• Announcements

    • Sag-e-Attar

      IslamiMehfil Rules (Please Must Read, Before You Post Anything)   04/09/2017

        فورم کےعمومی قوانین آخری ترمیم: ۱۰ اپریل ۲۰۱۷ ۔۔۔عمومی فورم رول نمبر ۱۵ ایڈ کیا گیا ،جو نیچے آخر میںبولڈ فونٹ میں موجود ہے۔ فورم کی انتظامیہ کی طرف سے تمام ارکان کو خوش آمدید! پوسٹ ارسال کرنے سے پہلے تمام اراکین کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ مندرجہ ذیل قواعد و ضوابط کا مطالعہ کر لیں تا کہ مستقبل میں کسی قسم کا کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔ اگر کوئی پوسٹ یا ٹاپکس فورم رولز کے خلاف نظر آئے تو تمام ممبرز سے گزارش ہے کہ رپورٹ کا بٹن استعمال کرکے انتظامیہ کی مدد کریں۔ ۱- اسلامی محفل ایک مکمل اسلامی سنی حنفی بریلوی مسلک سے منسلک فارم ہے جس میں کسی قسم کی غیر اسلامی و غیر اخلاقی پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
      کسی قسم کی غلط پوسٹ کسی ممبر کو فارم پر نظر آئے تو رپورٹ بٹن کو استعمال کر کے انتظامیہ کو اطلاع کریں۔ اپنی طرف سے کسی ممبر پر نقطہ چینی کرنے کی اجازت نہیں۔

      ۲- اس فورم یا منتظمین کے متعلق کوئی شکوہ یا شکایت یا اعتراض واضح طور پر کسی بھی سیکشن میں بیان نہیں کرسکتے۔ اور شکوہ شکایت وغیرہ کرنے کیلئے ایڈمن سے براہ راست رابطہ کریں

      ۳- فورم میں دستخط استعمال کرنے کیلئے صرف ایک تصویر اور اس کی ازحد چوڑائی550پکسلز اور اونچائی145پکسلزسے زیادہ نہ ہو۔اور ساتھ میں کچھ لنکس کی اجازت ہے۔ سیگنیچر امیج میں یا لنکس میں کسی بد مذہب سائٹ کا لنک یا قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں۔

      ۴- کسی جاری گفتگو کے دوران ایسے روابط ارسال کرنے سے پرہیز کریں جن کا گفتگو سے تعلق نہ ہو۔

      ۵- بحث برائے بحث سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کریں

      ۶۔ فورمز کی انتظامیہ آپ کو ہدایت کرتی ہے کہ براہ کرم کسی قسم کی ذاتی معلومات جیسے کہ اپنا پتا یا فون نمبر ارسال مت کریں جس سے تمام لوگوں کی اس تک رسائی ممکن ہو سکے۔ان معلومات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہر ممکن طور پر ، اگر آپ اپنی معلومات کا تبادلہ کسی دوسرے رکن کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں تو ذاتی پیغامات کا استعمال کریں۔ ۷۔ ٹاپک کے لئے مناسب ،موضوع سے متعلق ٹائٹل استعمال کریں۔  need answer,  jawab dejiye, please read it, must reply وغیرہ جیسے غیر موضوع ٹائٹل استعمال نہ کریں. ٹائٹل کی ایک بہتر مثال یہ ہے۔
      "A good example: "Help: I need "This" Book Scan
      "A bad example: "PLZZ HEEEEELP ۸۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک نام جہاں بھی استعمال کریں۔ درود شریف ضرور لکھیں۔ درود شریف والا ایموٹیکن بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ (s.a.w) یا (pbuh) وغیرہ لکھنے کی اجازت نہیں۔ ۹۔ سنیوں کے آپسی اختلافات میں فورم کا *رجحان جمہور اور جید علماء کی طرف ہوگا۔ اس لئے ان موضوعات پر طویل بحث ممنوع ہے۔
      مثلاً...پیر کرم شاہ صاحب والا موضوع۔۔۔ اس جیسے موضوعات پر فورم کا رخ جید علماء اور جمہور علماء کی طرف ہوگا۔ دوسرا یعنی ویڈیو کا مسئلہ یا اسپیکر پر نمازوغیرہ کا مسئلہ(فروعی مسائل) ۔
      اس جیسے مسائل کو بنیاد کو بنا کر علماء کو برا بھلا کہنا ہرگز ممنوع ہےاور بلا وجہ بحث بھی ممنوع ہے۔ فروعی مسائل میں فورم کا رجحان بعض اوقات کسی عالم کی طرف یا بعض اوقات غیر جانبدار بھی ہوسکتا ہے۔

