Raza Asqalani

Members
  • Content count

    215
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    27

Raza Asqalani last won the day on September 30

Raza Asqalani had the most liked content!

Community Reputation

58 Excellent

4 Followers

About Raza Asqalani

  • Rank
    Baghdadi Member
  • Birthday 01/04/1992

Profile Information

  • Gender
    Male

Previous Fields

  • Madhab
  • Sheikh
    Imam Asqalani

Recent Profile Visitors

801 profile views
  1. قرآن پاک کی وہ آیات جوذکروثناء اوردعاء پرمشتمل ہوں ان کوبنیت ذکرودعاحالت ناپاکی میں پڑھناجائزہے اسی طرح اسماء الٰہی، وظائف، 6کلمے پڑھنا اور مسنون ماثور دعائیں پڑھنا جائزہے لیکن بہتر یہ ہے کہ با وضو یا کلی کر کے پڑھے جائیں۔ امام اہل سنت امام احمد رضا خا ن رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: " قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر وثناء ومناجات ودعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے" آیۃ الکرسی" متعدد آیات کاملہ جیسے سورۃحشرکی آخیر کی تین آیتیں " هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ" سے آخرسورت تک بلکہ پوری سورت جیسے الحمدشریف بہ نیت ذکر ودعا نہ بنیت تلاوت پڑھنا جنبی وحائضہ ونفاس والی سب کو جائز ہے اسی لئے کھانے یا سبق کی ابتداء میں " بسم اللہ" کہہ سکتے ہیں اگرچہ یہ آیت مستقلہ ہے اس سے مقصود تبرک واستفتاح ہوتا ہے نہ کہ تلاوت"۔ [فتاوی رضویۃ ،جلد:1، صفحہ:795, رضا فاوندیشن لاہور]۔ صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: " قرآن پاک کے علاوہ اور تمام اذکار کلمہ شریف درودشریف وغیرہ پڑھنا بلا کراہت جائز بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وضو یا کلی کرکے پڑھنا بہتر اور ویسے بھی پڑھ لیا تب بھی حرج نہیں ایسی عورت کو اذان کا جواب دینا جائز ہے"۔[بہار شریعت ،جلد :1، حصہ دوم، صفحہ:379، مکتبہ المدينہ کراچی ]
  2. ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے علامہ ابن عدی کی کتاب سے حدثنا علي بن سعيد حدثنا الحسين ابن عيسى الرازي حدثنا سلمة بن الفضل ثنا حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ((إذا رأيتم فلاناً على المنبر فاقتلوه). (الکامل لابن عدی 6/112) اس روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار تیسرے طبقہ کا مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔اور اس روایت میں فلانا کا لفظ ہے نام کی تصریح موجود نہیں۔ اس کے علاوہ محمدبن اسحاق کا شاگرد سلمہ بن الفضل الأبرش بھی کثیر الغلط راوی ہے۔ ایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے حديث جابر بن عبدالله روى سفيان بن محمد الفزاري عن منصور بن سلمة (ولا بأس بمنصور) عن سليمان بن بلال (ثقة) عن جعفر بن محمد (وهو ثقة) عن أبيه (ثقة) عن جابر بن عبدالله رضي الله عنه مرفوعاً (إذا رأيتم فلاناً اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں فلانا کا لفظ ہے ۔اس کے علاوہ سفیان بن محمد الفزاری سخت ضعیف ہے حدثني إبراهيم بن العلاف البصري قال، سمعت سلاماً أبا المنذر يقول: قال عاصم بن بهدلة حدثني زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر فاضربوا عنقه أنساب الأشراف (5/130) برقم (378) اس روایت میں ابراہیم بن العلاف بصری مجہول ہے اس کی توثیق امام ابن حبان کے علاوہ کسی امام نے نہیں کی۔