیح ہیں۔بلکہ اس کو تشیع کے ساتھ مخصوص کرنا ہی جہالت ہے کیونکہ ان کے یہ اصول بدعتی کی روایت کے بارے میں ہے نہ کہ صرف ایک فرقہ سے مختص ہیں۔اب رہی یہ بات کہ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ نے شیعہ راویوں سے فضائل حضرت علی ؓ میں روایات لیں ہیں۔جو ان کے مذہب کو تقویت دیتی ہیں۔اس بارے میں عرض یہ ہے کہ یہ اعتراض اصول سے بے خبری اور جہالت کا نتیجہ ہے۔سطحی قسم کا مطالعہ ایسے سوالات اٹھانے میں کافی معاون ثابت ہوتا ہے۔لہذا انسا ن اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے محدثین کرام پر اعتراضات اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔اس بارے میں چند معروضات پیش خدمت ہیں۔ بدعتی(شیعہ وغیرہ) اگر سچا اور صدوق ہو اور روایت اسکے مذہب کی داعی ہو یا اس کے مذہب کو تقویت پہنچا رہی ہو۔تو پھر اس شیعہ کا مذہب و عقیدہ دو اقسام پر مشتمل ہوگا۔ ۱۔شیعہ کا وہ عقیدہ جو مذہب اہل سنت کے خلاف نہیں۔[کیونکہ ہم اہل سنت فضائل حضرت علی ؓ کے قائل اور ماننے والے ہیں۔] ۲۔شیعہ کا وہ عقیدہ جو مذہب اہل سنت کے خلف ہے۔[یعنی فضیلت حضرت علی ؓ تو مانتے ہیں مگر ساتھ عظمت صحابہ کے بھی قائل ہیں۔] اگر شیعہ ایسی باتیں نقل کرے جو کہ شیعہ مذہب کے تائید میں ہو مگر اہل سنت کے اصولوں کے خلاف نہ وہ تو وہ قابل قبول ہوتی ہے۔اور اگر شیعہ ایس باتیں نقل کرے جس کے مخالف اہل سنت میں موجود ہو تو ایسی روایت شاذ اور نکارت ہوگی ،جس کو رد کر دیا جائے گااور احتجاج نہیں کیا جائے گا۔ اہم نکتہ:۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ بدعتی کی روایت اس کے مذہب کے موافق بظاہر نظراآتی ہے۔یہ بات سامنے آتی ہے کہ فلاں راوی شیعہ ہے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کی فضیلت میں روایت کرتاہے۔جیسے انت منی و انا منک تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہو۔(صحیح بخاری ،کتاب المغازی باب عمرۃ القضاۃ،رقم الحدیث:۴۰۰۵)اسی طرح حدیث:لا یحبک الا مومن و لا یبغضک الا منافق(صحیح مسلم،کتاب الایمان باب الدلیل علی ان حب الانصار علی من الایمان الخ رقم الحدیث:۱۱۳)ترجمہ: تجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اور تجھ سے منافق یہ بغض کرے گا۔جیسا کہ احمد غماری نے اعتراض کیا ہے۔ مگر عرض یہ ہے کہ ان دونو ں باتوںمیں ایک واضح فرق موجود ہوتا ہے۔اور وہ فرق یہ ہے کہ اہل سنت کی روایات میں جو حضرت علی المرتضیٰؓ کے فضائل وارد ہوئے ہیں ان میں شیخین کریمینؓ یا صحابہؓ کی شان میں تنقیص نہیں ہوتی۔اور نہ ہی اس میں غلو ہوتا ہے اورنہ ہی الفاظ رکیک ہوتے ہیں اور معانی میں ضعف نہیں ہوتا۔جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے ثابت ہورہا ہے۔اس لیے اس کو قبول کیا جاتا ہے۔کیونکہ محدثین سند کے ساتھ متن کا بھی جائزہ لیتے ہیں ۔ جبکہ شیعہ راویوں کی مذہب کی تقویت والی روایت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اس میں اکثر حضرت علی المرتضیٰؓ کے شان میں غلو اور صحابہ کرامؓ کی شان میں تنقیص ہوتی ہے۔ان کے معانی بڑے ہی ضعیف ہوتے ہیں اور الفاظ رکیک ہوتے ہیں۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جب کوئی شیعہ راوی حضرت علی المرتضیٰ کی شان میں کوئی روایت بیان کرے تو اہل سنت اس کی صرف وہ روایت تسلیم کرتے ہیں جو قواعد اہل سنت کے موافق ہوں۔[ اور یہ قواعد یہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی شان بہت بلند اور اعلیٰ ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہیں مگر دیگر صحابہ کرام ؓ کی تنقیص اس سے ثابت نہ ہو۔] جو ان قواعد کے دائرہ کار میں ہوں تو ہم ا س شیعہ (مفسق بدعتی) کی روایت قبول کرتے ہیں اور اس کی بدعت کو نظر انداز کر دیتے ہیںکیونکہ فضائل علی المرتضیٰ ؓ کا اعتقاد بدعت ہرگز نہیں ہے اور جو شیعہ یا رافضی اس قواعد کے خلاف روایت کرے تو ہم اس کو رد کرتے ہیں اور اس کو قبو ل نہیں کیا جاتا۔( اسکی مزید تفضیل عرب محقق کی کتاب اتحاف النبیل ابی الحسن السلیمانی ص ۲۴۷ میں ملاحظہ فرمائیں) لہذا غماری صاحب نے جو مثالیں پیش کیں ہم ان روایات کو ماننا اپنا دین اور مذہب سمجھتے ہیں۔مگر ان روایات کے ذریعے جو احتمالات اور شکوک لوگوں کے ذہنوں میں ڈالنے کی کوشش کی وہ فضول ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ محدثین کرام صرف سند پر ہی نہیں بلکہ متن پر بھی کڑی شرائط عائد کر کے اس کو قبول کرتے تھے۔ اس کے برعکس یہ روایات مذکورہ بالالجو غماری صاحب نے اہل سنت کے اصولوں کے رد پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے وہ تو خود ان کا رد کر رہی ہیں۔کیونکہ ان روایات سے تو اہل سنت کی محبت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ ثابت کر رہی ہے۔اور غماری صاحب کا محدثین کرام پر یہ الزام [کہ وہ بدعتی اور غیر بدعتی کے تقسیم اس لیے کرتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فضائل کا انکار کر سکیں] بھی غلط ثابت ہوجاتا ہے۔کیونکہ محدثین نے جس شاندار طریقے سے عظمت اہل بیت اور حضرت علی کرم اللہ کرم اللہ وجہہ الکریم کی شان بیان کی وہ تو قابل تحسین ہے۔اللہ تعالیٰ محدثین کرام کو جزاء خیر عطا فرمائے۔
  5. 1 point
    ان ٹاپکس میں اس اعتراض کا جواب موجود ہے۔
  6. 1 point
    شمال کی طرف پاؤں کر کے بیٹھنا یا سونا کیسا ہے؟؟؟
  7. 1 point
  8. 1 point
    Welcome to post on Hadith from Mishkat ul Masabeeh. This is Hadith # 203 from Kitab ul Ilm aur is ki ilm ki fazilat Source : http://eazyislaminfo.blogspot.com/search/label/Hadith
  9. 1 point
    وباء میں اذانیں دینے پر اعتراض کا علمی و الزامی جواب دنیا اس وقت جس عالمی وبا یعنی کورونا وائرس کی لپٹ میں ہے۔ ہر ممکن احتیاطی تدابیر اپنائی جا رہی ہیں۔ اللہ کریم ﷻ سے دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔ اور توبہ و استغفار کی جا رہی ہے۔ کیونکہ وبا و بلا و عذاب میں اذان دینا ایک مستحب امر جو اللہ کریم ﷻ کے غضب کو دور کرتا ہے لہذا مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں اللہ کی توحید اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کی گواہی اذان کے ذریعے بلند کر رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو خود کو مسلمان کہتا ہے وہ اس عمل کو نہ صرف سراہتا بلکہ دعا کرتا کہ اللہ کریم ﷻ اپنے اس ذکر(یعنی اذان) کے صدقے اس وباء کو ٹال دے۔ میں ان حالات میں اس چیز پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن افسوس کیساتھ کچھ لوگوں نے اذان دینے والے مسلمانوں پر فتویٰ بازی شروع کر دی اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ معاذ اللہ وباء میں اذنیں دینا جہالت ہے ، بدعت ہے اور بدعتی جہمنی ہے۔ وبا میں اذنیں دینا ثابت نہیں۔ تو آئیے ملاحظہ کیجئے۔ کہ جب وباء عذاب کی صورت میں آ جائے تو اذان دینا مستحب و جائز ہے۔ *اذان سے وبا کے عذاب کا ٹَلنا* حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے رویت ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: "اِذَا اَذَّنَ فِیْ قَرِیَةٍ اٰمَنَھَا اللہُ مِنْ عَذَابِهٖ فِیْ ذٰلِكَ الْیَوْمِ" جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہےـ [المعجم الکبیر مرویات انس بن مالك، جلد 1، صفحہ257، حدیث:746، مطبوعہ المکتبة الفیصلیه بیروت] یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس وبائی عذاب کو ٹالنے کیلئے فرمانِ مصطفٰی ﷺ کے مطابق اذنیں دے رہے ہیں۔ *وبا کی وحشت دور کرنے کیلئے اذان* ابونعیم و ابن عساکر حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راویت کرتے ہیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: نَزَلَ آدَمُ بِالْھِندِ فَاسْتَوْحَشَ فَنَزَلَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْه الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام فَنَادیٰ بِالْاَذَاَنِ یعنی: جب آدم علیہ الصلاۃ والسلام جنت سے ھندوستان میں اترے انہیں گھبراہٹ ہوئی تو جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے اتر کر اذان دی۔ [حلیة الاولیاء مرویات عمرو بن قیس الملائی ، جلد 2، صفحہ 107، رقم:299 ، مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت] مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرُ المومنین مولٰی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے: قَالَ رَایٰ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَسَلَّم حُزِیْناً فَقَالَ یَا ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اِنِّیْ اَرَاكَ حُزِیْناً فَمُرْ بَعْضَ اَھْلِكَ یُؤَذِّنُ فِیْ اُذُنِكَ فَاِنَّهٗ دَرْءُ الْھَّمِ یعنی: مولا علی کہتے ہیں مجھے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا: اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے، اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔ [مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوہ المصابیح باب الاذان ، جلد 2، صفحہ 149، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان] اذان دینے سے جہاں وبا سے امان ملتا ہے وہاں وحشت بھی دور ہوتی ہے۔ لہذا اس ثابت شدہ امر کو بدعت و جہالت کہنا بہت بڑی زیادتی ہے۔ اور مانعین اسکے ناجائز و بدعت ہونے پر ایک بھی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔ *محدث وھابیہ کی گواہی* صاحبو ! مانعین کہتے ہیں کہ فرض نماز کے علاوہ اذان دینا کہیں سے بھی ثابت نہیں اور بدعت و جہالت ہے۔ آئیے فرض نماز وں کے علاوہ اذانوں کا ثبوت ہم انہی کے محدث سے پیش کرتے ہیں۔ وھابی مذھب کے محدث و انکے مجدد مولوی نواب صدیق حسن خان بھوپالی لکھتے ہیں کہ: ”زید بن اسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بعض معاون پر والی تھے۔ لوگوں نے کہا یہاں جن بہت ہیں۔ کثرت سے اذانیں (ایک ہی) وقت پر کہا کرو ، چنانچہ ایسے ہی کیا گیا اور پھر کسی جن کو وہاں نہ دیکھا“ [کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور] وھابیہ کے محدث نے اس بات کو تسلیم کیا کہ نمازوں کے علاوہ بھی کثرت کیساتھ اکٹھی اذانیں دینے سے بلائیں بھاگ جاتی ہیں۔ تو کیا فتویٰ لگے گا آپکے محدث بھوپالی پر ؟؟ وھابیہ کے یہی محدث بھوپالی اپنی کتاب میں ھیڈنگ دے کر لکھتے ہیں ”مشکلات سے نکلنے کیلئے“ پھر اس عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ: ”حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ کو مہموم (پریشان) دیکھ کر فرمایا کہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو حکم دے کہ وہ تیرے کان میں اذان کہہ دیں کہ یہ دواءِ ھم (یعنی پریشانی کی دواء) ہے چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا مجھ سے غم دور ہو گیا۔“ [کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور] *مشکلات ٹالنے کیلئے اذان* تو وھابیہ کے محدث نے بھی تسلیم کیا کہ اذان سے غم دور ہوتا ہے۔ اور مشکلات ٹَلتی ہیں، تو سوچو جب مسلمانوں کی اذانوں کی آواز اتنے لوگوں کے کانوں میں پڑی تو کتنا سکون ملا ہو گا۔ اگر نماز کے علاوہ اذان دینا جہالت و بدعت ہے تو کیا حکم لگے گا آپکے محدث بھوپالی صاب پر ؟؟ *مرگی کے علاج کیلئے اذان* وھابیہ کے مجدد بھوپالی نے اپنی کتاب میں عنوان قائم کیا جسکا نام ”مرگی کا علاج“ اسکے تحت وہ لکھتے ہیں کہ: ”بعض علماء نے مرگی والے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی تھی ، وہ اچھا ہو گیا۔“ [کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 77، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور] مزید عنوان دیا ”راستہ بھول جانے کا علاج“ اسکے تحت لکھا کہ: ”بعض علماء صالحین نے کہا ہے کہ آدمی جب راستہ بھول جائے اور وہ اذان کہے تو اللہ اسکی رہنمائی فرماوے گا۔“ [کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور] مزید اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: ”جسکو شیطان خبطی کر دے یا اسکو آسیب کا سایہ ہو.... تو اسکے کان میں سات بار اذان کہےـ“ [کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76،105، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور] تو ان دلائل سے ثابت ہوا کہ مصیبت و پریشانی کے وقت اذانیں دینے سے مصیبت وبائیں اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں۔ بس اسی جذبے تحت مسلمانوں نے کراؤنا وائرس جیسی وباء سے جھٹکارے کیلئے اللہ کے ذکر یعنی اذان کی تدبیر کی تاکہ اللہ کریم ﷻ اپنے ذکر کی برکت سے اس آفت کو ٹال سے اور مسلمانوں کو خوف وہراس سے نکال دے۔ لیکن کچھ لوگ برا مان گئے نہ صرف برا مانے بلکہ اذانوں کا یہ سلسلہ دیکھ کر مسلمانوں کو نہ صرف بدعتی بلکہ جاھل کہنا شروع کر دیا۔ الحمد للہ ہم نے اتمام حجت کیلئے نہ صرف احادیث سے اسکے جواز کے شوھد پیش کیئے بلکہ انکے اس محدث کے حوالے بھی پیش کیئے جنکے بارے میں انہوں نے لکھا کہ وہ رب سے ہمکلام ہوا کرتے تھے۔ یقیناً اذان سن کر شیطان ہی کو تکلیف ہوتی اور مسلمانوں کو جاھل کہتا ہے کیونکہ اذان سن کر کرشیطان 36 میل دور بھاگ جاتا ہے۔ امام مسلم رحمۃ اللّٰہ علیہ روایت کرتے ہیں: عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ» قَالَ سُلَيْمَانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا» یعنی: حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ شیطان جب اذان سنتا ہے تو ( بھاگ کر ) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ ‘ سلیمان ( اعمش ) نے کہا : میں نے ان ( اپنے استاد ابو سفیان طلحہ بن نافع ) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ مدینہ سے چھتیس میل ( کے فاصلے ) پر ہے ۔ [صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل الأذان... إلخ، الحدیث:854، مطبوعہ دار السلام ریاض سعودیہ] لہذا کم از کم مسلمان کو اذان سن کر خوش ہونا چاہئے اور آفت ٹلنے کی دعا کرنی چاہئے نہ کہ پڑھنے والوں کو جاھل و بدعتی کہہ اپنا رشتہ شیطان سے ظاھر کرنا چاہئے۔ اللہ کریم ﷻ سے دعا ہے کہ امت کو اس وبا سے نجات عطا فرمائے اور حق کو سمجھنے کہ توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم الامین ﷺ مدینے پاک کا بھکاری محمداویس رضاعطاری Sent from my Redmi Note 5 using Tapatalk
  10. 1 point
    یا جنید یا جنید کہنے والے واقعے پر اعتراضات کا علمی و تحقیقی محاسبہ ۔۔ جدید ایڈیشن ۔۔۔اس ایڈیشن کے آخر میں اہم حوالوں کے اسکینز بھی لگائے گے ہیں ۔ طالب دعا : احمد رضا قادری رضوی 26.03.2020 بروز جمعۃ المبارک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکرایب سے ڈاون لوڈ کرنے کے یہ لنک https://www.scribd.com/document/453502065/Al-Burhan-Part-1-Ya-Janad-2020-Final یہاں سے ڈان لوڈ کیجیے AL BURHAN (PART 1 YA JANAD)2020 FINAL.pdf
  11. 1 point
    ASSLAM O ALYKUM
  12. 1 point
    1 ۔ علامہ خفاجی کے حوالے سے آپ نے (لا القدرۃ) کی رٹ لگاتے رہے مگر جب ھم نے عبارت سے آئینہ دکھایا خود ہی حقیقتِ ظلم کو قدرت الٰہی سے لا یتصور کہہ کر لاتعلق مان گئے ۔ اور محال عقلی اور کیا ھوتا ھے!! ھم نے علامہ خفاجی کی عبارت پیش کی جس میں خلف کو ممتنع لکھا تھا اور ساتھ ہی نقص اور منافی الوھیت بھی لکھا تھا جس سے ممتنع بالغیر کی تاویل بھی نہیں چل سکتی تو جناب منقار زیرِ پر ھو گئے 2 ۔ مسائرہ ومسامرہ کا عکس تم نے پیش کیا تو اس میں صاحبِ عمدہ علامہ نسفی حنفی کا قول ھے کہ اللہ تعالیٰ کو ظلم و سفہ و کذب پر قادر ھونے سے وصف نہ کیا جائے اور معتزلہ کے نزدیک وہ یہ سب کر سکتا ہے۔ علامہ نسفی کی بات پر بحث کرتے ہوئے علامہ کمال ابن الھمام حنفی نے کہا (کانہ انقلب مذھب المعتزلہ) (لگتا ھے کہ اس نے معتزلہ کا مذھب اُلٹ بیان کیا)۔ حالانکہ یہ کہنا تب درست ھوتا جب سب معتزلہ کا ایک ھی قول ھوتا جبکہ مزدار راہبِ معتزلہ کا قول مشہور ھے ۔ اور امام فخر الدین رازی نے بھی معتزلہ کا یہی مذھب بتایا ہے ۔ یونہی زیرِ بحث(ظلم،سفہ وکذب کر سکنے کی) بات کو مذھب اشاعرہ (مغفرت مشرکین کا ممکن بالذات اور محال بالغیر ھونا) کے الیق بتانا بھی اشاعرہ کا مذھب بتانا نہیں بلکہ ان کا لازم المذھب بتانا ہے ۔ اسی کتاب کے صفحہ 60 پر ھے کہ اشاعرہ اور ان کے غیر کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو چیز بندوں کے حق میں وصف نقص ھے تو باری تعالیٰ اس سے منزہ ھے وھو محال علیہ تعالیٰ والکذب نقص فی حق العباد ۔ اسی کتاب کے صفحہ 239 پر عقیدہ اہل سنت لکھا کہ : یستحیل علیہ سبحانہ سمات النقص کالجہل والکذب۔ اللہ تعالیٰ پر عیب کی نشانیاں جیسے جہل اور کذب محال ہیں۔ 3 ۔ شرح مواقف :331 پر خوارج و معتزلہ کا اعتراض لکھا کہ کبیرہ گناہ کی معافی سے خلف فی الوعید اور کذب فی الخبر لازم آتا ہے جو محال ہے ۔ اس پر فرمایا کہ وعید میں سزا لازمًا ھونے کی بات نہ تھی، واقع ھو سکنے کی بات تھی ۔ سزا لازم ھونے کی بات کی خلاف ورزی سے خلف وکذب لازم آ سکتا تھا ۔ اب ان دونوں کا جواز لازم نہیں آتا ۔ اور وہ بھی محال ھے۔ کیوں کہ ھم کہتے ہیں کہ اس ( یعنی صاحب ِ کبیرہ کی معافی)کا محال ھونا ممنوع ہے اور کیسے نہ ھو جبکہ یہ دونوں باتیں (ظاھری خلف وعید اور صورتِ کذب) ممکنات سے ہیں اور باری تعالیٰ کی قدرت میں شامل ہیں ۔ پھر اس بات کو اگر تم حقیقت میں کذب باری مانتے ھو تو تم وقوعِ کذبِ باری کے قائل ھوئے اور وقوع کذب باری کی تکفیر کر کے تم نے اپنی ھی تکفیر کی ۔ پھر اسی شرح مواقف:114 میں ھے کہ انہ تعالیٰ یمتنع علیہ الکذب اتفاقاً ۔الله تعالیٰ پر جھوٹ بالاتفاق محال ہے (قبیح یا نقص وغیرہ ھونے کی وجہ سے)۔ پھر اسی شرح مواقف:413 میں ھے کہ معتزلہ مزداریہ کا موقف ہے کہ الله قادر علیٰ ان یکذب و یظلم ، ولو فعل لکان الھا ظالما۔ تعالی الله عما قالہ علوا کبیرا۔ یعنی اللہ جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے پر قادر ہے، اگر ایسا کرے گا تو خدا جھوٹا اور ظالم ھو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی کہی ھوئی باتوں سے بہت بلند ھے۔ اب معتزلی مزداروں اور دیوبندی مرداروں میں کیا فرق رہ گیا ہے؟ نام نہاد چار صریح حوالوں پر کلام :1 ۔ کمال ابن الھمام:- مسائرہ کی زیربحث عبارت میں اشاعرہ کا مذھب مذکور نہیں بلکہ ان کے مذھب کے الیق لکھا اور یہ ظاھر بات ہے کہ لازم المذھب لیس بمذھب ۔ 2۔ حاشیہ سیالکوٹی کی زیر بحث عبارت کے بعد والی عبارت میں علم و صدق سمیت کسی بھی صفتِ کمال کی نفی کو ایسا ممتنع بتایا جیسے ذات کی نفی۔ یہ عبارت تمہاری پیش کردہ بے ربط عبارت سے معارض بھی ھے اور متاخر بھی ۔ ذات کی نفی محال عقلی ھے یا محال بالغیر ھے؟ ۔ 3۔ شرح المواقف۔(ھما من الممکنات) میں خلف وعید اور اس سے متعلقہ "کذب" مراد ہیں۔ آپ واضح کریں کہ خلف ِ وعید عقلاً ممکن اور شرعاً محال ہے یا شرعاً بھی ممکن ہے اور محض ممکن ہے یا واقع بھی ھو گا؟ اور خلف وعید سے متعلقہ کذب کا بھی وہی حکم ھے یا نہیں؟ ۔ 4۔ مسلم الثبوت کے یہ جناب کے پیش کردہ محشی کون ہیں؟ " اگر جھوٹے نبی کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر کرنا ممکن بالذات مانتے ہو تو کیا اسے محال بالغیر بھی مانتے ھو یا نہیں؟ اگر محال بالغیر مانتے ھو تو وہ "غیر" کیا ھے؟ وہ الله کا کذب لازم آنا ھے۔ اگر کذب بھی ممکن بالذات ھے تو ایک ممکن بالذات دوسرے ممکن بالذات کو محال بالغیر کیسے بنا سکتا ہے، اس کے لئے تمہیں ماننا پڑے گا کہ کذب الله تعالیٰ کے لئے محال بالذات ھے ۔ کب تک ابن حزم اور مزدار کی پیروی کرتے رہو گے؟
