Jump to content
IslamiMehfil

حضرت ابو بکر سے محبت کرنا اور ان کا شکریہ ادا کرنا میرہ امت پر واجب ہے۔ حدیث کی تحقیق


Recommended Posts

*ابو بکر سے محبت کرنا اور ان کا شکریہ ادا کرنا میری اُمت پر واجب ہے حدیث کی تحقیق*

حُبُّ اَبِیْ بَکْرٍ وَشُکْرُہٗ وَاجِبٌ عَلٰی اُمَّتِی 
ابو بکر سے محبت کرنا اور ان کا شکریہ ادا کرنا میری اُمت پر واجب ہے۔

✍️یہ روایت موضوع ہے اس کے دو طریق ہیں اور دونوں میں ایک کذاب راوی موجود ہے۔


*طریق نمبر 1:.*

2726 - أحمد بن محمد بن العلاء حدث عن عمر بن إبراهيم الكردي، روى عنه: ابن أخيه محمد بن عبيد الله بن محمد بن العلاء الكاتب

📕أخبرني الحسن بن أبي طالب، قال: حدثنا يوسف بن عمر القواس، قالا: حدثنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن محمد بن العلاء الكاتب، قال: حدثني عمي أحمد بن محمد بن العلاء، قال: حدثنا *عمر بن إبراهيم يعرف بالكردي،* قال: حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة بن أبي ذئب، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن أمن الناس علي في صحبته وذات يده أبو بكر الصديق، فحبه وشكره وحفظه واجب على أمتي "

 1📘: ✍️تفرد به عمر بن إبراهيم -ويعرف بالكردي- عن ابن أبي ذئب، وعمر ذاهب الحديث.
*قال الخطيب أيضا (3/ 475):*
✍️ذاھب الحدیث کہنا بھی ایک سخت جرح ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ راوی کو راوی کذاب ہے۔ 

 📘محمد بن عبد الله بن العلاء الكاتب، حدثنا عمى أحمد بن محمد بن العلاء، حدثنا عمر بن إبراهيم الكردى، حدثنا ابن أبي ذئب، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حب أبي بكر وشكره واجب على أمتى.
هذامنكر جدا.

*قال الدارقطني: كذاب.*

طریق نمبر 2:.

 نا أبو بكر محمد بن إسماعيل الوراق نا علي بن محمد بن أحمد المصري نا أحمد بن يحيى بن خالد بن حماد بن المبارك نا حماد بن المبارك نا صالح بن عمر القرشي نا *عمر بن إبراهيم بن خالد* عن ابن أبي ذئب عن ابن أبي لبيبة عن أنس بن مالك قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) *حب أبي بكر وشكره واجب على أمتي* وروي عن ابن أبي ذئب بإسناد آخر أخبرناه أبو بكر وجيه بن طاهر أنا أبو بكر يعقوب بن أحمد بن محمد الصيرفي أنا أبو نعيم أحمد بن محمد بن إبراهيم بن عيسى الأزهري بن الشيخ العدل نا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن إبراهيم بن جعفر الصيدلاني إملاء نا أحمد بن محمد بن نصر اللباد

*ابن عساکر جلد30.ص141*

✍️اس طریق میں بھی وہی راوی موجود ہے عمر بن ابراھیم۔

مسند الفروس بماثور الخطاب میں صاحب فردوس نے بغیر سند کے اس کو نقل کیا ہے

✍️2724 - سهل بن سعد:
حب أبي بكر وشكره واجب على أمتي
*مسند الفردوس 142/2*

امام اصبھانی  رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسکو نقل کیا ہے وہی طرق سیدنا سھل بن سعد والا

85 - أخبرنا عمر بن أحمد، ثنا محمد بن عبد الله بن دينار والحسن بن يحيى النيسابوري قالا: ثنا أحمد بن نصر اللباد، *ثنا عمر بن إبراهيم،* ثنا محمد بن عبد الرحمن بن أبي ذئب، ثنا أبو حازم، عن سهل بن سعد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «حب أبي بكر وشكره واجب على أمتي»

*فضائل الخلفاء الراشدین ابی نعیم الاصبھانی۔ص89*

✍️اس میں بھی وہی راوی عمر بن ابراھیم موجود ہے۔

وروى محمد بن عبد الله بن العلاء الكاتب، حدثنا عمى أحمد بن محمد بن العلاء، حدثنا عمر بن إبراهيم الكردى، حدثنا ابن أبي ذئب، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حب أبي بكر وشكره واجب على أمتى.
هذا منكر جدا.

قال الدارقطني۔ عمر بن ابراھیم :كذاب.

*میزان اعتدال3/180.امام ذھبی علیہ الرحمہ*

اس میں بھی وہی راوی عمر بن ابراھیم موجود ہے کذاب ہے۔

✍️✍️✍️✍️✍️✍️📚مرکزی راوی عمر بن ابراھیم پر کلام:-

✍️أبو حاتم بن حبان البستی فرماتے ہیں کہ: لا يجوز الاحتجاج بخبره ہے۔

✍️الخطيب البغدادي فرماتے ہیں کہ : غير ثقة، ومرة: يروي المناكير عن الاثبات۔ ثقہ سے مناکیر بیان کرتا ہے


✍️امام الدارقطني فرماتے ہیں کہ : كذاب خبيث يضع الحديث ہے۔

✍️امام الذهبي فرماتے ہیں کہ : عمر بن ابراھیم  كذاب ہے۔

✍️میزان اعتدال جلد5ص225. الرقم: 6050. کذاب.

      📖خلاصہ کلام:-✍️✍️

اس روایت کے مجھے دو طریق ملے ہیں،جس میں ایک مرکزی راوی ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت قابل استدلال اور فضائل و مناقب میں بیان کے کے قابل نہیں ہے۔ اور محققین  نے اس حدیث کو موضوعات میں درج کیا ہے جیسا امام ملا علی قاری حنفی رحمتہ اللہ علیہ امام ابن جوزی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ۔

اس راوی کا نام عمر بن إبراهيم بن خالد بن عبد الرحمن ہے۔اس کو عمر بن ابراھیم الکردی کے نام سے جانا جاتا ہے جیسا کہ اوپر رویات میں درج ہے۔یہ اسکا نسب ہے اسے الکردی کے ساتھ ساتھا القرشی الهاشمی بھی کہا جاتا ہے۔

اس راوی پر کذاب، ذاھب الحدیث،، یروی مناکیر اوریضح الحدیث کی جروحات ہیں۔

✍️الحکم الحدیث: موضوع

(طالب دعا محمد عمران علی حیدری)

  • Thanks 1
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      اگــر تمـام لـوگــ محـبـت علـی رضـی اللہ تعـالـیٰ عنـہٗ پـر جمـع ہـوجـاتے تـو اللہ ﷻ جہنـم کـی تخـلـیـق ہــی نـہ کـرتـا
       
       
      یہ روایت اکثر روافض کی طرف سے پیش کی جاتی ہے اور بعض اہلسنت کے لبادے میں چھپے ہوئے نیم رافضی بھی بیان کرتے ہیں مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کی فضیلت میں جو غُلُو پر مبنی ہے آج ہم اس روایت کی اپنی تحریر میں تحقیق پیش کریں گے
       
      امام ابو شجاع دیلمی (م 509ھ) رحمہ اللہ نے فرمایا
       
      5135 - عن ابْن عَبَّاس لَو اجْتمع النَّاس على حب عَليّ بن أبي طَالب لما خلق الله تَعَالَى النَّار
      [ الفردوس بمأثور الخطاب 3/373 ]
       