اور امام بن حبان کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں۔ حدثنا يوسف بن موسى وأبو موسى إسحاق الفروي ، قالا : حدثنا جرير بن عبد الحميد ، حدثنا إسماعيل والأعمش ، عن الحسن ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه"، فتركوا أمره فلم يفلحوا ولم ينجحوا. أنساب الأشراف (5/128) اس راویت میں اسماعیل بن ابی خالد اور امام اعمش کا سماع امام حسن بصری سے محل نظر ہے۔اس کے علاوہ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سما ع آپ علیہ السلام سے نہیں ہے۔ حدثنا الساجي قال : ثنا بندار قال : ثنا سليمان قال : ثنا حماد بن زيد قال : قيل لأيوب إن عمراً روى عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال [ إذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ] قال أيوب كذب الكامل (5/103) اس راویت میں عمرو بن عبید بن باب کذاب ہے خود اسی راویت میں امام ایوب کیسان السختیانی نے جرح کی۔
  3. یہ تو کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ اگر نبوت کا سلسلہ ختم نہ ہوتا تو اللہ عزوجل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی بناتا اور ساتھ ان کو نبوت والے تمام فضائل و احوال بھی مہیا کرتا لیکن جب نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے تو پھر ایسا اعتراض کرنا بھی فضول ہے ۔ یہی اعتراض شیعہ پر تو ہو سکتا ہے کہ ان کے بارہ امام ان کے نزدیک اگرمعصوم ہیں پھر وہ نبی کیوں نہیں ہیں؟؟؟ شیعہ مر تو جائے گا لیکن اس کا جواب نہیں دے پائے گا۔(ان شاء اللہ)
  4. اس روایت کا مکمل جواب میری فیس بک ٹائم لائن پر موجود ہے یہ ہے اس کا لنک
  5. جوابات تو ہیں اس بارے میں لیکن آپ سے یہ کہا گیا کہ اپنے الفاظ کا چناؤ اچھا کریں۔ جو علماء اور صوفیاءکرام قوالی کے جواز کے قائل ہیں کچھ شرائط کے ساتھ ان کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟؟؟ آپ کے سب سوالات کا جوابات بعد میں دیے جائیں۔
  6. عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الْكَلْبِيِّ , وَقَالَ قَتَادَةَ , {فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا} [الأعراف: 189] , قَالَ: " كَانَ آدَمُ لَا يُولَدُ لَهُ وَلَدٌ إِلَّا مَاتَ فَجَاءَهُ الشَّيْطَانُ , فَقَالَ: إِنَّ شَرْطَ أَنْ يَعِيشَ وَلَدُكَ هَذَا فَسَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ , فَفَعَلَ قَالَ: فَأَشْرَكَا فِي الِاسْمِ وَلَمْ يُشْرِكَا فِي الْعِبَادَةِ " تفسیر عبدالرزاق رقم 968 اس روایت میں ہشام الکلبی متروک اور شدید ضعیف ہے حدثنا عبد الصمد حدثنا عمر بن إبراهيم حدثنا قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فإنه يعيش فسموه عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره مسنداحمد رقم 19610 حدثنا محمد بن المثنى حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثنا عمر بن إبراهيم عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فسمته عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه مرفوعا إلا من حديث عمر بن إبراهيم عن قتادة ورواه بعضهم عن عبد الصمد ولم يرفعه عمر بن إبراهيم شيخ بصري جامع ترمذی رقم 3077 حدثنا أحمد