Jump to content
اسلامی محفل

Raza Asqalani

Members
  • Content Count

    356
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    51

Everything posted by Raza Asqalani

  1. لازمی نہیں ہے وارثت تقسیم وفات کے بعد ہو بلکہ والد خود بھی اپنی اولاد میں اپنی حیات میں وارثت تقسیم کر سکتا ہے۔ واللہ اعلم
  2. یہاں قسطوں پر کاروبار کرنا نہیں ہے بلکہ قسطوں پرکار لینے کی بات ہے اور عام شو رومز پر قسطوں پر جو ایڈوانس رقم دیتے ہیں وہ اصل کار کی قیمت شمار نہیں کی جاتی بلکہ ایڈوانس کے بعد ہی اس کی رقم شمار کی جاتی ہے اس لیے یہ تو بالکل سود کی صورت ہے کیونکہ اصل قیمت سے زیادہ دے رہے ہیں ۔ باقی دوسری صورت بنک ہیں جو قسطوں پر کار دیتے ہیں اس میں اوپر والی صورت موجود ہوتی اور بنک کے سب کام تقریبا قسطوں والے سود کے ہیں۔ واللہ اعلم
  3. ارے جناب اس روایت میں قاتل کے نام کی تصریح کہاں ہے؟؟ اس میں کہاں ہے حضرت ابوالغادیہ نے ہی شہید کیا ہے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو؟؟ جب تک قاتل کے نام کی تصریح نہیں دیکھائیں گے اس وقت تک اس روایت کو پیش کرنے کا فائدہ نہیں۔ اس کے علاوہ ہم آپ کو اس کا ایک الزامی جواب یہ دے رہے ہیں جیسے آپ بشار عواد کو مانتے ہیں تو زبیر علی زئی کو بھی مانتے ہو ں گے۔ زئی صاحب اس روایت کی سند کے بارے میں کہتے ہیں۔ المعتمر بن سليمان التيمي عن أبيه عن مجاهد عن عبدالله بن عمرو رضى الله عنه … إلخ [المستدرك للحاكم 387/3 ح 5661 وقال الذهبي فى التلخيص : عليٰ شرط البخاري و مسلم ]یہ سند سلیمان بن طرخان التیمی کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے۔ سلیمان التیمی مدلس تھے، دیکھئے جامع التحصیل [ ص106] کتاب المدلسین لا بی زرعۃ ابن العراقی [ 24] اسماء من عرف بالتدلیس للسیوطی [ 20] التبیین لأسماء المدلسین للحلبی [ ص29] قصیدۃ المقدسی و طبقات المدلسین للعسقلانی [ 2/52] امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا :كان سليمان التيمي يدلس ” سلیمان التیمی یدلیس کرتے تھے۔“ [ تاريخ ابن معين، رواية الدوري : 3600 ]امام ابن معین کی اس تصریح کے بعد سلیمان التیمی کو طبقۂ ثانیہ یا اولیٰ میں ذکر کرنا غلط ہے بلکہ حق یہ ہے کہ طبقۂ ثالثہ کے مدلس ہیں لہٰذا اس روایت کو ”صحیح علیٰ شرط الشیخین“ نہیں کہا جا سکتا۔انتھی یہ میرا الزامی جواب تھا بشار عواد کے حوالے کے لئے باقی میرے نزدیک بشار عواد اور زئی ایک ہی کھاتے میں ہیں میرے لیے دونوں حجت نہیں۔ باقی امام ذہبی نے اپنے میزان الاعتدال کے قول سے رجوع کر لیا تھا سیر اعلام النبلاء میں اور امام دراقطنی کا قول جس روایت کی بنیاد پر امام ذہبی نے تاریخ الاسلام میں درج کیا تھا لیکن آخری کتاب سیر اعلام النبلاء میں اس روایت کو رد کر کے پھر امام دارقطنی کا قول بھی درج نہیں کیا جس سے واضح ہو گیا کہ اس قول کی بنیاد ضعیف روایت پر تھی۔۔ واللہ اعلم خلاصہ تحقیق : ابھی تک ایک بھی صحیح سند سے کوئی روایت نہیں پیش کر سکے جس میں ہو کہ حضرت ابوالغادیہ نے ہی حضرت عمار کو شہید کیا ہے۔!! اور جو روایت پیش کی اس میں نام کی کہیں بھی تصریح نہیں کہ قاتل کون ہے؟؟ اس لیے حضرت ابوالغادیہ کو جس نے بھی اگر قاتل لکھا ہے وہ سب ضعیف روایت سے تسامح ہونے کی وجہ سے لکھا ہے ورنہ تحقیقا اس کی کوئی بھی صحیح موجود نہیں جس میں ہو کہ حضرت ابوالغادیہ ہی قاتل ہیں؟؟؟ اس لیے قرآن کی آیت بیعت رضوان والی حق ہے کہ بیعت رضوان کا ہر صحابی سے اللہ راضی ہے بلکہ ہر ایمان پر فوت ہونے والے صحابی سے اللہ راضی ہے اور وہ سب جنتی ہیں الحمدللہ یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ اللہ عزوجل ہم سب کو صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کے صدقے بخش دے۔ آمین واللہ اعلم
  4. جناب جھوٹ تو نہ بولیں امام ذہبی نے کہاں اس روایت کو صحیح کہا ہے؟؟ باقی اس روایت میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے اس کا نام کتب رجال میں ہے لیکن اس کی توثیق ثابت نہیں لہذا یہ پوسٹر آپ کے کسی کام نہیں ہے۔ جناب ہم تحقیقا جواب دیتے ہیں پوسٹرز نہیں لگاتے جب کہ جناب کے پوسٹر میں ہی جناب کا رد موجود ہوتا ہے تو نشان دہی کرنا ہمارا حق بنتا ہے تاکہ عوام کے سامنے حقیقت واضح ہو جائے اس لئے ہم جناب کے پوسڑز کو کراس کر دیتے ہیں۔ لیں اپنے اس پوسٹر کی حقیقت بھی دیکھ لیں پھر ہم سے شکوہ نہ کریں۔ امید ہے آئندہ تحقیق کے ساتھ پوسٹر چپکائیں گے۔
  5. ارے جناب اگر قول ہے تو اس کی دلیل پیش کریں؟؟ اگر دلیل ضعیف روایت پر ہے جس کو امام ذہبی منقطع کہہ چکے ہیں تو وہ خود بخود ضعیف ہے مزے کی بات یہ ہے امام ذہبی نے ضعیف روایت کی بنا پر امام دارقطنی کا قول نقل کیا تاریخ الاسلام میں لیکن آخری کتاب سیر اعلام النبلاء میں راویت کا رد کر دیا ساتھ امام دارقطنی کے قول کو بھی درج نہیں کیا اس لیے امام ذہبی کے سامنے حقیقت کھل چکی تھی اس بات کی۔ ضعیف قول اس لیے ہے کہ قاتل ہونے کی کوئی صحیح روایت موجود نہیں اگر موجود ہے جس میں قاتل کے نام کی تصریح ہو تو پیش کریں ہم انتظار میں ہیں جناب کے!!
  6. جس روایت کی بنیاد پر امام ذہبی نے امام دارقطنی نے قول کا نقل کیا لیکن اسی روایت کو اپنی آخری کتاب میں انقطاع کر کے رد کر دیا ساتھ امام دارقطنی کے قول کو بھی درج نہیں کیا اس سے واضح ہو گیا کہ امام دارقطنی کا قول اس ضعیف روایت پر بنا ہوا تھا جس کو امام ذہبی نے اپنی آخری کتاب سیر اعلام النبلاء میں رد کر دیا ہے۔ اس لیے مزید بحث کی گنجائش بچی ہی نہیں جب آخری موقف آ گیا ہے امام ذہبی کا۔
  7. اس کا تحقیقا اوپر جواب دے چکا ہوں اس پر بشار عواد نے حسن کا حکم غلط لگایا ہے اس لئے اس کے حکم کو باطل کہا ہے کیونکہ ایک تو اس میں اضافہ منکر ہے اور دوسرا امام ذہبی نے اس پر انقطاع کا حکم لگایا ہے اس لیے میں نے یہ کام میں درست کیا ہے کیونکہ جناب ایسے پوسڑ سے عام عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ بہتر تو یہی تھا کہ اسے دوبارا پوسٹ نہ کرتے اس لیے جوابا ہم اپنا پوسٹر پوسٹ کر دیتے تاکہ جناب کے پوسٹر کا پول کھلے۔