      الفردوس بمأثور الخطاب کے نسخہ میں اسناد حذف ہیں اس کو امام ابو منصور دیلمی (م 558ھ) سے باسند امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں نقل کیا
       
      293 - الديلمي أخبرنا أبي أخبرنا أبو طالب الحسيني حدثنا أحمد بن محمد بن عمر الفقيه الطبري حدثنا *أبو المفضل محمد بن عبد الله الشيباني* حدثنا ناصر بن الحسن بن علي حدثنا محمد بن منصور عن عيسى بن طاهر اليربوعي حدثنا أبو معاوية عن ليث عن طاوس عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو اجتمع الناس على حب علي بن أبي طالب لما خلق الله النار
      ترجمہ :- ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی محبت پر جمع ہوجاتے تو اللہ تعالیٰ جہنم کو پیدا نہ کرتا
      [ الزيادات على الموضوعات 1/260 ]
       
       
      اس طرح علامہ الموفق بن أحمد الخوارزمی (م 584ھ) نے بھی اپنی کتاب میں اس کو باسند نقل کیا
       
      وأخبرني شهردار هذا اجازة ، أخبرنا أبي ، حدثنا أبو طالب الحسيني ، حدثنا أحمد بن محمد بن عمر الفقيه الطبري ، حدثني *أبو الفضل محمد بن عبد الله الشيباني ،* حدثنا ناصر بن الحسين بن علي ، حدثنا محمد بن منصور ، عن يحيى بن طاهر اليربوعي ، حدثنا أبو معاوية ، عن ليث بن أبي سليم ، عن طاوس ، عن ابن عباس قال : قال رسول الله 9 : لو اجتمع الناس على حب علي بن أبي طالب لما خلق الله النار
      ( مناقب أمير المؤمنين علي بن أبي طالب 1/68 رقم 39 )
       
      یہ روایت عندالتحقیق منگھڑت ہے دونوں اسناد میں علت ایک ہی ہے اور امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی یہ روایت منگھڑت ہے کیونکہ آپ نے اس کو "زیادات علی الموضوعات" میں نقل کیا ہے جو کہ موضوع احادیث پر مشتمل کتاب ہے جیسا کہ خود امام سیوطی رحمہ اللہ نے مقدمے میں فرمایا :- 1/31
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا حضرت مولائے کائنات اور اہلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فضیلت میں گھڑی گئی موضوع روایات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں
       
      وكذلك قوله لو اجتمع الناس على حب علي لم تخلق النار
      اور اسی طرح ( یہ روایت بھی موضوع ) کہ اگر لوگ حب علی رضی اللہ عنہ پر جمع ہوجاتے تو جہنم کی تخلیق نہ ہوتی
      ( كتاب المنتقى من منهاج الاعتدال ص318 )
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
      اس کـی سنـد میـں درج ذیـل عـلـتـیـں ہیـں
       
      ➊ أبو طالب الحسيني المحسن بن الحسين بن أبي عبد الله محمد المعروف بابن النصيبي یہ مجہول الحال ہے
      ➋ أبو المفضل محمد بن عبد الله الشيباني یہ احادیث گھڑنے والا راوی ہے اور اس سند میں آفت یہی راوی ہے 
       
       
      اســں راوی کـے حـوالـے سـے ائـمـہ کا کـلام
       
       
      ① امام جرح و تعدیل حافظ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کا کلام اس کے حوالے سے نقل کرتے ہیں
       
      قال الخطيب: كتبوا عنه بانتخاب الدارقطني، ثم بأن كذبه فمزقوا حديثه، وكان يعد يضع الأحاديث للرافضة
      محدثین نے امام الدارقطنی رحمہ اللہ کو منتخب کرکے اس کی روایات کو لکھا پھر جب اسکا جھوٹا ہونا واضح ہوگیا تو انہوں نے اس کی روایات کو پھاڑ دیا اور ان کو باطل کرار دیا اور کہا کہ یہ روافض کے لیے احادیث گھڑتا ہے 
      [ ميزان الاعتدال رقم :- 7802 ]
       
       
      ② شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے عبيد الله بن أحمد الأزهري کا قول اس کے حوالے سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا یہ دجال اور کذاب راوی ہے
      اور حمزة بن محمد بن طاهر کا قول نقل کیا کہ انہوں نے کہا یہ احادیث گھڑنے والا ہے
      [ لسان الميزان 5/231 ]
       
       
      ③ امام ابن عراق رحمہ اللہ اس کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ یہ احادیث گھڑنے والا دجال ہے
      محمد بن عبد الله بن المطلب أبو الفضل الشيباني الكوفي عن البغوي وابن جرير دجال يضع الحديث
      [ تنزيه الشريعة المرفوعة رقم :- 166 ]
       
      کیونکہ یہ واضح ہو گیا کہ اس راوی نے اس روایت کو گھڑا ہے لہذا اور علتیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ورنہ اور علتیں بھی ہیں سند میں باقی شیعہ حضرات کی کتب میں یہ روایت کثرت سے موجود ہے ہم نے ثابت کیا کہ یہ روایت اہلسنت کے نزدیک من گھڑت ہے مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے فضائل میں احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں اور کثرت سے احادیث صحیحہ آپ کے فضائل میں ہیں لہذا من گھڑت روایات بیان کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
      مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم جتنے فضائل کسی صحابی کے احادیث میں وارد نہیں ہوئے
       
      امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری م405ھ رحمہ اللہ اپنی سند صحیح کے ساتھ روایت کرتے ہیں
       
      سَمِعْتُ الْقَاضِيَ أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ الْجَرَّاحِيَّ، وَأَبَا الْحُسَيْنِ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظِ، يَقُولَانِ: سَمِعْنَا أَبَا حَامِدٍ مُحَمَّدَ بْنَ هَارُونَ الْحَضْرَمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَنْصُورٍ الطُّوسِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: «مَا جَاءَ لِأَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْفَضَائِلِ مَا جَاءَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» 
       
      إمام الدنيا ثقة ثبت في الحديث احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے کسی صحابی کے احادیث میں اتنے فضائل وارد نہیں ہوئے جتنے حضرت مولائے کائنات اسد اللہ الغالب امیر المؤمنین امام المتقین علی المرتضٰی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے بارے میں ہوئے ہیں
      ( كتاب المستدرك على الصحيحين للحاكم - ط العلمية - 4572 :- وسندہ صحیح )
       
       
       
      حسن صحیح اسانید کے ساتھ جتنے فضائل مولا کائنات علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مروی ہیں اور کسی صحابی کے مروی نہیں
       
       
      خاتم الحفاظ امام الفقہاء والمحدثین حافظ جلال الدین سیوطی م911ھ رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں
       
      قال أحمد والنسائي وغيرهما : لم يرد في حق أحد من الصحابة بالأسانيد الجياد أكثر مما جاء في على؛ وكـأن السبب في ذلك أنه تأخر ، ووقع الاختلاف في زمانه، وكـثر محاربوه والخارجون عليه، فكان ذلك سببًا لانتشار مناقبه؛ لكثرة من كان يرويها من الصحابة ردا على من خـالفـه، وإلا فالثلاثة قبله لهم من المناقب ما يوازيه ويزيد عليه
      امام احمد بن حنبل اور امام احمد بن شعیب النسائی رحمهما الله اور دیگر آئمہ نے فرمایا کسی بھی صحابی کے جید اسانید کے ساتھ اتنے فضائل مذکور نہیں جتنے مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے ہیں گویا اس کا سبب یہ ہے کہ ( مولا علی خلفاء ثلاثہ کے بعد تک حیات رہے ) آپکا زمانہ متاخر تھا اور اس زمانہ میں ( مسلمانوں کے درمیان ) اختلاف واقع ہوا اور آپ کے خلاف بغاوت کرنے والے اور جنگ کرنے والوں کی کثرت ہو گئی تھی آپکے مناقب کے پھیلنے کا یہی سبب تھا . کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کثرت سے آپ کی مخالفت کرنے والوں کے جواب میں آپ کے مناقب روایت کیا کرتے تھے ورنہ جہاں تک خلفاء ثلاثہ کے مناقب کا تعلق ہے تو وہ حضرت علی کے مناقب کے موازی بلکہ ان سے بھی زیادہ ہیں
      ( التوشيح على الجامع الصحيح 3/435 )
       