  13. 1 point
    وقوع کذب باری کا قول دیوبندی کلاموں سے ثابت ھے:۔ ۔ 1۔ سرفراز کے مطابق : معبود بڑے بڑے گناہ بخش سکتا ہے مگر نہیں بخشے گا کیونکہ وقوع کذب ھو جائے گا ۔ ۔ 2۔ شئی( تین میں سے ایک زمانے میں ) فی الجملہ موجود تو ان الله علی کل شئی قدیر سے جھوٹ بولنے پر قدرت تبھی مانی جائے گی جب ایک زمانے میں کذب موجود و واقع مانا جائے ۔ ۔ 3۔ خلف وعید اگر کذب ھے تو خلف وعید کا امکان ماننا نہیں بلکہ وقوع ماننا مختلف فیہ ھو گا۔ ۔ 4۔ قدرۃ علی القبائح ماننے والے محمود الحسن نے ترجمہ میں لکھا کہ رسولوں نے گمان کیا کہ (اللہ کی طرف سے)ان سے جھوٹ بولا گیا ۔ وقوع کذب باری کا ظن رسولانِ گرامی سے؟؟
  14. 1 point
    سبحٰن السبوح 1307ھ میں امکان کذب کے جدید مدعیان (براہین قاطعہ کے شروع میں امکان کذب کا دفاع کرنے والے صاحبان کو دہلوی کے مقتدی اور مدعیان جدید )لکھا تھا کہ "اِن مقتدیوں یعنی مدعیانِ جدید کو ابھی (1307ھ) تک مسلمان ھی جانتا ہوں اگرچہ ان کی بدعت و ضلالت میں شک نہیں "۔ تحذیرالناس کی تکفیر کی نفی یہاں سے اخذ کرنا ھرگز درست نہیں ہے ۔ سبحٰن السبوح سے ایک سال پہلے لکھی گئی کتاب اعلام الاعلام بان ھندوستان دارالاسلام (1306ھ) میں لکھا ہے ۔ "جو نجدی وہابی ۔ ۔ ۔ کہے آج تک جو صحابہ تابعین خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین سمجھتے رہے خطا پر تھے، نہ پچھلا نبی ھونا حضور کے لئے کوئی کمال بلکہ اس کے معنی یہ ہیں جو میں سمجھا ۔ ۔ ۔یہ سب فرقے بالقطع والیقین کافر ہیں"۔ سبحٰن السبوح کی اس عبارت کو حسام الحرمین کا ناسخ لکھنے والے دیوباندی علماء بھی دستیاب ہیں، ڈیرہ غازی خان کے ایک صاحب نے کتاب لکھی (انشاء قلیل در دفاع مولانا طارق جمیل)،اس کے صفحہ 4 پر سبحٰن السبوح کی اس عبارت کو حسام الحرمین کا ناسخ لکھا ہے، دیو باندیوں کی تحقیق کے کیا کہنے!؟ اور دعویٰ یہ ہے کہ دیوبندی تحقیق کے بادشاہ ہیں۔
  15. 1 point
    Warning Hanfi Deobandi Sahib achay Alfaz ka istaymal krean ager koi baat krni ha tow scane page laga kr kia krean ..... اس ٹاپک کو لاک کیا کیا جارہا ہے حنفی گروپ صاحب اپنے تمام پوائنٹ کو اکھٹا ایک جگہ کر کے مجھے میسیج کردیں میں ٹاپک کھول دوں گااور اس کا جواب بھی اردو رسم الخت میں پوسٹ لر دوں گاں
  16. 1 point
    اس کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں امام ذہبی کے حوالے سے لیکن جناب نے یہاں وہابی تحقیق پیش کی ہے تو جواب بھی وہابی سے دیتے ہیں۔ زئی اس روایت کے کہتا ہے: أبو حفص و كلثوم عن أبى غادية قال… . فقيل قتلت عمار بن ياسر و أخبر عمرو بن العاص فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أن قاتله و سالبه فى النار“إلخ [طبقات ابن سعد 261/3 و اللفظ له، مسند احمد 198/4، الصحيحة 19/5 ]اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا:وهٰذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم… .عر ض ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قاتله و سالبه فى النار والی روایت بھی صحیح ہے۔ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :فقيل… . إلخ پس کہا گیا کہ تو نے عمار بن یاسر کو قتل کیا اور عمرو بن العاص کو یہ خبر پہنچی ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”بے شک اس (عمار ) کا قاتل اور سامان لوٹنے والا آگ میں ہے۔ “اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا راوی فقيل کا فاعل ہے جو نامعلوم (مجہول) ہے۔ راوی اگر مجہول ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ في الناروالی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے۔ ”إسنادہ صحیح“ نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ سے روایت دو راوی بیان کر رہے ہیں :➊ ابوحفص : مجہول۔➋ کلثوم بن جبر : ثقہ۔امام حماد بن سلمہ رحمہ الله نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں ؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔خلاصہ التحقیق : یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح کہنا غلط ہے۔ ۔۔۔ اس بات کا حوالہ پہلے چکا ہوں لیکن پھر وہی بات پوسٹ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اس روایت میں محشی نے خود بتایا ہے کہ اسے ایک راوی کا ترجمہ و توثیق نہ مل سکی اور ایک راوی کی توثیق دینا بھی بھول گیا ہے خود دیکھ لو اپنے پوسٹر میں ہم نے نشان دہی کر دی ہے۔ ارے میاں کسی کا قول نقل کرنا لازمی نہیں ہوتا ہے کہ وہ بات ان کے نزدیک حجت ہو۔ باقی امام ابن معین کے قول کی دلیل بھی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سند ہے اور نہ ہی امام ابن معین جنگ صفین میں تھے کیونکہ وہ ان سے ایک صدی بعد پیدا ہوئے اس لیے ایسے اقوال کے بارے میں امام شعبہ اور امام ابن مبارک کا قول پیش کر چکا ہوں اس لئے مزید اس طرح اقوال پیش کرنے سے گریز کریں جن نہ سند ہوتی ہے اور نہ دلیل ہوتی ہے۔
  17. 1 point
    ہم نے یہاں بات کی تھی کہ زئی نے روایات کو ضعیف قرار دیا ہے جس کا حوالہ ہم دے چکے ہیں اب بھی دے دیتے ہیں جناب کو زئی کا اسناد پر موقف یہ ہے دیکھ لو: کیا ابو الغادیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوزخی ہیں؟ تھے؟ سوال : ایک روایت میں آیا ہے کہ قاتل عمار وسالبه فى النار عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے۔ شیخ البانی رحمہ الله نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھئے : [السلسلة الصحيحة 18/5۔ 20 ح 2008 ] یہ بھی ثابت ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو جنگِ صفین میں ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ نے شہید کیا تھا۔ دیکھئے : [مسند احمد 76/4 ح 16698 و سنده حسن ] کیا یہ صحیح ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ دوزخی ہیں ؟ (حافظ طارق مجاہد یزمانی) الجواب : الحمدلله رب العالمين و الصلوٰةوالسلام عليٰ رسوله الأمين، أما بعد : جس روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے، اس کی تخریج و تحقیق درج ذیل ہے : ① ليث بن أبى سليم عن مجاهد عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه… . إلخ [ ثلاثةمجالس من الامالي لابي محمد المخلدي 1/75۔ 2، السلسلة الصحيحة 18/5، الآحادو المثاني لابن ابي عاصم 102/2 ح 803 ] یہ سند ضعیف ہے۔ لیث بن ابی سلیم جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے، ◈ بوصیری نے کہا: ضعفه الجمهور ” جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔“ [ زوائد ابن ماجه : 208، 230 ] ◈ابن الملقن نے کہا: وهو ضعيف عند الجمهور ” وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ “ [خلاصة البدر المنير : 78، البدر المنير : 104/2 ] ◈ امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا : ضعيف كوفي [ كتاب الضعفاء : 511 ] ② المعتمر بن سليمان التيمي عن أبيه عن مجاهد عن عبدالله بن عمرو رضى الله عنه … إلخ [المستدرك للحاكم 387/3 ح 5661 وقال الذهبي فى التلخيص : عليٰ شرط البخاري و مسلم ] یہ سند سلیمان بن طرخان التیمی کے عن کی وجہ سے ضیف ہے۔ سلیمان التیمی مدلس تھے، دیکھئے جامع التحصیل [ ص106] کتاب المدلسین لا بی زرعۃ ابن العراقی [ 24] اسماء من عرف بالتدلیس للسیوطی [ 20] التبیین لأسماء المدلسین للحلبی [ ص29] قصیدۃ المقدسی و طبقات المدلسین للعسقلانی [ 2/52] ◈ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا : كان سليمان التيمي يدلس ” سلیمان التیمی یدلیس کرتے تھے۔“ [ تاريخ ابن معين، رواية الدوري : 3600 ] امام ابن معین کی اس تصریح کے بعد سلیمان التیمی کو طبقۂ ثانیہ یا اولیٰ میں ذکر کرنا غلط ہے بلکہ حق یہ ہے کہ طبقۂ ثالثہ کے مدلس ہیں لہٰذا اس روایت کو ”صحیح علیٰ شرط الشیخین“ نہیں کہا جا سکتا۔ ③ أبو حفص و كلثوم عن أبى غادية قال… . فقيل قتلت عمار بن ياسر و أخبر عمرو بن العاص فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أن قاتله و سالبه فى النار“إلخ [طبقات ابن سعد 261/3 و اللفظ له، مسند احمد 198/4، الصحيحة 19/5 ] اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا: وهٰذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم… . عر ض ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قاتله و سالبه فى النار والی روایت بھی صحیح ہے۔ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فقيل… . إلخ پس کہا گیا کہ تو نے عمار بن یاسر کو قتل کیا اور عمرو بن العاص کو یہ خبر پہنچی ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”بے شک اس (عمار ) کا قاتل اور سامان لوٹنے والا آگ میں ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا راوی فقيل کا فاعل ہے جو نامعلوم (مجہول) ہے۔ راوی اگر مجہول ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ في النار والی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے۔ ”إسنادہ صحیح“ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ سے روایت دو راوی بیان کر رہے ہیں : ➊ ابوحفص : مجہول۔ ➋ کلثوم بن جبر : ثقہ۔ امام حماد بن سلمہ رحمہ الله نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں ؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔ خلاصہ التحقیق : یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح کہنا غلط ہے۔ (اوپر دیکھ لیں میاں کیا زئی نے تینوں روایات کی تضعیف نہیں کی ہوئی؟؟ کیا یہ ہم نے جھوٹ بولا ہے) (الحدیث شمارہ نمبر 31 ص 26) (توضیح الاحکام ج 2 ص 477) باقی زئی نے جو یہ لکھا ہے: تنبیہ : ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جنگِ صفین میں شہید کرنا ان کی اجتہادی خطا ہے جس کی طرف حافظ ابن حجر رحمہ اللہ العسقلانی نے اشارہ کیا ہے۔ دیکھئے : [الاصابة 151/4 ت 881، ابوالغادية الجهني] وما علينا إلا البلاغ یہ بات خود اسی کے اصول سے باطل ہے کیونکہ ایک تو صحیح سند نہیں دی سب کو اس نے ضعیف قرار دیا ہے جب ضعیف قرار دیا ہے تو قاتل کیسے ثابت ہوتا ہے؟؟ جب کہ زئی صاحب خود ضعیف روایت کے حکم پر لکھتے ہیں: "علمائے کرام کا دوسرا گروہ ضعیف روایات پر عمل کا قائل نہیں چاہے عقائد و احکام ہوں یا فضائل مناقب اور اسی گروہ کی تحقیق راجح ہے۔" (مقالات ج 2 ص 270) آخر میں زئی صاحب لکھتے ہیں : "اگر کوئی شخص دلیل کے ساتھ ہماری غلطی ثابت کر دے تو اعلانیہ رجوع کرتے ہیں۔" (مقالات ج 2 ص 283) اب ہم نے یہاں زئی کی غلطی کی نشان دہی کر دی ہے ایک طرف سب روایات کو ضعیف قرار دیا ہے اور دوسری طرف بنا دلیل کے قاتل کہہ دیا ہے پھر کہتے ہیں ضعیف پر عمل نہیں کرنا چاہیے لہذا زئی تو اب زندہ نہیں اگر ہوتا اس کو یہ پتہ چلتا تو ضرور رجوع کرتا اس بات سے۔ واللہ اعلم
  18. 1 point
    ایک بات سات کتابوں میں لکھی ہوئی ہے اسی بات کا ہم کئی بات تحقیقی رد کر چکے ہیں جن کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ارے میاں ایک ضعیف روایت ساتھ تو کیا لاکھ کتب میں ہو وہ ضعیف رہتی ہے اور وہ ایک ہی حوالہ رہتا ہے باقی اس کو کتب میں نقل کرنے سے نئی روایت نہیں بن جاتی۔ الحمدللہ جناب نے کوئی بھی نئی بات نہیں کی وہی پرانی روایت پیش کی جن کا ہم پہلے جواب دے چکے ہیں لیکن اب کی بار کتب اور تھیں لیکن روایت وہی پرانی تھی۔ لگتا ہے یہی ضعیف روایت ہی جناب کی کل کائنات ہے۔ جناب کے تمام دلائل کا رد کیا جا چکا ہے کوئی نئی بات ہو تو کریں پرانی روایات کو کتب بدل بدل کر پیش نہ کریں کیونکہ ان کاجواب پہلے ہو چکا ہے۔ شکریہ
  19. 1 point
    پھر وہی پرانی روایت پوسٹ کر دی بس اب کی بار البانی آگیا ہے روایت وہی ہے جس کا ہم پہلے جواب دے چکے ہیں۔ چلیں البانی سے پوچھ کر دیں کہ اس روایت کو صحیح کہا ہے تو کیا کلثوم بن جبر کا سماع حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کیا ثابت ہے؟؟؟ اگر ثابت ہے تو جناب البانی کے مقلد ہیں تو ثابت کریں سماع ورنہ امام ذہبی نے اس روایت کو منقطع قرار دیا ہے سیر اعلام النبلاء میں اس کا اوپر حوالہ دے چکا ہوں پہلے۔ اور فقیل کہنے والا راوی کون ہے جب کہ یہ مجہول کا صیغہ ہے تو پھر اس کی سند کیسے صحیح ہے؟؟ اب البانی کی طرف سے جناب پر جواب دینا لازم ہے ۔
  20. 1 point
  21. 1 point
    اس روایت کا مکمل اسنادی جواب اوپر مکمل چکا ہے باقی جناب کی یہاں ایک ترجمہ کی غلطی دیکھانی تھی وہ یہ کہ یہاں قال کلثوم بن جبر کا نہیں بلکہ عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا ہے جو کہ مجہول ہے اور امام طبرانی کی سند میں اس بات کی تصریح ہے۔ حدثنا علي بن عبد العزيز وأبو مسلم الكشي قالا ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا ربيعة بن كلثوم ثنا أبي قال كنت بواسط القصب عند عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر فقال: « الآذان هذا أبو غادية الجهني فقال عبد الأعلى أدخلوه فدخل وعليه مقطعات له رجل طول ضرب من الرجال كأنه ليس من هذه الأمة فلما أن قعد قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يمينك قال نعم خطبنا يوم العقبة فقال « يأيها الناس ألا إن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ألا هل بلغت؟ قالوا نعم قال: اللهم اشهد. قال « لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض قال: وكنا نعد عمار بن ياسر من خيارنا قال فلما كان يوم صفين أقبل يمشي أول الكتيبة راجلا حتى إذا كان من الصفين طعن رجلا في ركبته بالرمح فعثر فانكفأ المغفر عنه فضربه فإذا هو رأس عمار قال يقول مولى لنا أي كفتاه قال فلم أر رجلا أبين ضلالة عندي منه إنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم ما سمع ثم قتل عماراً" )المعجم الکبیر للطبرانی ج 22 ص 363 رقم 912)
  22. 1 point
    اس روایت کا مکمل اسنادی جواب اوپر مکمل چکا ہے باقی جناب کی یہاں ایک ترجمہ کی غلطی دیکھانی تھی وہ یہ کہ یہاں قال کلثوم بن جبر کا نہیں بلکہ عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا ہے جو کہ مجہول ہے اور امام طبرانی کی سند میں اس بات کی تصریح ہے۔ حدثنا علي بن عبد العزيز وأبو مسلم الكشي قالا ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا ربيعة بن كلثوم ثنا أبي قال كنت بواسط القصب عند عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر فقال: « الآذان هذا أبو غادية الجهني فقال عبد الأعلى أدخلوه فدخل وعليه مقطعات له رجل طول ضرب من الرجال كأنه ليس من هذه الأمة فلما أن قعد قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يمينك قال نعم خطبنا يوم العقبة فقال « يأيها الناس ألا إن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ألا هل بلغت؟ قالوا نعم قال: اللهم اشهد. قال « لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض قال: وكنا نعد عمار بن ياسر من خيارنا قال فلما كان يوم صفين أقبل يمشي أول الكتيبة راجلا حتى إذا كان من الصفين طعن رجلا في ركبته بالرمح فعثر فانكفأ المغفر عنه فضربه فإذا هو رأس عمار قال يقول مولى لنا أي كفتاه قال فلم أر رجلا أبين ضلالة عندي منه إنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم ما سمع ثم قتل عماراً" )المعجم الکبیر للطبرانی ج 22 ص 363 رقم 912)
  23. 1 point
    ارے جناب محدثین کا اسلوب بھی یہ دیکھ لیا کرو کیونکہ بعض محدثین حدیث کو مختصر اور بعض مفصل بیان کرتے ہیں۔ لیکن مسنداحمد کی روایت میں متن میں لفظ "قال" ہے جس کا نہ ترجمہ کیا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ "قال" کس نے کہا ہے؟؟ آیا یہ کلثوم بن جبر نے کہا ہے یا عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر نے کہا ہے؟؟ اس بات کی مسنداحمد میں تصریح نہیں اس لیے ہم نے اس کی مکمل اسناد جمع کر کے پتہ چلایا کہ یہ "قال" عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر نے کہا ہے یہ کلثوم بن جبر نے نہیں کہااس لئے ترجمہ کرنے والے نے غلط ترجمہ کیا اور اس "قال" کو کلثوم بن جبر کی طرف منسوب کر دیا جو کہ درست نہیں۔ جب کہ امام طبرانی کی روایت میں قال کہنے والے بندے کی تصریح موجود ہے اس لئے واضح ہو گیا کہ اس بات کو بیان کرنے والا عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ہے جو کہ مجہول ہے۔ امام طبرانی کی روایت کی ہے: حدثنا علي بن عبد العزيز وأبو مسلم الكشي قالا ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا ربيعة بن كلثوم ثنا أبي قال كنت بواسط القصب عند عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر فقال: « الآذان هذا أبو غادية الجهني فقال عبد الأعلى أدخلوه فدخل وعليه مقطعات له رجل طول ضرب من الرجال كأنه ليس من هذه الأمة فلما أن قعد قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يمينك قال نعم خطبنا يوم العقبة فقال « يأيها الناس ألا إن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ألا هل بلغت؟ قالوا نعم قال: اللهم اشهد. قال « لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض قال: وكنا نعد عمار بن ياسر من خيارنا قال فلما كان يوم صفين أقبل يمشي أول الكتيبة راجلا حتى إذا كان من الصفين طعن رجلا في ركبته بالرمح فعثر فانكفأ المغفر عنه فضربه فإذا هو رأس عمار قال يقول مولى لنا أي كفتاه قال فلم أر رجلا أبين ضلالة عندي منه إنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم ما سمع ثم قتل عماراً" )المعجم الکبیر للطبرانی ج 22 ص 363 رقم 912)
  24. 1 point