  8. ارے جناب میں نے آپ کے پوسڑ کو اس لئے کراس کیا کیوں وہ بات غلط پوسٹ کی ہوئی تھی اس لیے ہم نے اسے کاٹ کر حقیقت بھی واضح کر دی اس لئے تاکہ عام عوام کو حقیقت پتہ سکے۔ پہلے بات یہ ہے جناب اس پر لگے ہیں کہ حضرت ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ قاتل ہیں لیکن قاتل ہونے کی ایک روایت صحیح سند سے ثابت نہیں کر پائے۔ جس لشکر کا نبی علیہ السلام نے ایسا کہا تو اسی لشکر کی صلح کے لئے بھی آپ علیہ السلام کی حدیث ہے اور اس کے علاوہ قرآن کی آیت سے واضح ثابت ہے بیعت رضوان کے صحابہ سے اللہ راضی ہے اس لئے اب قرآن کی آیت آنے پر بات ختم ہو جاتی ہے مزید بحث کرنے میں اور حضرت ابوالغادیہ بیعت رضوان کے صحابی ہیں۔ قرآن کی آیت دیکھیں جناب: لَّقَدۡ رَضِیَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ إِذۡ یُبَایِعُونَکَ تَحۡتَ ٱلشَّجَرَهِ فَعَلِمَ مَا فِی قُلُوبِهِمۡ فَأَنزَلَ ٱلسَّکِینَهَ عَلَیۡهِمۡ وَأَثَٰبَهُمۡ فَتۡحٗا قَرِیبٗا (سورہ فتح آیت 18) اب ترجمہ خود کر لینا ورنہ کہو گے میں فلاں ترجمہ نہیں مانتا۔۔
  9. ہم بشار عواد کے مقلد تھوڑی ہیں جو ایسے ہی اس کی ہر بات مان لیں گے ہم نے تحقیقا اس روایت کے اضافے کو منکر ثابت کیا ہے اور ساتھ امام ذہبی کا حوالہ دیا ہے کہ یہ روایت منقطع ہے۔ پھر بشار عواد کا حسن کہنا تو باطل بنتا ہی ہے ۔ باقی بشاد عواد عقیدتا سلفی ہے جو آج کے غیر مقلد ہیں تو پھر ہم اسے کیوں تسلیم کریں ایسے بندے ہمارے لئے کب سے حجت بن گے ہیں؟ اس لئے ایسے بندے آپ کے لیے حجت ہوں گے ہمارے لیے نہیں۔
  10. میں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کی جناب آپ کے پوسڑ کی حقیقت بتائی ہے اس لئے کہا ہے پوسٹر نہ چپکاؤ تحریر کر کے پوسٹ کرو اگر پوسٹر لگاؤ گے تو ہم بھی تمہارے پوسٹرز کا یہی حال کریں گے۔ جناب لگتا ہے بھول گے کہ امام ذہبی نے اپنی آخری کتاب سیر اعلام النبلاء میں اس پر انقطاع کا حکم لگایا ہے اس کا اوپر حوالہ دے چکا ہوں اس لئے اب میزان الاعتدال کی بات نہیں چلے گی بلکہ آخری موقف چلے گا امام ذہبی کا۔ باقی بشاد عواد محقق ہیں تو میں کیا کروں جب اس نے غلط حکم لگایا ہے تو رد کرنا تو ہمارا حق بنتا ہے نا اس میں کون سی بری بات ہے جناب؟
  11. ارے جناب میں نے کون سے دعوی کیے ہیں میرا کوئی ایسادعویٰ تو دیکھائیں ذرا؟؟ میں نے کون سے حسن و صحیح درجہ کی روایت کا انکار کیا ہے ذرا وہ پیش کرنا؟؟ لیکن جس آپ حسن سمجھ رہے ہیں وہ حسن نہیں ہے کیونکہ خود امام ذہبی نے آخری کتاب سیر اعلام النبلاء میں اس کا رد کیا ہوا ہے اس لئے کاٹا لگانا تو بنتا تھا تاکہ عام لوگ اس سے گمراہ نہ ہو۔ یہ ذہنی کرب و اور تکلیف کے لئے نہیں کیا بس آپ کے پوسڑ کی حقیقت بتائی تھی تاکہ عام عوام حقیقت جانے جناب کے پوسڑ کی۔
  12. قسطوں پر کار لینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں سود شامل ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم
  13. یہاں کان کا لفظ ہے سمعت کا نہیں امام عقیلی نے اسے دو بندوں سے روایت کیا ہے اس لیے کوئی فرق نہیں کوئی بھی راوی ہو اور یہاں سمعت کا صیغہ نہ بھی تو کوئی فرق نہیں کیونکہ اس میں کو مدلس راوی تو موجود نہیں ہے جو اعتراض ہو۔ اور اس سند میں دونوں راوی ثقہ ہیں امام عبداللہ بن احمد بن حنبل تو ثقہ ترین ہیں اور محمد بن ابراہیم بن جناد بھی ثقہ ہے لہذا اختلاف بھی ہو جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا سند پر باقی محمد بن ابراہیم بن جناد کی توثیق یہ ہے۔ تاریخ الاسلام ج 26 ص 427
