Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 04/20/2018 in all areas

  1. 3 likes
    ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
  2. 2 likes
    حدیث پاک میں صبی کے الفاظ ہیں جو کم سن کو ظاہر کرتے ہیں۔
  3. 2 likes
    واقعہ حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃ اللہ علیہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی ( القولی الجلی مترجم اردو ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ442 اردو) ( القول الجلی فارسی ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ336 فارسی ) سوال یہ ہے کہ اسی مجذوب بزرگ کا واقعہ اگر اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرمائیں تو ان کے ملفوظات کو لے کر دیوبندی حضرات گندی گندی گالیاں نکالتے ہیں اور لعنتیں بھیجتے ہیں کیا وہی دیوبندی حضرات حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گندی گندی گالیاں دینگے اور ان پر لعنت بھیجیں گے ؟ دیوبندیوں یہودیانہ فطرت چھوڑ دو ، چھوڑ دو یہ منافقت اور دو رنگی یا پھر شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گالیاں دو اور لعنتیں بھیجو ، کیوں سادہ لوح مسلمانوں کو جھوٹ بول کر گمراہ کرتے ہو خود تو گمراہ ہوئے سادہ لوح لوگوں کا ایمان و عقیدہ کیوں برباد کرتے ہے جھوٹ بول کر جھوٹا مفہوم بیان کر کے اور کیوں فتنہ و فساد پھیلاتے ہو شرم تم کو مگر نہیں آتی آئے بھی کیسے شرم و حیاء باقی ہو تو آئے دعا ہے اللہ تمہیں ہدایت عطاء فرمائے
  4. 2 likes
    مسجد میںقربانی کی کھال، زکوٰۃ، خیرات اور صدقہ لگتا ہی نہیں مسجد میں نیک کمائی سے مدد کرسکتے ہیں بدمذہب کو چندہ دینا بد مذھبیت کو پھیلانا ہے۔ واللہ ورسولہ اعلم
  5. 2 likes
    ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے علامہ ابن عدی کی کتاب سے حدثنا علي بن سعيد حدثنا الحسين ابن عيسى الرازي حدثنا سلمة بن الفضل ثنا حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ((إذا رأيتم فلاناً على المنبر فاقتلوه). (الکامل لابن عدی 6/112) اس روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار تیسرے طبقہ کا مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔اور اس روایت میں فلانا کا لفظ ہے نام کی تصریح موجود نہیں۔ اس کے علاوہ محمدبن اسحاق کا شاگرد سلمہ بن الفضل الأبرش بھی کثیر الغلط راوی ہے۔ ایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے حديث جابر بن عبدالله روى سفيان بن محمد الفزاري عن منصور بن سلمة (ولا بأس بمنصور) عن سليمان بن بلال (ثقة) عن جعفر بن محمد (وهو ثقة) عن أبيه (ثقة) عن جابر بن عبدالله رضي الله عنه مرفوعاً (إذا رأيتم فلاناً اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں فلانا کا لفظ ہے ۔اس کے علاوہ سفیان بن محمد الفزاری سخت ضعیف ہے حدثني إبراهيم بن العلاف البصري قال، سمعت سلاماً أبا المنذر يقول: قال عاصم بن بهدلة حدثني زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر فاضربوا عنقه أنساب الأشراف (5/130) برقم (378) اس روایت میں ابراہیم بن العلاف بصری مجہول ہے اس کی توثیق امام ابن حبان کے علاوہ کسی امام نے نہیں کی۔اور امام بن حبان کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں۔ حدثنا يوسف بن موسى وأبو موسى إسحاق الفروي ، قالا : حدثنا جرير بن عبد الحميد ، حدثنا إسماعيل والأعمش ، عن الحسن ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه"، فتركوا أمره فلم يفلحوا ولم ينجحوا. أنساب الأشراف (5/128) اس راویت میں اسماعیل بن ابی خالد اور امام اعمش کا سماع امام حسن بصری سے محل نظر ہے۔اس کے علاوہ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سما ع آپ علیہ السلام سے نہیں ہے۔ حدثنا الساجي قال : ثنا بندار قال : ثنا سليمان قال : ثنا حماد بن زيد قال : قيل لأيوب إن عمراً روى عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال [ إذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ] قال أيوب كذب الكامل (5/103) اس راویت میں عمرو بن عبید بن باب کذاب ہے خود اسی راویت میں امام ایوب کیسان السختیانی نے جرح کی۔
  6. 1 like
    کوئی اور فضیلت مانے یا نہ مانے کوئی لیکن ان کی یہ فضیلت کافی ہے کے نبی پاک صلی الله علیہ وآکہ وسلم کے صحابی ہیں۔۔۔ اور ابن تیمیہ کی یہ بات بلکل غلط ہے۔۔۔ Sent from my iPhone using Tapatalk
  7. 1 like
  8. 1 like
    دارالافتاء حیدرآباد فون نمبر 0092222621563 دارالافتاء کنزالایمان کراچی فون نمبر 00922134855174 دارالافتاء نورالعرفان کراچی فون نمبر 00922132203640
  9. 1 like
    Bhai koi ahle ilm hazrat aap ko jarur bata denge
  10. 1 like
    امام طبرانی ؒ اپنی کتاب المعجم الکبیر میں با سند ایک روایت نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن یوں ہے 1052 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، ثُمَّ قَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ وَنُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، قَالَتْ: فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِكَ «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ نُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا فَهَلْ [ص:434] كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: «هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنُي، وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَنِي بَكْرٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ وَلَا تُعْلِمُ أَحَدًا، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُوهَا فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ مَا هَذَا الْجِهَازُ؟ قَالَتْ: وَاللهِ مَا أَدْرِي، قَالَ: مَا هَذَا بِزَمَانِ غَزْوِ بَنِي الْأَصْفَرِ فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، قَالَتْ: فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يَنْشُدُهُ: [البحر الرجز] يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا ... حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلُدَا إِنَّا وَلَدْنَاكَ فَكُنْتَ وَلَدًا ... ثَمَّةَ أَسْلَمْنَا فَلَمْ تَنْزَعْ يَدًا إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَ ... وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا وَزَعَمَتْ أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدًا ... فَانْصُرْ هَدَاكَ اللهُ نَصْرًا أَلْبَدَا وَادْعُ عَبَادَ اللهِ يَأْتُوا مَدَدًا ... فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ قَدْ تَجَرَّدَا أَبْيَضُ مِثْلُ الْبَدْرِ يُنَحِّي صُعُدًا ... لَوْ سِيمَ خَسَفَا وَجْهِهِ تَرَبَّدَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ، ثَلَاثًا، أَوْ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، ثَلَاثًا،» ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصِبٍ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّحَابَ لَيَنْتَصِبُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَنُصِرَ بَنِي عَدِيٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَ خَدُّكَ وَهَلْ عَدِيٌّ إِلَّا كَعْبٌ وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيٌّ، فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَاكَ السَّفَرِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ عَمِّ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً» ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ مَرْوَ وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ قَدْ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَأَشْرَفُوا عَلَى مَرْوِ فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ فَقَالَ: يَا بُدَيْلُ لَقَدْ أَمْسَكَتْ بَنُو كَعْبٍ أَهْلَهُ فَقَالَ: حَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ، ثُمَّ هَبَطُوا فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَسَأَلُوهُمْ أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَذَهَبُوا بِهِمْ فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْمِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ فَقَالَ: أَسْفِرُوا فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وُضُوءَهُ يَنْضَحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِمُلْكٍ وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ حضرت اُمّ المؤمنین میمونہؓ فرماتی ہیں انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کرتے ہوئے تین مرتبہ لبیک لبیک لبیک کہی اور تین مرتبہ نصرت نصرت نصرت (تمہاری امداد کی گئی) فرمایا۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میں نے آپؐ کو تین مرتبہ لبیک اور تین مرتبہ نصرت فرماتے ہوئے سنا جیسے آپ کسی انسان سے گفتگو فرما رہے ہوں۔ کیا وضو خانے میں کوئی آپ کے ساتھ تھا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ بنو کعب کا رِجز خواں مجھے مدد کے لئے پکار رہا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ قریش نے ان کے خلاف بنوبکر کی امداد کی ہے۔ تین دن کے بعد آپ ؐ نے صحابہ کو صبح کی نمازپڑھائی تو میں نے سنا کہ رِجز خواں اشعار پیش کررہاتھا حالانکہ وہ (عمر بن سالم راجز) اس وقت مکہ میں تھا اور قریش کی عہد شکنی پر اس نے حضور علیہ السلام سے فریاد کی۔بنو خزاعہ جو کہ حضور علیہ السلام کے صلح حدیبیہ کے بعد حلیف بنے اور بنو قریش کے حلیف بنے اور معاہدہ ہوا کہ دس سال تک جنگ نہ کریں گے قریش نے بد عہدی کی اور بنو بکر کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ کا قتل عام کیا اس وقت جناب راجز نے مکے میں ہی حضور علیہ السلام کو مدد کے لئے پکارا بعد ازاں حضور نے قریش پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہو گیا اور طرح ظاہری و باطنی امداد کا ظہور ہوا اس یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ نبی پاک سے تین دن کی دوری پر بھی مدد کے امداد مانگنے کے لیے نبی پاک کو پکارتے اور نبی پاک بھی اللہ کی عطا و طاقت سے انکی پکار سنتے بھی اور امداد بھی کرتے ۔۔ جس کو آج کل غیر مقلدین نے شرک سمجھ لیا ہے ۔ صحابہ کرام نے اسکو شرک نہ سمجھا اور نہ ہی نبی پاک نے انکو یہ عمل کرنے سے روکا بلکہ انکی امداد فرمائی !!! اس روایت کو امام طبرانی کے علاوہ ایک اور محدث نے بھی نقل کیا ہے ۔ جن کا نام ہے امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) وہ اس روایت کو اپنی سند سے نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن کچھ ایسے ہے 19 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ , قثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ مَيْمُوَنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاةِ فَسَمِعَتْهُ , يَقُولُ: " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلاثًا , أَوْ نُصِرْتَ نُصِرْتَ ثَلاثًا.بلخ۔۔۔۔۔۔ (الكتاب: العاشر من الفوائد من حديث المخلص برقم الحدیث 19) اس سند کے سارے راوی ثقہ ہیں اور اس سند میں کوئی ضعف نہیں ہے ۔ لیکن غیر مقلدین کے عقائد کے خلاف جو بھی روایت انکو نظر آئے تو یہ اسکو ضعیف یا موضوع بنانے سے بعض نہیں آتے ایسا ہی کچھ وہ اپنی ویب سائٹ پر اس روایت پر کیے ہوئے ہیں ۔ خیر میں انکی ایک ایک جرح یا علت جسکو وہ بیان کر کے اپنے مسلک کے سادہ لوگوں کو پاگل بناتے ہیں تحقیق کے نام پر ۔۔ اور وہ لوگ انکی کاپی پیسٹ تحقیق کو اٹھا کر اہلسنت پر ہنستے ہیں ۔۔۔ غیر مقلدین کے اعتراضات کا رد بلیغ ۱۔امام ہیثمیؒ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد رقم طراز ہیں کہ ''رواہ الطبراني في الصغير والكبير وفيه يحي سليمان بن نضلة وھو ضعيف'' (مجمع الزوائد :۶؍۱۶۴) ''اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الصغیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں یحییٰ بن سلیمان نامی راوی ضعیف ہے۔'' امام ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی اس راوی پر کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال : ۳؍۲۹۲ اور لسان المیزان :۶؍۲۶۱ ۲۔اس کی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ لایعرف(میزان الاعتدال :۳؍۸۳) یعنی یہ راوی مجہول ہے اور مجہول راوی کی روایت ضعیف کہلاتی ہے۔ ۳۔اس کی سند میں محمد بن نضلہ نامی راوی کے حالات کتب ِرجال سے نہیں ملتے لہٰذا یہ بھی کوئی مجہول راوی ہے۔ غیر مقلدین کی طرف سے پیش کیے گئے پہلے اعتراض کا جواب۔۔۔۔۔ امام ہیثمی نے یہاں سلیمان بن نضلة کو ضعیف کہہ دیا لیکن انکی حسب عادت کے خلاف انہوں نے یہاں کسی امام کا حوالہ نہ لکھا بلکہ بغیر کسی امام کی جرح لکھی انکو ضعیف کہہ دیا ۔ جبکہ کتب رجال میں جب آپ سلیمان بن نضلة کے بارے میں پڑھتے ہیں تو امام ابن صاعد انکے بارے میں فرماتے ہیں کہ انکا رتبہ بہت بلند و اعلیٰ تھا ۔ امام ابن حبان انکو الثقات میں درج کرتے ہیں اور لکھتے ہیں وھم بھی کر جاتا تھا ۔ (یہ کوئی جرح مفسر نہیں اور نہ ہی اس سے راوی ضعیف ہوتا ہے یہ بالکل ہلکی پھلکی بات ہے جس سے راوی حسن الحدیث درجے کا تو ضرور رہتا ہے ۔) اس راوی پر آ جا کر جرح ملتی ہے تو فقط ایک بندے سے جسکا نام ابن خراش ہے وہ کہتا ہے کہ یہ (سلیمان بن نضلة ) کسی ٹکے کا نہیں ہے پہلی بات یہ جرح کس بنیاد پر کی گئی اسکی وجہ معلوم نہیں اور یہ جرح کے کس درجے کی جرح ہے یہ بھی نہین لکھا غیر مقلدین نے۔ دوسری بات یہ جرح کرنے والا ابن خراش خود شیعہ رافضی اور کذاب ہے امام ذھبی سیر اعلام النبلاء میں اسکے ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں ابن خراش الحافظ ، الناقد ، البارع أبو محمد ، عبد الرحمن بن يوسف بن سعيد بن خراش ، المروزي ثم البغدادي وقال ابن عدي : قد ذكر بشيء من التشيع ، وأرجو أنه لا يتعمد الكذب وقال أبو زرعة محمد بن يوسف الحافظ : خرج ابن خراش مثالب الشيخين ، وكان رافضيا امام ذھبی اس پر امام ابن عدی اور ابو زرعہ کی طرف سے رافضی شیعہ اور کذب کی جرح لکھنے کے بعد اپنا فیصلہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں قلت : هذا معثر مخذول ، كان علمه وبالا ، وسعيه ضلالا ، نعوذ بالله من الشقاء (امام ذھبی کہتے ہیں )میں کہتا ہوں یہ بے یار و مددگار گروہ ہے انکا علم ایک وبال مصیبت ہے اور انکی کوشش گمراہی ہے ہم اللہ سے انکی بد بختی سے پناہ مانگتے ہیں ایسے شخص جو خود رافضی کذب بیانی کرنے والا ہو اسکی طرف سے کی گئی جرح سے ایک حسن الحدیث درجے کے راوی کو ضعیف مان لینا غیر مقلدین کا ہی مذہب ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا عتراض غیر مقلدین سے یہ ہے کہ اسکی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی مجہول ہے ۔ الجواب: اس راوی کی متابعت دوسرے راوی امام یحییٰ بن محمد بن صاعد نے کر رکھی ہے اور یہ راوی سلیمان بن نضلہ سے سماع کرنے والے ہیں او رحفاظ الحدیث میں سے ہیں ۔ امام خطیب بغدادی انکے ترجمے میں فرماتے ہیں 7489- يَحْيَى بْن مُحَمَّد بْن صاعد بْن كاتب أَبُو مُحَمَّد مولى أبي جَعْفَر المنصور كَانَ أحد حفاظ الحديث، وممن عُني بِهِ، ورحل فِي طلبه، وسمع: الْحَسَن بْن عيسى بْن ماسرجس، وَمُحَمَّد بْن سُلَيْمَان لوينًا، ويحيى بْن سُلَيْمَان بْن نضلة الخزاعي، (ج 16 ص 341) تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا ۔۔۔۔ تیسرا اعتراض: کہ اسکی سند میں محمد بن نضلہ کے حالات کتب رجال میں نہیں ملے لہذا یہ مجہول ہے الجواب: اس روایت کا ایک اور حوالہ امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) کی کتاب کا دیا ہے جس میں یہ راوی موجود ہی نہیں تو غیر مقلدین کا اس راوی کی توثیق کا مطالبہ کرنا ہی بیکار ہوا تیسری اہم بات غیر مقلدین سلیمان بن نضلة کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے فقط امام الہیثمی کا قول نقل کرتے ہیں ۔ اگر اس سند میں انکے علاوہ کوئی مجہول راوی ہوتا تو امام ہیثمی اسکا زکر پہلے کرتے پھر اس راوی کا ضعف بتاتے لیکن امام ہیثمی نے صرف ان کی ضعف کی طرف اشارہ کیا اور کسی راوی پر جرح نہیں کی یعنی انکے نزدیک طبرانی کی سند میں صرف ایک ضعف انکے نزدیک تھا کہ سلیمان بن نضلہ ضعیف ہے اور جبکہ اس پر جرح ہی مبھم ہے اور جرح کرنے والا خود رافضی ہے اور دوسرے راوی پر مجہو ل کا الزام لگایا جبکہ وہ صحابہ میں سے ہے اور اسکی دوسری سند میں یہ راوی ہی نہیں تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا اور یہ سند کم از کم حسن الحدیث درجے کی سند ہے ۔۔۔ وہابیہ کی ایک ویب سائٹ اسلامی ویب پر بھی اس سند کو حسن قرار دیا گیا ہے جس کا عکس تمام ثبوت کے اسکین کے ساتھ نیچے موجود ہے (((((((( دعا گو۔ رانا اسد فرحان الطحاوی الحنفی ✍️ 28 اگست 2018)))))
