Ahmed Ali Khan

Members
  • Content count

    45
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    8

Ahmed Ali Khan last won the day on May 31 2018

Ahmed Ali Khan had the most liked content!

Community Reputation

2 Neutral

About Ahmed Ali Khan

  • Rank
    Member

Previous Fields

  • Madhab

Recent Profile Visitors

339 profile views
  1. حضور ﷺ کے بول وبراز مبارک و جمیع فضلات شریفہ کا طیب وطاہر اور پاک ہونا ایک مرتبہ حضور ﷺ رات کو اُٹھے ایک برتن میں پیشاب فرمایا حضور ﷺ کی ایک خادمہ جن کا نام اُم ایمن یا برکہ ہے وہ فرماتی ہیں کہ مجھے پیاس لگی تو میں نے پانی سمجھ کر حضور ﷺ کا پیشاب مبارک پی لیا، صبح کو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ حضور وہ میں نے پی لیا، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ تجھے کبھی پیٹ کی بیماری نہ ہوگی۔ (نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض، جلد۱، ص۴۴۸، ۴۴۹) محدثین کرام ملا علی قاری، علامہ شہاب الدین خفاجی نے فرمایا کہ یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اسی لئے دارقطنی محدّث نے امام بخاری اور امام مسلم پر الزام عائد کیا کہ جب یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط کے موافق صحیح تھی تو انہوں نے اس کو اپنی صحیحین میں کیوں درج نہ کیا، اگرچہ یہ الزام صحیح نہیں اس لئے کہ شیخین نے کبھی اس بات کا التزام نہیں کیا کہ جو حدیث ہماری مقرر کی ہوئی شرط پر صحیح ہوگی ہم ضرور اس کو اپنی صحیحین میں لائیں گے، لیکن دارقطنی کے اس الزام سے یہ بات ضرور ثابت ہوگئی کہ یہ حدیث علی شرط الشیخین صحیح ہے۔ (دیکھئے نسیم الریاض، جلد۱، ص۴۴۸ اور شرح شفاء ملا علی قاری، جلد۱، صفحہ ۱۶۳) اس حدیث سے اور اسی مضمون کی دیگر احادیثِ صحیحہ سے جلیل القدر ائمہ دین اور اعلام اُمت محدثین کرام اور فقہاء نے حضور ﷺ کے بول مبارک بلکہ جمیع فضلات شریفہ کی طہارت کا قول کیا جیسا کہ بالتفصیل عبارات نقل کی جائیں گی بلکہ بعض روایات حضرات محدثین وشارحین کرام نے اس مضمون میں وارد فرمائی ہیں کہ حضور ﷺ کا بول وبراز مبارک مشک وعنبرسے زیادہ خوشبودار تھا چنانچہ ملا علی قاری رحمۃ ﷲ تعالی علیہ شرح شفاء میں حسب ذیل روایت نقل فرماتے ہیں : (۱) وروی ان رجلًا قال رایت النبی ﷺ أبعد فی المذھب فلما خرج نظرت فلم أر شیئاً ورایت فی ذلک الموضع ثلاثۃ الاحجار اللا تی استنجی بھن فأخذ تھن فاذا بھن یفوح منھن روائح المسک فکنت اذا جئت یوم الجمعۃ المسجد اخذ تھن فی کمی فتغلب رائحتھن روائح من تطیب وتعطر۔۱ (صحابہ کرام میں سے) ایک مرد سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضور ﷺ ضرورت رفع فرمانے کے لئے بہت دُور تشریف لے گئے جب واپس تشریف لائے تو میں نے اس جگہ نظر کی کچھ نہ پایا البتہ تین ڈھیلے پڑے تھے جن سے حضور ﷺ نے استنجا فرمایاتھا میں نے انہیں اُٹھالیا، ان ڈھیلوں سے مشک کی خوشبوئیں مہک رہی تھیں، جمعہ کے دن جب مسجد میں آتا تو وہ ڈھیلے آستین میں ڈال کر لاتا ان کی خوشبو ایسی مہکتی کہ وہ تمام عطر اور خوشبو لگانے والوں کی خوشبو پرغالب آجاتی۔ (۲) علامہ ابن حجر عسقلانی شارح بخاری، فتح الباری شرح بخاری میں طہارت فضلات شریفہ کا مضمون یوں ارقام فرماتے ہیں: وقد تکاثرت الادلۃ علی طہارۃ فضلاۃ وعد الائمۃ ذلک فی خصائصہ فلا یلتفت الی ماوقع فی کتب کثیر من الشافعیۃ مما یخالف ذلک فقد استقر الامر بین أئمتھم علی القول بالطہارۃ۔ (فتح الباری شرح صحیح بخاری، جلد۱، ص۲۱۸) (باب الماء الذی یغسل بہ شعر الانسان۔ خلیل رانا) بے شک بڑی کثرت سے دلیلیں قائم ہیں حضور ﷺ کے فضلات شریفہ کے طاہر ہونے پر اور ائمہ نے اس کو حضور ﷺ کے خصائص سے شمار کیا ہے لہٰذا اکثر شافعیہ کی کتابوں میں جو اس کے خلاف واقع ہوا ہے قطعاً قابل التفات نہیں اس لئے کہ ان کے ائمہ کے درمیان پختہ اور مضبو ط قول طہارت فضلات ہی کا ہے۔ (۳) اسی طرح علامہ بدرالدین عینی حنفی شارح بخاری عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں حضور ﷺ کے فضلات شریفہ کی طہارۃ کا قول کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں وقد وردت احادیث کثیرۃ ان جماعۃ شربوا دم النبی ﷺ منھم ابو طیبۃ الحجام وغلام من قریش حجم النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام وعبد ﷲ ابن الزبیر شرب دم النبی ﷺ رواہ البزار والطبرانی والحاکم والبیہقی وابونعیم فی الحلیۃ ویروی عن علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ انہ شرب دم النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام وروی ایضًا ان اُم ایمن شربت بول النبی ﷺ رواہ الحاکم والدارقطنی وابو نعیم واخرج الطبرانی فی الاوسط فی روایۃ سلمی امرأۃ ابی رافع انہا شربت بعض ماء غسل بہ رسول ﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام فقال لہا حرم ﷲ بدنک علی النار وقال بعضہم الحق ان حکم النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کحکم جمیع المکلفین فی الاحکام التکلیفیۃ الافیما یخص بدلیل قلت یلزم من ھذا ان یکون الناس مساویًا للنبی علیہ الصلوۃ والسلام ولا یقول ذلک الاجاھل غبییٌ واین مرتبتہٗ من مراتب الناس والایلزم ان یکون دلیل الخصوص بالنقل دائمًا والعقل لہٗ مدخل فی تمیز النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام من غیرہ فی مثل ھذا الاشیاء وانا اعتقد انہ لا یقاس علیہ غیرہ وان قالوا غیر ذلک فاذنی عنہ صما۔ انتہیٰ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد۱، ص۷۷۸) بے شک بہت سی حدیثیں اس بارہ میں وارد ہوئیں کہ صحابہ کی ایک جماعت نے حضور ﷺ کا خون مبارک پیا ان میں حضرت ابو طیبہ حجام ہیں اور ایک قریشی لڑکا ہے جس نے حضور ﷺ کے پچھنے لگائے تھے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر نے بھی حضور ﷺ کا خون اقدس پیا، روایت کیا ہے اسے بزار نے اور طبرانی نے اور حاکم نے اور بیہقی نے اور ابو نعیم نے حلیہ میں اور حضرت علی مرتضیٰ سے بھی مروی ہے انہوں نے بھی حضور ﷺ کا خون اقدس پیا،نیز مروی ہے کہ حضرت اُم ایمن نے حضور ﷺ کا پیشاب مبارک پیا اس حدیث کو حاکم نے دارقطنی نے اور ابو نعیم نے روایت کیا اور طبرانی نے اوسط میں ابو رافع کی عورت سلمیٰ کی روایت میں اخراج کیا کہ سلمیٰ نے حضور ﷺ کا غسل میں استعمال کیا ہوا پانی پیا تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ﷲ تعالی نے اس پانی کی وجہ سے تجھ کو دوزخ پر حرام فرمادیا بعض کا قول ہے کہ حضور ﷺ احکام تکلیفیہ میں دیگر مکلفین کی طرح ہیں سوائے اس چیز کے جو دلیل سے خاص ہو، میں کہتا ہوں کہ اس قول سے تو لازم آتا ہے کہ (معاذ اﷲ) عام لوگ رسول ﷲ ﷺ کے مساوی ہوجائیں اور ایسی بات سوائے جاہل غبی کے اور کوئی نہیں کہہ سکتا، بھلا حضور ﷺ کے مرتبہ کو لوگوں کے مرتبہ سے کیا نسبت اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ دلیل خصوص ہمیشہ نقل ہی سے ہو حقیقت یہ ہے کہ ان چیزوں میں حضور ﷺ کا اپنے غیروں سے ممتاز ہونا ایسی بات ہے جس میں عقل کو بھی دخل ہے اور میرا اعتقاد تو یہی ہے کہ حضور ﷺ پر غیر کا قیاس نہیں کیا جاسکتا، اور اگر کوئی شخص اس کے خلاف کچھ کہتا ہے تو میرے کان اس کے سننے سے بہرے ہیں۔ عامر صاحب ذرا اس نورانی بیان کو پڑھیں اور اپنی بدعقیدگی کا علاج فرمائیں۔ (۴) اسی طرح امام قسطلانی شارح صحیح بخاری مواہب اللدنیہ شریف میں حضور ﷺ کے تمام فضلات شریفہ کی پاکی اور طہارت کا حسب ذیل عبارت میں نورانی بیان فرماتے ہیں: وروی انہ کان یتبرک ببولہ ودمہ ﷺ۔ مروی ہے کہ حضور ﷺ کے پیشاب اور خون مبارک سے برکت حاصل کی جاتی تھی۔ (مواہب اللدنیہ، جلد۱، ص۲۸۴) آگے چل کرفرماتے ہیں : وفی کتاب الجوھر المکنون فی ذکر القبائل والبطون: أنہ لما شرب، ای عبد ﷲ ابن الزبیر، دمہ تضوع فمہ مسکًا، وبقیت رائحتہ موجودۃ فی فمہ الی أن صلب رضی ﷲ عنہ۔ (مواہب اللدنیہ، جلد۱، ص۲۸۴) کتاب جوہر مکنون فی ذکر القبائل والبطون میں ہے کہ عبداﷲ بن زبیر رضی ﷲ تعالی عنہما نے جب حضور ﷺ کا خون مبارک پیا تو ان کے منہ سے مشک کی خوشبو مہکی اور وہ خوشبو ان کے منہ میں انہیں سولی دئیے جانے تک باقی رہی(رضی اﷲ عنہ)۔ آگے چل کر اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں: قال النووی فی شرح المہذب واستدلال من قال بطہارتہما بالحدیثین المعروفین ان ابا طیبۃ الحجام حجمہ ﷺ وشرب دمہ ولم ینکر علیہ، وان امرأۃ شربت بولہ ﷺ فلم ینکر علیھا، وحدیث ابی طیبۃ ضعیف، وحدیث شرب البول صحیح رواہ الدارقطنی وقال ھو حدیث حسن صحیح وذلک کاف فی الاحتجاج لکل الفضلات قیاساً، ثم ان القاضی حسیناً قال الاصح القطع بطہارۃ الجمیع انتہٰی۔ (مواہب اللدنیہ، جلد۱، ص۲۸۵) علامہ نووی نے شرح مہذب میں فرمایا اور استدلال کیا ان لوگوں نے جو حضور ﷺ کے حدیثین معروفین یعنی بول وبراز(پیشاب پاخانہ) کی پاکی اور طہارت کے قائل ہیں اس حدیث سے کہ حضرت ابو طیبہ حجام نے حضور ﷺ کے پچھنے لگائے اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا(پچھنوں سے نکلا ہوا) خون پی گئے، اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان پر انکار نہ فرمایا، نیز ایک عورت نے حضور ﷺ کا پیشاب مبارک پی لیا اور اس پر بھی حضور نے انکار نہ فرمایا، ابو طیبہ والی حدیث ضعیف ہے اور بول مبارک پینے کی حدیث صحیح ہے، اسے دارقطنی نے روایت کیا اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ حدیثیں ایک کا دوسرے پر قیاس کرکے تمام فضلات شریفہ کی طہارۃ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں، اس کے بعد علامہ نووی نے فرمایا کہ قاضی حسین کا قول اس مسئلہ میں یہ ہے کہ حضور ﷺ کے تمام فضلات شریفہ کو قطعاً طاہر مانا جائے۔ اسی طرح نسیم الریاض، جلد ۱، صفحہ ۴۴۸، زرقانی شرح مواہب، جلد۴، ص۲۳۱، مدارج النبوۃ،ص وغیرہ معتبر کتابوں میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے فضلات شریفہ کی طہارۃ منصوص ومرقوم ہے، علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے بھی اس مسئلہ کو شامی میں ارقام فرمایا: وصحح بعض ائمۃ الشافعیۃ طہارۃ بولہ ﷺ وسائر فضلاتہ وبہ قال ابوحنیفۃ کما نقلہ فی المواہب اللدنیۃ عن شرح البخاری للعینی وصرح بہ الببری فی شرح الاشباہ وقال الحافظ ابن الحجر تظافرت الادلۃ علی ذلک وعد الائمۃ ذلک من خصائصہ ﷺ ونقل بعضہم عن شرح مشکوٰۃ لملاعلی القاری انہ قال اختار کثیر من اصحابنا واطال فی تحقیقہ فی شرحہ علی الشمائل فی باب ماجاء فی تعطرہ علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ انتہی اور صحیح قرار دیا بعض ائمہ شافعیہ نے حضور ﷺ کے پیشاب مبارک اور باقی تمام فضلات شریفہ کی طہارت اور پاکیزگی کو اور یہی قول ہے امام ابوحنیفہ رضی ﷲ تعالی عنہ کا جیسا کہ مواہب میں عینی شرح بخاری سے نقل کیا ہے اور اس کی تصریح علامہ ببری نے شرح اشباہ میں فرمائی اور حافظ ابن حجر عسقلانی شارح بخاری نے کہا کہ حضور ﷺ کے بول مبارک اور تمام فضلات شریفہ کی پاکی اور طہارۃ پر قوی دلیلیں قائم ہیں اور ائمہ نے اسے حضور ﷺ کے خصائص کریمہ میں شمار کیا ہے اور بعض علماء نے ملا علی قاری کی شرح مشکوٰۃ سے نقل کیا، انہوں نے فرمایا کہ ہمارے اکثر اصحاب حنفیہ کا اس مسئلہ میں پسندیدہ قول یہی ہے کہ حضور ﷺ کے جمیع فضلات شریفہ طیب وطاہر اور پاک ہیں اور ملا علی قاری نے اپنی شرح علی الشمائل باب ما جاء فی تعطرہ ﷺ میں طہارت فضلات شریفہ کو ثابت کرنے کے لئے پوری تحقیق کے ساتھ طویل کلام فرمایا ہے۔ انتہی طہارتِ فضلات شریفہ کے ثبوت میں جلیل القدر علماء محدثین کی اتنی بے شمار عبارتیں ہیں کہ اگر ان تمام کو جمع کیا جائے تو ایک ضخیم جلد تیار ہوجائے، بخوف طوالت ہم قدرِ ضرورت پر اکتفا کرتے ہیں اور ان تمام دلائل کے بعد اتمام حجت کے لئے عامر صاحب کے صرف دو مقتدائوں کی دو مختصر عبارتیں نقل کرکے اس بحث کو آخری نتیجہ پر ختم کرتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے! آپ کے مولوی محمد انور شاہ صاحب کشمیری نے فیض الباری میں ارقام فرمایا جس کا خلاصہ اُردو زبان میں حسب ذیل ہے: امام بخاری نے باب استعمال فضل وضوء الناس، منعقد کرکے ماء مستعمل کی طہارت کا قول فرمایا، اس قول کے ثبوت میں حضور ﷺ کے ماء مستعمل کی طہارۃ سے استدلال کیا مگر یہ استدلال میرے نزدیک محلِ نظر ہے، اگرچہ فی نفسہٖ مسئلہ درست ہے، استدلال کے صحیح نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ علماء اُمت حضور ﷺ کے فضلات شریفہ کی طہارت کی طرف گئے ہیں، جب حضور ﷺ کے فضلات پاک ہیں تو وضو سے بچا ہوا پانی کیوں پاک نہ ہوگا؟ لہٰذا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ماء مستعمل کے پا ک ہونے سے مطلقاً ہر ایک کے مستعمل پر حجت قائم نہیں ہوسکتی۔ الخ (فیض الباری، جلد اوّل، صفحہ ۲۸۹) دیکھئے! آپ کے مولوی انور شاہ صاحب کشمیری نے طہارت فضلات نبی اکرم ﷺ کو علماء اُمت کا مذہب بتایا۔ اس کے بعد نشرالطیب اُٹھا کر دیکھئے آپ کے مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کیا فرمارہے ہیں، وہ لکھتے ہیں: اور مروی ہے کہ آپ جب بیت الخلاء میں جاتے تھے تو زمین پھٹ جاتی اور آپ کے بول وبراز کو نگل جاتی اور اس جگہ نہایت پاکیزہ خوشبو آتی، حضرت عائشہ نے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسی لئے علماء آپ کے بول و براز کے طاہر ہونے کے قائل ہوئے ہیں، ابوبکر بن سابق مالکی اور ابو نصر نے ان کو نقل کیا ہے اور مالک بن سنان یوم اُحد میں آپ کا خون (زخم کا) چوس کر پی گئے، آپ نے فرمایا اس کو کبھی دوزخ کی آگ نہ لگے گی اور عبداﷲ بن زبیر نے آپ کا خون جو پچھنے لگانے سے نکلا تھا پی لیا تھا، اور آپ کی خادمہ برکہ اُم ایمن نے آپ کا بول پی لیا تھا سو ان کو ایسا معلوم ہوا جیسا شیریں نفیس پانی ہوتا ہے۔ (نشرالطیب، صفحہ ۱۶۲،۱۶۳) ہاں! جناب عامر صاحب! دیکھا آپ نے ؟ آپ کے تھانوی صاحب نے حدیثوں سے ثابت کیا ہے کہ جس جگہ حضور ﷺ نے بول وبراز فرمادیا وہاں نہایت پاکیزہ خوشبو آتی تھی اور آپ کے تھانوی صاحب ہی فرمارہے ہیں کہ اُم ایمن نے جب حضور ﷺ کا بول مبارک پیا تو انہیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے شیریں نفیس پانی ہوتا ہے۔ خدا لگتی کہئے! حضور ﷺ کے فضلات شریفہ کے یہ پاکیزہ اوصاف مادی کثافتیں ہیں یا نورانی لطافتیں ؟ 152 /1. عَنْ سَفِيْنَةَ رضی الله عنه قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم فَقَالَ لِي: خُذْ هٰذَا الدَّمَ فَادْفِنْهُ مِنَ الطَّيْرِ وَالدَّوَابِ وَالنَّاسِ، فَتَغَيَّبْتُ فَشَرِبْتُه، ثُمَّ سَأَلَنِي أَوْ أُخْبِرَ أَنِّي شَرِبْتُه فَضَحِکَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُه ثِقَاتٌ. 