  14. یار ہر شیخ کا نام ہونا ضروری نہیں ہوتا اس لئے جب شیوخ کثیر ہوں تو محدثین وغیرہم کہہ دیتے ہیں اس میں بھی امام عسقلانی نے وغیرہم کا لفظ لکھا ہوا ہے اس لیے اب نام نہ ہونے کا اعتراض ختم ہو جاتا ہے خود دیکھ لیں اپنی پوسٹ کردہ تحریر میں میں نشان دہی کر دیتا ہوں۔ "خ م مد س - منصور" بن سلمة بن عبد العزيز بن صالح أبو سلمة الخزاعي الحافظ البغدادي روى عن عبد الله بن عمر العمري ويعقوب بن عبد الله العمي وعبد الرحمن بن أبي الموال ومالك وسليمان بن بلال والوليد بن المغيرة المعافري وحماد بن سلمة وعبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة الماجشون وعبد الله بن جعفر المخرمي وخلاد بن سليمان وبكر بن مضر وغيرهم روى عنه أحمد بن حنبل ومحمد بن أحمد بن أبي خلف وحجاج بن الشاعر ومحمد بن إسحاق الصغاني ومحمد بن عبد الرحيم البزاز ومحمد بن عامر الأنطاكي أبو بكر بن أبي خيثمة وأبو أمية الطرسوسي وعباس بن محمد الدوري وغيرهم قال أبو بكر الأعين عن أحمد أبو سلمة الخزاعي من مثبتي أهل بغداد (تہذیب التہذیب) لہذا امام شعبہ کا نام وغیرہم میں شامل ہو جائے گا خود بخود۔
  15. پہلی بات یہ کہ روایت میں جو اضافہ ہے وہ منکر ہے کیونکہ امام احمد نے اس اضافہ کو روایت نہیں کیا مسند احمد کی روایت یہ ہے: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ، وَكُلْثُومُ بْنُ جَبْرٍ، عَنْ أَبِي غَادِيَةَ، قَالَ: قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ قَاتِلَهُ، وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ»، فَقِيلَ لِعَمْرٍو: فَإِنَّكَ هُوَ ذَا تُقَاتِلُهُ، قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: قَاتِلَهُ، وَسَالِبَه. (مسند احمد ج4 ص 198) اور اسی روایت کو امام ابن سعد نے روایت کیا ہے لیکن اس میں اضافہ ہو گیا ہے وہ اضافہ یہ ہے: حدثنا عفان قال حدثنا حماد بن سلمة قال أنبأنا أبو حفص وكلثوم بن جبر عن أبي غادية قال« سمعت عمار بن ياسر يقع في عثمان يشتمه بالمدينة قال: فتوعدته بالقتل قلت: لئن أمكنني الله منك لأفعلن.. فلما كان يوم صفين جعل عمار يحمل على الناس فقيل هذا عمار فرأيت فرجة بين الرئتين وبين الساقين، قال فحملتُ عليه فطعنته في ركبته قال سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم: يقول إن قاتله وسالبه في النار فقيل لعمرو بن العاص هو ذا أنت تقاتله فقال: إنما قال قاتله وسالبه». (الطبقات الکبریٰ لابن سعد ج 4 ص 198) لہذا جو سرخ الفاظوں سے الطبقات الکبری کے اضافے کی طرف نشان دہی کی ہے یہ منکر ہے کیونکہ یہ اوثق امام کی مخالفت ہے کیونکہ امام احمد بن حنبل امام ابن سعد سے بہت زیادہ اوثق اور فقیہ ہیں۔ اور امام ابن حجر نے امام احمد کے بارے میں تقریب التہذیب میں لکھا: أحد الأئمة ثقة حافظ فقيه حجة اور امام ابن سعد کے بارے میں لکھا: صدوق فاضل لہذا امام احمد کے اوثق ترین ہونے کی وجہ سے امام ابن سعد کا اضافہ منکر ہے۔ اس کے علاوہ امام ذہبی نے اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: إسناده فيه انقطاع (سیر اعلام النبلاء ج 2 ص 544) لہذا بشار عواد کا اسے حسن کہنا باطل ہے اور نہ ہی بشار عواد میرے نزدیک حجت ہے اس لئے ایسے حوالے ہمیں نہ دیا کریں۔ آپ کے کے پوسڑ میں جو نشان دہی کی ہے وہ یہ ہے اس لیے تو کہتا ہوں پوسڑ نہ لگایا کرو کیونکہ پوسٹر میں جناب کی علمی قابلیت سامنے آ جاتی ہے جب ہم اس پر تبصرہ کرتے ہیں۔ مجھے اور بات جناب پسند نہیں ایک بات پسند ہے وہ یہ کہ فوٹو شاپ کے ماہر لگاتے ہو اس لیے کہتا ہوں اپنی فوٹو شاپ کی دوکان لگاؤ یہ کام تمہارا نہیں ہے اور نہ تیرے بس کی بات ہے۔ اللہ تمہیں ہدایت دے اور ہمیں صراط مستقیم پر ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ آمین
  16. ارےجناب جو روایت پیش کی ہے اس میں ویسے قاتل کے نام کی تصریح نہیں ہے لیکن یہ بات امام ذہبی کی کتاب تاریخ الاسلام سے پیش کی ہے اس لیے ہم اس کا جواب بھی امام ذہبی کی آخری کتاب سے پیش کر دیتے ہیں۔ امام ذہبی نے اپنی آخری کتاب سیر اعلام النبلاء میں اس روایت پر تبصرہ کر کے اس کو رد کر دیا اس لیے اب تاریخ الاسلام اور میزان الاعتدال کی آخری کتب میں شمار نہیں ہے اس لیے امام ذہبی نے آخری کتاب میں اپنا آخری موقف بیان کیا ہے اس لیے اب آخری موقف آنے کے بعد پرانے موقف کو رجوع سمجھا جاتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے امام ذہبی نے تاریخ الاسلام میں امام دارقطنی کی وجہ سے ساتھ روایت بیان کی لیکن آخری کتاب سیر اعلام النبلاء میں نہ امام دارقطنی کے قول کی طرف توجہ کی بلکہ خود راویت کا بھی رد کر دیا اس کا مطلب ہے امام ذہبی کے نزدیک بھی امام دارقطنی کا قول بھی ضعیف ہے کیونکہ اس کی بنیاد ضعیف راویت پر تھا اس لئے امام ذہبی نے اس کو پھر نہیں لکھا اپنی آخری کتاب سیر اعلام النبلاء میں۔ اپنے پوسٹر کی حالت دیکھ لو میں نے کیا کر دیا ہے جناب کے پوسٹ کا حال امام ذہبی نے اپنی روایت کے تبصرہ کی روایت کو خود آخری کتاب میں رد کر دیا باقی جناب امام دارقطنی کا قول کی دلیل پیش کریں کہ کس روایت کی بنیاد پر قاتل کہا ہے؟ اگر یہی روایت ہے تو اس کا خود امام ذہبی نے رد کر دیا ہے تو امام دارقطنی کا قول خود امام ذہبی کے نزدیک ضعیف قرار دیا جائے گا۔ واللہ اعلم
  17. ارے بھائی امام ذہبی اپنے قول کو خود رد کر رہے ہیں اپنی آخری کتاب میں تو ہمیں ضرورت ہی نہیں پر رہی کہ ہم رد کریں باقی میزان الاعتدال کی سند بھی امام ذہبی کے نزدیک بھی متروک و کذب ہے باقی وہ انسان تھے کوئی معصوم نہ تھے کہ ان سے تسامح نہ ہو۔ اس لیے ان کو تسامح ہو جو متروک و کذب سند پر تبصرہ کر بیٹھے لیکن اپنی آخری کتاب سیر اعلام النبلاء میں اپنے اس تسامح کو دور کیا بلکہ اس روایت کا بھی رد کیا اس لیے ان کا آخری موقف یہی ہے یہ روایت ان کے نزدیک درست نہیں حوالہ کے یہ امام ذہبی کی آخری کتاب کی یہ عبارت موجود ہے۔ روى حماد بن سلمة، عن كلثوم بن جبر، عن أبي غادية، قال: سمعت عمارا يشتم عثمان، فتوعدته بالقتل، فرأيته يوم صفين يحمل على الناس، فطعنته فقتلته. وأخبر عمرو بن العاص، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " قاتل عمار وسالبه في النار " إسناده فيه انقطاع (سیر اعلام النبلاء) لہذا امام ذہبی کا آخری موقف سامنے آنے کے بعد اب میزان الاعتدال کی طرف جانے کی تک نہیں بنتی۔
