Raza Asqalani

Members
  • Content count

    356
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    51

Raza Asqalani last won the day on November 15

Raza Asqalani had the most liked content!

Community Reputation

82 Excellent

6 Followers

About Raza Asqalani

  • Rank
    Baghdadi Member
  • Birthday 01/04/1992

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location
    Pakistan

Previous Fields

  • Madhab
    Shafa'e
  • Sheikh
    Imam Ibne Hajar

Recent Profile Visitors

1,132 profile views
  1. ارے میاں ہم نے محققین اہل سنت کے طریقے پر جناب کی ہر بات کو علمی اور تحقیقی رد کیا ہے جس کا جناب نے ایک بھی جواب نہیں دیا اور جس کا جناب نے دعوی کیا تھا کہ یہ صحیح یا حسن سند ہے جب ہم نے اس کا اصولی اور تحقیقی رد کیا اس کا بھی جناب سے جواب نہ بن پایا۔ ارے میاں تم ہی اپنے غیر تحقیقی پوسٹرز سے عوام کو گمراہ کرتے ہو الحمدللہ ہم نے تیرے ایک ایک پوسٹر کا علمی اور تحقیقی جواب دیا ہے جس کا جواب تم ابھی تک بن نہیں پایا۔ افسوس یہ ہے تم گمراہ ہو گے ساتھ اوروں کو کرو گے لیکن ہماری ان باتوں سے اہل سنت کے ہر اہل علم کو فائدہ ہو گا تاکہ آئیندہ تم جیسے پوسٹری حضرات کا علمی اور تحقیقی رد کر سکیں۔ جناب کو علم حدیث کی الف بے کا پتہ تک نہیں اور کہہ رہے ہیں جناب ہی عوام کے مفید ہیں اللہ بچائے نیم حکیم لوگوں سے۔ میاں تم پوسٹر بنانے والے فوٹو گرافر ہو تو فوٹو گرافر رہو کیونکہ علم حدیث میں علمی اور تحقیقی بات کرنے جناب کے بس کی بات نہیں۔ اس لئے جس کا کام اسی کو ساجے۔ ہم تیری طرح فوٹو گرافر نہیں ہیں اس لیے ہمیں تمہاری فوٹو بنانے نہیں آتے لیکن علم حدیث تمہارا نہ میدان ہے نہ ہی تم اس کے لائق ہو ورنہ تمہارا بیان بھی بعد میں دیوبندی مفتی کفایت اللہ کی طرح آئیں گے یا مفتی قوی کی طرح آئیں گے۔ الحمدللہ ہم نے اس جناب کی تمام باتوں کو علمی اور تحقیقی رد کیا ہے جس کا جناب سے ایک بھی تسلی بخش جواب نہیں بن پایا۔ اب ہم یہ تمام بحث قارئین حضرات پر چھوڑ رہے ہیں۔ ایڈمنز اور موڈریٹرز حضرات سے گزارش ہے اس موضوع کو یہاں کلوز کر دیں کیونکہ سب دلائل اور حوالہ جات دیکھے جا چکے ہیں کوئی بھی نئی بات نہیں ہوتی بس وہی پرانی باتیں پھر شروع ہو جاتی ہیں۔ اس لئے اہل علم حضرات اس پوری بحث کو پڑھ کر ہی فیصلہ کر پائیں گے دلائل کی مضبوطی کس طرف ہے۔ شکریہ اور جزاک اللہ خیرا
  2. اہاہاہاہاہا ضرور کریں ہم تو انتظار میں تاکہ جناب کی علمی قابلیت کا پتہ چل سکے ہیں ہماری ہی بات کو ثابت کیا ہے پھر ہمیں ہی کہہ رہے ہیں آپ نے صحیح نہیں کہا۔ جن کو بھی مینشن کریں گے وہی کہہ گا کہ جناب پہلے پاگل خانے سے اپنا علاج کروا پھر ہمیں مینشن کرنا کیونکہ رضاءالعسقلانی نے وہی بات کی تھی جسے تم نے اپنے پوسٹرز میں دیکھا ہے تو پھر غلطی کس کی ہے تمہارے سمجھنے کی یا کسی اور کی۔ حقیقت تو یہ ہے جناب علم حدیث سے فارغ ہیں کیونکہ جناب کو ہماری بات کی سمجھ ہی نہیں آئی اگر سمجھ آتی تو ہمارے حق میں پوسٹرز نہ لگاتا بلکہ اسے چھپانے کی کوشش کرتا۔
