Jump to content
IslamiMehfil

Aabid inayat

Members
  • Content Count

    63
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    4

Aabid inayat last won the day on June 1 2015

Aabid inayat had the most liked content!

Community Reputation

20

About Aabid inayat

  • Rank
    Member
  1. اسلام علیکم! احمد بھائی واہ ماشاء اللہ بہت خوب ہمیشہ کی طرح لاجواب میں آپکا رپلائی یہاں سب سے پہلے "ایکسپیکٹ" کررہا تھا اور آپکا نام بھی اوپر سوالات میں " مینشن " کرنا چاہ رہا تھا مگر قبلہ سعیدی صاحب کے احترام میں بطور حد ادب نہیں لکھا ,آپ نے ماشاء اللہ دوسرے سوال کا تفصیلی جواب مگر فقط عقلی دلائل کی صورت میں خوب دیا کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ اپنے گراں قدر مطالعے کے تقاضے پورے کرتے ہوئے پہلے سوال کا بھی جواب عنائت فرمائیں جبکہ دوسرے سوالات کا بھی نقل کی صورت میں کچھ جواب ارشاد ہو مجھے کوئی جلدی نہیں ہے لہذا آپ کا پیشگی وقت کی تنگی کا بہانہ نہیں چلے گا لہذا آپ بسم اللہ کریں چناچہ تب تک اللہ
  2. اسلام علیکم ! آپکی بات کا بہترین جواب تو احمد بھائی نے دے دیا عرض فقط اتنی ہے کہ اہل سنت کہ اعتقاد مطابق شرح شریف میں جو تعریف شرک نقل ہوئی ہے وہیں سے دو معیار اخذ پاتے ہیں یعنی واجب الوجود ہونا اور مستحق عبادت ہونا لہذا شارح نے انہی دونوں کو شرک فی الوہیت کا معیار قرار دیا ہے جبکہ مجھے اول تو ان دونوں معیارات پر نقل اور عقل سے دلائل کی ضرورت ہے جبکہ ثانیا میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آیا ذات باری تعالٰی کے ساتھ شرک کا تحقق اصلا فقط الوہیت میں ہی منحصر ہے یا پھر ذات و صفات میں الگ سے بھی شرک کاتحقق ہوگا؟؟؟ یا پھر اگر اصلا یہ دونوں ہی معیارات ہیں توپھرکیا جو ذات و صفات میں شرک کی متعدد صور
  3. اسلام علیکم ! اہل سنت کہ اعتقاد کے مطابق مدار الوہیت دو ہیں ایک ہے واجب الوجود ہونا اور دوسرا ہے مستحق عبادت ہونا۔ اس پر میرا پہلا سوال یہ ہے کہ قرآن و سنت میں ان دونوں پر کیا دلائل ہیں اورکیا شرح عقائد سے پہلے بھی کسی نے شرک کی ایسی تعریف بیان کی ہے کہ جسکی روشنی میں ان دونوں اشیاء کو مدار الوہیت قرار دیا جاسکتا ہونیز شرح میں جو تعریف شرک بیان ہوئی ہے اسکے دلائل براہ راست قرآن و سنت سے کیا ہیں؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ "وجوب الوجودیت" اور" استحقاق عبودیت " میں آپسی باہمی کیا مناسبت ہے اور کیا یہ دونوں ایک دوسرے کہ لوازم ہیں ؟ یعنی کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ " وجوب الوجودیت " کا تقاضا "استح
