Jump to content
IslamiMehfil

Raza Asqalani

Members
  • Content Count

    356
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    51

Everything posted by Raza Asqalani

  1. حضرت آدم علیہ السلام کو براہِ راست مٹی کے جوہر سے تخلیق کیا گیا اور پھر پوری نسل انسانی چونکہ ان کی اولاد تھی اس لیے اپنی تخلیق کے حوالے سے ہر انسان کو گویا اسی مادہ تخلیق یعنی مٹی سے نسبت ٹھہری۔ لیکن میرے نزدیک اس کی زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے کہ مرد کے جسم میں بننے والا نطفہ دراصل مٹی سے کشید کیا ہوا جوہر ہے۔ اس لیے کہ انسان کو خوراک تو مٹی ہی سے حاصل ہوتی ہے، چاہے وہ معدنیات اور نباتات کی شکل میں اسے براہِ راست زمین سے ملے یا نباتات پر پلنے والے جانوروں سے حاصل ہو۔ اس خوراک کی صورت میں گارے اور مٹی کے جوہر کشید ہو کر انسانی جسم میں جاتے ہیں اور اس سے وہ نطفہ بنتا ہے جس سے بالآخر بچے کی تخلیق
  2. حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ کسی کے مرنے اور جینے پر بے نور نہیں ہوتے ،جب تم یہ دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو، اس کی بڑائی بیان کرو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔(صحیح بخاری :1044، صحیح مسلم :2089) حضرت ابو بکرؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھے کہ سورج کو گرہن لگنا شروع ہوگیا ،آپﷺ جلدی سے اُٹھے اور مسجد میں تشریف لے گئے اور ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں یہاں تک کہ سورج صاف ہوگیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ کسی کے مرنے اور جینے پر بے نور نہیں ہوتے ،جب
  3. محمد بن إسحاق ، قال : حدثني عبد الله بن أبي بكر ، عن عمرة بنت عبد الرحمن ، عن عائشة ، قال" لقد أنزلت آية الرجم ، ورضعات الكبير عشراً ، فكانت في ورقة تحت سرير في بيتي ، فلما اشتكى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - تشاغلنا بأمره ودخلت دويبة لنا فأكلتهاأخرجه أحمد في " المسند " ( 18 / 188 - 189 / 26194 )وأخرجه ابن ماجه في " السنن " ( 1 / 625 / 1944 ) من طريق محمد بن إسحاق ، عن عبد الله بن أبي بكر ، عن عمرة ، عن عائشة وعن : عبد الرحمن بن القاسم ، عن أبيه ، عن عائشة ، به وهذا الإسناد منكر ؛ محمد بن إسحاق صدوق ، ولكن له بعض المناكير ، وقد خولف فرواه مالك في " الموطأ " ( ص 353 - تنوير ) عن : عبد الله
  4. اس روایت کی سند میں شدید اضطراب ہے یہ ہیں دلائل سند کے اضطراب کے ابن ماجه(1944حدثنا أبو سلمة يحيى بن خلف ثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي بكر عن عمرة عن عائشة وعن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة قالت لقد نزلت آية الرجم ورضاعة الكبير عشرا ولقد كان في صحيفة تحت سريري فلما مات رسول الله وتشاغلنا بموته دخل داجن فأكلهاوأخرجه أحمد (6/269) وأبو يعلى في المسند(4587) والطبراني في الأوسط (8/12) وغيرهم من طريق محمد بن إسحاق قال حدثني عبدالله بن أبي بكر بن حزم عن عمرة بنت عبدالرحمن عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم بهوالعلة في هذا الحديث هو محمد بن إسحاق فقد اض
  5. امام جوزقانی (المتوفى: 543 ھ) لکھتے ہیں قال: حدثنا محمد بن يزيد بن ماجه، قال: حدثنا أبو سلمة يحيى بن خلف، قال: حدثنا عبد الأعلى، عن محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر، عن عمرة، عن عائشة، وعن محمد بن إسحاق، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشة، قالت: «لقد نزلت آية الرجم ورضاعة الكبير عشرا، ولقد كانت صحيفة تحت سريري، فلما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وتشاغلنا بموته، فدخل داجن فأكلها» . هذا حديث باطل، تفرد به محمد بن إسحاق، وهو ضعيف الحديث، وفي إسناد هذا الحديث بعض الاضطراب(الاباطیل و المناکیر حدیث رقم 541)ترجمہ :۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رجم کی آیت اور بڑی عمر ک
  6. چکنی مٹی کو کہتے ہیں۔ دورجدیدکی سائنسی اصطلاح میں صلب کو (Sacrum)اور ترائب کو (Symphysis Pubis)کہا جاتاہے۔ عصر حاضر کے علم تشریح الاعضا (Anatomy)نے اس امر کو ثابت کردیا ہے کہ مرد کا پانی جو (Semens)پر مشتمل ہو تاہے اس صلب اورترائب میں سے گزرکر رحمِ عورت کو سیراب کرتاہے۔ سائنسی انکشافات قرآن وحدیث کی روشنی میں۔صفحہ 256
