Jump to content
IslamiMehfil

Recommended Posts


جزاک اللہ خیراً سنّی ڈیفینڈر بھائی
یہ اللہ عزوجل کی شان ہے، وہ جسے چاہے، جیسے چاہے ذلیل کرے، مگر اصل بات یہ ہے کہ ذلیل ہونے والا پشیمان بھی تو ہو۔
شرم اِن کو مگر نہیں آتی اور نہ ہی آئیگی۔
اللہ حافظ

  • Thanks 1
Link to post
Share on other sites
  • 3 months later...

السلام من التبع الھدیٰ

بہت خوب میرے بھائی سنی ڈیفینڈر ، بہت خوبصرتی سے آپ اس وہابیہ فرقہ غیر مقلد کا قلع قمع فر ما رہے ہیں ، اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ آپکے علم میں، عمل میں، اور عمر میں برکت عطا فرمائے آمین

طالب دعا۔

نوید خان قادری نقشبندی۔

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By محمد حسن عطاری
      بدعتی اوربد مذہب کی اقتدا میں نماز کا حکم      فرقہ بجنوریہ کی جانب سے ایک فتویٰ وائرل ہوا ہے جس میں بدعتی وبدمذہب کی اقتدا میں نماز کا حکم بیان کیا گیا ہے۔    چوں کہ مسئلہ مشکل ہے،اس لیے لغزش ہو سکتی ہے۔     کافر کلامی کی اقتدا میں نماز کا حکم   جو مومن نہیں ہے،یعنی کلمہ خواں ہے،لیکن مرتد اور کافر کلامی ہے۔اس کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے اور فرض کی ادائیگی نہیں ہوگی،بلکہ فرض مقتدی کے ذمہ باقی رہے گا،گر چہ لاعلمی میں اس کی اقتدا میں نماز ادا کرلی ہو۔(فتاوی رضویہ جلد سوم۔ص 235.236-رضااکیڈمی ممبئ)   بدعتی اور بد مذہب کی اقتدا میں نماز کا حکم:   بدعتی اور بدمذہب یعنی جو اہل سنت وجماعت سے خارج ہو, لیکن مذہب اسلام سے بالکل خارج نہ ہو، جیسے فرقہ تفضیلیہ۔ایسے بدعتی اور بدمذہب کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔اس کی اقتدا کرنے والاسخت  گنہگار ہے۔لیکن فرضیت اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گی۔   بد مذہبوں میں جو کافر فقہی ہو،ان کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ ان کی اقتدا میں نماز فاسد ہے۔فرضیت کی ادائیگی نہیں ہوگی۔    امام احمد رضا قادری نے رقم فرمایا:”مبتدع کی بدعت اگر حد کفر کوپہنچی ہو،اگر چہ عند الفقہا یعنی منکر قطعیات ہو، گر چہ منکر ضروریات نہ ہو، توصحیح یہ ہے کہ اس کے پیچھے نماز باطل ہے:کما فی فتح القدیر ومفتاح السعادۃ والغیاثیۃ وغیرہا:کہ وہی احتیاط جو متکلمین کو اس کی تکفیر سے باز رکھے گی،اس کے پیچھے نماز کے فساد کا حکم دے گی:(فان الصلاۃ اذا صحت من وجوہ وفسدت من وجہ حکم بفسادہا):ورنہ مکروہ تحریمی“۔ (فتاویٰ رضویہ جلد سوم:ص273-رضا اکیڈمی ممبئ)
×
×
  • Create New...