1: أخرجه البخاري في التاريخ الکبير، 4 /209، الرقم: 2524، والطبراني المعجم الکبير، 7 /81، الرقم: 6434، والبيهقي في السنن الکبری، 7 /67، الرقم: 13186، وأيضًا في شعب الإيمان، 5 /233، الرقم: 6489، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 /270، وقال: رواه الطبراني والبزار ورجال الطبراني ثقات. ’’حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پچھنے لگوائے پھر مجھے حکم فرمایا، یہ خون لے جاؤ اور اسے کسی ایسی جگہ پر دفن کردو جہاں پرندے، چوپائے اور آدمی نہ پہنچ سکیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب نظروں سے اوجھل ہوا تو میں نے اُسے پی لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا یا آپ کو بتایا گیا کہ میں نے اسے پی لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسکرا پڑے۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری نے التاریخ الکبیر میں اور بیہقی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ اس کے رجال ثقہ ہیں۔ 153 /2. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ زُبَيْرٍ رضی الله عنه، أَنَّه أَتَی النَّبِيَّ صلی الله عليه واله وسلم وَهُوَ يَحْتَجِمُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: يَا عَبْدَ اﷲِ، اِذْْهَبْ بِهٰذَا الدَّمِ فَأَهْرِقْه حَيْثُ لَا يَرَاکَ أَحَدٌ، فَلَمَّا بَرَزْتُ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم عَمَدْتُ إِلَی الدَّمِ فَحَسَوْتُه، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم قَالَ: مَا صَنَعْتَ يَا عَبْدَ اﷲِ؟ قَالَ: جَعَلْتُه فِي مَکَانٍ ظَنَنْتُ أَنَّه خَافَ عَلَی النَّاسِ، قَالَ: فَلَعَلَّکَ شَرِبْتَه؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَمَنْ أَمَرَکَ أَنْ تَشْرَبَ الدَّمَ؟ وَيْلٌ لَکَ مِنَ النَّاسِ وَوَيْلٌ لِلنَّاسِ مِنْکَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ وَالْبَيْهَقِيُّ. 2: أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 /638، الرقم: 6343، والبيهقي في السنن الکبری، 7 /67، الرقم: 13185، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني،1 /414، الرقم: 578، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 /308، الرقم: 267، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 /270، والعسقلاني في الإصابة، 4 /93، وأيضًا في تلخيص الحبير، 1 /30، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 3 /366، والحکيم الترمذي في نوادر الأصول،1 /186. ’’حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آئے اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پچھنے لگوا رہے تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: اے عبد اللہ! اس خون کو لے جاؤ اور اسے کسی ایسی جگہ بہا دو جہاں تمہیں کوئی دیکھ نہ سکے۔ پس جب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی (ظاہری) نگاہوں سے پوشیدہ ہوا تو خون مبارک پینے کا ارادہ کیا اور اُسے پی لیا (اور جب واپس پلٹے) تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے عبد اللہ! تم نے اس خون کا کیا کیا؟ حضرت عبد اللہ نے عرض کیا: (یا رسول اﷲ!) میں نے اسے ایسی خفیہ جگہ پر رکھا ہے کہ جہاں تک میرا خیال ہے وہ (ہمیشہ) لوگوں سے مخفی رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: تم نے شاید اُسے پی لیا ہے؟ اُنہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے خون پینے کو کہا تھا؟ (آج کے بعد) تو لوگوں (کو تکلیف دینے) سے محفوظ ہوگیا اور لوگ تجھ سے (تکلیف پانے سے) محفوظ ہو گئے۔