  7. محمد بن عمر بن واقدی الاسلمی جمہور محدثین کے نزدیک مجروح ہے۔ حافظ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:"ضعفہ الجمہور"جمہور نے اسے ضعیف قراردیا ہے۔(مجمع الزوائد ج3ص255) حافظ ابن الملقن نے فرمایا:" "وقد ضعفه الجمهور ونسبه الي الوضع:الرازي والنسائي" "اسے جمہور ضعیف کہا اور(ابو حاتم)الرازی رحمۃ اللہ علیہ اور نسائی نے وضاع (احادیث گھڑےوالا ) قراردیا۔(البدر المنیرج5ص324) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:"متروک الحدیث"وہ حدیث میں متروک ہے۔(کتاب الضعفاء بتحقیقی :344) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مزید فرمایا:"کذبہ احمد"احمد(بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ )نےاسے جھوٹا قراردیا ہے۔
  8. شرم گاہ کی طرف اشارہ ہے شرم گاہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور ست سے مراد ٹھیکری یعنی بجنے والا مٹی۔
  9. و علیکم السلام۔۔ اس بات کی نشاندہی اللہ تعالیٰ نے سورة طارق میں کی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ (فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۔خُلِقَ مِنْ مَّآئٍ دَافِقٍ ۔ یَّخْرُجُ مِنْ م بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِب) '' لہٰذا انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیداکیا گیا ہے؟وہ اُچھل کر نکلنے والے پانی سے پیداکیا گیا ہے جو پشت اور سینہ کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتاہے'' اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسان کی تخلیق اور پیدائش کے ان مراحل کو سورة المٔومنون میں اس طرح بیان فرمایا ہے: (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍ
  10. غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کے استاد بدیع الزمان سندھی کی صحیح بخاری کی ایک سند پر تحقیقی تبصرہ گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی غیرمقلد اپنے استادبدیع الزمان سندھی کے ایک رسالہ "منجدالمستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز" کے بارے میں لکھتاہے۔ یہ رسالہ شاہ صاحب کی اسناد کا مجموعہ ہے جو آپ اپنے شاگردوں اور مستجیزین کو مرحمت فرماتے تھے۔آپ نے اپنے دستخطوں اور مہر کے ساتھ 8/7/1406 ھ کو یہ اجازت نامہ مجھے بھی عطا فرمایا تھا۔اس میں ایک مقام پر آپ نے صحیح بخاری کی سند درج ذیل الفاظ میں رقم کی: "فاخبرنی الشیخ عبدالحق الھاشمی قال:اخبرنا احمد بن عبداللہ بن سالم البغدادی عن عبدالرحمن بن ح
  11. شارح صحیحین و مفسر قرآن علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ سے ایک عظیم تساہل و خطاء محدث العصر علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کی نشان دہی میں ایک عظیم تساہل اور خطاء ہو گی۔ علامہ سعید ملت علیہ الرحمہ اپنی تفسیر تبیان القرآن جلد دہم صفحہ 290-291(سورہ الحجرات ) میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مشہور قاتلین کی سرخی بنا کر تاریخ طبری سے ایک روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310ھ لکھتے ہیں: عبدالرحمان نے بیان کیا کہ محمد بن ابی بکر دیوار پھاند کر حضرت عثمان کے مکان میں داخل ہوئے، ان کے ساتھ کنانہ بن بش
  12. ایک غیر مقلد کی جہالت چیک کریں دعا کے کے سلسلے میں کفایت اللہ وہابی محدث فورم پر ایک وہابی کے سوال کے جواب میں لکھتا ہے۔ دیکھیں کتنی جہالت سےوہابی کسی اور کے دعا کے تجربے کو کہہ رہا کہ یہ بات کسی روایت میں نہیں ہےاور یقین نہ آئے تو جب جب آپ کی کوئی چیز گم ہو جائے ان الفاظ کو پڑھ کر دیکھیں۔ پتہ چل جائے گا کہ یہ نسخہ کتنا مجرب ہے۔ پھر آگے لکھتا ہے: آدمی کو چاہئے کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ اذکار و ادعیہ کی پابندی کرے ا ور مجرب کے نام پر خود ساختہ ادعیہ و اذکار کی دوکان چلانے والوں سے ہوشیا ر رہے۔اگرکسی کو مسنون دعائیں یاد نہیں تو وہ اپنے الفاظ میں بھی جب چاہے اللہ
  13. پھر تم وہابی تسلیم کیوں نہیں کرتے سرکارﷺ اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں جب کہ اس کے بارے میں خلیل رانا بھائی نے صحیح حدیث پیش کی ہے؟؟ ہمارا تو موقف ہے کہ سرکارﷺ اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں اس پر بات کر نا وہابی بات کو گھما پھرا کر کیوں پیش کر رہا ہے؟؟ امام ابن حجر العسقلانی علیہ الرحمہ کی اس عبارت کو کبھی پڑھا ہے یا نہیں؟؟ قال الله تعالى : {وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ} " سورة البقرة " قال الله تعالى : { بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ } , { فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ }."
