Raza Asqalani

Members
  • Content count

    323
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    49

Raza Asqalani last won the day on November 9

Raza Asqalani had the most liked content!

Community Reputation

80 Excellent

6 Followers

About Raza Asqalani

  • Rank
    Baghdadi Member
  • Birthday 01/04/1992

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location
    Pakistan

Previous Fields

  • Madhab
    Shafa'e
  • Sheikh
    Imam Ibne Hajar

Recent Profile Visitors

1,060 profile views
  1. ارے جناب اس میں کیا نئی بات تھی وہی پرانی روایات تھیں جن کا پہلے جواب دے دیا اب کی بار صرف کتابیں بدل رہے ہو جب کہ روایات تو ہی ہیں پھر فائدہ ایسے حوالے دینے کا؟؟ جن کے اقوال پیش کیے ہیں ان کا رد بھی ائمہ حدیث سے اور خود انہی ائمہ سے کیا ہے پھر ایسے اقوال پیش کرنے کا فائدہ؟؟ ارے میاں آپ نے کوئی صحیح روایت پیش کرنی تھی جو ابھی تک ناکام ہو پیش کرنے میں۔ اور اس کے علاوہ جس بات کا ہم رد کرتے ہیں ان کا ایک بھی جواب نہیں دیا ابھی تک !!! اس لیے جناب کے پاس کوئی دلائل ہوتے نہیں بس وہی پرانی روایات پیش کرتے رہتے ہو کتابیں بدل بدل کے جن کا ہم تحقیقی اور اصولی کئی بار جواب دے چکے ہیں ۔ اس لئے اگر پھر وہی پرانی روایات پھر پوسٹ کیں تو میں جواب دینے کا ذمہ دار نہیں ہوگا کیونکہ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں ایک ہی روایت کا بار بار جواب دیتا رہوں۔ ایڈمنز اور موڈریٹرز حضرات اس بات کا نوٹس لیں ایک ہی روایت پیش کی جارہی ہے کتابیں بدل بدل کر جن کا ہم کئی بار جواب دے چکے ہیں۔
  2. (اول) ابن کثیر 700 ہجری میں پیدا ہوا اور جنگ صفین 37 ہجری میں ہوئی یا 663 سال کا فاصلہ ہے اور اس قول کی کوئی سند یا دلیل بھی پیش نہیں کی گی۔ (دوم) ایسی بے دلیل باتوں اور بے سند باتوں کے بارے میں امام شعبہ فرماتے ہیں: کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقلہر ایسی روایت جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔ (ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال ج 1 ص 107) (سوم) ابن کثیر کا خود عمل اس بات کے خلاف ہے ابن کثیر لکھتا ہے: والصحابة كلهم عدول عند أهل السنة والجماعة اہل سنت کے نزدیک سارے صحابہ کرام عادل ہیں (اختصار علوم الحديث، ص:220-222) (الباحث الحثیث:18) لہذا خود اسی امام کا رد ہو گیا ہے جس سے حوالہ دیا ہے۔
  3. ہم نے جناب سے امام عبدالبر اندلسی کے قول کی دلیل مانگی تھی جناب نے دلیل نہیں اور ان کا بے دلیل قول پوسٹ کر دیا۔ (اول) اس کا اصولی جواب یہ ہے کہ امام عبدالبر اندلسی 37 ہجری میں جنگ صفین میں نہیں تھے اس لئے وہ عینی گواہ نہیں ہیں۔ (دوم) اسے بے دلیل و بے سند قول کے بارے میں امام شعبہ فرماتے ہیں: کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقلہر ایسی روایت جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔ (ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال ج 1 ص 107) (سوم) امام ابن عبدالبر اندلسی کا قول تمام صحابہ کرام کے لئے یہ ہے: "أجمع أھل الحق من المسلمین و ھم اھل سنۃ والجماعۃ علی أن الصحابة كلهم عدول " مسلمانوں میں سے تمام اہل حق جو اہل سنت و جماعت ہیں کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ سب کے سب عادل ہیں (الاستیعاب لابن عبدالبر بھامش الاصابۃ ج 1 ص 38) اس لئے خود اسی امام کے قول سے جناب کو جواب مل گیا ہے۔
  4. مجھے تو بہت ہنسی آ رہی ہے جناب کی علمی قابلیت پر ارے جناب کیا سوچ کر یہ صفحات پوسٹ کیے ہیں کبھی احادیث کے علل کا پتہ بھی کیا ہوتے ہیں؟؟ ارے میاں امام ابوحاتم اس میں یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس کی سند کو صرف حسن بن دینار نے روایت کیا ہے یہ اور میں کوئی تصحیح نہیں کی اور حسن بن دینار متروک اور متہم بالکذب راوی ہے اس بات کا حوالہ پیچھے دے چکا ہوں۔ یہ کتاب جناب کے لئے کوئی فائدہ مند نہیں بلکہ الٹا نقصان ہے ۔ باقی اس کا حاشیہ وہابی کا ہے اس میں موجود روایات کا پہلے جواب دے چکا ہوں۔
  5. میاں یہ حاشیہ وہابیوں کا ہے جسے نشان لگایا ہوا ہے یہ امام ابن ابی حاتم کا نہیں ہے اور جو حاشیہ میں وہابی نے جتنی روایات لکھی ہوئی ہیں ان کا جواب ہم پہلے جناب کو دے چکے ہیں جس کا جواب ابھی تک جناب نے نہیں دیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے وہی پرانی روایات ہیں جس کا پہلے جواب ہو چکا ہے بس تم کتابیں بدل بدل کے وہی پرانی بات دوہرا رہے ہو اور کچھ بھی اس میں نیا نہیں ہے۔
  6. اس روایت کے رواۃ ثقات ہیں لیکن سند منقطع ہے کیونکہ اس سند میں کلثوم بن جبر کا سماع حضرت عمروبن العاص سے ثابت نہیں ہے اس امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں منقطع قرار دیا ہے۔ جس کی عبارت اور صفحہ اوپر دے چکا ہوں۔ یہ بھی وہی پرانی روایت ہے جس کا پہلے کئی بار جواب دے چکا ہوں اسے بس کتاب بدل بدل کر پوسٹ کیا جارہا ہے اور کچھ نہیں ہے بس
  7. پہلی بات یہ ہے یہاں امام ہیثمی نے سند کی تصحیح نہیں کی بس یہ کہا ہے اس کے رجال الصحیح (صحیح بخاری و صحیح مسلم) کے ہیں ۔ لیکن یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر یہ مجہول راوی ہے اور یہاں امام ہیثمی نے امام ابن حبان کی وجہ سے ایسا کہا ہے کیونکہ امام ہیثمی کا منہج بھی امام ابن حبان والا ہے کیونکہ امام ابن حبان اس راوی کو ثقات میں درج کیا ہے لیکن امام حبان جمہور محدثین کے نزدیک مجہولین راویوں کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں اس لئے ان کا کسی راوی کی توثیق میں منفرد ہونا قبول نہیں لہذا یہ سند ضعیف ہے اصولی طور پر کیونکہ اس میں ایک مجہول راوی ہے۔ اس روایت کا جواب پہلے دے دیا گیا تھا اب پھر اسے پوسٹ کر دیا گیا بس کتاب بدل دی گی ورنہ روایت اور سند وہی ہے۔