  11. 1 like
    السلام علیکم کیا اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی تمام مطبوعہ تصنیفات کی لسٹ مل سکتی ہے؟ جزاک اللہ۔
  12. 1 like
  13. 1 like
    صاحب حال مرفوع القلم ہوتا ہے یعنی اس پر شریعت قلم نہیں چلاتی مشہور نقاد علامہ ذھبی نے یہی لکھا ہے۔
  14. 1 like
    رد الشمس والی روایت پر غیر مقلدین کے اعتراضات کا مدلل جواب ردالشمس والی مشہور روایت جس میں نبی پاک کے معجزے کا زکر ہے کہ انہوں نے حضرت علیؓ کی عصر کی نماز کی ادائیگی کے لیے سورج کو واپس پلٹایا اس روایت کی توثیق میں نے جمہور محدثین بشمول امام ابن حجرعسقلانی ، امام بدرالدین عینی، امام طحاوی ، امام قاضی عیاض ، امام جلال الدین سیوطی ، امام مغلطائی الحنفی ، امام ابن حجر مکی ، امام ابو بکر الہیثمی امام شامی ، امام شاہ ولی اللہ محدث ، امام زرقانی سمیت اور کئی محدثین کی توثیق دیکھائی تو ابن تیمیہ اینڈ کمپنی اور دیوبنہ کے پیٹ میں ایسے مروڑ پیدا ہوئے کہ ہر جگہ اسکو ضعیف ثابت کرنے کی کوشیش میں لگے ہیں جبکہ پہلے ابن تییمیہ کی اندھی تقلید میں موضوع سے کم اس پر حکم ہی نہ لگاتے تھے جبکہ یہ روایت بالکل صحیح اور پختہ دلیل ہے نبیؐ کے معجزے کی ۔ جمہور محدثین کی توثیق یہ ہے امام ابن حجرعسقلانی الشافعی شارح بخاری کا ابن تیمیہ اور ابن جوزی کا رد کرنا :۔ الحافظ شیخ الالسلام امام بن حجر عسقلانی الشافعی نے اس روایت کو حسن قرار دیا اور ایک دوسرے طرق کو دلیل قرار دیا کہ یہ روایت نبی کی نبوت کی دلیل ہے اور اس روایت ابن جوزی نے موضوع کہہ کر غلطی کی اور ایسے ابن تیمیہ نے بھی غلطی کی اس کو موضوع قرار دے کر۔ (فتح الباری شرح صحیح بخاری) امام بدرالدین عینی جو شارح بخاری ہیں اور اعظیم محدث کا رد الشمس کو صحیح قرار دینا:۔ امام بدرالدین کہتے ہیں کہ یہ روایت متصل ہے اور ثقات سے مروی ہے اور ابن جوزی کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں جس نے اس میں نقص نکالنے کی کوشیش کی ۔ (عمدتہ القاری شرح صحیح بخاری) امام الحافظ مغلطائی الحنفی:۔ امام مغلطائی فرماتے ہیں کہ ردالشمس والی روایت کو ثقات نے روایت کیا ہے (السرت المصطفیٰ) امام المحدث جلال الدین سیوطی الشافعی :۔ امام جلال الدین سیوطی ؒ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو امام طبرانی ، امام ابن مندہ اور امام طحاوی نے روایت کیا ہے اور اسکے بعض طرق صحیح کی شرط پر ہیں (الخصائص الکبریٰ) امام ابو جعفرالطحاوی (امام طحاوی نے رد الشمس کا باب قائم کیا اور اس باب میں دو مختلف طرق سے روایت نقل کی اور توثیق فرمائی ) (شرح مشکل الاثار) امام قاضی عیاض المالکی :۔ز ل، امام قاضی عیاض اس روایت کو دو طرق سے لکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ دونوں روایات صحیح ہیں اور ثقات سے مروی ہیں اور امام طحاوی سے مروی امام احمد بن صالح کا قول نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کے لائق نہیں جو علم حاصل کرنا چاہتا ہو اور وہ اسماء بنت عمیس والی روایت کو حفظ نہ کرے جبکہ اس میں نبوت کی نشانی ہے (الشفاء قاضی عیاض) امام ابو بکر الہیثمی امام ابو بکر الھیثمیؒ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اس کے سارے رجال ثقہ ہیں سوائے ابراہیم بن الحسن کے اور وہ بھی ثقہ ہیں ابن حبان نے انکو ثقہ کہا ہے اور فاطمہ بنت علی بن ابی طالب کو میں نہیں جانتا (مجمع الزائد) امام ابن حجر مکی شافعیؒ امام ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ اس روایت کو امام ابو زرعہ نے حسن قرار دیا ہے اور دوسرے محدثین نے بھی انکی تائید کی ہے اور رد کیا ہے انکا جو اسکو موضوع کہتے ہیں (الصوائق المحرقہ) اس کے علاوہ امام زرقانی نے بھی اس روایت کو توثیق کی اور ابن تیمیہ کا رد کیا ۔ ماضی قریب کے اعظیم شیخ و محقق الکوثریؒ نے بھی اس روایت کی توثیق کی اور ابن تیمیہ کے مکڑی کے کمزور دلائل کا مدلل رد فرمایا ، علامہ ابن عابدین الشامی نے بھی اس روایت کی توثیق فرمائی علامہ شاہ عبدالعزیز نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب میں جمہور محدثین اہلسنت کی طرف سے توثیق بیان کی ہے (تحفہ اثنا عشریہ ص 436) اسکے علاوہ اہلسنت کے دو اعظیم محدثین امام جلال الدین سیوطی اور امام ابن یوسف الصالحی نے اس موضوع پر پوری کتاب لکھ کر ردالشمس والی روایت کو صحیح قرار دیا اور ابن تیمیہ کا رد کیا ان دو کتب کے نام یہ ہیں ۔کشف البس فی حدیث رد الشمس ۔مزیل البس فی رد الشمس امام ابو زرعہ اور امام احمد بن صالح نے اس روایت کو صحیح قرار دیا بقول امام قاضی عیاض اسکے علاوہ اور کثیر محققین نے اس روایت کو حسن و صحیح قرار دیا اب بھی کوئی متعصب جو ابن تیمیہ ناصبی کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اس ضیعف یا موضوع قرار دیتا ہے تو وہ اس روایت پر متکلمین کی توثیق کے مقابلے متکلمین ہی سے اس روایت پر جرح مفسر پیش کرے کیونکہ متاخرین میں ابن تیمیہ اینڈ کمپنی نے اس میں نقص نکالے جبکہ اس سے پہلے متکلمین اور بعد والے متاخرین نے اس روایت کی توثیق کی ہے اب آتے ہیں معجم الکیر والی سند پر غیر مقلدین کے اعتراضات کی طرف وہابیہ نجدیہ کی طرف سے اس روایت پر دو راوی جو بشمول جمہور محدثین اور وہابیہ کے نزدیک بھی ثقہ ہیں لیکن کیونکہ بغض اہل بیت اور نبی کے مجعزہ کو ماننے سے انکے پیٹ کے کیڑے ایکٹوو ہو جاتے ہیں تو ان راویوں کو جھوٹا اور معاذاللہ کذاب تک ثابت کرنے کی جھوٹی کوشیش کرنے لگ گئے امام طبرانی نے اپنی معجم الکبیر میں اپنی سند سے اسکو بیان کیا جو کہ یہ ہے حدثنا جعفر ن احمد بن سنان الواسطی ثنا علی بن المنذر ثنا ممد بن فضیل بن مرزوق عن ابراھیم بن الحسن عن فاطمہ بنت علی عن اسماء بنت عمیس بلخ۔۔۔۔۔ اس سند میں ایک راوی فضیل بن مرزوق ہے جو کہ تشیع تھا لیکن ثقہ ، ثبت اور صالح تھا جس کی توثیق ان مندرجہ زیل محدثین نے کی ہے ۱۔ متشدد امام ابن حبان نے اسکو ثقات میں زکر کیا اور کہا کہ غلطی بھی کر جاتا اور عطیہ سے موضوع روایت مروی ہیں ۲۔امام ذھبیؒ نے اسکو الکاشف میں ثقہ لکھا ہے ۳۔امام ذھبیؒ نے میزان الااعتدال میں فضیل بن مرزوق پر جمہور کی توثیق نقل کر کے آخر میں ابن حبانؒ کی جو ہلکی پھلکی جرح ہے اسکا تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ابن حبان نے جو کہا کہ عطیہ سے موضوع روایت مروی ہے اس سے تو امام ذھبی کہتے ہیں قلت (میں کہتا ہوں )ٌ عطیہ تو خود ضعیف ہے اس سے یعنی عطیہ کی روایات کی وجہ سے فضیل بن مرزوق پر کوئی اعتراض نہیں آتا ۴۔امام عجلیؒ نے فضیل بن مرزوق کوالثقات میں درج کیا اور کہ یہ ثقہ جائز الحدیث اور سچا تھا اور تشیع تھا ۔ ۵۔امام ابن معین الحنفیؒ نے بھی فضیل بن مرزوق کی توثیق کرتے ہوئے اسکو ثقہ گردانہ ہے ۔ یاد رہے کہ وہابیہ ابن معین سے اسکو ضعیف ثابت کرتے ہیں جبکہ امام ابن معین سے اسکی توثیق بھی ثابت ہے لہذا جرح ساقط ہوئی ۶۔امام ابن شاھینؒ نے فضیل بن مرزوق کو تاریخ الثقات میں زکر کرتے ہوئے ثقہ کہا ہے ۷۔