Raza Asqalani

Members
  • Content count

    195
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    13

Raza Asqalani last won the day on March 26

Raza Asqalani had the most liked content!

Community Reputation

35 Excellent

About Raza Asqalani

  • Rank
    Ajmeri Member
  • Birthday 01/04/1990

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location
    Rajanpur, Pakistan
  • Interests
    Tafseer, Hadith, Fiqh, Asma-ur-Rijal, Ilm-ul-Asnaad and Islamic History

Previous Fields

  • Madhab
  • Sheikh
    Imam Asqalani

Recent Profile Visitors

211 profile views
  1. ایک غیر مقلد کی جہالت چیک کریں دعا کے کے سلسلے میں کفایت اللہ وہابی محدث فورم پر ایک وہابی کے سوال کے جواب میں لکھتا ہے۔ دیکھیں کتنی جہالت سےوہابی کسی اور کے دعا کے تجربے کو کہہ رہا کہ یہ بات کسی روایت میں نہیں ہےاور یقین نہ آئے تو جب جب آپ کی کوئی چیز گم ہو جائے ان الفاظ کو پڑھ کر دیکھیں۔ پتہ چل جائے گا کہ یہ نسخہ کتنا مجرب ہے۔ پھر آگے لکھتا ہے: آدمی کو چاہئے کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ اذکار و ادعیہ کی پابندی کرے ا ور مجرب کے نام پر خود ساختہ ادعیہ و اذکار کی دوکان چلانے والوں سے ہوشیا ر رہے۔اگرکسی کو مسنون دعائیں یاد نہیں تو وہ اپنے الفاظ میں بھی جب چاہے اللہ سے دعاء کرسکتا ہے۔ اس وہابی کے میرے چند سوالات مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ اگرایک بندہ قرآن وحدیث والے اذکار کو پڑھتا ہے لیکن پھر بھی اس کی دعا قبول نہ ہو تو کیا معاذاللہ قرآن و حدیث کو جھٹلا دیں ؟؟؟ 2۔اگر دو بندے ایک ہی ذکر والے کلمات کو پڑھتے ہیں ایک کی دعا قبول ہو جاتی ہے اور دوسرے کی نہیں ہوتی تو کیا اس میں دعا قبول ہونے والےشخص کے تجربے کو جھوٹا کہا جائے گا؟؟ 3۔ جب بندہ اپنی طرف بنائے ہوئےکلمات سےاللہ عزوجل سے دعا مانگ سکتا ہے توکیا کسی ولی یا کسی نیک بندے کے تجربے والی دعااللہ عزوجل سے کیوں نہیں مانگ سکتا ؟؟ مرتے دم تک کوئی وہابی ان سوالات کے جواب نہیں دے پائے گا۔(ان شاء اللہ)
  2. پھر تم وہابی تسلیم کیوں نہیں کرتے سرکارﷺ اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں جب کہ اس کے بارے میں خلیل رانا بھائی نے صحیح حدیث پیش کی ہے؟؟ ہمارا تو موقف ہے کہ سرکارﷺ اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں اس پر بات کر نا وہابی بات کو گھما پھرا کر کیوں پیش کر رہا ہے؟؟ امام ابن حجر العسقلانی علیہ الرحمہ کی اس عبارت کو کبھی پڑھا ہے یا نہیں؟؟ قال الله تعالى : {وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ} " سورة البقرة " قال الله تعالى : { بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ } , { فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ }." سورة آل عمران " يقول الحافظ ابن حجررحمه الله في هذه الآيتين : ‘‘وإذا ثبت أنهم أحياء من حيث النقل فانه يقوه من حيث النظر كون الشهداء أحياء بنص القران و الأنبياء أفضل من الشهداء ’’ ( فتح الباري ج : 6 ص : 379 ). امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ‘‘حيات النبي - صلى الله عليه وسلم - في قبره وسائر الأنبياء معلومة عندنا علما قطعيا , كما قام عندنا من الأدلة في ذلك وتواترت (به) الأخبارالدالة على ذلك .’’ ( الحاوي للفتاوى , ج : 2 , ص : 147 , طبعة دار الكتب العلمية ) قاضی ثنا ء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ (متوفی1225ھ) فرماتے ہیں: فذهب جماعة من العلماء إلى ان هذه الحيوة مختص بالشهداء والحق عندى عدم اختصاصها بهم بل حيوة الأنبياء أقوى منهم وأشد ظهورا اثارها في الخارج حتى لا يجوز النكاح بأزواج النبي صلى اللّه عليه وسلم بعد وفاته بخلاف الشهيد. (تفسیر مظہری ج:1ص:152) بعض علماء کے نزدیک اس آیت میں جس حیات کا ذکرہے وہ صرف شہداء کو ملتی ہے۔ لیکن صحیح قول کے مطابق انبیاء کرام علیہم السلام کو حیات شہداء سے بھی بڑھ کر ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ شہید کی بیوی سے نکاح جائز ہے مگرنبی علیہ السلام کی بیوی سے جائز نہیں۔