       
      حجۃ اللہ فی الارضین شیخ الاسلام والمسلمین امیر المؤمنین فی الحدیث حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
       
      وكان سبب ذلك بغض بني أمية له، فكان كل من كان عنده علم من شيء من مناقبه من الصحابة يثبته
      ( مولا علی کے مناقب کا کثرت سے مروی ہونے ) کا سبب بنو امیہ کا آپ سے بغض رکھنا ہے تو جس بھی صحابی کو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مناقب میں سے جو معلوم ہوتا وہ اس کو ظاہر کرتے ( تاکہ لوگ بغض چھوڑدیں )
      ( كتاب الإصابة في تمييز الصحابة 4/465 )
       
       
       
      جس نے مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے محبت کی اس نے رسول اللہ ﷺ سے محبت کی جس نے مولا علی سے بغض رکھا اس نے رسول اللہ ﷺ سے بغض رکھا
       
      عن أمِّ سلمةَ قالتْ: أَشهدُ أنِّي سمعتُ رسولَ اللهِ يقولُ: «من أحبَّ علياً فقد أحبَّني، ومَن أحبَّني فقد أحبَّ اللهَ عزَّ وجلَّ، ومَن أَبغضَ علياً فقد أَبغَضَني، ومن أَبغَضَني فقد أَبغضَ اللهَ»
      ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی۔ اور جس نے علی سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔“
       
      ( كتاب المعجم الكبير للطبراني 23/380 وسندہ حسن )
      ( كتاب المخلصيات 3/150 )
      ( كتاب مسند البزار = البحر الزخار 9/323 )
       
      [ حکم الحدیث :- حسن صحیح ]
       
       
      مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت مؤمن کرے گا اور بغض منافق رکھے گا
       
      قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَيَّ أَنْ " لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِق "
      سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اس کی جس نے دانہ چیرا (پھر اس نے گھاس اگائی) اور جان بنائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ ”نہیں محبت رکھے گا مجھ سے مگر مؤمن اور نہیں بغض رکھے گا مجھ سے مگر منافق۔“
       
      ( صحیح مسلم :- رقم الحدیث 240 )
      ( كتاب المصنف - ابن أبي شيبة - ت الحوت :- رقم الحدیث 32064 )
      ( كتاب السنن الكبرى - النسائي - ط الرسالة :- رقم الحدیث :- 8431 )
       
      [ حکم الحدیث :- صحیح ]
       
       
       
                           خــلاصــہ کــــلام
                      
      پوری تحقیق کا حاصل کلام یہ ہوا کہ مولا علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے فضائل میں بے شمار صحیح اور حسن احادیث موجود ہیں لہذا آپ کے فضائل میں اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل میں صحیح اور حسن احادیث بیان کی جائیں تاکہ رافضیوں اور ناصبیوں کو ان عظیم ہستیوں کی ذات بابرکات پر طعن و تبراء کرنے کا موقع نہ ملے
       
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
      فقــط واللہ ورسولــہٗ اعلـم بـالصـواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      ( مؤرخہ 16 ربیع الثانی 1442ھ ) 
       











    • By Aquib Rizvi
      امام حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے فرمایا
       
      أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «إِنِّي رَأَيْتُنِي عَلَى تَلٍّ وَحَوْلِي بَقَرٌ تُنْحَرُ» فَقُلْتُ لَهَا: لَئِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ لَتَكُونَنَّ حَوْلَكَ مَلْحَمَةٌ، قَالَتْ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكَ، بِئْسَ مَا قُلْتَ» ، فَقُلْتُ لَهَا: فَلَعَلَّهُ إِنْ كَانَ أَمْرًا سَيَسُوءُكِ، فَقَالَتْ: «وَاللَّهِ لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ» ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذُكِرَ عِنْدَهَا أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَتَلَ ذَا الثُّدَيَّةِ، فَقَالَتْ لِي: «إِذَا أَنْتَ قَدِمْتَ الْكُوفَةَ فَاكْتُبْ لِي نَاسًا مِمَّنْ شَهِدَ ذَلِكَ مِمَّنْ تَعْرِفُ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ» ، فَلَمَّا قَدِمْتُ وَجَدْتُ النَّاسَ أَشْيَاعًا فَكَتَبْتُ لَهَا مِنْ كُلِّ شِيَعٍ عَشَرَةً مِمَّنْ شَهِدَ ذَلِكَ قَالَ: فَأَتَيْتُهَا بِشَهَادَتِهِمْ فَقَالَتْ: «لَعَنَ اللَّهُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، فَإِنَّهُ زَعَمَ لِي أَنَّهُ قَتَلَهُ بِمِصْرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "
      [التعليق - من تلخيص الذهبي] - على شرط البخاري ومسلم
      ترجمہ :- مسروق فرماتے ہیں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مجھ سے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ٹیلے پر ہوں اور میرے اردگرد گائے ذبح کی جا رہی ہیں میں نے کہا اگر آپ کا خواب سچا ہوا تو آپ کے ارد گرد خون ریزی ہو گی ام المومنین نے کہا تم نے جو تعبیر بتائی ہے میں اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں میں نے کہا ہو سکتا ہے کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جائے جو آپ کے لئے تکلیف دہ ہو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میری وجہ سے کوئی فتنہ برپا ہو اس سے مجھے یہ زیادہ عزیز ہے کہ مجھے آسمان سے زمین پر پھینک دیا جائے کچھ عرصے بعد ام المؤمنین کے پاس یہ تذکرہ ہوا کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے " ذوالثدیہ " کو قتل کر دیا آپ نے مجھے حکم دیا کہ جب تم کوفہ آؤ تو شہر کے جتنے لوگ اس معاملے میں شریک ہوئے جن کو تم پہچانتے ہو ان سب کے بارے میں مجھے مطلع کرنا جب میں کوفہ میں آیا تو میں نے لوگوں کو جماعت در جماعت پایا میں نے ام المؤمنین کی جانب خط لکھا کہ ہر جماعت میں سے دس آدمی اس میں شریک ہوئے ہیں آپ فرماتے ہیں میں ان کی گواہی بھی ام المؤمنین کے پاس لایا ام المؤمنین نے فرمایا اللہ کی لعنت ہو عمرو بن عاص پر اس نے مجھ سے دعوی کیا تھا کہ اس نے اسے ( ذوالثدیہ کو ) مصر میں قتل کیا ہے 
       
      امام حاکم فرماتے ہیں یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسکی تخریج نہیں کی تلخیص میں امام ذھبی نے بھی شیخین کی شرط پر صحیح کہا 
      ( المستدرك على الصحيحين للحاكم :- 6744 )
       
       
      شیعہ کا اس روایت سے استدلال
       
       
      ➊ صحابی رسول ﷺ عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ام المؤمنین سے جھوٹ بولا 
       