امام ابن حجر عسقلانی نے تو جمہور محدثین سے اسکو ثقہ ثابت کرتے ہئے مندرجہ زیل محدثین سے توثیق لکھی جن کے نام یہ ہیں امام شافعی ، امام ابن ابی حاتم امام ابن عینہ امام امام احمد بن حبنل امام ابن عدی امام ابن شاھین امام ابن حبان وغیرہ ہیں اور اس پر جرح کی ہے امام نسائی نے اور وہ متشدد ہیں اب آتے ہیں اس میں تشیع ہونے والے مسلے پر اصول جرح و تعدیل کے اہل علم لوگوں کو معلوم ہے کہ متقدمین میں تشیع سے مراد وہ لوگ ہوتے تھے جہ اہل بیت کا زکر زیادہ کرتے اور حضرت علی کو شیخین پر فضیلت دیتے اور ہر جنگ کے معاملے میں حضرت علی کو حق مانتے تھے اور بس تبھی امام ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں لکھا کہ متقدمین میں تشیع سے مراد ایسے لوگ جو محض شیخین کے ساتھ حضرت علی کو عثمان بن عفان پر ٖفضیلت دیتے اور بعض حضرت علی ؓ کو نبی پاک کے بعد سب پر فضیلت دیتے وہ بہت نیک ، صالح اور متقی پرہیزگزار تھے اور ایسا عقیدہ تو تابیعن اور تبع تابعین میں بہت سے لوگوں کا تھا تو فقط اسکی وجہ سے انکی روایت کو ترک نہیں کیا جا سکتا البتہ جب تک وہ اپنے عقائد کا داعی نہ ہو اور متکلمین سے تشیع سے مراد رافضی ہے جو کہ آج کے شعیہ ہیں انکی روایت کسی بھی حال میں منظور نہیں تو فضیل بن مرزوق خیر القرون کا راوی ہے اور اس کو تشیع متقدمین نے کہا ہے جیسا کہ ابن معین ، امام نسائی وغیر نے اور تبھی اسکو سچا جائز الحدیث اور ثقہ حجت قرار دیا وہابیہ کا دوسرا اعتراض کہ شیعہ کی روایت قبول نہیں ہوگی یہ والی کیونکہ اس میٰں حضرت علی کی شان بڑھ رہی ہے اور تشیع علی کی شان میں روایتیں گھڑہتے تھے الجواب : ان علمی یتیموں کو یہ بھی معلوم نے کہ ایک راوی جب تمام محدثین کے اتفاق سے ثقہ ہے تو تب اسکی روایت کیوں نہ قبول کی جائے گی ؟؟ جبکہ روایت گھڑہنے والا راوی کذاب ہوتا ہے اور اس روایت میں حضرت علی کی شان معاذاللہ نہ خلفائے راشدین سے افضل ثابت ہو رہی ہے نہ ہی نبی پاک سے ، بلکہ اس میں تو حضرت محمدؐ کا معجزہ ثابت ہو رہا ہے جو کہ انکی شان کو بڑھا رہا ہے اور نبوت کی نشانی ثابت کر رکا ہے تبھی امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں ابن تیمہ و جوزی کا رد کرتے ہوئے لکھا کہ اسکی اسناد حسن ہیں اور ابن تیمیہ نے غلطی کی خطائی کھائی اور ایسے ابن جوزی نے اسکو موضوع کہہ کر دوسرا راوی جس کو تشیع ثابت کر کے سادہ لوگوں کو یہ دھوکہ دیا جاتا ہے کہ رافضی کی روایت قبول نہیں جبکہ اوپر امام ذھبی اور امام ابن حجر سے متقکلمین اور متقدمین سے تشیع کی تشریح ثابت کر دی اور اگر اس پیمانے کو رکھ لیا جائے کہ ہر تشیع کی روایت قبول نہیں ہوگی تو پھر بخاری میں ۴۵ سے زیادہ راوی تشیع بیٹھے ہیں اور امام حاکم تشیع تھے اور امام عبدالرزاق امام بخاری کے دادا استاد بھی تشیع تھے لیکن اتنے برے کبیر محدث تھے وہابیہ کو چاہیے کہ انکی ساری کتب کو رد کر دیں خیر دوسرا راوی جس کا نام علی بن المنذر ہے اسکی توثیق ۔امام ابن حبان نے الثقات میں درج کیا ۲۔امام ابن حجر عسقلانی نے بھی اسکی توثیق کی اور مندرجہ زیل محدثین سے اسکی توثیق نقل کی ہے ا امام نسائی نے کہا ثقہ حجت ہے تشیع ہے امام دارقطنی نے کہا اس میں کوئی حرج نے ہے امام ابن ماجہ نے کہا کہ اکثر کے نزدیک حجت ہے امام ابن ابی حاتم نے کہا کہ ثقہ یعنی حجت ہے اس راوی پر تو کسی ایک امام نے بھی جرح نہیں کی بلکہ بالاتفاق یہ ثقہ حجت راوی ہے تو پھر اس وہابیہ نجدیہ کا اسکو تشیع سے حدیث گھڑنے والا راوی بنانا انکی جہالت اور بغض نبی ہی ہو سکتاہے (نوٹ ان تمام حوالاجات کے اسکین نیچے موجود ہیں ) دعا گو رانا اسد فرحان الطحاوی خادم حدیث ۱۴ جون ۲۰۱۸
  15. 1 like
  16. 1 like
  17. 1 like
    أَمَا عَلِمْت أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّ فَاطِمَةَ زَوْجَتُك فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. (رد المحتار: ج6 ص243) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے فرمایا تھا: (اے علی!) فاطمہ دنیا میں بھی تمہاری بیوی ہے اور آخرت میں بھی تمہاری بیوی ہے۔ یہ بعینہ ویسی دلیل ہے جیسی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماقبل میں گزری ہے جس میں نکاح کا باقی رہنا ثابت ہو رہا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کا یہ ارشاد فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا اپنی بیوی کو غسل دینا یہ آپ کی خصوصیت ہے، عام رواج اس وقت یہ نہیں تھا۔ مشہور فقیہ و محقق علامہ ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں: فَادِّعَاؤُهُ الْخُصُوصِيَّةَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَذْهَبَ عِنْدَهُمْ عَدَمُ الْجَوَازِ ـ. (رد المحتار: ج6 ص243) ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اپنی خصوصیت کا دعویٰ پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت صحابہ کے ہاں بیوی کو غسل دینا ناجائز شمار ہوتا تھا۔ (اسی لیے تو حضرت ابن مسعود نے اشکال کیا اور حضرت علی نے جواباً اپنی خصوصیت کا ذکر فرمایا) معلوم ہوا کہ اس دور میں خاوند اپنی بیویوں کو غسل نہیں دیتے تھے۔ مشہور عالم علامہ ابن عبد البر (ت463ھ) بھی اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لأن بنات رسول الله اللواتي توفين في حياته زينب ورقية وأم كلثوم ولم يبلغنا أن إحداهن غسلها زوجها. (التمہید: ج1 ص380) ترجمہ: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صاحبزادیاں؛ حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات ہی میں فوت ہوئیں، ان میں سے کسی کے بارے میں ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ ان کو ان کے خاندوں نے غسل دیا ہو۔ ثابت ہوا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی )بشرط ثبوت( خصوصیت تھی، عام رواج ہرگز نہیں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا تھا۔ (معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: ج5 ص232) دوم: یہ کہ اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں نے مل کر غسل دیا تھا۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی: حدیث نمبر 6905) سوم : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے انتقال سے پہلے غسل فرمایا اور نئے کپڑے پہنے اور فرمایا کہ:”میں رُخصت ہو رہی ہوں، میں نے غسل بھی کرلیا ہے، اور کفن بھی پہن لیا ہے، مرنے کے بعد میرے کپڑے نہ ہٹائے جائیں۔“ یہ کہہ کر قبلہ رُو لیٹ گئیں اور رُوح پرواز کرگئی، ان کی وصیت کے مطابق انہیں غسل نہیں دیا گیا۔ (مصنف عبد الرزاق: ج3 ص257 حدیث نمبر6151 وغیرہ) جب روایات اس سلسلے میں متعارض ہیں تو اس واقعے پر کسی شرعی مسئلے کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں ہوگا۔ ثانیاً..... بعض محققین نے یہ تسلیم کرنے کی صورت میں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا ہے، اس روایت کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے غسل دینے سے مراد غسل کے سامان کا انتظام کرنا تھا، اس لیے غسل کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مجازاً ہے، حقیقتاً غسل حضرت ام ایمن ہی نے دیا تھا۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے: فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا غَسَّلَتْهَا أُمُّ أَيْمَنَ حَاضِنَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا فَتُحْمَلُ رِوَايَةُ الْغُسْلِ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى مَعْنَى التَّهْيِئَةِ وَالْقِيَامِ التَّامِّ بِأَسْبَابِهِ۔ (رد المحتار: ج6 ص243) عن عائشة : أن جبريل جاء بصورتها في خرقة حرير خضراء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن هذه زوجتك في الدنيا والآخرة. (جامع الترمذی: حدیث نمبر3880) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہے سفیان ثوری رحمہ اللہ (ت161ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ امام سفیان ثوری فرماتےہیں: ونقول نحن لا يغسل الرجل امرأته لأنها لو شاء تزوج أختها حين ماتت ونقول تغسل المرأة زوجها لأنها في عدة منه. (مصنف عبد الرزاق: ج3 ص256 حدیث نمبر6145) ترجمہ: ہمارا موقف یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو غسل نہیں دے سکتا کیونکہ بیوی کے مرنے کے بعد (نکاح ٹوٹ جاتا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ) یہ جس وقت چاہے اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے اور ہمارا موقف یہ بھی ہے کہ عورت اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ یہ اس کی عدت میں ہے (جو کہ نکاح کے آثار کا نتیجہ ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے نکاح میں آنے کے بعد امہات المؤمنین دنیا و آخرت میں آپ کی زوجات ہیں حتی کہ آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی وہ آپ کی بیویاں رہی ہیں۔ چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ (ت279ھ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت لائے ہیں: عن عائشة : أن جبريل جاء بصورتها في خرقة حرير خضراء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن هذه زوجتك في الدنيا والآخرة. (جامع الترمذی: حدیث نمبر3880) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہے۔ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ علیہ السلام کی وفات کے باوجود آپ کا ان سے نکاح باقی ہے۔ تو جب آپ کا نکاح باقی ہے تو آپ کا غسل کی بات کرنا صحیح و درست ہوا۔
  18. 1 like
    خانہ کعبہ بعض اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جاتا ہے خانہ کعبہ شریف کا بعض اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جانا کرامت کے طور پر جائز ہے ۔ فقہاء علیہم الرّحمہ نے بھی اسکی تائید کی ہے ۔ چنانچہ امام حصکفی رحمتہ اللہ علیہ متوفیٰ 1088ھ در مختار مین فرماتے ہیں کہ مفتی جن و انس امام نسفی رحمۃ اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ سنا ہے خانہ کعبہ اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی زیارت کو جاتا ہے ، کیا یہ کہنا شرعاً جائز ہے ؟ امام نسفی علیہم الرّحمہ نے فرمایا (خرق العادۃ علی سبیل الکرامۃ لا ھل الولایۃ جائز عند اھل السنۃ) یعنی۔ خرق عادت کرامت کے طور پر اولیاء اللہ کے لیئے اہلسنت کے نزدیک جائز ہے ۔ (الدُّرُّ المختار کتاب الطلاق صفحہ نمبر 253) مفتی بغداد امام سیّد محمود آلوسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کعبۃ اللہ بعض اولیاء اللہ کی زیارت کو جاتا ہے اور یہ اہلسنت کے نزدیک جائز ہے ۔ (تفسیر روح المعانی جلد 13 صفحہ 14 امام آلوسی رحمۃُ اللہ علیہ ) امام غزالی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جن کا طواف بیت اللہ کرتا ہے ۔ (احیاء العلوم جلد اوّل صفحہ 450 ) مشہور دیوبندی عالم علامہ محمد زکریا کاندہلوی صاحب لکھتے ہیں : بعض اللہ والے ایسے ہوتے ہیں کہ خود کعبہ ان کی زیارت کو جاتا ہے،(فضائل حج صفحہ 93 دارالاشاعت) حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی صاحب بوادر النوادر میں یہی بات لکھتے ہیں بشکریہ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
  19. 1 like
    یہ اجمالی جواب ہے کہ میں سیدنا عبدالقادر جیلانی کا ہم عقیدہ ہوں۔ جلیل القدر محدث امام سیوطی نے شرح الصدور میں لکھاہے کہ:۔ 64 - وَقَالَ الشَّيْخ عبد الْغفار القوصي فِي التَّوْحِيد كنت عِنْد بَيت الشَّيْخ نَاصِر الدّين وَالشَّيْخ بهاء الدّين الأخميمي قد ورد فَأخذت فروته على كَتِفي فَأَخْبرنِي أَن خَادِم الشَّيْخ أبي يزِيد كَانَ يحمل فروته على كتفه وَكَانَ رجلا صَالحا فَجرى الحَدِيث فِي مساءلة مُنكر وَنَكِير فِي الْقَبْر فَقَالَ ذَلِك الْفَقِير وَكَانَ مغربيا وَالله إِن سألاني لأقولن لَهما فَقَالُوا لَهُ وَمن يعلم ذَلِك فَقَالَ أقعدوا على قَبْرِي حَتَّى تسمعوا فَلَمَّا مَاتَ المغربي جَلَسُوا على قَبره فَسَمِعُوا المساءلة وسمعوه يَقُول أتسألاني وَقد حملت فَرْوَة أبي يزِيد على عنقِي فَمَضَوْا وتركوه ایک میت نے نکیرین سے کہا کہ تم مجھ سے سوال کرتے ہوحالانکہ میں تو بایزید کا فروہ بردار ہوں،تونکیرین اُسے چھوڑکرچلے گئے۔ امام سیوطی پرزبان چلاؤ۔
  20. 1 like
    Aslam o alikum..mje ye poochna hy k pay diamond conmpany k sath kaam krna kesa hy ku k is me network marketing b shaamil hy or company diamond minning ka business krti hy jis ki base pr hmein b 50 weeks tk profit milta rehta hy..me is chez k bary me fatwa b chahta hu is company or network marketing ka or mje ye b btaein k ye halaal hy ya haraam...shukriya
  21. 1 like
  22. 1 like
  23. 1 like
    دیوخانی فرقے کی بدعت نماز عیدین و خطبہ کے بعد دعا خود ان کے اصولوں و قواعد سے
  24. 1 like
  25. 1 like
  26. 1 like
  27. 1 like
  28. 1 like
    أَخْبرنِي بِشَيْء غَرِيب قَالَ كنت شَابًّا وَكَانَت لي بنت حصل لَهَا رمد وَكَانَ لنا اعْتِقَاد فِي ابْن تَيْمِية وَكَانَ صَاحب وَالِدي وَيَأْتِي الينا ويزور وَالِدي فَقلت فِي نَفسِي لآخذن من تُرَاب قبر ابْن تَيْمِية فلأكحلها بِهِ فانه طَال رمدها وَلم يفد فِيهَا الْكحل فَجئْت الى الْقَبْر فَوجدت بغداديا قد جمع من التُّرَاب صررا فَقلت مَا تصنع بِهَذَا قَالَ أَخَذته لوجع الرمد أكحل بِهِ أَوْلَادًا لي فَقلت وَهل ينفع ذَلِك فَقَالَ نعم وَذكر أَنه جربه فازددت يَقِينا فِيمَا كنت قصدته فَأخذت مِنْهُ فكحلتها وَهِي نَائِمَة فبرأت ترجمہ:مجھے ایک عجیب چیز کے بارے میں خبر دی ہے۔کہا میں جوان تھا اور میری ایک بیٹی تھی جس کو آشوب چشم کی بیماری تھی اور ہمارا ابن تیمیہ کے بارے میں بڑا اچھا اعتقاد تھا وہ میرے والد کا دوست تھا وہ ہمارے پاس میرے والد کی زیارت کے لیے آتا رہتا تھا میں نے اپنے دل میں یہ خیال کیا کہ میں ضرور ابن تیمیہ کی قبر کی مٹی لوں گا اور اس کا سرمہ بیٹی کی آنکھ میں ڈالوں گا اس لیے کہ کافی عرصے سے اس کی آنکھیں خراب ہیں اور اس کو سرمہ فائدہ نہیں دے رہا.پس میں قبر کے پاس آیا تو میں نے وہاں بغدادی کو پایا جو کہ وہاں مٹی جمع کر رہا تھا تو میں نے اس سے کہا تو اس سے کیا کرے گا تو اس نے جواب دیا میں اس کو آنکھوں کے درد کے لئے لے رہا ہوں کہ اس کا سرمہ اپنی اولاد کو ڈالوں گا.تو میں نے کہا کیا یہ کوئی فائدہ دے گا اس نے کہا جی ہاں.اور اس نے ذکر کیا کہ اس نے اس کا تجربہ کیا ہوا ہے تو جس بات کا میں نے ارادہ کیا ہوا تھا اس میں میرا یقین اور زیادہ ہوگیا تو پس میں نے وہاں سے مٹی اٹھائی اور اس کا سرمہ اپنی بیٹی کو سونے کی حالت میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئی.
  29. 1 like
  30. 1 like
    منتظم اعلی حضرت علامہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ 1۔ جنہوں نے 1952ء سے قادیانیوں کے خلاف باقاعدہ کام شروع کیا۔ 2۔ مرزائیوں کے خلاف آل پاکستان مسلم پارٹیز کے بورڈ کے رکن منتخب ہوئے۔ 3۔ 1953ء میں آرام باغ کراچی سے تحریک کا آغاز ہوا تو آپ پیش پیش تھے۔ گرفتاریاں دینے کے لئے نوجوانوںکے جتھے تیار کئے۔ 4۔ 15اپریل 1974ء کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی۔ 5۔ 30جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں ایک تاریخی قرارداد پیش کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ 6۔ بیرونی ممالک نیروبی‘ ماریشس‘ لاطینی امریکہ‘ سرینام‘ برٹش‘ گیانا ٹرینی ڈاڈ میں قادیانیوں سے مناظرے کئے۔ یہ مناظرے بند کمروں میں نہیں‘ مجمع عام میں ہوئے اور قادیانیوں کو مکمل شکست دی۔ اس کے علاوہ ٹرینی ڈاڈ اور جنوبی امریکہ اور نیروبی میں مرزائی مناظر ذلیل ہوکر کتابیں لے کر بھاگ گئے۔ 7۔ مرزائیوں کے سربراہ مرزا ناصر الدین کو قومی اسمبلی میں شکست دی۔ بالاخر آپ کی کوششوں سے آپ کی پیش کردہ قرارداد پر 7ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ 8۔ آپ کے مناظروں کو دیکھ کر 400قادیانیوں نے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ آپ قادیانیوں کے خلاف ننگی تلوار تھے۔