    *شمشادنامی غیر کے مقلد کی کا دعویٰ کہ امام اعظم اما م مالک سے ہر علم میں کم تھے اور اسکی پیش کردہ دلیل پر تحقیقی نظر* غیر کا مقلد پہلے ایک روایت جو کہ امام شافعی سے منسوب ہے اسکو نقل کرنے سے پہلے ایک پھکی بنا کر لکھتا ہے : امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ کون ؟؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا اصول فقہ کا بانی سمجھا جاتاہے اب اس بانی اصول الفقہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ کون ہوتا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں: امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم قال سمعت الشافعي قال لي محمد بن الحسن: أيهما أعلم بالقرآن صاحبنا أو صاحبكم؟ يعني أبا حنيفة ومالك بن أنس، قلت: على الإنصاف؟ قال: نعم، قلت: فأنشدك الله من أعلم بالقرآن صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: صاحبكم يعني مالكاً، قلت: فمن أعلم بالسنة؟ صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: اللهم صاحبكم. قلت : فأنشدك بالله من أعلم بأقاويل أصحاب محمد صلى الله عليه وعلى آله وسلم صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: صاحبكم، قلت: فلم يبق إلا القياس والقياس لا يكون إلا على هذه الأشياء فمن لم يعرف الأصول فعلى أي شيء يقيس؟!!!! [الجرح والتعديل موافق 1/ 12 واسنادہ صحیح] ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن الحسن نے کہا: کہ امام مالک اورامام ابوحنیفہ رحمہما اللہ میں سے زیادہ جانکار کون ہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا انصاف کے ساتھ بتلادوں؟ محد بن حسن نے کہا: جی ہاں۔ امام شافعی کہتے ہیں پھر میں نے کہا اللہ کے واسطے بتاؤ قران کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟ محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ قران کے زیادہ جانکار تھے۔ اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے پوچھا : اچھا یہ بتاؤ حدیث کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟ محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ حدیث کے زیادہ جانکار تھے۔ اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ اب باقی بچا قیاس تو قیاس انہیں قران وحدیث ہی پر ہوتا ہے پس جو شخص (ابوحنیفہ) اصول یعنی قران و حدیث سے ناواقف ہو وہ قیاس کس پر کرے گا؟؟؟ گھوپو پھر روایت پر اپنا خلاصہ بھی لکھتا ہے کہ : اس پورے کام میں غورکریں گے توصاف معلوم ہوتا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ وہی ہوسکتاہے جو سب سے زیادہ حدیث (نصوص کتاب وسنت) کا جانکار ہوگا، اسی لئے امام شافعی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو قران و حدیث میں کم علم کے ساتھ ساتھ فقہ میں بھی امام مالک رحمہ اللہ سے کمزور بتلایا ہے الجواب: اس غیر کے مقلد شمشاد نامی کو چاہیے تھا کہ یہ کہتاکے امام الحسن بن شیبانی ؒ جو خود حنفی ہیں وہ امام اعظم کو امام مالک سے ہر علم میں کم سمجھ رہے ہیں جبکہ متن میں بھی اقرار تو امام محمد بن حسن کر رہےہین امام شافعی نے تو اپنے منہ سے کچھ نہ بولا لیکن اس جاہل کو متن سمجھنے کی بھی تمیز نہیں اور اگر ہوگی بھی تو اس نے بات امام شافعی کی طرف لٹا دی ہے خیر اب ہم اسکا تحقیقی جواب پیش کرتے ہیں اس روایت کا متن ہی اس روایت کو باطل بنانے کے لیے کافی ہے امام محمد بن الحسن الشیبانی جو امام اعظم ابو حنیفہؒ کے شاگرد بنے پھر مدینہ امام مالکؒ کے پاس ۳ سال تک رہے اور انکی الموطا یاد کی ہے پھر وہ امام اعظمؒ کی شاگردی اختیار کی واپس آکر اور اپنی وفات تک فقہ حنفی کی تدوین کرتے رہے انہوں نے فقہ حنفی کی تائید اور تدوین میں سب سے زیادہ کتب تصنیف کی ہیں وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ امام اعظم معاذاللہ قرآن کا علم بھی حدیث کا علم اور اثار کا علم بھی نہیں رکھتے تو اللہ انکو امت کا سب سے بڑا فقیہ امام کیسے بنا دیا ؟ دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ امام محمد بن الحسن الشیبانی جو خود موطا روایت کرتے ہیں امام مالک سے وہ بھی نیچے امام ابو حنیفہ ؓ سے مروی اثار لکھ کر کہتے ہیں ہمارا اس پر عمل ہے وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ امام مالک ہر علم میں امام اعظم سے مقدم ہیں ؟ نیز امام محمد بن الحسن الشیبانی نے تو امام مالک کے رد پر مکمل کتاب تصنیف کی ہے جسکا نام انہوں نے الرد علی اہل مدینہ کے نام سے لکھی اگر وہ انکو ہر علم میں مقدم سمجھتے تو امام اعظم کی تائید اور دفاع میں امام مالک کے خلاف کتاب کیسے لکھتے ؟؟ امام شافعی کا فیصلہ! امام شافعی ؒ تو خود اپنے تما م تمام شیوخ جن میں امام مالک بھی شامل ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر فقہ کے باب میں سب سے زیادہ احسان امام محمد بن الحسن الشیبانی الحنفیؒ نے کیا ہے (تاریخ اسلام و سند صحیح ) امام شافعی تو امام محمدبن الحسن کو اما م مالک پر فوقیت دیتے تھے وہ کس طرح یہ سمجھتے ہوں کہ : امام ابو حنیفہ امام مالک سے ہر علم میں کم ہیں نیز پھر اما م محمد بن الحسن کا بھی یہی کہنا ہو؟ نیز اسکو امام ابن ابی حاتم نے اپنی کتاب آداب مناقب میں نقل کیاہے اور اس میں امام ابن ابی حاتم نے تعصب کی وجہ سے امام شافعی سے انکی زندگی کے آغاز میں امام اعظم اور صاحبین کے خلاف کہے گئے اقوال زیادہ نقل کیے اور اما م شافعی کی طرف سے امام اعظم کی مداح و ثناء میں اقوال نہ ہونے کے برابر لکھے ہیں اور اسی کتاب میں سند صحیح کےساتھ موجود ہے کہ امام شافعی کہتے ہیں رائے یعنی قیاس کوئی چیز ہے تو اس میں تمام لوگ اہل عراق (یعنی امام اعظم و صاحبین ) کے سب بچے ہیں پھر اپنی زندگی کے آخری حصے میں تھے تو کہتے تھے کہ : فقہ میں تما م لوگ بال بچے ہیں اہل اعراق (یعنی امام اعظم و صاحبین) کے امام اعظم تو فقہ کے باب مین سب کو امام اعظم و صاحبین کے بال بچے سمجھتے تھے وہ کیسے امام مالک کو مقدم کر سکتے تھے فقہ میں امام ابو حنیفہ پر ؟ جبکہ انکے نزدیک تو امام محمد بن الحسن الشیبانی بھی اما م مالک سے مقدم تھے فقہ کے باب میں اوردوسری بات امام مالک خود امام ابو حنیفہ کو بے نظیر فقیہ مانتے تھے اسی کتاب آداب الشافعی میں امام ابن ابی حاتم با سند صحیح سے لکھتے ہیں کہ : امام شافعی نے اما م مالک سے پوچھا کہ آپ نے امام ابو حنیفہ کو دیکھا ہوا ہے ؟ تو امام مالک نے کہا بیشک میں نے اسے دیکھا ہوا اسکے پاس دلائل کا اتنا انبار ہوتا ہے وہ ایک مٹی کے ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہے تو کئی دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں امام مالک کا امام عظم کے بارے یہ مشہور قول بھی ابن ابی حاتم نے ہضم نہ ہوا اور پیٹ میں مروڑ اٹھے جسکے بائث انہوں نے لکھا کہ امام مالک کی مراد تھی کہ امام ابو حنیفہ غلط ہونے پربھی ڈٹے رہتے (معاذاللہ استغفار) جبکہ امام اعظم کا اپنا قول صحیح سند سے ثابت ہے وہ کہتے ہیں اے ابو یوسف: تم میرے منہ سے نکلی ہر بات نا لکھ لی کروکیونکہ میں اکثر اپنے اقوال سے رجوع کر لیتا ہوں صبح ایک فیصلہ ہوتا ہے تو رات کو رجوع کر چکا ہوتاہوں نتیجہ: اس سے معلوم ہوا کہ اما م اعظم بہت محتاط اور دلائل پر گہری نظر رکھنے والے امام تھے کہ انکو اپنے اجتیہاد کے خلاف کوئی روایت مل جاتی تو فورا اپنا قیاس رد کر دیتے اور روایت کو قبول کر لیتے اور دوسرا سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ اما م اعظم اپنے تمام شاگردوں کو اپنی اجازت سے لکھواتے تھے بغیر اجازت امام ابو یوسف کو بھی لکھنے سے منع فرما دیتے یہی وجہ ہے کہ امام اعظم اپنے کسی بھی فیصلے پر جب مدلل تحقیق کر چکے ہوتے تو تب لکھواتے یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی میں باقی فقہ کی طرح اقوال میں تکرار نہیں ہے اب آتے ہیں اسکی سند کی طرف: اسکی سند بظاہر صحیح ہے لیکن بظاہر ہر سند صحیح ہونے سے متن صحیح نہیں ہو جاتا ہے اہل علم جو اصول حدیث جانتے ہیں وہ یہ بات خوب سمجھتے ہیں تو ہم اس روایت کی سند میں متعدد علتیں پیش کرتے ہیں : ۱۔یہ واقعہ جو مناظرے کا ہے امام شافعی اور امام محمد بن الحسن الشیبانی کا اسکو بیان کرنے والا فقط ایک راوی ہے جس پر اس قصے کا دارومدار ہے اور اسکا نام ہے محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم یہ خود امام مالک کے مذہب پر تھا اور امام شافعی کے بھی اور متشدد بھی تھا اسکا ترجمہ بیان کرتےہوئے امام ابن ایبک الصفدی (المتوفیٰ ۷۶۴ھ) کیا فرماتے ہیں دیکھتے ہیں : ابن عبد الحكم الشافعي محمد بن عبد الله بن عبد الحكم بن أعين بن ليث الإمام أبو عبد الله المصري الفقيه أخو عبد الرحمن وسعد لزم الشافعي مدة وتفقه به وبأبيه عبد الله وغيرهما روى عنه النسائي وابن خزيمة وثقه النسائي وقال مرة لا بأس به وكان الشافعي معجبا به لذكايه وحرضه على الفقه وحمل في محنة القرآن إلى بغداذ ولم يجب ورد إلى مصر وانتهت إليه رياسة العلم في مصر له تصانيف منها أحكام القرآن والرد على الشافعي فيما خالف فيه الكتاب والسنة والرد على أهل العراق وأدب القضاة توفى سنة ثمان وستين (الكتاب: الوافي بالوفيات ،المؤلف: صلاح الدين خليل بن أيبك الصفدي (المتوفى: 764هـ) امام ابن ایبک نے انکے بارے میں فرماتے ہیں : کہ ابن عبدالحکم یہ فقیہ تھے ان سے امام نسائی ، ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے امام نسائی کہتے تھے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے پھر امام ابن ایبک آگے لکھتے ہیں انہوں نے کافی تصانیف بھی لکھی ہیں اور انہوں نے بنام احکام القرآن لکھی ہے ۲۔اور انہوں نے خود اما م شافعیؒ کے رد میں کتاب لکھی ہے جسکا نام تھا الرد علی الشافعي فيما خالف فيه الكتاب والسنة یعنی امام شافعی پر ان مسائل میں رد جس میں انہوں نے قرآن اور سنت کی مخالفت کی ہے (استغفار ) یہ ہے وہابیہ کی منافقت کیا یہ اب بقول اس راوی کے امام شافعی کو قرآن و حدیث کا مخالف سمجھیں گے ؟؟ چونکہ پہلے دور میں کیا ہوتا تھا محدثین جب کسی مجتہد کے فتوے کو سمجھ نہ پاتے اور انکے فتوے کو بظاہر ایک روایت کے خلاف سمجھ لیتے تو فورا یہ فتویٰ ٹھوک دیتے تے یہ تو قرآن و حدیث کے خلاف ہے بجائے ان سے یہ پوچھنے یا تحقیق کرنے کے کہ : مخالف کی دلیل کیا ہے اور جو روایت انکے پاس ہے کیا وہ مخالف کے منہج کے مطابق قابل قبول ہے بھی یا نہیں خیر آگے چلتے ہیں اما م ابن ایبک آگے لکھتے ہیں : ۳۔ انہوں نے ایک اور کتاب لکھی تھی الرد علی اہل العراق (یعنی امام اعظم و صاحبین) تو ایسے راوی جو اتنا متعصب ہو جو خود امام شافعی اور امام اعظم و صاحبین کے رد میں کتب لکھ چکا ہوتو ایسے متعصب راوی کی روایت پر کون یقین کر سکتا ہے ؟ کیونکہ ایسا متعصب راوی جس سے عداوت رکھتا ہے وہ ضرورالفاظ ایسے بیان کرتا ہے جس سے متن پورا کا پورا تبدیل ہو جاتا ہے اسکا ایک ثبوت اسی راوی ہی سے پیش کرتے ہیں جو کہ اس نے امام شافعی سے ایک ایسی بات بیان کی جسکی وجہ سے امام ربیع بن سلیمان جو امام شافعی کے کبیر شاگرد تھے انہوں نے اس راوی کو کذاب قرار دیتے ہوئے اما م شافعی پر اسکا بہتان لگانے کا اقرار کیا اوراسی وجہ سے امام ابن الجوزی بھی اسکو کذاب مانتے تھے امام ربیع بن سلیمان کی جرح کی وجہ سے لیکن چونکہ یہ جمہور محدثین کے نزدیک متفقہ ثقہ ہے تو محدثین نےتصریح کی ہے کہ یہ اس سے کوئی غلطی ہوئی ہوگی نقل کرنے یا بیان کرنے میں کیونکہ امام ابن خزیمہ نے اسکے حفظ پر کلام کیا ہے کہ اسناد میں اسکا ضبط اچھا نہ تھا جیسا کہ آگے بیان ہوگا اس وجہ سے امام نسائی نے بھی اسکے مطلق فتویٰ دیا کے اس کےبارے میں جھوٹ کا اقرار نہیں کی جا سکتا ہے امام ذھبیؒ نے تزکرہ الحفاظ میں بھی اس راوی یعنی محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم کو شامل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : قلت له كتب كثيرة منها الرد على الشافعي وكتاب أحكام القرآن ورد على فقهاء العراق وغير ذلك مات في سنة ثمان وستين ومائتين رحمه الله تعالى. (الكتاب: تذكرة الحفاظ المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ) میں کہتا ہوں اس نے کافی کتب لکھی تھیں جن میں ایک الرد علی الشافعی وکتاب احکام القرآن اوردوسری ورد علی فقہا العراق لکھی (نوٹ: یہ متصب اور مخالف پرست ہونے کی نشانی ہے ) اب ہم ثبوت پیش کرتے ہیں کہ اس راوی نے امام شافعی سے کونسی ایسی روایت بیان کی ہے جس پر امام ربیع بن سلیمان نے اسکو قسم کھا کر کذاب قرار دیا تھا : چناچہ امام ابن حجر عسقلانیؒ تہذیب التہذیب میں اس راوی کے ترجمے میں تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ : وقال الذهبي في الميزان قال ابن الجوزي كذبه الربيع ورده الذهبي بأنه صدوق ثم نقل كلام النسائي وغيره فيه انتهى وابن الجوزي نقل ذلك من كلام الحاكم حيث نقل في علوم الحديث عن طريق بن عبد الحكم قصة مناظرة الشافعي مع محمد بن الحسن في ما يناسب إلى أهل المدينة من تجويز إتيان المرأة في الدبر وهي قصة مشهورة فيها احتجاج الشافعي لمن يقول بالجواز قال فقال الربيع لما بلغه ذلك كذب محمد والله الذي لا إله إلا هو لقد نص الشافعي على تحريمه في ستة كتب وقد أوضحت في مواضع أخر أنه لا تنافي بين القولين فالأول كان الشافعي حاكيا عن غيره حكما واستدلالا ولو كان بعض ذلك من تصرفه فالباحث قد يرتكب غير الراجح بخلاف ما نقله الربيع فإنه في تلك المواضع يذكر معتقده نعم في آخر الحكاية قال والقياس أنه حلال وقد حكى الذهبي ذلك أيضا وتعقبه التحريم كذا قال ولم يفهم المراد فإن في الحكاية عمن قال بالتحريم أن الحجة قول الله تعالى فمن ابتغى وراء ذلك الآية فدل على الحصر في الإتيان في الفرج فأورد عليه لو أخذته أو جعله تحت إبطها أو بين فخذيها حتى انزل لكان حلالا بالاتفاق فلم يصح الحصر ووجه القياس أنه عضو مباح من امرأة حلال فأشبه الوطء بين الفخذين وأما قياسه على دبر الغلام فيعكر عليه أنه حرام بالاتفاق فكيف يصح ثم قال الذهبي وقد حكى الطحاوي هذه الحكاية عن بن الحكم عن الشافعي فأخطأ في نقله ذلك عنه وحاشاه من تعمد الكذب وقد تقدم الجواب عن هذا أيضا (تہذیب التہذیب) امام ذھبی نے میزان میں کہا ہے کہ ابن جوزی نے یہ امام حاکم کے کلام سے نقل کیا ہے جیسے کہ امام حاکم نے علوم الحديث میں طریق بن عبد الحکم سے ایک مناظرے کا قصہ امام شافعی اور امام محمد بن الحسن کے بارے میں نقل کیا ہے جو کہ اہل مدینہ کی طرف منسوب ہے عورتوں کے پیچھے حصے سے جماع کرنے کے بارے میں مشھور قصہ ہےا س میں امام شافعی کا ان لوگوں کے بارے میں احتجاج ہے جو جواز کے قائل ہیں جب ربیع کو یہ بات پہنچی تو انھوں نے کہا اس محمد(بن عبداللہ الحکم) نامی شخص نے جھوٹ بولا ہے للہ کی قسم جسکے سوا کوئی معبود نہیں امام شافعی کا اسکو حرام کہنے پر 6 کتب میں نص موجود ہےاور یقینا میں نے واضح کیا ہے کئی جگہوں پر کہ اپ ان اقوال کو ایک دوسرے کے متنافی نا کہے ایک تو امام شافعی اسے دلیل پکڑنے میں (مستدل بنانے میں) اور حکم لگانے میں دوسرے سے حکایت نقل کر رہے ہیں ناکہ خود سے بتا رہے ہیں اگرچہ بعض باتیں انکی تصرف سے ہیں پس بحث کرنے والا غیر راجح قول کا ارتکاب کرتا ہے بخلاف ربیع کے نقل کےکیونکہ وہ ان جگہوں پر معتقد ہو کر بھی نقل کررہا ہے تو آپ نے دیکھ سکتے ہیں کہ اس راوی جو کہ ثقہ توتھا فقیہ بھی تھا لیکن یہ اسناد یا متن میں کچھ ایسی گڑبڑ کر دیتا تھا کہ روایت کا مکمل متن اور مطلب تبدیل کر کے رکھ دیتا تھا یہی وجہ ہے کہ اسکی یہ باتوں کو محدثین نے تسامع میں درج کیا ہے نہ کہ اسکو کذاب قرار دیا اسی طرح خود امام ذھبی میزان کے بارے یہی روایت امام شافعی نے نقل کر کے لکھتے ہیں کہ یہ روایت منکر ہے (نوٹ: جس طرح اما م ذھبی نے اسکا اما م شافعی سے عجیب و غریب متن کے ساتھ روایت کرنے کو متن قرار دیا ہے ویسے ہی ہم اوپر اسکا بیان کردہ امام شافعی سے امام محمد بن الحسن کے ساتھ ایک اور مناظرے کا قصہ متن کے لحاظ سے منکر ثابت کر آئے ہیں ) لیکن محدثین نے بھی اس واقعے پر اپنا کلام ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بات حقیقت کے منافی ہے جیسا کہ امام ذھبیؒ ہی نے خود سیر اعلام میں اس واقعے کا تعقب کیا ہے اور اسکو رد کرتےہوئے اپنا خوبصورت فیصلہ بیان کیا ہے : امام ذھبی سیر اعلام میں ابن الحکم سے اس واقعے کا کچھ حصہ ذکر کرکے اسکا تعقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں : قلت: وعلى الإنصاف؟ لو قال قائل: بل هما سواء في علم الكتاب، والأول أعلم بالقياس، والثاني أعلم بالسنة، وعنده علم جم من أقوال كثير من الصحابة، كما أن الأول أعلم بأقاويل علي، وابن مسعود، وطائفة ممن كان بالكوفة من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فرضي الله عن الإمامين، فقد صرنا في وقت لا يقدر الشخص على النطق بالإنصاف - نسأل الله السلامة -. (سیر اعلام النبلاء جلد ۸ ،ص ۱۱۲) میں کہتا ہوں ! انصاف کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کتاب اللہ کا علم ہونے کے حوالے سے یہ دونوں حضرات برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ، پہلے والے صاحب (یعنی امام ابو حنیفہ)قیاس کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہیں اور دوسرے صاحب (یعنی امام مالک )سنت کا زیادہ علم رکھتے ہیں انکے پاس صحابہ کے اقوال کا بہت سارا ذخیرہ ہے اور جیسا کہ پہلے صاحب (یعنی امام ابو حنیفہ) کے پاس حضرت علی ، حضرت عبداللہ بن مسعود اور کفہ میں موجود صحابہ کرام کے اقوال کے بارے میں زیادہ علم موجود ہے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں اماموں سے راضی ہو۔ ہم ایک ایسے وقت میں آگئے ہیں جس میں آدمی انصاف کے ساتھ برنے کی قدرت ہی نہیں رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں تو امام ذھبی ؒ نے خود اس بات کارد کرتے ہوئے انصاف کا دمن پکڑتے ہوئے اپنا فیصلہ دیا ہے کہ : امام مالک اور امام اعظم ابو حنیفہ علم قران میں برابر تھے یہ کہا جائے گا اور اجتیہاد اور مسائل میں امام اعظم کو مقدم کیا امام ذھبی نے اور احادیث کے مختلف طریق اور اقوال پر امام مالک کو مقدم کیا لیکن اس بھی تخصیص کرتے ہوئےامام اعظم کے بارے میں فرمایا کہ : امام ابو حنیفہ حضرت علی ، حضرت ابن مسعود اور اہل کوفی کی جماعت کے اقوال اور روایات کے حافظ تھے کیا وہابی ہر رویت میں امام ذھبی کاحکم پیش کرتے ہیں کیا اس بات پر امام ذھبی سے اتفاق کریں گے ؟ یا ان پر بھی بدعتی اور حنفی ہونے کا الزام لگائیں گے ؟ جبکہ امام ذھبی نے علم حدیث کی بنیاد کرنےوالے حضرات میں امام ابو حنیفہ کو بھی شامل کیا ہے اللہ ہم کو غیر مقلدین کے فتنے سے محفوظ رکھے اور ہم سلف اور صالحین محدثین اور فقہا کا دفاع ان گندے انڈے غیر مقلدین سے کرتے رہیں گے ا *دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی*
  25. 1 point
    ارے بھائی پہلی بات یہ ہے آپ کا سند پرمنکر کا حکم تھا تو اس لیے میں صرف سند پر بات کی اور کسی بات پر نہیں کی لیکن سند صحیح مان چکے ہیں تو پھر اس فائدہ نہیں کہ بحث کی ہے۔ میں پہلے بھی شافعی حنفی جھگڑوں میں پڑ پڑ کر بہت سے علمی دوستوں سے دور ہو چکا ہوں اس لیے اب مزید اس پر پھر واپس نہیں جانا چاہتا اس لئے آپ کی پوسٹ کا جواب نہیں دے رہا ہوں کیونکہ اس سے مزید فاصلے پیدا ہو جائیں گے۔ اللہ عزوجل ہم سب کو ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
  26. 1 point