      ➋ ام المؤمنین نے صحابی رسول ﷺ پر لعنت کی 
       
      ➌ اگر صحابہ پر لعنت کرنا حرام٬ فسق٬ کفر اور گناہ ہے تو کیا یہ فتوی ام المؤمنین پر لگے گا یا فتویٰ غلط ہے ؟؟
       
       
                     الجواب وباللہ التوفیق
       
       
      ◉ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ پر لعنت کرنا اور حضرت عمرو بن عاص کا جھوٹ بولنا ثابت نہیں
       
      اسی روایت کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی " المصنف " میں عالی سند سے روایت کیا
       
       
      حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ٬ عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «رَأَيْتنِي عَلَى تَلٍّ كَأَنَّ حَوْلِي بَقَرًا يُنْحَرْنَ»، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَكُونِي أَنْتَ هِيَ فَافْعَلِي، قَالَ: «فَابْتُلِيتُ بِذَلِكَ رَحِمَهَا اللَّهُ»
      ( كتاب المصنف - ابن أبي شيبة - ت الحوت :- 30513 إسنادہ صحیح )
      ترجمہ :- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں میں نے اپنے آپ کو خواب میں ایک ٹیلے پر دیکھا اور میرے ارد گرد بہت سی گاۓ ذبح کی جارہی تھیں مسروق نے کہا اگر آپ کے اندر طاقت ہے کہ آپ وہ نہ ہوں تو ایسا ضرور کریں لیکن حضرت عائشہ اس میں مبتلا ہو گئی اللہ ان پر رحم فرمائے
       
      آپ دیکھ سکتے ہیں نہ تو اس روایت میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر ہے اور نہ ہی ان کا جھوٹ بولنے کا اور نہ ہی ان پر لعنت کا
       
      اعمش سے یہ روایت دو لوگ بیان کر رہے ہیں
       
      ➊ جرير بن عبد الحميد
      ➋ أبو معاوية الضرير
       
      اور محدثین کرام اور ناقدین حدیث و رجال نے اعمش سے روایت کرنے میں ابو معاویہ کو جریر پر مقدم اور ابو معاویہ کو جریر سے اعمش کی روایت میں اوثق قرار دیا ہے
       
      ① ایوب بن اسحاق کہتے ہیں میں نے امام یحیی بن معین اور احمد بن حنبل رحمهما الله سے ابو معاویہ اور جریر کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے جواب دیا کہ ہمیں ابو معاویہ زیادہ محبوب ہیں اعمش کی روایت میں ( بنسبت جریر کے )
      قال أيوب بن إسحاق بن سافري سألت أحمد ويحيى عن أبي معاوية وجرير، قالا: أبو معاوية أحب إلينا يعنيان في الأعمش
       
      امام یحیی بن معین سے دوسرا قول بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ابو معاویہ اعمش کی حدیث میں جریر سے زیادہ مضبوط ہے
      يحيى بن معين يقول: أبو معاوية أثبت من جرير في الأعمش
      ( كتاب تاريخ بغداد وذيوله ط العلمية 2/305/6 )
       
       
      ② امیر المؤمنین فی الحدیث حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں ابومعاویہ اعمش کی حدیث میں میزان ہیں
      لأن أبا معاوية هو الميزان في حديث الأعمش
      ( كتاب فتح الباري لابن حجر 12/286 )
       
       
      ③ امام ذہبی فرماتے ہیں امام احمد سے امام اعمش سے روایت کرنے میں ابو معاویہ اور جریر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ابو معاویہ کو جریر پر مقدم کیا
      سئل أحمد عن أبي معاوية وجرير في الأعمش ، فقدم أبا معاوية
      ( سير أعلام النبلاء 9/74 )
       
       
      ان تمام تصریحات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جریر بن عبدالحمید کی روایت جس میں جھوٹ بولنے اور لعنت کرنے کا ذکر ہے وہ متن شاذ ہے اوثق کی مخالفت کی وجہ سے جب کہ ابو معاویہ کی روایت جس میں دونوں باتوں کا ذکر نہیں وہی محفوظ اور صحیح متن ہے
       
      شاذ حدیث کی تعریف اور اسکا ضعیف کی اقسام میں سے ہونا
       
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ عنہ شاذ حدیث کی تعریف فرماتے ہیں
       
      فإن خولف بأرجح منه: لمزيد ضبط، أو كثرة عدد، أو غير ذلك من وجوه الترجيحات، فالراجح يقال له: "المحفوظ" ومقابله، وهو المرجوح، يقال له: "الشاذ"
      پس اگر ثقہ راوی کی طرف سے کسی ایسے ارجح کی مخالفت کی جائے جو ضبط٬ یا کثرت عدد٬ یا اس کے علاوہ کسی اور وجوہ ترجیح میں اس سے راجح ہو تو راجح کی حدیث کو محفوظ اور اس کے مقابل یعنی مرجوح کی حدیث کو شاذ کہا جائے گا
       
      ( كتاب نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر - ت عتر ص71 )
       
      شاذ حدیث خبر مردود کی اقسام میں سے ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس کو خبر مردود کی اقسام میں ذکر کیا
       
       
      اصول حدیث کی ایک اور " كتاب تيسير مصطلح الحديث " میں محمود طحان فرماتے ہیں
       
      من المعلوم أن الشاذ حديث مردود، أما المحفوظ فهو حديث مقبول
      معلوم ہوا کہ شاذ حدیث مردود ( ضعیف ) ہے اور محفوظ حدیث مقبول ( صحیح ) ہے
      ( كتاب تيسير مصطلح الحديث ص124 )
       
       
      اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ " جریر بن عبدالحمید " جوکہ ثقہ ہے اس نے اعمش سے روایت کرنے میں " ابو معاویہ " جو کہ اوثق ہے اعمش کی حدیث میں جریر سے اس کی مخالفت کی جس کی بنا پر " جریر بن عبدالحمید " کی روایت شاذ ( ضعیف ) ہوئی اور " ابو معاویہ " کی روایت محفوظ ( صحیح )
       
      ◉ اس روایت کو اپنے طریق سے امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا اس میں لعنت کے الفاظ تو ہیں لیکن شخص کا نام نہیں یعنی صراحت نہیں کہ کس پر لعنت کی نیز یہ کہ وہ سند بھی ضعیف ہے
       
      أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا الحسين بن الحسن بن عامر الكندي بالكوفة من أصل سماعه حدثنا أحمد بن محمد بن صدقة الكاتب قال: حدثنا عمر بن عبد الله بن عمر بن *محمد بن أبان بن صالح* قال: هذا كتاب جدي: محمد بن أبان فقرأت فيه حدثنا الحسن بن الحر قال: حدثنا الحكم بن عتيبة وعبد الله بن أبي السفر، عن عامر الشعبي، عن مسروق، قال: قالت عائشة: عندك علم من ذي الثدية الذي أصابه علي رضي الله عنه في الحرورية قلت لا قالت فاكتب لي بشهادة من شهدهم فرجعت إلى الكوفة وبها يومئذ أسباع فكتبت شهادة عشرة من كل سبع ثم أتيتها بشهادتهم فقرأتها عليها قالت: أكل هؤلاء عاينوه؟ قلت: لقد سألتهم فأخبروني أن كلهم قد عاينه قالت: *لعن الله فلانا فإنه كتب إلي أنه أصابهم بنيل مصر* ثم أرخت عينيها فبكت فلما سكتت عبرتها. قالت: رحم الله عليا لقد كان على الحق وما كان بيني وبينه إلا كما يكون بين المرأة وأحمائها
      ( كتاب دلائل النبوة للبيهقي 6/434/35 )
       
      سند میں موجود راوی " محمد بن أبان بن صالح " ضعیف الحدیث ہے اس کے ضعف پر محدثین کا اجماع ہے
      ( لسان الميزان :- 6354 )
       