  31. 1 like
    Har Kafir Badmazhab Hai Lakin Har Badmazahb Kafir Nahi.... Kafir...Zaruruyat E Deen K Munkir Ko kahete Hai Bad mazhab ...Zaruriyat E Ahele Sunnat K Munkir Ko Kahete Hai
  32. 1 like
    کتاب فرقہ بریلویت پاک و ہند کا تحقیقی جایز میں دیوبندی الیاس گھمن نے دجل و فریب کاری سے کام لیا ، الیاس گھمن کی اس جہالانہ تحقیق پر میثم رضوی صاحب کا مضمون پیش خدمت پے۔ https://www.scribd.com/doc/267180971/%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%B3-%DA%AF%DA%BE%D9%85%D9%86-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%AC%D9%84-%D9%88-%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%DB%81-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%A7%D9%88%D9%84
  33. 1 like
  34. 1 like
    KHAOF NA RAKH RAZA ZARA TU TO HAI ABD E MUSTAFA TERE LIYE AMAAN HAI TERE LIYE AMAAN HAI
  35. 1 like
    Deobandi Wahabion Aor Modoodi Ki Gustakhian - Scan Pages.pdf Ghair Muqallid Nam Nihad Ahlehadees Wahabion Ki Gustakhian - Scan Pages.pdf
  36. 1 like
    میں مرزا قادیانی کو مانتا ہوں قسم سے ضرور مانتا ہوں وہ کافر ہے میں مانتا ہوں
  37. 1 like
    Aslam o Alaikum, Alhumdulillah Tri-Monthly Sunni Magazine Kalma e Haq's Official Website Launched. Please Don't Forget to Visit and Share this site on facebook and every where else you can share. http://www.kalmaehaq.com/ Dua Kheir ki Appeal Ghulam Mustafa
  38. 1 like
    15-1 Krishn Qadyani.pdf 15-2 Mubahis-e-Qadyani.pdf 15-3 Tardeed-e-Nabuwat-e-Qadyani.pdf 15-4 Mujaddid-e-Waqt Kon Ho Sakta Hay.pdf
  39. 1 like
    ماشا اللہ توحیدی بھائی آپ نے بحث کا لب لباب بڑی اچھی طرھ واضع کیا ہے۔ اب اگر کوئی میں نہ مانوں کی رٹ لگاے تو اس کی اپنی سمجھ کا قصور ہے۔
  40. 1 like
  41. 1 like
    السّلام و علیکم، جزاک اللہ خیراً مغل بھائی، اللہ عزّوجل اپنے پیارے حبیبِ پاک صلّی اللہ علیہ وسلّم کے صدقے آپ کے علم و عمر میں اضافہ فرمائے اور قائم رہنے والی ڈھیر ساری خوشیاں عطا فرمائے ۔۔۔ آمین اللہ حافظ
  42. 1 like
    yeh new book nahi hay balkeh 1986 ki likhi hui book hay jab woh deobundi thay. aur ab deobundion ne ise dobara publish kr diya hay jaise yeh koi new book hau. iss book ka first edition 1986 main publish huwa tha aur iss k third edition ki date bhi book k pg.56 par 1989 likhi hay (jis k bare main likha hay k jo aap k hath main hay). jis k neeche author ne 20 feb 1986 date likhi hui hay. so jau bhi date maan lau yeh old book hay aur tm deobundion ne ise again publish kr diya hay jaise woh phr deobundi hau gaye hon woh kehte hain na k naqal k liye bhi aqal ki zarurat hoti hay. deobundion ne book tau publish kr di but uss main dates change krna bhul gaye. issi book k page 13 par author ki tarf se "Intisab" main 20 feb 2010 date likhi gai hay jb keh pg 56 pe "Arz e Muallaf" main 1986 hay. aur phr kitab k end pr bhi 20 feb 1986 likha hay so yeh koi new book nai hay siraf purani mayyat ko nai qabar main litaya hay . chk the book here
  43. 1 like
    Altabsheer Be Radd-it-Tahzeer & Altabsheer Par Etrazat k Jwabat Az Allama Syed Ahmad Saeed Kazmi رحمت اللہ علیہ: Altabsheer-full.pdf RAR FORMAT AlTabsheer-1.rar AlTabsheer-2.rar AlTabsheer-3.rar Nazria-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Syed Muhammad Madani Miyan Ashrafi Jeelani : NazriaKhatmeNabowatAurTahzeerunnaas.pdf التنویر لدفع ظلام التحذیر یعنی مسلہء تکفیر از علامہ غلام علی قادری اشرفی رحمت اللہ علیہ Altanweer-full.pdf Altanweer Different Print Al-Tanweer.pdf RAR FORMAT Altanweer-1.rar Altanweer-2.rar Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Snaullah Naqshbandi Mujaddidi : Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Molvi Qasim NaNotvi Ka Jurm (Az Kitab: Hassam-Ul-Haramain k 100 Saal) Az Dr.Altaf Hussain Saeedi Molvi Qasim Nanotvi Ka Jurm.rar Abtal-e-Aghlat-e-Qasmia . http://www.nafseisla...glatQasmiya.htm Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaddisana Nazar Az Allama Manzir-Ul-Islam AlAzhari : Asar Ibn-e-Abbas Par Muhadisana Nazar.rar Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaqiqana Nazar Az Ghulam Naseer-ud-Deen Sialwi : Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaqqiqana Nazar.rar Deobandiyat K Muhtamim-e-Awwal Ka Khatm-e-Nabuwat Say Inkar Az Allama Badr-Ud-Deen Ahmad Qadri رحمت اللہ علیہ: Deobandiyat K Muhtamim-e-Awwal Ka Khatm-e-Nabuwat Say Inkar.rar Khatmiyat-e-Muhammadi (Peace And Blessings Be Uopn Him) Aor Tahzeer-un-Nas Az Allama Abd-Ul-Hakeem Akhtar ShahJahan Poori رحمت اللہ علیہ : Khatmiyat-e-Muhammadi (Peace And Blessings Be Uopn Him) Aor Tahzeer-un-Nas.rar Masla-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Shareef-Ul-Haq Amjadi رحمت اللہ علیہ : Masla-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Qasim Nanotwi Aor Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Az Hazrat Allama Peer Hafiz Sultan Mahmood Daryawi : Qasim Nanotwi Aor Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Taqseem-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Qadri AbdurRzaq Bhtralwi Taqseem-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Tahzeer-Un-Nas K Difa Ka Ta'qub Az Muhtram Khaleel Ahmad Rana Tahzeer-un-Nas k Difa Ka Ta'qub.rar
  44. 1 like
    جناب دیوبندی صاحب آپ نے مرتضیٰ چاندپوری کی اولادالزوانی لکھی، یہ گالی ھے یا مدح ھے؟ نظیر ھے تو پیش کریں۔ ھوالمعظم کتاب کو ھم تسلیم نہیں کرتے۔ بر سبیل تنزل، اُس میں سے خواجہ ضیاء الدین سیالوی کے الفاظ پیش کریں۔ آپ نے پوچھا ھے کہ دیوبندی بریلوی اختلافات کیا ھیں؟ یہ ضروریات دین میں بھی ھیں، ضروریات مذھب اھل سنت میں بھی ھیں اور فروعیات و اجتہادیات میں بھی ھیں۔ آپ جواب تو کسی بات کا دیتے نہیں اور اوٹ پٹانگ اپنی ھی ھانکے جاتے ھیں اگر بحث کا شوق ھے تو ھماری بھی ھر بات کا جواب دیا کریں ۔
  45. 1 like
    Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahab-e-Kiram Aor Aoila Allah رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahab-e-Kiram Aor Aoila Allah.rar Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمت اللہ علیہ Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza-1 Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza.rar Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمت اللہ علیہ Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza-2 Alahazrat aor Radd-e-Qadianiat.pdf Radd-E-Qadianiat Par Imam Ahmad Raza Ki Chand Tasaneef Khatm-e-Nabuwat K Paasban Khatm-e-Nabuwat K Pasban.pdf Khatm-e-Nabuwat Aor Radd-e-Mirzaiyat Par Ulama-e-Bareli Ka Kirdar http://www.islamimehfil.com/index.php?app=core&module=attach&section=attach&attach_id=63068 Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Main Allama Faiz Ahmad Owaisi رحمت اللہ علیہ Ki Tasneefat Tahfuz-e-Khatm-e-Nabuwat Main Allama Faiz Ahmad Owaisi Ki Tasneefat.rar Aolia-e-Ummat Aor Qadianiat Ka Bhyanak Chehra Aolia-e-Ummat Aor Qadianiat Ka Bhyanak Chehra.