Aashiq Koun

Members
  • Content count

    158
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Aashiq Koun last won the day on August 15 2013

Aashiq Koun had the most liked content!

Community Reputation

24 Excellent

About Aashiq Koun

  • Rank
    Ajmeri Member
  1. ایک غیر مقلد نے ھدایہ کا ایک حوالہ دے کر اعتراض کیا ہے کہ عورت کو دیکھنے سے انزال ہو جائے تو قضا و کفارہ واجب نہیں اور فقہ حنفی میں مشت زنی جائز ہے لیکن ہمیشہ کی طرح یہاں بھی ادھوری عبارت پیش کی اور عبارت کا ترجمہ بھی ادھورا پیش کیا۔ اس عبارت سے پہلے صاحب ھدایہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، قے،حجامت اور احتلام سے۔اس کے بعد اس کی وجہ بھی لکھی کہ اس میں جماع کی صورت نہیں پائی گئی اور جماع کا معنی نہیں پایا گیا اور وہ مباشرت کر کے شہوت سے انزال ہونا ہے۔ اس کے بعد غیر مقلدین کے اعتراض والی عبارت نقل کی کہ عورت کو دیکھا اور انزال ہوا ، اس عبارت کے بعد لکھا ''جیسا کہ ہم نے دلیل بیان کی ہے'' لیکن غیر مقلد نے یہ جملہ نقل ہی نہیں کیا۔۔ صاحب ھدایہ نے وہی دلیل بیان کی کہ عورت کو دیکھنے سے جماع کی صورت نہیں پائی گئی اس لئے روزہ نہیں ٹوٹا۔ بخاری شریف میں امام بخاریؒ نے حضرت جابر ابن زید رضی اللہ عنہ کا اثر بیان کیا ہے کہ '' عورت کو دیکھنے سے انزال ہو جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا''۔۔ اس کے بعد ھدایہ میں جو یہ قول بیان کیا ہے کہ وہ ایسا ہی ہے جیسا ہاتھ سے منی نکالنے والا اور یہ بعض مشائخ کا قول ہے لیکن غیر مقلد نے اس جملے سے احناف پر اعتراض کیا کہ فقہ حنفی میں مشت زنی جائز ہے لیکن یہ نقل ہی نہیں کیا کہ یہ بعض مشائخ کا قول ہے اور اس میں اختلاف ہے۔ احناف کے نزدیک مشت زنی سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ غیر مقلد نے جو سکین لگایا ہے اسی سکین کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ قول ضعف ہی مبنی ہے لیکن غیر مقلد نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اگر اس کے باوجود غیر مقلد نہیں مانتے تو غیر مقلدین کے اکابر اور مستند علماء کے نزدیک بھی جسم سے جسم ملانے، یا مشت زنی سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ غیر مقلدین کے عمران ایوب لاہوری فقہ الحدیث میں لکھتے ہیں کہ ''بیوی کا بوسہ لینے، جسم سے جسم ملانے یا مشت زنی وغیرہ سے روزہ ٹوٹ جانے کی کوئی واضح دلیل موجود نہیں اور نبی کریم ﷺ نے ان افعال کو روزہ کے لئے مفسد قرار نہیں دیا تو ان سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔آگے لکھا کہ ابن حزمؒ ، امیر صنعانی،علامہ شوکانی اور علامہ البانی اسی کے قائل ہیں اور اسی کو ترجیح دیتے ہیں''۔(فقہ الحدیث، صفحہ 723،724) اب غیر مقلدین کو چائیے کہ احناف کے ساتھ ساتھ اپنے اکابر علماء عمران ایوب لاہوری، علامہ البانی،علامہ شوکانی اور ابن حزم پہ بھی یہی فتوی لگائیں۔ غلامِ خاتم النبیینﷺ، محسن اقبال