      ۱۰۔ غیر اخلاقی پوسٹ کرنے پر وارننگ یا بین کیا جا سکتا ہے۔

      ۱۱۔ کسی بھی عالم چاہے بد مذہبوں کا ہو ان کی بگاڑ کر تصویر شئیر کرنا منع ہے۔

      ۱۲۔ انگلش سیکشن کے علاوہ کسی بھی سیکشن میں انگلش پوسٹ کرنا منع ہے۔

      ۱۳۔ پوسٹ کو متعلقہ سیکشن میں کریں غیر متعلقہ سکیشن میں پوسٹ کرنے پر آپ کی پوسٹ کو موو (move) کر دیا جائے گا۔ ۱۴۔ عورتوں کی تصاویر ویڈیوز وغیرہ شئیر کرنا منع ہے۔ ۱۵۔ یہ فورم آپ کی سائیٹس کی تشہیر، بیک لنکنگ یا گوگل رینکنگ بڑھانے کے لئے نہیں ہے۔ جو بھی اسلامی مواد پوسٹ کریں اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کیلئے پوسٹ کریں۔ غیر متعلقہ لنکس ٹاپکس سے حذف کر دیے جائیں گے۔اگر کسی اسلامی سنی ویب سائیٹ کا لنک آپ پوسٹ کرنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر ممبرز مستفید ہوں، تو سنی سائیٹس کے متعلقہ سیکشن میں نیا ٹاپک ویب سائیٹ ٹائٹل ہیڈنگ کے ساتھ  پوسٹ کریں۔

        مناظرہ سیکشن کے قوانین

      ۱۔ تمام ممبرز (خصوصاً سُنی ممبرز) مناظرہ سیکشن میں غلط زُبان کا استعمال نہ کریں اور اَدب کے دائرے میں رہ کر اعتراض کریں یا جواب دیں۔ غلط زبان استعمال کرنے پر آپکی پوسٹ میں ترمیم یا پوسٹ کو ڈیلیٹ کیا جاسکتا ہے۔ اور بار بار کرنے پر وارن یا بین بھی کیا جا سکتا ہے۔

      ۲۔ اگر کسی ممبر کے ایک موضوع پر دو مختلف ٹاپکس نظر آئے تو ایک ٹاپک بغیر اطلاع کے لاک یا ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔

      ۳۔ جن موضوعات سے متعلق پہلے سے ٹاپکس موجود ہیں، اپنا سوال،اعتراض یا جواب اُسی ٹاپک میں پوسٹ کریں۔ اگر الگ سے ٹاپک بنا کر پوسٹ کیا تو آپکے ٹاپک کو بند، ضائع یا دوسرے ٹاپک کے ساتھ یکجا کیا جاسکتا ہے۔

      ۴۔ مناظرہ سیکشن بحث برائے بحث کیلئے نہیں ہے۔ اگر کوئی پوسٹ بحث برائے بحث یا موضوع سے ہٹ کر محسوس ہوئی تو بغیر اطلاع کئے ڈیلیٹ کر دی جائے گی۔ بار بار ایسا کرنے پر وارن کیا جا سکتا ہے۔اور بین بھی کیا جاسکتا ہے۔

      ۵۔ ایسی سائٹ جن کا تعلق بد مذہبوں سے ہو یا ان سائٹ پر بد مذہبوں کا کوئی مواد موجود ہو ان کی کسی بھی قسم کی تشہیر کسی پوسٹ میں ان کا لنک وغیرہ شئیر کرنا پوسٹ کرنا سخت منع ہے ۔خلاف ورزی پر پوسٹ ڈیلیٹ یا ایڈیٹ کی جاسکتی ہے۔

