Aabid inayat

Members
  • Content count

    63
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    4

Aabid inayat last won the day on June 1 2015

Aabid inayat had the most liked content!

Community Reputation

20 Excellent

About Aabid inayat

  • Rank
    Member
  1. اسلام علیکم! احمد بھائی واہ ماشاء اللہ بہت خوب ہمیشہ کی طرح لاجواب میں آپکا رپلائی یہاں سب سے پہلے "ایکسپیکٹ" کررہا تھا اور آپکا نام بھی اوپر سوالات میں " مینشن " کرنا چاہ رہا تھا مگر قبلہ سعیدی صاحب کے احترام میں بطور حد ادب نہیں لکھا ,آپ نے ماشاء اللہ دوسرے سوال کا تفصیلی جواب مگر فقط عقلی دلائل کی صورت میں خوب دیا کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ اپنے گراں قدر مطالعے کے تقاضے پورے کرتے ہوئے پہلے سوال کا بھی جواب عنائت فرمائیں جبکہ دوسرے سوالات کا بھی نقل کی صورت میں کچھ جواب ارشاد ہو مجھے کوئی جلدی نہیں ہے لہذا آپ کا پیشگی وقت کی تنگی کا بہانہ نہیں چلے گا لہذا آپ بسم اللہ کریں چناچہ تب تک اللہ پاک سعیدی بھائی کو بھی صحت کاملہ اٰجلہ عطا فرمائے آمین کیونکہ میں چاہ رہا ہوں کہ اس دھاگے میں شر ک پر بھرپور گفتگو ذرا علمی شکل میں ہوجائے چاہے اس میں کتنا ہی زمانہ کیوں نہ لگ جائے مگر ایک تفصیلی دستاویز تیار ہوجائے ۔میرے خیال میں اسلامی محفل اس علمی گفتگو کے لیے ایک مناسب فورم ہے اور میں رہا ہوں کہ یہاں پر گفتگو ہم ایک عام مناظرانہ روش سے بالکل ہٹکر فقط عالمانہ شکل میں کریں کہ جس میں تمامی احباب اپنے اشکالات اور جوابات کھل کر مگر علمی طریق سے بیان کریں تاکہ مسئلہ شرک کا تحقق کھل کراور کافی ہوجائے ۔کہیے کیا خیال ہے آپکا ؟؟؟والسلام
  2. اسلام علیکم ! آپکی بات کا بہترین جواب تو احمد بھائی نے دے دیا عرض فقط اتنی ہے کہ اہل سنت کہ اعتقاد مطابق شرح شریف میں جو تعریف شرک نقل ہوئی ہے وہیں سے دو معیار اخذ پاتے ہیں یعنی واجب الوجود ہونا اور مستحق عبادت ہونا لہذا شارح نے انہی دونوں کو شرک فی الوہیت کا معیار قرار دیا ہے جبکہ مجھے اول تو ان دونوں معیارات پر نقل اور عقل سے دلائل کی ضرورت ہے جبکہ ثانیا میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آیا ذات باری تعالٰی کے ساتھ شرک کا تحقق اصلا فقط الوہیت میں ہی منحصر ہے یا پھر ذات و صفات میں الگ سے بھی شرک کاتحقق ہوگا؟؟؟ یا پھر اگر اصلا یہ دونوں ہی معیارات ہیں توپھرکیا جو ذات و صفات میں شرک کی متعدد صورتیں وہ سب انہی دونو ں کی" سب کلاسیفیکیشنز " یعنی ذیلی اقسام ہیں وغیرہ ۔والسلام سوال میرا یہاں یہ نہیں تھا کہ کون واجب الوجود ہے اور کون مستحق عبادت اور کس پر ہمارا ایمان کیا ہے؟ وغیرہ بلکہ سوال اصل میں یہاں یہ تھا کہ واجب الوجود ہونے اور مستحق عبادت ہونے میں آپسی باہمی مناسبت کیا ہے اسکے اگر عقل اور نقل سے دلائل میسر آجائیں تو کیا ہی بات ہو جسکا بڑی حد تک جواب احمد بھائی نے عقل کی صورت میں ۔والسلام دے دیا اب نقلی دلائل کے لیے میں سعیدی بھائی کا شدت سے منتظر ہوں
  3. اسلام علیکم ! اہل سنت کہ اعتقاد کے مطابق مدار الوہیت دو ہیں ایک ہے واجب الوجود ہونا اور دوسرا ہے مستحق عبادت ہونا۔ اس پر میرا پہلا سوال یہ ہے کہ قرآن و سنت میں ان دونوں پر کیا دلائل ہیں اورکیا شرح عقائد سے پہلے بھی کسی نے شرک کی ایسی تعریف بیان کی ہے کہ جسکی روشنی میں ان دونوں اشیاء کو مدار الوہیت قرار دیا جاسکتا ہونیز شرح میں جو تعریف شرک بیان ہوئی ہے اسکے دلائل براہ راست قرآن و سنت سے کیا ہیں؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ "وجوب الوجودیت" اور" استحقاق عبودیت " میں آپسی باہمی کیا مناسبت ہے اور کیا یہ دونوں ایک دوسرے کہ لوازم ہیں ؟ یعنی کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ " وجوب الوجودیت " کا تقاضا "استحقاق عبودیت" ہے یعنی جو واجب الوجود ہوگا وہی مستحق عبادت ہوگا اور یہ کہ "استحقاق عبودیت" کے لیے" وجوب الوجودیت " کا ہونا لازم ہے وغیرہ نیز اگر ان دونوں یعنی واجب الوجود ہونے اور مستحق عبادت ہونے میں کوئی باہمی مناسبت بصورت لزومیت ہے تو اسکے دلائل قرآن وسنت سے کیا ہیں ؟؟؟ امید ہے بالعموم تمامی اہل علم حضرات اور بالخصوص قبلہ سعیدی بھائی ضرور میری اس مشکل کو آسان فرمائیں گے۔ والسلام
  4. ویسے عرفان شاہ صاحب بھی سمجھ سے باہر ہیں رگڑا لگانے پر ائے تو مفتی حنیف قریشی کی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر ایک معتدل رائے کو بنیاد بنا کر ان پر چڑھ دوڑئیں اور جب صرف نظر پر اتریں تو پیر نصیر الدین نصیر صاحب جیسی شخصیت کی حضرت امیر معاویہ پر کھلی تنقید پر لب سی لیں۔ پتا نہیں یہ ان کا اصولی مؤقف ہے یا پھر پیر نصیر صاحب کے ایک بڑے آستانے سے تعلق ہونے کا رعب ؟؟؟