      نیز یہ کہ جس شخص پر لعنت کی جا رہی ہے اس کا نام بھی مبھم ہے لہذا اس روایت سے کسی طرح بھی استدلال نہیں کیا جاسکتا
       
       
      خلاصہ کلام یہ ہوا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ پر لعنت کرنا اور ان کا سیدہ سے جھوٹ بولنا ثابت نہیں لہذا شیعہ کا اس روایت سے استدلال کرنا باطل ہے . اللہ رحم فرمائے امام ذہبی پر کہ انہوں نے ظاہری سند کو دیکھتے ہوئے صحت کا حکم لگا دیا متن پر توجہ نہیں دی جب کہ ہم اوپر خود ان کی آخری کتاب " سیر اعلام نبلاء " سے ثابت کر آئے کہ انہوں نے ابو معاویہ کا جریر پر مقدم ہونا امام احمد سے نقل کیا ہے
       
       
      فقط واللہ رسولہٗ اعلم باالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
      مؤرخہ 10 شعبان المعظم 1443ھ






    • By Aquib Rizvi
      ایکــ عـورت اپنـے سـاتـھ چـار لـوگـوں کـو جہنـم میـں لـے کـر جـائـے گــی
       
      یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی جاتی ہے
       
      إذا دخلت امرأة إلى النار أدخلت معها أربعة، أباها وأخاها وزوجها وولدها
      جب عورت جہنم میں داخل ہوگی تو اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم میں لے کر جائے گی اپنے باپ کو اپنے بھائی کو اپنے شوہر کو اور اپنے بیٹے کو
       
      اسی طرح
       
      أربعة يُسألون عن حجاب المرأة: أبوها، وأخوها، وزوجها، وابنها
      چار لوگوں سے عورت کے حجاب کے متعلق سوال کیا جائے گا اس کے باپ سے اس کے بھائی سے اس کے شوہر سے اور اس کے بیٹے سے
      [ موضوع ]
       
      اس روایت کا کسی بھی معتبر یا مستند کتاب میں وجود نہیں یہی اس کے موضوع من گھڑت ہونے کے لئے کافی تھا مگر یہ نص قطعی اور صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      یہ روایت نص قطعی اور شریعت کے اس اصول کے خلاف ہے کہ کوئی شخص دوسروں کے گناہوں کے عوض جہنم میں داخل ہو
       
      وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْـهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۚ
      اور جو شخص کوئی گناہ کرے گا تو وہ اسی کے ذمہ ہے، اور ایک شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ( سورۃ الانعام :- 164 )
       
      اسی طرح فرمان رسول ﷺ بھی ہے
       
                سنن ابن ماجه حدیث :- 2669
               
      حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو الاحوص ، عن شبيب بن غرقدة ، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص ، عن ابيه ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع:" الا لا يجني جان إلا على نفسه، لا يجني والد على ولده ولا مولود على والده"
      عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، (یعنی جو قصور کرے گا وہ اپنی ذات ہی پر کرے گا اور اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا) باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ“
      [ صحیح ]
       
      مذکور روایت کی تردید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویاں کافرہ تھی تو کیا ان کی وجہ سے نوح اور لوط علیہما السلام کو گناہ ملے گا ؟ نعوذ باللہ
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
                           متفقـہ اصــول
                           
      آئمہ اور محدثین کا یہ متفقہ اصول ہے کہ جو بھی روایت اصول شریعت یا نص قطعی کے خلاف ہو اور تاویل کی گنجائش نہ ہو تو وہ موضوع ہے
       
      ① شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں
       
      ومِنها ما يُؤخَذُ مِن حالِ المروي كأنْ يكون مناقضاً لنصِّ القرآن أَو السُّنَّةِ المُتواتِرَةِ أَو الإِجماعِ القطعيِّ أَو صريحِ العَقْلِ حيثُ لا يَقْبلُ شيءٌ مِن ذلك التأويلَ
      موضوع حدیث کو اس کی حالت سے بھی پہچان لیا جاتا ہے جیسا کہ وہ قرآن کی نص یا سنت متواترہ یا اجماع قطعی یا صریح عقل کے اس طور پر خلاف ہو کہ وہ تاویل کو بلکل قبول نہ کرے
      [ نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر ص66 ]
       
       
      ② خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں
       
      أَنَّ مِنْ جُمْلَةِ دَلَائِلِ الْوَضْعِ أَنْ يَكُونَ مُخَالِفًا لِلْعَقْلِ بِحَيْثُ لَا يَقْبَلُ التَّأْوِيلَ وَيَلْتَحِقَ بِهِ مَا يَدْفَعُهُ الْحِسُّ وَالْمُشَاهَدَةُ أَوْ يَكُونُ مُنَافِيًا لِدَلَالَةِ الْكِتَابِ الْقَطْعِيَّةِ أَوِالسُّنَّةِ الْمُتَوَاتِرَةِ أَوِ الْإِجْمَاعِ الْقَطْعِيِّ أَمَّا الْمُعَارَضَةُ مَعَ إِمْكَانِ الْجَمْعِ فَلَا
      حدیث کے موضوع ہونے کے دلائل میں سے یہ بات شامل ہے کہ یہ عقل کے اس طرح خلاف ہو کہ اس کی توجیہ ممکن ہی نہ ہو اسی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ حدیث میں کوئی ایسی بات کہی گئی ہو جو حس و مشاہدے کے خلاف ہو اسی طرح حدیث اگر قرآن مجید کی قطعی دلالت یا سنت متواترہ یا اجماع قطعی کے منافی ہو تو وہ بھی موضوع حدیث ہو گی اور اگر تضاد کو دور کرنا ممکن ہو تو پھر ایسا نہ ہوگا
      [ تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي 3/204 ]
       
       
      یہی بات امام احمد رضا خان فاضل بریلی رحمہ اللہ نے بھی فرمائی 
      [ فتویٰ رضویہ 5/460 ]
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
                        خــلاصــــہ کـــــلام
                        
      اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچانا ہر انسان پر واجب ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
      يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا قُـوٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا
      اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ سے بچاؤ ( سورۃ تحریم :- 6 )
       
       
      نبی ﷺ کا بھی فرمان عالیشان ہے
       
                  سنن ابی داؤد حدیث :- 495 
              
      حدثنا مؤمل بن هشام يعني اليشكري، حدثنا إسماعيل، عن سوار ابي حمزة، قال ابو داود: وهو سوار بن داود ابو حمزة المزني الصيرفي، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" مروا اولادكم بالصلاة وهم ابناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم ابناء عشر سنين، وفرقوا بينهم في المضاجع"
      عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو“
      [ صحیح ]
      لہذا اہل وعیال کو جہنم سے بچانے کے لئے اور شریعت کا پابند بنانے کے لیے بے اصل اور باطل روایات بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں نص قطعی اور احادیث صحیحہ موجود ہے 
       
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
      فقـــــط واللہ ورسولــــــہٗ اعلـــم بـالـصــواب
       
      خـادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمـد عـاقـب حسیـن رضـوی
       
      ✍🏻 پرانی تحریر ( مؤرخہ یکم محرم الحرام 1442ھ )
       
       



    • By Aquib Rizvi
      آگ أنبیاء علیہم السلام کے ہاتھ سے چھوئی ہوئی چیز کو نہیں جلاتی روایت کی تحقیق
       
