Jump to content
اسلامی محفل

Raza

Members
  • Content Count

    265
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

Everything posted by Raza

  1. مکتبۃالمدینہ سے کتب کی فہرست لے لیں۔ اس کا نام ہے۔ فہرس کتب و رسائل
  2. مطالعہ کی اہمیت وفوائد پر بہترین معلوماتی رسالہ تحفۃ الاحباب لمطالعۃ الکتاب مطالعہ کی اہمیت از قلم:شیخ التفسیر والحدیث اُستاذ العلماء رئیس التحریر علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی قادری رضوی دامت برکاتھم العالیہ عرض مؤلف فقیر ابو الصالح محمد فیض احمد اویسی سن 1366ھ 1947ء (جب کہ ہندوپاک کی تقسیم ہوئی) میں حفظ کلام الٰہی سے فارغ ہوکر کتب فارسیہ و عربیہ کی تحصیل میں مصروف ہوگیا۔ ایک سال فارسی کتب پڑھنے کے بعد صرف و نحو دیگر فنون معقول وغیرہ سے 1371ھ 1952ء میں فراغت پائی۔ اس میں دورہ حدیث کا وقت بھی شامل ہے پھر 1383ھ 1963ء تک مدرسہ منبع الفیوض حامد آباد میں مسلسل تعلیم و تدریس کا مشغلہ رہا۔ اب عرصہ تین سال سے بہاولپور جامعہ اویسیہ رضویہ میں مشغول درس ہے۔ اس میں پانچ سالہ درس دورہ تفسیر القرآن بھی شامل ہے۔ اتنا طویل وقت تعلیم و تعلم میں گزارنے سے اس نتیجہ کو پہنچا کہ" العلم نور و نور اللہ لا یعطی للعاصی" علم نور الٰہی ہے اور نور الٰہی مجرم کو نہیں ملا کرتا۔ گذشتہ صدیوں کے طلباء کے حالات کتابوں میں دیکھے پھر موجودہ طلباء کی ناگفتہ بہ حالتیں دیکھیں دل پارہ پارہ ہوجاتا ہے۔ ذرا غور تو فرمائیے کہ گذشتہ زمانے میں نہ کہیں ریل گاڑی تھیں اور نہ ہی بسیں چلتی تھیں اور نہ ہی سائیکل اور تانگے تھے اور نہ شاندار سڑکیں اور بجلی جیسی شاندار روشنی تو زہے نصیب۔ ان کو تو مٹی کا تیل مل جاتا تب بھی غنیمت سرسوں کا تیل اپنا نہیں۔ دوسروں کے گھروں کی روشنی میں کھڑے ہوکر مطالعہ کرتے کھانے کے لئے مدت تک تازی روٹی تو زہے قسمت باسی روٹی کے کبھی ٹکڑے مل جاتے تو اسے فضل ایزدی سمجھتے۔ مشتے نمونہ خرورے۔ چند واقعات پیش خدمت ہیں۔ حکایات: خوراک کا مسئلہ (1) حافظ الحدیث حجاج بغدادی شبابہ کو تعلیم کے لئے تشریف لے گئے تو اپنے گھر سے سو کلچے پکواکر لے گئے۔ وہاں بغیر سالن کے پانی میں بھگو کر روزانہ کھاتے۔ جب وہ سو کلچے ختم ہوگئے کھانے کا کوئی دیگر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے واپس گھر لوٹے۔ (2) شیخ الاسلام بقی بن مخلانے چقندر کے پتے کھا کر اتنا بلند مرتبہ حاصل کیا۔ (3) امام بخاری نے کھانا نہ ملنے پر تین دن متواتر جنگل کی بوٹیاں کھائیں۔ (4) طبرانی جیسے محدث اور ان کے دو ساتھی طالب علمی کے دور میں بھوکے اور فاقوں کے نڈھال ہوگئے۔ آخر تنگ آکر بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کرنا پڑا۔ (5) شیخ الفقہاء امام برنانی جب خراسان پڑھنے کے لئے تشریف لے گئے تو اپنا کچھ خرچ ساتھ تھا وہ ختم ہوگیا لیکن علم کی خاطر بڑے بھوک و فاقہ سر پر اٹھانے سے کئی روز ایسے ہی گزارے پھر جب بھوک کی اذیت برداشت نہ ہوسکی تو نانبائی کی دوکان پر اس غرض سے جا بیٹھے کہ کھانے کی خوشبو سے ہی کچھ تقویت طبیعت کو پہنچائیں۔ (6) امام ابو حاتم رازی محدث نے طالب علمی میں بھوک سے اپنے کپڑے بیچ ڈالے۔ (7) امام ابن جریر طبری نے طالب علمی میں تنگی خرچ سے اپنے کُرتے کی دونوں آستینیں بیچ ڈالیں۔ (8) شیخ ابو العلا بغدادی مسجد کی روشنی میں کھڑے کھڑے لکھ رہے تھے اگر تیل کے خریدنے کی قدرت ہوتی تو اتنا دکھ نہ اٹھاتے۔ (9) حکیم ابو نصر فارابی رات کو چوکیدار کی قندیلوں سے کھڑے کھڑے کتاب کا مطالعہ کرتے تھے۔ طلب علمی میں دور دراز سفر (1)حضرت سعید بن المسیب تابعی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک ایک حدیث کی خاطر کئی راتوں اور دنوں کو پا پیادہ چلاہوں۔ (2)امام دارمی نے حدیث کی طلب میں حرمین شریفین خراسان عراق شام اور مصر کا سفر کیا۔ (3)امام بخاری نے چودہ برس کی عمر میں اپنی والدہ اور خواہر(بہن) کی نگرانی میں بخارا سے لے کر مصر تک سارے ممالک طلب علم میں چھان ڈالے۔ (4)امام تسوی نے تیس برس سفر میں بسر کردیئے۔ (5)شیخ الاسلام بقی بن مخلا نے دو سو اسی شیوخ سے حدیث روایت کی خود فرماتے ہیں کہ میں ہر ایک شیخ کے پاچ پیدل گیا۔ (6)ابن حیان محدث اندلس (اسپین) نے حدیث اندلس عراق حجاز اور یمن کے شیوخ سے حاصل کی اور یمن اسپین سے براہ راست ساڑھے تین ہزار میل سے زیادہ ہے۔ (7)ابن المقری نے صرف ایک نسخہ ابن فضالہ کی خاطر ستر (70) منزل کا سفر کیا تھا۔ اور ایک معمولی منزل بارہ میل کی ہوتی ہے کل سفر آٹھ سو چالیس میل ہوا۔ (8)مادر زاد نابینا حافظ الحدیث ابو العباس رازی نے حدیث شریف کے لئے بلخ بخارا، نیشاپور اور بغداد کا سفر کیا، بلخ سے بغداد (365) میل ہے۔ (9)حافظ طاہر مقدسی نے تمام سفر پیادہ کئے اور کتابوں کی گٹھڑی بھی سر پر ہوتی۔ سفر کی کوفت اور بوجھ کی مشقت سے پیشاب میں خون آنے لگتا۔ محدث موصوف کے مقامات سفر درج ذیل ہیں۔ بغداد،مکہ،جزیرہ تنس(واقع بحیرہ روم)،دمشق،حلب،جزیرہ اصفہان،نیشاپور،ہرات،وحبہ،لوفان،مدبہہ،نہا وند،ہمدان،واسطہ سادہ اسد آباد،انبار،اسفرائن،آمل،ہواز،بسطام،خسرو حرد،جرجان،آمد،استر آباد،بوسنج،بصرہ،دینورری،سرخش،شیراز،قزوی ن،کوفہ مزید واقعات کی تفصیل فقیر کی کتاب میں ہیں۔ یہ چند نمونے موجودہ طلبہ سمجھداروں کے لئے کافی ہیں۔ لیکن افسوس ہے ہمیں موجودہ طالب علموں سے کہ باوجود یہ کہ چپہ چپہ مدارس اور پھر ان میں اعلٰی انتظام اور پھر گھر واپس آنے جانے کے لئے کرایہ جات کے علاوہ جیب خرچ۔ والدین سے علیحدہ اور مدارس سے علیحدہ اور کتب ضروریہ مفت،مطالعہ کا انتظام،مدرسین کی خدمات مفت مہتمم کی شب و روذ جدوجہد سوا عوام کی نیاز مندی کے علاوہ، دنیوی عزت مزید، لیکن بایں ہمہ ناقص بلکہ انقص واقع ہوتے ہیں۔ نہ کتاب سے انس نہ مطالعہ میں دلچسپی نہ استاد کی عزت نہ رفقاء سے محبت اور نہ مدرسے سے لگاؤ۔ بلکہ خود دین سے بیزاری،سینما بینی کا مشغلہ نماز سے بے تعلقی،اخلاق حسنہ سے دوری،نفسانیت و ہوائے نفس سے بھرپور، زنانہ بناؤ سنگار میں مصروف خدا تعالٰی کا ترس،نہ اپنے پیارے نبی کریم خلق العظیم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی پاسداری کا خیال۔ نہ رات کو مطالعہ کریں گے نہ دن کو اسباق پڑھتے وقت دل لگائیں گے بلکہ اثناء درس میں بھی دل کا رخ کسی اور طرف ہوگا۔ کتابوں کی حالت دیکھو تو جہاں مرضی آئی پھینک ڈالیں۔ نہ ہی استاذ صاحب کے احترام کا خیال بلکہ آنکھوں دیکھی بات ہے کہ استاذ سے بغض و عناد شاید وہی زمانہ آگیا کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کے اٹھنے کا ذکر فرمایا تو حضرت زیاد بن بعید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی "کیف یذھب لمعلم و نحن نقرأ القران و نقرأہ ابنائنا و نقرأ ابنائنا ابنائھم الی یوم القیمہ" کیسے علم اٹھ جائے گا حالانکہ قرآن ہم بھی پڑھتے ہیں اور اپنی اولاد کو پڑھائیں گے پھر ہماری اولاد اپنی اولاد کو پڑھائے گی یہ سلسلہ تاقیامت چلا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھئیے یہ یہود و نصاری اپنی کتابوں کو پڑھتے پڑھاتے نہیں رہے لیکن صرف پڑھنا مقصود نہیں بلکہ اس کا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا مقصود ہے۔ یہی حالت آج ہماری ہے کاش ہمارے احباب اپنی حالت کو درست کرلیں میں نے صرف الدین النصیحۃ کی غرض سے کتابچہ لکھا تاکہ ہمارے احباب دینی کتب کے مطالعہ کا ذوق پیدا کریں۔ خدا کرے یہ میری حقیر خدمت قبول ہو جائے۔ جو حضرات اس سے مستفید ہوں فقیر مؤلف کے لئے دعا فرمائیں۔ اگر کوئی غلط لفظ یا مضمون لکھا گیا تو اطلاع دیں۔ فقیر اویسی 2 ربیع الاول 85ھ بروز جمعہ اگر آپ کو خدا تعالٰی توفیق دے بوقت فرصت فقیر کی دیگر تصانیف کا مطالعہ فرمایا کریں۔ ثواب دارین کے علاوہ آپ کی دینی معلومات میں اضافہ ہوگا۔ مختصر فہرست کتب پچھلے صفحات پر ملاحظہ ہو۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ الحمدللہ وکفی والصلوۃ والسلام علی عبادہ اصطفی تمھید علم کی دولت ایسی نایاب چیز ہے کہ جو نہ زر سے ملے اور نہ زور سے بلکہ یہ ایک فضل ایزدی ہے جسے نصیب ہوجائے کما قال علیہ السلام من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین یہ دولت جس طرح عطائی ہے اسی طرح کسبی بھی ہے لیکن اس کسبی کو بھی عطائی سے تعبیر کیا جائے گا۔ جبکہ طالب علم اس کے حصول میں پورے شرائط کو بجالانے کی کوشش کرے اور معطی العلم سے توفیق و فیض کے لئے دست بدعا رہے۔ منجملہ ان شرائط کے ایک مطالعہ کتب بھی ہے لیکن افسوس کہ زمانہ حال کے طلبہ و علماء حضرات عموماً بے پرواہی فرمارہے ہیں جس سے علم کے اٹھنے کی یہی ایک وجہ ہے کہ جب تک کتاب کو مفہوم اور مطلب سمجھ نہ آئے اپنا ااجتہاد کہاں تک کام آئے گا۔ اس مختصر رسالہ میں مطالعہ کے چند فضائل و فوائد پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں گر قبول افتد زہے عزّ و شرف فقیر اویسی غفرلہ باب اول (1) قال اللہ تعالی: فلو لا نفر من کل فرقہ منہم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین۔ ترجمہ: کیوں نہیں کہ ان کے ایک گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں فائدہ:۔ اس آیت شریف میں علم دین کے حصول کی نہ صرف ترغیب و تحریص دلائی جارہی ہے بلکہ اس کے سمجھنے کے لئے بھی ارشاد ہو رہا ہے اور مطالعہ کتب کے بغیر دین کی سمجھ خاک حاصل ہوگی۔ لامحالہ اس سے کتب بینی کی تحریص و ترغیب بھی ہے۔ (2)قال علیہ السلام لان تغد فتعلم با با من العلم خیر من ان تصلی مائتہ رکعتہ( ابن عبدالبرو الطبرانی) ( احیاء ص 8 ج 1) علم کا ایک باب (مسئلہ وغیرہ) حاصل کرنا سو رکعت پڑھنے سے بہتر ہے۔ (3)قال علیہ السلام باب من العلم یتعلمہ الرجل خیر لہ من الدنیا و مافیہا (احیاء العلوم) ( ابن عبدالبرو و الطبرانی ج 1 ص 8) علم کا ایک باب ( مسئلہ قاعدہ وغیرہ) حاصل کرنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ (فائدہ) ظاہر ہے کہ کتاب کے مطالعہ سے ہر فن کا نیا مسئلہ اور نیا قاعدہ حاصل ہوتا ہے خواہ اس کتاب کو ہزار بار مطالعہ کریں جیسا کہ آگے چل کر عرض کروں گا۔ انشاء اللہ العزیز (4)قال ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما تدارس العلم ساعۃ من اللیل خیر من احیائہا (رواہ الدارمی) رات کے کسی حصے میں علم کا پڑھنا ساری رات کے زندہ رکھنے(عبادت کرنے) سے بہتر ہے۔ (فائدہ) حضرت شاہ عبدالحق صاحب محدث دہلوی قدس سرہ اشعۃ اللمعات ص 185 ج 1 میں فرماتےہیں، درس گفتن علم و خواندن بایکدیگر و بحث و تحقیق و مذاکرہ کردن علم یک ساعت از شب بہتر است از زندہ گردانیدن تمام شب و نماز دن دراں۔ (ف)شاہ صاحب قدس سرہ کا قول حدیث شریف کے ترجمہ کی تائید کے لئے ہے۔ ورنہ دانا را اشارہ کافیست۔ اب سوچئے کتاب کے صرف ایک گھنٹہ یا کم و بیش مطالعہ سے انسان کو ساری رات نہ صرف عبادت کا ثواب ملتا ہے بلکہ( کما قال الشیخ المحقق قدس سرہ تجت ھذا الحدیث زندہ دلوا نیدن نفس خود رادر شب الخ) وہ مکاشفات و مشاہدات جو صوفیائے کرام یا اونچے طبقہ کے لوگوں کو شب بداری سے نصیب ہوتے ہیں ان سے بڑھ کر مطالعہ کا درجہ ہے۔ لیکن ہائے افسوس کہ آج مطالعہ کتب کی چاشنی علماء و طلبہ سے اٹھتی جارہی ہے قال ابو الدرداء لان اتعلم مسئلتۃ احب الی من قیام لیلتۃ (احیا ص ۹ ج ۱) یعنی میرے نزدیک ساری رات کے جاگنے سے کسی ایک مسئلہ کا سمجھنا بہتر ہے۔ امام شافعی کا مسلک طلب العلم افضل من النافلتہ علم کی طلب نوافل پڑھنے سے افضل ہے۔ (احیاء ص 9 ج 1) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی اپنے شاگرد کو تنبیہ عبدالحکیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ظہر کی اذان کے بعد میں کتابیں لپیٹتا ہوا نماز کی طرف اٹھنے لگا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا " فقال یا ھذا ماالذی قمت الیہ بافضل مما کنت فیہ اذا صحت النیتہ" اے فلاں یہ کیا کررہا ہے جس عبادت میں تو بیٹھا ہے وہ اس عبادت سے افضل ہے جس کی طرف تو جارہا ہے۔ اگر نیت نیک ہے تو (اقول) اس سے یہ سمجھنا کہ آپ نے فرض کی ادائیگی سے بھی روکا ہے یا نماز باجماعت ہے، آپ کا روکنا صفر سنن کے بغیر نوافل کے لئے پے۔ باب دوم مطالعہ کتب ایک ایسا بیش بہا خزانہ ہے کہ جس سے انسان نہ صرف دینہ پیشوا بن سکتا ہے۔ بلکہ روحانی مقتدا بننے کے علاوہ دین و دنیا کی مرکزیت حاصل کرلیتا ہے۔ اب میں چند فضالہ کا ذکر حکایات میں پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے صر کتب بینی کے ذریعہ سے دنیا کو اپنے قدموں میں جھکایا۔ (1) حکیم ابو نصر فارابی جن کا عالم میں بڑا شہرہ ہے زمانہ طالب علمی میں رات کو راستہ میں پاسبانوں کی قندیلوں تلے کھڑے ہو کر کتاب کا مطالعہ کرتے تھے (تذکرۃ الحفاظ ص 120 ج 4) (فائدہ) ان کے پاس اتنی فرصت نہ تھی کہ اپنا تیل خرید کر کے مطالعہ کا انتظام کرتے لیکن آج ہم ہیں کہ بجلیاں قمقمے شاندار روشنی یا کم از کم مٹی کا تیل عام مہتمم و منتظمین کی طرف سے بھی اور عوام بھی خدمت کرنے کو ہیں لیکن شومئے قسمت کہ کتاب کے مطالعہ سے پھر بھی محروم۔ (2)سیدنا شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مطالعہ اور کتب بینی کا حال خود یوں بیان فرماتے ہیں۔ محدث قدس سرہ نے اشعار میں اپنا شب و روز کا مشغلہ بتایا ہے۔ گویا اس کی شرح ذیل کا واقعہ ہی ہے دور طالب علمی میں شغل مطالعہ کا تذکرہ خود اپنے قلم سے رقم طراز ہیں کہ از ابتدائے ایام طفولیت نمی دانم کہ بازی چیست و خواب کدام مصاحبت کیست و آرام چہ و آسائش کو دسیر کجا بچپن سے میرا یہ حال تھا کہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ کھیل کود کیا ہے خواب مصاحبت آرام و آسائش کے کیا معنی ہیں میں نہیں جانتا کہ سیر کیسی ہوتی ہے شب خواب چہ و سکون کداست خود خواب بعاشقاں حراست خورد و نوش ہر گز در شوق کسب دکار طعام بوقت نخوردہ و خواب در محل بزدہتحصیل علم میں مشغولیت کی بناء پر کھانا کبھی وقت پر نہیں کھایا اور نیند بھر کر نہیں سویا حصول تعلیم کے لئے مشقت ہر روز باوجود غلبہ برودت ہوائے زمستان و شدت حرارت تابستاں دو بار بمد دہلی کہ شاید از منزل ما بعد دو میل مے کردم درمیان روز ادنی و فقہ در غریب خانہ بسبب تناول چند لمقہ کہ سبب عادی قوام حرکت ارادی است واقع می سند دائم پدر و مادر من درپے آن لودند کہ یکدم باکود کان جاء بازی کنم یا شب بوقت متعارف پادراز کشم و من می گفتم کہ آخر غرض از بازی خٓطر خوش کرد نست و مرا خاطر بہ ہمیں خوش است کہ چیزے بخوائم یا مشقے کنم میں جاڑے کی ٹھنڈی اور گرمی کے جھلسا دینے والے جھونکوں میں ہر روز دوبار دہلی کے مدرسہ میں جاتا تھا، جو ہمارے مکان سے تقریباً دو میل کے فاصلہ پر ہوگا دوپہر کو تھوڑی دیر گھر ٹھر کر چند لقمے ضرورۃً کھالیتا تھا میرے والدین ہر چند کہتے تھے کہ تھوڑی دیر کے لئے قوم کے لڑکوں کے ساتھ کھیل لو اور وقت پر سو جاؤ میں کہتا تھا کہ آخر کھیلنے سے مقصد دل کا خوش کرنا ہی تو ہے میرے طبیعت اس سے خوش ہوتی ہے کہ کچھ پڑھوں یا لکھوں۔ مطالعہ کتب اور شب بیداری گاہے در اثنائے مطالعہ کہ از نیم شب درمی گذشت والدم قدس سرہ مرا فریادمے زدکہ بابا! چہ می کنی۔ من فے الحال درازی کشیدم تادروغ واقع نشود و می گفتم کہ خفتہ چہ می فرمایند باز بر من می نشستم و مشغول می شدم کبی مطالعہ کے دوران میں ایسا بھی ہو کہ آدھی رات گذر گئی میرے والد صاحب نے مجھ سے فریاد کی کہ بابا! کیا کرتے ہو میں سنتے ہی فوراً لیٹ جاتا کہ جھوٹ واقع نہ ہو اور کہتا کہ میں سوتا ہوں آپ کیا فرماتے ہیں جب وہ مطمئن ہوجاتے تو پھر اٹھ بیٹھتا اور مشغول ہوجاتا۔ اور بسا اوقات یوں بھی ہوا مطالعہ کے اثناء میں نیند کے غلبہ سے سر کے بال اور عمامہ جلتے چراغ میں جل جاتے لیکن شیخ مطالعہ کے ذوق سے بدستور منہمک رہتے۔(سوانح شیخ عبدالحق محدث دہلوی) یہی وہ شیخ محدث ہیں جن کی بدولت آج ہندو پاک میں علم حدیث پڑھ کر علماء کی صف میں بیٹھا جاتا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے طلبہ و بعض علمائے کرام مطالعہ کا نام تک نہیں لیتے۔ (3) استاذی مولانا سردار احمد صاحب لائلپوری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ کا مطالعہ کا ذوق اتنا تھا کہ رات ہو یا دن سفر ہو یا حضر، تندرست ہوں یا بیمار،ہروقت اور ہر حالت میں کتب بینی میں مصروف نظر آتے۔ اجمیر شریف زمانہ طالب علمی میں ایک مرتبہ آپ گر پڑے اور سر پر سخت چوٹ آئی۔ چنانچہ ڈاکٹروں نے مکمل آرام کرنے کا مشورہ دیا اور کتب بینی کی ممانعت کردی لیکن اس کے باوجود آپ کی شدت اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ اپنی تکلیف کی پرواہ کئے بغیر تیمارداروں سے نظر بچا کر مطالعہ میں مصروف رہتے۔ (نوری کرن بریلی۔ رضائے مصطفیٰ گوجرنوالہ) (4)حضرت امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کا مطالعہ کا وقت یہ عالم ہوتا کہ ادھر ادھر کتابیں ہوتیں اور ان کے مطالعہ میں ایسے مصروف ہوتے کہ دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہتی۔ بیوی کو کب گوارا ہوسکتا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی اس قدر گنجائش شوہر کے دل میں ہو چنانچہ ایک روز بگڑ کر کہا" واللہ لھذا الکتب اشد علی من ثلث ضرائر" اللہ کی قسم یہ کتابیں مجھ پر تین سو کنوں سے زیادہ بھاری ہیں(ابن ج 1 ص 451) (5)امام شافعی کے جلیل القدر شاگرد امام مزنی نے اپنے استاد کی کتاب الرسالہ کا پچاس برس مطالعہ کیا ۔ اور وہ خود ناقل ہیں کہ ہر مرتبہ کے مطالعہ میں مجھ کو نئے نئے فوائد حاصل ہوتے گئے۔ (6)ارسطو کی کتاب النفس کا ایک نسخہ کسی کے ہاتھ لگا جس پر حکیم ابو نصر فارابی کے قلم کی یہ عبارت تھی" انی قرات ھذا الکتاب مائتہ مرۃ" میں نے اس کتاب کو سو مرتبہ پڑھا ہے۔ (بن ج 2 ص 72) (7)مولانا حماد الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک رات طلبہ کے حجروں میں مخفی طور پر گشت کیا ایک طالب علم کو دیکھا کہ تکیے سے لگا ہوا مطالعہ کتاب میں مصروف ہے۔ دوسرے کو دیکھا کہ دوزانو مستعد بیٹھا ہے کتاب زیر مطالعہ ہے اور موقعہ موقعہ سے لکھتا جاتا ہے یہ دیکھ کر تجربہ کار استاد نے پہلے کی نسبت کہا" انہ لا یبلغ درجتہ الفضل" یہ مرتبی فضیلت کو کسی طرح نہیں پہنچ سکتا۔ دوسرے کی نسبت فرمایا" سیحصل الفضل و یکون لہ شان فی العلم" یہ البتہ فاضل ہوگا اور شان علماء حاصل کرے گا تجربہ نے ثابت کردیا کہ پیشن گوئی سچی تھی (شق ج 1 ص 35) (8)شیخ الرئیس فرماتے ہیں طالب علمی میں میں نے کتاب "مابعد الطبیعتہ" کا چالیس برتبہ مطالعہ کیا۔ لیکن کچھ پرہ نہ چلا اگرچہ عبارت تمام یاد ہوگئی اتفاقاً اسی عرصہ میں میرا کتب فروشوں سے گذر ہوا ایک شخص میرے ہاں کتاب لایا اور مجھ سے کہا یہ "مابعد الطبیعتہ" کے فن میں ہے میں نے انکار کیا اس کے اصرار سے مجبوراً خریدلی کھولی تو ابو نصر فارابی کی تصنیف نکلی بڑی خوشی ہوئی چنانچہ مطالعہ سے مشکل حل ہوگئی۔ (عیون ج 2 ص 4) (9)امام رازی مصنف تفسیر کبیر وغیرہ فرمایا کرتے "انی انا سف فی الفوات عن الاشغال بالعلم فی وقت الاکل فان الوقت والزمان عزیز" خدا کی قسم مجھ کو کھانے کے وقت علمی مشاغل کے چھوٹ جانے پر افسوس ہوتا ہے کیوں کہ فرصت کا وقت بہت عزیز چیز ہے۔(عیون ص 23 ج 2) (10)امام یحییٰ ناقل مؤطا مدینہ منورہ میں ایک روز امام مالک کے درس میں حاضر تھے کہ غوغا اٹھا کہ ہاتھی آیا۔ عرب میں ہاتھی عجوبہ چیز ہے اس آواز سنتے ہی سارے طلبہ درس چھوڑ کر بھاگ اٹھے۔ مگر یحییٰ اسی طرح اطمینان سے بیٹھے رہے۔ امام صاحب نے فرمایا اے یحییٰ تمھارے اندلس میں ہاتھی نہیں ہوتا تم بھی جاکر دیکھ آؤ جواب دیا حضور اندلس سے میں آپ کو دیکھنے اور علم سیکھنے آیا ہوں ہاتھی دیکھنے کے لئے یہاں نہیں آیا ہوں۔ (ابن ج ص216) چہ کنم چشم بدمن نکند بہ نگاہے (11)ابو بکر بن بشار ادب کے مشہور امام بغداد میں شاہزادوں کے اتالیق (ادب سکھانے والا معلم)تھے ایک روز قصر خلافت کو جاتے ہوئے نخاس سے گزرے وہاں ان دنوں ایک حاریہ آئی ہوئی تھی جس کے حسن و سلیقے کا سارے بغداد میں شہرہ تھا ابن بشار اس کو دیکھ کر مفتون ہوگئے۔ جب دارلخلافہ میں پہنچے تو خلیفہ نے پوچھا آج کیوں دیر ہوگئی انہوں نے ماجرا سنایا خلیفہ نے سن کر خفیہ طور پر وہ جاریہ خرید کر کے ابن بشار کے مکان پر ان کے پہنچنے سے پیشتر پہنچادی جب علامہ ممدوح اپنے مکان پر واپس آئے تو جاریہ کو بیٹھے پایا دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اس کو بالاخانے بھیج دیا اور خود وہیں بیٹھ کر ایک علمی مسئلہ کی تحقیق میں مصروف ہوگئے غور کرتے تو طبیعت کا لگاؤ اس جاریہ کی طرف ہوجاتا ابن بشار رحمۃ اللہ علیہ نے خادم کو آواز دی اور فرمایا اس جاریہ کو واپس لے جاؤ کیوں کہ مطالعہ میں خلل آتا ہے چنانچہ حسب الحکم خادم جاریہ کو واپس کر آیا (12)ابو البرکات طبیب مشہور ابتداء میں موسوی ملت کے پیرو تھے ان کے استاد طب ابوالحسن کی عادت تھی کہ منکرین مسیح (علیہ السلام) کو طب نہیں پڑھاتے تھے۔ ابو البرکات ان کے پاس گئے لیکن ناکام واپس لوٹے مایوسی کے بعد شوق نے ایک راہ بتلائی کہ دربان کو بلایا اور درس کے وقت دروازے میں چھپ کر بیٹھے۔ نحواحم داد دربان ترا بہر دروں زحمت پسند است ایں کہ گاہے بینم آں دیوار بیروں را سال بھر کامل اسی طرح تعلیم کا فیض حاصل کرتے رہے ایک دن کسی مسئلہ میں الجھاؤ پڑگیا جس کا حل کسی طرح نہ ہوسکا آخر جسارت کرکے نکل آئے کہا اجازت ہوتو کچھ عرض کروں استاد صاحب نے اجازت دی اور انہوں نے کسی کے قول سے حل کرکے کہا کہ فلاں روز یہ قول آپ نے ہی نقل فرمایا تھا ابوالحسن نے حیرت سے پوچھا کہ تم نے پیرا بیان کیوں کر سنا انہوں نے گذشتہ حٓل عرض کیا حکیم موصوف کے دل پر ان کے شوق کا گہرا اثر پڑا اور اعتراف کیا کہ ایسے طالب کو محروم رکھنا جائز نہیں چنانچہ اسی روز سے ابوالبرکات کو شامل درس کرلیا۔ (عیون ص 279 ج 1) (13)امام ادب، ابوالعباس ثعلب الحانوی کا اکانوے(91) برس کی عمر کو پہنچ چکے تھے لیکن ذوق مطالعہ ابھی جوان تھا۔ یہاں تک کہ ایک دن جمعہ کے بعد مسجد سےمکان کو جانے لگے۔ راستہ میں کتاب دیکھتے جاتے تھے کتاب میں اس قدر محویت تھی کہ گھوڑے کا دھکا لگا اس صدمے سے بہوش ہوکر زمین پر گر پڑے۔ لوگ غشی کی حالت میں اٹھا کر مکان پر لائے ضعف پیری نے دم بر نہ ہونے دیا آخر اسی حالت میں انتقال فرماگئے۔۔ ہمارے علماء و طلبہ ان کے ذوق مطالعہ کو دیکھیں اور ضعف پیری کو بھی اور پھر راہ نوردی میں کیا خوب کہا گیا ہے چہ حالت است ندانم جمال سلمارا کہ بیش دید نش افزوں کند تمنارا (14)علامہ سید شریف کو ایام طالب علمی میں یہ شوق ہوا کہ شرح مطالع خود اس کے مصنف سے پڑھیں۔ اسی دھن میں ہر رات پہنچے اور علامہ رازی رحمۃ اللہ علیہ سے ملے۔ ان کی عمر اس وقت دسویں منزل کی انتہا کو پہنچی تھی اور قوٰی اپنی آخر بہار دکھا رہے تھے کہن سال علامہ نے جوان ہمت سید کو پڑھانا اپنی طاقت سے باہر سمجھ کر ان سے کہا کہ تم میرے شاگرد مبارک شاہ کے پاس قاہرہ چلے جاؤ اس کا پڑھانا میرا پڑھانا ہے اور چلتے وقت سفارش نامہ دیا میر سید شریف کو شوق نے خراسان سے مصر پہنچایا۔ قاہرہ پہنچ کر مبارک شاہ سے ملے اور استاذ صاحب کا خط پیش کیا۔ سفارش کی وجہ سے حلقہ درس میں شامل تو کرلئے گئے لیکن مستقل سبق مقرر نہ ہوسکا اور نہ ہی جماعت قرأت کی اجازت ملی مجبوراً سماع پر قانع ہونا پڑا۔ رات کو مطالعہ میں کافی وقت گذر جاتا ایک دن مبارک شاہ صحن مدرسہ میں ٹہل رہے تھے کہ ایک جانب سے کسی کی آواز کان میں آنے لگی۔ متوجہ ہو کر سنا کہ میر سید شریف کہہ رہے تھے قال المصنف کذا و قال الاستاذ کذا و اقول کذا یعنی مصنف نے یوں فرمایا ہے اور استاذ صاحب نے یوں کہا اور میں یوں کہتا ہوں مبارک شاہ کو سید شریف کا بیان دل میں گھر کرگیا اور صبح اٹھتے ہی ان کو سب طلباء پر مقدم کردیا(شقاق نعمانیہ ص 168 ج 1) اس قسم کے واقعات بے شمار ہیں فقیر نے صرف ذوق مطالعہ کے اضافے کے لئے چند ایک بلالحاظ شان وغیرہ لھد دیئے۔ ورنہ ہر ایک فن کے علماء و فضلاء کا یہی حال رہا اور میرا ذاتی تجربہ ہے کہ علم نصیب بھی مطالعہ سے ہوتا ہے یہ خام خیال ہے کہ عالم ہو اور مطالعہ نہ ہو وہ عالم نہیں بلکہ جاہل ہے اگر کوئی چاہے کہ میں وقت کا امام بن جاؤ تو اسے چاہئیے کہ جس فن کا امام بننا چاہے وہ اس فن کی ہر کتاب کا غور سے اور بار بار کرے باب سوم نکتہ اول۔ مطالعہ کا مادہ طلوع ہے۔ اور طلوع پر وہ غیب سے عالم ظہور میں آنے کو کہتے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے "طلعت الشمس" یعنی سورج عالم غیب سے عالم ظہور میں نمودار ہوا۔ اور مطالعہ مفاعلہ کا باب اور مفاعلہ میں جانبین سے برابر کے عمل کو کہتے ہیں اب مطالعہ کا معنی یہ ہوا کہ ادھر طالب علم نے اپنی توجہ کتاب کی طرف مبذول فرمائی ادھر کتاب نے طالب علم کو اپنے فیوض و برکات سے نوازا اب دونوں کے گہرے رابطہ سے کام بن گیا۔ نکتہ دوم۔ کسی کو بار بار غور سے دیکھا جائے تو اگرچہ وہ غیر واقف ہو لیکن بار بار دیکھنے سے وہ سمجھتا ہے کہ شاید اسے میرے سے کوئی تعلق ہے اس لئے دیکھنے والے سے وجہ پوچھتا ہے اسی طرح طالب علم نے کتاب کو جب بار بار دیکھا تو کتاب کو اس کے حال پر رحم آیا تو اس نے اپنے انوار و برکات سے طالب علم کو بھر پور کردیا۔ نکتہ سوم۔ کسی اپنے یا پرائے کے گھر جاؤ گے تو وہ آنے کا حال پوچھتا ہے پھر گھر پر آنے کی لاج رکھنے کی خاطر اس کا کام بھی کردیتا ہے اسی طرح جب طالب علم نے کتاب کھولی تو گویا وہ علم و فن کے دروازہ پر پہنچ گیا۔ اب علم کوئی ایسا بے مروت نہیں کہ اپنے گھر آنے والے سے بدسلوکی کا برتاؤ کرے بلکہ اس کو فیوض و برکات سے مالا مال کر دے گا۔ نکتہ چہارم۔ سخی کا کام ہےکہ سائل کو محروم نہیں لوٹاتا۔ کیا علم کوئی ایسا بخیل ہے کہ طالب علم سائل کو اپنی سخاوت سے محروم لوٹا دے گا۔ نکتہ پنجم۔ علم ایک مخفی خزانہ ہے جس طرح مخفی خزانہ کی ٹوہ میں وقت ہوتی ہے اور نہایت مشقت کت بعد میسر ہوتا ہے اسی طرح علم کے حصول میں کتاب کے مطالعہ میں خوب دماغ سوزی کی جائے تاکہ علمی جواہرات نصیب ہو۔ نکتہ ششم۔ جس کی ملاقات کی تمنا ہوتی ہے اس کے ملنے کے لئے اس کے دروازہ پر بار بار حٓضری دینی پڑتی ہے اور پھر طبع اکتاتی بھی نہیں عین اسی طرح علمی پیاس بجھانے کے لئے کتاب کو بار بار غور سے دیکھنا چاہئیے تاکہ محبوب علم بے نقاب ہوکر بازیابی بخشے ۔ نکتہ ہفتم۔ علم ایک معنوی نور ہے جس طرح معنوی نور کے حصول میں اوراد و وظائف اور شب بیداری و قلت طعام اور قلت کلام و ترک مجالس انام کی ضرورت ہے اس کے لئے بھی نہایت لازمی۔ نکتہ ہشتم۔ علم افعال قلب سے ہے جب تک قلت اسے پورے دھیان سے نہ حاصل کرے صرف زبانی کلام رٹ لگانے سے کام نہیں بنے گا۔ نکتہ نہم۔ علم اللہ تعالٰی کی صفات سے ہے جب تک بندہ تخلقو ابا خلاق پر کار بند نہ ہو اس مرتبہ پر پہنچنا دشوار کام ہے۔ نکتہ دہم۔ علم سے سیدنا آدم علیہ السلام ملائکہ کے مسجود اور ان سے افضل ٹھرے اسی طرح ان کی اولاد بھی اگر علم کی دولت سے بہرہ ور ہوجائے تو ملائکہ اس کی پرواز سے عاجز بلکہ خادم ہوجاتے ہیں۔ نکتہ یازدہم۔ علم تمام عبادات یہاں تک کہ جہاد سے بھی افضل ہے جیسا کہ حدیث باب اول میں گذرا۔ اور علامہ زرنوجی تلمیذ صاحب ہدایہ رحمہمااللہ تعالٰی تعلیم المتعلم میں فرماتے ہیں" ھو افضل من الغزوات عنہ کثر العلماء" وہ یعنی علم اکثر کے نزدیک غزوات سے افضل ہے۔ بہر حال علم کے حصول اور پھر اس میں دھن لگانا کسی قسمت والے کو نصیب ہوتی ہے باب چہارم (قاعدہ)بھوکے پیٹ یا کم از کم پیٹ کو تھوڑا خالی رکھ کر مطالعہ کیا جائے اندروں از طعام خالی دار تادر و نور معرفت بینی تہی از حکمتی بعلت آں کہ پری از طعام تا بینی (قاعدہ)یکسوئی و تنہائی میں جہاں شور و غل نہ ہو اور نہ ہی کوئی امر طبیعت کے لگاؤ میں مانع ہو۔ اگر ایسا موقعہ میسر نہ ہو تب بھی خود کو تنہائی میں تصور کرکے مطالعہ میں لگ جائے۔ (قاعدہ)بہتر وقت بعد مغرب تا عشاء کا ہے سحر کا تو نہایت ہی موزوں وقت ہوتا ہے۔ (قاعدہ)کسی شئے کے ساتھ نہ تکیہ لگایا جائے اور نہ ہی کرسی یا چارپائی پر بیٹھنا چاہیئے بلکہ نیچے چٹائی پر ہاں معمولی دری یا گلیم وغیرہ اوپر بچھا سکتے ہیں۔ (قاعدہ)کتاب کو اولا اجمالی نظر سے محدود سطریں دیکھ لیں پھر دیکھی ہوئی عبارت کے ہر جملہ کو علیحدہ علیحدہ متعین کرنے کی کوشش کریں ہر جملہ کا سرسری نظر سے ترجمہ سمجھیں پھر گہری نظر سے دیکھے جائیں۔ جہاں الفاظ مشکل آجائیں اپنی طرف سے مناسب معنی بنالیں۔ پھر بعد کو لغات کی مستند کتابوں میں دیکھ لیں اسی طرح تا سبق یا ضرورت جو جملہ سمجھ نہ آئے اسے چھوڑتے جائیں جب اکثر جملے سمجھ میں آجائیں پھر ان سمجھے کو بار بار غور سے دیکھیں لیکن سمجھے ہوؤں کے ساتھ ملا کر اسی طرح بار بار کرنے سے حقیقت منکشف ہوجائے گی۔ لیکن مطالعہ کے کسی سے کوئی مطلب نہ پوچھیں اسی قاعدہ کی بدولت بہت بڑے بڑے فضلاء نے ان پڑھے فنون کو ازبر کیا۔ جیسا کہ سید میر شریف اور سیدی شاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہماوا مولانا سراج احمد مکھن بیلوی رضی اللہ تعالٰی عنہم (قاعدہ)کتاب کو اول سے آخر تک بالاستیعاب دیکھا جائے ایسا نہ ہونا چاہئیے کہ بعض اجزاء اِدھر سے اور بعض اُدھر سے۔ (قاعدہ)جو مضامین یاد ہوسکیں یاد رکھیں اور جب لکھیں جاسکے ایک جگہ لکھتے جائیں۔ بعض طلباء شکایتیں کرتے ہیں کہ اس وقت اگرچہ کتاب کے مضامین یاد ہوجاتے ہیں لیکن پھر بھول جاتے ہیں۔ واقعی یہ شکایت عموماً ہے لیکن یہ میرا ذاتی تجربہ ہےکہ ایک وقت مضمون یاد کرکے پھر بھول جانے سے کسی دوسرے وقت اسی کتاب یا دوسری کتاب سے یاد شداہ اول آسانی سے سمجھ آتا ہے۔ ثانیاً دوبارہ مطالعہ جات سے پھر ایسا یاد ہوجاتا ہے کہ پھر بھولنے کا نام بھی نہیں لیتا۔ (قاعدہ)جس کتاب کا مطالعہ شروع ہو ایک دم نہ سہی لیکن اس میں ایسے وقفے بھی نہ ہوں کہ جس سے برس یا کئی ماہ گزر جائیں وقفہ کرنے سے کتاب سے انس ہٹ جاتا ہے اور پے در پے کے مطالعہ سے کتاب مانوس ہوجاتی ہے۔ (قاعدہ)مطالعہ کتاب کے وقت ایک سفید کاپی کاغذ اور قلم دوات ساتھ ہوتاکہ جدید فوائد اس میں درج ہوسکیں۔ یا کم از کم ان فوائد پرنشانات ضرور لگاتے جائیں(مگر احتیاط رہے کہ کتاب بھی خراب نہ ہونے پائے)اس لئے یا تو باریک تراشی ہوئی پنسل سے لگائیں یا ایک علیحدہ کاغذ پر نوٹ کرتے جائیں پھر فارغ وقت میں ان نشان زدہ فوائد کو جب اپنی کاپی میں درج کرلیں تو ربڑ سے وہ پنسلی نشانات ختم کردیں تاکہ کتاب بھی محفوظ اور صاف ستھری رہے کیونکہ گر گڑی کتاب بھی طبیعت کو منتشر کرتی ہے شاہ عبدالحق محدچ دھلوی و دیگر سلف صالحین کا یہی طریقہ رہا بحمدہ تعالٰی فقیر کی بھی عادت طالب علمی سے یہی ہے عربی مقولہ ہے" من حفظ شیئا فرد من کتب شیئا قر" ترجمہ: جس نے کوئی چیز یاد کی وہ پختہ ہوگیا۔ (قاعدہ)جس فن کی کوئی کتاب دیکھیں اس سے قبل اس سے آسان کتاب کے سبق کا مطالعہ دیکھ لیں یا جو طالب علم بڑی کتاب کے سبق کا مطالعہ کرے اسے چاہئیے کہ وہ پہلے چھوٹی کتاب سے اسی سبق کا مقام دیکھ لے۔ مثلاً کافیہ پڑھنے والے یا اسی طرح کنز الدقائق پڑھنے والے اسی طرح حسامی پڑھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اسباق کے مقامات ہدایۃً النحو(کافیہ کے لئے) قدوری(کنزالدقائق کے لئے) نور الانوار(حسامی کے لئے) سے دیکھیں۔ (قاعدہ)کسی سے استفادہ کے لئے عار نہ کرے (قاعدہ)آج والے سبق کا مطالعہ سے قبل کل واے سبق کو دوبارہ ذہن نشین کرلیں تاکہ مطالعہ کے وقت ذہن ماقبل کو مابعد سے برتبط کرسکے۔ (قاعدہ)طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ کل والے سبق کو کم از کم پانچ بار ضرور دہرائے۔ (قاعدہ)سبق یا مضمون کتاب کو ایسا کھلے الفاظ اور برجستگی سے بیان کرے کہ نہ تو نہایت زور سے چلائے اور نہ ہی معمولی سے کہ طبیعت متاثر ہی نہ ہو۔ حکایت: حضرت قاضی ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ جب فقہاء کو فقہ کے مسائل نہایت قوت و برجستگی سے بیان فرماتے تو آپ کے داماد متعجب رہتے ان سے تعجب کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ آج ان کو پانچ دن سے کھانا نہیں ملا لیکن تاہم مسائل نہایت بسط و نشاط سے بیان فرمارہے ہیں(شرح تعلیم المتعلم) کذا کان استاذ حضرت مولانا سردار احمد خان لائلپوری رحمہ اللہ تعالٰی علیہ۔ (قاعدہ)دوسرے کو بیان سمجھاتے وقت ایسا کھلا اور واضح بیان کرے کہ اسے مضمون ذہن نشین ہوجائے اور جب تک اسے سمجھ نہ آئے یا دل گواہی نہ دے بیان سے خاموش نہ ہو۔ اس میں نہ صرف سامع کا فائدہ ہے بلکہ متعلم کو نہایت درجہ کے فوائد حاصل ہوں گے۔ چنانچہ اخفش سے جب کہ پوچھا گیا کہ تم نحو کے امام کیسے بنے تو انہوں نے کہا کہ میرے ہاں ایک بکرا تھا۔ جب میں استاد صاحب سے سبق پڑھ کر واپس لوٹتا تو اپنا سبق اس بکرے کو سمجھاتا۔ تقریر کے بعد آخر میں میں اس سے پوچھتا کہ کیا سمجھ آیا۔ جب تک وہ ہاں کے لئے سر نہ ہلاتا میں تقریر کرتا رہتا بعض طلبہہ کسی کو سبق سمجھانے سے جی چُراتے ہیں حالانکہ انہیں پتہ نہیں کہ دوسرے کو سجھانا خود اپنا علمی اضافہ ہے بحمدہ تعالی فقیر غفرلہ ربہ القدیر کا طالب علمی میں یہی دستور تھا اور بفضلہ و کرمہ ادراک تھوڑے ایام میں کھل گیا۔ (قاعدہ)کافی رات تک جاگے اور نیند کے دفعیہ کے لئے چند طریقے ہیں۔ (1)مغرب سے پیشتر کھانا کھالے تھوڑا کھائے(2)دوپہر کو تھوڑا آرام کرلیا کرے پھر صبح اٹھے تو نہایت مبارک گھڑیاں ہیں۔ (قاعدہ)مطالعہ کے وقت صرف کتاب کے مضمون کی طرف دھیان ہو اس وقت دنیا و عقبٰی کے دھندوں سے پاک ہو کر بیٹھے۔ (قاعدہ)طالب علم ہر وقت کتاب اپنے ساتھ رکھے جیسا کہ عربی مقولہ ہے: من لم یکم الدفتور فی کم لم تثبت الحکمتہ فی قلبہ" جس کے ہاتھ میں کوئی کتاب نہیں اس کے دل میں حکمت باقی رہ نہ سکے گی۔ اسی لئے فقیر اپنے احباب طلاب سے کہا کرتا ہے کہ جس نے ہر وقت اپنے ساتھ کتاب کو ساتھی نہیں بنایا وہ علمی دولتوں سے محروم ہوگا۔ (قاعدہ)سوائے علمی مشاغل کے اپنی زبان پر مہر سکوت لگائے اور خلوت میں رہے۔ آداب مطالعہ (1)مطالعہ گاہ میں جانے سے پہلے تمام عوائق و علائق دینوی و اخروی تفکرات کو برطرف کرکے جائیں۔ (2)مطالعہ سے پہلے وضو کرلیں کیوں کہ کتاب کو بے وضو ہاتھ لگانا علم سے محرومی کی دلیل ہے حضرت شمس الائمہ حلوانی فرماتے ہیں" انما فلت ھذا العلم بالتعظیم فانی ما اخذت الکاغذ الابالطہارۃ" مجھے علم صرف علم کی تعظیم سے نصیب ہوا کیوں کہ میں نے سادے کاغذ کو بھی وضو کے بغیر نہیں چھوا (تعلیم المتعلم) حکایت: شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر ہے کہ وہ اسہال(پیٹ کی بیماری) میں مبتلا ہوگئے اور ادھر کتاب لا مطالعہ کرنا بھی تھا تو ایک شب مں ستائیس بار وضو کرنا پڑا(تعلیم المتعلم) (3)اگر ہوسکے تو مطالعہ سے پہلے ایک دوگانہ نفل پڑھے (4)گھٹنے کے بل کتاب کو کسی اچھی جگہ چوکی وغیرہ پر رک کر مطالعہ کرے پھر نہ لیٹے اور نہ ہی سہارا لگائے ہاں پالتی گا سکتا ہے اور بیٹھے ہوئے کی صورت میں جس طرح چاہے بیٹھ سکتا ہے۔ (5)بلاضرورت درمیان میں بات نہ کرے (6)اگر کسی سے استفادہ کرنا پڑے تو عار نہ کرے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھاگیا کہ "بما درقت العلم" آپ نے اتنا بہت بڑا علم کیسے حاصل کیا آپ نے فرمایا"بلسان مسئول و قلب عقول" یعنی زبان زیادہ سوال کرنے والی اور دل زیادہ سمجھنے والے سے( التعلیم المتعلم) حضرت امام ابو یو سف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں" ما استنکفت من الاستفادہ مانحلت بالافادۃ" میں نے استفادہ کے لئے سوال کرنے سے عار نہیں کی اور کسی کو فائدہ دینے سے بخل نہیں کیا۔(تعلیم المتعلم) لیکن یہ بات اس طالب علم کے لئے مضر ہے جو کل کے سبق کا مطالعہ کررہا ہے ویسے دیگر اوقات میں اور دیگر فضلاء کے لئے یہ طریقہ نہایت موزوں ہے لیکن آج کل تو ہر شخص پھنے خاں ہے دوسرے سے استفادہ اپنی ہتک سمجھتا ہے۔ (7)جتنا سمجھ آجائے الحمد اللہ جو سمجھ نہ آئے تو دوگانہ مڑھ کر مصنف کی روح کو بخشے اور اپنے استاد کا تصور لے کر سو جائے۔ (8)اٹھتے ہی بار باران سمجھےکو سمجھے اور سمجھے ہوئے کو بھی دھیان میں رکھے (9)استاد صاحب کے سامنے جانے سے پہلے استاد صاحب کے آداب شان بجالاتے استاد صاحب کے آداب بجالانے سے بھی کئی عقدے لاینحل حل ہوجاتے ہیں۔ (10)استاد صاحب سے سبق سمجھتے وقت اپنے سمجھے ہوئے کی تصدیق کراتے اور نہ سمجھے ہوئے کو غور سے سمجھے۔ اور ان کے زائد فوائد بتائے ہوؤں کو نہایت ذوق سے یاد کرے(تلک عشرہ کاملہ)باقی زیادہ ضروری باتیں فقیر کی دوسری تصنیف میں ہیں۔ فصلی اللہ تعالی علی حبیبہ افضل الرسل والانبیاء و علی الہ و اصحابہ الکملاء و علی اولیاء امتہ و علی استاتذہ علم دینہ الطلباء طلبائے کرام سے اپیل آپ حضرات پر ہی ہماری نگاہیں لگی ہوتی ہیں کہ عنقریب آپ حضرات علم دین سے فارغ ہوکر دین کو چار چاند لگائیں گے۔ اگر خدا نہ کرے آپ ہی میں وہ عادتیں گھر کر گئیں ہیں جس سے اللہ تعالٰی ناراض اور شیطان راضی ہو تو فرمائیے پھر دین کا کیا حشر ہوگا۔ فلہذا خدارا اپنی صورت سیرت عادات اور خصلتوں کو دین نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش پر ڈھالیں تاکہ آپ سے ہماری وابستہ امیدیں پھلیں پھولیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ موجودہ حضرات طلبائے کرام سلف کا نمونہ بننے میں اپنے ہمجولیوں سے سبقت کرنے کی کوشش کریں گے خادم الطلبہء فقیر اویسی غفرلہ کتاب سے محبت کرو کتاب ہر دور میں تعلیم و تربیت کا اہم ذریعہ رہی ہے۔ اس کی ہیئت خواہ کچھ بھی رہی ہو ایک عہد سے دوسرے عہد تک ایک دماغ سے دوسرے دماغ تک علم منتقل کرنے کے لئے انسان نے تحریر کا سہارا لیا۔کبھی پتھروں پر نشان بنانے پیڑوں کی چھال استعمال کی کبھی چمڑے کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا اور کبھی کپڑے نے انسان کی مدد کی۔ انسانی ذہن کی ترقی کے ساتھ ساتھ طریقے بھی بدلتے رہے کاغذ ایجاد ہوا اور تحریر نے علامتوں نشانوں کو منازل طے کرکے الفاظ کی شکل اختیار کی اور انتقال علم کا موجودہ وسیلہ کتاب ہمارے سامنے آئی یعنی کتاب کی موجودہ شکل ضرور جدید ہے لیکن کتاب کا تصور اتنا قدیم ہے جب انسان نے پہلی بار اپنی بات اپنی سوچ اور فکر دوسرے کو منتقل کرنے کے لئے آواز سے ہٹ کر کسی بھی دوسرے مادی ذریعے کا استعمال کیا نہ صرف انتقال علم کے لئے بلکہ حصول علم کے لئے بھی۔ حصول علم قوموں کی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ہمارے مذہب اسلام نے اس کو جو اہمیت دی ہے کسی مذہب نے نہیں دی کہ نزول قرآن کریم کی ابتداء ہی لفظ " اقراء" یعنی پڑھ سے ہوتی ہے۔ حصول علم کی وکالت میں اس سے بڑھ کر کوئی دلیل نہیں ہے کہ خود اللہ تعالٰی انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ علم حاصل کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کا ہر عمل فرمان خدا کے تابع تھا فرمایا" علم حاصل کرو خواہ تمھیں چین جانا پڑے" (حدیث شریف) اور کتاب واحد ذریعہ ہے جو انتقال علم اور حصول علم میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے کتاب کی اہمیت محتاج بیان نہیں ہے اور اس ضمن میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ پوری دنیا یس کی حیثیت کو تسلیم کرتی ہے۔
  3. Jazak Allah Ubaid-e-Raza bhai..
  4. Bray karm! is Fiqray ki Wazahat farma dain..
  5. Raza

    BARZAKHI ZINDAGI

    Jazak Allah thanks for sharing
  6. كشف حقائق و اسرار و دقائق ظاہر کرنا حقیقتوں،رازوں اور باریک باتوں کو تصوف سے متعلق چند اشعار کی توضیح و تشریح To clarify some subtle points, facts and hidden secrets
  7. امور عشرين سنیوں کی پہچان میں بیس امور سنی اور غیر سنی میں امتیاز کرنے والے بیس امور کا بیان 20 ways to differentiate a Sunni and a deviant
  8. g rakh saktay hain... Ameer-e-AhleSunnat bhi rakhtay hain.or is ki targeeb bhi dilatay hain.
  9. Raza

    Qaflay main Chalo

    مدنی مُنّے ملیں قافلے میں چلو آکے تم با ادَب، دیکھ لو فضلِ رب آئو سارے چلیں قافلے میں چلو ہے نبی کی نظر قافلے والوں پر مُنّا مُنِّی ملیں قافلے میں چلو کھوٹی قسمت کھری، گود ہوگی ہری پائو گے راحتیں قافلے میں چلو چشمِ بینا ملے سُکھ سے جینا ملے روشن آنکھیں ملیں، قافلے میں چلو آفتوں سے نہ ڈر، رکھ کرم پر نظر ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو مرض گمبھیر ہو،گرچہ دِلگیر ہو بھی دیا مت ڈریں، قافلے میں چلو آپ کو ڈاکٹر، نے گو مایوس کر دل کی کلیاں کھلیں قافلے میں چلو غم کے بادل چھٹیں اور خوشیاں ملیں مل کے سارے کریں قافلے میں چلو ہو گا لطفِ خدا آئو بھائی دُعا پائو گے راحتیں قافلے میں چلو دل میں گر درد ہو ڈر سے رُخ زرد ہو مرحبا!ہنس پڑیں! قافلے میں چلو غم سے روتے ہوئے جان کھوتے ہوئے گرہوں مَسّے جھڑیں قافلے چلو زخم بگڑے بھریں پھوڑے پھنسی مٹیں آئو مل کر چلیں قافلے میں چلو اولیاء کا کرم، خوب لوٹیں گے ہم پائے گا صحتیں قافلے میں چلو باپ بیمار ہو، سخت بیزار ہو سب یہ نیت کریں، قافلے میں چلو دُھوپ میں چھائوں میں، جائوں میں آئوں میں پھر سے خوشیاں ملیں، قافلے میں چلو وَا ہو بابِ کرم،دُور ہوں ساے غم سب نہانے چلیں قافلے میں چلو ہوتی ہیں سب سنیں نور کی بارشیں کافروں کو کریں، قافلے میں چلو آئو اے عاشقیں، مل کے تبلیغِ دیں ان شاء اللہ چلیں قافلے میں چلو کافر آجائیں گے راہِ حق پائیں گے سب کریں کوششیں، قافلے میں چلو سنتیں عام ہوں، عام نیک کام ہوں ان شاء اللہ چلیں قافلے میں چلو کُفر کا سر جُھکے دیں کا ڈَنکا بجے غم کے سائے ڈھلیں، قافلے میں چلو آپریشن نہ ہو، کوئی الجھن نہ ہو مل کے سارے چلیں قافلے میں چلو آئو علمائے دیں بہر تبلیغِ دیں آ کے خود دیکھ لیں قافلے میں چلو ہے شِفا ہی شِفا مرحبا مرحبا آئو کوشش کریں قافلے میں چلو دور تاریکیاں کُفر کی ہو میاں خواب اچھے دِکھیں قافلے میں چلو لُوٹ لیں رحمتیں خوب لیں برکتیں آئو لینے چلیں قافلے میں چلو عاشقانِ رسول لائے جنّت کے پھول خیریت سے رہیں قافلے میں چلو بیوی بچے سبھی، خوب پائیں خوشی پائیں گے جنتیں قافلے میں چلو بھاگتے ہیں کہاں آبھی جائیں یہاں آئو سب غم مٹیں قافلے میں چلو زوجہ بیمار ہے قرض کا بار ہے دعوتِ دین دیں قافلے میں چلو کافروں کو چلیں مشرکوں کو چلیں پائے گا صحتیں، قافلے میں چلو کالا یرقان ہے ،کیوں پریشان ہے مل کے سارے چلیں قافلے میں چلو دین پھیلائیے سب چلے آئیے شادیاں بھی رچیں، قافلے میں چلو قلب بھی شاد ہو گھر بھی آباد ہو آپ کو گر چلیں قافلے میں چلو سادگی چاہیے عاجزی چاہیے سب بلائیں ٹلیں، قافلے میں چلو قرض اتر جائے گا، زخم بھر جائیگا آئیے سیکھ لیں قافلے میں چلو خوب خود داریاں خوش اَخلاقیاں پائو گئے صحتیں، قافلے میں چلو گر ہو عِرق النسا، یا عارضہ کوئی سا آئو لینے چلیں قافلے میں چلو عاشقانِ رسول لائے سنّت کے پھول ہوں گی بس چل پڑیں، قافلے میں چلو دُور بیماریاں، اور پریشانیاں خیر خواہی کریں قافلے میں چلو عاشقانِ رسول لائیں جب قافلہ خیر خواہی کریں قافلے میں چلو عاشقانِ رسول آئے ہیں مرحبا! خیر خواہی کریں قافلے میں چلو ان پہ ہوں رحمتیں قافلے کا سُنیں خیر خواہی کریں قافلے میں چلو کھانا لے کر چلیں ٹھنڈا شربت بھی لیں قافلے میں چلیں قافلے میں چلو یا خدا ہرگھڑی رَٹ ہو عطارکی خیر خواہی کریں قافلے میں چلو یا خدا بخش دے ان مسلمان کو جو
  10. Raza

    Qaflay main Chalo

    اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُوَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمّابَعدُ فَاَ عُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّ حِیْم ط (قافلے میں چلو ) از :شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت ،بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ پاؤگے عظمتیں قافلے میں چلو چاہو گر برکتیں قافلے میں چلو سیکھنے سُنتیں قافلے میں چلو لوٹنے رحمتیں قافلے میں چلو چاہو گر راحتیں قافلے میں چلو تم قرضدار ہو یا کہ بیمار ہو دور ہوں آفتیں قافلے میں چلو ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو چاہے اَولے پڑیں قافلے میں چلو کوندیں گر بجلیاں یا چلیں آندھیاں چاہے ہوں بارشیں قافلے میں چلو گرچہ ہوں گرمیاں یا کہ ہوں سردیاں بارہ دِن دے ہی دیں قافلے میں چلو بارہ ماہ کے لیے تیس دن کیلئے ہے بتا دوں تمہیں قافلے میں چلو طیبہ کی جستجو جج کی گر آرزو ہر مہینے چلیں قافلے میں چلو سُنتیں سیکھنے تین دِن کے لیے لینے یہ نعمتیں قافلے میں چلو گر مدینے کا غم چاہیے چشمِ نم قافلے میں چلیں قافلے میں چلو اے میرے بھائیو! رٹ لگاتے رہو ختم ہوں گردشیں قافلے میں چلو آنکھ بے نور ہے دِل بھی رنجور ہے سب سے کہتے رہیں قافلے میں چلو فون پر بات ہو یا ملاقات ہو لوٹنے سب چلیں قافلے میں چلو اولیائے کرام ان کا فیضانِ عام سب سے کہتے رہیں قافلے میں چلو دوست کے گھر میں ہوں یا کہ دفتر میں ہوں مل کے سب چل پڑیں قافلے میں چلو اولیاء کا کرم تم پہ ہو لاجَرم بعد اعلاں کریں قافلے میں چلو دَرس دیں یا سُنیں یا بیان آپ دیں رنج و غم مت کریں قافلے میں چلو ماں جو بیمار ہو قرض کا بار ہو آؤ لینے چلیں قافلے میں چلو عاشقانِ رسول ان سے رحمت کے پھول بابِ رحمت کُھلیں قافلے میں چلو رب کے در پر جھکیں التجائیں کریں آؤ مل کر چلیں قافلے میں چلو عاشقانِ رسول آئے لینے دُعا آؤ سب چل پڑیں قافلے میں چلو دِل کی کالک دُھلے مرضِ عصیاں ٹلے ختم ہوں گردشیں قافلے میں چلو دکھ کا درماں ملے آئیں گے دِن بھلے پاؤ گے برکتیں قافلے میں چلو قرض ہو گا ادا آکے مانگو دُعائ کام سارے بنیں قافلے میں چلو ہو قوی حافظ ٹھیک ہو ہاضمہ دل کی کلیاں کھلیں قافلے میں چلو غم کے بادل چھٹیں اور خوشیاں ملیں لینے کو برکتیں قافلے میں چلو تنگدستی مٹے دور آفت ہٹے پاؤ گے رفعتیں قافلے میں چلو علم حاصل کرو جہل زائل کرو پائو گے صحتیں قافلے میں چلو دردِ سر ہو اگر دُکھ رہی ہو کمر درد سارے مٹیں قافلے میں چلو ٹیڑھی ہوں ہڈّیاں ہوں گی سیدھی میاں کیا عجب وہ دِکھیں قافلے میں چلو ہے طلب دید کی دید کی عید کی چل کے خود دیکھ لیں قافلے میں چلو غیبی امداد ہو گھر بھی آباد ہو قافلے میں چلیں قافلے میں چلو نوکری چاہیے آئیے آئیے لطفِ حق دیکھ لیں قافلے میں چلو رزق کے درکُھلیں برکتیں بھی ملیں
