ghulamahmed17

کیا خلفہِ راشد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل جھوٹ ہیں؟

3 posts in this topic

: وہابیہ کا چہیتا امام ابن تیمیہ اپنی کتاب منہاج السنہ، ج 4 ص 400 میں اقرار کرتاہے


وطائفة وضعوا لمعاوية فضائل ورووا أحاديث عن النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك كلها كذب


لوگوں کی ایک جماعت نے معاویہ کے فضائل گھڑے اور اس سلسلے میں رسول اللہﷺ  سے احادیث بیان کردیں جن میں سے سب جھوٹی ہیں ۔
کیا ابنِ تیمیہ کی یہ بات درست ہے؟

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

: وہابیہ کا چہیتا امام ابن تیمیہ اپنی کتاب منہاج السنہ، ج 4 ص 400 میں اقرار کرتاہے


وطائفة وضعوا لمعاوية فضائل ورووا أحاديث عن النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك كلها كذب


لوگوں کی ایک جماعت نے معاویہ کے فضائل گھڑے اور اس سلسلے میں رسول اللہﷺ  سے احادیث بیان کردیں جن میں سے سب جھوٹی ہیں ۔
کیا ابنِ تیمیہ کی یہ بات درست ہے؟


کوئی اور فضیلت مانے یا نہ مانے کوئی لیکن ان کی یہ فضیلت کافی ہے کے نبی پاک صلی الله علیہ وآکہ وسلم کے صحابی ہیں۔۔۔

اور ابن تیمیہ کی یہ بات بلکل غلط ہے۔۔۔


Sent from my iPhone using Tapatalk
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote


کوئی اور فضیلت مانے یا نہ مانے کوئی لیکن ان کی یہ فضیلت کافی ہے کے نبی پاک صلی الله علیہ وآکہ وسلم کے صحابی ہیں۔۔۔

اور ابن تیمیہ کی یہ بات بلکل غلط ہے۔۔۔ 

صابی تو یہ بھی تھے 
عبدالرحمن بن عدیسؓ
: یہ اصحاب بیعت شجرہ میں سے ہیں اور قرطبی کے بقول مصر میں حضرت عثمان ؓکے خلاف بغاوت کرنے والو ں کے لیڈر تھے یہاں تک کہ حضرت عثمانؓ کو قتل کر ڈالا .
﴿استیعاب ۲: ۳۸۳؛ 
 اور صحابی تو یہ بھی ہیں 

 الدارقُطنی کہتے ہیں
أَبُو الغَادِيَة، يَسَار بْن سَبع، لَهُ صُحْبَة، رَوَى عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّارَ بْن يَاسِر، رَحِمَهُ اللهُ، بِصِفِّين.

ابوالغادیہ یَسار بن سَبع صحابی تھا، اس نے نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بھی روایت کی ہے، وہ عمار بن یاسرؓ کا قاتل تھا جنگِ صِفِّین میں۔

(موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني: 2/ 724/ 3938

 ابن عبدالبر (م463ھ) لکھتے ہیں

أَبُو الغَادِيَة الجُهَنِي. أَدْرَكَ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ غُلَامٌ، وَلَهُ سَمَاع مِنَ النَّبِيّ ﷺ، وَهُوَ قَاتِلُ عَمّارَ بْن يَاسِر.

ابوالغادیہ الجُہَنی ، اس نے نبی اکرم ص کو پایا ہے جبکہ یہ نوجوان تھا، اور اس نے نبی پاک ص سے حدیث کی سماعت بھی کی ہے، اور یہ عمار بن یاسرؓ کا قاتل ہے۔

(الاستيعاب لابن عبد البر: 4/ 1725/ 3113)

الذہبی (م748ھ) لکھتے ہیں

أَبُو الغَادِيَة الجُهَني: يَسَار بْن سَبُع، لَهُ صُحْبَة، وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّار.

ابوالغادیہ الجُہَنی یَسار بن سَبع صحابی تھا، اور وہ عمار کا قاتل تھا۔

(المقتنى في سرد الكنى لِلذهبي: 2/ 3/ 4885)

 

 

 

Picture1.png

Edited by ghulamahmed17

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.