       
      امام خطیب البغدادی م463ھ رحمہ اللہ نے فرمایا
      وأخبرنا الحسن، قال: حدثنا عبد الرحمن، قال: حدثنا أبو عمير الأنسي بمصر، قال: حدثنا دينار مولى أنس، قال: صنع أنس لأصحابه طعاما فلما طعموا، قال: يا جارية هاتي المنديل، " فجاءت بمنديل درن، فقال اسجري التنور واطرحيه فيه، ففعلت فابيض، فسألناه عنه، فقال: إن هذا كان للنبي صلى الله عليه وسلم وإن النار لا تحرق شيئا مسته أيدي الأنبياء "
      ( كتاب تاريخ بغداد ت بشار 11/589 )
      دینار مولی انس بیان کرتا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام کے لیے کھانے کا انتظام فرمایا جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنی لونڈی کو آواز دے کر فرمایا رومال لے آؤ . وہ جب رومال لائی تو وہ میلا تھا حضرت انس بن مالک نے فرمایا تندور کو ہلکا کر کے اس رومال کو تندور میں ڈال دو جب رومال تندور سے باہر نکالا گیا تو وہ سفید ہو گیا تھا صحابہ کرام نے پوچھا یہ کیسے تو حضرت انس بن مالک نے فرمایا یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا رومال ہے اور انبیاء علیہم السلام جس چیز کو چھو لیں آگ اسے نہیں جلاتی
       
      یہ روایت موضوع ہے
       
      أبو مكيس دينار بن عبد الله الحبشي متھم بالوضع راوی ہے اور اس پر خاص جرح یہ بھی ہے کہ اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے 100 کے قریب موضوع روایات بیان کیں لہذا اس کی حضرت انس بن مالک سے روایت موضوع قرار دی جائے گی
      امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
      وقال الحاكم: روى، عَن أَنس قريبا من مِئَة حديث موضوعة
      اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تقریباً 100 موضوع روایات بیان کیں ہیں
      امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی امام حاکم کی موافقت کی چنانچہ فرماتے ہیں
      قال ابن حبان: يروي، عَن أَنس أشياء موضوعة
      یہ انس بن مالک سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( لسان الميزان :- 3077 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اندازاً فرمایا کہ
      أن يروي عنه عشرين ألفا كلها كذب
      اس نے تقریباً بیس ہزار روایتیں بیان کیں جو سب کی سب جھوٹ ہیں
      ( ميزان الاعتدال 2/31 )
       
      نیز سند میں " أبو عمير الأنسي " بھی مجہول ہے
       
      امام احمد بن علی المقریزی م845ھ رحمہ اللہ نے حافظ ابونعیم اصفہانی رحمہ اللہ کے طریق سے اس کو اپنی کتاب میں نقل کیا
      فخرج أبو نعيم من حديث محمد بن رميح، قال: حدثنا عبد الله بن محمد بن المغيرة، حدثنا أبو معمر عباد بن عبد الصمد، قال: أتينا أنس بن مالك نسلم عليه، فقال: يا جارية، هلمي المائدة نتغدى، فأتته بها فتغدينا، ثم قال: يا جارية هلمي المنديل، فأتته بمنديل وسخ، فقال: يا جارية أسجرى التنور، فأوقدته، فأمر بالمنديل، فطرح فيه، فخرج أبيض كأنه اللبن. فقلت: يا أبا حمزة! ما هذا؟ قال: هذا منديل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح به وجهه، وإذا اتسخ صنعنا به هكذا، لأن النار لا تأكل شيئا مر على وجوه الأنبياء- عليهم السلام
      عباد بن عبدالصمد کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ دسترخوان لے آؤ ہم دوپہر کا کھانا کھائیں گے چنانچہ وہ اسے لے کر آئی اور ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا پھر آپ نے فرمایا اے لونڈی رومال لے آؤ تو پھر وہ ایک گندا رومال لے کر آئی پھر آپ نے لونڈی سے کہا کہ تندور کو روشن کرو اسے روشن کیا گیا اور وہ رومال تندور میں ڈالنے کا حکم دیا وہ جیسے ہی تندور میں ڈالا گیا دودھ کی طرح سفید ہو گیا . میں نے کہا: اے ابو حمزہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ رومال ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ انور پونچھتے تھے ، اور جب یہ میلا ہو جاتا تو ہم ایسا ہی کرتے کیونکہ آگ اس شے پر اثر نہیں کرتی جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کے چہرہ مبارک پر سے گذری ہو
      ( كتاب إمتاع الأسماع 11/254 )
       
       
      یہ بھی موضوع ہے
       
      1 : محمد بن رميح العامري مجہول ہے
       
      2 : عبد الله بن محمد بن المغيرة متھم بالوضع راوی ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے
       
      امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ سفیان ثوری اور مالک بن مغول سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة 1/75 )
       
      امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ایسی روایتیں بیان کرتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی امام ابن یونس نے اس کو منکر الحدیث قرار دیا
      ( كتاب الزهر النضر في حال الخضر ص76 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو متروک قرار دیا اور اس کی مرویات کو نقل کرکے انہیں موضوع قرار دیا
      ( كتاب تاريخ الإسلام - ت تدمري 14/219 )
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/487 )
       
      3 : أبو معمر عباد بن عبد الصمد بھی متھم بالوضع راوی ہے
       
      امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ یہ سخت ضعیف راوی ہے امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ غالی شیعہ ہے
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو " واہ " قرار دیا اور یہ جرح متروک درجے کے راویان پر کی جاتی ہے
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/369 )
      ( فتح المغيث للسخاوي 2/128 )
       
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے نقل کیا کہ عباد بن عبدالصمد نے سیدنا انس بن مالک سے ایک پورا نسخہ روایت کیا جو کہ اکثر موضوع من گھڑت روایات پر مشتمل ہے
      ( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 4/393 )
       
      اس مکمل تحقیق کے بعد خلاصہ کلام یہ ہوا کہ یہ اثر اپنی دونوں اسناد کے ساتھ موضوع من گھڑت ہے اس کو بیان کرنا جائز نہیں
      اسی طرح ایک من گھڑت قصہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا نے روٹیاں لگائیں اور نبی علیہ السلام نے بھی ایک روٹی لگائی باقی روٹیاں پک گئیں لیکن نبی علیہ السلام نے جو روٹی لگائی وہ نہیں پکی وغیرہ وغیرہ اس قصہ کا وجود بھی کسی حدیث٬ تاریخ٬ سیرت کی معتبر کتاب میں نہیں اللہ جانے صاحب خطبات فقیر نے اس ہوا ہوائی قصہ کو کہاں سے نکل کر لیا اپنی خطبات فقیر جلد دوم صفحہ 92/93 پر
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 15 ذو الحجہ 1443ھ
       
       
    • By Aquib Rizvi
      عالم یا طالب علم کے کسی بستی سے گزرنے پر اللہ تعالیٰ اس بستی کے قبرستان سے چالیس دن تک کے لئے عذاب اٹھا لیتا ہے کی تحقیق
       
      یہ من گھڑت حدیث اکثر علماء اور طلباء کی فضیلت میں بیان کی جاتی ہے اس کے بارے میں آئمہ محدثین کا کلام درج ذیل ہے
       
      ❶ امام الفقہاء والمحدثین حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اس روایت کو بے اصل قرار دیا :
       
      حديث إن العالم والمتعلم إذا مرا على قرية فإن الله تعالى يرفع العذاب عن مقبرة تلك القرية أربعين يوما لا أصل له
      حدیث کہ جب عالم یا طالب علم کسی بستی گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بستی کے قبرستان پر سے چالیس دن تک کے لئے عذاب دور فرما دیتا ہے ( امام سیوطی فرماتے ہیں ) اس روایت کی کوئی اصل نہیں .
      ( تخريج أحاديث شرح العقائد للسعد التفتازاني :- 64 )
       