بن عثمان بن يحيى الآدمي المقري ببغداد ، ثنا أبو قلابة ، ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ، ثنا عمر بن إبراهيم ، عن قتادة ، عن الحسن ، عن سمرة بن جندب ، عن النبي - صلى الله عليه وآله وسلم - قال : " كانت حواء لا يعيش لها ولد ، فنذرت لئن عاش لها ولد تسميه عبد الحارث ، فعاش لها ولد فسمته عبد الحارث ، وإنما كان ذلك عن وحي الشيطان " . هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه . مستدرک رقم4056 ان تمام روایات میں قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں عن سے روایت کر رہے ہیں سماع کی تصریح نہیں اس لئے ضعیف ہیں امام ترمذی کا حسن اور امام حاکم کا صحیح کہنا خطا ہےلہذا اس سے استدلال کرنا باطل ہے
  7. قوالی سننے میں اختلاف ہے کچھ علماء جواز کے قائل ہیں ان میں ان علماء کی کچھ شرائط ہیں جس کی بنا پر وہ جواز کے قائل ہیں۔ کچھ علماء اس کے عدم جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ بھائی کچھ خیال کیا کریں ایسا کہنے میں احتیاط کیا کریں۔
  8. محمد حسین بٹالوی غیر مقلد لکھتا ہے “مولوی رشید احمد صاحب کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ خاکسار (مولانا محمد حسین بٹالوی صاحب) کو جو سبیل الارشاد میں کئی جگہ “فرقہ غیر مقلدین“ کہا گیا ہے یہ مجھے ناگوار گزرا ہے ہم لوگ جو اس گروہ سے علم کی طرف منسوب ہیں۔ منصوصات میں قرآن و حدیث کے پیرو ہیں اور جہاں نص نہ ملے وہاں صحابہ تابعین و ائمہ مجتہدین کی تقلید کرتے ہیں خصوصاً آئمہ مذھب حنفی کی جن کے اصول و فروغ کی کتب ہم لوگوں کے مطالعہ میں رہتی ہیں“۔ (اشاعۃ السنہ۔ج23،ص290) “خاکسار نے رسالہ نمبر6 جلدنمبر 20 کے صفحہ 201 اپنے بعض اخوان اور احباب اہلحدیث کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر ان کو اجتہاد مطلق کا دعوٰی نہیں اور جہاں نص قرآنی اور حدیث نہ ملے وہاں تقلید مجتہدین سے انکار نہیں تو وہ مذہب حنفی یا شافعی(جس مذہب کے فقہ و اصول پر بوقت نص نہ ملنے کے وہ چلتے ہوں) کی طرف اپنے آپ کو منسوب کریں“۔ (اشاعۃ السنہ،ج23،ص291) “جس مسئلہ میں مجھے صحیح حدیث نہیں ملتی اس مسئلہ میں میں اقوال مذہب امام سے کسی قول پر صرف اس حسن ظنی سے کہ اس مسئلہ کی دلیل ان کو پہنچی ہوگی تقلید کرلیتا ہوں ۔ ایسا ہی ہمارے شیخ و شیخ الکل (میاں صاحب) کا مدت العمری عمل رہا“۔ (اشاعۃ السنہ،ج22،ص310) بٹالوی صاحب مزید لکھتے ہیں۔یہ بلا قادیانی کے اتباع کی اکثر اسی فرقہ میں پھیلی ہے جو عامی و جاہل ہوکر مطلق تقلید کے تارک و غیر مقلد بن گئے ہیں یا ان لوگوں میں جو نیچری کہلاتے ہیں ۔ جو درحقیقت اس قسم کے غیر مقلدوں کی برانچ (شاخ) ہیں۔ (اشاعۃ السنۃ،ص271،ج15)
  9. حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ اپنی مشہورومعروف کتاب ’’فیوض الحرمین‘‘ میں رقمطراز ہیں:۔ عرّفنی رسول اللّہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان فی المذاھب الحنفی طریقۃٌ انیقۃٌ وھی اوفق الطرق بالسنۃ المعروفۃ التی جمعت ونقحت فی زمان البخاری وا صحابہٖ فیوض الحرمین ص ۴۸ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو بتلایا کہ مذہب حنفی ہی میں وہ عمدہ طریقہ ہے ۔ جو دوسرے سب طریقوں سے زیادہ اس سنت نبویہ معروفہ کے مطابق ہے جو بخاریؒ اور دوسرے اصحاب صحاح کے دور میں مرتب و منقح ہو کر مدون ہو گئی ہے۔ غیر مقلدوں کے امام و مجدد نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں کہ خاص مذھب حنفی میں ہر مسئلہ مطابق مذھب اہلحدیث موجود ہے۔۔۔۔ اسی لئے شاہ ولی اللہ صاحب نے فرمایا کی تمام مذاہب میں حدیث سے سب سے زیادہ موافق مذھب حنفی ہے ۔ مآثر صدیقی ص6 امام احمد کے قول کی وضاحت امام ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب میں کر دی ہے۔ یہ ہے اس کتاب کا لنک بھائی
