Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content on 09/09/2019 in all areas

  1. 1 like
    یار آپ نا کسی اچھے سے ماہر نفسیات سے مل لو ایک بار
  2. 1 like
    جزاک اللہ خیرا۔ اسد بھائی نے روایت کے جھوٹے ہونے کی صحیح وضاحت کردی ہے۔ اور راوی کا صحیح تعیین کر دیا ہے ۔ بس اس میں ایک چھوٹی سی وضاحت یہ ہے کہ امام احمدؒ اپنے شیوخ کے معاملے میں بہت محتاط ہیں ۔ اور ائمہؒ نے ذکر کیا ہے کہ ان کے شیوخ ثقہ ہیں ۔ اگرچہ یہ علی الاطلاق نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں تفصیل ہے ۔لیکن بہر حال اگر کوئی یہ بات بھی کرے تو دراصل یہ روایات امام احمدؒ کی روایت سے ہے ہی نہیں ۔ بلکہ فضائل صحابہ رضی اللہ عنہ کتاب ان کے بیٹے عبد اللہ بن احمد ؒ نے روایت کی ہے اور اس میں بہت اضافات کئے ہیں ۔پھر ان سے بھی نیچے کے راوی ابوبکر ابن مالک القطیعیؒ ہیں انہوں نے بھی ۔ کتاب میں اضافات کئے ہیں ۔ اوراس کا ذکر کتاب میں موجود ہے ۔ پہلے امام احمدؒ کی روایات ہیں پھر اس کے بعد ابو بکر قطیعیؒ کے اضافات ہیں ۔۔ج۲ص۶۰۹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ یعنی وہ روایات جو ابوبکر قطیعی کی اپنے شیوخ سے ہیں ، عبد اللہ بن احمدبن حنبلؒ کے علاوہ۔ اور یہ مذکورہ روایت اسی حصہ کی یعنی اضافات قطیعی میں سے ہے ۔ چناچہ یہ راوی الحسن بن علی بن البصری ۔۔امام احمد بن حنبل ؒ کا شیخ نہیں بلکہ ابوبکر قطیعیؒ کا شیخ ہے ۔