      ❷ سلطان المحدثین ملا علی قاری الحنفی رحمہ اللہ نے بھی اس بات کا اقرار کیا کہ اس روایت کی کوئی اصل نہیں .
      حديث إن العالم والمتعلم إذا مرا على قرية فإن الله تعالى يرفع العذاب عن مقبرة تلك القرية أربعين يوما قال الحافظ الجلال لا أصل له
      ( كتاب المصنوع في معرفة الحديث الموضوع :- 57 )
      ( كتاب الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة :- 80 )
      ( فرائد القلائد على أحاديث شرح العقائد ص64 )
       
      ❸ اس بات کا اقرار علامہ عجلونی اور مرعی کرمی اور محمد بن خليل الحنفي رحمہمُ اللہ نے بھی کیا کہ اس روایت کی کوئی اصل نہیں .
      ( كتاب كشف الخفاء ت هنداوي 1/251 )
      ( كتاب الفوائد الموضوعة في الأحاديث الموضوعة ص131 )
      ( كتاب اللؤلؤ المرصوع ص53 )
       
      ❹ امام ابن حجر المکی الہیتمی الشافعی رحمہ اللہ سے اس روایت کے بارے میں سوال کیا گیا :
      (وسئل) ذكر التفتازاني في شرح العقائد
      عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «إن العالم والمتعلم إذا مرا على قرية فإن الله يدفع العذاب عن مقبرة تلك القرية أربعين يوما» هل لهذا الحديث أصل وهل رواه أحد من أصحاب السنن أو لا؟
      اور سوال پوچھا گیا کہ علامہ سعد الدین تفتازانی نے شرح العقائد میں ذکر کیا
       کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب عالم یا طالب علم کسی بستی گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بستی کے قبرستان پر سے چالیس دن تک کے لئے عذاب ٹال دیتا ہے 
      کیا اس حدیث کی کوئی اصل موجود ہے ؟؟ اور کیا اصحاب کتب سنن میں سے کسی نے اسے روایت کیا ہے یا نہیں ؟؟
      (فأجاب) بقوله لم أر لهذا الحديث وجودا في كتب الحديث الجامعة المبسوطة ولا في غيرها ثم رأيت الكمال بن أبي شريف صاحب الإسعاد قال إن الحديث لا أصل له وهو موافق لما ذكرته.
      تو امام ابن حجر المکی رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ میں نے یہ حدیث کتب احادیث جامع المبسوطہ میں نہیں دیکھی اور نہ ہی کسی دوسری کی کتاب میں . پھر میں نے کمال الدین بن ابی شریف صاحب " الإسعاد بشرح الإرشاد " کو دیکھا تو انہوں نے فرمایا اس روایت کی کوئی اصل نہیں ( امام ہیتمی فرماتے ہیں ) یہ اس بات کے موافق ہے جو میں نے ذکر کی .
       
      اصول حدیث کا بڑا مشہور قاعدہ ہے کہ ہر وہ روایت جس کے بارے میں محدثین کرام فرمائے ( لا أصل له ) ( لم أقف عليه ) ( لم أجده ) ( لا أعرفه ) اور کوئی دوسرا ناقد حدیث ان محدثین کا تعاقب نہ کرے تو اس روایت کی نفی کی جائے گی وہ روایت موضوع اور بے اصل قرار دی جائے گی ملاحظہ ہو
       
      امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ اپنی اصول حدیث کی کتاب التدریب الراوی میں نقل کرتے ہیں
      إذ قال الحافظ المطلع الناقد في حديث: لا أعرفه، اعتمد ذلك في نفيه، كما ذكر شيخ الإسلام
      جب حافظ باخبر ناقد کسی حدیث کے بارے میں کہے ( لا أعرفه ٬ لا أصل له ٬ لم اقف عليه) وغیرہ وغیرہ تو اس کی نفی پر اعتماد کیا جائے گا جیسا کہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے ذکر کیا
      پھر خود آگے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
      وأما بعد التدوين والرجوع إلى الكتب المصنفة، فيبعد عدم الإطلاع من الحافظ الجهبذ على ما يورده غيره، فالظاهر عدمه.
      مگر تدوین حدیث کے بعد اور کتب مصنفہ کی مراجعت کے بعد کسی ناقد حافظ کا کسی ذکر کردہ روایت پر مطلع نہ ہونا بعید ہے پس ظاہر یہی ہے کہ اس روایت کا وجود نہیں ہے .
      ( كتاب تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي 1/349 )
       
      ہم اوپر محدثین کا کلام اس روایت کے تحت نقل کر آئے جنہوں نے اس روایت پر یہی کلام کیا ہے . ( لا أصل له )
      اور کسی دوسرے محدث نے کسی محدث کے کلام پر تعاقب نہیں کیا لہذا اس اصول کی روشنی میں یہ روایت بے اصل و باطل ہے اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا حرام ہے
       
      امام اسماعیل بن محمد العجلونی نے اس روایت کے ضمن میں اس مفہوم کی ایک ملتی جلتی روایت کا ذکر کیا جس کو امام ثعلبی نے اپنی تفسیر میں باسند نقل کیا سوچا کہ اس کی بھی تحقیق آپ حضرات کے پیش نظر کی جائے
       
      امام احمد بن ابراہیم الثعلبی م427ھ رحمہ اللہ نے فرمایا
      وأخبرنا أبو الحسن محمد بن القاسم بن أحمد قال: أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن أيوب قال: نا أبو عبد الله محمد بن صاحب قال: نا المأمون بن أحمد قال: نا أحمد بن عبد الله قال: نا أبو معاوية الضرير، عن أبي مالك الأشجعي، عن ربعي ابن حراش، عن حذيفة بن اليمان - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "إن القوم ليبعث الله عز وجل عليهم العذاب حتما مقضيا، فيقرأ صبي من صبيانهم في الكتاب: {الحمد لله رب العالمين}، فيسمعه الله عز وجل ويرفع عنهم بذلك العذاب أربعين سنة"
      حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا خدائے بزرگ و برتر نے جن لوگوں کو پیدا فرمایا ہے ان پر عذاب یقیناً مقرر ہوگا . لیکن جب ان لوگوں کے بچوں میں سے ایک بچہ کلام پاک میں پڑھتا ہے {الحمد لله رب العالمين} اللہ عزوجل اسے سماعت فرماتا ہے اور پھر اس قوم کو چالیس سال تک کے لیے عذاب سے نجات عطا فرماتا ہے
      ( كتاب تفسير الثعلبي 2/267 :- 143 )
      حالانکہ اس روایت کا اس روایت سے دور دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں اس روایت میں عالم اور طالب علم کی فضیلت مذکور تھی جبکہ یہاں قرآن پاک پڑھنے کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے اور امام ثعلبی اس روایت کو لائے بھی سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں ہیں لیکن بہرحال پھر بھی ہم اس کی تحقیق پیش کرتے ہیں کہ یہ روایت بھی موضوع منگھڑت ہے .
       