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Jamia Razawia Zia-ul-Uloom 1Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Jamia Razawia Zia-ul-Uloom.rar Tazkira-e-Mujahedeen-e-Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Tazkira-e-Mujahedeen-e-Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Chand Sunni Ulama-o-Mashaikh Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Chand Sunni Ulama-o-Mashaikh.rar Kalam-e-Noori Main Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Ki Zia Baareyan 01Kalam-e-Noori Main Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Ki Zia Baareyan.rar Fitna-e-Qadianiat k khilaf Mumlikat-e-Khudadad ka Tareekhi fesla Fitna-e-Qadianiat k khilaf Mumlikat-e-Khudadad ka Tareekhi fesla.rar Dawateislami Ki Madani Bahar Qadianion Ki Toba Dawateislami Ki Madani Bahar Qadianion Ki Toba.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Main Anjuman Talba-e-Islam Ka Kirdar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Main Anjuman Talba-e-Islam Ka Kirdar.rar Qadianiat Aor Tahseel Gojar Khan Qadianiat Aor Tahseel Gojar Khan.rar 7 September Qadianion Ki Shikast Ka Din 7 September Qadianion Ki Shikast Ka Din.rar 7 September Youm-e-Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat 7 September Youm-e-Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Alhaj Peer Nazeer Ahmad Mohrwi رحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadiniat Alhaj Peer Nazeer Ahmad Mohrwi Aor Radd-e-Qadiniat.rar Ameer-e-Millatرحمت اللہ علیہ Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ameer-e-Millat Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Mian AbdulHaq Ghorghashtwiرحمت اللہ علیہ Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Mian AbdulHaq Ghorghashtwi.rar Jab Mujhay Saza-e-Maot Sunayi Gayi Jab Mujhay Saza-e-Maot Sunayi Gayi.rar Khatm-e-Nabuwat Aor Ghzali-e-Zman Allama Saeed Ahmad Kazmiرحمت اللہ علیہ Khatm-e-Nabuwat Aor Ghzali-e-Zman Allama Saeed Ahmad Kazmi.rar Khatm-e-Nabuwat Aor Khawja ZiauDdeen Sialwiرحمت اللہ علیہ Khatm-e-Nabuwat Aor Khawja ZiauDdeen Sialwi.rar Khatm-e-Nabuwat Kay Paasban Khatm-e-Nabuwat Kay Paasban.rar Khawja Ghulam Murtzaرحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadianiat Khawja Ghulam Murtza Aor Radd-e-Qadianiat.rar Mashaikh-e-Choora Shareef Aor Taqub-e-Qadianiat Mashaikh-e-Choora Shareef Aor Taqub-e-Qadianiat.rar Molana Enayat-Ullah-Chishti رحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadianiat Molana Enayat-Ullah-Chishti Aor Radd-e-Qadianiat.rar Mujahid-e-Millat رحمت اللہ علیہ Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Mujahid-e-Millat Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Radd-e-Mirzaeat Main Muhaddis-e-Azamرحمت اللہ علیہ ka Kirdar Radd-e-Mirzaeat Main Muhaddis-e-Azam ka Kirdar.rar Radd-e-Mirzaeat Main Peer Muhammad Karam Shah رحمت اللہ علیہ Aor Inkay Khandan Ki Khidmaat Radd-e-Mirzaeat Main Peer Muhammad Karam Shah Aor Inkay Khandan Ki Khidmaat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Justice Peer Karam Shah AlAzhariرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Justice Peer Karam Shah AlAzhari.rar Shaheed-e-Khatm-e-Nabuwat Muhammad Malik Shaheedرحمت اللہ علیہ Shaheed-e-Khatm-e-Nabuwat Muhammad Malik Shaheed.rar Tahaffuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Akabreen-e-Ahl-e-Sunnat Tahaffuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Akabreen-e-Ahl-e-Sunnat.rar Tahaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Ghulam Rasool Saeedi Tahaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Ghulam Rasool Saeedi.rar Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Muffakir-e-Islam Professor Muhammad Hussain Aasi Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Muffakir-e-Islam Professor Muhammad Hussain Aasi.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Main Ulama-e-Mashaikh Ka Kirdar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Main Ulama-e-Mashaikh Ka Kirdar.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Peer Muhammad Ameen-Ul-Hasanat Shah Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Peer Muhammad Ameen-Ul-Hasanat SHah.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Hazrat Faqeeh-e-Azamرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Hazrat Faqeeh-e-Azam.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahibzada Faiz-ul-Hasanرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahibzada Faiz-ul-Hasan.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Shaykh-Ul-Quran AbdulGhfoor Hazarwiرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor SHaykh-Ul-Quran AbdulGhfoor Hazrwi.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ka Aik Qalmi Mujahid Professor Muhammad Ilyas Barniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ka Aik Qalmi Mujahid Professor Muhammad Ilyas Barni.rar Tajdar-e-Golraرحمت اللہ علیہ Aor Marka-e-Qadianiat Tajdar-e-Golra Aor Marka-e-Qadianiat.rar Fatih-e-Rabwa Qaid-e-Millat-e-Islamia Shah Ahmad Noorani Siddiquiرحمت اللہ علیہ Fatih-e-Rabwa Qaid-e-Millat-e-Islamia Shah Ahmad Noorani Siddiqui.rar Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Munazray Aor Tahreeri Khidmaat Shah Ahmad Noorani Munazray Aor Tahreeri Khidmaat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Aor Allamah Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Aor Allamah Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Aor Allamah Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Aor Allamah Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Ka Lazwal Kirdar Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Ka Lazwal Kirdar Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allamah Shah Ahmad Noorani Siddiquiرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allamah Shah Ahmad Noorani Siddiqui.rar Tahreek-e-Thaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Main Imam Shah Ahmad Noorani رحمت اللہ علیہ Aor Inki Rabta Muhim Tahreek-e-Thaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Main Imam Shah Ahmad Noorani Aor Inki Rabta Muhim.rar
  46. 1 like
  47. 1 like
