Jump to content

یا محمد ﷺ کہنے اور اس کے وسیلے سے دعا کرنے والی حدیث میں لفظ یا محمد ﷺ غائب


محمد حسن عطاری

تجویز کردہ جواب

عربی متن

970903141_2021-05-3111_53_38.png.e4e146ad61878952d95f75d01de43de0.png

 

587532582_2021-05-3111_31_18.png.662588b53ed198754addb2e79bb9e33b.png

سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اللہ سے میرے لیے دعا کریں کہ وہ مجھے عافیت دے . آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تو چاہے تو صبر کر یہ تیرے لیے بہتر ہے اور اگر چاہے تو میں دعا کروں. عرض کیا کہ دعا کریں . راوی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ وضو کرے اور اچھا وضو کرے  اور یہ دعا پڑھے
اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری طرف توجہ کرتا ہوں تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کے وسلیے سے . یا محمد بے شک میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اپنی حاجت پیش کرتا ہوں کہ میری حاجت پوری کی جائے. اے اللہ میرے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما . حضرت ابو اسحاق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ حدیث صحیح
ہے 

سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی صلاة الحاجة صفحہ 327 

درج ذیل کتب سے یا محمد ﷺ کے الفاظ حذف کردیے گے ہیں 

مشکوة المصابیح المکتب اسلامی بیروت

سنن الترمذی مصطفی البابی مصر

جامع ترمذی دار المغرب الاسلامی بیروت

السنن لکبری موستہ الرساتہ بیروت

 

Link to comment
Share on other sites

بحث میں حصہ لیں

آپ ابھی پوسٹ کرکے بعد میں رجسٹر ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ پہلے سے رجسٹرڈ ہیں تو سائن اِن کریں اور اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کریں۔
نوٹ: آپ کی پوسٹ ناظم کی اجازت کے بعد نظر آئے گی۔

Guest
اس ٹاپک پر جواب دیں

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
×
×
  • Create New...