Qadri Sultani

Super Moderator
  • Content count

    1,302
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    37

Qadri Sultani last won the day on April 26

Qadri Sultani had the most liked content!

Community Reputation

128 Excellent

About Qadri Sultani

  • Rank
    Madani Member
  • Birthday 05/03/1989

Profile Information

  • Gender
    Male

Previous Fields

  • Madhab
    Hanafi
  • Sheikh
    Qazi Mehmood Qadri

Recent Profile Visitors

324 profile views
  1. جناب سے عرض کی تھی کہ آپ نشان دہی فرمائیں کہ آپ پر کون سی پابندی عائد کی گئی ہے لیکن سیدھا سا جواب دینے کی بجائے ادھر ادھر کی ہانک کر چل دیے۔۔ جناب کو کون سی بات استہزا معلوم ہوئی ہے ذرا ہمیں بھی بتلائیے محترم؟؟ آپ نے جو احادیث پیش کی ہیں ان میں وفات مبارکہ کا بیان ہے تو اس سے کس نے انکار کیا؟؟ اتنی قیاس آرائیاں اچھی نہیں صاحب،چلو مقلدین آپ کے نزدیک سب ایسے ہی سہی آپ ہی ادب کا دامن تھام کر بحث کر لیں سیدھی طرح
  2. محترم کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آپ پر کون سی پابندی لگی ہوئی ہے؟؟ آپ نے جو حدیث شریف پیش کی ہے اس سے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟؟وفات شریف کا کس نے انکار کیا؟؟
  3. السلام علیکم ورحمت اللہ جناب گزارش ہے کہ یہاں کوئی ایڈمن یا ماڈریٹر کسی کو پروٹیکٹ نہیں کر رہا۔۔ عسقلانی بھائی آپ سے گزارش ہے کہ آپ فیس بک سے لاگ ان ہونے کی بجائے اسلامی محفل میں ڈائریکٹ اکاؤنٹ بنائیں تو شاید یہ مسئلہ دوبارہ نہ ہو کیوں کہ کل تک مجھے آپ کے اکاؤنٹ میں ایسا کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا اور میں بھی آپ سب سنی بھائیوں سے یہی گزارش کروں گا کہ آپس میں فروعی اختلافات پر بحث کی بجائے بدمذہبوں کے رد پر زیادہ توجہ دی جائے۔۔جزاک اللہ خیرا
  4. Reply by Qibla Saeedi Sahib
  5. حضرت کتب و رسائل کے لیے علیحدہ سیکشن پہلے سے ہی موجود ہے۔لنک ملاحظہ فرمائیں http://www.islamimehfil.com/forum/131-kutub-o-rasail/
  6. ان حوالہ جات میں اسنادہ صحیح کہا گیا ہے ۔اب یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ اس سند کے تمام راوی عند المحدثین و محققین ثقہ ہیں۔ راویوں کی توثیق کے علاوہ جو بھی اعتراضات تھے ان کا جواب دیا جا چکا ہے۔ تدلیس پر بحث ہوچکی ہے ارسال پر بھی بحث ہوچکی ہے۔ اور اگر تدلیس پر دوبارہ بحث شروع کی تو پھر کم از کم 100 زیادہ اسانید ایسی ہیں جو أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ کے طرق سے ہیں اور محدثین کرام نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
