Smart Ali

Members
  • Content count

    279
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

Smart Ali last won the day on November 20 2016

Smart Ali had the most liked content!

Community Reputation

6 Neutral

About Smart Ali

  • Rank
    Baghdadi Member

Previous Fields

  • Madhab

Recent Profile Visitors

834 profile views
  1. خادم حسین کا سخت الفاظ استعمال کرنا کیسا؟ (1.) اللہ تعالٰی نے قرآن میں بلعم بن باعوراء کا حال ان الفاظ میں بیان کیا ہے “تو اس کا حال کتے کی طرح ہے۔” کیونکہ اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مخالف اور گستاخی کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے کتے کی بدترین حالت سے تشبیہ دی۔ (2.) اللہ نے قرآن میں گستاخِ رسول ولید بن مغیرہ کیلئے نو (9) برائیاں بیان کرنے کے بعد آخر میں دسویں (10) بات یہ کی کہ “ناجائز پیداوار ہے۔ (حرامی ہے)” (سورۃ قلم) (3.) ابولہب نے جب حضور اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی گستاخی کی تو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ِاکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی طرف سے ان الفاظ میں جواب دیا۔ “ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوجائیں” اب مجھے بتائیں کہ کیا اللہ کو بھی وہ لوگ اخلاق سکھائیں گے۔ جو لوگ کہتے خادم حسین سخت الفاظ استعمال کرتا ہے ؟ کیا اللہ پر بھی گالیاں دینے کا فتویٰ لگائیں گے؟ (4.) ابوجہل کا اصل نام عمرو بن هشام‎ تھا لیکن اس کا نام بدل کر ابو جہل یعنی جاہلوں کا باپ کس نے رکھا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ کیا اب حضور کو بھی اخلاق سکھائیں گے جو خود اخلاق کے پیکر بن کے دنیا سے ظاہری وصال فرما کے تشریف لے گئے! (5.) حدیبیہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو کہا “اپنے لات (بُت) کی شرمگاہ چُوس. (بخاری) بتائیں یہ کیا ہے؟ کیا اب حضرت ابوبکر کو بھی اخلاق سکھانے پڑیں گے جو افضل البشر بعد الانبیاء ہیں؟ (6.) جنگِ بدر کے بعد ایک شخص مکہ سے مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادے سے آیا، حضور مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے اور حضرت عمر صحابہ رضی اللہ عنہم سمیت مسجد کے باہر کھڑے بدر کی نعمتوں کا ذکر کررہے تھے، وہ شخص جیسے ہی اندر جانے لگا حضرت عمر نے دیکھ کر فرمایا پکڑو پکڑو اس کتے کو. (البدایہ والنہایہ) بتائیں یہ کیا ہے؟ اب کیا حضرت عمر کو بھی اخلاق سکھانے پڑیں گے جن کے بارے میں خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ “عمر کی زبان سے حق جاری ہوتا ہے” اور فرمایا ہے کہ “اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا”؟ (7.) ایک شخص حضور کے سامنے پاؤں پھیلا کر بیٹھا تھا، حضرت اُسید رضی اللہ عنہ آئے اور اسے کہا او بندر! تُو حضور کے سامنے پاؤں پھیلا کر بیٹھا ہے! اگر مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حیا نہ ہوتا تو میں تیری پیشاب والی نالیوں کو کاٹ دیتا. بتائیں یہ کیا ہے؟ اب حضرت اُسید کو بھی اخلاق سکھانے پڑیں گے؟ (8.) حضرت ابوبکر کے بیٹے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ مروان کو لعنتی کا بیٹا کہا. (تاریخ الخلفاء) بتائیں یہ کیا ہے؟ اب کیا حضرت ابوبکر کے بیٹے کو بھی اخلاق سکھانے پڑیں گے؟ (9.) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو زلیل کہا. (فتوح الشام) بتائین یہ سب کیا ہے اور یہ کیا کیا کہا ان ہستیوں نے؟ کیا اب صحابہ کو بھی اخلاق سکھائیں گے وہ لوگ؟ کیا ان کو اخلاق و آداب نہیں تھے معلوم؟ ادھر کیا فتویٰ ہے تنقید کرنے اور نرم لہجہ استعمال کرنے کا مشورہ دینے والوں کا؟ فقط ایک ہی بات! جب حضور ﷺ کی بات آئے تو گستاخ کے لیے نرم لہجہ نہیں اپنایا جاسکتا.
