Jump to content
اسلامی محفل
Sign in to follow this  
yousaf

میلاد شریف سے متعلق حدیث پر اعتراض براۓ اعتراض کا جواب چاہیے

Recommended Posts

 اسلام علیکم  
ویسے تو اس فورم کی جتنی بھی تعریف کی جاۓ کم ہے اور یہاں کے علما کرم جس انداز سے دین کو سہی معنوں میں بتا اور سمجا رہے ہیں الله پاک ان کو جزا عطا فرماۓ  اور ان کے علم میں عمر میں مزید برکتیں عطا فرماۓ (آمین 
 

(اور کامران بھائی نے جو لڑی شروع کی ہے(عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتراضات کے جوابات 

 وہ بھی ایک صدقہ جاریہ ہے تا کے لوگوں کو حقیققت کا پتا چل جاۓ الله پاک اپ کو بھی اس کی جزا عطا فرماۓ (آمین ) اور  اس لڑی کی جو پوسٹ ہیں اس کو جتنا ہو سکتا ہے شئیر کرتا ہوں تا کے  لوگوں تک حقیقت پہنچ سکے 

آج ایسے ہی اِدھر اُدھر  پیج  دیکھ رہا تھا تو  اس میں مجھے  محا لفین کا یہ اعتراض ملا .اور اس کا جواب چاہے(سکین بھی

ہوں تو بہت بہتر ہو کا )  تا کے ان کو اصل حقیقت دکھائی جاۓ 

وسلام 

 

https://www.facebook.com/profile.php?id=100002200689333

 

 

 

12313552_961715713911776_220276749411661

 

 