  2. غیر مقلدین اعتراض کرتے ہیں کہ فقہ حنفی میں سورج گرہن کی نماز عام نمازوں کی طرح پڑھی جائے اور ہر رکعت میں ایک رکوع کیا جائے اور فقہ حنفی کا یہ مسئلہ حدیث کے خلاف ہے۔ غیر مقلدین ہمیشہ کی طرح دھوکہ دیتے ہیں اور ادھوری عبارت نقل کرتے ہیں۔ ہدایہ میں اس عبار ت کے بعد آگے لکھا ہے کہ ہماری دلیل ابن عمر رضی اللہ کی روایت ہے جس کو ترجیح ہے لیکن غیر مقلدین یہ عبارت نقل نہیں کرتے۔ غیر مقلد زبیر زئی کے نزدیک ابن عمر رضی اللہ کی اس روایت کی سند حسن ہے۔ احناف کا موقف احادیث پہ مبنی ہے اور سورج گرہن کی ہر رکعت میں ایک رکوع کرنے پہ کئی احادیث موجود ہیں جن کو میں نے پیش کیا ہے۔ غیر مقلد زبیر زئی کے نزدیک ابن عمر رضی اللہ کی یہ روایت حسن ہے اور نماز کسوف کی رکعت میں ایک رکوع کرنا بھی جائز ہے۔(ابو داود بتحقیق زبیر زئی،ج1 صفحہ 836)
  3. غیر مقلد عالم سے سوال کیا گیا کہ زید کے پاس افطاری کے لئے کوئی چیز نہیں تھی تو اس نے بیوی سے جماع کیا اور بیٹی کا بوسہ لیا تو ان پہ کیا شرعی حکم ہو گا؟؟تو غیر مقلدین کے شیخ الاسلام ثنا ء اللہ امرتسری صاحب نےبغیر قرآن و حدیث کے دلائل کے جواب دیا کہ '' جماع اکل و شرب کی طرح مفطر ہے۔۔۔۔ روزہ صحیح ہو گا''(فتاوی ثنائیہ جلد 1 صفحہ 657) مطلب یہ ہوا کہ بیوی سے جماع کرنے سے روزہ افطار بھی ہو گیا اور صحیح بھی ہوا۔واہ غیر مقلدو! تمہارے روزوں اور تمہارے فتووں پہ۔ کوئی غیر مقلداپنے شیخ الاسلام کے اس فتوی اور اس مسئلہ کی قرآن و حدیث سے دلیل دے گا ؟؟؟
  4. غیر مقلد عالم سے سوال کیا گیاکہ قربانی کی گائے میں بریلوی اور مرزائی کی شرکت کے بارے میں کیا خیال ہے تو غیر مقلد عالم محمد علی جانباز نے جواب دیا کہ بریلوی کی شرکت جائز ہے اور قادیانی کی شرکت بھی حرام نہیں۔(فتاوی علمائے حدیث، جلد 13 صفحہ 89)غیر مقلدین کو قادیانیوں سے اتنی محبت ہے کہ انہوں نے قادیانیوں کا قربانی میں شریک ہونا بھی حرام قرار نہیں دیا۔
  5. غیر مقلد حضرات امام ابو حنیفہؒ پہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کے نزدیک فارسی میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ اس بات کا جواب غیر مقلدین کے شیخ الکُل مولوی نذیر حسین دہلوی نے اپنے فتاوی میں تفصیل سے دیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ''در صورت مرقومہ معلوم کرنا چاہیے کہ اس مسئلہ میں امام اعظم اور صاحبین کا اختلاف ہے مگر صاحبین کا قول عندالحنفیہ مفتی بہ اور قابل اعتماد کے ہے اور امام اعظم کا قول غیر مفتی بہ اور لائق اعتماد کے نہیں ہے تفصیل اس کی یہ ہے کہ امام ممدوح کے نزدیک فارسی وغیرہ زبان میں قرآن پڑھنا نماز میں لاچاری اور غیر لاچاری دونوں حالت میں درست ہے اور صاحبین کے نزدیک فارسی وغیرہ زبان میں قرآن پڑھنا نماز میں جائز نہیں ہاں لاچاری کے وقت درست ہے مگر پڑھنے والا اس صورت میں گنہگار ہوگا لمخالفۃ المتوارثۃ اور امام صاحب نے اپنے اس قول سےرجوع کرکے صاحبین کے قول کو اختیار کیا ہے پس اب ائمہ ثلثہ میں سے کسی کے نزدیک غیر لاچاری کی حالت میں نماز کے اندر فارسی وغیرہ زبان میں قرآن پڑھنا درست نہیں ۔ (ترجمہ) ’’اگر کوئی فارسی میں نماز شروع کرے یا قرأت فارسی میں کرے یا ذبح کرتے وقت خدا کا نام فارسی میں لے اور وہ عربی اچھی طرح بول سکتا ہو تو پھر بھی ابو حنیفہ کے نزدیک درست ہے اور صاحبین کہتے ہیں درت نہیں ہاں ذبیحہ میں جائز ہے اور اگر عربی اچھی طرح نہ جانتا ہو تو پھر اور زبانوں میں قرأت کرسکتا ہے ۔ صاحبین کا استدلال یہ ہے قرآن ایک عربی نظم ہے جیسا کہ نص سے ثابت ہے ہاں عجز کے وقت معنی پراکتفا کرسکتا ہے جیسے جہ معذور آدمی سجدہ کی بجائے اشارہ کرلیتا ہےبرخلاف تسمیہ کے کہ خدا کا ذکر ہر زبان میں کیا جاسکتا ہے امام ابوحنیفہ کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ انہ لفی زبد الاولین (قرآن پہلی کتابوں میں تھا) اور یہ تو ظاہر ہے کہ پہلی کتابوں کی زبان عربی نہیں تھی لہٰذا عجز کے وقت دوسری زبان میں پڑھ سکتا ہے لیکن وہ گنہگار ہوگا کیونکہ اس نے سنت متواترہ کی مخالفت کی ہے اور امام صاحب کا صاحبین کے قول کی طرف رجوع بھی بیان کیا جاتا ہے اور یہی صحیح ہے اسی طرح خطبۃ اور تشہد کا حال بھی ہے اورعبارت بالا میں جس نص کا حوالہ دیا گیا ہے وہ آیت ہے قرآنا عربیا غیر ذی عوج تو فرض قرآن کی قرأت ہے اور وہ عربی زبان میں ہے تو عربی پڑھنا فرص ہوا ۔ واللہ اعلم‘‘ (سید محمد نذیر حسین) (فتاوی نذیریہ،جلد 1 صفحہ 529،530،531) غیر مقلدو! اگر تمہارے نزدیک امام اعظم ؒ نے اپنے موقف سے رجوع نہیں کیا تو پھر تسلیم کرو کہ تمہارا شیخ الکل نذیر حسین دہلوی جھوٹا تھا جس کے نزدیک امام صاحبؒ نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا تھا۔
  6. غیر مقلد حضرات امام ابو حنیفہؒ پہ مرجئیہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں لیکن غیر مقلدین کے مشہور عالم ابراہیم میر سیالکوٹی امام ابو حنیفہ ؒ کا دفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ '' بعض مصنفین نے امام ابو حنیفہؒ اور ان کے شاگردوں کو رجال مرجئیہ میں شمار کیا ہے ۔۔۔۔۔۔علماء نے اس کا جواب کئی طریقے سے دیا ہے، اول یہ کہ یہ آپ ؒ پہ بہتان ہے ، آپؒ مخصوص فرقہ مرجئیہ سے نہیں ہوسکتے'' ( تاریخ اہلحدیث، صفحہ 56،57،58) غیر مقلد عالم ابراہیم میر سیالکوٹی صاحب نے اپنی کتاب تاریخ اہلحدیث میں تفصیل سے امام ابو حنیفہؒ پہ لگائے جانیوالے تمام الزامات کا دفاع کیا ہے اور آخر میں یہ تسلیم کیا ہے کہ '' ائمہ کرام ؒ کی بے ادبی اور توہین کرنا دنیا اور آخرت دونوں جہاں کے نقصان کا باعث ہے۔ (تاریخ اہلحدیث،صفحہ 72) ان مشہور غیر مقلد عالم کا امام ابو حنیفہؒ کا دفاع کرناموجودہ دورکے ان تمام غیر مقلدین کے منہ پر طمانچہ ہےجو امام ابو حنیفہؒ کی توہین اوربے اد بی کرتے ہیں اور ان پہ کفر اور شرک کے جھوٹے فتوے لگاتے ہیں۔