  8. ہم نے جناب سے کلثوم بن جبر کی توثیق نہیں مانگی تھی بلکہ حضرت عمرو بن العاص سے سماع کی تحقیق پوچھی تھی جس کا جناب نے جواب نہیں دیا اور مزے کی بات جناب نے اوپر الجرح والتعدیل کی عبارت پیش کی ہے اس میں بھی کلثوم بن جبر کے شیوخ میں حضرت عمرو بن العاص کا نام نہیں ہے اور وہ عبارت یہ ہے: 926 - كلثوم بن جبر أبو محمد البصري والد ربيعة بن كلثوم روى عن ابى غادية مسلم بن يسار وسعيد بن جبير روى عنه عبد الله بن عون وحماد بن سلمة وعبد الوارث ومرثد بن عامر وابنه ربيعة بن كلثوم سمعت ابى يقول ذلك، نا عبد الرحمن انا عبد الله بن احمد بن محمد بن حنبل فيما كتب إلى قال سمعت ابى يقول كلثوم بن جبر ثقة، نا عبد الرحمن قال ذكره ابى عن اسحاق بن منصور عن يحيى بن معين انه قال كلثوم بن جبر ثقة. اس لئے تو کہتا ہوں جناب تحقیق سے کام نہیں لیتے بس جو ہمارا اعتراض ہوتا ہے اس کا جواب نہیں دیتے اوروں کو لے آتے اصل بات کی طرف آتے نہیں ہیں۔
  9. ارے جناب ہم نے کہیں بھی کلثوم بن جبر کو ضعیف کہا ہی نہیں تو یہ حوالے دینے کا فائدہ؟؟ اگر کہیں کلثوم بن جبر کو ضعیف کہا تو اس کا ثبوت پیش کرو؟؟ ہم نے صرف یہ کہا ہے کلثوم بن جبر کا سماع حضرت عمرو بن العاص سے ثابت نہی ہے جسے جناب نے ابھی تک ثابت نہیں کیا اور مفت میں کلثوم بن جبر کی توثیق کے حوالے دے ڈالے جن کا کوئی تعلق بھی نہیں تھا اس بات سے۔
  10. امام ذہبی کے قول کا رد خود انہی کی کتاب سیر اعلام النبلاء سے دیکھا چکے ہیں اس لیے اس پر بات کرنے کا فائدہ نہیں میاں۔ باقی آپ نے جناب کو امام دارقطنی کا قول کا جواب دے دیا پھر اسے پوسٹ کر دیا کیونکہ امام دارقطنی نے اپنے قول کی دلیل کی کوئی متصل سند بیان نہیں کیونکہ امام دارقطنی جنگ صفین میں عینی گواہ موجود نہیں اس لیے اس بات کے جناب کے امام شعبہ قول کا پیش کرتے ہیں: امام شعبہ فرماتے ہیں: کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل ہر ایسی روایت جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔ (ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال ج 1 ص 107) خود امام ابن مبارک فرماتے ہیں : مثل الذی یطلب امر دینہ بلا اسناد کمثل الذی یرتقی السطح بلاسلم اس شخص کی مثال جو اپنے دینی معاملہ کو بغیر سند کے طلب کرتا ہے اس شخص کی طرح ہےجو بغیر سیڑھی کےچھت پر چڑھنا چاہتاہے۔ (ادب الاملاء والاستملاء ص12) خود دیکھ لو بے دلیل اور بے سند اقوال کی کیا اہمیت ہوتی ہے محدثین کے نزدیک امید ہے اب پھر ایسے اقوال پیش نہیں کرو گے۔
  11. ارے جناب امام ذہبی کا آخری موقف و رجوع ان کی آخری کتاب سیر اعلام النبلاء سے کئی بار دیکھا چکا ہوں جناب نے اس بات کا جواب دینا تو دور پھر وہی میزان الاعتدال کے پوسٹر کو بار بار چپکا رہے ہیں ارے جناب میزان الاعتدال امام ذہبی کی آخری کتاب نہیں ہے بلکہ سیر اعلام النبلاء ہی آخری کتاب ہے اس لئے سیر اعلام النبلاء نے امام ذہبی نے سند کو منقطع قرار دیا پھر اس کے بعد اپنی پرانی عبارت بھی نہیں لکھی جس سے واضح ہوتا ہے انہوں نے رجوع کر لیا تھا ورنہ آخری کتاب میں اپنی میزان الاعتدال والی بات لکھتے لیکن انہوں نے نہیں لکھی۔ باقی سیر اعلام النبلاء کی عبارت اور صفحہ پیچھے دے چکا ہوں اس لئے اس کا جواب ابھی تک آپ نے نہیں دیا اس لئے اس کا جواب دیں پہلے۔