    جناب قاسم صاحب! میں نے پوری بحث کی کلید پیش کی تھی جس کا آپ جواب دینے کی بجائے سائیڈ سے گزر گئے۔ میں بات کا رنگ بدل کر پھر پیش کر رہا ہوں۔ جواب ضرور دینا:۔ کیا عمار کو قتل کرنے سے قاتل فاسق ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر عمار کا قاتل ہونے سے بندہ فاسق ہوجاتاہے تو اُس کا صحابی ہونا اور قاتل ِ عمار ہونا بھی تو اُسی کے قول سے ہی ثابت ہوتا ہے تو وہ دونوں باتیں بھی ایک فاسق کا بیان ہونے کی وجہ سے غیرمعتبر ہو گئیں یا نہیں؟
  27. 1 point
    جناب مقصد بتانے کا تھا کہ سند میں اختلاف ہے نسخوں کی وجہ سے اور متن میں اضطراب ہے ایک جگہ کان شعبہ ہے اور دوسری جگہ سمعت شعبہ ہے... دوسری بات منصور کا شیخ امام شعبہ اگر ہوتے تو کوئی ایک محدث انکا بام لکھ دیتا کیونکہ عام طور پر کتب رجال میں راوی کے ان شیوخ کا نام لکھا جاتا ہے یا تو جس سے روایات زیادہ ہوں یا کوئی مشہور حستی جسکے شیوخ میں ہو... اور امام جیسی ہستی کسی کی شیخ ہو اور ماہر رجال سب انکا نام نظر انداز کر دیں ایسا ہو نہیں سکتا
  28. 1 point
    جی ضرور ہم انتظار میں رہیں گے۔ لیکن جواب اصولی اور تحقیقی ہو اور پوسٹرز سے نہ ہو بلکہ تحریری جواب ہو۔ ان شاء اللہ ہم ضرور آپ کی اس تحریر کا جواب دیں گے۔ باقی میری مجبوری یہ ہے چائینہ میں کبھی اسلامی محفل پر لاگ ان نہیں ہو پاتا کیونکہ میرا وی پی این اس سائٹ کو اوپن نہیں کرتا اس لئے جیسے میں آئن لائن ہوا کروں گا تو آپ کو جواب دے دیا کروں گا۔ آپ کا بھی شکریہ
  29. 1 point
    ارے جناب آپ نے سب سے پہلے امام ذہبی علیہ الرحمہ پر الزام لگایا ہم نے اس کا جواب دیا اب اصولایہ بنتا تھا کہ آپ امام ذہبی سے اسے صحابی ثابت کرتے پھر ہماری بات کا رد کرتے جب کہ آپ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور جناب پھر ابن حزم کو لے آئے۔ ایسے تو شمر ذی الجوشن کو شیعہ علماء نے اصحاب علی رضی اللہ عنہ میں لکھا ہے تو پھر اسے بھی آپ تسلیم کرتے ہیں؟؟ باقی رہی ابن حزم کی بات ارے بھائی ابن حزم کو ہم کب سے صحیح سمجھتے ہیں؟؟ ابن حزم تو صحابہ کو مجہول کہہ دیتا ہے کبھی ان شیعہ و رافضی بنا دیتا ہے اس لیے ابن حزم ہمارے نزدیک گمراہ ہے اور اس کے نظریات بھی بہت خراب تھے۔ اس لئے ابن حزم کے حوالہ جات ہمارے لیے حجت نہیں اگرچہ وہابیوں کے لئے حجت ہیں۔ باقی میں معذرت کرتا ہوں آپ لوگوں کی بحث میں بنا تسلسل سے آ گیا لیکن آپ کو چاہیے تحقیق سے کام لیا ایسے ہی پوسٹر نہ چپکایا کریں۔ شکریہ
  30. 1 point
    میرے مشفق آپ بھول رھے ھیں ۔ خلافت راشدہ خاصہ کے لئے تو پیمانے اور بھی سخت ھو جاتے ہیں ۔ جو بات عادل خلیفہ کے لئے ناجائزہ ھو تو خاص خلفائے راشدین کے لئے وہ بدرجہ اولیٰ ناجائز ھو گی۔ اگر الزام علیہ مروان کو معاویہ گورنر بنائے تو اعتراض کرتے ہو، اور مولا مرتضیٰ اگر الزام علیہ محمد بن ابوبکرؓ کو گورنر بنائیں تو چپ سادھ لیتے ھو، کیا تمہارے لینے کے باٹ اور ہیں اور دینے کے باٹ اور ہیں؟
  31. 1 point
    قصاص کا مطالبہ تو حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں کے نزدیک حق تھا۔ اختلاف یہ تھا کہ حضرت معاویہ کہتے تھے:پہلے عثمان کا قصاص پھر علی کی بیعت۔ مگرحضرت علی فرماتے تھے : پہلے علی کی بیعت پھرعثمان کا قصاص۔ اسی سے تمہاری دونوں باتوں کا جواب ہو جاتا ہے کہ قصاص کا مطالبہ درست تھا یا نہیں؟ اور حضرت علی کو قاتلین عثمان میں وہ داخل مانتے تھے یا خارج مانتے تھے۔ ندویوں کے متعلق ہمارا موقف کوئی اچھا نہیں ہے۔ انوار اللہ فاروقی نے مقاصدالاسلام میں جو کچھ لکھا،بغیر ثبوت کے لکھا،اور اس کی حیثیت الزام سے زیادہ نہیں۔ تاہم اُس نے جس بات کو خیال لکھا تھا،تم نے اُسے اُس کا عقیدہ لکھ کر اُس پر بھی جھوٹ بولا ہے۔
  32. 1 point
    بولتی تو جس کی بند ہوئی ہے وہ سب دیکھ رہے ہیں جاہل سے ایک لائن کا ترجمہ نہیں کیا جارہا
  33. 1 point
    پانچ کتابوں کو پیش کیا، سند ایک میں بھی نہیں مل سکی۔ کتاب کے مصنف سے لے کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک سند ھی پیش نہیں کر سکتے، سند کا صحیح یا حسن ھونا تو بعد کی بات ہے ۔ پانچ نہیں بلکہ پانچ سو کتابوں کی ورق گردانی کرو۔ الزام تو مل سکتا ھے مگر ثبوت وسند نہیں ملیں گے ۔ -------------------------------------------- امیر معاویہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر لعنت بھیجتے تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم پر لعنت بھیجنے والے پر بھی لعنت کے قائل تھے۔(حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے) ۔ پس ثابت ھوا کہ وہ حضرت علی کو قاتلین عثمان میں کسی طرح بھی شمار نہیں کرتے تھے ۔
  34. 1 point
    ہم تو منتظر ہیں کہ تم کچھ ایسا پیش کرو جو سچ ہو ہر بار ضعیف شاذ قول پیش کر کے بھاگ جاتے ہو جب تمہاری پکڑ کی جاتی ہے تو کہتے ہو کونسی حدیث کونسی سند پھر اندھے بن بیٹھتےہو
  35. 1 point
    جناب قاسم علی صاحب 1۔ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے متعلق فرمایا کہ (فاتوا علیا فقولوا لہ یدفع لنا قتلۃ عثمان) علی کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ عثمان کے قاتلوں کو ھمارے سپرد کرے۔ فتح الباری میں ابن حجر عسقلانی نے اسے بسند جید لکھا ھے۔ اس کے مقابلے میں آپ کے حوالوں میں سند جید تو کیا ملنا تھا، سرے سے سند ھی نہیں ملتی۔ اس حوالے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک قاتلین عثمان اور ہیں ،اور علی اور ھے۔ 2۔ حجر بن عدی کے دعوی اور عمل میں فرق موجود ہے جو اُن کے دعویٰ پر سوالیہ نشان ھے۔ 3۔ بغاوت کی چوتھی قسم لکھا تھا، آپ نہ پڑھیں تو میں کیا کروں؟ 4۔ ایک روایت کے مجہول راوی کی جہالت تو دور کر نہ سکے، اُلٹا اور بے سند روایات پیش کر دیں ۔ چلو شاباش! اب مصنفین سے لے کر معاویہ تک ھر ایک روایت کی سند تلاش کرو اور پیش کرو۔ ایک بات ایک اخبار کی بجائے دس اخباروں میں چھپ جائے مگر اس خبر پر کسی کو سزا نہیں ہو سکتی، اس کے لئے (اسناد صحیحہ والی )گواھیاں درکار ھوتی ھیں ۔
  36. 1 point
    سوہنیا کیہڑی کتاب؟؟اوپر دو سکینز نظر نہیں آرہے کیا؟؟؟یا اندھے ہو چکے ہو؟؟؟شرح عقیدہ طحاویہ کا سکین ہے اسکے علاوہ رافضی کی تعریف کا سکین بھی ہے۔۔۔کسی آئی سپیشلسٹ کو مل لو اگر نظر نہیں آرہے
  37. 1 point
    جناب قاسم علی صاحب میں اس بات کو آپ کی جہالت نہ سمجھوں تو اور کیا سمجھوں؟؟ صحیح مسلم شریف کی حدیث شریف کے ترجمہ میں مترجم نے اپنا من مانا ترجمہ کیا اور اس سے بنو امیہ کو مراد لیا،جس پر میرے بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود آپ کی مستند شارح کا قول نہیں پیش کر سکے اس لیے آپ لاجواب ہوۓ اب آپ بھاگے ہوئے گئے اور الشجرۃ الملعونۃ والی آیت کا مصداق بنو امیہ کو ثابت کرنا چاہا لیکن اسمیں امام فخرالدین رازی کے قول کے متعلق میرے جواب کا جواب الجواب نہ دے کرآپ لاجواب ہو گئے نہ آپ فتح القدیر کی سند پیش کر سکے نہ روح المعانی کی۔تاریخ طبری کے متعلق بھی خاموشی سے بھاگ نکلے اب نئی باتیں پیش کر کے بھاگنا چاہتے ہو ایسے تو میں تمہیں کہیں جانے نہیں دوں گا پہلے الشجرۃ الملعونۃ والی باتوں کا جواب دو پھر آگے چھلانگیں لگاؤ تمہاری یہ جہالت ساری دنیا دیکھ رہی ہے
  38. 1 point
    قاسم علی صاحب آپ نے (علیہ السلام) کے متعلق جھوٹ بولا ھے، الیاس قادری صاحب نے اسے منع کیا ھے، کفر نہیں کہا۔ آپ بتائیں کہ کتاب میں کس جگہ اسے کفر لکھا ھے؟ حضرات حسنین کریمین کے بہنوئی حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنے ایک بیٹے کا نام ( معاویہ) رکھا اور امیر معاویہ کو خوش کیا۔ یہ معاویہ جناب عون و محمد کے سوتیلے بھائی اور حضرت زینب بنت فاطمۃ الزھراء کے سوتیلے بیٹے ھیں۔ پس امیر معاویہ کی رضا جوئی کے لئے یہ نام رکھنا بھی آل ابو طالب کی سنت ھے۔
  39. 1 point
    منہاجی میاں یہاں تمہاری من مانی نہیں چلے گی ۔۔تم پھنس چکے ہو ہر بات میں خود ہی پھنس جاتے ہو۔۔چلو کوئی شارح ہی بتا دو جسنے شرح میں یہ لکھا ہو مترجمین کو چھوڑ دو۔۔ذرا ہمت کرو سیدہ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا تعلق کس قبیلہ سے تھا؟؟ اس سوال کا جواب بعد میں دینا پہلے حدیث کے معنی میں جو تحریف کی ہے اسکا جواب دو یہاں تمہاری کاپی پیسٹس سب بے کار جائیں گی ان شاء اللہ عزوجل
  40. 1 point
    یہاں سے بھی پسپا ہوگئے ؟ محترم آپ کو شاید یہ علم ہی نہیں کہ فردِ جرم اور شہادتوں کے بعد فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور وہ اجتہاد ہے۔ کیا سمجھے؟؟
  41. 1 point
    کیا یہ میری باتوں کا جواب ہے منہاجی میاں؟؟چلو میں نے کوئی دلیل نہیں دی تو تم ہی میرے سوالات کے جوابات دے دو؟؟؟میرا ایک بھی سوال ایسا دکھا دو جو ٹاپک سے ریلیٹڈ نہ ہو؟؟؟لیکن چونکہ ہمارے سوالات تمہارے گلے میں ہڈی کی طرح پھنس چکے ہیں اسلیے اب تم ایسی حرکتیں ہی کرو گے لیکن جوابات دیتے ہوۓ آپ کو موت نظر آۓ گی ان شاء اللہ عزوجل
  42. 1 point