  2. hazrat hum bhi kisi bhi quran ki surat or ayat ka koi sa bhi wazifa bana saktay hien????
  3. Hazrat is terhaan hum bhi koi bhi surat utha ker , kisi bhi beemari ya mushkilat kay hul kay liya, apni taraf say tadad fix ker kay logoon ko bol saktay hien???? misaal kay tor per , 17 baar ayat ul kursi perh ker dum ker lo , falaij ya cancer ka murz kahtam. mien app kay jawab say abhi apni confusion dur ker raha hoon. kiun kay samnay wala aisay hee sawal karey ga
  4. Hzrat is cheees ko deogandion or wahabion nay social media per viral keeya howa hay. or mazak ura rahey hien. kindlay SURAH KAUSAR & BAAR PERHNAY SAY BARKAT HOTI HAY. is ka reference inayat fermadien. jazakallah
  5. Hazrat aik wahabi nay dawat islami per aietraz keeya hay. is ka jawab inayat fermadien. جوٹھے پانی کی فضیلت ● سوال: ایک روایت مشہور ہورہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ عاجزی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے مسلمان بھائی کا جوٹھا (یعنی بچا ہوا) پانی پی لے، اور جو اپنے بھائی کا جوٹھا پیتا ہے اس کے ستر(٧٠) درجات بلند کردیئے جاتے ہیں، ستر(٧٠) گناہ مٹادیئے جاتے ہیں اور اس کے لئے ستر(٧٠) نیکیاں لکھی جاتی ہیں. اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے. ▪ الجواب باسمه تعالی واضح رہے کہ مسلمان کا جوٹھا پینے کے متعلق جتنی روایات منقول ہیں ان میں سے کوئی بھی روایت سند کے لحاظ سے درست نہیں. ١. پہلی روایت: سوال میں مذکور روایت کو مختلف محدثین نے نقل کیا ہے اور اس پر غیرصحیح ہونے کا حکم لگایا ہے. □ ومثل ذلك حديث: "من التواضع أن يشرب الرجل من سؤر أخيه، ومن شرب من سؤر أخيه رفعت له سبعون درجة، ومحيت عنه سبعون خطيئة وكتبت له سبعون حسنة‏". ¤ هذا حديث موضوع، أورده ابن الجوزي في الموضوعات (204/3). ♤ نوح بن ابی مریم: اس روایت کی سند میں ایک راوی نوح بن ابی مریم ہے جس کے بارے میں محدثین کے اقوال کافی سخت ہیں: ◇ یحی بن معین کہتے ہیں: لیس بشئ. ◇ مسلم بن حجاج اور دارقطنی کہتے ہیں: متروك. ◇ ابن حبان کہتے ہیں کہ اس نے سچ کے علاوہ باقی سب کچھ جمع کیا. ◇ امام ذہبی کہتے ہیں: جمع الكمالات الا الصدق. ٢. دوسری روایت: اس روایت میں یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے جوٹھے کو تبرکا پیئےگا اللہ رب العزت اس کیلئے ایک فرشتہ پیدا فرمائینگے جو قیامت تک ان دونوں کیلئے استغفار کرتا رہےگا. ○ "منْ شَرِبَ سُؤْرَ الْمُؤْمِنِ تَبَرُّكاً بِهِ، خَلَقَ اللَّهُ بَيْنَهُمَا مَلَكاً، يَسْتَغْفِرُ لَهُمَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ". ¤ هذه الرواية مرسلة. یہ روایت شیعوں کی کتابوں میں نقل کی گئی ہے اور اہل سنت کی کتابوں میں جہاں بھی اس کا تذکرہ ہے وہاں موضوع (یعنی من گھڑت) روایات میں اس کو شمار کیا گیا ہے. ٣. تیسری روایت: مؤمن کے جوٹھے میں شفا ہے. ○ حديث: "سؤر المؤمن شفاء." اس روایت کو تمام محدثین نے بالاتفاق موضوع قرار دیا ہے، اور بعض محدثین نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مؤمن کی تھوک میں شفا ہے، یہ دونوں الفاظ درست نہیں. قال النجم: ليس بحديث، ورد بلفظ: "ريق المؤمن شفاء". (رواہ العجلونی فی کشف الخفاء، ص:458 عن نجم الدین الغزی). ¤ وأما ما يتداوله الناس من قول منسوب للنبي صلى الله عليه وسلم وهو: "سؤر المؤمن شفاء"، فليس بحديث. ¤ قال العلامة القاري: ليس له أصل مرفوع. (المصنوع في معرفة الحديث الموضوع، ص:106). ¤ وقال الحافظ العراقي‏:‏ هكذا اشتهر على الألسنة، ولا أصل له بهذا اللفظ‏‏. ¤ وقال العلامة الألباني عن الحديث السابق: لا أصل له. [- سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة (1/105). - المقاصد الحسنة للسخاوي، (ص:231)]. ٤. چوتھی روایت: مسلمان کے جوٹھے میں ستر(٧٠) بیماریوں کا علاج ہے. صحيحة عبدالله بن سنان، قال: قال أبوعبدالله عليه السلام: "فِي سُؤْرِ الْمُؤْمِنِ شِفَاءٌ مِنْ سَبْعِينَ دَاء"، وهذه هي الرواية العمدة في الموضوع، والتي على أساسها أفتى العلماء (ای العلماء الشیعة) باستحباب سؤر المؤمن. ¤ یہ روایت شیعہ کی کتب میں ان کی اپنی سند صحیح کے ساتھ موجود ہے لیکن اہل سنت کے نزدیک ان روایات کی کوئی حیثیت نہیں اور یہ من گھڑت روایات ہیں. ٥. پانچویں روایت: مسلمان کے وضو کا بچا ہوا پانی پینے میں ستر(٧٠) بیماریوں کا علاج ہے جس میں سے سب سے کم (درجے کی بیماری) غم ہے. ○ وجماعة من أصحاب النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُونَ: سَمِعنا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «الشُّربُ مِن فَضلِ وُضُوءِ المُؤمِنِ فِيهِ شِفاءٌ مِن سَبعِينَ داءً أَدناهُمُ الهَمُّ». ♤ محمد بن محصن الاسدی العكاشي: اس روایت میں ایک راوی ہے محمد بن محصن الاسدی العكاشي ہے. ١. یحیی بن معین کہتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے. ◇ قال يَحيَى بن مَعِينٍ: العُكاشِيُّ كَذابٌ. ٢. ابن عدی کہتے ہیں کہ یہ اوزاعی سے جھوٹی اور من گھڑت روایات نقل کرتا ہے. ◇ وقال ابن عَدِيٍّ: يَروِي عَن الأَوزاعِيِّ أحاديث مَناكِيرَ مَوضُوعَةً. ▪ خلاصہ کلام اس باب میں جتنی بھی روایات منقول ہیں یہ سب سند کے لحاظ سے درست نہیں، لہذا اس کو آپ علیہ السلام کی ذات کی طرف منسوب کرنا یا پھیلانا ہرگز درست نہیں. 《واللہ اعلم بالصواب》 ٢٣ فروری ٢٠١٨
  6. Hazrat aik wahabi nay dawat islami per aietraz keeya hay. is ka jawab inayat fermadien. سفید مرغ کی فضیلت ● سوال: چند دنوں سے ایک روایت بہت زیادہ گردش کررہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ گھر میں سفید مرغ پالو کیونکہ جس گھر میں سفید مرغ ہوتا ہے اس گھر اور اس کے اردگرد کے گھروں کے قریب شیطان اور جادوگر نہیں آسکتا. اس روایت کو آج کل لوگ بہت پھیلا رہے ہیں اور خصوصاً عامل حضرات اس کو عام کررہے ہیں. اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے. ▪ الجواب باسمه تعالی واضح رہے کہ مرغ کے متعلق ذخیرہ حدیث میں بہت ساری روایات موجود ہیں لیکن ان میں سے اکثر روایات سند کے لحاظ سے درست نہیں ہیں. ■ مرغ کے متعلق وارد روایات اور ان کا حکم: ١. پہلی روایت: سوال میں مذکور روایت احادیث کی مختلف کتابوں میں منقول ہے. □ عن أنس بن مالك قال‏:‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم‏:‏ ‏"‏اتخذوا الديك الأبيض، فإن داراً فيها ديك أبيض لا يقربها شيطان ولا ساحر، ولا الدويرات حولها‏"‏‏.