  11. یہ ڈنمارک والے کون ہیں؟,,,,قصہ مختصرعظیم سرور 27فروری2008ء جنگ اخبار میں عظیم سرور کا یہ کالم ڈنمارک کے بارے میں چھپا ہے جو اسی طرح کی آزادی اظہار رائے ہے جس پر اس وقت ڈنمارک کو اصرار ہے۔ غالبا 1983 کی بات ہے میں شکاگو جا رہا تھا۔ اس مرتبہ سستا ٹکٹ اسکینڈے نیویا کی ایئر لائن کا تھا مجھے لندن رک کر شکاگو روانہ ہونا تھا۔ کراچی سے جہاز نے اسلام آباد کا رخ کیا اور پھر پورے افغانستان پر پرواز کرتا ہوا تاشقند کے اوپر سے گزرا۔ میری نشست کھڑکی پر تھی میں نے دیکھا کہ افغانستان میں پہاڑ ہی پہاڑ ہیں۔ 35ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے کہیں کہیں کوئی چھوٹا سا گائوں نظر آتا تھا اس وقت سوویت یونین نے اپنی فوجیں افغانستان میں اتاری ہوئی تھیں واپس آ کر میں نے دوستوں سے کہا روس افغانستان میں کچھ بھی نہ کر سکے گا بس پہاڑوں سے سر ٹکرا کر واپس لوٹ جائے گا۔ لندن جاتے ہوئے ایک گھنٹے کا پڑا ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن کے ہوائی اڈے پر تھا۔ لندن میں 10دن قیام کے بعد شکاگو کے لئے روانہ ہوا تو ایک بار پھر کوپن ہیگن آنا ہوا۔ اس مرتبہ ایئرلائن نے ایک دن کے لئے ہوٹل میں ٹھہرایا یہ ہوٹل سچا فائیو اسٹار ہوٹل تھا۔ اس کے کمرے میں دنیا بھر کی آرام و خوبصورت کتابچہ ڈنمارک میں رہنے کے آداب رکھا تھا۔ یہ کتابچہ انگریزی، ڈینش، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں تھا جو ڈنمارک کے محکمہ سیاحت کی طرف سے شائع ہوا تھا۔ یہ کتابچہ بہت دلچسپ تھا اس میں ایک باب میں بہت سی ہدایات تھیں۔ کہا گیا تھا اگر آپ ڈنمارک کے قیام کے دوران میں کسی ڈینش کے گھر مہمان بن کر جائیں تو وہاں آپ کو ان باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ (1) جب آپ کو کوئی ڈینش شخص اپنے گھر بلائے اور وہاں آپ دیکھیں کہ کوئی خاتون گھر داری کے کام میں مصروف ہے تو اپنے میزبان سے یہ مت پوچھیں کہ آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوگیا؟ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ بغیر شادی کے رہ رہے ہوں۔ آپ کے اس سوال سے ان کے دل کو صدمہ پہنچے گا۔ (2) آپ اگر خاتون خانہ سے بات کریں تو ان کو مسز فلاں کہہ کر نہ مخاطب کریں امکان اس بات کا ہو سکتا ہے کہ وہ ان صاحب کیساتھ ویسے ہی رہ رہی ہوں۔ آپکی اس بات سے ان خاتون کو دکھ ہوگا اور آپ اس طرح بداخلاقی کے مرتکب ہوں گے۔ (3) اگر آپ اپنے میزبان کے گھر میں کسی بچے کو دیکھیں تو اس بچے کی ذہانت یا شکل و صورت کی تعریف کرتے ہوئے اپنے میزبان سے یہ نہ کہیں کہ آپ کا بچہ بہت خوبصورت ہے یا ذہین ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ بچہ اس میزبان کا بچہ نہ ہو بلکہ خاتون خانہ کا بچہ ہو۔ اس طرح ایک جانب آپ کے میزبان کو دلی دکھ پہنچے گا اور ہو سکتا ہے معصوم بچے کو بھی صدمہ ہو۔ اس لئے اس سلسلے میں حد درجہ احتیاط سے کام لیں۔ (4) آپ کسی دفتر میں کسی خاتون سے ملیں تو ان سے یہ مت پوچھئے کہ آپ کے شوہر کیا کام کرتے ہیں؟ یا آپ کے شوہر کا نام کیا ہے؟ ہو سکتا ہے وہ خاتون کسی کے بھی ساتھ ایسے ہی رہ رہی ہوں آپ کے سوال کی صورت میں ان کو دکھ پہنچ سکتا ہے۔ (5) اگر آپ کسی بزنس کے سلسلے میں کسی ڈینش سے ملیں اور وہ آپ کو کھانے وغیرہ پر مدعو کر لے تو گفتگو میں احتیاط سے کام لیں۔ کسی سے یہ مت پوچھیں کہ کیا آپ کے والد حیات ہیں؟ ہو سکتا ہے اس کو معلوم ہی نہ ہو کہ اس کا والد کون تھا اس صورت میں زندگی اور موت کی معلومات کیسے ہو سکتی ہیں؟ آپ یہ سوال کر کے اپنے میزبان کو ذہنی اور دلی صدمہ پہنچانے کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔ (6) کسی بھی ڈینش خاتون کو خط لکھتے ہوئے ان کے نام کے ساتھ مسز تحریر نہ کریں کیونکہ اکثر خواتین مسز ہوئے بغیر مسز ہوتی ہیں آپ کے ان کو مسز لکھنے سے ان کو انتہائی صدمہ ہوگا اور وہ دکھی ہو جائیں گی۔ ہدایت نامہ سیاح ڈنمارک پڑھ کر میرے اوسان خطا ہوگئے۔ الہی یہ کیسا ملک ہے؟ اس ملک کے بارے میں جب یہ سنتے تھے کہ یہ سیکس فری ملک ہے تو اس قسم کا کوئی خیال کبھی نہ آیا تھا کہ معاشرے میں اکثریت ہر اخلاقی بندھن سے آزاد ہوگی پھر یہ خیال آیا کہ یہ لوگ جو کسی سوشل معاہدے کے بغیر میاں بیوی کی حیثیت سے رہ رہے ہیں کیا انسان کہلانے کے مستحق ہیں؟ جانوروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایسی آزادی ان کے ہاں ہوتی ہے لیکن پھر جانور ایسے معاملات میں نہ حساس ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کو کسی بات پر دلی صدمہ یا دکھ ہوتا ہے۔ ڈنمارک کے 17اخباروں نے جو خاکے شائع کئے ہیں تو ان کے بارے میں وہ اخبار دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہ اظہار رائے کی آزادی ہے اس صورت میں انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ اس سے دنیا کی ڈیڑھ ارب آبادی کو دلی اور روحانی صدمہ پہنچتا ہے ڈنمارک کی حکومت بھی اپنے اخبار والوں کو اظہار کا حق دیتے ہوئے اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی کہ اس سے دنیا کے مسلمانوں کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچے گی بس انہیں اپنے جانوروں جیسی زندگی گزارنے والے لوگوں کے جذبات کا اتنا خیال ہے کہ ہر سیاح کو آداب ڈنمارک سکھاتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے ہمیں انفرادی طور پر ڈنمارک کے سفارت خانے اور حکومت کو خط لکھ کر یہ بتانا چاہئے کہ ہم ان اخبار کے مالکان، صحافیوں اور خاکے بنانے والوں پر مقدمے دائر کرنا چاہتے ہیں اور ان مقدموں کے لئے ہمیں ان تمام لوگوں کی ولدیت کی ضرورت ہوگی۔ برائے مہربانی ان لوگوں کی ولدیت فراہم کی جائے۔ دوسری صورت میں ہم ان کے نام کے ساتھ ولد نامعلوم لکھیں گے یا نام کے ساتھ انگریزی کا حرف "b" یا اردو کا حرف ح لکھ دیں گے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں ڈنمارک کے سفارت خانے اور حکومت ان خطوں کے کیا جواب دیتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے جن لوگوں نے یہ خاکے شائع کئے ہیں یہ سب لوگ اسی قبیل کے فرزند ہوں گے جن کے جذبات کے بارے میں ڈنمارک کا محکمہ سیاحت، ہدایت نامہ شائع کر کے ہوٹلوں اور دفتروں میں سیاحوں کے لئے رکھتا ہے۔ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت اور شانِ محبوبیت سورہ ن والقلم میں اللہ تبارک و تعالی نے گستاخ رسول کی 10دس نشانیاں بیان فرمائیں۔جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔ عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْم(١٣)ترجمہ کنزالایمان:درشت خو (ف١٣)اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا(ف١٤) (Kanzuliman Eng)Greedy, more-ever base born ignoble. تفسیر خزائن العرفان: (ف١٣)بد مزاج ، بد زبان۔(ف١٤)یعنی بدگوہر تو اس سے افعالِ خبیثہ کا صدور کیا عجب ۔ مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جا کر کہا کہ محمد(مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے میرے حق میں دس باتیں فرمائیں ہیں ،نو(9)کو تومیں جانتا ہوں کہ مجھ میں موجود ہیں لیکن دسویں بات اصل میں خطا ہونے کی اس کا حال مجھے معلوم نہیں یا تو مجھے سچ سچ بتادے ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا اس پر اس کی ماں نے کہا کہ تیرا باپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ مرجائے گا تو اس کا مال غیر لے جائیں گے تو میں نے ایک چرواہے کوبلالیا تو اس سے ہے ۔ اور پھر سزا یہ سنائی۔۔ سَنَسِمُہُ عَلَی الْخُرْطُوم(١٦)ترجمہ کنزالایمان:قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے۔(ف١٧) (Kanzuliman Eng)We shall brand upon his snout. تفسیر خزائن العرفان: (ف١٧)یعنی اس کا چہرہ بگاڑ دیں گے اوراس کی بد باطنی کی علامت اس کے چہرہ پر نمودار کردیں گے تاکہ اس کیلئے سببِ عار ہو آخرت میں تو یہ سب کچھ ہوگا ہی مگر دنیا میں بھی یہ خبر پوری ہو کر رہی اور اس کی ناک دغیلی ہوگئی کہتے ہیں کہ بدر میں اس کی ناک کٹ گئی۔ کذا قِیل خازِن ومدارک وجلالینِ و اعترِاض علیہِ بِان ولِیدا کان مِن المستہزِ ئِین الذِین ماتوا قبل بدر ۔ فائدہ : ولید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ایک جھوٹا کلمہ کہا تھا مجنون ، اس کے جواب میں اللہ تعالی نے اس کے دس واقعی عیوب ظاہر فرمادیئے اس سے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت اور شانِ محبوبیت معلوم ہوتی ہے ۔ سورۂ قلم میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ن وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُون(١)مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّکَ بِمَجْنُون(٢)وَِنَّ لَکَ لَأَجْراً غَیْْرَ مَمْنُوْن(٣)وَِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ(٤)فَسَتُبْصِرُ وَیُبْصِرُونَ(٥) بِأَیْیِّکُمُ الْمَفْتُون(٦)ِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ(٧)فَلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْن(٨)وَدُّوا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُون(٩)وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْن(١٠)ہَمَّازٍ مَّشَّاء بِنَمِیْمٍ(١١)مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْْرِ مُعْتَدٍ أَثِیْم(١٢) عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْم(١٣)أَن کَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِیْنَ(١٤)ِذَا تُتْلَی عَلَیْْہِ آیَاتُنَا قَالَ أَسَاطِیْرُ الْأَوَّلِیْن(١٥) سَنَسِمُہُ عَلَی الْخُرْطُوم(١٦) ترجمہ کنزالایمان:قلم اور ان کے لکھے کی قسم (١)تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں(٢)اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے(٣)اور بیشک تمہاری خُوبُو(خُلق)بڑی شان کی ہے(٤)تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے(٥)کہ تم میں کون مجنون تھا (٦)بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے، اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے(٧)تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا(٨)وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑجائیں(٩)اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والاذلیل(١٠)بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی ادھر لگاتا پھرنے والا (١١) بھلائی سے بڑا روکنے والاحد سے بڑھنے والا گنہگار (١٢)درشت خُو اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا(١٣)اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے(١٤)جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیںکہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں (١٥)قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے(١٦) سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت اور شانِ محبوبیت فتاویٰ رضویہ جدید ،جلد 30سے رسالہ''تجلی الیقین بانّ بنیّنا سید المرسلین ۖ''
  12. Lagta hai is dafa Bapa Karachi ke Ijtema-e-Meelad or Jaloos main Shirkat nahain farmain ge. Pichli Dafa bhi Bapa ko Hazaron ke Hisab se Paighamat masool hooway thay ke aap shirkat na karain plz.laiken Bapa nahain Manay thay.. is dafa Lagta hai Nigran-e-Shura ne Minnat Samajat kar ke Bapa ko Madeenay bhaij hi dia.
  13. http://www.dawateislami.net/include/homepa...ht/18-03-08.swf
  14. Salam, Ameer-e-AhleSunnat ne apnay aik Madni Muzakray main bhi farmaya hai.galban 126 No. Muzakrah hai. is main Bapa ne is ko Behroopia kaha or is ki aisi baton pe Kufr ka Fatwa lagaya hai. Tableeji Jama'at walon ne bhi is ko Farig kar dia tha.Phir pata nahain dobarah kaisay wapis bula lia...