  7. غیر مقلدین امام ابو حنیفہؒ کاچالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنے کا واقعہ بیان کرکے احناف پہ اعتراض کرتے ہیں کہ احناف نے امام صاحبؒ کے بارے میں غُلو کیا ہے لیکن غیر مقلدین یہاں بھی ہمیشہ کی طرح دھوکہ دیتے ہیں۔ یہ واقعہ بیان کرنے والے صرف احناف نہیں بلکہ اسکو بیان کرنے میں شافعی،حنبلی اور مالکی علماء بھی شامل ہیں۔ ان اکابرین میں سے 8 علماء کے حوالے پیشِ خدمت ہیں جنہوں نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔ امام نووی شافعی ؒنے تہذیب الاسماء صفحہ 704 پہ،علامہ دمیریؒ نے حیات الحیوان جلد 1 صفحہ 122 پہ،حافظ ابن حجر عسقلانی شافعیؒ نے تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ450 پہ،علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے تبیض الصحیفہ صفحہ 15 پہ،قاضی حسین بن محمد دیار مالکیؒ نے تاریخ الخمیس جلد 2 صفحہ 366 پہ،عبد الوہاب شعرانی حنبلیؒ نے کتاب المیزان جلد 1 صفحہ 61 پہ،ابن حجر مکی شافعیؒ نے الخیرات الحسان صفحہ 36 پہ امام صاحبؒ کا یہ واقعہ بیان کیا ہےکہ امام ابو حنیفہؒ نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی۔ اس کے علاوہ یہ واقعہ صرف امام ابو حنیفہؒ سے ہی نہیں بلکہ کئی اکابرین سے بھی وقوع ہوا جو کہ مختلف کتابوں میں موجود ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلیؒ کا کہنا ہے کہ چالیس تابعین سے کے متعلق منقول ہے کہ انہوں نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی اور اسکی سند صحیح ہے۔(غنیۃ الطالبین، صفحہ 496 بتحقیق مبشر لاہوری غیر مقلد)
  8. غیر مقلدین نے فقہ حنفی پہ ایک اعتراض کیا ہے کہ فقہ حنفی میں عورت کے لئے مرد کا آلہ تناسل منہ میں ڈالنا جائز ہے لیکن ہمیشہ کی طرح یہاں بھی غیر مقلدین نے دھوکہ دیا ہے۔ غیر مقلدین نے جو حوالہ دیا ہے فتاوی عالمگیری کا اس میں کہیں بھی اس عمل جو جائز نہیں کہا گیا بلکہ اس میں لکھا ہے کہ ''اگرمرد نے اپنی بیوی کے منہ میں اپنا آلہ تناسل داخل کیا تو بعض نے فرمایا کہ مکروہ ہے اور بعض نے اس کے برخلاف کہا ہے''( فتاوی عالمگیری،جلد 9 صفحہ 110) اس حوالہ میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ یہ عمل جائز ہےبلکہ واضح لکھا ہے کہ یہ عمل مکروہ ہے اور بعض نے اس کے برخلاف کہا ہے تو اس سے یہ کہیں بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کسی عمل کو صرف برخلاف کہہ دینے سے وہ جائز ہو جاتا ہے۔۔ غیر مقلدین نے یہ حوالہ بیان کرتے ہوئے جھوٹ کہا ہے کہ فقہ حنفی میں یہ عمل جائز ہے۔ اصل میں یہ مسئلہ خود غیر مقلدین کا ہے۔۔ ان کے نزدیک عورت کے لئے مرد کا آلہ تناسل منہ میں ڈالنا جائز ہے۔ ان کے فتاوی کی مشہور ویب سائٹ محدث فتاوی میں اس بارے میں فتوی دیا گیا ہے۔