ریلوی رضاخانیوں نے جشن میلاد کو ثابت کرنے کی غرض سے یہودیوں کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے نبی کریمﷺ کی حدیثِ مبارکہ میں بھیانک تحریف کر ڈالی۔
مسند احمد وغیرہ میں موجود ایک حدیث کو توڑ مروڑ کر کچھ اس طرح پیش کیا کہ حضرت امیر معاویہؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن صحابہ کرام جلسے کی صورت میں جمع تھے اور محفل منا رہے تھے جس میں وہ اللہ پاک کی حمد و ثنا اور نبی پاک ﷺ کی آ مد کا تذکرہ کر رہے تھے تو سرکارﷺ جب اس محفل میں تشریف لائے تو اس کو بہت پسند فرمایا اور بشارت دی کہ اس محفل کے بارے میں مجھے حضرت جبرئیلؑ نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالی تماری اس محفل پر فرشتوں میں فخر فرما رہا ہے۔
جبکہ اصل حقیقت کیا ہے ہم آپ کے سامنے مکمل حدیث مع صحیح ترجمہ کے رکھتے ہیں اور آپ خود فیصلہ کیجیے کہ ان ایمان کے ڈاکؤں نے کس طرح نبی کریمﷺ کی حدیث کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا فقط اپنے باطل تہورا کو سند فراہم کرنے کی غرض کیلئے۔ حدیث ملاحظہ ہو۔!!!
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ، عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: اللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟ قَالُوا: اللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَا أَجْلَسَكُمْ؟ " قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ، قَالَ: " آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ " قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَإِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ۔
(مسند احمد، ۱٦٨٣٥، مسلم، ٢٧٠١، نسائی، ٥٤٢٦)
ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں ایک دفعہ مسجد میں صحابہ کرام حلقہ بنا کے بیٹھے ہوئے تھے تو سیدنا معاویہؓ انکے پاس گئے اور کہا تمھیں کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انھوں نے جواب دیا ہم لوگ اللہ کا ذکر کرنے کی غرض سے بیٹھے ہیں۔ تو سیدنا معاویہؓ نے ان سے کہا تم قسم اٹھاؤ کہ تمھیں اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ تو انھوں نے قسم کھا کر کہا ہم اسی مقصد کے لیئے یہاں بیٹھے ہیں۔ سیدنا معاویہؓ نے کہا میں تم پر کوئی تہمت نہیں لگا رہا (یعنی تم کو جھوٹا سمجھ کر قسم نہیں کھلائی) اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس میرے جیسا مقام ومنزلت رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے کم (ادب واحتیاط کے سبب) آپ سے حدیثیں بیان کرنے والا نہیں ہے۔ (پھر بھی میں تمہیں یہ حدیث سنا رہاہوں) رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس گئے وہ سب دائرہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان سے فرمایا کس لیے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اللہ نے ہمیں اسلام کی طرف ھدایت سے نوازا ہے اور مسلمان بنا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے ہم اس پر اس کا شکریہ اداکرتے ہیں، اوراس کی حمد بیان کرتے ہیں، آپ ﷺنے فرمایا کیا واقعی قسم ہے تمہیں اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا قسم اللہ کی، ہمیں اسی مقصد نے یہاں بٹھا یا ہے، آپ نے فرمایا میں نے تمہیں قسم اس لیے نہیں دلائی ہے کہ میں نے تمھیں جھوٹا سمجھوں بات یہ ہے کہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا اور خبردی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے۔
(مسند احمد، ۱٦٨٣٥، مسلم، ٢٧٠١، نسائی، ٥٤٢٦)
یہ ہے اصل حقیقت مختصر یہ کہ جس محفل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر رشک فرماتے ہیں جسکی تصدیق خود نبی کریمﷺ نے فرمائی۔ لیکن بریلویوں کے ترجمہ پر غور کریں تو وہاں پورا نقشہ ہی تبدیل نظر آتا ہے۔ بریلوی لومڑی کی طرح چالاکی کا مظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
"صحابہ کرام جلسے کی صورت میں جمع تھے"
"محفل منا رہے تھے"
"اور نبی پاک ﷺ کی آ مد کا تذکرہ کر رہے تھے"
کس طرح ہوشیاری کے ساتھ میلاد کو ثابت کرنے کیلئے جھوٹ کی کڑیاں ملائی گئیں حدیث میں یہ ذکر کہیں بھی نہیں ملتا کہ صحابہ کرام نے ایک جلسہ کی شکل میں محفل کا اہتمام کیا ہوا تھا جس طرح بریلوی جلسے جلوس نکالتے ہیں دوسرا یہ کہنا کہ "محفل منا رہے تھے" یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ ذکر الہٰی ایک عبادت ہے اور عبادت منائی نہیں جاتی عبادت کی جاتی ہے لیکن یہاں پر محفل کے ساتھ لفظ "منانا" لکھ کر یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ جس طرح صحابہ کرام نے محفل منائی اسی طرح ہم بھی مناتے ہیں، اس کے بعد ایک اور عظیم جھوٹ بولا گیا کہ اس محفل میں صحابہ کرام "نبی پاک ﷺ کی آ مد کا تذکرہ کر رہے تھے" جبکہ حدیث آپکے سامنے ہے جس میں نبی کریمﷺ کی آمد یا ولادت کا کوئی ذکر ہی نہیں ملتا اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہوئے ان ظالموں کو رب تعالیٰ کا خوف بھی نہ ہوا یہ سارا کچھ اس لیئے کیا گیا کہ ایک عام آدمی جب ان باتوں پر غور کرے گا صحابہ کا جلسہ منعقد کرنا، محفل منانا، نبی کریم ﷺ کی آمد کا ذکر کرنا وغیرہ تو یہ چیزیں اسے کچھ محفل میلاد کا نقشہ کھینچتے ہوئے دکھائی دیں گی (جبکہ بریلویوں کا یہ خیال بھی باطل ہے بالفرض یوں بھی ہوتا تو میلادیوں کا کنجر خانہ پھر بھی ثابت نہیں ہوتا) لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے نہ ہی صحابہ نے جلسہ کیا، نہ کوئی محفل منائی اور نہ ہی اپنی محفل میں نبی کریم ﷺ کی آمد کا ذکر خیر کیا بلکہ انھوں نے ذکرِالہٰی کیا اور شرک کے اندھیروں سے نکل کر توحید کی روشنی کی طرف آنے پر رب تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اسلام جیسی نعمت اور مسلمان ہونے پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی۔
بریلویوں کی بھیانک تحریف کے بعد یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو گئی کہ شریعت محمدی میں میلاد نبوی ﷺ کی کوئی دلیل نہیں ملتی جسکی وجہ سے بریلویوں نے گھناؤنا جرم کیا اور جو حدیث ذکرِ الہٰی کا درس دیتی ہے اسے وہاں سے ہٹا کر جشن میلاد کی بدعت پر فٹ کر دیا۔
(اللہ تعالیٰ ہی ھدایت عطا کرنے والا ہے ہمارا کام فقط پہنچا دینا ہے) —

Edited by yousaf

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
Sign in to follow this  

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...