  18. جناب محترم رضا عسقلانی صاحب کل میں نے بہت دفعہ باربار عرض کیا کہ آپ میری بات کو سمجنے کی کوشش کریں کہ امام ذہبی میزان کی روایت لکھنے کہ بعد یہ جملہ لکھ رہے کہ تعجب اور حیرانگی ہے کہ ابوالغادیہ یہ روایت خود بیان کرتا ہے کہ عمار کا قاتل جہنم جائے گا اور خود حضرت عمار کا قاتل ہے میرے بھائی اگر امام ذہبی اس روایت کو ضعیف سمجھتے تو جہنم جانے کی بات پر یہ بات ہرگز نہ دھراتے کہ قاتل بھی وہی خود ہے ۔ مگر آپ نے بالکل میری بات پر توجہ نہیں دی ۔ پھر سب سے اہم بات جو آپ باربار نظرانداز فرماتے رہے وہ یہ تھی کہ جرح و تعدیل میں محقق سب باتیں لکھتا ہے آپ نے تعدیل چھوڑ دی اور صرف امام ذہبی کا کسی دوسرے کا قول لکھنا پکڑ لیا کہ متروک قرار دے دیا ۔ میرے بھائی آپ نے میری بات سمجھی ہے یا نہیں امام ذہبی نے ایک متروک و کذاب راوی کی روایت پر اگر تعجب کیا ہے تو اس میں کون سی بات ہے لیکن جس راوی سے وہ روایت روایت اس پر تو جرح نقل کر دی ہے کیا کذاب و متروک راوی کی روایت پر کسی کو قاتل کہہ سکتے ہو کیا۔ لیکن امام ذہبی نے اپنی آخری کتاب سیر اعلام النبلاء میں نہ وہ جملہ لکھا بلکہ اس روایت کا بھی رد کر دیا انقطاع کا حکم لگا کر اب بتائیں امام ذہبی کا آخری موقف تو یہ ہے یہ روایت ان کے نزدیک درست نہیں۔ بعض اوقات ائمہ سے تسامح ہو جاتے ہیں جیسے امام ذہبی میں تلخیص المستدرک میں ہوئے کئی رواۃ کی احادیث کی تصحیح کر دی لیکن آخری کتاب سیر اعلام النبلاء میں ان روایت کو ضعیف قرار دیا۔ اس لئے امام ذہبی کا آخری موقف ہی راجح سمجھا جائے گا اور یہی اصول ہے۔
  19. آپ کی یہ بات تو درست ہے کہ ولید بن مسلم تدلیس تسویہ کرتا ہے لیکن آپ کی پیش کردہ سند میں اس نے سماع مسلسل کیا ہوا ہے اس لئے تدلیس تسویہ کا یہاں اعتراض کرنا درست نہیں۔ آپ نے جو سند لکھی ہوئی وہ یہ ہے: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻴﻢ، ﺣﺪﺛﻨﺎﺃﺑﻮ ﻣﻌﻤﺮ،ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﻮﻟﻴﺪ ﺑن مسلم ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﻷﻋﻴﻦ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ ﺃﺑﻮ ﺳﻠﻤﺔ اﻟﺨﺰاﻋﻲ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ , ﻭﺳﻤﻌﺖ ﺷﻌﺒﺔ۔۔۔۔الخ میں نے نشان دہی کر دی سرخ کلر سے کہ ولید بن مسلم کا اس سند میں سماع مسلسل ہے لہذا تدلیس تسویہ کا اعتراض باطل ہے۔ باقی آپ نے خود اس راوی کو صدوق مانا ہے تو پھر اس پر جروحات نقل کرنا عجیب تر ہے!!! باقی اس راوی کی توثیق راجح ہے۔ امام عسقلانی نے اس کی توثیق پر اتفاق نقل کر دیا ہے مزید اقوال میں پیش نہیں کر ر ہا ہوں ورنہ بہت اقوال ہیں اس کی اعلی ترین توثیق پر۔ امام عسقلانی ہدی الساری میں اس راوی کے بارے میں لکھتے ہیں: مشهور متفق على توثيقه في نفسه وإنما عابوا عليه كثرة التدليس والتسوية (ہدی الساری مقدمۃ فتح الباری ص 1208) لہذا تحقیقا دونوں اعتراض درست نہیں ۔ واللہ اعلم