  3. اس پوسٹر میں بھی عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے جس کی ہم نے پہلے وضاحت کی تھی۔ ارے پاگل ہم نے تو تمام اسناد جمع کر کے کہا تھا اس کے سند میں ایک راوی ساقط ہے اور وہ ہے عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ہے جب کہ اور اسناد میں یہی راوی موجود ہے۔ جس کتاب کا پوسٹر دیا ہے اس کا حوالہ اور سند مع متن پہلے ہی پیش کر چکا ہوں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کے ثبوت کے لئے پیچھے جا کر پھر پڑھو۔ جب ہماری بات ثابت ہو گی ہے کہ اس کی سند میں واقعی عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر موجود ہے تو پھر میری تحقیق جعلی اور من گھڑت کیسے ہوئی؟؟ اس لئے علم حدیث میں ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کا کام نہیں ہے۔ میری پیچھے بات پڑھو پھر بات کرو کہ میں نے کیا تھا اور جناب نے اپنی علمی جہالت کی وجہ سے کیا سمجھ لیا۔ ہمارا رد کرنے آئے تھے اور ہماری ہی بات ہی ثابت کر دی ۔پھر بھی ہماری تحقیق کا جعلی اور من گھڑت کہہ رہا ہے۔ لگتا ہے ن لیگ میں رہے ہیں یا پی ٹی آئی کی طرح یوٹرن لے لیے ہیں ۔اہاہاہاہا
  4. ارے میاں ہماری یہ من گھڑت تحقیق نہیں ہے جناب کی جہالت ہے کیونکہ ہم نے جو کہا تھا وہ تو جناب کو سمجھ ہی نہیں آئی ہم نے کہا تھا کہ اس سند میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا نام ساقط ہے لیکن اور سند میں موجود ہے اور اس کے ثبوت کے لیے ہم نے بھی اس کتاب کا حوالہ دیا جس کا جناب نے پوسٹر بنایا ہوا ہے۔ جب جناب تسلیم کر چکے ہیں امام بخاری کی سند میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر راوی ہے تو پھر اعتراض بنتا ہی نہیں ہے کیونکہ ہمارا بھی یہ استدلال تھا کہ اس ایک سند میں ساقط ہے دوسری سند میں موجود ہے تو اس سے واضح ہوتا ہے کتابت یا پرنٹنگ کی غلطی ہے لیکن جناب نے یہ حوالے دے کر ہماری بات کو ثابت کر دیا اور اپنی علم حدیث میں جہالت بھی واضح کر دی۔ اسے کہتے ہیں آیا چوہاپہاڑ کے نیچے۔۔ہاہاہا
  5. ہاہاہاہاہا یہ بات میرے خلاف نہیں ہے ہم تو پہلے کہا تھا کہ اس سند میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ساقط ہے لیکن جناب نہیں مان رہے تھے جب خود ہی پوسٹر لگا رہے ہیں اور عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا ثبوت پیش کر رہے ہیں ۔ اسے کہتے ہیں چور کی داڑھی میں تنکا۔ جناب خود مان چکے ہیں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر اس میں موجود ہے ہماری بات تحقیقا درست ثابت ہوئی الحمدللہ۔ لیکن میں حیران ہوں جناب کی لاعلمی پر کہ ہمارے خلاف بات کر رہے لیکن ثابت ہماری ہی بات کررہے ہیں ۔ہاہاہا قربان جائیں ایسے محکک پر۔
  6. اس روایت کی مکمل اسنادی تحقیق پیش کی تھی جس کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ جناب اپنی لاعلمی کی وجہ سے ہماری بات کے ثبوت کے لئے پوسٹر لگا دیے ۔اس کی نشان دہی نیچے جا کر کروں گا پہلے اس پوسٹر کا جواب سن لو۔ یہی راویت امام بخاری نے اور سند سے بیان کی ہے اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ہے جو اوپر اولی سند میں ساقط ہو گیا تھا جس کا ثبوت یہ ہے حدثنا عبد الله حدثنا محمد حدثنا قتيبة ثنا مرثد بن عامر العنائي حدثني كلثوم بن جبر قال «كنت بواسط القصب في منزل عنبسة بن سعد القرشي وفينا عبد الأعلى بن عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر القرشي فدخل أبوغادية قاتل عمار بصفين» (تاریخ الاوسط للبخاری ج 1 ص 38) اس کے علاوہ یہی روایت المعجم الکبیر لطبرانی میں ہے جس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا نام موجود ہے جس سے واضح ہو گیا ہے تاریخ الاوسط سے راوی کا نام ساقط ہے۔ حدثنا علي بن عبد العزيز وأبومسلم الكشي قالا ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا ربيعة بن كلثوم ثنا أبي قال كنت بواسط القصب عندعبد الأعلى بن عبد الله بن عامر فقال: «الآذان هذا أبوغادية الجهني فقال عبد الأعلى أدخلوه فدخل وعليه مقطعات له رجل طول ضرب من الرجال كأنه ليس من هذه الأمة فلما أن قعد قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يمينك قال نعم خطبنا يوم العقبة فقال «يأيها الناس ألا إن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ألا هل بلغت؟ قالوا نعم قال: اللهم اشهد. قال «لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض قال: وكنا نعد عمار بن ياسر من خيارنا قال فلما كان يوم صفين أقبل يمشي أول الكتيبة راجلا حتى إذا كان من الصفين طعن رجلا في ركبته بالرمح فعثر فانكفأ المغفر عنه فضربه فإذا هورأس عمار قال يقول مولى لنا أي كفتاه قال فلم أر رجلا أبين ضلالة عندي منه إنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم ما سمع ثم قتل عمارا (المعجم الکبیر للطبرانی ج 22 ص 363 رقم 912) اتنے واضح ثبوت دیکھانے کے باوجود مانتے ہی نہیں ہیں لو اپنے پوسٹرز کا حال ہم اس کے اندر نشان دہی کر دی ہے۔
  7. اس بات میں میں نے واضح لکھا ہوا ہے کہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر راوی ساقط اور کے ثبوت کے لیے خود امام بخاری اور دوسری کتب سے حوالے دیے کہ ان میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر موجود ہے ان حقائق کی بنیاد پر ہی میں نے فیصلہ کیا کہ لگتا ہے اس میں کتابت یا پرنٹنگ کی غلطی ہے لیکن جناب نے میری بات کو غلط ثابت کرنے کے لئے ثبوت کے طور پر کچھ نہیں دیا بلکہ جو بھی پوسٹرز لگائے ان سب میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر راوی موجود ہے۔ ہم جناب کے نیچے پوسٹرز کے اندر نشان دہی کر دیتے ہیں تاکہ جناب کی علمی قابلیت سب کے سامنے آ جائے۔
  8. پہلے تو لیٹ جواب دینے کے لئے معذرت کیونکہ میرا وی پی این ایکپائر ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اسلامی محفل کی ویب سائٹ اوپن نہیں ہورہی تھی۔ ہمارا اب جواب اس طرح ہے: ارے جناب جب آپ کو کتب کی تحقیقات کا پتہ نہیں چلتا تو کیوں مفٹ میں اس میں ٹانگیں آڑاتے ہیں۔ ہم نے تمام اسناد جمع کر کے واضح طور پر بتاتا تھا کہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا نام ساقط ہے کیونکہ یہی روایت اور کتب میں ہے تو اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا نام موجود ہے اس لئے ہم نے تحقیقا کہا تھا اس روایت میں ایک راوی کا نام رہ گیا ہے اور ہم نے اس کے اوپر حوالہ جات بھی دیے اپنی بات کے ثبوت کے لئے لیکن جناب نے دیکھے تک نہیں مفت میں ایسے اعتراض کر ڈالا۔ لیکن جناب نے اپنی لاعلمی کی وجہ سے جو سکین دئیے ان سب میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر راوی موجود ہے جس سے ہماری بات واضح صحیح ثابت ہوتی ہے لیکن جناب کو اپنی بات کا پتہ نہیں چلااور اپنی لا علمی کی وجہ سے ہماری بات کو ثابت کر دیا۔۔۔ہاہاہا ہم جناب کے پوسٹرز میں نشاندہی کر دیتے ہیں اپنی بات کی۔
  9. جناب بے سند اور بے دلیل اقوال کو بڑا پیش کرتے ہیں اب ہم جناب کو الزامی طور پر ایسے بے سند اور بے دلیل اقوال پیش کرتے ہیں اب جناب یہاں مانتے ہیں یا نہیں ؟؟ پہلا قول امام ابوحاتم کا سمعت ابی یقول: حسین بن ابی طالب رضوان اللہ علیھما لیست لہ صحبۃ (المراسیل لابن ابی حاتم ص 27 رقم 43) (جناب اس قول کو اپنے اصول کے مطابق مانیں اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی معاذاللہ صحابیت کا انکار کریں۔) دوسری بات: عبد المغیث بن زہیر علوی حربی نے یزید ملعون کے فضائل میں پوری کتاب لکھی جس کے بارے میں امام ذہبی تذکرہ کرتے ہیں: صنف جزءا فی فضائل یزید ، اتی فیہ بالموضوعات اس (عبدالغیث) نے یزید کے فضائل پر ایک جز لکھا جس میں موضوع روایات درج کیں۔ (العبر فی خبر من غبر ج 4 ص 249) اور اس خود یزیدی کے بارے میں امام ذہبی کہتے ہیں: وکان ثقۃ سنیا مفتیا صاحب طریقۃ حمیدۃ اور (عبدالمغیث) ثقہ ، سنی اور بہترین راستے پر چلنے والا تھا۔ (العبر فی خبر من غبر ج4 ص 249) (اب یہاں جناب امام ذہبی کی بے دلیل مانیں کہ یزید کے فضائل لکھنے ولا سنی اور بہترین راستے پر چلنے والا ہوتا ہے؟؟) تیسری بات: امام ذہبی امام ابن عساکر سے لکھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے ساتھ مل کر جہاد کیا و قال ابن عساکر: و قد الحسین علی معاویۃ، و غزا لقسطنطینیۃ مع یزید اور امام ابن عساکر نے کہا: حیسن رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یزید کے ساتھ قسطنطنیہ میں جہاد کیا۔ (تاریخ الاسلام ج 2 ص 636) (اب جناب اپنے اصول سے امام ابن عساکر کی بے سند بات مانیں کہ معاذاللہ سیدناحسین رضی اللہ عنہ یزید کے ساتھی تھے فوج میں) چوتھی بات: امام لیث بن سعد نے کہا: توفی امیر المومنین یزید فی سنۃ اربع و ستین امیر المومنین یزید کی وفات س 64 ہجری میں ہوئی۔ (تاریخ خلیفۃ بن خیاط ص 253) (اب جناب اپنے اصول کے مطابق امام لیث بن سعد کی بے دلیل اور بے سند بات کو مانیں اور یزید کو معاذاللہ امیرالمومنین تسلیم کریں؟؟) پانچویں بات: امام عبدالغنی مقدسی نے یزید کے بارے میں کہا: خلافیہ صحیحۃ، و قال بعض العلماء: بایعہ ستون من اصحاب النبی ﷺ منھم ابن عمر۔ یزید کی خلافت صحیح ہے اور بعض علماء نے کہا ساٹھ صحابہ نے اس کی بیعت کی تھی جس میں ابن عمر بھی ہے۔ (ذیل طبقات الحنابلۃ ج 2 ص 34) (اب جناب اپنے اصول کے مطابق امام مقدسی کی بے دلیل اور بے سند بات کو تسلیم کریں؟؟) چھٹی بات حافظ ابن کثیر نے یزید کو امیر المومنین لکھا: ھو یزید بن معاویۃ بن ابی سفیان بن صخر بن حرب بن امیۃ بن عبد شمس ، امیر المومنین ابوالخالد الاموی (البدایۃ والنھایۃ ج 8 ص 226) آگے ور جگہ لکھا: و قد کان عبداللہ بن عمر بن الخطاب و جماعات اھل بیت النبوۃ ممن لم ینقض العھد و لا بایع احدا بعد بیعہ لیزید۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور نبی ﷺ کے اہل بیت کی جماعتوں نے یزید کی بیعت نہیں توڑی اور نہ یزید کی بیعت کے بعد کسی اور سے بیعت کی۔ (البدایۃ والنہایۃ ج8 ص 238) (اب جناب حافظ ابن کثیر کی بے دلیل اور بے سند باتوں کو تسلیم کریں اپنے اصولوں سے کیونکہ جناب ہی ہیں جو بے سند اور بے دلیل قول کو ایسے ہی مانے جارہے ہیں اس لئے ہم بھی جناب کو کچھ اقوال پیش کر دیے اب دیکھتے ہیں یہاں جناب کا کیا رنگ نکلتا ہے۔) نوٹ: میرے نزدیک یہ سارے اقوال بے دلیل اور بے سند ہیں باقی جن علماء نے یہ بات لکھی ہے یہ ان کا تسامح ہے ۔ باقی جمہور ائمہ اہل سنت کا یہ موقف نہیں ہے واللہ اعلم
  10. ارے جناب ہم نے جو اقوال لگائے تھے ان کا جواب نے جناب دیا نہیں اور جناب خوش ہو رہے ہیں یہ جناب کے فائدہ کے لیے ہیں جب کے یہ جناب کے رد کے لئے ہیں۔ حضرت امیر معاویہ کی صلح اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا بیعت کرنا ہی کافی ہے اگر حضرت امیر معاویہ صلح کے بعد معاذاللہ شرعی باغی بنتے ہیں تو سیدنا امام حسن بھی معاذاللہ باغی کی رعایہ بنتے ہے اس لئے سوچ سمجھ کر بات کرو۔ رافضی و ناصبیوں کو جہنم کا کتا کہنا یہ قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ کا ذاتی قول ہے اور انہوں نے یہاں اپنے سے پہلے سو یا دو سو سال گزرے لوگوں کے بارے میں اپنی بات نہیں کی جس کی سند کی تحقیق کی جائے۔ اور قاضی عیاض علیہ الرحمہ کے قول کی بہت سی صحیح احادیث گواہ ہیں اس لئے ہماری چھوڑیے اپنی فکر کیجیے۔
  11. ارے جناب امام عسقلانی کہاں کلثوم بن جبر والی قاتل والی روایت کی تصدیق کی ہے؟؟ ذرا تصدیق دیکھنا تصحیح و تحسین کی صورت میں؟؟ باقی امام عسقلانی نے احادیث کے اطراف جمع کیے مسانید کے اگر اطراف جمع کرنا تصدیق ہے تو اس میں تو کئی ضعیف اور موضوع روایات ہیں تو کسی امام نے اس بات کی تصریح نہیں کہ یہ تمام اطراف امام عسقلانی کے نزدیک صحیح الاسناد ہیں؟؟ اطراف جمع کرنا اور ہوتا ہے تصحیح و تحسین کرنا اور ہوتا ہے میاں ذرا اصول حدیث پڑھو۔
  12. ارے میاں پوسٹ چپکانے سے پہلے غور سے پڑھ لیا کرو۔ اس کتاب میں امام عسقلانی نے کوئی قاتل نہیں لکھا بلکہ یہ حاشیہ بھی کسی اور کا ہے امام عسقلانی کا نہیں ہے اور اس کے علاوہ اس میں تو امام عسقلانی نے احادیث اطراف جمع کیے ہیں۔ اس لئے قاتل والی بات کو امام عسقلانی کی کتاب إتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة کی طرف منسوب کرنا باطل ہے۔ اس لئے تحقیق سے کام لیا کرو اندھا دھند پوسٹ نہ چپکایا کرو۔ ہاہاہاہا ارے میاں میں کلثوم بن جبر کو ضعیف پہلے کہاں کہا ہے پہلے یہ تو ثابت کرو پھر ایسی بات کرنا میں نے جو بات کی تھی جو یہ کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کلثوم بن جبر کا سماع ثابت نہیں ہے ۔ لیکن جناب نے اس بات کو ثابت نہیں کیا اور مجھ پر ایسے الزام لگا دیا کہ میں کلثوم بن جبر کو ضعیف سمجھتا ہوں حیرت کا مقام ہے یار آپ پر تو؟؟