      جلیل القدر آئمہ محدثین کا کلام اس روایت کے تحت
       
      ❶ امام الفقہاء والمحدثین امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اس کو من گھڑت قرار دیا چنانچہ فرماتے ہیں :
      أخرجه الثعلبي في " تفسيره "، وهو موضوع قال الشيخ ولي الدين العراقي: في سنده أحمد بن عبد الله الجويباري ومأمون بن أحمد الهروي، كذابان، وهو من وضع أحدهما
      اس روایت کو امام ثعلبی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا اور یہ موضوع ہے امام شیخ ولی الدین عراقی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی سند میں احمد بن عبداللہ الجویباری اور مامون بن احمد الھروی ہیں اور یہ دونوں کذاب ہیں اور اس روایت کو ان دونوں میں سے کسی ایک نے گڑھا ہے
      ( كتاب نواهد الأبكار وشوارد الأفكار 1/253 )
       
      ❷ علامہ عبدالرؤف مناوی رحمہ اللہ نے بھی اس کو موضوع قرار دیا
      أخرجه الثعلبي في تفسيره وهو موضوع
      ( كتاب الفتح السماوي 1/119 )
       
      جیسا کہ امام ولی الدین عراقی نے اس روایت کے موضوع من گھڑت ہونے کی وجہ بتا دی کہ اس کی سند میں دو کذاب احادیث گھڑنے والے راوی ہیں
       
      ➀ أحمد بن عبد الله الجويباري 
      یہ وہ لعنتی شخص ہے جس نے نبی ﷺ پر ایک ہزار سے زائد احادیث کو گڑھا ہے .
       
      ◉ امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے کہا جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ گھڑنے میں اس کی مثال دی جاتی ہے
      [ ميزان الاعتدال 1/107 ]
      ◉ امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ امام بیہقی رحمہما اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس نے نبی ﷺ پر ایک ہزار سے زیادہ احادیث گڑھی ہیں
      [ لسان الميزان 1/194 ] 
      ◉ امام ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ گڑھتا ہے اس کی روایت ترک کردی جائیں اور یہ ان میں سے ایک ہے جو روایات گڑھتے ہیں
      [ المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم الأصفهاني 1/60 ]
      ◉ امام دارقطنی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں یہ جھوٹا ہے دجال ہے خبیث ہے یہ حدیث گڑھنے والا ہے اس کی روایت نہ لکھی جائے اور نہ انہیں بیان کیا جائے
      [ موسوعة أقوال الدارقطني ص69 ]
      ◉ امام ابن حجر عسقلانی صاحب مستدرک امام حاکم رحمہما اللہ تعالیٰ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا یہ خبیث اور کذاب ہے اس نے کثیر روایات کو فضائل اعمال میں گڑھا ہے
      [ لسان المیزان 1/194 ]
      ◉ امام ابو حاتم بن حبان رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں یہ دجال ہے اس کا ذکر کتابوں میں نہ کیا جائے
      [ المجروحين لابن حبان 1/154 ]
      ◉ خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ان مشہور راویوں میں سے ایک ہے جو احادیث گھڑتے ہیں 
      [ الزيادات على الموضوعات 1/124 ]
      ◉ امام نسائی اور ابو الحسن بن سفیان اور امام ابن عدی رحمہمُ اللہ تعالی علیہم اجمعین نے اسے جھوٹا اور روایات گھڑنے والا کہا
      [ لسان الميزان 1/193 ]
      [ ميزان الاعتدال 1/106 ]
       
      ➁ مأمون بن أحمد الهروي
      یہ شخص بھی دجال احادیث گھڑنے والا ہے .
       
      ◉ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کے حوالے سے فرمایا کہ یہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے اور یہ ایسے لوگوں سے روایت کرتا ہے جنہیں اس نے دیکھا تک نہیں اور یہ ثقہ راویوں پر احادیث گھڑتا ہے .
      ( كتاب المجروحين لابن حبان ت حمدي 2/383 )
      ◉ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نہ ہی اس کا کوئی دین ہے اور نہ ہی اس میں کوئی خیر والی بات ہے بلکہ یہ احادیث گھڑنے والا ہے
      ( كتاب الموضوعات لابن الجوزي 2/48 )
      ◉ حجۃ اللہ فی الارضین شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فرمایا یہ کذاب راویوں میں سے ایک ہے
      ( كتاب الدراية في تخريج أحاديث الهداية 1/152 )
      ◉ امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ نے فرمایا یہ کذاب خبیث احادیث گھڑنے والا راوی ہے
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة 1/98 )
      ◉ امام ابن حجر عسقلانی نقل کرتے ہیں کہ امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے اس کی مرویات کو نقل کرکے فرمایا کہ جسے اللہ تعالی نے زرہ برابر بھی علم سے نوازا ہے وہ اس کی مرویات کو دیکھ کر یہ گواہی دے گا کہ یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام پر جھوٹ اور افتراء ہیں
      ( كتاب لسان الميزان 5/8 )
      ◉ اسی طرح امام ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا یہ کذاب خبیث احادیث گھڑنے والا راوی ہے اور یہ ثقہ راویوں سے جھوٹی روایات بیان کرتا ہے
      ( كتاب لسان الميزان 5/8 )
      ◉ امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو کذاب قرار دیا
      ( كتاب تنقيح التحقيق للذهبي 1/137 )
      ◉ امام ابو عبد اللہ الجوزقانی رحمہ اللہ نے اس کو کذاب خبیث احادیث گھڑنے والا قرار دیا
      ( كتاب الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير 1/445 )
      ◉ امام ابن قیسرانی رحمہ اللہ نے اس کو دجال احادیث گھڑنے والا قرار دیا
      ( كتاب معرفة التذكرة ص214 )
       
       
      اس تمام تفصیل سے معلوم ہوا کہ مذکورہ تفسیر ثعلبی کی روایت بھی بلاشک و شبہ موضوع منگھڑت ہے اس کی نسبت بھی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف کرنا حرام ہے
       
       
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی اس روایت کا ایک شاہد کا ذکر کرتے ہیں " الكاف الشاف في تخريج أحاديث الكشاف ص3 " پر جو کہ مسند الدارمی میں ضعیف سند سے منقول ہے .
       
      حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا رِفْدَةُ الْغَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: " كَانَ يُقَالُ: إِنَّ اللَّهَ لَيُرِيدُ الْعَذَابَ بِأَهْلِ الْأَرْضِ، فَإِذَا سَمِعَ تَعْلِيمَ الصِّبْيَانِ الْحِكْمَةَ، صَرَفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ " قَالَ مَرْوَانُ: يَعْنِي بِالْحِكْمَةِ: الْقُرْآنَ
       
      ( كتاب مسند الدارمي - ت حسين أسد :- 3388 إسناده ضعيف لضعف رفدة بن قضاعة وهو موقوف على ثابث )
       
      ( كتاب مسند الشاميين للطبراني 3/293 :- ھو ضعيف أيضاً كما ذكر السابق )
       
      ثابت بن عجلان انصاری نے کہا: یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ زمین کو عذاب کا ارادہ کرتا ہے لیکن جب بچوں کو حکمت کی تعلیم لیتے سنتا ہے تو ارادہ بدل دیتا ہے۔ مروان نے کہا: حکمت سے مراد قرآن کی تعلیم ہے۔
       
       
      یہ ایک ضعیف قول ہے اور حضرت ثابت بن عجلان کا قول ہے اور اگر یہ ثابت بن عجلان ( ثابت بن عجلان حمصي أبو عبد الله الْأنصاري السلمي ) ہیں تو بقول ابو نصر احمد بن محمد کلاباذی یہ تابعی ہیں اور روایت حدیث مقطوع ہے اس کو بطور فضیلت بیان کیا جا سکتا ہے ۔ 
       
      ( الهداية المعروف برجال صحيح البخاري ص131 )
       
      لیکن گزشتہ دو روایتوں کو نبی علیہ السلام کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا حرام ہے کیونکہ وہ دونوں موضوع من گھڑت ہیں جیسا کہ ہم ثابت کر آئے .
       
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 14 ذو الحجہ 1443ھ 
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
       
×
×
  • Create New...