  7. قارئین کرام اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں کہ عدیل لامذہب نے جو اعتراض کتاب تاریخ الکبیر امام بخاری کا حوالہ دیا تھا اسکے جواب سے بھی بھاگ رہا ہے۔ مالک الدار کی حدیث کو مختلف محدثین کرام نے اسنادہ صحیح کہا ہے۔ وروى ابن أبى شيبة بإسناد صحيح من رواية أبى صالح السمان، عن مالك الدار قال: أصاب الناس قحط فى زمن ۱-عمر بن الخطاب، فجاء رجل إلى قبر النبى- صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله، استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا، فأتى الرجل فى المنام فقيل له: أئت عمر.۔ [المواهب اللدنية بالمنح المحمدية "وروى ابن أبي شيبة بإسناد صحيح من رواية أبي صالح" واسمه ذكوان "السمان" بائع السمن "عن مالك الدار"۲ وكان خازن عمر، وهو مالك بن عياض مولى عمر، له إدراك، ورواية عن الشيخين ومعاذ وأبي عبيد، وعنه ابناه عبد الله وعوف وأبو صالح وعبد الرحمن بن سعيد المخزومي قال أبو عبيدة: ولاه عمر كيلة عمر، فلما كان عثمان ولاه القسم فسمي مالك الدار [شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية قال الحافظ أبو بكر البيهقي (): ثنا أبو نصر بن قتادة، وأبو بكر الفارسي قالا: أنا أبو عمرو بن مَطَر، ثنا إبراهيم بن علي الذُّهْلي، ثنا يحيى بن يحيى، أنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن مالك الدَّار قال: أَصابَ الناسَ قحطٌ في زمانِ عمرَ -رضي الله عنه-، فجاء رجلٌ إلى قبر النبيِّ صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسولَ الله، استَسقِ اللهَ لأمَّتك، فإنهم قد هَلَكوا. فأتاه رسولُ الله صلى الله عليه وسلم في المنام، فقال: ائتِ عمرَ، فأَقْرِئْهُ منِّي السلامَ، وأَخبِرْهُ أنهم مُسْقَون، وقل له: عليكَ بالكيسِ الكيسِ. (فأتى الرجلُ، فأَخبَرَ عمرَ، وقال يا ربُّ، ما آلو إلا ما عَجِزتُ عنه. هذا إسناد جيد قوي الكتاب: مسند الفاروق المؤلف: أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي البصري ثم الدمشقي
  8. جناب عرض یہ ہے کہ ہم نے تو اس کتاب کی جزئیات کا بھی رد کیا ہے،اور اگر یہ کتاب امام بخاری سے ثابت بھی ہو جائے توہمیں مضر نہیں۔ مزید عرض یہ ہے کہ ہم نے یہاں غیر مقلد وہابی زبیر علی زئی کا اصول بتایا تھا کہ وہ کسی محدث کے سند کو صحیح کہنے سےاس کے روایوں کی توثیق سمجھتے ہیں۔ اور عدیل وہابی صاحب انوار الصحیفہ کا بھی حوالہ پیش کیا گیا ہے۔جو آپ ہضم کر گئے ہیں۔ اور جناب ہم نے کب محمود بن اسحاق کی توثیق کو تسلیم کیا ہے ہم نے تو زبیر علی زئی کے حوالے سے اس اصول کو پیش کیا ہے۔جب کہ اس حوالہ میں آپ کے زبیر علی زئی نے دھوکا اور فریب سے کام لیا ہے۔ کیونکہ حافظ اب حجر نے اس کی سند کو حسن نہیں کہا بلکہ اس حدیث کو حسن کہا ہے۔اور جناب ذرا غور سے مطالعہ کریں تاکہ فرق واضح ہو سکے ،جناب حافظ ابن حجر نے اس حدیث کو ابی داود کی حدیث کی سند کی متابعت کی وجہ سے حدیث حسن کہا ہے اور جناب حدیث حسن اور اسناد حسن میں جو فرق ہے وہ جاہل کیا جانے۔ احمد رضا بھائی نے جو امام بخاری کی کتاب جزء رفع الیدین کا رد کیا وہ بالکل صحیح ہے ۔ ذرا اسنادہ صحیح اور حدیث صحیح کا فرق ملحوظ رکھیں۔