  10. حضرت آدم علیہ السلام کو براہِ راست مٹی کے جوہر سے تخلیق کیا گیا اور پھر پوری نسل انسانی چونکہ ان کی اولاد تھی اس لیے اپنی تخلیق کے حوالے سے ہر انسان کو گویا اسی مادہ تخلیق یعنی مٹی سے نسبت ٹھہری۔ لیکن میرے نزدیک اس کی زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے کہ مرد کے جسم میں بننے والا نطفہ دراصل مٹی سے کشید کیا ہوا جوہر ہے۔ اس لیے کہ انسان کو خوراک تو مٹی ہی سے حاصل ہوتی ہے، چاہے وہ معدنیات اور نباتات کی شکل میں اسے براہِ راست زمین سے ملے یا نباتات پر پلنے والے جانوروں سے حاصل ہو۔ اس خوراک کی صورت میں گارے اور مٹی کے جوہر کشید ہو کر انسانی جسم میں جاتے ہیں اور اس سے وہ نطفہ بنتا ہے جس سے بالآخر بچے کی تخلیق ممکن ہوتی ہے۔
  11. حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ کسی کے مرنے اور جینے پر بے نور نہیں ہوتے ،جب تم یہ دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو، اس کی بڑائی بیان کرو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔(صحیح بخاری :1044، صحیح مسلم :2089) حضرت ابو بکرؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھے کہ سورج کو گرہن لگنا شروع ہوگیا ،آپﷺ جلدی سے اُٹھے اور مسجد میں تشریف لے گئے اور ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں یہاں تک کہ سورج صاف ہوگیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ کسی کے مرنے اور جینے پر بے نور نہیں ہوتے ،جب تم یہ گرہن دیکھو تو نماز پڑھو اوردعا کرویہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔ (صحیح بخاری :1040)حضرت ابو مسعود انصاریؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند میں گرہن کسی شخص کی موت سے نہیں لگتا یہ دونوں تواللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں اس لئے اسے دیکھتے ہی کھڑے ہوجاؤ اور نماز پڑھو۔ (صحیح بخاری:1041) حضرت مغیرہ بن شعبہؓ فرماتے ہیں، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کے دن سورج کو گرہن ہوا ، بعض لوگ کہنے لگے : گرہن حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺنے فرمایا: گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا ، البتہ تم جب اسے دیکھو تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو۔ (صحیح بخاری:1043) حضرت عبداللہ بن عمروؓروایت کرتے ہیں، جب رسول اللہ ﷺکے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو یہ اعلان کیا گیا،( اَلصَّلٰاۃُ جَامِعَۃ)ٌ’’لوگو ! نماز کھڑی ہونے والی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 1045، صحیح مسلم : 2092) حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺکے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا تو آپ ﷺمسجد میں آئے ،اور کھڑے ہوکر تکبیر کہی۔ لوگوں نے آپؐکے پیچھے صفیں بنا لیں۔ (صحیح بخاری:1046،صحیح مسلم:2091) حضرت ابو بکرؓ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اور کسی کی موت و حیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا بلکہ اللہ ان کو گرہن کرکے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ (صحیح بخاری: 1048)