  5. امت مسلمہ پر خطرہ شرک روایت ابن ماجہ عن ثوبان رضی اللہ عنہ کی روشنی میں السلام علیکم معزز قارئین کرام ! مسلمانوں کو مشرک قرار دینے کے شوق میں مبتلا حضرات سنن ابن ماجہ کی ایک روایت سے بھی سند لاتے ہیں ۔تو آےئیے سب سے پہلے سنن ابن ماجہ کی اس روایت پر مکمل سند و متن سمیت ایک اچنٹی سی نگاہ ڈالتے ہیں ۔۔۔ 3952 حدثنا هشام بن عمار حدثنا محمد بن شعيب بن شابور حدثنا سعيد بن بشير عن قتادة أنه حدثهم عن أبي قلابة الجرمي عبد الله بن زيد عن أبي أسماء الرحبي عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال زويت لي الأرض حتى رأيت مشارقها ومغاربها وأعطيت الكنزين الأصفر أو الأحمر والأبيض يعني الذهب والفضة وقيل لي إن ملكك إلى حيث زوي لك وإني سألت الله عز وجل ثلاثا أن لا يسلط على أمتي جوعا فيهلكهم به عامة وأن لا يلبسهم شيعا ويذيق بعضهم بأس بعض وإنه قيل لي إذا قضيت قضاء فلا مرد له وإني لن أسلط على أمتك جوعا فيهلكهم فيه ولن أجمع عليهم من بين أقطارها حتى يفني بعضهم بعضا ويقتل بعضهم بعضا وإذا وضع السيف في أمتي فلن يرفع عنهم إلى يوم القيامة وإن مما أتخوف على أمتي أئمة مضلين وستعبد قبائل من أمتي الأوثان وستلحق قبائل من أمتي بالمشركين وإن بين يدي الساعة دجالين كذابين قريبا من ثلاثين كلهم يزعم أنه نبي ولن تزال طائفة من أمتي على الحق منصورين لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي أمر الله عز وجل قال أبو الحسن لما فرغ أبو عبد الله من هذا الحديث قال ما أهوله ۔۔ مفھوم:ہشام بن عمار، محمد بن شعیب بن شابو ر، سعید بن بشیر، قتادہ، ابو قلابہ، عبد اللہ بن زید، ابو اسماء، رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا زمین میرے لئے سمیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے زمین کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا اور مجھے دونوں خزانے (یا سرخ) اور سفید یعنی سونا اور چاندی دیئے گئے اور مجھے کہا گیا کہ تمہاری (امت کی) سلطنت وہی تک ہو گی جہاں تک تمہارے لئے زمین سمیٹی گئی اور میں نے اللہ سے تین دعائیں مانگیں اول یہ کہ میری امت پر قحط نہ آئے کہ جس سے اکثر امت ہلاک ہو جائے دوم یہ کہ میری امت فرقوں اور گروہوں میں نہ بٹے اور (سوم یہ کہ) ان کی طاقت ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہو (یعنی باہم کشت و قتال نہ کریں ) مجھے ارشاد ہوا کہ جب میں (اللہ تعالی) کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو کوئی اسے رد نہیں کر سکتا میں تمہاری امت پر ایسا قحط ہرگز مسلط نہ کروں گا جس میں سب یا (اکثر) ہلاکت کا شکار ہو جائیں اور میں تمہاری امت پر اطراف و اکناف ارض سے تمام دشمن اکٹھے نہ ہونے دوں گا یہاں تک کہ یہ آپس میں نہ لڑیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں اور جب میری امت میں تلوار چلے گی تو قیامت تک رکے گی نہیں اور مجھے اپنی امت کے متعلق سب سے زیادہ خوف گمراہ کرنے والے حکمرانوں سے ہے اور عنقریب میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی پرستش کرنے لگیں گے اور (بت پرستی میں ) مشرکوں سے جا ملیں گے اور قیامت کے قریب تقریباً جھوٹے اور دجال ہوں گے ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میری امت میں ایک طبقہ مسلسل حق پر قائم رہے گا ان کی مد د ہوتی رہے گی (منجانب اللہ) کہ ان کے مخالف ان کا نقصان نہ کر سکیں گے (کہ بالکل ہی ختم کر دیں عارضی شکست اس کے منافی نہیں ) یہاں تک کہ قیامت آ جائے امام ابو الحسن (تلمیذ ابن ماجہ فرماتے ہیں کہ جب امام ابن ماجہ اس حدیث کو بیان کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا یہ حدیث کتنی ہولناک ہے۔۔۔ سنن ابن ماجہ کی یہ طویل روایت ہے روایت کہ متن پر درایتا کلام کرنے سے پہلے ہم اسکی سند کا حال بیان کردیتے ہیں۔۔۔ اس روایت میں ایک راوی سعید بن بشیر ہیں آئیے درج ذیل مین دیکھتے ہین کہ فن جرح تعدیل کے علماء انکے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ۔۔ یہ طبقہ راوۃ میں سے آٹھویں طبقہ کہ راوی ہیں کی جنکی عمومی تعریف ضعیف کہہ کرائی جاتی ہے۔۔۔ جبکہ امام بو أحمد الحاكم کے نزدیک یہليس بالقوي ہیں۔ امام جرجانی انکا تعارف۔۔۔يهم في الشيء بعد الشيء ويغلط والغالب على حديثه الاستقامة والغالب عليه الصدق کہہ کر کرواتے ہیں أبو بكر البيهقي کے نزدیک یہ ضعیف ہیں۔ امام ابو حاتم الرازی کے نزدیک ان سے حدیث لکھنا تو جائز مگر احتجاج کرنا درست نہیں چناچہ وہ فرماتے ہیں۔۔محله الصدق، يكتب حديثه ولا يحتج به۔ أبو حاتم بن حبان البستي فرماتے ہین ۔۔۔رديء الحفظ فاحش الخطأ يروي عن قتادة مالا يتابع عليه وعن عمرو بن دينار ما ليس يعرف من حديثه امام ابو داؤد السجستانی کے نزدیک بھی ضعیف ہیں۔۔ جبکہ امام أبو زرعة الرازي کی رائے بھی امام ابو حاتم والی ہے یعنی انکی رایات سے احتجاج نہیں کیا جائے گا ۔۔ أحمد بن حنبل کی رائے : ضعف أمره، ومرة: أنتم أعلم به جبکہ أحمد بن شعيب النسائي کے نزدیک بھی ضعيف ابن حجر العسقلاني کے نزدیک بھی ضعيف اور الدارقطني کے نزدیک ليس بالقوي في الحديث ہیں جبکہ دیگر الفاظ جرح و تعدیل دیگر ائمہ سے ذیل مین ہیں ۔۔ دحيم الدمشقيي ضعفونه، ومرة: وثقه وقال: كان مشيختنا يقولون: هو ثقة، لم يكن قدريا زكريا بن يحيى الساج يحدث عن قتادة بمناكير سعيد بن عبد العزيز التنوخي : خذ عنه التفسير ودع ما سوى ذلك فإنه كان حاطب ليل، ومرة: تكلم فيه الناس، ومرة: صدق بث هذا يرحمك الله في جندنا فإن الناس عندنا كأنهم ينتقصونه سفيان بن عيينة :حافظ شعبة بن الحجاج: صدوق الحديث، ومرة: صدوق اللسان، ومرة: ثقة عبد الأعلى بن مسهر الغساني : ضعيف منكر الحديث عبد الرحمن بن مهدي :حدث عنه ثم تركه علي بن المديني: كان ضعيفا عمرو بن علي الفلاس : كان يحدث عنه ثم تركه محمد بن إسماعيل البخاري يتكلمون في حفظه، وهو يحتمل، نراه الدمشقي محمد بن سعد كاتب الواقدي :قدري محمد بن عبد الله بن نمير : منكر الحديث ليس بشيء ليس بقوي الحديث محمد بن عثمان التنوخي : قيل له كان سعيد بن بشير قدريا قال معاذ الله جبکہ امام جرح و تعدیل امام يحيى بن معين فرماتے ہیں :من رواية عباس قال: ليس بشيء، ومن رواية عثمان بن سعيد قال: ضعيف، وفي رواية ابن محرز، قال: عنده أحاديث غرائب، عن قتادة، وليس حديثه بكل ذاك قيل له: سمع من قتادة بالبصرة ؟ قال: فأين یہ تو تھی سند کی حیثیت جس میں ائمہ کبھی "ضعیف "کبھی "کثیر الخطا "کبھی "وہمی" یعنی ایک روایت کے الفاظ دوسری میں ملادینے والا کبھی" لیس بالقوی" کبھی" حاطب لیل " یعنی اندھیرے میں لکڑیاں اکھٹی کرنے والا کبھی" لیس بشئی"اور کبھی اسکی روایت سے احتجاج نہ کرنے کا حکم دیتے ہیں حتٰی کے" منکر حدیث" جیسے الفاظ جرح سے بھی ان پر جرح ثابت ہے۔ توثابت ہوا کہ ایک ایسی روایت سے ہمارے موصوف ایک ایسے اصولی مسئلہ کا استنباط فرمارہے کہ جس مسئلہ یعنی (کفر و شرک کے اطلاق) میں استدلال کے لیے دلائل قطعیہ درکار ہوں انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ یعنی ائمہ جرح و تعدیل تو عام مسائل فقیہہ میں بھی ان سے استدلال کو" يكتب حديثه ولا يحتج به" کہہ کر ناجائز ٹھراتے ہوں جبکہ ہمارے موصوف ان سے ایک اصولی مسئلہ میں استدلال فرمارہے ہیں فیال للعجب ۔ معزز قارئین کرام اس روایت کی سند پر مختصر بحث کے بعد اب آئیے اسکے متن کا خود روایت کے سیاق و سباق کی روشنی میں انتہائی مختصر جائزہ لیتے ہیں ۔۔ یہ ایک طویل روایت ہے کہ جسے امام ابن ماجہ نے اپنی " سنن ابن ماجه» كتاب الفتن» باب ما يكون من الفتن" میں روایت کیا ہے ۔ جبکہ روایت شروع ہورہی ہے ان الفاظ کے ساتھ یعنی ۔۔۔۔۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا زمین میرے لئے سمیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے زمین کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا اور مجھے دونوں خزانے (یا سرخ) اور سفید یعنی سونا اور چاندی دیئے گئے (روم کا سکہ سونے کا اور ایران کا چاندی کا ہوتا تھا) اور مجھے کہا گیا کہ تمہاری (امت کی) سلطنت وہی تک ہو گی جہاں تک تمہارے لئے زمین سمیٹی گئی اور میں نے اللہ سے تین دعائیں مانگیں اول یہ کہ میری امت پر قحط نہ آئے کہ جس سے اکثر امت ہلاک ہو جائے دوم یہ کہ میری امت فرقوں اور گروہوں میں نہ بٹے اور (سوم یہ کہ) ان کی طاقت ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہو۔۔۔۔۔۔ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو انکی امت اور انکی حکومت دکھائی گئی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خدشات تھے انھے دعا کی صورت میں اللہ جد مجدہ کے حضور پیش فرمادیا جن میں سے پہلا خدشہ قحط سے امت کی مجموعی ہلاکت پر تھا دوسرا امت کا تفرقے میں نہ پڑنے کا تھا جبکہ تیسرا امت کے آپسی باہمی قتال پر تھا ۔۔ اب سوال یہ پیدا ہوا ہوتا کہ جس شرک کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے مٹانے کے لئے آئے تھے اور جس کا خطرہ" ہمارے ممدوح" کو امت پر سب سے زیادہ ہے چاہیے تو تھا کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قرآن پاک کے مقرر کردہ اس سب سے بڑئے گناہ اور ناقابل معافی جرم یعنی شرک سے برات کی امت کے لیے دعا فرماتے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس حوالہ سے امت سے مطمئن ہیں چناچہ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے بڑئے گناہ (شرک)جس کا تعلق دنیا اور آخرت ہر دو سے ہےاور جو ظلم عظیم بھی ہے، میں امت کے ملوث ہونے کے خطرہ کی بجائے جن تین ممکنہ خطرات سے بچاؤ کی دعا فرمائی ان کا تعلق دنیا میں رہتے ہوئے امت کی ظاہری شان و شوکت و اتحادو اتفاق سے تھا۔ یعنی اول امت کی ہلاکت بذریعہ قحط دوم امت کی شیرازہ بندی کا فرقہ بندی سے نقصان اور سوم ان سب کے نتیجہ میں امت کے باہمی جدا ل و قتال کی صورت میں امت کا کمزور سے کمزور ترین ہوجانے کا خطرہ تھا ۔ حیرت ہے صحیحین کی روایت کے مفھوم کے مطابق تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے شہدا پر دعا فرمانے کے بعد علی الاعلان یہ فرمائیں کہ انھے امت کے شرک ملوث ہوجانے کا کوئی خطرہ نہیں بلکہ حب دنیا میں گرفتار ہونے کا خطرہ ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا پیدا ہوگیا ہے کہ جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ امت کی بابت معاذاللہ علم ہے اور نام نہاد خدشہ شرک ہمہ وقت لاحق رہتاہے ۔ معزز قارئین کرام اسی روایت کو دیگر ائمہ نے بھی مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جن میں سے چند روایات میں امت کے مشرکین قبائل سے مل جانے اور اوثان کی عبادت کرنےکے شرک والا مفھوم بیان ہی نہیں ہوا جیسے سنن ترمذی کی یہ روایت ۔۔حدثنا قتيبة حدثنا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن ثوبان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله زوى لي الأرض فرأيت مشارقها ومغاربها وإن أمتي سيبلغ ملكها ما زوي لي منها وأعطيت الكنزين الأحمر والأبيض وإني سألت ربي لأمتي أن لا يهلكها بسنة عامة وأن لا يسلط عليهم عدوا من سوى أنفسهم فيستبيح بيضتهم وإن ربي قال يا محمد إني إذا قضيت قضاء فإنه لا يرد وإني أعطيتك لأمتك أن لا أهلكهم بسنة عامة وأن لا أسلط عليهم عدوا من سوى أنفسهم فيستبيح بيضتهم ولو اجتمع عليهم من بأقطارها أو قال من بين أقطارها حتى يكون بعضهم يهلك بعضا ويسبي بعضهم بعضا ۔۔۔۔۔۔ جبکہ ابوداؤد کی اس سے ملتی جلتی ایک روایت میں قبائل کی بت پرستی کا ذکر ہوا ہے مگر اسکی شرح عون المعبود میں احمد شمس الحق العظيم آبادي نے اس روایت کے ان الفاظ یعنی ۔۔۔ ۔۔۔۔ولا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من أمتي بالمشركين وحتى تعبد قبائل من أمتي الأوثان ۔ ۔۔ ۔ ۔ کی شرح درج ذیل الفاظ کے تحت فرمائی ہے ۔۔ ( بالمشركين ) :منها ما وقع بعد وفاته صلى الله عليه وسلم في خلافة الصديق رضي الله عنه ( الأوثان ) : أي الأصنام حقيقة یعنی قبائل کا مرتد ہوکر مشرکین سے مل جانے کا یہ وقوعہ خلافت صدیق میں انجام پا چکا ۔۔ معززقارئین کرام یہ تو تھی اس روایت پر مختصر ترین بحث کہ جس سے یہ ثابت ہوا کہ اولا روایت ضعیف ہے دوم عقیدہ جیسے قطعی الدلالۃ اور قطعی الثبوت دلائل کے متقاضی موضوع پر اس قسم کی ضعیف خبر واحد سے استدلال ہرگز درست نہیں جبکہ برسبیل تنزل اگر روایت کو صحیح مان بھی لیا جائے تو تب بھی یہ خبر واحد ہےچناچہ توحید و شرک کی بحث میں اس سے ضمنی استدلال تو درست ہوسکتا ہے مگر حتمی نہیں۔ یعنی اسے اپنے موقف کے حق میں ضمنی طور پر" سپورٹیو" دلائل کی صورت میں پیش کیا جاسکتا ہے وہ بھی درایتا صحت متن کی روشنی میں ۔ جبکہ متن سے استدلال کا حال تو ہم اوپر قرآن وسنت اور عقلی دلائل کی روشنی میں خوب واضح کرچکے ۔۔۔فاعتبروایااولی الابصار ۔ ۔والسلام
  6. السلام علیکم معزز قارئین کرام ! فتنوں کا دور ہے اور یہ فتنے کوئی نئے نہیں ہیں بلکہ صحابہ کرام کے دور سے ہی شروع ہوگئے تھے امام بخاری علیہ رحمہ نے اپنی صحیح میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ خارجیوں کو کائنات کی بدترین مخلوق گردانتے تھے کیونکہ وہ خارجی کفار کہ حق میں وارد شدہ آیات کو پڑھ پڑھ کر مومنین پر چسپاں کیا کرتے تھے ۔۔ وہ خارجی اپنے زعم میں توحید پرست اوراپنی توحید کو صحابہ کرام کی توحید سے بھی کامل و اکمل اور فائق سمجھنے والے تھے اور یوں وہ توحید کہ اصل اور حقیقی ٹھیکدار بننے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ اور ایک طبقہ آج کہ دور کا ہے ، جسکا بھی بعینیہ وہی دعوٰی ہے کہ سوائے انکے کوئی موحد و مومن ہی نہیں ۔لہذا اس طبقہ کو اورکوئی کام ہی نہیں سوائے اس کے یہ بھی قرآن اور حدیث کو فقط اس لیے کھنگالتے ہیں کہ کہیں سے انکو امت مسلمہ کہ جمہور پر کفر و شرک کا حکم لگانے کی کوئی سبیل میسر آجائے ، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ معزز قارئین کرام کیا آپ نے کبھی ہلکا سا بھی تدبر فرمایا ہے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا قول پر ؟؟؟ اگر فرمایا ہے تو آپ پر صاف ظاہر ہوجائے گا کہ اُس وقت کہ نام نہاد توحید پرست خارجی کس قدر دیدہ دلیر تھے کہ وہ اپنی توحید میں خود کو صحابہ کرام سے بھی بڑھ کرسمجھتے تھے تبھی تو وہ اسلام کے خیر القرون کے دور کے صحابہ اور تابعین مسلمانوں پر شرک کہ فتوے لگاتے تھے قارئین کرام کیا آپ " امیجن " کرسکتے ہیں کہ اسلام کہ ابتدائی دور میں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیار کردہ بہترین جماعت یعنی صحابہ کرام موجود ہوں اور پھر انھی کے شاگرد یعنی تابعین کرام کا طبقہ بھی موجود ہو جو کہ براہ راست صحابہ کرام سے فیض حاصل کررہا ہو اور چند نام نہاد توحید پرستوں کا ٹولہ اٹھے اور توحید کے پرچار کے زعم میں اس پاکیزہ جماعت پرکفر و شرک کے بے جا فتوے لگانا شروع کردے آپ ان کی دیدہ دلیری دیکھیئے ہٹ دھرمی اور جرات کو دیکھیئے اور سر دھنیے انکی توحید پرستی پر۔ اب اتے ہیں اصل مدعا پر دیکھا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر اسی طبقہ کی اکثریت سورہ یوسف کی آیت نمبرایک سو چھ کو تختہ مشق بنائے ہوئے ہے اور یوں زمانہ خیر القرون کے خارجیوں کی طرح یہ آیت جگہ جگہ نقل کرکے آج کہ دور کے مومنین پر چسپاں کرتے ہوئے انھے کافر و مشرک قرار دینے میں دھڑا دھڑ مصروف عمل ہے لہذا یہ لوگ اس کام کو کچھ اس دلجمعی اور سرعت سے انجام دے رہے ہیں کہ جیسے یہ کوئی بہت بڑا کار ثواب ہو ۔ تو آئیے معزز قارئین کرام اس آیت سے انکے باطل استدلال کی قلعی کھولیں اور جو مغالطہ دیا جاتا ہے اس کا پردہ چاک کریں لیکن اس سے بھی پہلے ایک بدیہی قاعدہ جان لیں کہ عربی کا مشھور مقولہ ہے کہ ۔۔۔۔ "الاشیاء تعرف باضدادھا " یعنی چیزیں اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں اور ایک قاعدہ یہ بھی ہے اجتماع ضدین محال ہے یعنی دو ایسی اشیاء جو کہ ایک دوسرے کی ضد ہوں انکا بیک وقت کلی طورپر کسی ایک جگہ پایا جانا ناممکن ہے یعنی ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی بھی شخص ایک ہی وقت میں حقیقی مومن و مسلم بھی ہو اور مشرک و کافر بھی ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اسلام اور کفر ضد ہیں اور توحید اور شرک آپس میں ضد ہیں اور ایک شخص مسلم تب بنتا ہے جبکہ وہ توحید پر ایمان لے آئے یعنی اللہ کی واحدانیت پر۔ لہذا جب کوئی اللہ کی واحدانیت پر ایمان لے آئے تو تبھی وہ حقیقی مومن ہوگا اور وہ ایک حالت یعنی حالت توحید میں ہوگا اب اسے بیک وقت مومن بھی کہنا اور مشرک بھی کہنا چہ معنی دارد؟؟؟ یا تو وہ مسلم ہوگا یا پھر مشرک دونوں میں کسی ایک حالت پر اسکا ایمان ہوگا اور ایمان معاملہ ہے اصلا دل سے ماننے کا اور یقین رکھنے کا اور پھر اسکے بعد اس کا بڑا رکن ہے زبان سے اقرار ۔ خیر یہ تو تمہید تھی بات کو سمجھانے کی، اب آتے ہیں سورہ یوسف کی مذکورہ بالا آیت کی طرف ۔۔۔ معزز قارئین کرام اگر اپ سورہ یوسف کی اس آیت کو نمحض نظم قرآن ہی کی روشنی میں دیکھ لیں تومعاملہ آپ پر بالکل واضح ہوجائے گا کہ اس آیت کا حقیقی مصداق اس دور کے مشرکین و منافقین ہیں لیکن خیر اگر آپ نظم قرآن سے استدلال نہیں بھی کرنا چاہتے تو پھر بھلے چاہےکوئی سی بھی تفسیر اٹھا کر دیکھ لیں تقریبا تمام مفسرین نے یہ تصریح کی ہے یہ آیت مشرکین کی بابت نازل ہوئی لہذا ہم بجائے تمام مفسرین کو نقل کرنے کہ فقط اسی ٹولہ کہ ممدوح مفسر یعنی امام حافظ ابن کثیر علیہ رحمہ کی تفسیر نقل کرتے ہیں جو کہ شیخ ابن تیمیہ کے شاگرد رشید ہیں۔ لہذا وہ اسی آیت کہ زیر تحت رقم طراز ہیں : وقوله: { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِٱللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ } قال ابن عباس: من إِيمانهم أنهم إِذا قيل لهم: من خلق السموات، ومن خلق الأرض، ومن خلق الجبال؟ قالوا: الله، وهم مشركون به. وكذا قال مجاهد وعطاء وعكرمة والشعبي وقتادة والضحاك وعبد الرحمن بن زيد بن أسلم، وفي الصحيحين: أن المشركين كانوا يقولون في تلبيتهم: لبيك لا شريك لك، إلا شريكاً هو لك، تملكه وما ملك. وفي صحيح مسلم: أنهم كانوا إِذا قالوا: لبيك لا شريك لك، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قد قد " أي: حسب حسب، لا تزيدوا على هذا. مفھوم : آپ دیکھیئے معزز قارئین کرام کہ امام ابن کثیر نے پہلے اس آیت کی تفسیر میں قول ابن عباس رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے کہ انکا یعنی مشرکین کا ایمان یہ تھا کہ جب ان سے پوچھا جاتا کہ زمین و آسمان اور پہاڑ کس نے پیدا کیئے ہیں تو وہ کہتے کہ اللہ نے مگر اس کے باوجود وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھراتے۔اور اسی طرح کا قول مجاہد ،عطا،عکرمہ ،شعبی،قتادہ ،ضحاک اور عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم سے بھی ہے ۔ جبکہ صحیحین میں روایت ہے کہ : مشرکین مکہ حج کہ تلبیہ میں یہ پڑھتے تھے کہ میں حاضر ہوں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ جسے تونے خود شریک بنایا اور تو اسکا بھی مالک ہے اور صحیح مسلم میں مزید یہ ہے کہ جب مشرک ایسا کہتے تو یعنی کہ لبیک لا شریک لک تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کہتے کہ بس بس ،بس اسی قدر کافی ہے اس کہ آگے مت کہو ۔۔۔ معزز قارئین کرام آپ نے دیکھا کہ اس آیت کا اصل " بیک گراؤنڈ " کیا تھا اور یہ کیونکر اور کن کے بارے میں نازل ہوئی ؟ تمام مفسرین نے بالاتفاق اس آیت کہ شان نزول میں مشرکین کہ تلبیہ والا واقعہ نقل کرکے اس آیت کی تفسیر کی ہے ۔ تو ثابت ہوا کہ اس آیت سے مراد مشرکین مکہ کی اکثریت سمیت منافقین مدینہ کی اقلیت بھی تھی کہ جو کہ اس آیت کا حقیقی مصداق بنے، کہ وہی لوگ اس وقت اکثریت میں تھے نہ کہ مسلمان جیسا کہ خود آیت میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کی اکثریت اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے بھی مشرک ہے تو اس وقت جن لوگوں کی اکثریت تھی وہ مشرکین مکہ اور منافقین تھے نہ کہ اس وقت کہ حقیقی مسلمان جو کہ صحابہ کرام تھے معاذاللہ اگر آج کہ دور کہ نام نہاد توحید پرستوں کہ کلیہ کہ مطابق اس آیت کا اطلاق کیا جائے تو یہ تہمت اور بہتان سیدھا جاکر صحابہ کرام پر وارد ہوتا ہے کہ آخر اس وقت کون لوگ تھے جو ایمان والے تھے ؟؟؟ ظاہر ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت صحابہ کرام ہی ایمان والے تھے مگر کیا اس آیت کی رو سے صحابہ کرام کی اکثریت مشرکوں کی تھی نعوذباللہ من ذالک نہیں نہیں ایسا ہرگز نہ تھا بلکہ سیدھی اور صاف بات ہے کہ یہ آیت درحقیقت مشرکین مکہ اور منافقین کی مذمت میں نازل ہوئی جو کہ حقیقت میں مسلمانوں کہ مقابلہ میں اکثریت میں تھے۔ اب آتے ہیں ایک بدیہی سوال کی طرف اگر اس آیت کا مصداق اس وقت کہ حقیقی مومنین یعنی صحابہ کرام نہیں تھے تو اس آیت میں جو لفظ ایمان شرک کی تقیید کے ساتھ آیا ہے اسکا مطلب کیا ہے ؟؟؟ تو اسکا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں جو لفظ ایمان آیا ہے وہ اپنے حقیقی یعنی شرعی معنٰی میں نہیں ہے بلکہ لغوی معنٰی میں بطور صور و عرف کے استعمال ہوا ہے ۔ وہ اس لیے کہ مشرکین و منافقین اللہ پاک کی خالقیت و رزاقیت " مدبریت " پر تو جزوی طور پر یقین رکھتے تھے لہذا انکے اسی جزوی یقین پر انکو اللہ پاک پر لغوی طور پر ایمان رکھنے والا کہا گیا ہے جو کہ محض صوری اعتبار سے ہے نہ کہ شرعی اور حقیقی اعتبار سے۔ اب وہ لوگ چونکہ اللہ کی خالقیت اور رزاقیت اور مالکیت اور ربوبیت کا اقرارتو کرتے تھے مگر اس اقرار کے حقیقی تقاضے یعنی اکیلے اللہ کی معبودیت کا اعتراف نہیں کرتے تھے اس لیے اس آیت میں لفظ ایمان و کو شرک کی تقیید کے ساتھ بطور نتیجہ و حال کے ذکر کردیا گیا ہے۔