  3. علامہ غلام رسول رضوی صاحب تمام حوالہ جات کو مستندو دلائل قاہرہ قرار دینا خود محل نظر ہے۔ کیونکہ اس کتاب میں خود ضعیف الاسناد روایات ہیں ۔ کشمیر بھائی آپ کے پیش کردہ سکین پیج میں دی گی ایک حدیث کی سند کا اصل مصادر سے اس کا ضعیف ہونا ثابت کر دیتا ہوں۔ اس کتاب میں حلیۃ الاولیاء کی ایک حدیث پیش کی گئی ہے جس کی پوری سند یہ ہے۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَصَرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ إِلَّا وَبِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ، يُسْمِعَانِ الْخَلَائِقَ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ، مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى " رَوَاهُ عِدَّةٌ عَنْ قَتَادَةَ، مِنْهُمْ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، وَشَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَسَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ وَغَيْرُهُ اس روایت میں قتادہ راوی موجود ہے جو کہ مدلس ہے عن سے روایت کر رہا ہے اس لیے یہ روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے۔ لہذا اس سے ثابت ہوا تمام حوالہ جات کو مستند و دلائل قاہرہ قرار دینا صحیح نہیں ہے بلکہ ان کا تساہل ہے۔ باقی ہم ان کے علم کی قدر کرتے ہیں۔ علامہ مختار اشرفی صاحب نے اپنی تقریظ میں کہیں بھی تصحیح کا لفظ نہیں لکھا بلکہ ادارہ والوں نے اپنی طرف سے لکھا ہے لہذا اس سے آپ کا استدلال کرنا محل نظر ہے۔ خود دیکھ لیں اپنے سکین پیج سے۔
  4. بھائی میرے اس فورم پر آپ کی طرف زیادہ ایڈمنز حضرات ہیں جو آپ کو پروٹیٹ کر رہے ہیں کیونکہ میرے ID کئی بار لاک کیا گیا ہے وہ بھی وقفے وقفے سے کبھی آئن لائن ہو بھی جاتا تو کسی بھی پوسٹ پر کمنٹس نہیں دے پاتا تھا پھر میں نے حسنین بھائی سے فیس بک پر رابطہ کیا کہ کیا مجھے بلاک کیا گیا ہے؟؟ تو اس بھائی نے کہا میں چیک کرتا ہوں ۔لیکن پھر بھی میں وقفے وقفے سے آن لائن ہونے کی کوشش کرتا رہا پھر آخر کار میں فورم پر سائن ان ہو ہی گیا لگتا ہے شاید حسنین بھائی نے اس مسئلہ کو حل کیا ہوگا۔ باقی بھائی میرے کسی عالم کی تقریظ اس کتاب کے مستند ہونے کی دلیل نہیں جب تک اس کتاب کے حوالہ جات کو اس کے اصل مصادر اور ماخوذ کی طرف سے تصدیق نہ ہو جائے۔ورنہ میں آپ کو کئی ایسی کتب کے حوالے جات پیش کر سکتا ہوں جو اصولاًضعیف ہیں لیکن پھر بھی علما ان سے استدلال کرتے ہیں۔علامہ شامی علیہ الرحمہ نے ان میں سے چند کتب کا ذکر بھی کیا ہے اپنی کتاب درس عقود رسم المفتی میں۔ باقی ہم سنی علماءکے ساتھ حسن ظن کے قائل ہیں۔ ویسے اگر آپ سب سنی بھائیوں کو میرے فورم پر آنا پسند نہیں تو مجھے بتا کر بے شک مجھےبلاک کردیں تاکہ مجھے اس بار میں اطلاع تو ہو !!!!
  5. کشمیر بھائی میں اس پر بحث نہیں کرنا چاہتا کیونکہ مجھےکافی سنی دوستوں کی کالز آچکی ہیں کہ بھائی آپ اس پر مزید زیادہ بحث نہ کریں کیونکہ اس سے بدمذہبوں کو فائدہ ہو رہا ہے اس لیے میں نے دوبارہ پھر اس پر بات نہیں کی۔ اس وجہ سے شاید فورم پر اسی پوسٹ کو لاک کردیا گیا باقی اگر واقعی آپ اس پر مزید بحث کرنے کرنا چاہتے ہیں تو میں تیار ہوں اور اس فورم کے ایڈمنز کو میری گزارش ہے پھر وہ اس پوسٹ کو لاک نہ کریں۔ @M Afzal Razvi @Abdullah Yusuf @Sag-e-Attar @Rana Asad Farhan @Arslan fayyaz