  20. اس مناظرہ کی سند میں محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم منفرد نہیں بلکہ اسے تو یونس بن عبدالاعلی جو ثقہ ترین راوی ہیں اس نے بھی روایت کیا ہے جس کی سند یہ ہے: أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبِي، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: " قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ يَوْمًا، وَذَكَرَ مَالِكًا وَأَبَا حَنِيفَةَ، فَقَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِصَاحِبِنَا أَنْ يَسْكُتَ يَعْنِي أَبَا حَنِيفَةَ، وَلا لِصَاحِبِكُمْ أَنْ يُفْتِيَ يُرِيدُ مَالِكًا، قُلْتُ: نَشَدْتُكَ اللَّهَ، أَتَعْلَمُ أَنَّ صَاحِبَنَا يَعْنِي مَالِكًا كَانَ عَالِمًا بِكِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ ".قُلْتُ: فَنَشَدْتُكَ اللَّهَ، أَتَعْلَمُ أَنَّ صَاحِبَنَا كَانَ عَالِمًا بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ.قُلْتُ: وَكَانَ عَالِمًا بِاخْتِلافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: أَكَانَ عَاقِلا؟ قَالَ: لا.قُلْتُ: فَنَشَدْتُكَ اللَّهَ، أَتَعْلَمُ أَنَّ صَاحِبَكَ يَعْنِي أَبَا حَنِيفَةَ، كَانَ جَاهِلا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: نَعَمْ.قُلْتُ: وَكَانَ جَاهِلا بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاهِلا بِاخْتِلافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ، قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: أَكَانَ عَاقِلا؟ ، قَالَ: نَعَمْ.قُلْتُ: فَتَجْتَمِعُ فِي صَاحِبِنَا ثَلاثٌ لا تَصْلُحُ الْفُتْيَا إِلا بِهَا، وَيُخِلُّ وَاحِدَةً، وَيُخْطِئُ صَاحِبُكَ ثَلاثًا، وَيَكُونُ فِيهِ وَاحِدَةٌ، فَتَقُولَ: لا يَنْبَغِي لِصَاحِبِكُمْ أَنْ يَتَكَلَّمَ، وَلا لِصَاحِبِنَا أَنْ يَسْكُتَ؟ ! (آداب الشافعی ومناقبہ لابن ابی حاتم ج 1 ص154-155) اور یونس بن عبدالاعلی کی توثیق مندرجہ ذیل ہے: يونس بن عبد الأعلى ( م ، س ، ق )ابن ميسرة بن حفص بن حيان ، الإمام ، شيخ الإسلام ، أبو موسى الصدفي ، المصري المقرئ الحافظ ، وأمه فليحة بنت أبان التجيبية .لد سنة سبعين ومائة في ذي الحجة .وحدث عن : سفيان بن عيينة ، وعبد الله بن وهب ، والوليد بن مسلم ، ومعن بن عيسى ، وابن أبي فديك ، وأبي ضمرة الليثي ، وبشر بن بكر التنيسي ، وأيوب بن سويد ، وأبي عبد الله الشافعي ، وعبد الله بن نافع الصائغ ، وسلامة بن روح ، ومحمد بن عبيد الطنافسي ، ويحيى بن حسان ، وأشهب الفقيه . وينزل إلى نعيم بن حماد ، ويحيى بن بكير ، بل وإلى أن روى عن تلميذه أبي حاتم الرازي . قرأ القرآن على ورش صاحب نافع . وكان من كبار العلماء في زمانه . حدث عنه : مسلم ، والنسائي ، وابن ماجه ، وأبو حاتم ، وأبو زرعة ، وبقي بن مخلد ، وابن خزيمة ، وأبو بكر بن زياد النيسابوري ، وأبو عوانة الإسفراييني ، وعبد الرحمن بن أبي حاتم ، وعمر بن بجير ، وأبو جعفر بن سلامة الطحاوي ، وأبو الطاهر أحمد بن محمد الخامي ، وأبو بكر محمد بن سفيان بن سعيد المصري المؤذن ، وأبو الفوارس أحمد بن محمد السندي ، وخلق كثير . وقرأ عليه : مواس بن سهل المصري ، وأحمد بن محمد الواسطي ، وعبد الله بن الهيثم دلبة ، وعبد الله بن الربيع الملطي شيخ للمطوعي . وسمع منه الحروف : محمد بن عبد الرحيم الأصبهاني ، وأسامة بن أحمد ، وابن خزيمة ، وابن جرير ، ومحمد بن الربيع الجيزي ، وغيرهم . وكان كبير المعدلين والعلماء في زمانه بمصر . قال