  12. سرکار ﷺ زنا کرنے کی کتنی تحقیق فرماتے تھے اس حدیث سے دیکھ لو اور یہ جناب ہیں کہ بے دلیل قول لئے پھر رہے ہیں قاتل ثابت کرنے کے لئے۔ عن أبي ھریرة أنه قال أتی رجل من المسلمین رسول اﷲ ﷺ وھو في المسجد فناداہ فقال یا رسول اﷲ! إني زنیت فأعرض عنه فتنحّٰی تلقاء وجھه۔ فقال له یارسول اﷲ! إني زنیتُ فأعرض عنه حتی ثنی ذلك علیه أربع مرات۔فلما شھد علی نفسه أربع شهادات دعاہ رسول اﷲ ﷺ فقال: (أبك جنون؟) قال: لا۔قال: (فھل أحصنت؟) قال: نعم۔ فقال رسول اﷲ ﷺ :(اذھبوا به فارجموہ) ''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس شخص نے آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ ! میں زنا کا مرتکب ہوا ہوں ۔'' حضورؐ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ اس نے دوبارہ کہا: ''اے اللہ کے رسول ﷺ! میں زنا کا مرتکب ہوا ہوں ۔'' آپﷺ اس پر بھی متوجہ نہ ہوئے۔ اس نے چار دفعہ اپنی بات دہرائی، پھر جب اس نے چار مرتبہ قسم کھا کر اپنے جرم کا اقرار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر پوچھا: ''تو پاگل تو نہیں ؟ بولا: 'نہیں !' پھر آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ وہ بولا: 'جی ہاں ' (میں شادی شدہ ہوں ) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے لے جاکر سنگسار کردو۔'' (صحیح مسلم رقم 1691) عن جابر بن عبد اﷲ قال: جاء ت الیهود برجُلٍ وامرأة منهم زنیا، قال:(ائتوني بأعلم رجلین منکم) فأتوہ بابنَي صُورِیا، فنشدهما (کیف تجدان أمر هذین في التوراة؟) قالا: نجد في التوراة إذا شهد أربعة،أنہهم رَأوا ذکرہ في فرجها مثل المِیل في المکْحُلَة رُجِمَا، قال:(فما یمنعکما أن ترجموها؟) قالا: ذهب سلطانُنا، فکرهنا القتل،فدعا رسولُ اﷲ ﷺ بالشهود فجاء وا بأربعة فشهدوا أنهم رأوا ذکرہ في فرجها مثل المیل في المکحلة، فأمر النبي ﷺ برجمها۔ '' حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت کوجنہوں نے زنا کیا تھا، یہودی لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے لوگوں میں سے دو زیادہ جاننے والے میرے پاس لاؤ۔وہ صوریا کے دونوں بیٹوں کو لے آئے۔ آپﷺ نے ان دونوں کو قسم دے کر پوچھا کہ تورات میں ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اُنہوں نے کہا: ہم تورات میں یہ حکم پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیں کہ اُنہوں نے مرد اور عورت کے زنا کو اس طرح دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کیے جائیں گے۔آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تم لوگ ان دونوں کو رجم کیوں نہیں کرتے؟