    the translierated version. Bismillahir Rahmanir Raheem LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK UL QUDOOS LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZIZ UL JABBAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL RAUF UR RAHEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHAFOOR IR RAHEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KAREEM IL HAKEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAWI IL WAFI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL LATEEF IL KHABEER LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL SAMAD IL MA'BOOD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHAFOOR IL WADOOD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL WAKEEL IL KAFEEL LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL RAQEEB IL HAFEEZ LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL DAEM IL QAEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MUHI UL MUMEET LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAYYUL QAYYUM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IL BAARI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALI IL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL WAHID IL AHAD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MOMIN IL MUHAIMIN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HASEEB IS SHAHEED LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HALEEM IL KAREEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AWAL IL QADEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AWAL IL AKHIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ZAHIR IL BAATIN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KABEER IL MUTA'AL LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAZI IL HAJAAT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL REHMAN IR RAHEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBIL ARSHIL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBI AL AALA LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL BURHAN IL SULTAN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAMI IL BASEER LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL WAHID IL QAHAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALEEM IL HAKEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SATTAR IL GHAFAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AR REHMAN ID DAYYAN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KABEER IL AKBAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALEEM IL ALLAM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAFI IL KAAFI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AZEEM IL BAQI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAMAD IL AHAD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABIL ARDE WAS SAMAAEY LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IL MAKHLOOK LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA MAN KHALAQ AL LAILE WAN NAHAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IR RAZZAQ LA ILAHHA ILLAL LAHO SUBHAN AL FATTAH IL ALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZEEZ IL GHANI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHAFOOR IS SHAKOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZEEM IL ALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL MULKE WAL MALAKOOT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL IZZATE WAL AZMATE LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL HAIBATE WAL QUDRATE LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL KIBRIYA E WAL JABAROOT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SATTAR IL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALIM IL GHAIB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAMEED E WAL MAJEED LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAKEEM IL QADEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QADIR IL SATTAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAMI IL ALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALAM IS SALAM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK IN NASEER LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IR RAHMAN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAREEB IL HASANAAT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SABOOR IS SATTAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IN NOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IL MOJIZ LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL FADIL IS SHAKOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IL QADEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL JALAL IL MUBEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIS IL MUKHLIS LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SADIQ IL WAED LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAQ IL MUBEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL QUWATIL MATEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAWI IL AZIZ LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALLAM IL GHOYOOB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAYYIL LA YAMOOT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SATTAR IL AYOOB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MUSTA'AN IL GHAFOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBIL ALAMEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AR REHMAN IS SATTAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AR RAHEEM IL GHAFAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZEEZ IL WAHAB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QADIR IL MUKTADIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL GHUFRAN IL HALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK IL MULK LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL BARI IL MUSAWWIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZIZ IL JABBAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL JABBAR IL MUTAKABBIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN ALLAHI AMMA YASI FUN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QUDOOS IS SUBOOH LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBIL MALAEKATI WAR ROOH LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL ALA E WAN NA'AMA E LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK IL MAQSOOD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HANNAN IL MANNAN LA ILAHA ILLAL LAHO ADAM SAFI ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO NOOH E NAJI ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO IBRAHIM KHALIL ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO ISMAEL ZABI ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO MUSA KALEEM ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO DAWOOD KHALIFA TULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO EISA ROOH ALLAH LA ILAHA ILLAL LAHO MUHAMMAD UR RASOOL ALLAH WA SALLAL LAHO ALA KHAIRI KHALKIHI WA NOORI ARSHI HI AFDALIL AMBIYA HI WAL MURSALEENA HABEEBINA WA SAYYIDINA WA SANADINA WA SHAFI INA WA MAULANA MUHAMMADIN WA ALA AALIHI WA ASHAABIHI AL MUNTAJABEENA BI REHMATIKA YA AR HAMAR RAHEEMIN
  48. 1 like
  49. 1 like
    Shariq bhai pehly islamimehfil ko ghoom phir kar dekh tu lain ke yahan kiss kiss ka jawab diya gaya hai aur kiss ka nahi aur kinhon ne jawab diya aur kon forum chor kar bhagh gai. brother aghar app ko Ahl-e-Sunnat ya Ala Hazrat per ajj tak kisi aitraaz ka jawab nahi mila tu saboot ke sath aitraaz karain jawab daina humara kaam hai.
  50. 1 like