  4. ویسے عرفان شاہ صاحب بھی سمجھ سے باہر ہیں رگڑا لگانے پر ائے تو مفتی حنیف قریشی کی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر ایک معتدل رائے کو بنیاد بنا کر ان پر چڑھ دوڑئیں اور جب صرف نظر پر اتریں تو پیر نصیر الدین نصیر صاحب جیسی شخصیت کی حضرت امیر معاویہ پر کھلی تنقید پر لب سی لیں۔ پتا نہیں یہ ان کا اصولی مؤقف ہے یا پھر پیر نصیر صاحب کے ایک بڑے آستانے سے تعلق ہونے کا رعب ؟؟؟
  5. امت مسلمہ پر خطرہ شرک روایت ابن ماجہ عن ثوبان رضی اللہ عنہ کی روشنی میں السلام علیکم معزز قارئین کرام ! مسلمانوں کو مشرک قرار دینے کے شوق میں مبتلا حضرات سنن ابن ماجہ کی ایک روایت سے بھی سند لاتے ہیں ۔تو آےئیے سب سے پہلے سنن ابن ماجہ کی اس روایت پر مکمل سند و متن سمیت ایک اچنٹی سی نگاہ ڈالتے ہیں ۔۔۔ 3952 حدثنا هشام بن عمار حدثنا محمد بن شعيب بن شابور حدثنا سعيد بن بشير عن قتادة أنه حدثهم عن أبي قلابة الجرمي عبد الله بن زيد عن أبي أسماء الرحبي عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال زويت لي الأرض حتى رأيت مشارقها ومغاربها وأعطيت الكنزين الأصفر
  6. السلام علیکم معزز قارئین کرام ! فتنوں کا دور ہے اور یہ فتنے کوئی نئے نہیں ہیں بلکہ صحابہ کرام کے دور سے ہی شروع ہوگئے تھے امام بخاری علیہ رحمہ نے اپنی صحیح میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ خارجیوں کو کائنات کی بدترین مخلوق گردانتے تھے کیونکہ وہ خارجی کفار کہ حق میں وارد شدہ آیات کو پڑھ پڑھ کر مومنین پر چسپاں کیا کرتے تھے ۔۔ وہ خارجی اپنے زعم میں توحید پرست اوراپنی توحید کو صحابہ کرام کی توحید سے بھی کامل و اکمل اور فائق سمجھنے والے تھے اور یوں وہ توحید کہ اصل اور حقیقی ٹھیکدار بننے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ اور ایک طبقہ آج کہ دور کا ہے ، جسکا بھی بعینیہ وہی دعوٰی ہے ک
  7. مشرکین مکہ کا فہم توحید (اصل میں شرک) تو یہ تھا کہ انھوں نے بطور عقیدہ بھی اور عملا بھی بعض معاملات میں مخلوق کی صفات کو خالق کی صفات سے جاملایا تھا یعنی ایسی صفات جوکہ خاصا الوہیت اورمدار الوہیت کا تقاضا رکھتی تھیں انھے مخلوق میں تسلیم کرلیا تھا یوں انھوں نے مخلوق کو بڑھا کر خالق کے برابر جا ٹھرایا ۔۔۔۔ لیکن آج کل کی ایک مخصوص فکر کا " فہم توحید " (یعنی دوسروں کو مشرک قرار دینے پر جری ہونے جبکہ حقیقت میں خود لزوم شرک کا مرتکب ہونے کا ) فہم یہ ہے کہ انھوں نے جو مخلوق کا خاصا ہے یعنی عطائی صفات جیسے دیکھنا،سننا ،مدد کرنا یا حاجت روائی کرنا وغیرہ باذن اللہ کو بھی معاذاللہ خالق کا خاصا قرار دے کر