وہ بولے : ہماری حکومت نہیں رہی، اس لیے ہمیں کسی کو قتل کرنا برا معلوم ہوتا ہے۔پھر نبی ﷺ نے چار گواہ طلب کیے تو وہ چار (عینی) گواہ لے آئے جنہوں نے مرد اور عورت کو اس طرح زنا کرتے دیکھا جیسے سلائی سرمہ دانی میں ہوتی ہے ،پھر آپ کے حکم سے ان دونوں کو رجم کیا گیا۔'' (سنن ابی داود رقم 4452) خود دیکھ لو شریعت میں زنا ثابت کرنے کے لئے کتنے سخت شرائط رکھی ہیں تو بتاو قاتل ثابت کرنے کے لئے کتنی زیادہ سخت شرائط ہوں گی؟؟ اس لئے ان احادیث رسولﷺ کے سامنے رکھ کر کہو کیا ان احادیث کی شرائط پر تمہاری پیش کردہ باتیں پہنچ رہی ہیں؟؟ خود اپنے ایمان سے جواب دو ضدی کو چھوڑ دو اب۔ اس لئے کسی کو قاتل کہنا تو آسان ہے لیکن اسے شریعت کے اصولوں سے ثابت کرنا بڑا مشکل ہے کیونکہ شریعت دلائل کی تحقیق کرتی ہے پھر جا کر فیصلہ کرتی ہے اور بنا دلیل کے تو شریعت بات بات تسلیم نہیں کرتی ایسے سنگین معاملات میں۔ باقی آپ بنا کسی دلیل کے قاتل کہتے رہیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اللہ کو تم خود جواب دو گے کہ تم نے کس دلیل کے بنا کہا پھر وہ دلیل کو ثابت کرنا پڑے گی وہاں تمہارے یہ پوسٹرز چیکانے سے کام نہیں ہو گا۔ اس لئے ابھی بھی وقت ہے اللہ عزوجل سے توبہ کر کے اپنی آخرت کو سنبھال لو اور پھر تا وفات ان کاموں میں نہ پڑوں جن کا حساب تم سے ہونا ہی نہیں ہے۔ اللہ عزوجل ہم کو ہر وقت توبہ کرنے والوں میں شمار فرمائے۔ آمین والسلام
  13. ارے جناب امام دارقطنی کے قول کا جواب ہو چکا آپ نے اس جواب نہیں دیا؟ امام ذہبی کے قول کا جواب دیا گیا جناب نے اس کا بھی جواب نہیں دیا؟؟ ابن کثیر اور ابن عبدالبر اندلسی کے قول کی دلیل ہے تو پیش فرما دیں ؟؟ کیونکہ بنا کسی صحیح دلیل کے کسی کو قاتل کہنا شرعا درست نہیں۔ علامہ سلمی نے اپنی بات نہیں کی بلکہ امام دارقطنی کا قول ہی ان سے روایت کیا ہے اس لئے ان کو الگ شمار کرنا درست نہیں۔ نورالدین طالب نے ذاتی کوئی بات نہیں بلکہ اس نے صرف حاشیہ سندھی تحقیق کر کے چھپوائی ہے۔ اس لئے خدا را تحقیق سے کام لیں ہمیں بتائیں شریعت میں قاتل ثابت کرنے کے لئے کتنے گواہ رکھے ہیں کیا آپ کے پاس صحیح سند سے عینی گواہ کی گواہی موجود ہے تو پیش کریں ورنہ ایسی بے دلیل اقوال کو شریعت خود تسلیم نہیں کرتی میاں۔
  14. پہلے تو یہ حوالہ وہابی سلفی کا ہے جو ہمارے لئے حجت نہیں اور دوسری بات یہ ہے اس میں وہی پرانی روایات ہیں جن کا ہم کئی بار رد کر چکے ہیں۔ ارے بھائی کتب بدل بدل کر وہی پرانی روایات کیوں پیش کر رہے ہو جن کا ہم کئی بار رد کر آئے ہیں؟؟ اگر پیش کرنی ہے تو کوئی نئی روایت پیش کرو ورنہ لاجواب ہونا تو ثابت ہو چکا ہے جناب پر۔
  15. ان سب حوالہ جات کا ہم اصولی اور تحقیقی رد پیش کر چکے ہیں یا تو ہمارے اس رد کا جواب دیں یا مہربانی فرما کر ان کو دوبارا پوسٹ نہ کیا کریں کیونکہ جس کا جواب ہو گیا ہو اسے پھر پوسٹ کرنا بے وقوفانہ کام ہے اور کچھ نہیں۔