  15. بسم اللہ الرحمٰن لرحیم الصلوٰۃوالسلام علیک یارسول اﷲ کشفِ راز نجدیت نجدیا سخت ہی گندی ہےطبیعت تیری کفر کیا شرک کا فضلہ ہےنجاست تیری خاک منھ میں ترےکہتا ہےکسےخاک کا ڈھیر مِٹ گیا دین ملی خاک میں عزت تیری تیرےنزدیک ہوا کذبِ الٰہی ممکن تجھ پہ شیطان کی پھٹکار یہ ہمت تیری بلکہ کذاب کیا تو نےتو اقراروقوع اُف رےناپاک یہاں تک ہےخباثت تیری علم شیطاں کا ہوا علمِ نبی سےزائد پڑھوں لاحول نہ کیوں دیکھ کےصورت تیری بزمِ میلاد کانا کےجنم سےبدتر ارےاندھےارےمردود یہ جراءت تیری علمِ غیبی میں مجانین و بہائم کا شمول کفرآمیز جنوں زا ہےجَہالت تیری یادِ خُر سےہو نمازوں میں خیال اُنکا بُرا اُف جہنم کےگدھےاُف یہ خرافت تیری اُن کی تعظیم کرےگا نہ اگر وقتِ نماز ماری جائےگی تیرےمنھ پہ عبادت تیری ہےکبھی بوم کی حِلّت تو کبھی زاغ حلال جیفہ خوری کی کہیں جاتی ہےعادت تیری ہنس کی چال تو کیا آتی گئی اپنی بھی اجتہادوں ہی سےظاہر ہےحماقت تیری کھلےلفظوں میں کہےقاضی شوکاں المدد یا علی سُن کےبگڑ جاتی ہےطبیعت تیری تیری اٹکےتو وکیلوں سےکرےاستمداد اور طبیبوں سےمدد خواہ ہو علّت تیری ہم جو اللہ کےپیاروں سےاعانت چاہیں شرک کا چِرک اُگلنےلگی ملت تیری عبدِ وہاب کا بیٹا ہوا شیخِ نجدی اس کی تقلید سےثابت ہےضلالت تیری اُسی مشرک کی ہےتصنیف کتابُ التوحید جس کےہر فقرہ پہ ہےمُہرِ صداقت تیری ترجمہ اس کاہوا دھکۃ الایمان( تقویۃ الایمان )نام جس سےبےنور ہوئی چشمِ بصیرت تیری واقفِ غیب کا ارشاد سنائوں جس نی کھولدی تجھ سےبہت پہلےحقیقت تیری زلزلےنجد میں پیدا ہوں،فتن برپا ہوں یعنی ظاہر ہو زمانےمیں شرارت تیری ہو اِسی خاک سےشیطان کی سنگت پیدا دیکھ لےآج ہےموجود جماعت تیری سر مُنڈےہوں گےتو پاجامےگھٹنےہونگی سر سےپا تک یہی پوری ہےشباہت تیری اِدّعا ہوگا حدیثوں پر عمل کرنےکا نام رکھتی ہےیہی اپنا جماعت تیری اُن کےاعمال پہ رشک آئےمسلمانوں کو اِس سےتو شاد ہوئی ہوگی طبیعت تیری لیکن اُترےگا نہ قرآن گلوں سےنیچی ابھی گھبرا نہیں باقی ہےحکایت تیری نکلیں گےدین سےیوں جیسےنشانہ سےتیر آج اس تیر کی نخچر پہ ہےسنگت تیری اپنی حالت کو حدیثوں کےمطابق کرلی آپ کھل جائیگی پھر تجھ پہ خباثت تیری چھوڑ کر ذِکر ترا اَب ہےخطاب اپنوں سی کہ ہےمبغوض مجھےدل سےحکایت تیری مِرےپیارےمِرےاپنےمِرےسُنّی بھائی! آج کرنی ہےمجھےتجھ سےشکایت تیری تجھ سےجو کہتا ہوں تو دِل سےسُن انصاف بھی کر کرےاللہ کی توفیق حمایت تیری گر تِرےباپ کو گالی دےکوئی بےتہذیب غصّہ آئےابھی کچھ اور ہو حالت تیری گالیاں دیں اُنہیں شیطانِ لعین کےپَیرو جِن کےصدقےمیں ہےہر دَولت و نعمت تیری جو تجھےپیار کریں جو تجھےاپنا فرمائیں جن کےدِل کو کرےبےچین اذیت تیری جو تِرےواسطےتکلیفیں اٹھائیں کیا کیا اپنےآرام سےپیاری جنہیں صورت تیری جاگ کر راتیں عبادت میں جنہوں نےکاٹیں کس لئے؟ اِس لئےکٹ جائےمصیبت تیری حشر کا دن نہیں جس روز کسی کا کوئی اس قیامت میں جو فرمائیں شفاعت تیری اُن کےدشمن سےتجھےرَبط رہےمیل رہی شرم اللہ سےکر کیا ہوئی غیرت تیری تو نےکیا باپ کو سمجھا ہےزیادہ اُن سی جوش میں آئی جو اِس درجہ حرارت تیری اُن کےدشمن کو اگر تو نےنہ سمجھا دُشمن وہ قیامت میں کریں گےنہ رفاقت تیری اُن کےدُشمن کا جو دشمن نہیں سچ کہتاہوں دعویٰ بےاصل ہےجھوٹی ہےمحبت تیری بلکہ ایمان کی پوچھےتو ہےایمان یہی اُن سےعشق اُن کےعدو سےہو عداوت تیری اَہلِ سُنّت کا عمل تیری غزل پر ہو حسن جب میں جانوں کہ ٹھکانے لگی محنت تیری مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن
  16. اللہ تعالی اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے کتنی محبت فرماتا ہے۔۔۔" اعلی حضرت کے قلم سے اقتباس۔ فتاوی رضویہ کا مطالعہ کررہا تھا۔میں تو پڑھتے پڑھتے رونے لگ گیا تھا۔آپ بھی اپنے احساسات شئیر کیجئے گا۔ کسی نے اعلی حضرت سے اس بارے میں سوال کیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمام رسولوں کے سردار ہیں اس پہ کچھ دلائل عطا فرمادیں۔ تو اعلی حضرت نے ایک بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی۔کہ قرآن عظیم کا عام محاورہ ہے کہ تمام انبیائے کرام کو نام لے کر پکارتا ہے مگر جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب فرمایا۔تو کس طرح فرمایا۔ملاحظہ ہو۔
  17. Mashallah Mashallah kitna tazzad hai ap logoon k qaul o fael mein aik traf to ap loog wahabyoon ko kaafir kehte hain awr dosri traf 1974 mein Jamaat Ahmadiyya k khillaf baat ho to sab loog aik jaise ho gae to kya us waqt wo kuch waqt k liye muslaman ho gae the aap ko kis ne keh dia k 1974 main ham ne un ko Muslman samjh ke Itehadi banaya tha.Muahdah to kisi ke sath bhi ho sakta hai..
  18. نماز و طہارت (امامت،جماعت،استنجاء،وضو،غسل،تیمم وغیرہ) مسئلہ از کلی ناگر ضلع پیلی بھیت مسلہ اکبر علی صاحب ۶ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو مولوی واعظ داں ہو کر گاؤں در گاؤں ہندوؤں کے یہاں کھانا کھائے اور ایک عورت کو ساتھ لیے پھرے اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ اور وہ امامت کے قابل ہے یا نہیں؟ الجواب ہندو کے یہاں کا گوشت حرام ہے جب تک وہ گوشت اس جانور کا نہ ہو جسے مسلمان نے ذبح کیا اور اس وقت تک مسلمان کی نظر سے غائب نہ ہوا باقی کھانے اگر ان میں کوئی وجہ حرمت نہ معلوم ہو تو حلال ہیں ایک عورت کو ساتھ لیے پھرنا نہیت گول لفظ ہے کیسی عورت کیونکر ساتھ لیے پھرنا خادمہ بنا کر یا زوجہ بنا کر یا معاذاللہ فاسد طریقے پر، اور خادمہ ہے تو نوجوان ہے یا حد شہوت سے گزری ہوئی بڑھیا ،اور اس سے فقط پکانے وغیرہ کی معمولی خدمت لیتا ہے یا تنہائی میں یکجائی کا بھی اتفاق ہوتا ہے ، اور زوجہ ہے اور اسے پرسے میں ساتھ رکھتا ہے تو حرج نہیں واللہ سبحانہ و تعالی اعلم مسئلہ ۲ از برہما ملک بنگالہ مرسلہ عبدالرشید کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی جاہل نے کسی مسجد کے پیش امام عالم کی غیبت کی اور اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیا اور دوسرے مکانوں میں اس امام کے جو کھانا وغیرہ مقرر تھے اس نے ان لوگوں سے امام کی برائیاں بیان کر کے سب موقوف کرادیا جب لوگوں نے اس امام کی برائی پر گواہ طلب کیا وہ قاصر ہو گیا، ان سب صورتوں میں وہ مرتکب گناہ کبیرہ ہوا یا نہیں؟ بر تقدیر اول حسب شرع اس پر کیا سزا لازم آتی ہے؟ بینواتوجروا(بیان فرماو اجر پاو۔ ت) الجواب یہ سوال سب مجمل ہے اور حال زمانہ مختل ہے،سب لوگ عالم کہلاتے ہیں اور وہ بوجہ وغیرہ بد مذہب ہونے کے ہزار درجہ جاسق جاہل سے بد تر ہیں، اور آجکل وہابیہ وغیرہم مبتدعین میں تقیہ بہت رائج ہے خصوصا جہاں روٹی کا معاملہ ہو، روٹی کے لیے دین بیچنا ان کے نزدیک بہت آسان بات ہے۔ معاملہ غیر ملک کا ہے اور غیب کا علم خدا کو ہے اگر صورت واقعہ کہیں یہی ہو کہ عالم بننے والا پیش امام تقیہ کیے ہوے سنیوں کی مسجد میں نماز پڑھاتا ہو اور کسی سنی کو اس کے حال باطن کی اطلاع ہو گئی تو اس کی تشہیر اور اس کے اخراج کی تدبیر جو کچھ اس سنی نے کی اس پر اجر عظیم کا مستحق ہے اور گواہ نہ پا سکا کہ تقیہ والوں کی حالت پر گواہوں کا ملنا بہت مشکل ہوتا ہے تو اس پر کوئی الزام نہیں۔ حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں: اترعون عن ذکرالفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ترجمہ:کیا تم بدکار کا تذکرہ کرنے کے سلسلے میں رعایت کرتے ہو تو پھر لوگ اسے کب پہچانیں گے(تاریخ بغداد للبغدادی ترجمہ جارود بن یزید ۷۳۴۵ و حسن بن احمد ۷۳۵۱ بیروت۲۶۸،۲۶۲/۷ و تاریخ بغداد للبغدادی ترجمہ محمد بن احمد ۳۴۸ دارالکتاب العربی بیروت ۳۸۲/۱) اور اگر یہ بھی نہ تھا بلکہ صرف اس عالم کی غیبت چنی اور اسے ضرر رسانی کی غرض سے ایسی حرکت کی تو یہ شخص سخت کبیرہ کا مرتکب ہے اور حاکم شرع کے حضور سخت سزا کا مستحق ہے۔ حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ( نے فرمایا) ثلثۃ لا یستخف بحقھم الا منافق،ذوالعلم و ذوالشیبۃ فی الا سلام و امام مقسط ترجمہ: تین شخصوں کا حق ہلکا نہ جانے گا مگر منافق، ایک عالم، دوسرا وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا،تیسرا بادشاہ اسلام عادل۔(المعجم الکبیر حدیث ۷۸۱۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۳۸/۸) واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۳ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید امامت کا بہت شائق ہے جس وقت مقررہ (امام) مسجد نہیں ہوتے ہیں تو وہ باوصف اس کے کہ اس سے (افضل)جماعت میں ہوتے ہیں خود جرات کر کے مصلّی امام پر لپک جاتا ہے اکثر نمازی اس کی اقتدا سے متنفر ہو کر علیحدہ ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کو سچی شہادتوں سے تحقیق ہو چکا ہے کہ زید ولدالزنا ہے، علادہ اس کے جھوٹی گواہیاں عدالتوں میں دیتا ہے اور لباس و صورت اس کی خلاف شرع ہے لیکن بعض شخص بعجہ عدم واقفیت اور بعض بسبب قرابت و رعایت کے سکوت کر کے اقتدا کر لیتے ہیں اس کی صورت اور لباس کا نقشہ یہ ہے سر کے بال کترے ہوے، نہ منڈے نہ دراز۔ داڑھی ایک مشت سے کم جس پر سیاہ خضاب۔لباس اچکن بٹن دار، جیب گھڑی لگی ہوئی، پاجامہ نیچا، ٹخنے چھپے ہوئے، پاو ں میں بوٹ، بائیں ہاتھ میں کبڑی لکڑی ہے، اور وہ علم اور تعزیوں اور میلوں میں جایا کرتا ہے اور رقص و نشاط کے جلسوں میں بھی شریک رہتا ہے بلکہ اپنے یہاںکی تقریبوں میں ڈھول باجا ناچ رنگ کراتا ہے حضرت محمد شیر میاں مرحوم کا مرید ہے صرف اس بیعت سے اپنے آپ کو افضل الخلائق گمان کرتا ہے اور قابل الامامت سمجھتا ہے اگر انصاف کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو پیر کی اطاعت بھی اس میں مطلق نہیں ہے کیا ایسا شخص جو عقیدہ اور عمل اور صورتأ اور سیرتاٌ زید جیسا ہو امامت کے اور اہتمام مسجد کے قابل شرعاٌ ہو سکتا ہے ار کیا اُن لوگوں کی نماز جو اُس کی اقتدا کرتے ہیں فساد و کراہت سے خالی ہو گی؟ احکام شرع مبین جواب تحریر فرمائیں، اور زید فرائض و واجبات اور سنن اور مکروہات و مفسدات نماز نہیں جانتا ہے۔ الجواب سر کے بال ترشوا کر چھوٹے چھوٹے رکھنا مکروہ تنزیہی ہے کہ خلاف سنّت ہے، اور پائنچے ٹخنے سے نیچے بھی مکروہ تنزیہی ہیں یعنی صرف خلاف اولی جبکہ بہ نیت تکبر نہ ہو۔ صرح بہ فی العلمگیریۃ (فتاوی ہندیہ کتاب الکراہیۃالباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۳۳۳/۵) حدیث فی صحیح البخاری انک لست ممن یصنعہ خیلاء۔(صحیح البخاری کتاب اللباس باب من جرّ ازراہ من غیر خیلاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۸۶۰/۲) ترجمہ: فتاوی عالمگیری میں(مسئلہ مذکورہ کی) تصریح کی گئی اور اس بارے میں صحیح بخاری کی حدہث موجود ہے تم ان لوگوں میں سے نہیں جو بر بنا تکبر ٹخنوں سے نیچے ازار لٹکاتے ہیں،[حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوال پر حضور انورﷺ نے ارشاد فرمایا تھا] اور ولدالزنا کے پیچھے بھی نماز مکروہ تنزیہی ہے جبکہ وہ سب حاضرین سے مسائل نماز و طہارت کا علم زیادہ نہ رکھتا ہو، اور کبڑی لکڑی بھی رکھنا فی نفسہ بُرانہیں جبکہ نیچریہ و نصاری سے تشبّہ مقصود نہ ہو، اور بٹن دار اچکن اور جیب اور اسکی گھڑی مباح ہے مگر انگریزی وضع کا بوٹ ممنوع ہے، اور داڑھی کتروا کر ایک مشت سے کم رکھنا حرام ہے۔ سیاہ خضاب حرام ہے۔ علم، تعزیوں اور فسقکے میلوں اور رقص کے جلسوں میں جانا حرام ہے۔ ان افعال کا مرتکب ضرار فاسق معلن ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا جائز نہیں اور پڑھی ہو تو پھیرنا واجب ہے، نہ ایسے شخص کو مہتمم مسجد بنانے کی اجازت۔ واللہ تعالی اعلم۔ مسئلہ ۴ علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے پیر پر الزام زنا رکھے اور پیر سے وہ گناہ صادر نہ ہو اور پیر مرشد اس بات کو سُن کر اس مرید کو عاق کر دے اس کے پچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ الجواب مسلمان پر زنا کی جھوٹی تہمت رکھنا گناہ کبیرہ ہے، قرآن عظیم نے اس کو فاسق فرمایا ہے'اگر اپنی اس ناپاک حرکت پر اصرار کرے اور تائب نہ ہو تو اُسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور اس کا پھینا واجب۔ واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۵ مسئولہ عبدالرحیم خاں صاحب از بہرام پور ضلع مرشد آباد بنگال ۲۱صفر ۱۳۳۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین، زید دعوی کرتا ہے کہ میں سنّی ہوں، اور امامت بھی کرتا ہے، دُلدل کے آگے مرثیہ پڑھتا ہوا کربلا تک گیا ، ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنی کیسی ہے؟ الجواب دُلدل بدعت ہے اور یہ رائج مرثیے معصیت ہیں، اور یہ ساختہ کربلا مجمع بدعات ہے، ایسا شخص فاسق ہے، جب تک توبہ نہ کرے اسے امام بنانا گناہ ہے۔ غنیہ میں فتاوی حجہ سے ہو: لو قدموا فاسقا یاءثمون(غنیۃ المستملی فصل الاول بالامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳)ترجمہ: "اور لوگ اگر کسی فاسق کو امامت کے لئے آگے کریں تو گنہگار ہوں گے۔" مسئلہ ۶ مسئلہ حافظ نبو علی صاحب از خاص ضلع بھنڈارہ محلہ کہم تالاب متوس ضلع ناگپور کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خاص ضلع بھنڈارہ محلہ کہم تالاب میں ایک مولوی صاحب جو کہ مسجد میں پیش امام اور واعظ اور مشائخ بھی ہیں، یہ تینوں صفتیں ہو کر جہاں ناٹک گانا بجنا ہو ایسی جگہ بشوق جاتےہیں اور آپ مدرسہ انجمن کے مدرس اعظم بھی ہیں یہ فعل شرع جائز ہے کیا اور اگر ناجائز ہے تو ایسے پیش امام اور واعظ اور مشائخ کے لئے کیا حکم ہے ایسے شخص کی پیش امامی جائز ہے یا نہیں؟ الجواب ناٹک مجمع فسقیات ہے اور اس میں جانا ضرور خنیع العذار خفیف الحرکات نا مہذب بے باک ہونے کی دلیل کافی ہے اور بعد تعود صراحۃ فسق بالاعلان ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا گناہ اور جتنی پڑھی ہوں ان کا پھیرنا واجب۔ واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۷ از شہربریلی محلہ بہاری پور مرسلہ علی احمد قادری ۲۹ شوّال ۱۳۳۲ھ بے نمازی اور وہ شخص جو بال انگریزی رکھوائے اس کے واسطے کیا شریعت کا حکم ہونا چاہئے؟ الجواب بے نمازی سخت شقی فاسق فاجر مرتکب کبائر مستحق جہنم ہے وہ ایسا مسلمان ہے جیسا تصویرکا گھوڑا ہے کہ شکل گھوڑے کی اور کام کچھ نہیں انگریزی بال رکھنا مکروہ و خلاف سنّت و وضع فساق ہے ممنوع ہے۔ واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۸ بروز شنبہ ۷ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل میں : (۱)ایک عورت بیوہ مسلمان ہے خواہ مذہب شیعہ ہو خواہ مذہب اہلسنت و جماعت نکاح ثانی نہیں کیا اور کسی مسلمان شخص سے مبتلا ہے اس کےگھر کا کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟ یا وہ عورت کسی ایک مشرک کے ساتھ گرفتار ہے ایسی عورت کے یہاں کھانا جائز ہے ایسی عورت کے گھر میں اگر کوئی پیش امام دعوت کھائے اس کی امامت جائز ہے یا نہیں ؟ اور اس پیش امام کے لئے کچھ کفارہ ہوتا ہے یا نہیں؟ (۲)جو شخص فال کھولتا ہو لوگوں کو کہتا ہو کہ تمھارا کام ہو جائے گا یا یہ کام تمھارے راسطے اچھا ہو گا یا بُرا ہو گا یا اس میں نفع ہو گا یا نقصان، اس کی امامت جائز ہے یا نہیں؟ الجواب (۱) آج کل کے روافض تو اسلام سے خارج ہیں، اور جو عورت بلا نکاح کسی شخص کے پاس رہے فاسقہ ہے اور وہ شخص مشرک ہو تو اس کا فسق اور سخت تر ہے اور فاسق کےیہاں کھانا اگر وجہ حلال سے ہو فی نفسہ حرام نہیں،مگر فاسقوں سے میل جول نہ چاہئے خصوصا مقتدا کو، پھر اگر دو یا ایک بار ایسا واقع ہو تو یہ ایسا الزام نہیں جس کے سبب اس کے پیچھے نماز میں حرج ہو۔ واللہ تعالی اعلم (۲) اگر یہ احکام قطع و یقین کے ساتھ لگاتا ہو جب تو وہ مسلمان ہی نہیں، اس کی تصدیق کرنیوالے کو صحیح حدیث میں فرمایا: قد کفر بما نزل محمد ﷺ ترجمہ: اس نے اس چیز کے ساتھ کفر کیا جو محمد ﷺ پر اتاری گئی۔ (جامع الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی کراہیۃ اتیان الحائض امین کمپنی دہلی ۱۹/۱) مسئلہ ۱۰ حاجی عبدالغنی صاحب طالب علم بنگالی مدرسہ اہلسنت و جماعت بریلی بتاریخ ۱۳ ذی القعدہ ۱۳۳۴ ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ زید کو غسل کی حاجت تھی ہمراہ کپڑے ناپاک غسل کیا بعدہ اس پاجامہ کو اتار کر دھونا چاہا جب دھونے لگا تو اسی ناپاک ہاتھ سے جو پاجامہ کے استعمال سے ناپاک ہو گیا تھا گھڑے اور لوٹا کو چھوا تو یہ گھڑا بدھنا بھی ناپاک ہوا دوسرے شخص نے اس گمان سے کہ زید نے ناپاک ہاتھ لگایا ہے اُس گھڑے بدھنے کو توڑ ڈالا، آیا اب اس کا عوض زید پر لازم ہو گا یا عمر پر جس نے توڑ ڈالا ہے۔ بیّنوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت) الجواب الملفوظ گھڑا جس نے توڑ دیا اس پر تاوان ہے اور اگر پاجامہ پاک کرنےکے بود ہاتھ لگایا تو یہ ناپاک بھی نہ ہوا کہ جو چیز ہاتھ سے پاک کی جائے اس کے پاک ہونے کے ساتھ ہاتھ بھی پاک ہو جاتا ہے، واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۱۱ مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل صاحب از گونڈل کاتھیاوار یکم صفر ۱۳۳۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے اھلسنت اس مسئلہ میں، ایسے کپڑے جو مرد کو ناجائز ہوں ان کے ساتھ نماز پڑھنا کیسا ہے مثلاۡ زری کی مغرق ٹوپی یا سدری ریشمی پاجامہ انگرکھا یا پیراہن، انگشت میں سونے کی انگوتھی بدن پر سونے کا چین وغیرہ۔ بیّنوا توجروا۔ الجواب ناجائز لباس کے ساتھ نماز مکروہ تحیمی ہوتی ہے کہ اس کا اعادہ واجب۔ واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۱۲ از قصبہ بالکہ ضلع بلند شہر مرسلہ صالح محمد خانصاحب مورخہ ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا حال ہے ایسے شخص کا جو گناھان مندرجہ ذیل کا مرتکب ہوا، وہ شخص مسلمان رہا یا نہیں اور نماز اس کے پیچھے جائز ہے یا نہیں، (۱)ایک شخص نے جان بوجھ کر بسبب دنیوی رنجش کے قصداً فعل حلال شرعی کو حرام کر دیا۔ (۲)غیر مقلدین کو جو اپنے کو عامل بالحدیث مشہور کرتے ہیں اور امامان مجتہدین رحمہم اللہ کو بدعتی اور اصحاب الرائے کہتے ہیں انکو دربارہ شخصے خلاف شرع مدد دی۔ (۳)شرعی معاملہ میں عمداً بحلف جھوٹی شہادت دی۔ (۴)چار مسلمان اھلسنت و جماعت حنفی مذہب واقف مسائل شرعی کے رُوبرو شرعی فعل حلال و جائز کو برحق اور سچا تسلیم کرکے پھر اس کلمہءحق سے منحرف ہو کر ناجواز کا قائل ہوا اور یہ شخص پیش امام مسجد بھی ہے آیا نماز پیچھے اس کے جائز ہے یا نہیں مع دلیل و حوالہ کتاب اللہ و حدیثِ رسول اللہ با عبارت فقیہ کے مرتب فرماکر مزیّن بمہر خاص فرما دیں۔ بیّنوا توجروا(بیان فرماؤ، اجر پاؤ۔ت) الجواب ایسے لوگ سخت گنہگار بلکہ گمراہ ہیں کہ حق کے مقابل باطل کی اعانت کرتے ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز جاجائز ہے بلکہ جب تک توبہ نہ کریں مسلمانوں کو اُن سے بالکل قطع علاقہ کر دینا چاہئے کہ وہ ظالم ہیں اور ظالم بھی کس پر، دین پر۔ اور اللہ عزوجل فرماتا ہے: و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین۔ ترجمہ:اور اگر تمھیں شیطان بھلاوے میں مبتلا کر دے تو پھر یاد آنے کے بعد کبھی ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔(القرآن الکریم ۶۸/۶) واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۱۳ از جھنا مارکیٹ کرانچی بندر مرسلہ حضرت پیر سید ابراہیم صاحب گیلانی قادری بغدادی مدظلہ القدس ۱۵ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اپنے وطن سے نکل کرنا واقف مسلمانوں کے پاس آ کر بحیلہ تعلیم امور دینی و طریق درویشانہ پیری مریدی سلیقہ جاری رکھا حتی کہ اپنے مرید خاص خوجے موچی کے گھر میں رہ کر اُن کی لڑکی جو کہ منکوحۃ الغیر تھی مع شیر خوار بچے کو بھگا کت دوسرے ملک میں لے گیا اور شیر خوار بچہ جو کہ خوجے موچی کا لڑکا ہے سید بنایا اور رفتہ رفتہ ان سے چند اولاد ہوئے ایسے شخص کے بارے میں حدِ شریعت کون سی قائم ہو گی اور فاجر و فاسق ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ الجواب اگر یہ امر واقعی ہے یو ایسا شخص سخت فاسق فاجر مرتکب کبائر ہے مستحق عذابِ جہنم ہے اُسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔ واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۱۴ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفیتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس کے پاس مال حلال بھی ہے یعنی اپنی زمین میں زراعت ہوتی ہے اور سُود بھی کھاتا ہے اس قسم کے لوگوں کا ہدیہ قبول کرنا اور اسکے دعوات کھانا جائز ہے یا نہیں؟ بیّوا توجروا۔ الجواب سود خور کو امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکورہ تحریمی کہ پڑھنا گناہ اور پھیرنی واجب، اور اسکی دعوت قبول کرنے سے احتراز چاہئے، پھر بھی دعوت و ہدیہ میں فتوی جواز ہے جبتک معلوم نہ ہو کہ شَے جو ہمارے سامنے پیش کی گئی بعینہِ وجہِ حرام سے ہے۔ واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۱۵ از مراد آباد حسن پور مرسلہ عبدالرحمن مدرس ۸ ذی القعدہ ۱۳۳۸ ھ جمعہ فرضوں کی اور سنّتوں کی اول وآخر کی نیت تحریر فرما دیجئے۔ بینوا توجروا الجواب جمعہ کی نیت میں فرض جمعہ اور چاہے یہ بھی بڑھائے واسطے اسقاط ظہر کے، اور قبل کی سنتوں میں سنت قبل جمعہ اور بعد کی سنتوں میں سنت بعد جمعہ۔ واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۱۶ از شہر محلہ سوداگران مسئولہ احسان علی طالبعلم مدرسہ منظرالاسلام ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شوہر کسی کام کے کرنے کا حکم دے اور وقتِ نماز اتنا ہے کہ اگر اس کے حکم کی تعمیل کرے تو پھر نماز کا وقت باقی نہیں رہے گا تو اس صورت میں عورت نماز پڑھے یا حکمِ شوہر بجا لائے؟ بیّنوا توجروا الجواب نماز پڑھے ایسا حم ماننا حرام ہے۔ واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۱۷ از شہر کہنہ محلہ سیلانی مرسلہ جناب محمد حسین رضوی مورخہ ۸ ذی الحجہ ۱۳۳۸ ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مٰں کہ زید بکر کے پاس آیا جس کو عرصہ پانچ یا چھ یوم کا ہوا اور دیگر اشخاص بھی زید کے ساتھ تھے یہ بیان کیا کہ ایک صف پر دو یا تین یا دس آدمی برابر فرض علیحہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں، بکر نے کہا کہ نماز نہیں ہو گی جماعت کرنا چاہئے، بکر سے زید نے کہا کہ نماز ہو جائے گی ، میں نے مسئلہ اپنے مولوی سے دریافت کر لیا ہے، اس پر بکر نے کہا کہ میں تم کو کافر جانتا ہوں کیونکہ تم لوگ دیوبند اور گنگوہ کے علماء کی تقلید کرتے ہو اور وہ توہین سرکارمدینہﷺ کی بات کرتے ہیں لہذا میں توہین کے کرنے والوں کو اور جو ان سے میل رکھتے ہیں کافر جانتا ہوں اور میں وھابی سے بات نہیں کرنا چاہتا اور زید میلاد زریف میں قیام کا منکر ہے اور کہتا ہے وہ بدعت ہے۔ اب زید علمائے دین سے فتوی اس مضمون کا لایا ہے کہ بکر نے مجھ کو کافر کہا، وجہ کوئی فتوی میں تحریر نہیں کی کہ کس وجہ سے کافر کہا ہے، اب فتوی کو سب کو دکھاتا ہے اور بیان کرتا ہے کہ بکر توبہ کرے اور جدید نکاح کرے لہذا آپ فرمائیں کہ بکر توبہ کرے یا زید ، بکر زید کو وہابی جانتا ہے اور دیگر دیوبندیوں کو جو کہ توہین کرتے ہیں اور یہ لوگ اُن کی تقلید کرتے ہیں سب کو کافر جانتا ہے۔ بیّنوا توجروا الجواب کیا اللہ کی لعنت سے نہیں ڈرتے وہ لوگ جو شریعت کو دھوکا دیتے ہیں اور جھوٹا سوال بنا کر اُلٹا فتوی لیتے ہیں، اس صورت میں بکر پر وہ حکم ہر گز نہیں ہے بلکہ زید اور اس کے ہم مذہب توہین کرنے والوں پر ہے کہ وہ اسلام سے خارج ہیں، بکر کہ نبی سرور ﷺ کی توہین کرنے والوں کو کافر جانتا ہے بیشک حق پر ہے، واللہ تعالی اعلم ۔ اور نماز کا مسئلہ یہ ہے کہ ابھی جماعت نہ ہوئی اور کچھ لوگ ایک جگہ تنہا تنہا پڑھیں اور ان میں کوئی امامت کے قابل ہے تو بوجہ ترک جماعت کے گنہگا ر ہوں گے فرض ادا ہو جائیں گے، اور اگر جماعت اولی ہو چکی اور کچھ لوگ اتفاق سے رہ گئے جب بھی انھیں جائے کہ مصلّے سے ہٹ کر جماعت کریں اور رافضیوں اور گنگوہی کی طرح ایک جگہ الگ الگ نہ پڑہیں ۔ واللہ تعالی اعلم
  19. شکریہ عاشق بھائی شیعوں کی خباثت کو شیئر کرنے کا۔ وہی ہوابیوں والی بات ہے۔جیسے وہ رفع یدین کو منسوخ نہیں سمجھتے ۔ایسے ہی یہ متعہ کو منسوخ نہیں سمجھتے۔ ویسے ہوابیوں کو کو چاہیے کہ وہ بھی متعہ کروانا شروع کردیں۔نہیں تو رفع یدین بھی منسوخ مانیں
  20. داغ سجدہ کی شرعی حیثیت از اعلیحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ استفتاء بعض نمازیوں کو سبب کثرت نماز کے ناک یا پیشانی پر جو سیاہ داغ ہو جاتا ہے اس سے نمازی کو قبر میں اور حشر میں خداوند کریم جل جلالہ کی پاک رحمت کا حصہ ملتا ہے یا نہیں اور زید کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ جس شخص کے میں بغض کا سیاہ داغ ہوتا ہے اس کی شامت سے اس کی ناک یا پیشانی پر کالا داغ ہو جاتا ہے یہ قول زید کا باطل ہے یا نہیں؟ الجواب اللہ عزوجل صحابہ کرام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں فرماتا ہے: سیماھم فی وجوھہم من اثر السجود (پارہ ۲۶ آیت ۲۹ الفتح) "ان کی نشانی ان کے چہروں میں ھے۔" سجدے کے اثر سے صحابہ و تابعین سے اس نشانی کی تفسیر میں چار قول ماثور ہیں۔ اول: وہ نور کہ روز قیامت ان کے چہروں پر برکت سجدہ سے ہو گا یہ حض رات عبداللہ بن مسعود وامام حسن بصری و عطیہ و خالد حنفی ومقاتل بن حیان سے ہے دوم:خشوع وخضوع و روشن نیک جس کے آثار صالحین کے چہروں پر دنیا ہی میں بے تصنع ظاہر ہوتے ہیں۔یہ حضرت عبداللہ بن عباس و امام مجاہد سے ہے۔ سوم:چہرے کی زردی کہ قیام اللیل و شب بیداری میں پیدا ہوتی ہے یہ امام حسن بصری و ضحاک و عکرمہ و شمر بن عطیہ سے ہے چہارم:وضوکی تری و خاک کا اثر کہ زمین پر سجدہ کرنے سے ماتھے اور ناک پر مٹی لگ جاتی ہے یہ امام سعید بن جبیر و عکرمہ سے ہے۔ ان میں پہلے دو قول اقوی(سب سے قوی)و اقدم(سب سے اول) ہیں کہ دونوں خود سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے مروی ہیں اور سب سے قوی اور مقدم پہلا قول ہے کہ وہ حضور اقدسﷺ کے ارشاد سے بسند حسن ثابت ہے رواہ الطبرانی فی معجمیہ الاودط والصغیر و ابن مردویۃ عن ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی قولہ عزوجل سیماھم فی وجوھہم من اثر السجود قال النور یوم القیمۃ ترجمہ: کہ طبرانی نے معجم اوسط اور ابن مردویہ نے ابی بن کعب سے رویت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نشان سجود کی تفسیر میں فرمایا کہ قیامت کے دن ان کے چہروں کا نور مراد ہے ولہذا امام جلال الدین محلی نے جلالین میں اسی پر اقتصار کیا اقول سوم میں قدرے ضعف ہے کہ وہ اثر بیداری ہے نہ اثر سجود وھاں بیداری بغرض سجود ہے اور چہارم سب سے ضعیف تر ہے کہ وضو کا اثر سجود نہیں اور مٹی بعد نماز چھڑا دینے کا حکم ہے یہ "سیماو"نشانی ہوتی تو زائل نہ کی جاتی۔ امید ہے کہ سعید بن جبیر سے اس کا ثبوت نہ ہو بہر حال یہ سیاہ دھبہ کہ بعض کے ماتھے پر کثرت سجود سے پڑتا ہے تفاسیر ماثورہ میں اس کا پتہ نہیں بلکہ حضرت عبداللہ بن عباس و سائب بن یزید و مجاھد رضی اللہ تعالی عنہم سے اس کا انکار ماثور۔ تفسیر ماثورہ میں ودم ثبوت ہی نہیں بلکہ آثار صحابہ میں اس کے خلاف روایات موجود ہیں۔ روایت نمبر ۱:طبرانی نے معجم کبیر اور بیہقی نے سنن میں حمید بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے ۔ سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہما کے پاس حاضر تھا اتنے میں ایک شخص آیا جس کے چہرے پر سجدہ کا داغ تھا۔ سائب رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ "بے شک اس شخص نے اپنا چہرہ بگاڑ لیا سنتے ہو خدا کی قسم یہ وہ نشانی نہیں جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے میں اسی(۸۰)برس سے نماز پڑھتا ہوں میرے ماتھے پر داغ نہ ہوا۔" روایت نمبر ۲:سعید بن منصورو عبد بن حمید و ابن نصر و ابن جریر نے مجاھد سے روایت کی اور یہ سیاق اخیر ہے۔ "یعنی منصور بن المعمر کہتے ہیں امام مجاھد نے فرمایا اس نشانی سے خشوع مراد ہے میں نے کہا بلکہ داغ جو سجدے سے پڑتا ہے فرمایا ایک کے ماتھے پر اتنا بڑا داغ ہوتا ہے جیسے بکری کا گھٹنا اور باطن میں ویسا ہے جیسی اس کے لئے خدا کی مشیت ہوئی یعنی یہ دھبہ تو منافق بھی ڈال سکتا ہے" روایت نمبر ۳ : ابن جریر نے بطریق مجاھد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ فرمایا:"خبردار یہ وہ نہیں جو تم لوگ سمجھتے ہو بلکہ یہ اسلام کا نور،اس کی خصلت،اس کی روش،اس کا خشوع ہے" روایت نمبر ۴:بلکہ تفسیرخطیب شربینی پھر فتوحات سلیمانیہ میں ہے۔"یعنی یہ نشان سجدہ جو ریاکار ماتھے پر بنا لیتےہیں یہ اس نشانی سے نہیں یہ خارجیوں کی نشانی ہے اور ابن عباس سے روایت مرفوع آئی کہ میں آدمی کو دشمن و مکروہ رکھتا ہوں جبکہ اس کے ماتھے پر سجدے کا اثر دیکھتا ہوں۔" اقول: اس روایت کا حال اللہ جانے اور بفرض ثبوت وہ اس پر محمول جو دکھاوے کے لئے ماتھے اور ناک کی مٹی نا چھڑائے کہ لوگ جانیں یہ ساجدین میں سے ہے اور وہ انکار بھی سب اسی صورت ریا کی طرف راجع ورنہ کثرت سجود یقینا محمود اور ماتھے پر اس سے نشان خود بن جانا نہ اس کا روکنا اس کی قدرت میں ہے نہ زائل کرنا، نہ اس کی اس میں کوئی نیت فاسدہ ہے تو اس پر انکار کرنا متصور اور مذمت نا ممکن بلکہ وہ من جانب اللہ اس کے عمل حسن کا نشان اس کے چہرے پر ہے تو زیر آیت کریمہ سیما ھم فی وجوھہم من اثر السجود داخل ہو سکتا ہے کہ جو معنی فی نفسہ صحیح ہو اور اس پر دلالت لفظ مستقیم اسے معانی آیات قرآنیہ سے قرار دے سکتے ہیں کما صرح بہ الامام حجۃالاسلام و علیہ درج عامۃالمفسرین الاعلام۔اب یہ نشان اسی محمود نشانی میں داخل ہو گا جس کی تعریف اس آیت کریمہ میں اس کی گنجائش ہے۔ لاجرم:تفسیر نیشاپوری میں اسے بھی اس آیت میں برابر کا متحمل رکھا۔تفسیر کبیر میں اسے بھی تفسیر آیت میں ایک قول بتایا۔ کشاف و ارشاد العقل میں اسی پر اعتماد کیا۔ بیضاوی نے اسی پر اقتصار کیا اور اس کے جائز بلکہ محمود ہونے کو اتنا بس ہے کہ سیدنا امام سجاد زین العابدین علی بن حسین بن علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہم کی پیشانی پر سجدہ کا یہ نشان تھا۔ مفاتیح الغیب میں ہے کہ اللہ تعالی کے فرمان "سیماھم" میں دو وجوہ ہیں ایک یہ کہ یہ نشانی قیامت کے سن سے متعلق ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا سے متعلق ہے اور اس دوسری وجہ میں پھر مزید دو احتمال ہیں ایک یہ ہے کہ "سیما" سے مراد وہ نشان ہے جو کثرت سجود کی وجہ سے پیشانیوں پر ظاہر ہوتا ہے" انوارالتنزیل میں ہے"کہ وہ داغ مراد ہے جو ان کی پیشانیوں میں کثرت سجدہ سے پیدا ہوتا ہے" غرائب القرآن میں ہے"یہ جو علامت سجدہ کہ آیت میں ذکر فرمانی جائز ہے کہ امر محسوس ہو۔امام علی بن حسین زین العابدین و حضرت علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم دونوں کو گٹھ والا کہا جاتا کہ کثرت سجدہ سے دونوں صاحبوں کی پیشانی وغیرہ مواضع سجود پر گٹھے پڑ گئے تھے اور وہ جو حدیث میں آیا کہ اپنی صورتیں داغی نہ کرو اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے چہرے (یعنی ناک) پر سجدے کا نشان ہو گیا تھا اس سے فرمایا:تیرے ناک اور منہ تیری صورت ہیں تو اپنا چہرہ داغی نہ کرو اور اپنی صورت عیبی نہ بناو۔یہ اس صورت پر محمول ہے کہ دکھاوے کیلئے قصدا گھٹے ڈالے اور جائز ہے کہ وہ علامت امر معنوی ہو یعنی صفا و نورانیت" کشاف میں ہے"اس نشانی سے وہ داغ مراد ہے کہ کثیر السجدہ شخص کو پیشانی میں کثرت سجود سے پیدا ہوتا ہے اور وہ جو فرمایا کہ سجدے کے اثر سے یا اس مراد کو واضح کرتا ہے یعنی اس تاثیر سے جو سجدے سے پیدا ہوتی ہے اور دونوں علی،امام علی بن حسین زین العابدین و حضرت علی بن عبداللہ بن عباس پدر خلفاء رضی اللہ تعالی عنہم گھٹے والے کہلاتے ہیں کہ کثرت سجود سے ان کی پیشانی وغیرہ مواضع سجود پر گھٹے پڑ گئے تھے اور یوں ہی امام سعید بن جبیر سے اس کی تفسیر مروی ہے کہ وہ چہرہ پر نشان ہے اب اگر تو کہے کہ رسول اللہ ﷺ سے حدیث تو یہ آئی ہے کہ اپنی صورتیں داغی نہ کرو اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے چہرہ پر داغ سجدہ دیکھ کر فرمایا کہ تیرے چہرے کی سوبھا تیری ناک ہے تو اپنا چہرہ داغی نہ کر اور اپنی صورت نہ بگاڑ میں کہوں گا یہ اس کے بارے میں جو زمین پر پیشانی زور سے گھسے تاکہ یہ داغ پیدا ہو جائے یہ زیادہ نفاق ہے کہ اس سے اللہ عزوجل ہی کے لیے سجدہ کرتا ہے اور بعض سلف نے کہا ہم نماز پڑھتے تو ہمارے ہاتھوں پر کچھ نشان نہ ہوتا اور اب ہم دیکھتے کہ کسی نمازی کے ماتھے پر اونٹ کا سا گھٹنا ہے معلوم نہیں کہ اب سر زیادہ بھاری ہو گئے ہیں یا زمین زیادہ کری ہو گئی یہ بھی انہوں نے اسی کو کہا جو براہ نفاق یہ گھٹنا قصدا ڈالے۔" تفسیر علامہ ابواسعودآفندی میں ہے(اس کا خلاصہ وہی ہے جو عبارت کشاف کا ہے) نہایہ و مجمع البحار میں ہے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ انہوں نے ایک شخص کی ناک پر سجدہ کا داغ دیکھا فرمایا اپنی صورت نہ کر یعنی سجدے میں ناک پر اتنا زور نہ دے کہ داغ پڑ جائے" ناظر عین الغریبین و مجمع بحارالانوار میں ہے کہ "حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کے یہ معنی ہیں کہ ناک پر بشدد زور ڈال کر اپنی صورت نہ بگاڑ" بالجملہ!زید کا یہ قول(کہ جس شخص کے دل میں بغض کا سیاہ داغ ہوتا ہے اس کی شامت سے اس کی ناک یا پیشانی پا کالا داغ ہو جاتا ہے) باطل محض ہے اور امام زین العابدین و حضرت علی و عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے مبارک چہروں پر یہ نشان ہونا اس کے قول کو اور بھی مردود کر رہا ہے اور ایک جماعت علما کے نزدیک آیت کریمہ میں مراد ہونا جس سے ظاھر کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بھی یہ نشان تھا اور یہ کہ اللہ عزوجل نے اس کی تعریف فرمائ اب تو قول زید کی شناخت کی کوئی حد نہ رکھے گا۔ تحقیق حکم اقول اور اس بارے میں تحقیق حکم یہ ہے کہ دکھاوے کے لیے قصدا یہ نشان پیدا کرنا حرام قطعی و گناہ کبیرہ ہے اور وہ نشان معاذاللہ اس کے استحقاق جہنم کا نشان ہے جب تک توبہ نہ کرے۔ اور اگر یہ نشان کثرت سجود سے خود پڑ گیا تو وہ سجدے اگر ریائی تھے تو غافل جہنمی اور یہ نشان اگرچہ خود جرم نہیں مگر جرم سے پیدا ہوا لہذا اسی ناریت کی نشانی، اور اگر وہ سجدے خالصا لوجہ اللہ تھے مگر یہ اس نشان پڑنے سے خوش ہوا کہ لوگ مجھے عابد ساجد جانیں گے تو اب ریا آ گیا اور یہ نشان اس کے حق میں مذموم ہو گیا، اور اگر اسے اس کی چرف کچھ التفات نہیں تو یہ نشان نشان محمود ہے اور ایک جماعت کے نزدیک آیہ کریمہ میں اس کی تعریف موجود ہے اُمید ہے کہ قبر مین ملائکہ کے لیے اس کے ایمان و نماز کی نشانی ہو اور روز قیامت یہ نشان آفتاب سے زیادہ نورانی ہو جبکہ عقیدہ مطابق اھلسنت وجماعت صحیح و حقانی ہو ورنہ بددین گمراہ کی کسی عبادت پر نظر نہیں ہوتی ہے جیسا کہ ابن ماجہ وغیرہ کی احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے یہی وہ دھبا ہے جسی خارجیوں کی علامت کہا گیا۔ بالجملہ بد مذہب کا دھبا مذموم اور سنی میں دونوں احتمال ہیں ریاء ہو تو مذموم ورنہ محمود اور سُنی پر ریا کی تہمت تراش لینا اس سے زیادہ مذموم و مردود کہ بد گمانی سے بڑھ کر کوئی بات جھوٹی نہیں قالہ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ واللہ تعالی اعلم
  21. ترک رفع کے سلسلے میں ۷/ احادیث ہیں: وبالجملة فمثل ہذا العدد في ترک الرفع في جانب آخر بل ہي سبعة (نیل الفرقدین) ?صحیح أبوعوانة?: ۹۰ و ?مسند حمیدي?: ج۲ ص۲۷۷ میں ہے، ?عن سالم عن أبیہ قال: رأیتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا افتتح الصلاة ورفع یدیہ حتی یحاذي بہما، وقال بعضہم: حذو منکبیہ وإذا أراد أن یرکع وبعد ما یرفع رأسہ من الرکوع لا یرفعھما، وقال بعضھم لا یرفع بین السجدتین والمعنی واحد۔ یہ روایت سند کے لحاظ سے نہایت قوی اور علت و شذوذ سے بری ہے،جن حضرات نے اس پر کلام کیا ہے اصولِ محدثین کی رو سے وہ درست نہیں۔ دوسری حدیث حدیثِ ابن مسعود -رضی اللہ عنہ- ہے عن علقمة قال عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ: ألا أصلي بکم صلاة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فصلی فلم یرفع یدیہ إلا في أول مرة اس حدیث کو امام ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے، قال أبوعیسی: وحدیث ابن مسعود حدیث حسن وبہ یقول غیر واحد من أھل العلم وھو قول سفیان وأھل الکوفة مشہور غیر مقلد عالم محدث ?البانی? نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، قال الألباني في تحقیقہ علی مشکوة المصابیح: رواہ الترمذي ورجالہ رجال مسلم۔ نیز خلفائے راشدین اور اکابر صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کاعمل ترکِ رفع کا تھا جو عدمِ رفع کے راجح ہونے کے بجائے خود بڑی دلیل ہے۔ انھیں تمام وجوہاتِ ترجیح کی بنا پر احناف نے ترکِ رفع کو مستحب قرار دیا ہے۔ آپ اگر حنفی ہیں تو آپ کو ترک رفع پر ہی عمل کرنا چاہیے۔
  22. رفع یدین کیا ہے؟ اور نماز میں رفع یدین کرنا کیسا ہے؟ جواب: رفع یدین کا مطلب ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کے بعد رکوع میں جاتے وقت ، رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھوں کو اٹھانا رفع یدین کہتے ہیں۔ مگر ہم اہلسنت و جماعت حنفی جو صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ اسے سنّت مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ثابت کرتے ہیں۔ حدیث شریف: حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سب کو نماز رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر پڑھ کر نہ بتا دوں ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین فرمایا۔ ( بحوالہ: ترمذی شریف از کتاب برہان الصلوٰۃ صفحہ 15) فائدہ: تمام راویوں میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث پر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اس لئے عمل کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سب سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریب تھے اور جب قریب تھے تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سب سے زیادہ نماز پڑھتے دیکھا اور وہ فرماتے ہیں کہ: حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو صرف ایک مرتبہ ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے ہوئے دیکھا۔ اسی طرح رفع یدین ابتدائے اسلام میں تھا بعد میں منسوخ کر دیا گیا۔ یہ حدیث مذکورہ اس بات کی دلیل ہے۔ حدیث شریف: حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ایک شخس کو رکوع میں جاتے وقت اور اٹھتے وقت یدین کرتے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ “ ایسا نہ کرو کیونکہ رسول اعظم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رفع یدین کیا۔ پھر چھوڑ دیا۔“ (عمدۃ القاری شرح بخاری از کتاب : برہان الصلوٰۃ صفحہ 17) نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کرنا چاہیے۔ پہلے تکبیر تحریمہ کے علاوہ دوسرے مواقع میں بھی رفع یدین تھا، بعد میں منسوخ ہوگیا، جس کے نسخ پر بہت ساری حدیثیں دال ہیں: (۱) عن جابر بن سمرة قال: خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ما لي أراکم رافعي أیدیکم کأنھا أذناب خیل شمس اسکنوا في الصلاة (مسلم: ج۱ ص۱۸۱ و نسائي: ج۱ ص۱۳۳) (۲) عن الزھري عن سالم عن أبیہ قال: رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا افتتح الصلاة رفع یدیہ حتی یحاذی بھما وقال بعضھم حذو منکبیہ وإذا أراد أن یرکع وبعد ما یرفع رأسہ من الرکوع لا یرفعھما وقال بعضھم ولا یرفع بین السجدتین والمعنی واحد․ (صحیح أبي عوانة: ج۲ ص۹۰)
  23. Wasslam, welcome brother to islamimehfil Thank you for Joining this Sweet Madni Community. plz keep in touch with islamimehfil And Share your Knowledge with us through your Posts..
×
×
  • Create New...