  8. اصول دین اور تفھیم بدعت دین میں حقیقی اضافہ کو " بدعت ضلالہ " کہتے ہیں جبکہ ہمارے نزدیک دین اسلام ایک عالمگیر دین ہے اور یہی وجہ ہے کہ دین اسلام ہرمسئلہ کا حل دیتا ہے اور وہ حل ہمیں قرآن و سنت اور اس کے وضع کردہ اصولوں کی بنیاد پر کہیں تفصیلا اور کہیں اجمالا ملتا ہے۔ اس (حل) کے لیے فقط یہی ضروری نہیں کہ مذکورہ مسئلہ زمانہ نبوی میں بعینہ پیش آیا ہو اور اس کا اسی طرح ذکر سنت آثار میں مذکورہو۔ بلکہ ہم یہ دیکھیں گے کونسا نیا مسئلہ در پیش ہے اگراس نئے مسئلہ کی کوئی نظیرہمیں زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ملتی ہے تو اسکا حل وہاں سے اخذ کریں گے اور اگر وہ مسئلہ اپنی ہیئت و کیفیت و ترکیب کے اعتبار
  9. قوم کی اخلاقیات کا درد اور دانشوران الیکٹرونکس میڈیا کا ذاتی کردار آجکل مین اسٹریم میڈیا کو قوم کے اخلاقی زوال و زبوں حالی کا بڑا مروڑ اٹھ رہا ہے اور وہ اس سب کا محرک اول سوشل میڈیا کوقرار دینے پرتلا بیٹھا ہے اسکی اصل وجہ قوم کی زبوں حالی کا بخار نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت میں مین اسٹریم میڈیا کی اپنی اس طاقت کا کم ہوجانا ہے جو کہ کبھی انھے بلاشرکت غیرے ہر معاملہ میں حاصل تھی وگرنہ ہم اور ہماری قوم کا سیاسی کلچر کسے نہیں پتا کہ کیسا تھا اور کیسا ہے۔ کون ہے جو کہ گلی محلوں ، تھڑوں اور حماموں جیسے " سیاسی پلیٹ فارموں" کی اخلاقی قدروں سے آشنا نہیں کون ہے جو کہ ہماری ملکی سیاست میں تھانہ اور کچہری جیسے
  10. کیوں بھائی ہمارا صرف ایک کیوں جیسے مدنی ہمارا اپنا ویسے ہی نور ٹی وی ،کیو ٹی وی، تکبیر ٹی وی اور امہ چینل بھی ہمارا ہے یعنی اہل سنت کا ۔۔والسلام
  11. ماشاء اللہ کیا ہی بات ہے بہت خوب سعیدی صاحب لطف آگیا اللہ کرئے زور قلم اور زیادہ
  12. ویسے میں نے اپنے منھاجی دوستوں سے یہی سوال کیا تھا تو انکا جواب تھا کہ اس قسم کا کوئی خواب ڈاکٹر صاحب نے بیان نہیں کیا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انھوں نے اللہ پاک سے یہ دعا کی ہے کہ انکی عمر 63 برس تک ہی ہو باقی واللہ اعلم
  13. ربیعہ رحمان رکھ لیں
  14. dosri qisat ka link darjzail hi janab yahaan se parh leen http://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-muneeb-ul-rehman/2014-01-14/5710/48612761#.UtbLy9LuLxA
  15. اصل جواب توب کوئی صاحب علم یا ڈاکٹر الطاف سعیدی بھائی ہی دیں گے مگر سردست اتنا عرض ہے کہ ان تمام کتابوں کے مختلف اقتباسات میں باہمی کوئی بھی تعارض نہیں ہے کیونکہ مروجہ طریق پر میلاد منانے کا کوئی حکم براہ راستب قران و سنت میں نہیں ملتا اور نہ ہی اس سے روکا گیا ہے سو اس اعتبار سے میلاد مروجہ اپنی اصل کے اعتبار سے ایک مباح عمل ہی ٹھرے گا لہذا الامن والعلٰی میں کہی گئی بات بالکل درست ہے اسی طرح سے جاء الحق میں میں جو " اصل میلاد " کو سنت الٰہیہ وسنت انبیاء و ملائکہ و صحابہ بتلایا گیا ہے وہ بات بھی اپنی جگہ بالکل درست ہے کیونکہ اصل میلاد " تعظیم مصطفٰی اور ذکر مصطفٰی " صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور
×
×
  • Create New...