‏ (رواه الطبراني في الأوسط) ● روایت کا حکم: اس کی سند میں محمد بن محصن العكاشي ہے جس کو محدثین نے جھوٹا قرار دیا ہے. وفيه محمد بن محصن العكاشي وهو كذاب‏.‏ ٢. دوسری روایت: اس روایت میں ہے کہ سفید مرغ کو آپ علیہ السلام نے اپنا دوست قرار دیا اور اللہ کے دشمنوں کا دشمن قرار دیا. - حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے یہ بات سنی ہے سفید مرغ میرے گھر میں رہا ہے. □ حدثنا أحمد بن خالد بن مسرح الحراني، وأحمد بن علي الأبار قالا: ثنا معلل بن نفيل الحراني، ثنا محمد بن محصن، عن إبراهيم بن أبي عبلة، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اتخذوا الديك الأبيض فإنه صديقي وعدو عدو الله، وإن دارا فيه ديك أبيض لا يقربها شيطان ولا ساحر ولا الدويرات حولها". • قال أنس: ما فارق عندي ديك أبيض منذ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله. (مسند الشاميين للطبراني). اس روایت کی سند میں وہی راوی العكاشي ہے جس کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے. ٣. تیسری روایت: مرغ کو گالی مت دو اسلئے کہ یہ میرا دوست ہے اور میں اس کا دوست ہوں اور اس کے دشمن کا دشمن ہوں. خدا کی قسم! اگر لوگوں کو مرغ کی قیمت کا پتہ چل جائے تو وہ اس کے بال اور گوشت کو سونا چاندی کے بدلے خریدنے کی کوشش کرینگے اور یہ اپنی آواز کے بقدر جنات کو بھگاتا ہے. □ لا تسُبُّوا الديكَ فإنه صديقي وأنا صديقُه وعدوُّه عدوِّي والذي بعثني بالحقِّ لو يعلمُ بنو آدمَ ما في صوتِه لاشتروا ريشَه ولحمَه بالذهبِ والفضةِ وإنه ليطردُ مدى صوتِه من الجنِّ. - الراوي: عبدالله بن عمر. - المحدث: ابن حبان. - المصدر: المجروحين. - الصفحة أو الرقم: 1/535. - خلاصة حكم المحدث: ينكره من أمعن في صناعة الحديث وعلم مسلك الأخبار وانتقاد الرجال. ¤ اس روایت کو امام ابن حبان نے من گھڑت قرار دیا ہے. ٤. چوتھی روایت: مرغ کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ میرا دوست ہے اور میں اس کا دوست ہوں. □ لا تسبُّوا الدِّيكَ فإنَّهُ صديقي وأنا صديقُه. - الراوي: عبدالله بن عمر. - المحدث: ابن القيسراني. - المصدر: تذكرة الحفاظ. - الصفحة أو الرقم: 383. - خلاصة حكم المحدث: [فيه] عبدالله بن صالح، كاتب الليث: متروك الحديث، كذاب. ¤ اس کی سند میں عبداللہ بن صالح کاتب الليث ہے جس کو محدثین نے جھوٹا قرار دیا ہے. ٥. پانچویں روایت: سفید مرغ میرا دوست ہے اور اللہ کے دشمن کا دشمن ہے، اپنے مالک کے گھر کی حفاظت کرتا ہے اور ارد گرد کے سات گھروں کی بھی حفاظت کرتا ہے، اور آپ علیہ السلام کے گھر میں سفید مرغ رات کو رہتا تھا. □ الدِّيكُ الأبيضُ صديقي وعدوُّ عدوِّ اللهِ يحرسُ دارَ صاحبِه، وسبعَ أدؤُرٍ، كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يُبيتُه معهث في البيتِ. - الراوي: خالد بن معدان. - المحدث: ابن الجوزي. - المصدر: موضوعات ابن الجوزي. - الصفحة أو الرقم: 3/136. - خلاصة حكم المحدث: ليس بصحيح. - التخريج: أخرجه ابن الجوزي في "الموضوعات" (3/5). ¤ علامہ ابن جوزی نے اس روایت کو موضوعات میں ذکر کرکے فرمایا کہ یہ درست نہیں ہے. ٦. چھٹی روایت: سفید مرغ میرا اور میرے محبوب جبريل کا دوست ہے، اس گھر کی حفاظت کرتا ہے اور چاروں طرف کے سولہ گھروں کی حفاظت کرتا ہے: چار دائیں، چار بائیں، چار سامنے، چار پیچھے. □ الدِّيكُ الأفرَقُ الأبيضُ حبيبي وحبيبُ حبيبي جبريلَ يحرُسُ بيتَه، وستَّةَ عشرَ بيتًا من جيرتِه: أربعةً عن اليمينِ، وأربعةً عن الشِّمالِ، وأربعةً من قُدَّامٍ، وأربعةً من خلف. - الراوي: أنس بن مالك. - المحدث: ابن الجوزي. - المصدر: موضوعات ابن الجوزي. - الصفحة أو الرقم: 3/138. - خلاصة حكم المحدث: موضوع. - التخريج : أخرجه العقيلي في "الضعفاء الكبير" (1/127)، وأبوالشيخ في "العظمة" (5/1758). ¤ اس روایت کو امام ابن جوزی، امام عقیلی اور امام سیوطی نے من گھڑت قرار دیا ہے، اس میں ایک راوی احمد بن محمد بن عبداللہ البزی المقری ہے جو انتہائی کمزور راوی ہے. ٧. ساتویں روایت: سفید مرغ میرا دوست ہے اور میرے دوست کا دوست ہے اور میرے دشمن کا دشمن ہے. □ الديك الأبيض صديقي، وصديق صديقي، وعدو عدوي. (رواه الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" ص:213 من زوائده): حدثنا عبدالرحيم ابن واقد: حدثنا عمرو بن جميع. ¤ یہ روایت درست نہیں کیونکہ اس میں ایک راوی عمرو بن جمیع ہے جس کو ابن معین اور ابن عدی رحمهما اللہ نے من گھڑت روایات بنانے والا کہا ہے. قلت: وهذا موضوع أيضا. ١. آفته عمرو بن جميع، فقد كذبه ابن معين. ◇ وقال ابن عدي: کان يتهم بالوضع. ٢. وعبدالرحيم بن واقد؛ مجهول. ٣. وأبان عن أنس؛ هو ابن أبي عياش؛ متروك. ■ مرغ کے بارے میں صحیح روایات: ١- پہلی روایت: آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز (بانگ) سنو تو اللہ تعالٰی سے اس کا فضل مانگو کیونکہ یہ فرشتوں کو دیکھتا ہے، اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ سے پناہ مانگو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے. ○ ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "إذا سمعتم صياح الديكة فاسألوا الله من فضله، فإنه يرى ملكاً، وإذا سمعتم نهيق الحمار فتعوذوا بالله من الشيطان فإنه يرى شيطاناً". ٢- دوسری روایت: مرغ کو برا بھلا مت کہو کیونکہ یہ نماز کیلئے جگاتا ہے. ○ لا تسُبُّوا الدِّيكَ؛ فإنَّه يُوقِظُ للصَّلاةِ. - الراوي: زيد بن خالد الجهني. - المحدث: أبوداود. - المصدر: سنن أبي داود. - الصفحة أو الرقم: 5101. والنسائي في السنن الكبرى (10781) مختصراً باختلاف يسير، وأحمد (21679) مطولاً واللفظ له. ٣- تیسری روایت: ایک مرغ نے آپ علیہ السلام کے پاس آواز دی تو ایک شخص نے اس کو برا کہا تو آپ علیہ السلام نے مرغ کو گالی دینے سے منع فرمایا. □ أنَّ ديكًا صرخَ عندَ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ فسبَّهُ رجلٌ، فنَهَى عن سَبِّ الدِّيكِ. - الراوي: عبدالله بن مسعود. - المحدث: البزار. - المصدر: البحر الزخار. - الصفحة أو الرقم: 5/168. ٤- چوتھی روایت: اللہ رب العزت نے مجھے اجازت دی کہ میں تمہارے سامنے ایک مرغ کا تذکرہ کروں جس کے قدم زمین پر اور اس کی گردن عرش کے نیچے ہے اور وہ کہتا ہے: اے ہمارے رب! آپ کی عظیم ذات پاک ہے تو اللہ رب العزت کی طرف سے جواب آتا ہے کہ یہ بات جھوٹی قسمیں کھانے والے نہیں جانتے. □ إنَّ اللهَ جلَّ ذِكرُه أذِن لي أن أُحدِّثَ عن ديكٍ قد فرَقت رجلاه الأرضَ وعنقُه مثنيٌّ تحت العرشِ وهو يقولُ: سبحانَك ما أعظمَك ربَّنا فيرُدُّ عليه ما علِم ذلك من حلف بي كاذبًا. - الراوي: أبوهريرة. - المحدث: المنذري. - المصدر: الترغيب والترهيب. - الصفحة أو الرقم: 3/64. - خلاصة حکم المحدث: إسناده صحيح. ▪ خلاصہ کلام آج کل جن روایات کا چرچا ہے اور خصوصاً عاملین حضرات جس طرح کی روایات مرغ کے بارے میں پھیلا رہے ہیں یہ سب غلط اور اکثر من گھڑت روایات ہیں، مرغ کا جادو جنات سے کوئی تعلق نہیں، لہذا اس طرح کے واہیات اقوال اور افعال سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیئے. 《واللہ اعلم بالصواب》 ٢٤ فروری ٢٠١٨