‘‘ اِس حدیث کو امام حاکم، ابن ابی عاصم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ 154 /3. عَنْ حَکِيْمَةَ بِنْتِ أُمَيْمَةَ عَنْ أُمِّهَا رضي اﷲ عنها أَنَّهَا قَالَتْ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم يَبُوْلُ فِي قَدَحِ عِيْدَانٍ، ثُمَّ يُوْضَعُ تَحْتَ سَرِيْرِه، فَبَالَ فِيْهِ ثُمَّ جَاءَ فَأَرَادَه فَإِذَا الْقَدَحُ لَيْسَ فِيْهِ شَيئٌ فَقَالَ لِامْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: بَرَکَةُ کَانَتْ تَخْدِمُ أُمَّ حَبِيْبَةَ رضي اﷲ عنها جَائَتْ بِهَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ: أَيْنَ الْبَوْلُ الَّذِي کَانَ فِي الْقَدَحِ؟ قَالَتْ: شَرِبْتُه فَقَالَ: لَقَدِ احْتَظَرْتِ مِنَ النَّارِ بِحِظَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ. 3: أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 24 /189، الرقم: 477، والبيهقي في السنن الکبری، 7 /67، الرقم: 13184، والمزي في تهذيب الکمال، 35 /156، الرقم: 7819، والعسقلاني في الإصابة، 7 /531، وأيضًا في تلخيص الحبير، 1 /32، وابن عبد البر في الاستيعاب، 4 /1794. ’’حضرت حکیمہ بنت اُمیمہ رضی اﷲ عنہا اپنی والدہ سے بیان کرتی ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم (بیماری کے عالم میں رات کے وقت) لکڑی کے پیالے میں پیشاب کیا کرتے تھے، پھر اُسے اپنی چارپائی کے نیچے رکھ دیتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ عمل فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم دوبارہ تشریف لائے اور اس برتن کو دیکھا (تاکہ گرا دیں) تو اس میں کوئی چیز نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت اُمّ حبیبہ رضی اﷲ عنہا کی خادمہ برکہ سے، جو کہ حبشہ سے ان کے ساتھ آئیں تھیں، اس بارے میں استفسار فرمایا کہ اس برتن کا پیشاب کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا: (یا رسول اﷲ!) میں نے اسے پی لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: تو نے خود کو جہنم کی آگ سے بچا لیا ہے۔‘‘ اِس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔
  2. Imam al-Bayhaqi (rah) has also reported another version of the above narration through a different channel of transmission. وقد أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن محمد بن الحسين بن فنجويه الدينوري بالدامغان ثنا أحمد بن محمد بن إسحاق السني أنبأ عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي ثنا علي بن الجعد أنبأ بن أبي ذئب عن يزيد بن خصيفة عن السائب بن يزيد قال كانوا يقومون على عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه في شهر رمضان بعشرين ركعة قال وكانوا يقرؤون بالمئين وكانوا يتوكؤن على عصيهم في عهد عثمان بن عفان رضي الله عنه من شده القيام Sa'eeb bin Yazeed who said: "In the time of Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him), they would perform “20 rak'ahs” (Tarawih) in the month of Ramadan. He said (also): And they would recite the Mi'in, and they would lean on their sticks in the time of Uthman ibn Affan (Allah be pleased with him), from the discomfort of standing." [Bayhaqi Sunan al-Kubra Volume 002, Page No. 698-9, Hadith Number 4617] Imam al-Nawawi said: 'Its Isnad is Sahih'. (بإسناد صحيح) [Al-Khulasa al-Ahkam, Hadith Number 1961] نجدیوں کی اپنے گھر کی دلیل ٢٠ رکعت تراویح خلفائے راشدین کے زمانے سے چلی آرہی ہیں ... لگاؤ