  12. محمد بن إسحاق ، قال : حدثني عبد الله بن أبي بكر ، عن عمرة بنت عبد الرحمن ، عن عائشة ، قال" لقد أنزلت آية الرجم ، ورضعات الكبير عشراً ، فكانت في ورقة تحت سرير في بيتي ، فلما اشتكى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - تشاغلنا بأمره ودخلت دويبة لنا فأكلتهاأخرجه أحمد في " المسند " ( 18 / 188 - 189 / 26194 )وأخرجه ابن ماجه في " السنن " ( 1 / 625 / 1944 ) من طريق محمد بن إسحاق ، عن عبد الله بن أبي بكر ، عن عمرة ، عن عائشة وعن : عبد الرحمن بن القاسم ، عن أبيه ، عن عائشة ، به وهذا الإسناد منكر ؛ محمد بن إسحاق صدوق ، ولكن له بعض المناكير ، وقد خولف فرواه مالك في " الموطأ " ( ص 353 - تنوير ) عن : عبد الله بن أبي بكر بن حزم ، عن عمرة بنت عبد الرحمن ، عن عائشة ، قالت " كان فيما أنزل من القرآن عشر رضعات معلومات يحرّمن ، ثم نسخن بهخمس معلومات ، فتوفي رسول الله - صلى الله عليه وسلم - [ وهن ] فيما يقرأ من القرآن ومن طريقه : مسلم في " الصحيح " ( 2 / 513 / 1452 ) ، وأبوداود في " السنن " ( 2 / 230 / 2062 ) ، والنسائي في " المجتبى " ( 6 / 100 ) ، والترمذي في " الجامع " ( 3 / 447 ) ، والدارمي في " المسند " ( 2 / 209 / 2253 ) ، والطحاوي في " مشكل الآثار " ( 3 / 6 ) ، والبيهقي في " السنن الكبرى " ( 7 / 454 ) فهذا مما يدل على خطأ ابن إسحاق في هذا الحديث وأيضاً فإن لفظة : " كان فيما أنزل من القرآن عشر رضعات معلومات يحرّمن ، ثم نسخن بهخمس معلومات ، فتوفي رسول الله - صلى الله عليه وسلم [ وهن ] فيما يقرأ من القرآن " شاذة ؛فقد خالف عبدَ الله بن أبي بكر : يحيى بن سعيد الأنصاري ، فرواه : عن عمرة ، أنها سمعت عائشة ، قالت" نزل في القرآن : عشر رضعات معلومات ، ثم نزل أيضاً : خمس معلومات " أخرجه مسلم في " الصحيح " ( 2 / 513 / 1452 ) ، والطحاوي في " مشكل الآثار " ( 3 / 7 ) ، والدارقطني في " السنن " ( 4 / 181 ) ، والبيهقي في " السنن الكبرى " ( 7 / 454 )وتابعه : القاسم بن محمد بن أبي بكر ، فرواه : عن عمرة ، أنها سمعت عائشة ، قالت " كان مما نزل من القرآن ، ثم سقط : لا يحرّم من الرضاع إلا عشر رضعات ، ثم نزل بعد : أو خمس رضعات " أخرجه ابن ماجه في " السنن " ( 1 / 625 / 1942 ) ، والطحاوي في " مشكل الآثار " ( 3 / 7 ) .وبيّن الطحاوي شذوذ هذه اللفظة في " مشكل الآثار " ( 3 / 7 - 8 )وقال مالك بعد روايته لها في " الموطأ " ( ص 353 - تنوير ) : " وليس على هذا العمل فقال الطحاوي في " مشكل الآثار " ( 3 / 8 ) : " ولو كان ما في هذا الحديث صحيحاً أن ذلك من كتاب الله ؛ لكان مما لا يخالفه ولا يقول بغيره .