  7. Allah app logoon ko deen or dunya ki bahlaiyaan naseeb fermai. ameen. bohat bara kaam ker diya mien nay net per bohat dhoonda nahi mila. bohat koshish kernay kay baad app ki bargah may request ki thi.
  8. jawab kay liya hazrat app nay book ka link diya kay yahan say download ker lien. hazrat masla yahan per ya araha hay abu lahub kay liya jin jin muhadeesien nay ziker keeya or meelad ki daleel di hay. wo muhadeesien kay scan page nahi mill rahey. ahlekhabees ko hafiz ibne kaseer ki kitab may bhi is khuwab ka ziker hay. mager us ka scan page nahi mill raha. barau madinah meharbani hogi ager is say related her muhadeesien or ibn e kaseer kay scan page post ker diya jaien to madinah madinah ho jai ga. umeed hay mayri request per ghor keeya jai ga
  9. Hazrat mera sawal ya hay kya abu lahub kay azab may takhfeef wali hadees ko hum milad ki daleel kay liya paish kertay hien. ya hadees hafiz ibn e kaseer nay apni kitab may likha hay. us ka scan page chahiya tha. or is hadees ko jin jin muhadeesien nay apni kitab may likha hay. un kay references, scan page kay sath mill saktay hien? dusri baat kafir kay azab may takfeef nahi ho sakti. to aik hadees wo bhi hay jis may ghalibun abu talib kay azaab may nabi pak ki waja say taqfeef hoi thi. us hadees ka bhi scan page mill sakta hay?
  10. hazrat aik wahabi nay aietraz keeya hay kay tum log abu baker siddiq ko siddiq akbar kiun kehtay ho? ALLAH nay SIDDIQ AKBAR ka laqab diya hay ya nabi pak nay kaha hay? Quran or hadees may kahi abu baker siddiq ko SIDDIQ AKBAR kaha hay????? is hee terhan Hazrat umer ko farooq azam kiun kehtay ho? QURAN OR HADESS may FAROOQ AZAM kahan likha hay? barai madinah jawab irshad fermadien
  11. IS description ka muhj say koi taluk nahi hay. ya kahan say agayee mien nahi janta. barai madinah muhjay koi tareeka batai kay ya kaisay hatay ga??? or ya bhi bataien kay ya gustakhi wali description kaisay agayee hay??? ALLAH na karey kay mien aisa kuch likhooon. Alhamdo lillah( ) mien kutter sunni , hanfi , brailveeh aqeedah rakhta hooon. or ALLAH say dua hay kay muhjay is hee sunni hanfi brailveeh aqeeday per maut ata fermai. ameen. Admin say guzarish hay kay ya urdu may jo mayri post kay last may araha hay description hata dien. app nay ya poocha kay aietraz kiya hay? wo mien nay shuru may likh diya tha kay budmazhub nay jo aietraz keeya hay kay jo baat ALLAMA MAULANA ILYAS QADRI nay ki hay wo apni taraf say kahi hay. is ka koi reference nahi hay. apni taraf say bol diya kay mard ager zanana chappal washrom kay liya pehnay ga ya aurat mardana chappal washroom kay liya pehnay ga to wo gunahgar hoga. or ya video whatsapp per budmazhub bohat aam ker rahey hien or fb per bhi upload ki hoi hay. is liya app bhaioon say rehnumai mangi. takay ya propaganda ka mu tor jawab diya jai. or app ka jawab dehk ker bohat khushi hoi. or yahee jawab mien agay forward karoon ga.