  3. أَمَا عَلِمْت أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّ فَاطِمَةَ زَوْجَتُك فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. (رد المحتار: ج6 ص243) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے فرمایا تھا: (اے علی!) فاطمہ دنیا میں بھی تمہاری بیوی ہے اور آخرت میں بھی تمہاری بیوی ہے۔ یہ بعینہ ویسی دلیل ہے جیسی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماقبل میں گزری ہے جس میں نکاح کا باقی رہنا ثابت ہو رہا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کا یہ ارشاد فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا اپنی بیوی کو غسل دینا یہ آپ کی خصوصیت ہے، عام رواج اس وقت یہ نہیں تھا۔ مشہور فقیہ و محقق علامہ ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں: فَادِّعَاؤُهُ الْخُصُوصِيَّةَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَذْهَبَ عِنْدَهُمْ عَدَمُ الْجَوَازِ ـ. (رد المحتار: ج6 ص243) ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اپنی خصوصیت کا دعویٰ پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت صحابہ کے ہاں بیوی کو غسل دینا ناجائز شمار ہوتا تھا۔ (اسی لیے تو حضرت ابن مسعود نے اشکال کیا اور حضرت علی نے جواباً اپنی خصوصیت کا ذکر فرمایا) معلوم ہوا کہ اس دور میں خاوند اپنی بیویوں کو غسل نہیں دیتے تھے۔ مشہور عالم علامہ ابن عبد البر (ت463ھ) بھی اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لأن بنات رسول الله اللواتي توفين في حياته زينب ورقية وأم كلثوم ولم يبلغنا أن إحداهن غسلها زوجها. (التمہید: ج1 ص380) ترجمہ: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صاحبزادیاں؛ حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات ہی میں فوت ہوئیں، ان میں سے کسی کے بارے میں ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ ان کو ان کے خاندوں نے غسل دیا ہو۔ ثابت ہوا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی )بشرط ثبوت( خصوصیت تھی، عام رواج ہرگز نہیں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا تھا۔ (معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: ج5 ص232) دوم: یہ کہ اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں نے مل کر غسل دیا تھا۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی: حدیث نمبر 6905) سوم : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے انتقال سے پہلے غسل فرمایا اور نئے کپڑے پہنے اور فرمایا کہ:”میں رُخصت ہو رہی ہوں، میں نے غسل بھی کرلیا ہے، اور کفن بھی پہن لیا ہے، مرنے کے بعد میرے کپڑے نہ ہٹائے جائیں۔“ یہ کہہ کر قبلہ رُو لیٹ گئیں اور رُوح پرواز کرگئی، ان کی وصیت کے مطابق انہیں غسل نہیں دیا گیا۔ (مصنف عبد الرزاق: ج3 ص257 حدیث نمبر6151 وغیرہ) جب روایات اس سلسلے میں متعارض ہیں تو اس واقعے پر کسی شرعی مسئلے کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں ہوگا۔ ثانیاً..... بعض محققین نے یہ تسلیم کرنے کی صورت میں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا ہے، اس روایت کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے غسل دینے سے مراد غسل کے سامان کا انتظام کرنا تھا، اس لیے غسل کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مجازاً ہے، حقیقتاً غسل حضرت ام ایمن ہی نے دیا تھا۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے: فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا غَسَّلَتْهَا أُمُّ أَيْمَنَ حَاضِنَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا فَتُحْمَلُ رِوَايَةُ الْغُسْلِ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى مَعْنَى التَّهْيِئَةِ وَالْقِيَامِ التَّامِّ بِأَسْبَابِهِ۔ (رد المحتار: ج6 ص243) عن عائشة : أن جبريل جاء بصورتها في خرقة حرير خضراء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن هذه زوجتك في الدنيا والآخرة. (جامع الترمذی: حدیث نمبر3880) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہے سفیان ثوری رحمہ اللہ (ت161ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ امام سفیان ثوری فرماتےہیں: ونقول نحن لا يغسل الرجل امرأته لأنها لو شاء تزوج أختها حين ماتت ونقول تغسل المرأة زوجها لأنها في عدة منه. (مصنف عبد الرزاق: ج3 ص256 حدیث نمبر6145) ترجمہ: ہمارا موقف یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو غسل نہیں دے سکتا کیونکہ بیوی کے مرنے کے بعد (نکاح ٹوٹ جاتا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ) یہ جس وقت چاہے اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے اور ہمارا موقف یہ بھی ہے کہ عورت اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ یہ اس کی عدت میں ہے (جو کہ نکاح کے آثار کا نتیجہ ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے نکاح میں آنے کے بعد امہات المؤمنین دنیا و آخرت میں آپ کی زوجات ہیں حتی کہ آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی وہ آپ کی بیویاں رہی ہیں۔ چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ (ت279ھ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت لائے ہیں: عن عائشة : أن جبريل جاء بصورتها في خرقة حرير خضراء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن هذه زوجتك في الدنيا والآخرة. (جامع الترمذی: حدیث نمبر3880) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہے۔ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ علیہ السلام کی وفات کے باوجود آپ کا ان سے نکاح باقی ہے۔ تو جب آپ کا نکاح باقی ہے تو آپ کا غسل کی بات کرنا صحیح و درست ہوا۔
  4. حضرت علی رضی الله عنہ کا معاملہ الگ ہیں ... رسول الله کا فرمان ہیں کہ فاطمہ رضی الله عنہا دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں .
  5. Rozay ki halat mai istenja ky ehteyat par jo mamla bayan kiya hian is par mujhay Hanaf ki book ka scan chaya
  6. Rozay ki halat mai istenja ky ehteyat par jo mamla bayan kiya hian is par mujhay Hanaf ki book ka scan chaya
  7. جزاک الله .. اچھا ایک بات اور ہیں ہمارے کچھ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نصف شعبان مردوں کی عید ہوتی ہیں ؟؟ اور دیوبندی غیر مقلد اس بات پر بہت فائدہ اٹھاتے ہیں
  8. اسکے متعلق حدیث مبارک بھی عنایات فرمائیں
  9. Raising the index finger once Hadith #10 عن ‏ ‏عبد الله بن الزبير ‏ ‏أنه ذكر ‏ أن النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏كان ‏ ‏يشير بأصبعه إذا دعا ولا يحركها ‏ Translation: Narrated by Abdullah Ibn Zubayr that the Prophet (Peace be upon him) used to point with his index finger [at the time of Tashahhud] and he “WOULD NOT MOVE IT” (Sunnan Abu Dawud, Volume No. 1, Page No. 260) It is also narrated from Imam Baihaqi (rah) that the Prophet (Peace be upon him) used to point with his index finger when making supplication, without moving it" (Sunnan Bayhaqi, 2:131–132).
  10. اس حدیث کی سند کی بارے میں معلوم کرنا ہیں
  11. MAI HADIS MUBARAK BHI DEKHNA CHATA HO KY SAHABA KARAM KA IS PAR KIYA AMAL RAHA HIAN AGAR KOE SHAY MEHANGI HOE
  12. kisi mehangi ashya ka boycott karna ky wo sasti hojae ahadis mai kiya riwayat milti hian ???
  13. aap search karay is par buhat se dalil phelay se hi forum par mojod hian