  13. اس روایت کی سند میں شدید اضطراب ہے یہ ہیں دلائل سند کے اضطراب کے ابن ماجه(1944حدثنا أبو سلمة يحيى بن خلف ثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي بكر عن عمرة عن عائشة وعن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة قالت لقد نزلت آية الرجم ورضاعة الكبير عشرا ولقد كان في صحيفة تحت سريري فلما مات رسول الله وتشاغلنا بموته دخل داجن فأكلهاوأخرجه أحمد (6/269) وأبو يعلى في المسند(4587) والطبراني في الأوسط (8/12) وغيرهم من طريق محمد بن إسحاق قال حدثني عبدالله بن أبي بكر بن حزم عن عمرة بنت عبدالرحمن عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم بهوالعلة في هذا الحديث هو محمد بن إسحاق فقد اضطرب في هذا الحديث وخالف غيره من الثقات وهذا الحديث يرويه ابن إسحاق على ألوان فمرة يرويه عن عبد الله بن أبي بكر عن عمرة عن عائشة ومرة يرويه عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة ومرة يرويه عن الزهري عن عروة عن عائشة كما عند أحمد (6/269) وليس فيه هذه اللفظة المنكرةوفي كل هذه الروايات تجد أن محمد بن إسحاق قد خالف الثقات في متن الحديثفالرواية الأولى رواها ابن إسحاق عن عبدالله بن أبي بكر عن عمرة عن عائشة قالت لقد نزلت آية الرجم ورضاعة الكبير عشرا ولقد كان في صحيفة تحت سريري فلما مات رسول الله وتشاغلنا بموته دخل داجن فأكلهاوقد روى هذا الحديث الإمام مالك رحمه الله عن عبدالله بن أبي بكر عن عمرة عن عائشة قالت نزل القرآن بعشر رضعات معلومات يحرمن ثم نسخن بخمس رضعات معلومات فتوفي رسول الله وهن مما نقرأ من القرآن كما في الموطأ (2/608) ومسلم (1452) وغيرهاوكذلك أخرجه مسلم (1452) عن يحيى بن سعيد عن عمرة بمثله وسئل الدارقطني في العلل (المخطوط (5 /150-151 )) عن حديث عائشة عن عمرة قال نزل القرآن بعشر رضعات معلومات يحرمن ثم صرن إلى خمس فقال:يرويه يحيى بن سعيد وعبدالرحمن بن القاسم واختلف عن عبدالرحمن فرواه حماد بن سلمة عن عبدالرحمن بن القاسم عن أبيه عن عمرة عن عائشة قاله أبو داود الطيالسي عن حماد بن سلمة وخالفه محمد بن إسحاق فرواه عن عبدالرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة لم يذكر عمرة وقول حماد بن سلمة أشبه بالصوابوأما يحيى بن سعيد فرواه عن عمرة عن عائشة قال ذلك ابن عيينه وأبو خالد الأحمر ويزيد بن عبدالعزيز وسليمان بن بلال وحدث محمد بن إسحاق لفظا آخر وهو عن عائشة لقد نزلت آية الرجم ورضاعة الكبير عشرا ، فلما مات النبي صلى الله عليه وسلم انشغلنا بموته فدخل داجن فأكلها) انتهى.وفي مسند الإمام أحمد بن حنبل ج:6 ص:269 ثنا يعقوب قال حدثنا أبي عن بن إسحاق قال حدثني الزهري عن عروة عن عائشة قالت أتت سهلة بنت سهيل رسول الله فقالت له يا رسول الله إن سالما كان منا حيث قد علمت إنا كنا نعده ولدا فكان يدخل علي كيف شاء لا نحتشم منه فلما أنزل الله فيه وفي أشباهه ما أنزل أنكرت وجه أبي حذيفة إذا رآه يدخل علي قال فأرضعيه عشر رضعات ثم ليدخل عليك كيف شاء فإنما هو ابنك فكانت عائشة تراه عاما للمسلمين وكان من سواها من أزواج النبي يرى إنها كانت خاصة لسالم مولى أبي حذيفة الذي ذكرت سهلة من شأنه رخصة له وقد انفرد محمد بن إسحاق في هذا الحديث بلفظ (فأرضعته عشر رضعات) وقد رواه عن الزهري ابن جريج ومعمر ومالك وابن أخي الزهري بلفظ (أرضعيه خمس رضعات) (حاشية المسند (43/342وقال الزيلعي في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في ج:3 ص:95 وأما ما يحكى أن تلك الزيارة كانت في صحيفة في بيت عائشة فأكلتها الداجن فمن تأليفات الملاحدة والروافض قلت رواه الدارقطني في سننه في كتاب الرضاع من حديث محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي بكر عن عمره عن عائشة وعن عبد الرحمن القاسم عن أبيه عن عائشة قالت لقد نزلت آية الرجم والرضاعة وكانتا في صحيفة تحت سريري فلما مات النبي تشاغلنا بموته فدخل داجن فأكلها انتهى وكذلك رواه أبو يعلى الموصلي في سنده ورواه البيهقي في المعرفة في الرضاع من طريق الدارقطني بسنده المتقدم ومتنه وكذلك رواه البزار في مسنده وسكت والطبراني في معجمه الوسط في ترجمة محمود الواسطي وروى إبراهيم الحربي في كتاب غريب الحديث ثنا هارون بن عبد الله ثنا عبد الصمد ثنا أبي قال سمعت حسينا عن ابن أبي بردة أن الرجم أنزلفي سورة الأحزاب وكان مكتوبا في خوصة في بيت عائشة فأكلتها شاتها انتهى .فهذه الرواية التي ذكرها عن الحربي في الغريب فيها عدة علل منها ضعف عبدالصمد بن حبيب وجهالة والده والإرسال فتبين لنا مما سبق أن هذه الرواية المنكرة قد تفرد بها محمد بن إسحاق وخالف فيها الثقات ، وهي رواية شاذة منكرة
  14. امام جوزقانی (المتوفى: 543 ھ) لکھتے ہیں قال: حدثنا محمد بن يزيد بن ماجه، قال: حدثنا أبو سلمة يحيى بن خلف، قال: حدثنا عبد الأعلى، عن محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر، عن عمرة، عن عائشة، وعن محمد بن إسحاق، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشة، قالت: «لقد نزلت آية الرجم ورضاعة الكبير عشرا، ولقد كانت صحيفة تحت سريري، فلما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وتشاغلنا بموته، فدخل داجن فأكلها» . هذا حديث باطل، تفرد به محمد بن إسحاق، وهو ضعيف الحديث، وفي إسناد هذا الحديث بعض الاضطراب(الاباطیل و المناکیر حدیث رقم 541)ترجمہ :۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رجم کی آیت اور بڑی عمر کے آدمی کو دس بار دودھ پلا دینے کی آیت اتری، اور یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پہ لکھی ہوئی تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور ہم آپ کی وفات میں مشغول تھے ایک بکری آئی اور وہ کاغذ کھا گئی۔علامہ جوزقانی فرماتے ہیںیہ حدیث باطل ہے ، اس کو بیان کرنے میں محمد بن اسحاق منفرد ہے، اور وہ ضعیف ہےاور اس حدیث کی اسناد میں اضطراب پایا جاتا ہے اور مسند احمد کی تخریج میں غیر مقلد شعیب الارناؤط لکھتاہے(ج 43 ص343 إسناده ضعيف لتفرد ابن إسحاق وهو محمد وفي متنه نكارة ابن حزم ظاہری لکھتا ہے (وقد غلط قومٌ غلطاً شديداً، وأتوا بأخبار ولَّدها الكاذبون والملحدون. منها: أنّ الداجن أكل صحيفةً فيها آية متلوة فذهب البتة ... وهذا كلّه ضلالٌ نعوذ بالله منه ومن اعتقاده! وأمّا الذي لا يحلّ اعتقاد سواه فهو قول الله تعالى {إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون}. فمَن شكّ في هذا كفر، ولقد أساء الثناء على أمهات المؤمنين ووصفهن بتضييع ما يتلى في بيوتهن، حتى تأكله الشاة فيتلف! مع أنّ هذا كذب ظاهر ومحال ممتنع ... فصحّ أنّ حديث الداجن إفك وكذب وفرية، ولعن الله من جوَّز هذا أو صدَّق به الإحكام (4/453 )
  15. چکنی مٹی کو کہتے ہیں۔ دورجدیدکی سائنسی اصطلاح میں صلب کو (Sacrum)اور ترائب کو (Symphysis Pubis)کہا جاتاہے۔ عصر حاضر کے علم تشریح الاعضا (Anatomy)نے اس امر کو ثابت کردیا ہے کہ مرد کا پانی جو (Semens)پر مشتمل ہو تاہے اس صلب اورترائب میں سے گزرکر رحمِ عورت کو سیراب کرتاہے۔ سائنسی انکشافات قرآن وحدیث کی روشنی میں۔صفحہ 256