  6. میں نے اس بات وضاحت کر دی ہے کہ اگر اس کی نیت انبیاءکرام علیہم السلام میں شمولیت اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی تفضیل پر نہیں تو پھر جائز ہے۔ اس نعرہ میں یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ اس مراد یہ ہو کہ سوالاکھ بار نعرہ حیدری تو اس میں کونسی شرعی قباحت ہے؟؟؟ یہ بات نعرہ لگانے کی نیت پر ہے اور نیت کا علم اللہ عزوجل ہی بہتر جانتا ہے۔ویسے یہ نعرہ لوگوں کے عقائد کے مطابق ہو گا، جیسا عقیدہ ہوگا ویسے ہی اس کی مراد ہو گی ۔ اگر نعرہ لگانے والا رافضی ہے تو اس میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تفضیل انبیاء کرام علیہم السلام پر اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما پر ہے کیونکہ یہ ان کا عقیدہ ہے۔ لیکن اگر یہ نعرہ کوئی صحیح عقائد والا سنی لگائے تو اس میں اس کی مراد یہ ہو گی کہ سوا لاکھ بار نعرہ حیدری کیونکہ کسی بھی صحیح عقائد والے سنی کا یہ عقیدہ نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ انبیاء کرام علیہم السلام میں شامل ہیں اور نہ ہی حضرت شیخین رضی اللہ عنہما پر تفضیل والا عقیدہ ہے۔
  7. اگر قضاء نماریں ہیں تو پھر فرض اور واجب نماز پڑھنا لازمی ہے باقی نوافل اور سنتوں کو چھوڑنے کا اس پاس اختیار ہے چاہے تو پڑھ لے تو بہتر ہے اگر چھوڑ دیتا ہے تو اس پر کوئی حرج نہیں
  8. ویسے قرآن و حدیث سے تو ایسی کوئی دلیل ثابت نہیں ہے لیکن اگر کوئی یہ نعرہ لگا بھی دے تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں ۔ واللہ اعلم
  9. جزاک اللہ افضل بھائی اللہ عزوجل آپ کو اس کا اجرعظیم عطا فرمائے امین
  10. آپ کہتے ہیں کہ کتاب جواہر خمسہ ہی آپکے ہاں مستند نہیں ہے (مثلا پوسٹ پندرہ سات اپریل میں آپ نے فرمایا) مگر اب فرماتے ہیں ناد علی کے حضرت غوث سے ثبوت کے آپ منکر نہیں ہیں On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said: میں نے کب انکار کیا ہے کہ حضرت غوث سے نادعلی ثابت نہیں بھائی جان لگتا ہے بس زیادہ بحث کرنے کا آپ کو شوق ہے ورنہ میرا موقف وہی ہے جب پہلے تھا ۔میں نے صرف یہی کہا ہے کہ یہ وظیفہ صرف جواہرخمسہ میں ہے اور اسی کتاب میں خود حضرت غوث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا ہوا ہے جو حقیقت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔اگر ثابت ہے تو پیش کریں دلیل ۔ باقی حضرت غوث علیہ الرحمہ نے کہیں نہیں لکھا کہ یہ وظیفہ خود ان کا ہے اور انھوں نے اس کی شروعات کی ہے اگر دلیل ہے تو پیش کرو؟؟؟؟
  11. خلیل بھائی اس بارے میں تو بےشمار احادیث صحیحہ موجود ہیں ۔ پتا نہیں پھر بھی وہابی اس پر کیوں یقین نہیں کرتے؟؟؟
  12. وعلیکم السلام بھائی جان۔ تفہیم المسائل کی تمام جلدوں کا پی ڈی ایف لنک یہ ہے۔ http://marfat.com/BrowsePage.aspx?title=tafheem-ul-masail&author=
  13. قبلہ عسقلانی بھئی جان۔،، کبھی تو آپ کہتے ہیں کہ کتاب جواہر خمسہ ہی آپکے ہاں مستند نہیں ہے (مثلا پوسٹ پندرہ سات اپریل میں آپ نے فرمایا) مگر اب فرماتے ہیں ناد علی کے حضرت غوث سے ثبوت کے آپ منکر نہیں ہیں۔۔۔، یہ کیسی بات کر دی جناب من؟؟ کتاب جواہر خمسہ تو مستند نہیں آپکے ہاں پھر کس کتاب سے ناد علی کو حضرت غوث سے ثابت مانتے ہیں؟؟ بھائی کشمیر میں نے کب کہا ہے کہ جواہرخمسہ مستند کتاب ہے؟؟؟؟ نادعلی صرف جواہرخمسہ کتاب میں ہے اور کتب میں اس کا ثبوت ہی نہیں ہے اور خود اسی کتاب میں اس دعا کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سےمنسوب کیا ہے حضرت غوث علیہ الرحمہ نے جو کہ ثابت نہیں بس یہی آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وظیفہ صرف جواہرخمسہ میں لکھا ہوا ہے وہ بھی بنا کسی سند کے۔ اور منسوب ہونے کا ثبوت اوپر میں دے چکا ہوں سکین پیج کی صورت میں
  14. سوفٹ وئیر کی انفارمیشن دی ہے کوئی علمی مواد کاپی نہیں کیا گیا۔ جہاں سے کوئی مفید معلومات ملے اس کو دوسروں تک پہنچایا جائے۔
  15. بھائی آپ دونوں بھائیوں کے لیے کافی مفید ہے یہ سوفٹ [email protected] [email protected] Afzal Razvi