اور ہماری اس بات پر گواہی ہے صحیحین کی وہ روایت کہ جس میں حج و عمرہ کے موقع پر مشرکین کا تلبیہ بیان ہوا ہے ۔۔وهكذا في الصحيحين أن المشركين كانوا يقولون في تلبيتهم: لبيك لا شريك لك، إلا شريكًا هو لك، تملكه وما ملك. وفي الصحيح: أنهم كانوا إذا قالوا: "لبيك لا شريك لك" يقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قَدْ قَدْ"، أي حَسْبُ حَسْبُ، لا تزيدوا على هذا ۔۔۔۔ یعنی مشرکین اپنے تلبیہ میں اپنے خود ساختہ معبودوں کی عبادت کا اقرار کرتے ہوئے اس کا الزام بھی نعوذباللہ من ذالک اللہ کی ذات پر دھرتے تھے اور کہا کرتے تھے " کہ تیرا کوئی شریک نہیں اور جن کی ہم عبادت کرتے ہیں وہ شریک ہمارے لیے تو نے خود بنایا ہے لہذا ہم اس کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ تیرے بنانے سے تیرا شریک ہے اور توہی اس کا بھی مالک ہے "۔ جب کہ آج کہ دور میں کوئی جاہل سے جاہل مسلمان بھی کسی غیر اللہ کسی نبی ولی یا نیک شخص کی عبادت نہیں کرتا اور نہ ہی زبان سے یہ کہتا ہے کہ اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا پھر فلاں نبی یا ولی تیرے خاص شریک ہیں کہ تو انکا مالک بھی ہے اور تونے انھے ہمارے لیے اپنا شریک خود بنایا ہے نعوذ باللہ من ذالک الخرافات ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العظیم ۔۔۔والسلام
  7. مشرکین مکہ کا فہم توحید (اصل میں شرک) تو یہ تھا کہ انھوں نے بطور عقیدہ بھی اور عملا بھی بعض معاملات میں مخلوق کی صفات کو خالق کی صفات سے جاملایا تھا یعنی ایسی صفات جوکہ خاصا الوہیت اورمدار الوہیت کا تقاضا رکھتی تھیں انھے مخلوق میں تسلیم کرلیا تھا یوں انھوں نے مخلوق کو بڑھا کر خالق کے برابر جا ٹھرایا ۔۔۔۔ لیکن آج کل کی ایک مخصوص فکر کا " فہم توحید " (یعنی دوسروں کو مشرک قرار دینے پر جری ہونے جبکہ حقیقت میں خود لزوم شرک کا مرتکب ہونے کا ) فہم یہ ہے کہ انھوں نے جو مخلوق کا خاصا ہے یعنی عطائی صفات جیسے دیکھنا،سننا ،مدد کرنا یا حاجت روائی کرنا وغیرہ باذن اللہ کو بھی معاذاللہ خالق کا خاصا قرار دے کر اپنے مخالفین کو اولا تو مشرک ٹھرایا جبکہ ثانیا عقیدہ تنزیہ باری تعالٰی کی بھی دھجیاں اڑا دیں ۔ یعنی مشرکین مکہ تو مخلوق کو بڑھا کر خالق تک لے گئے تھے اور یہ لوگ اپنے "نام نہاد فہم توحید" کی بدولت خالق کو گھٹا کر مخلوق کی سطح تک لے آئے ہیں نعوذ باللہ من ذالک الخرافات ۔۔۔ یعنی ایسی صفات جو کہ خاصا الوہیت نہیں ہیں یا جنکا مدار الوہیت پر نہیں ہے یا جو مدار الوہیت نہیں رکھتیں، انکو مخلوق میں تسلیم کرنا انکے نزدیک شرک ہے یعنی دوسرے لفظوں میں اللہ کے اوپر بھی معاذاللہ ثمہ معاذاللہ کوئی اور خالق ہے جو کہ عطائی صفات پہلے اللہ کو دیتا ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی عطائی صفت اگر کسی مخلوق میں مانی جائے تو انکے نزدیک شرک کا وقوع ہوجاتا ہے۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
  8. اصول دین اور تفھیم بدعت دین میں حقیقی اضافہ کو " بدعت ضلالہ " کہتے ہیں جبکہ ہمارے نزدیک دین اسلام ایک عالمگیر دین ہے اور یہی وجہ ہے کہ دین اسلام ہرمسئلہ کا حل دیتا ہے اور وہ حل ہمیں قرآن و سنت اور اس کے وضع کردہ اصولوں کی بنیاد پر کہیں تفصیلا اور کہیں اجمالا ملتا ہے۔ اس (حل) کے لیے فقط یہی ضروری نہیں کہ مذکورہ مسئلہ زمانہ نبوی میں بعینہ پیش آیا ہو اور اس کا اسی طرح ذکر سنت آثار میں مذکورہو۔ بلکہ ہم یہ دیکھیں گے کونسا نیا مسئلہ در پیش ہے اگراس نئے مسئلہ کی کوئی نظیرہمیں زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ملتی ہے تو اسکا حل وہاں سے اخذ کریں گے اور اگر وہ مسئلہ اپنی ہیئت و کیفیت و ترکیب کے اعتبار سے زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مذکور نہیں ملتا تو پھر ہم اسے دین اسلام کے پیش کردہ مسلمہ اصولوں یعنی قرآن و سنت اور پھر اسکی اتباع میں اجتھاد سے کام لیتے ہوئے اجماع و قیاس پر اس مسئلہ کو پیش کریں گے اور پھر اس کا جو بھی حل نکلا وہ اپنی ہیئت کے اعتبار سے توبالیقین نیا ہوگا مگر اصول شرع سے متصادم نہ ہونے اعتبار سے بلکہ شرعی اصولوں کی پاسداری اور ان کا حق روا رکھتے ہوئے اپنے دریافتی حل کے اعتبار سے وہ دین میں اضافہ ہرگز نہیں بلکہ عین دین میں سے ہی ہوگا کیونکہ اس پر عمل کی صورت دین ہی کے ان اصولوں پر چل کر نکلی جو کہ مسلمات دین میں سے ہیں ۔حقیقی اضافہ سے مراد " دین کی حقیقت " میں اضافہ ہے اور دین نام ہے بنیادی طور پرعقائد کا اور اس کے دو بڑے ماخذ اور اصول ہیں یعنی قرآن و سنت پھر اس کے تابع دیگر اصول ہیں یعنی اجماع و قیاس کہ جن سب کو نظر میں رکھتے ہوئے ایک مجتھد اجتھاد کرتا ہے اور کسی نئے پیش آمدہ مسئلہ کاحل انہی اصولوں پر چل کر دریافت کرتا ہے لہذا حقیقی اضافہ دین میں ایسی چیز کہلائے گی جو کہ نہ تو دین کے اصول و مبادی میں سے ہوگی اور نہ ہی اصول و مبادی کی ریاعت کرتے ہوئے اسے وضع کیا گیا ہوگا بلکہ اس کے برعکس وہ شئے ان اصول اورمبادی سے ٹکراتی ہوگی ۔اسے آپ درج ذیل حدیث سے سمجھ سکتے ہیں ۔ حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ۔ البخاری والمسلم یعنی جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جو اس میں﴿یعنی دین میں سے ﴾ نہ ہو تو وہ رد ہے ۔ اس حدیث میں لفظ "احدث اور ما لیس منہ " قابل غور ہیں عرف عام میں احدث کا معنی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے اور لفظ "ما لیس منہ احدث " کے مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے کہ احدث سے مراد ایسی نئی چیز ہوگی جو اس دین میں سے نہ ہو حدیث کے اس مفہوم سے ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ اگر احدث سے مراد دین میں کوئی نئی چیز پیدا کرنا ہے تو پھر جب، ایک چیز نئی ہی پیدا ہورہی ہے تو پھر " ما لیس منہ " کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کیونکہ اگر وہ اس( یعنی دین ) میں سے ہی تھی ﴿یعنی پہلے سے ہی دین کا حصہ تھی یا دین میں شامل تھی ﴾تو پھراسے (احدث ) یعنی نیا کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اور جس کو نئی چیز کہہ دیا تو لفظ " احدث" ذکر کرنے کے بعد " ما لیس منہ " کے اضافے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی چیز پہلے سے ہی " ما لیس منہ " ﴿یعنی دین ہی میں سے ﴾ ہے تو وہ نئی یعنی "محدثہ " نہ رہی ۔ کیونکہ وہ تو پہلے سے ہی دین میں تھی اور دین تو وہ ہے جو کمپلیٹ ہوچکا جیسا کے اکثر احباب اس موقع پر " الیوم اکملت لکم دینکم " کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں۔ جبکہ اگر کوئی چیز فی الحقیقت نئی ہی ہے تو پھر " ما لیس منہ " کی قید لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ نئی چیز تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جس کا وجود پہلے سے نہ ہو جبکہ جو پہلے سے دین میں ہو تو پھر لفظ " احدث " چہ معنی دارد؟ اس مغالطہ کا اصل جواب یہ ہے کہ " من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد " میں "فھو رد " کا اطلاق نہ محض "مالیس منہ " پر ہوتا ہے اور نہ فقط "احدث " پر، بلکہ اس کا صحیح اور درست اطلاق اس صورت میں ہوگا جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوں گی یعنی " احدث اور مالیس منہ " یعنی مردود فقط وہی عمل ہوگا جو کہ ظاہرا نیا بھی ہو اورحقیقی اعتبار سے اسکی کوئی سابق مثال بھی شریعت میں نہ ملتی ہو یا پھر اس کی دین میں کسی جہت سے بھی کوئی دلیل نہ بنتی ہو اور کسی جہت سے دین کا اس سے کوئی تعلق نظر نہ آتا ہو پس ثابت ہوا کہ کسی بھی محدثہ کے بدعت ضلالة ہونے کا ضابطہ دو شرائط کے ساتھ خاص ہے ایک یہ کہ دین میں اس کی کوئی اصل ، مثال یا دلیل موجود نہ ہو اور دوسرا یہ کہ وہ محدثہ نہ صرف دین کے مخالف و متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرنے والی ہو یعنی حقیقتا دین میں اضافہ کا باعث ہو۔ لیکن اس سب کہ برعکس جب کوئی محدثہ محض صورۃ " احدث " ہویعنی نیا ہو یعنی اس کی ہیئت کذائیہ و ترکیب یا ظاہری صورت و شکل نئی ہو مگر اس کا وجود حقیقی کسی نہ کسی اعتبار سے مثال سابق دین میں یا پھر دین ہی کہ کسی اصول کے تحت دریافت کیا گیا ہوتو وہ چیز اپنی وضع میں تو نئی یعنی بدعت ہوگئی مگر دین میں اصلا یا حقیقی اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے بدعت ضلالہ نہ ہوگی بلکہ " ما لیس منہ " ہی کی قید کہ تحت دین کا ہی حصہ تصور کی جائے گی کیونکہ ا س پرعمل پیرا ہونے کی صورت دین ہی کہ اصول و مبادی پر اجتھاد کرنے کہ بعد پیدا ہوئی ۔ اس حدیث میں جو لفظ ما لیس منہ اور احدث ایک ساتھ آئے ہیں اسی کی تشریح کہ بطور ہم نے لفظ " حقیقی اضافہ " کو انکے متبادل کہ طور پر استعمال کیا ۔ والسلام
  9. قوم کی اخلاقیات کا درد اور دانشوران الیکٹرونکس میڈیا کا ذاتی کردار آجکل مین اسٹریم میڈیا کو قوم کے اخلاقی زوال و زبوں حالی کا بڑا مروڑ اٹھ رہا ہے اور وہ اس سب کا محرک اول سوشل میڈیا کوقرار دینے پرتلا بیٹھا ہے اسکی اصل وجہ قوم کی زبوں حالی کا بخار نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت میں مین اسٹریم میڈیا کی اپنی اس طاقت کا کم ہوجانا ہے جو کہ کبھی انھے بلاشرکت غیرے ہر معاملہ میں حاصل تھی وگرنہ ہم اور ہماری قوم کا سیاسی کلچر کسے نہیں پتا کہ کیسا تھا اور کیسا ہے۔ کون ہے جو کہ گلی محلوں ، تھڑوں اور حماموں جیسے " سیاسی پلیٹ فارموں" کی اخلاقی قدروں سے آشنا نہیں کون ہے جو کہ ہماری ملکی سیاست میں تھانہ اور کچہری جیسے کلچر حتی کہ فریق مخالف کو ہراساں و پریشاں کرنے کے لیے بلکہ نیچا دکھانے کے لیے انکی بہو بیٹیوں تک کی عزت کی پروا نہ کرنے والے سیاسی ہتھکنڈوں سے آگاہ نہیں ؟؟؟؟ سوشل میڈیا کا مگر فقط قصور اتنا ہے کہ اس نے ایک ایسے طبقے کی اکثریت کو نہایت ہی مؤثر قوت کے ساتھ زبان دے دیدی جو کہ اس سب کچھ سے پہلے سے ہی دلبرداشتہ اور اچاٹ بیٹھا تھا۔ اب جب کہ انھے ایک عمدہ اورانتہائی قوی پلیٹ فارم میسر آیا تو انھوں نے اپنےاندر کی برسوں کی تلخی کو بھی کسی حد تک نکالنا شروع کردیا جو کہ کم از کم اس اجڈ اور گنوار سیاسی کلچر سے تو بدرجہا برتر تھی کہ جس میں لوگوں کی بہو بیٹیوں کی عزت تک عملا محفوظ نہ ہوتی تھی بلکہ تار تار ہوجایا کرتی تھی۔ سہاگنوں کہ سہاگ اجڑ جایا کرتے تھے اور ماؤں سے انکے لخت جگر چھن جایا کرتے تھے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ مین اسٹریم میڈیا اور اس پر براجمان ایک مخصوص طبقہ کہ جس کی تعمیر شکم کا واحد ذریعہ ہی مین اسٹریم میڈیا ہے اسکو سوشل میڈیا کی یہ طاقت ہضم نہیں ہو پارہی اور وہ مسلسل دن رات اس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے پر مصر ہے کیونکہ وہ راتوں رات سلیبٹری بن بیٹھے تھے انکا ہر کہا سنا حرف آخر اور عقل کل کی دانشوری سمجھا جاتا تھا اور وہ جب چاہتے جس وقت چاہتے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کردکھاتے تھے اور ایسا کرنے میں انھے کبھی بھی کسی بھی اخلاقی گراوٹ کا شکار نہ ہونا پڑا کیونکہ مین اسٹریم میڈیا پر ہونے کی مجبوری کی وجہ سے " میڈیائی اخلاقی فریم ورک " کے نام پر ایک مخصوص لب و لہجہ کی پابندی انتہائی چابک دستی مگرمنافقانہ طرز عمل سے برتنا انکے پروفیشن کا ایک لازمی حصہ اور گُرسمجھا جاتا ہے جبکہ اسے نام دے دیا جاتا نام نہاد " میڈیائی اخلاقیات " کا ۔ کہ جسکا اصل مطمع نظر اصل میں قوم کی اخلاقی تعلیم و تربیت ہرگزنہیں بلکہ انکی شکم پروری ہوتی ہے کہ اگر اس کا بھی خیال نہ کیا جائے تو نام نہاد میڈیائی پابندیاں نہ برتنے پر اپنی دکاندری بند ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ وگرنہ کون نہیں جانتا کہ سرخی پاؤڈر لگا کر میڈیا پر صبح و شام انتہائی شان و شوکت سے سج سنور کر دکانداری کرنے والے اس طبقہ کو جب کبھی اپنی ذاتی زندگی میں خود اسی معاشرتی جبر سے گذرنا پڑا کہ جس میں ساری قوم مبتلا ہے یا پھرجب کبھی کسی ناگہانی صورتحال سے سابقہ پڑا تو یہ لوگ جتنی سلیقہ مندی اور دیدہ دلیری سے الیکٹرونکس میڈیا پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے تھے اتنی ہی ہنرمندی اور مشاقی سے تمام تر اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر اولا گالم گلوچ پر اترتے ہیں اور ثانیا پھر ہاتھوں کی صفائی یعنی " گبھ گُھسنی " سے بھی دریغ نہیں برتتے حتٰی کہ بات لاتوں کہ بھوت باتوں سے نہ ماننے تک کی نوبت کوبھی اکثر پہنچ جایا کرتی ہے۔ مگر شرم ہے کہ انکو پھر بھی نہیں آتی اور نہ ہی‌ کبھی آنی ہے کیونکہ یہاں انکی ذاتی شکم پروری کا سوال پیدا ہوجاتا ہے سو پھر سے الیکٹونکس میڈیا پر آکر تمام تر مصنوعی اخلاقی مسکراہٹوں کے تبادلے کہ ساتھ ایک دوسرے سے معذرت اور معافی تلافی کا اعلان کرتے ہیں تاکہ اپنا اور پیٹی بھائیوں کی تعمیر شکم کا سلسلہ رواں دواں رہ سکے۔ لہذا ایک بار پھر سے انتہائی تندہی اور یکسوئی کہ ساتھ تمام تر جانفشانی و یکجانی کے ساتھ سے قوم کی نام نہاد اخلاقی تعلیم اورسوشل میڈیا کو اس اخلاقی گراوٹ کا ذمہ دار قرار دینے پر جت جاتے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔فاعتبروا یا اولی الابصار
  10. کیوں بھائی ہمارا صرف ایک کیوں جیسے مدنی ہمارا اپنا ویسے ہی نور ٹی وی ،کیو ٹی وی، تکبیر ٹی وی اور امہ چینل بھی ہمارا ہے یعنی اہل سنت کا ۔۔والسلام
  11. ماشاء اللہ کیا ہی بات ہے بہت خوب سعیدی صاحب لطف آگیا اللہ کرئے زور قلم اور زیادہ
  12. ویسے میں نے اپنے منھاجی دوستوں سے یہی سوال کیا تھا تو انکا جواب تھا کہ اس قسم کا کوئی خواب ڈاکٹر صاحب نے بیان نہیں کیا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انھوں نے اللہ پاک سے یہ دعا کی ہے کہ انکی عمر 63 برس تک ہی ہو باقی واللہ اعلم
  13. ربیعہ رحمان رکھ لیں
  14. dosri qisat ka link darjzail hi janab yahaan se parh leen http://dunya.com.pk/index.php/author/mufti-muneeb-ul-rehman/2014-01-14/5710/48612761#.UtbLy9LuLxA
  15. اصل جواب توب کوئی صاحب علم یا ڈاکٹر الطاف سعیدی بھائی ہی دیں گے مگر سردست اتنا عرض ہے کہ ان تمام کتابوں کے مختلف اقتباسات میں باہمی کوئی بھی تعارض نہیں ہے کیونکہ مروجہ طریق پر میلاد منانے کا کوئی حکم براہ راستب قران و سنت میں نہیں ملتا اور نہ ہی اس سے روکا گیا ہے سو اس اعتبار سے میلاد مروجہ اپنی اصل کے اعتبار سے ایک مباح عمل ہی ٹھرے گا لہذا الامن والعلٰی میں کہی گئی بات بالکل درست ہے اسی طرح سے جاء الحق میں میں جو " اصل میلاد " کو سنت الٰہیہ وسنت انبیاء و ملائکہ و صحابہ بتلایا گیا ہے وہ بات بھی اپنی جگہ بالکل درست ہے کیونکہ اصل میلاد " تعظیم مصطفٰی اور ذکر مصطفٰی " صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور یہ بالتحقیق سنت الٰہیہ و انبیاء وملائکہ و صحابہ ہے ۔ جبکہ عقائد و مسئال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و معجزات ایک ایک مخصوص ہیئت کذائیہ یعنی مروجہ میلاد کی محفل کی صورت میں بیان کرنے کو بدعت حسنہ کہا گیا یہ بھی اپنی جگہ بالکل درست ہے اور اسکا اطلاق بعض جگہوں پر میلاد کی مخصوص محافل پر ہوتا ہے۔ رہ گیا انوار ساطعہ کا حوالہ تو اس میں ایک مخصوص آیت کا عمومی حکم بیان کیا جارہا ہے کہ جس میں اللہ کی طرف سے نعمت و فضل ملنے پر بطور خوشی شکر ادا کرنے کو واجب تلک بتلایا گیا ہے ان باتوں میں باہمی کوئی بھی تعارض نہیں اور ویسے بھی ایک حکم اپنی اصل کے اعتبار سے کبھی کبھی مباح یا بدعت حسنیہ یا مستحب ہر دو ہوسکتا ہے اس میں کوئی تعارض نہیں ہر مجتھد کو حکم کا استنباط کرتے ہوئے جو پہلو وزنی معلوم ہوا اس نے اسی کے اعتبار سے قضیہ پر مباح الاصل ہونے کا ہی پھر بدعت حسنہ یا عمل مستحسنہ یا مستحبہ کا حکم لگا دیا یہ اصلا اختلاف نہیں اور نہ ہی یہ احکام کا اختلاف ہے بلکہ یہ فہم مجتھد کا اختلاف ہے کہ جسکی زیادہ سے زیادہ حد فروعی مسائل میں اختلاف کی سی ہے ۔۔والسلام