      ۶۔ بدمذہبوں کی ویڈیوز شئیر کرنا منع ہے اگر کسی اعتراض کا جواب درکار ہو تو اس ویڈیو کا سکرین شاٹ لے کر بد مذہبوں کی سائٹ کا لنک ریمو کر کے امیج کی صورت میں پوسٹ کریں۔

      کسی سنی عالم کی تضحیک سخت منع ہے۔

      ۷۔ اگر کو ئی اعترض بھی ہو جس میں سنی عالم کے خلاف غلط زبان استعمال کی گئی ہو تو اس میں سے غلط زبان کو ریمو کر کے اعتراض پوسٹ کیا جائے۔

      ۸۔ صرف وہی سائٹ شئیر کی جائیں جو سنیوں کی ہوں صلح کلی مکتب فکر کی سائٹ بھی شئیر کرنا منع ہے۔

      ۹۔ اسلامی محفل کے کسی بھی ٹیم ممبر یا سینئر ممبر سے بدتمیزی ناقابل برداشت ہوگی اور بین بھی کیا جاسکتا ہے۔ ٹیم ممبرز بھی حدود کے دائرے میں رہ کر جواب دینے کے مجاز ہیں۔

      ۱۰۔ انتظامیہ کا فیصلہ حتمی ہے۔ اگر آپ کو کسی نقطے پر اعتراض ہے تو مناظرہ سیکشن میں پوسٹنگ کرکے اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔ کسی بھی ممبر کو رولز کے خلاف کوئی پوسٹ نظر آئے تو فوراً رپورٹ کے بٹن سے ہمیں آگاہ کریں۔
         

Search the Community

Showing results for tags 'بدعت'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Urdu Forums
    • Urdu Literature
    • Faizan-e-Islam
    • Munazra & Radd-e-Badmazhab
    • Questions & Requests
    • General Discussion
    • Media
    • Islami Sisters
  • English & Arabic Forums
    • English Forums
    • المنتدی الاسلامی باللغۃ العربیہ
  • Arabic Forums
  • IslamiMehfil Team & Support
    • Islami Mehfil Specials