  13. اس روایت کی امام ابن حجر نے تصحیح نہیں کی ہے امام ابن حجر نے بس روایت نقل کر دی ہے۔ باقی یہ حاشیہ امام ابن حجر کا نہیں ہے لہذا امام ابن حجر سے اسے منسوب کرنا باطل ہے۔ باقی یہ وہی پرانی روایت ہے جس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ایک مجہول راوی ہے جس کی نشان دہی ہم کئی بار کر چکے ہیں لیکن جناب اسے کتب بدل بدل کر پوسٹ کرتے رہتے ہیں جب کہ روایت ایک ہی ہے۔ اس کی پہلی سند میں وہی عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے جس کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری سند کو امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں منقطع قرار چکے ہیں اس کا حوالہ بھی ہم پہلے دے چکے ہیں جس کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ارے جناب جب ہمارے رد کا کوئی جواب نہین دیتے پھر وہی پرانی روایات کو کتب بدل بدل کر کیونکہ پوسٹ کرتے رہتے ہو؟؟ ارے میاں ہزار کتب بدل لو سند ایک ہی رہتی ہے اس لئے کتابیں بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا۔
  14. کسی کو قاتل ثابت کرنے کے لئے شریعت میں عینی گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ دو سو سال بعد یا تین سال بعد کے بے سند قول یا بے دلائل اقوال سے کچھ ثابت نہیں ہوتا ورنہ تو ایسے قول تو معاذاللہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ہیں کہ وہ یزید کی بیعت اور امیرالمومنین کہنے کو تیار تھے یہی باتیں بھی امام ذہبی وغیرہ نے لکھی ہیں۔ کوئی بات کو درج کرنے سے وہ بات ان کے نزدیک حجت نہیں ہوتی جب تک وہ ان قول کی تصحیح نہ کر دیں ورنہ امام ذہبی اور امام بن حجر نے بے شمار بے سند باتیں اور ضعیف روایات کو اپنی کتب میں درج کر دی ہیں جو خود ان کے اصول کے مطابق صحیح نہیں ہیں۔ اصل بات اصول کی ہوتی ہے ورنہ رطب وبابس کتب میں موجود رہتا ہے جب کوئی مسئلہ ہو گا تو اصول کے مطابق ہی بات کی جایئے گی نہ کہ درج کرنے اسے حجت مانا جائے گا ورنہ تو بہت سے محدثین نے موضوع روایات درج کر دی ہیں تو کیا وہ ان کے نزدیک حجت ہیں؟؟ نہیں ہرگز نہیں ان کا کام ہے ہر وہ بات جو انہیں ملے وہ درج کر دیتے ہیں بعد میں وہ خود یا بعد کے علماء اس کی تحقیق کرتے ہیں جیسے امام ذہبی نے مستدرک کی روایات کی تحقیق کی ہے۔
  15. ارے میاں پہلے بھی سمجھایا ہے امام ابن معین جنگ صفین میں نہیں تھے اور جب جنگ صفین میں نہیں تھے تو یہ بات کن سے سنی ہے اس کی کوئی سند ہے یا نہیں جناب کے پاس؟؟ اگر صرف اقوال مان لینا ہے تو ایسے بے دلیل اقوال کافی زیادہ ہیں ان میں ایک جناب کو ہم پیش کر دیتے ہیں امام ابوحاتم الرازی کا: سمعت ابی یقول: حسین بن ابی طالب رضوان اللہ علیھما لیست لہ صحبۃ (المراسیل لابن ابی حاتم ص 27 رقم 43) چلو اب یہاں اپنے اصول کے مطابق امام ابوحاتم الرازی کا قول بھی مانو بنا کسی چاں چوں کیے کیونکہ تم بھی امام ابن معین کا قول بھی بنا تحقیق کے مان رہے ؟ اگر اس قول کو ماننے سے انکار کرتے ہو تو پھر امام ابن معین کا بے سند اور بے دلیل قول سے استدلال کیوں کیے ہوئے؟ اب تمہارے اصول سے تم نے یہ دونوں قول ماننے ہیں اگر نہیں مانتے تو یہ دوغلا پالیسی ہے اپنی مرضی کا قول ماتے ہو اور اپنی مرضی کے خلاف قول چھوڑ دیتے ہو۔