    امام ابن معین الحنفی اور امام احمد بن حنبل کے درمیان امام ابو حنیفہ و امام شافعی کی وجہ سے چپکش کا پس منظر بقلم اسد الطحاوی الحنفی البریلوی! أخبرنا أبو طالب عمر بن إبراهيم، قال: حدثنا محمد بن خلف بن جيان الخلال، قال: حدثني عمر بن الحسن، عن أبي القاسم بن منيع، قال: حدثني صالح بن أحمد بن حنبل، قال: مشى أبي مع بغلة الشافعي، فبعث إليه يحيى بن معين، فقال له: يا أبا عبد الله، أما رضيت إلا أن تمشي مع بغلته؟ فقال: يا أبا زكريا لو مشيت من الجانب الآخر كان أنفع لك. (تاریخ بغداد ، سند صحیح ) صالح بن احمد بیان کرتے ہیں کہ میرے والد احمد بن حنبل کو امام شافعی کی سواری کے ساتھ جاتے ہوئے یحییٰ ابن معین نے دیکھا تو اُن کے پاس کہلا بھیجا کہ ابو عبد اللہ (احمد بن حنبل کی کنیت ہے) آپ شافعی کی سواری کے ساتھ چلنے کو پسند کرتے ہیں؟ والد نے اُس کے جواب میں کہا کہ ابو زکریا! (یحییٰ ابن معین کی کنیت ہے) اگر آپ اُس کے بائیں جانب چلتے تو زیادہ فائدہ میں رہتے۔ اس واقعے کو امام القاضی عیاض مالکی نے بھی صالح بن احمد سے ان الفاظ سے نقل کیا ہے وقال ابن معين لصالح بن أحمد ابن حنبل: أما يستحي أبوك رأيته مع الشافعي، والشافعي راكب وهو راجل، ورأيته قد أخذ بركابه. قال صالح فقلت لأبي فقال لي: قل له إن أردت أن تتفقه، (الكتاب: ترتيب المدارك وتقريب المسالك ، المؤلف: أبو الفضل القاضي عياض بن موسى اليحصبي (المتوفى: 544هـ) قیام بغداد میں آپ کے مشہور تلامذہ میں سے ایک احمد بن حنبل (متوفی 241ھ) ہیں۔ ایک مرتبہ یحییٰ ابن معین نے احمد بن حنبل کے صاحبزادے صال بن احمد سے کہا کہ آپ کے والد کو شرم نہیں آتی ہے؟ میں نے اُن کو شافعی کے ساتھ اِس حال میں دیکھا ہے کہ شافعی سواری پر چل رہے ہیں اور آپ کے والد رکاب تھامے ہوئے پیدل چل رہے ہیں۔ صالح بن احمد نے یہ بات اپنے والد احمد بن حنبل سے بیان کی تو اُنہوں نے کہا کہ اُن سے کہہ دو کہ اگر آپ فقیہ بننا چاہتے ہیں تو شافعی کی سواری کی دوسری رکاب کو آپ تھام لیں تاریخ بغداد کی روایت کی سند کی تحقیق! سند کا پہلا راوی ابو طالب عمر بن ابراھیم: 3979- الزهري الفقيه العلامة، أبو طالب؛ عمر بن إبراهيم بن سعيد، الزهري الوقاصي، من ذرية صاحب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سعد بن أبي وقاص، بغدادي من كبار الشافعية ببغداد، ويعرف بابن حمامة. مولده في سنة سبع وأربعين وثلاث مائة. كتب عن: أبي بكر القطيعي، وابن ماسي، وعيسى بن محمد الرخجي، وعدة. روى عنه: الخطيب ووثقه. توفي سنة أربع وثلاثين وأربع مائة. (سیر اعلام النبلاء) سند کا دوسرا راوی : محمد بن خلف 749- محمد بن خلف بن محمد بن جيان بالجيم بن الطيب بن زرعة أبو بكر الفقيه المقرئ الخلال سمع: عمر بن أيوب السقطي، وقاسم بن زكريا المطرز، وعبد العزيز بن محمد بن دينار الفارسي، وعلي بن إسحاق بن زاطيا، وأحمد بن سهل الأشناني، وأبا بكر بن المجدر، ومحمد بن يحيى العمي، وحامد بن شعيب البلخي، ومحمد بن بابشاذ البصري، وكان ثقة، سكن بستان أم جعفر. (تاریخ بغداد) سند کا تیسرا راوی : محمد بن عمر الحسن ابو عاصم 5908- عمر بن الحسن بن علي بن الجعد بن عبيد أبو عاصم الجوهري، وهو أخو سليمان، وعلي حدث، عن زيد بن أخزم، وأبي الأشعث العجلي، ويحيى بن محمد بن السكن البزار، وعباس الدوري. روى عنه أبو بكر بن شاذان، وابن شاهين، والمعافى بن زكريا، وابن الثلاج، وكان ثقة. 1466 - نَا عمرَان بن الْحسن بن عَليّ بن مَالك قَالَ سَأَلت مُوسَى بن هَارُون الْبَزَّاز عَن أبي الْقَاسِم بن منيع فَقَالَ ثِقَة صَدُوق (الثقات لا ابن شاھین) سند کا چوتھا راوی زہیر بن صالح جو کہ بیٹے ہیں امام احمد بن حنبل ؒ کے 138 - زهير بن صالح بن أحمد بن حنبل. [المتوفى: 303 هـ] عن: أبيه. وعنه: ابن أخيه محمد بن أحمد، وأبو بكر الخلال، وأبو بكر النجاد. وهو ثقة. (تاریخ الاسلام) اس واقعے کا پس منظر امام یحییٰ ابن معین ؒ اور امام احمد بن حنبل بہت اچھے دوست تھے اور امام احمد امام ابن معین سے احادیث بھی روایت کرتے تھے یعنی ایک طرح سے احمد بن معین شیخ بھی تھے امام احمد کے اور دوست بھی لیکن امام احمد بن حنبل جو کہ پہلے امام ابو یوسفؒ سے فقہ و علم حدیث سیکھتے تھے پھر انکا رجھان امام شافعی کی طرف ہوا یہ بات امام ابن معینؒ الحنفی کو اچھی نہیں لگتی تھی اور امام ابن معین امام ابو حنیفہ پر ناز کرتے انکے اجتیہاد پر مثالیں دیتے امام ابن معین کا امام ابو حنیفہ پر فخر کرنے کا یہ عالم تھا کہ جب امام شعبہ امام ابو حنیفہ ؒ کو خط لکھتے اور احادیث اور احکامات (فقہ) کے لیے امام شعبہ کی امام ابو حنیفہؒ سے عر ض کرتے ہوئے پڑھتے تو فخریہ انداز میں کہتے کہ یہ امام شعبہ (جو علم رجال کی بنیاد رکھنے والوں میں سے تھے ) جو امام ابو حنیفہ کو خط لکھتے ہیں اور ان سے احادیث اور مسائل کا حکم کے لیے عرض کرتے ہیں اور پھر شعبہ ؒ تو پھر شعبہ ہیں (یعنی رجال کی محارت پھر امام شعبہ پر ختم ہو جاتی ہے) اور اسی طرح دوسری طرف امام احمد بن حنبل تھے جو امام شافعی کی طرف رجھان رکھتے تھے اور انکے فضائل و مناقب بیان کرتے اور جہاں تک میرے علم کا تعلق ہے امام ابن معین اور امام احمد کے درمیان فقہ حنفی و شافعی کی چپکلش کی وجہ سے امام احمد کی زبان سے امام ابو حنیفہ اور صاحبین کے بارے مذمت کے کچھ الفاظ ملتے ہیں لیکن امام احمد بن حنبل نے ان سب باتوں سے رجوع کر لیا تھا جیسا کہ ایک وقت میں انکا موقف تھا کہ امام ابو یوسف سے بیان نہ کیا جائے کیونکہ وہ ابو حنیفہ کی رائے پر عمل کرتے ہیں لیکن وہ صدوق ہیں لیکن پھر اس قول کے مخالف امام احمد نے اپنی مسند مین امام ابو حنیفہ سے روایت بیان کی ہے یعنی اگر کوئی پڑھنے والا امام احمد کے اس اعتراض کو پڑھے تو صاف جان جائے کہ یہاں امام احمد بن حنبل جو کہ امام ابو یوسف کو ثقہ جانتے ہوئے بھی فقط اس تعصب کی وجہ سے اسکی روایت کو بیان کرنے سے روکا کہ وہ اما م اعظم کی فقہ پر عمل پیرہ ہیں جو کے امام شافعی کی فقہ سے بالکل مختلف تھی یہی حسد تعصب جو امام احمد بن حنبل میں پایا جاتا تھا جسکی نشاندہی امام ابن معین نے کی اور امام احمد اور انکے ساتھ چند اور عداوت رکھنے والے حاسد و متعصب محدثین نے جب امام ابو حنیفہ اور صاحبین پر ہاتھ صاف کیا تو امام ابن معین دفاع میں نکل آئے اور انہوں نے اپنی جماعت محدثین کو مخاطب کر کے کہا کہ : ہمارے ساتھی (یعنی محدثین کی جماعت) امام ابو حنیفہ ، اور صاحبین پر بے وجہ ، نا حق جرح کر کے حد سے تجاوز کرتے ہیں یعنی امام ابن معین نے امام ابو حنیفہ و صاحبین کا کو ان سب جروحات سے پاک قرار دیا جو کہ تعصب میں ان پر کی جاتی تھی جیسا کہ اما م ابن عبدالبر نے یہ تصریح کی ہے کہ امام ابن معین ابو حنیفہ و صاحبین کی تعدیل اور انکی تعریف کرتے لیکن اہل حدیث یعنی محدثین کی ایک جماعت اما م ابو حنیفہ اور صاحبین سے حسد بغض اور عداوت کی وجہ سے جرح کرتی ہے (الاتنقاءفی فضائل الثلاثہ) یہی وجہ ہے کہ امام ابن معین نے پھر امام احمد بن حنبل کو انکی زبان میں سبق سیکھایا کہ امام شافعی جنکو امام ابن معین بھی ثقہ و محدث حافظ مانتے تھے لیکن جب انہوں نے امام احمد کو امام شافعی کی سواری کی رکاب پکڑے پیدل چلتے دیکھا تو کہا : کیاتم یہ پسند کرتے ہو ؟ کہ امام شافعی کی رکاب پکڑ کر اب پیدل چلو گے ؟ اور یہ پیغام امام ابن معین کا امام احمد کو فقیہ ابو حنیفہ اور صاحبین پر اعتراض کی وجہ سے کہاگیا جسکی تائید امام احمد بن حنبل کے جواب سے ثابت ہوتی ہے جیسا کہ امام احمد نے یہ پیغام سننے کے بعد یہ جواب دیا : لو مشيت من الجانب الآخر كان أنفع لك. یعنی امام احمد ابن معین کو فرماتے ہیں : اگر آپ اُس کے بائیں جانب چلتے تو زیادہ فائدہ میں رہتے۔ یعنی امام احمد کے بقول امام ابن معین چونکہ امام شافعی کی فقہ اور انکے اجتیہاد پر شدید جرح کرتے ہیں اس لیے امام احمد انکو جواب دیتے ہیں کہ اگر آپ امام شافعی کی طرف ہوتے تو زیادہ فائدہ مند ہوتے ۔۔ یعنی بقول امام احمد امام شافعی کی طرف نہ ہو کر کم فائدہ مند ہیں ؟ اور اسکی وجہ یہی ہے کہ امام ابن معین امام ابو حنیفہ کے مداح و ثنا کرنے والے تھے اس طرح ایسی اور کئی باتیں ہیں جنکی وجہ سے امام ذھبیؒ جو خود شافعی مسلک کے امام ہیں انکو یہ بات لکھنی پٖڑی کہ امام ابن معین جو کہ محدث تھے لیکن غالی حنفی تھے اور دوسری جگہ فرمایا کہ فروع میں حنفی مقلد تھے اور امام ذھبی کو امام شافعی کو الضعفاء میں د رج کیا اور امام ابن معین سے اما م شافعی کے بارے لکھا کہ وہ انکے بارے بری رائے رکھتے تھے اور غالی حنفی امام ذھبی نے اس وجہ سے قرار دیا کہ وہ امام شافعی جیسے فقیہ کو بھی انکے اجتیہاد(مخالف امام ابو حنیفہ کی وجہ سے ) ایسی جرح کرتے کہ سوائے غالی حنفی اور کوئی نہیں کر سکتا لیکن یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ امام احمد نے رجھان امام شافعی کی طرف رکھنے کے باوجود بھی اپنی فقہ اور اسکے اصول امام احمد نہ اپنا سکے بلکہ امام محمد و امام ابو یوسف جنہوں نے اما م ابو حنیفہ کے اصول اور انکی فقہ کو پروان چڑھایا اسی کی پیروی کی اور اس طرح بقول ابن تیمیہ امام احمد بن حنبل کے اقوال کے سب سے زیادہ قریب ترین کوئی فقہ ہے تو وہ فقہ حنفی ہے یعنی امام ابو حنیفہ کے اصول اور اجتیہاد کے قریب کسی کے فتوے ہیں مجتہد ہوتے ہوئے تو وہ امام احمد بن حنبل ہیں دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی !
  43. 1 point
  44. 1 point
  45. 1 point
    ویڈیو ابھی تک اپلوڈ نہیں ہوئی ۔کوشش جاری ہے جیسے ہی ملے گی اپلوڈ ہو جائے گی ۔
  46. 1 point
    السلام علیکم الحمداللہ ، اللہ نے اپنے حبیب کے صدقےوطفیل ہمیں اولادِ نرینہ کے نعمت سے نوازا ہے۔ آپ سب سے دعاوٗں کی خاص التجا ہے کہ اللہ اس بچے کو بدمذہبوں بددینوں کے شر سے محفوظ رکھے اور اپنے حبیب سرورِ دوعالم کی غلامی میں قبول فرمائے۔ آمین۔
  47. 1 point
  48. 1 point
  49. 1 point
    لو جناب جواب حاضر ہے۔ .زباں کچھہ اور, بوئے پیرھن کچھہ اور کہتی ہے
  50. 1 point
×
×
  • Create New...