  14. علامہ غلام رسول رضوی صاحب تمام حوالہ جات کو مستندو دلائل قاہرہ قرار دینا خود محل نظر ہے۔ کیونکہ اس کتاب میں خود ضعیف الاسناد روایات ہیں ۔ کشمیر بھائی آپ کے پیش کردہ سکین پیج میں دی گی ایک حدیث کی سند کا اصل مصادر سے اس کا ضعیف ہونا ثابت کر دیتا ہوں۔ اس کتاب میں حلیۃ الاولیاء کی ایک حدیث پیش کی گئی ہے جس کی پوری سند یہ ہے۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَصَرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ
  15. بھائی میرے اس فورم پر آپ کی طرف زیادہ ایڈمنز حضرات ہیں جو آپ کو پروٹیٹ کر رہے ہیں کیونکہ میرے ID کئی بار لاک کیا گیا ہے وہ بھی وقفے وقفے سے کبھی آئن لائن ہو بھی جاتا تو کسی بھی پوسٹ پر کمنٹس نہیں دے پاتا تھا پھر میں نے حسنین بھائی سے فیس بک پر رابطہ کیا کہ کیا مجھے بلاک کیا گیا ہے؟؟ تو اس بھائی نے کہا میں چیک کرتا ہوں ۔لیکن پھر بھی میں وقفے وقفے سے آن لائن ہونے کی کوشش کرتا رہا پھر آخر کار میں فورم پر سائن ان ہو ہی گیا لگتا ہے شاید حسنین بھائی نے اس مسئلہ کو حل کیا ہوگا۔ باقی بھائی میرے کسی عالم کی تقریظ اس کتاب کے مستند ہونے کی دلیل نہیں جب تک اس کتاب کے حوالہ جات
  16. کشمیر بھائی میں اس پر بحث نہیں کرنا چاہتا کیونکہ مجھےکافی سنی دوستوں کی کالز آچکی ہیں کہ بھائی آپ اس پر مزید زیادہ بحث نہ کریں کیونکہ اس سے بدمذہبوں کو فائدہ ہو رہا ہے اس لیے میں نے دوبارہ پھر اس پر بات نہیں کی۔ اس وجہ سے شاید فورم پر اسی پوسٹ کو لاک کردیا گیا باقی اگر واقعی آپ اس پر مزید بحث کرنے کرنا چاہتے ہیں تو میں تیار ہوں اور اس فورم کے ایڈمنز کو میری گزارش ہے پھر وہ اس پوسٹ کو لاک نہ کریں۔ @M Afzal Razvi @Abdullah Yusuf @Sag-e-Attar @Rana Asad Farhan @Arslan fayyaz
  17. میں نے اس بات وضاحت کر دی ہے کہ اگر اس کی نیت انبیاءکرام علیہم السلام میں شمولیت اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی تفضیل پر نہیں تو پھر جائز ہے۔ اس نعرہ میں یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ اس مراد یہ ہو کہ سوالاکھ بار نعرہ حیدری تو اس میں کونسی شرعی قباحت ہے؟؟؟ یہ بات نعرہ لگانے کی نیت پر ہے اور نیت کا علم اللہ عزوجل ہی بہتر جانتا ہے۔ویسے یہ نعرہ لوگوں کے عقائد کے مطابق ہو گا، جیسا عقیدہ ہوگا ویسے ہی اس کی مراد ہو گی ۔ اگر نعرہ لگانے والا رافضی ہے تو اس میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تفضیل انبیاء کرام علیہم السلام پر اور حضرات شیخین رضی
  18. اگر قضاء نماریں ہیں تو پھر فرض اور واجب نماز پڑھنا لازمی ہے باقی نوافل اور سنتوں کو چھوڑنے کا اس پاس اختیار ہے چاہے تو پڑھ لے تو بہتر ہے اگر چھوڑ دیتا ہے تو اس پر کوئی حرج نہیں