Calendars

  • Community Calendar

Found 4 results

  1. plz mairay sayyid allama saeedi sahb es ka zbrdast answer dain jab time milay... plz بدنی عبادات میں بدعت غیر سیئہ کا وجود نہیں‬ اٹھارویں مجلس بدعتوں کی اقسام اور انکے احکام میں: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بعد حمد کی تحقیق تمام باتوں میں اچھی کتاب اللہ کی ہے اور اچھی ہدایت، ہدایت محمد کی اور کاموں میں بدتر نوپیدا نئی نکالی ہوئی یعنی بدعتیں، اور ہر محدّث بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ یہ حدیث مصابیح کی حدیثوں میں ہے۔ جابر کی روایت سے اور ایک اور حدیث میں عرباض بن ساریہ کی روایت سے ہے کہ فرمایا پیغمبر صلی اللہ علیہ نے جو شخص جیتا رہا میرے بعد سو قریب ہے کہ دیکھے گا بہت اختلاف سو لازم پکڑو اپنے اوپر میری سنت اور سنت خلفاء راشدین مہدیین کی بعد اسکے اسکی سند کرو اور دانتوں سے مظبوط پکڑو اور بچاؤ اپنے تئیں نئی باتوں سے کیونکہ ہر محدّث بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ اور مراد بدعت سے جو ان دونوں حدیثوں میں مذکور ہے بدعت سیئہ ہے جسکی اصل اور سند کتاب اور سنت سے نہیں نکلتی نہ ظاہر نہ خفی نہ لفظوں سے یا مضمون سے سمجھی جائے، بدعت حسنہ مراد نہیں ہے جسکی اصل اور سند ظاہر یا خفی نکلتی ہو کیونکہ ایسی بدعت گمراہی نہیں ہوتی بلکہ ایسی بدعت کبھی مباح ہوتی ہے جیسے استعمال چھنّی آٹے کا اور پیٹ بھر کر روٹی گیہوں کی ہمیشہ کھانی اور کبھی مستحب ہوتی ہے جیسی منارہ کا تعمیر کرنا اور کتابیں تصنیف کرنی اور کبھی واجب ہوتی ہے جیسی آراستہ کرنا دلائل کا واسطے دفع کرنا شبہات ملحدوں اور گمراہ فرقوں کے، اسلئے کہ بدعت کے دو معنی ہیں ایک تو معنی لغوی عام ہیں یعنی محدث مطلق برابر ہے کہ عادات میں ہو یا عبادات میں ہو اور دوسرے معنی شرعی خاص ہیں، یعنی دین میں کچھ بڑھانا یا دین میں سے کچھ گھٹانا بعد عہد صحابہ کے، بدون اجازت شرعی کے ، کہ نہ تو قولی ہو اور نہ فعلی اور نہ صریح اور نہ اشارہ پس بدعت دونوں حدیثوں میں اگر چہ عام ہے اور شامل تمام محدثات کو ۔ پر عموم اور شمول باعتبار لغوی معنوں کے مقصود نہیں ہے بلکہ عموم باذتبار شرعی خاص کی مراد ہے۔ بھر یہ عادات کو بالکل شامل نہیں بلکہ اسمیں بعضے اعتقادات اور بعضے صورتیں عبادات کی داخل ہیں، کیونکہ نبی علیہ السلام واسطے تعلیم امر دنیا کے نہیں آئے۔ وہ صرف واسطے تعلیم امر دین کے آئے ہیں۔ اس حدیث سے سمجھا جاتا ہے کہ تم خود جانتے ہو اپنی دنیا کا کاروبار، جب میں تم کو دین کی بات بتایا کروں تو لے لیا کرو ۔ یہ بدعتیں اعتقاد کی کفر ہیں اور بعض کفر نیں ہیں مگر تمام کبائر سے سخت تر ہیں، یہاں تک کہ قتل اور زنا سے بھی اور اس سے زیادہ درجہ کفر ہی کا ہے اور بدعت عبادت میں اگر چہ اس سے کمتر ہے پر اس کا عمل کرنا نافرماتی اور گمراہی ہے خاص کر جب کہ سنت موکدہ کی مقابل ہو اور بدعت عادات کی اسکے کرنے میں کچھ نافرمانی اور گمراہی نہیں بلکہ ترک اولی ہے، سو اس کا ترک اولی ہے جب یہ ٹھہر چکا تو منارہ سے مدد ہونی ہے واسطے خزینے وقت نماز کی اور کتابوں کا تصنیف کرنا مددگار ہے واسطے تعلیم اور تبلیغ امر معروف کے اور آراستہ کرنا دلائل کا واسطے دفع شبہات ملحدوں اور گمراہ فرقوں کے، باز رکھنا ہے منکر سے اور دفع کرنا ہے شبہات کا دین سے، سو ہر ایک ان میں سے رخصت ہے بلکہ تعمیل کا حکم ہے اسلئے کہ بدعت حسنہ وہ ہے کہ متقدمین کو اسکی حاجت نہ ہوئی، پھر متاخرین کو اس کی حاجت ہوئی اور سب کو خلاف ونزاع پسند آئی اور بعد تلاش کے بدعت حسنہ عبادات خالص بدنیہ میں نہیں پائی جاتے، جیسے روزہ اور نماز اور تلاوت قرآن اور وظیفے کہ تمام عبادتوں سے ہوں بلکہ ان میں بدعت سیئہ ہی ہوتی ہے اسلئے کہ نہ ہونا کسی کار کا قرن اوّل میں یا تو بسبب نہ ہونی ھاجت کے یا بسبب موجود ہونے مانع کے یا بسبب بے خبری کے یا مارے کاہلی کے یا بسبب مکروہ اور ناجائز ہونے کے ہے۔ دونوں پہلے سبب تو عبادات خالص بدنیہ میں نہیں ہو سکتے اسلئے کہ حاجت قربت الہٰی کی عبادت سے منقطع نہیں ہوتی اور بعد ظاہر ہونے اسلام اور غلبہ اسلام کی اس سے کوئی مانع نہیں تھا اور ایسی ہی بے خبری اور کاہلی نہیں ہو سکتی اس واسطے کہ کہاں جائز ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اور انکے تمام اصحاب پر ایسا خیال کیا جائے۔ پھر سواء بدعت مکروہ اور ناجائز ہونے کے کوئی سبب ۔ اور یہی ہے غرض عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی جب ان کو خبر ہوئی ایک جماعت کی جو بعد مغرب کے بیٹھا کرتی تھی ، اور ان میں ایک شخص کہتا جاتا اللہ اکبر کہو اتنی بار اور سبحان اللہ کہو اتنی بار اور الحمد للہ کہو اتنی بار۔ پس وہ لوگ کہتے جاتے ، سو عبد اللہ بن مسعود ان کے پاس آئے، وہ سن کر جو کہتے تھے کھڑے ہو کر کہا: میں عبد اللہ بن مسعود ہوں ، پس قسم اللہ کی جو نہیں معبود سواء اس کے، بیشک تم بدعت کرتے ہو ، نہایت سیاہ یا تم فائق ہو گئے ہو محمد علیہ السلام کے اصحاب پر علم میں ، مراد ان کی یہ ہے کہ تم جو کرتے ہو، یا تو یہ بدعت تاریک ہے یا تم نے ایسی بات پیدا کی ہے جو صحابی کے ہاتھ نہ آئی ان کی بے خبری سے یا سستی سے طریق عبادت کے علم میں تم ان سے گالب ہو نکلے ۔ اور دوسری بات نہیں ہو سکتی تو پہلی ہی بات یعنی بدعت سیاہ ہی مقرر رہی یہ ہی جاری ہو سکتی ہے ہر ایک کے حق میں در باب عبادت خالص بدنیہ کی ایسے طور پر جو صحابہ کے وقت میں نہیں تھا۔ اس واسطے کہ اگر عبادات کا وصف افعال محدث کو بدعت حسنہ بتا دیا کرے، تو عبادات میں بدعت مکروہہ کہیں نہ ہوا کرتے ، اور حال یہ ہے کہ عبادات میں بدعت مکروہہ ہوتے ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: صفحہ131 - 133 خزينۃ الاسرار ترجمہ اردو مع مجالس الابرار و مسالك الاخيار و محائق البدع و مقامع الاشرار ۔ أحمد بن عبدالقادر الرومي الحنفي ۔مترجم سبحان بخش ۔ مطبع مصطفائی 1283 ھ
  2. مجھے اس بارے میں معلومات چاہییں۔ ۔’’کسی کام یا چیز کا داعیہ یا اقتضاء موجود تھا نبی پاک ﷺ کے مبارک دور میں مگر باوجود اس داعیہ کے وہ کام یا چیز میرے رسول اللہ ﷺ نے سر انجام نہیں دی یا اسکے کرنے کا حکم نہیں دیا تو اب وہ کام یا چیز شرعا بدعت ہوگی‘‘؟ اسی حوالے سے میں نے سیدی علامہ سعیدی صاحب کا کوئی مضمون دیکھا تھا یہیں فورم پر، مگر اب وہ مل نہیں رہا۔۔۔ کوئی بھائی یا اسکا لنک بتا دے یا وہیں سے متعلقہ بحث ادھر پیسٹ فرما دیں یا خود اس بارے میں راہنمائی کردیں۔ اس حوالے سے میری سید علامہ سعیدی صاحب نے صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے مبارک فعل کا حوالہ بھی دیا تھا کہ انہوں نے تلبیہ کے الفاظ میں از خود اضافہ کیا تھا ، اسکا حوالہ بھی پوسٹ کر دیں۔۔ مثالوں سے سمجھا دیں تو بہت خوب اور ساتھ علمی تحقیقی انداز میں دلائل مہیا فرما دیں کہ ایسا کام (جو میں نے اوپر پوچھا ہے) شرعی بدعت ہوگا یا نہیں؟؟
  3. ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کل بدعۃ ضلالۃ یعنی ہر بدعت گمراہی ہے (ابو داؤد) اور بدعت ہر وہ کام ہے جو ہمارے رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیدا ہوا اور آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا “کہ میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑ لو (ترمذی۔ ابو داؤد) ان دونوں احادیث کی روشنی میں یوم صدیق اکبر منانا، گمراہی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ نہ تو سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھی اور نہ ہی صحابہء کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی سنت ہے ؟ ہے کوئی دیوبندی وھابی (نجدی) تبلیغی جماعت والا جو اپنے اس عمل کو قرآن و حدیث سے ثابت کر سکے؟ صرف اس سوال کا جواب دیں سوال پر سوال نہ کریں.