کسی نے فتاوی میں اورل سیکس کے بارے میں فتوی پوچھا تو اس کا جواب دیا گیا کہ ''شریعت کا اصول ہے یہ کہ "ہر عمل جائز ہے سوائے اس کے جس کے بارے میں شریعت میں واضح ممانعت آگئی ہو۔" یہی اصول سیکس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ شریعت نے میاں بیوی کے سیکس کے معاملے میں صرف دو امور کی ممانعت کی ہے: 1. ایک دوران حیض سیکس اور 2. دوسرے پیچھے کے مقام (دبر) میں سیکس۔ اس کے علاوہ باقی سب جائز ہے اورل سیکس کے بارے میں اختلاف اس وجہ سے ہے کہ قرآن و حدیث میں اس کی کوئی واضح ممانعت نہیں آئی۔ فقہاء کے سامنے جب یہ صورت آئی تو انہوں نے قرآن و حدیث کے عمومی مزاج سے استدلال کیا ہے۔ بعض کے نزدیک چونکہ ممانعت نہیں آئی، اس لیے یہ جائز ہے اور بعض کے نزدیک چونکہ اس میں گندگی ہوتی ہے، اس وجہ سے ناجائز ہے۔ اس میں جواز کے قائلین میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب کا نام آتا ہے۔ نیز جو لوگ جواز کے قائل ہیں، وہ بھی مطلق جواز کے نہیں بلکہ اس بات کے قائل ہیں کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو تیار کرتے ہوئے اگر منہ سے شرم گاہ وغیرہ کو چوم لیں تو اس میں حرج نہیں۔ تاہم مادہ منویہ کے منہ میں ڈسچارج کرنے کو وہ بھی غلط سمجھتے ہیں۔'' ***************************************************** ایک دوسرے فتوی میں کہا گیا ہے کہ '' میاں بیوی ایک دوسرے کے جسم کے ہر حصے کا بوسہ لے سکتے ہیں۔کیونکہ اس حوالے سے کسی نص میں کوئی ممانعت وارد نہیں ہے۔'' ***************************************************** اب ہر حصے میں شرمگاہ اور آلہ تناسل بھی آتا ہے جس کو بوسہ دینے کے لئے غیر مقلد جائز کہہ رہے ہیں۔ اصل میں یہ فتوی خود غیر مقلدین کا تھا لیکن انہوں نے احناف پہ جھوٹا الزام لگا دیا۔
  9. bahi aap k pass ''anta taliq tali taliq'' k lafz ka koi hawala mojud hay>?? kyunk uper scan mai mukaml nien hay...........
  10. Asalam o alikum to all muslims بھائی ! رکانہ رضی اللہ عنہ کی جو روایت غیر مقلد پیش کرتے ہیں وہ ضعیف ہے اور ان کی اصل روایت کے مطابق انہوں نے طلاق بتہ دی تھی جس میں ایک کی نیت تھی۔ غیر مقلد جو روایت بیان کرتے ہیں اس روایت کو مسند احمد بن حنبلؒ کے حاشیہ میں غیر مقلدین کے مستند محقق شعیب الارنوط نے ضعیف کہا ہے ۔انہوں نے وضاحت کی ہے کہ امام بہیقی نے بھی سنن کبری للبہیقی میں اس کو ضعیف کہا ہے۔اس کے علاوہ امام نوویؒ نے شرح مسلم میں اس پر بحث کی ہے اور ضعیف کہا ہے۔ اس کا ایک راوی محمد بن اسحاق ہے جس پہ جرح ہے اور وہ ضعیف ہے۔ امام بہیقیؒ نے کہا ہے کہ ابو داؤدؒ کے مطابق رکانہ رضی اللہ نے طلاق بتہ دی تھی جس میں ایک کی نیت تھی اور جو روایت غیر مقلد پیش کرتے ہیں کہ تین طلاق تھی وہ ضعیف ہے اور حجت کے قابل نہیں۔