  19. ویسے قرآن و حدیث سے تو ایسی کوئی دلیل ثابت نہیں ہے لیکن اگر کوئی یہ نعرہ لگا بھی دے تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں ۔ واللہ اعلم اب یہ نعرہ لگانے والے کی نیت پر ہے۔ اگر اس کی مراد یہ ہو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ انبیاءکرام علیہم السلام میں شمار ہیں (معاذاللہ) تو ایسا کرنا کفر ہے۔ اگر اس کی نیت یہ ہو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان سے افضل ہیں تو پھر ایسا کرنا گمراہی ہے۔ اور اگر اس کی نیت صرف نعرہ لگانے کی ہو اور اوپر والے دو اقوال میں سے نہ ہوپھر ایسا نعرہ لگانا جائز ہے اس میں کوئی شرعی حرج نہیں۔ واللہ اعلم
  20. جزاک اللہ افضل بھائی اللہ عزوجل آپ کو اس کا اجرعظیم عطا فرمائے امین
  21. آپ کہتے ہیں کہ کتاب جواہر خمسہ ہی آپکے ہاں مستند نہیں ہے (مثلا پوسٹ پندرہ سات اپریل میں آپ نے فرمایا) مگر اب فرماتے ہیں ناد علی کے حضرت غوث سے ثبوت کے آپ منکر نہیں ہیں On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said: میں نے کب انکار کیا ہے کہ حضرت غوث سے نادعلی ثابت نہیں بھائی جان لگتا ہے بس زیادہ بحث کرنے کا آپ کو شوق ہے ورنہ میرا موقف وہی ہے جب پہلے تھا ۔میں نے صرف یہی کہا ہے کہ یہ وظیفہ صرف جواہرخمسہ میں ہے اور اسی کتاب میں خود حضرت غوث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا ہوا ہے جو حقیقت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔اگر ثابت ہے تو پیش
  22. خلیل بھائی اس بارے میں تو بےشمار احادیث صحیحہ موجود ہیں ۔ پتا نہیں پھر بھی وہابی اس پر کیوں یقین نہیں کرتے؟؟؟
  23. وعلیکم السلام بھائی جان۔ تفہیم المسائل کی تمام جلدوں کا پی ڈی ایف لنک یہ ہے۔ http://marfat.com/BrowsePage.aspx?title=tafheem-ul-masail&author=
  24. قبلہ عسقلانی بھئی جان۔،، کبھی تو آپ کہتے ہیں کہ کتاب جواہر خمسہ ہی آپکے ہاں مستند نہیں ہے (مثلا پوسٹ پندرہ سات اپریل میں آپ نے فرمایا) مگر اب فرماتے ہیں ناد علی کے حضرت غوث سے ثبوت کے آپ منکر نہیں ہیں۔۔۔، یہ کیسی بات کر دی جناب من؟؟ کتاب جواہر خمسہ تو مستند نہیں آپکے ہاں پھر کس کتاب سے ناد علی کو حضرت غوث سے ثابت مانتے ہیں؟؟ بھائی کشمیر میں نے کب کہا ہے کہ جواہرخمسہ مستند کتاب ہے؟؟؟؟ نادعلی صرف جواہرخمسہ کتاب میں ہے اور کتب میں اس کا ثبوت ہی نہیں ہے اور خود اسی کتاب میں اس دعا کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سےمنسوب کیا ہے حضرت غوث علیہ الرحمہ نے جو کہ ثابت نہیں بس یہی آپ کہہ سکتے
  25. سوفٹ وئیر کی انفارمیشن دی ہے کوئی علمی مواد کاپی نہیں کیا گیا۔ جہاں سے کوئی مفید معلومات ملے اس کو دوسروں تک پہنچایا جائے۔
×
×
  • Create New...