يحيى بن حسان التنيسي : يونسكم هذا ركن من أركان الإسلام . وقال النسائي : ثقة . وقال ابن أبي حاتم : سمعت أبي يوثقه ، ويرفع من شأنه . وقال أبو حاتم : سمعت أبا الطاهر بن السرح ، يحث على يونس ، ويعظم شأنه . وقال علي بن الحسن بن قديد : كان يحفظ الحديث . وقال الطحاوي : كان ذا عقل ، لقد حدثني علي بن عمرو بن خالد : سمعت أبي يقول : قال الشافعي : يا أبا الحسن ، انظر إلى هذا الباب الأول من أبواب المسجد الجامع . قال : فنظرت إليه ، فقال : ما يدخل من هذا الباب أحد أعقل من يونس بن عبد الأعلى . وقال حفيده الحافظ الكبير ، أبو سعيد عبد الرحمن بن أحمد بن يونس : دعوتهم في الصدف ، وليس هو من أنفسهم ، ولا مواليهم . توفي غداة يوم الاثنين ثاني ربيع الآخر سنة أربع وستين ومائتين . قلت : عاش أربعا وتسعين سنة . ووقع لي جملة من عالي حديثه في " الخلعيات " ، وفي أماكن مختلفة ، وبين مشايخنا وبينه خمسة أنفس . ولقد كان قرة عين ، مقدما في العلم والخير والثقة . (سیر اعلام النبلاء ج 16 ص 349) لہذا منکر کا حکم لگانا درست نہیں ۔ واللہ اعلم
  21. ارے جناب ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے اس لئے تو آپ کو رافضی لفظ اچھا لگتا ہے ۔ باقی آپ کا رافضی عالم مان چکا ہے اور وہ بھی اس کے شدید التشیع کے حوالے دے رہا باقی ہم نے امام ذہبی اور امام ابن سعد کی تصریحات دیکھا دی ہیں باقی منوانا ہمارا کام نہیں ہے جناب
  22. جی ضرور ہم انتظار میں رہیں گے۔ لیکن جواب اصولی اور تحقیقی ہو اور پوسٹرز سے نہ ہو بلکہ تحریری جواب ہو۔ ان شاء اللہ ہم ضرور آپ کی اس تحریر کا جواب دیں گے۔ باقی میری مجبوری یہ ہے چائینہ میں کبھی اسلامی محفل پر لاگ ان نہیں ہو پاتا کیونکہ میرا وی پی این اس سائٹ کو اوپن نہیں کرتا اس لئے جیسے میں آئن لائن ہوا کروں گا تو آپ کو جواب دے دیا کروں گا۔ آپ کا بھی شکریہ
  23. جی ضرور ہم انتظار میں رہیں گے۔ لیکن جواب اصولی اور تحقیقی ہو اور پوسٹرز سے نہ ہو بلکہ تحریری جواب ہو۔ ان شاء اللہ ہم ضرور آپ کی اس تحریر کا جواب دیں گے۔ باقی میری مجبوری یہ ہے چائینہ میں کبھی اسلامی محفل پر لاگ ان نہیں ہو پاتا کیونکہ میرا وی پی این اس سائٹ کو اوپن نہیں کرتا اس لئے جیسے میں آئن لائن ہوا کروں گا تو آپ کو جواب دے دیا کروں گا۔ آپ کا بھی شکریہ
  24. آپ ہمیں امام ذہبی کا آخری موقف بتا دیں تاکہ حقیقت واضح ہو جائے باقی امام ذہبی کے نزدیک میزان الاعتدال والی روایت بھی ضعیف و کذب ہے۔اب ضعیف و کذب راویت پر کسی کو کیا قاتل کہا جا سکتا ہے؟؟ اگر بالفرض ایک صورت میں ایسا مان بھی لیا جائے تو امام ذہبی نے اس بارے میں کوئی صحیح روایت پیش نہیں کی۔ لیکن جس راوی کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے خود اسے متروک قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن آخری کتاب سیراعلام النبلاء میں انقطاع قرار دیا اور پھر وہی جملے کو نہیں لکھا جس سے واضح ہو جاتا ہے امام ذہبی نے اپنی پرانی عبارت کے تساہل سے رجوع کر لیا تھا۔ واللہ اعلم
  25. لیں میاں امام ذہبی کا دوسری کتاب میں اس راوی کے بارے میں خود انہی کا موقف امید ہے اب کچھ بچا ہی نہیں ہے جناب کے لئے
×
×
  • Create New...