  11. غیر مقلد نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں کہ ''نبی کریم ﷺ ہر حال اور ہر آن میں مومنین کے مرکز نگاہ اور عابدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں ، خصوصیات کی حالت میں انکشاف اور نورانیت ذیادہ قوی اور شدید ہوتی ہے ، بعض عارفین کا قول ہے کہ تشہد میں ایھا النبی کا یہ خطاب ممکنات اور موجودات کی ذات میں حقیقت محمدیہ کے سرایت کرنے کے اعتبار سے ہے ، چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ نماز پڑھنے والوں کی ذات میں موجود اور حاضر ہوتے ہیں ''اس لئے نماز پڑھنے والوں کو چائیے کہ اس بات کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھیں اور آپ نبی کریم ﷺ کی اس حاضری سے غافل نہ ہوں تاکہ قرب و معیت کے انوارات اور عرفت کے اسرار حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔''' ( مسک الختام شرح بلوغ المرام، صفحہ 244)
  12. کیا فقہ حنفی میں متعہ جائز ہے؟ غیر مقلدین کا دھوکہ غیر مقلدین کا فقہ حنفی پہ ایک اعتراض یہ ہے کہ فقہ حنفی میں معین مدت تک نکاح یعنی کہ متعہ جائز ہے لیکن غیر مقلدین ہمیشہ کی طرح یہاں بھی دھوکہ دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ طلاق کی نیت سے نکاح کرنے کا ہے جس میں فقہا کا اختلاف ہے اور اسی بات کو فتاوی عالمگیری میں ذکر کیا گیا ہے جس کو غیر مقلد دھوکہ سے متعہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ سب سے پہلی بات کہ یہ فتوی ان غیر مقلدین نے شیعہ سے چوری کیا ہے۔ شیعہ یہ الزام اہلسنت پہ لگاتے ہیں کہ اہلسنت کے نزدیک متعہ جائز ہے جس کو غیر مقلدین احناف اور فقہ حنفی کے بغض اور حسد میں آگے پھیلا رہے ہیں غیر مقلدین کی اطلاع کے لئے سعودیہ کے مشہور محدث علامہ ابن بازؒ کے نزدیک بھی طلاق کی نیت سے نکاح کرنا جائز ہے اور یہ متعہ نہیں کہلاتا۔ علامہ ابن بازؒ کا یہ فتوی ان کی کتاب ـ(مقالات و فتاوی ابن باز،ج4 صفحہ 30 اور مسائل امام ابن باز، ج1 صفحہ 185) پر واضح طور پہ دیکھا جا سکتا ہے۔ علامہ ابن بازؒ کے علاوہ کئی اکابرین کے نزدیک طلاق کی نیت سے نکاح جائز ہے۔ امام نووی الشافعی کہتے ہیں: وبه قال القاضي أبو بكر الباقلاني قال القاضي وأجمعوا على أن من نكح نكاحا مطلقا ونيته أن لا يمكث معها الا مدة نواها فنكاحه صحيح حلال وليس نكاح متعة وإنما نكاح المتعة ما وقع بالشرط المذكور اور یہ وہ ہے جو قاضی ابو بکر الباقلانی نے کہا ہے۔ قاضی کہتے ہیں:'اس بات پر اجماع" ہے کہ جو بھی مطلق نکاح(نکاح دائمی) کرتا ہے لیکن نیت یہ ہوتی ہے کہ عورت کے ساتھ صرف کچھ مدت کے لیے ہی رہے گا، تو بلاشبہ ایسا نکاح صحیح اور حلال ہے اور یہ نکاح المتعہ (کی طرح حرام) نہیں ہے کیونکہ نکاح المتعہ میں پہلے سے ہی یہ شرط مذکور ہوتی ہے (کہ ایک مدت کے بعد خود بخود طلاق ہو جائے گی)۔اور امام مالک ؒکے نزدیک یہ اخلاق میں سے نہیں ہے اور امام اوزاعیؒ کے نزدیک یہ متعہ ہی ہے۔ ( کتاب المنہاج شرح مسلم، جلد 9 صفحہ 182 ) امام اہلسنت ابن قدامہ الحنبلی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: إن تزوجها بغير شرط، إلا أن في نيته طلاقها بعد شهر، أو إذا انقضت حاجته في هذا البلد، فالنكاح صحيح في قول عامة أهل العلم إلا الأوزاعي، قال: هو نكاح متعة. والصحيح أنه لا بأس به اگر وہ عورت سے (مدت) کی کوئی شرط کیے بغیر نکاح کرتا ہے لیکن دل میں نیت ہے کہ اُسے ایک ماہ کے بعد طلاق دے دے گا یا پھر اُس علاقے یا ملک میں اپنی ضرورت پوری ہونے کے بعد طلاق دے دے گا (اور پھر آگے روانہ ہو جائے گا) تو پھر اہل علم کے مطابق بلاشبہ ایسا نکاح بالکل صحیح ہے ، سوائے الاوزاعی کے جنہوں نے اسے عقد المتعہ ہی جانا ہے لیکن صحیح یہی رائے ہے(جو اہل علم کی ہے) کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ( المغنی، جلد 7، صفحہ 573 ) سعودی ِعرب کے سابق مفتی ِاعظم شیخ ابن باز فرماتے ہیں: [شیخ ابن باز صاحب سے سوال]: آپ نے ایک فتوی جاری کیا ہے کہ اس بات کی اجازت ہے کہ ویسٹرن [مغربی] ممالک میں اس نیت سے شادی کر لی جائے کہ کچھ عرصے کے بعد عورت کو طلاق دے دی جائے۔۔۔۔۔ تو پھر آپکے اس فتوے اور عقد متعہ میں کیا فرق ہوا؟ [شیخ ابن باز کا جواب]: جی ہاں، یہ فتوی سعودیہ کی مفتی حضرات کی مستقل کونسل کی جانب سے جاری ہوا ہے اور میں اس کونسل کا سربراہ ہوں اور یہ ہمارا مشترکہ فتوی ہے کہ اس بات کی اجازت ہے کہ شادی کی جائے اور دل میں نیت ہو کہ کچھ عرصے کے بعد طلاق دینی ہے [ہمارا تبصرہ: یعنی لڑکی کو دھوکے میں رکھنا جائز ہے اور اسے بتانے کی ضرورت نہیں کہ دل میں نیت تو کچھ عرصے بعد طلاق کی کر رکھی ہے]۔ اور یہ (طلاق کی نیت) معاملہ ہے اللہ اور اسکے بندے کے درمیان۔ اگر کوئی شخص (سٹوڈنٹ) مغربی ملک میں اس نیت سے شادی کرتا ہے کہ اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد یا نوکری ملنے کے بعد لڑکی کو طلاق دے دے گا تو اس میں تمام علماء کی رائے کے مطابق ہرگز کوئی حرج نہیں ہے۔ نیت کا یہ معاملہ اللہ اور اسکے بندے کے درمیان ہے اور یہ نیت نکاح کی شرائط میں سے نہیں ہے۔ عقد متعہ اور مسیار میں فرق یہ ہے کہ عقد متعہ میں باقاعدہ ایک مقررہ وقت کے بعد طلاق کی شرط موجود ہے جیسے مہینے ، دو مہینے یا سال یا دو سال وغیرہ۔ عقد متعہ میں جب یہ مدت ختم ہو جاتی ہے تو خود بخود طلاق ہو جاتی ہے اور نکاح منسوخ ہو جاتا ہے، چنانچہ یہ شرط عقد متعہ کو حرام بناتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اللہ اور اسکے رسول ص کی سنت کے مطابق نکاح کرتا ہے، چاہے وہ دل میں طلاق کی نیت ہی کیوں نہ رکھتا ہو کہ جب وہ مغربی ملک کو تعلیم کے بعد چھوڑے گا تو لڑکی کو طلاق دے دے گا، تو اس چیز میں کوئی مضائقہ نہیں، اور یہ ایک طریقہ ہے جس سے انسان اپنے آپ کو برائیوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور زناکاری سے بچ سکتا ہے، اور یہ اہل علم کی رائے ہے۔ (مقالات و فتاوی ابن باز،ج4 صفحہ 30 اور مسائل امام ابن باز، ج1 صفحہ 185، فتاوی اسلامیہ، جلد 3 صفحہ 264) غیر مقلدین کے مکتبہ دار السلام سے غیر مقلدین کی تصدیق شدہ کتاب ''کتاب النکاح'' میں بھی سید سابقؒ کے حوالے سے طلاق کی نیت سے نکاح کو صحیح مانا گیا ہے۔ اس کتاب کو عمران ایوب لاہوری نے لکھا ہے اور اس میں علامہ البانیؒ کی تحقیق سے استفادہ کیا گیا ہے اور غیر مقلدین کے مکتبہ دارالسلام نے اس کتاب کو چھاپا ہے۔ کیا غیر مقلدین علامہ ابن بازؒ، علامہ البانیؒ اور عمران ایوب لاہوری پہ یہ فتوی لگائیں گے کہ ان علماء کے نزدیک بھی احناف کی طرح متعہ جائز ہے؟ یہ تھی غیرمقلدین کے جاہلانہ الزام کی حقیقت اور اب غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ اگر وہ قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں تو احناف کے ساتھ ساتھ ان اکابرین پہ بھی متعہ کے جائز کہنے کا فتوی لگائیں ۔ شکریہ غلامِ خاتم النبیینﷺ محسن اقبال
  13. جی بھائی۔۔ دین الحق غیر مقلد داؤد ارشد نے لکھی جاء الحق کے جواب میں۔۔ دین الحق کے جواب میں نصرت الحق لکھی گئی ہے اور بہت اچھی کتاب ہے۔ اس کے علاوہ سعید الحق فی تخریج جاء الحق بھی اچھی کتاب ہے۔
  14. مفتی احمد یار نعیمی صاحب نے اپنی کتاب ''جاء الحق'' میں ترک رفع یدین کی دلیل میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی تھی جس میں ایک راوی عاصم بن کلیب ہیں۔ غیر مقلد داؤد ارشد نے اس کے جواب میں عاصم بن کلیب پہ جرح نقل کی اور اس کو مرجئی قرار دیا اور کہا کہ علامہ ذہبی اور حافظ ابن حجر نے عاصم بن کلیب کو مرجیہ کہا ہے۔ـ( دین الحق، جلد 1 صفحہ 373) لیکن ان کی دوغلی پالیسی یہ ہے کہ سینہ پہ ہاتھ باندھنے کے لئے داود ارشد صاحب اسی راوی عاصم بن کلیب کی روایت کو اپنی دلیل بنا رہے ہیں۔ داؤد ارشد صاحب نے سینہ پہ ہاتھ باندھنے کے لئے وائل ابن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح ابن خزیمہ سے پیش کی لیکن اس کی سند بیان نہیں کی کیونکہ اس کی سند میں ''عاصم بن کلیب'' راوی ہیں ۔(دین الحق، جلد 1 صفحہ 216) لیکن اسی عاصم بن کلیب راوی کو ترک رفع یدین کی دلیل میں اسی کتاب میں مرجئہ کہہ کر اس پہ جرح کر رہے ہیں ۔( دین الحق، جلد 1 صفحہ 373) راوی جب ترک رفع کی دلیل میں آیا تو اس کو مرجئہ کہہ کر رد کر دیا لیکن سینہ پہ ہاتھ باندھنے کے لئے اسی راوی کی روایت کو اپنی دلیل بنا لیا۔یہ ہے غیر مقلدین کی نفس پرستی۔ غلامِ خاتم النبیین ﷺ محسن اقبال
  15. غیر مقلدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد مانگنے پر اپنے عالم غلام رسول پہ کیا فتوی لگائیں گے.. یہ غیر مقلدین کے مشہور عالم ہیں اور ان کی حیات پہ ایک کتاب موجودہ غیر مقلدین کے مشہور مورخ محمد اسحاق بھٹی نے بھی ''تذکرہ غلام رسول قلعوی'' کے نام سے لکھی ہے جو ابھی تک انٹر نیٹ پہ نہیں آئی. محمد اسحاق بھٹی کی کئی کتابیں آپ غیر مقلدین کی مختلف ویب سائٹ سے پڑھ سکتے ہیں. غیر مقلد کیا کہیں گے اس بارے میں.