  9. اس سے پہلے کی پوسٹ میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مالک الدار کی اس روایت کی بہت سے محدثین کرام نے توثیق کی ہے۔ اب بات ہے کہ جناب نے تاریخ الکبیر امام بخاری کے حوالہ دیا کہ اس میں الاعمش کا حوالہ نہیں ہے لہذا امام بخاری کے نزدیک یہ روایت مرسل ہے۔اس بارے میں عرض یہ ہے کہ آپ کی تحقیق ناقص ہے کیونکہ تاریخ الکبیر کا نسخہ ناقص ہے جس کی وجہ سے الاعمش کا ذکر کاتب سے رہ گیا یہ ہی روایات امام بخاری کے طریق سے محدث امام ابن عساکر نے اپنی کتاب تاریخ دمشق ج56 ص492۔493 سے باسند روایت کی ہے۔ أخبرنا أبو الغنائم محمد بن علي ثم حدثنا أبو الفضل بن ناصر أنا أحمد بن الحسن والمبارك بن عبد الجبار ومحمد بن علي واللفظ له قالوا أنا أبو أحمد زاد أحمد ومحمد بن الحسن قالا أنا أحمد بن عبدان أنا محمد بن سهل أنا البخاري قال مالك بن عياض الدار أنا عمر قال في قحط يا رب لا آلوا إلا ما عجزت عنه اله علي يعني ابن المديني عن محمد بن خازم عن الأعمش عن أبي صالح عن مالك الدار۔ اس حوالہ کے بعد کوئی جاہل ہی ایسا اعتراض کر سکتا ہے۔
  10. جناب عدیل وہابی صاحب اب کچھ سمجھ میں آیا،اگر نہیں تو یہ حوالے اپنے غیر مقلد عالموں سے پڑھا لیں تاکہ وہ آپ کو اچھی طرح سمجھا سکیں کہ اس حوالہ جات میں آپ کے زبیر علی زئی نے کسی سند کی توثیق کو راوی کی توثیق سمجھتے ہیں۔لہذا مالک الدار مجہول نہیں معروف اور صدوق ہیں۔
  11. عدیل وہابی نے جو اعتراضات کیے وہ خود بھی اپنے اعتراضات کو نہیں سمجھتے۔ بیچارے کو اس کے مولویوں نے آگے لگایا ہوا ہے اور اس کو وہ بتاتیں ہیں جس کا اس کو خود بھی نہیں معلوم ہوتا۔جناب کے اعتراضات کے ۲ پہلو ہیں۔ اول یہ کہ مالک الدار مجہول ہیں۔ دوم یہ کہ س روایت میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ الاعمش درمیان سے غائب ہے جبکہ اس کی سندجو مصنف ابن ابی شیبہ میں بیان ہوئی ہےاس میں الاعمش موجود ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہےتو کیا وجہ ہےکہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا اس بات سے امام بخاری یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایک تو یہ واقعہ ہی مستند نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس کو سرے سے نقل ہی نہیں کیا ہے اودوسرے اس کی سند میں الاعمش ہے جس کا ابو صالح سمان سے انقطاع موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا جس سے انہوں نے اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ اس روایت کی سند بھی صحیح نہیں ہے اور اس میں الاعمش کا ابو صالح سمان سے انقطاع ہے اور جو بات ہم گزشتہ صفحات امام احمد بن حنبل اور سفیان کے حوالے سے نقل کر چکے ہیں اسی بات کی جانب امام بخاری نے بھی اشارہ کیا ہے ۔ اب ہم جناب غیر مقلد جاہل کے اعتراضات کے جوابات اس کے عالم زبیر علی زئی کی کتاب سے دیتے ہیں تاکہ اس کو سمجھ آ سکے۔ ان کے معتعمد غیر مقلد عالم زبیر علی زئی کے نزدیک محدثین کا سند کو صحیح کہنا اس روایت کے ایک ایک راوی کی توثیق ہوتی ہے۔ موصوف اپنی کتاب نور العینین جدید ایڈیشن ص56 پر محمود بن اسحاق الخزاعی کی توثیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔\ حافظ ابن حجر نے محمود بن اسحاق کی سند سے ایک روایت نقل کرکے اسے"حسن" لکھا ہے۔[موافقہ الخبر الخبرج۱ ص417]۔لہذا محمود مذکور حافظ ابن حجر کے نزدیک صدوق ہے۔